Thumbnail for Big Relief for Property Dealers/Investors? IHC Ruling | No More Business Tax on Property Sales by Tax Talk with Amir Ali Sheikh

Big Relief for Property Dealers/Investors? IHC Ruling | No More Business Tax on Property Sales

Tax Talk with Amir Ali Sheikh

9m 6s1,569 words~8 min read
Auto-Generated

[0:00]بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم دوستو امیر علی شیخ ایڈوکیٹ اپ سے مخاطب ہوں۔ اگر اپ پراپرٹی ڈیلر ہیں یا انویسٹر ہیں یا کبھی بھی اپ نے ایک پلاٹ لیا اور اس کو بیچ دیا اس کے اوپر اپ کو جو منافع ہوا وہ اپ کی بزنس انکم ہوگا یا کیپیٹل گین ٹریٹ ہوگا۔

[0:18]اسلام اباد ہائی کورٹ کے اندر ایک بہت اچھا کیس ایا جس کے اندر ہائی کورٹ نے یہ طے کر دیا کہ پراپرٹی ڈیلر کون ہے انویسٹر کون ہے اور کوئی عام ادمی اگر کوئی پلاٹ خرید کے بیچتا ہے تو اس کے اوپر جو اس کو منافع ہوتا ہے۔

[0:33]ایف بی ار اس کو بزنس انکم ٹریٹ کر سکتا ہے یا کیپیٹل گین ٹریٹ کرے گا اور کس طریقے سے اس کے اوپر ٹیکس لگائے گا۔ سوچیں اگر اپ جاب کرتے ہیں اور پوری زندگی میں اپ نے ایک ہی پلاٹ یا گھر بنایا ہو اور اپ اس کو بیچیں اور ایف بی ار اپ کو بزنس مین سمجھ لے اور اس کے اوپر بزنس انکم ٹریٹ کرتے ہوئے ٹیکس لگا دے تو اپ کے لیے کتنی تکلیف دہ صورتحال ہوگی۔

[0:58]اج ہم اس ٹاپک کے اوپر بات کریں گے کہ اسلام اباد ہائی کورٹ نے کیا فیصلہ دیا اور کس طریقے سے پراپرٹی ڈیلر انویسٹر یا ایک عام ادمی کو اس فیصلے کا اس کے اوپر اثر ہوگا۔

[1:10]ہائی کورٹ کے اندر عبدالمجید چوہدری ورسز کمشنر ان لینڈ ریونیو ایک ٹیکس ریفرنس فائل کیا گیا۔ اب یہ کیس کیا تھا؟ عبدالمجید چوہدری نے 2015 میں ریٹرن فائل کی ٹیکس ریٹرن کے اندر اس نے بتایا کہ تین پلاٹس اس نے بیچے ہیں جس کے اوپر اسے تقریبا دو کروڑ روپیہ منافع ہوا۔

[1:30]اور اس نے اس منافع کو ویلتھ سٹیٹمنٹ کے اندر کیپیٹل گین کے اندر شو کر دیا۔ ایف بی ار نے 2017 میں اس کا اڈٹ کھول دیا اس کے اندر ایف بی ار نے کہا کہ بھائی اپ ایک سوسائٹی کے اندر ہیں۔

[1:44]اپ نے پلاٹ خریدے اور بیچے ہیں۔ اپ چونکہ پلاٹوں کی خرید و فروخت کا کام کرتے ہیں لہذا یہ اپ کی بزنس انکم ہے سیکشن 18 کے اندر اتی ہے اس کو ٹیکس لگا دیا۔ عبدالمجید چوہدری نے کہا کہ میرا جو ذریعہ معاش ہے وہ زراعت سے منسلک ہے۔

[2:00]یہ میرے جو تین پلاٹ تھے یہ میری ذاتی جائیداد تھی ذاتی ملکیت تھے میں پراپرٹی کا کام نہیں کرتا میں نے یہ پلاٹ بیچے تھے اور اس کے اوپر مجھے دو کروڑ روپیہ منافع ہوا تھا جو کہ میری بزنس انکم نہیں ہے۔ وہ کیپیٹل گین ہے سیکشن 37 اس کو ڈیل کرتا ہے۔

[2:20]لیکن ایف بی ار نے اس کا سٹانس قبول نہیں کیا ایف بی ار نے اس کو سیکشن 18 کے مطابق بزنس انکم ٹریٹ کرتے ہوئے ٹیکس لگا دیا

[2:33]عبدالمجید چوہدری اس فیصلے سے نالاں تھا وہ کمشنر اپیل کے پاس فیصلہ اس نے چیلنج کر دیا کمشنر اپیل نے بھی ایف بی ار کے حق میں فیصلہ کر دیا اور اس کے خلاف فیصلہ کر دیا وہ کمشنر اپیل کے فیصلے کے خلاف ٹربیونل میں چلا گیا۔ ٹربیونل نے بھی ایف بی ار کے حق میں فیصلہ کر دیا۔

[2:52]اس نے بھی عبدالمجید چوہدری کا سٹانس ایکسیپٹ نہیں کیا۔ اب ٹربیونل کے بعد ہائی کورٹ کے اندر عبدالمجید چوہدری نے ٹیکس ریفرنس 2022 میں فائل کر دیا۔

[3:07]اب اسلام اباد ہائی کورٹ نے دو سوال جو ہے نا وہ اس کے سامنے رکھے گئے کہ کیا امویبل پراپرٹی گھر یا پلاٹ بیچنے کے اوپر جو منافع ہوتا ہے۔

[3:17]اسے سیکشن 18 کے مطابق بزنس انکم ٹریٹ کیا جا سکتا ہے یا کیپیٹل گین کے طور پہ وہ سیکشن 37 کے مطابق اس کو ٹریٹ کیا جائے گا۔ یہ پہلا سوال تھا دوسرا سوال یہ تھا کہ کیا سیکشن 37 پراپرٹی ڈیلر جو کہ ریگولر پراپرٹی کی خرید و فروخت کا کام کرتا ہے اس میں اور ایک عام ادمی میں جو کبھی بھی ایک پلاٹ لیتا ہے اور اس کو بیچ دیتا ہے کیا ان دونوں میں پراپرٹی ڈیلر میں اور اس عام ادمی میں کوئی فرق ہے یہ دو سوال اسلام اباد ہائی کورٹ کے سامنے تھے۔

[3:54]اسلام اباد ہائی کورٹ نے سب سے پہلے تو اس کے پس منظر کے اوپر بات کی۔ کہ 1979 1979 کے اندر جو قانون تھا کہ اپ کوئی اموبل پراپرٹی پلاٹ یا گھر بیچتے ہیں تو وہ بزنس انکم اس کو ٹریٹ کیا جاتا تھا۔

[4:13]جبکہ فائنانس ایکٹ 2012 کے اندر اموبل پراپرٹی کو کیپیٹل ایسٹ کنسیڈر کیا گیا اور اس کے اوپر انے والا جو منافع تھا اس کو کیپیٹل گین ٹریٹ کر لیا گیا۔

[4:26]اب اسلام اباد ہائی کورٹ نے کہا کہ جب اموبل پراپرٹی پلاٹ یا گھر کو بیچنے کے اوپر انے والا منافع کیپیٹل گین ہے۔

[4:38]اور اس کو کلیئرلی ایک سپیسیفک لاء سیکشن 37 ڈیل کرتا ہے جو کہ خاص طور پہ اموبل پراپرٹی کے لیے یا کیپیٹل گین کے لیے ہے۔ یہ ایک خاص لاء ہے سپیسیفک لاء ہے جبکہ اس کے برعکس سیکشن 18 جو ہے وہ ان جنرل عام طور پہ جو کاروبار کی انکم ہوتی ہے وہ اس کو ڈیل کرتا ہے۔

[4:59]تو جو سپیشل لاء ہوتا ہے وہ ہمیشہ عام قانون کے اوپر اس کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ہمیشہ جو سپیسیفک لاء ہوگا وہ پریویل کرے گا اوور دی جنرل لاء یہ اسلام اباد ہائی کورٹ نے وہاں پہ وضاحت کر دی اب جو ایف بی ار کا وکیل تھا اس نے ایک کیس کا وہاں پہ ریفرنس دیا۔

[5:21]فینسی فاؤنڈیشن کا جس کے اندر 1979 کے قانون کے مطابق فیصلہ کیا گیا تھا۔ تو اس کو اسلام اباد ہائی کورٹ نے رد کر دیا کہ وہ فیصلہ 1979 کے قانون کے مطابق ہوا ہوا ہے جو اس وقت ایپلیکیبل نہیں ہے۔

[5:37]دوسرا جو دلیل دی ایف بی ار کے وکیل نے اس نے یہ کہا کہ عبدالمجید چوہدری جو ہے اس نے تین سالوں کے اندر ہی پلاٹ خریدے اور بیچے اور یہ ایک سوسائٹی میں کام کرتا ہے۔

[5:48]تو لہذا جو پلاٹوں کے خریدنے اور بیچنے کا جو عمل ہے وہ اس کا ایک بزنس ہے۔ اور اس لیے اس کے بزنس انکم کو ٹریٹ کرتے ہوئے سیکشن 18 کے مطابق اس کو ٹیکس کیا گیا ہے۔

[6:03]ایف بی ار نے کہا جو دوسری طرف اس کا وکیل تھا عبدالمجید چوہدری کا اس نے کہا کہ یہ سوسائٹی کے اندر نوکری کرتا تھا عبدالمجید چوہدری 2015 میں اس نے نوکری بھی ختم کر دی تھی۔

[6:17]لہذا اس وقت تو وہ سوسائٹی کا ایمپلائی بھی نہیں تھا اس لیے اس کو سوسائٹی یا بزنس انکم ٹریٹ نہیں کیا جا سکتا۔ اب اس کے بعد اسلام اباد ہائی کورٹ نے حتمی طور پہ جو دو سوال اس کے سامنے رکھے گئے تھے ان کا جواب دیتے ہوئے یہ کہا کہ جو پہلا سوال تھا کہ ایک عام ادمی جو پراپرٹی اموبل پراپرٹی خرید کے بیچتا ہے اس کے اوپر انے والا منافع بزنس انکم ہے یا 37 سیکشن 37 کے مطابق کیپیٹل گین ہے تو اسلام اباد ہائی کورٹ نے کہا کہ وہ سیکشن 37 کے مطابق کیپیٹل گین میں اتا ہے۔

[7:16]دوسرا سوال جو تھا کہ کیا سیکشن 37 کے مطابق پراپرٹی ڈیلر اور ایک عام ادمی میں جو صرف ایک یا دو دفعہ پلاٹ خرید کے بیچتا ہے اس میں کوئی فرق ہے تو اسلام اباد ہائی کورٹ نے کہا بالکل فرق نہیں ہے۔

[7:31]تو ان سوالوں کا جواب دیتے ہوئے اسلام اباد ہائی کورٹ نے اپنا حتمی فیصلہ سنا دیا۔ اس نے یہ کہا کہ جو سپیشل لاء ہے سیکشن 37 کا وہ جنرل لاء کے اوپر پریویل کرے گا۔

[7:44]اور اس نے ان لینڈ ریونیو کے ٹربیونل کا اور کمشنر ان لینڈ ریونیو کے فیصلے کو سیٹسائیڈ کر دیا انل کر دیا۔ اور عبدالمجید چوہدری کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے یہ کہا کہ جو اس نے پراپرٹیاں بیچی ہیں وہ بزنس انکم نہیں تھی وہ کیپیٹل گین کے ایمبٹ میں اتی ہیں۔

[8:04]لہذا اسلام اباد ہائی کورٹ نے یہ طے کر دیا کہ ایک بات کہ سپیشل لاء ہمیشہ جنرل لاء کے اوپر پریویل کرے گا دوسری بات کہ جو عام ادمی پلاٹ یا گھر خرید کے بیچتا ہے اس کے اوپر انے والا منافع جو ہے وہ کیپیٹل گین ہوگا بزنس انکم نہیں ہوگا۔

[8:23]تیسری بات پراپرٹی ڈیلر کے اوپر اس نے وضاحت دے دی۔ چوتھی بات کہ اس نے ایف بی ار کو بھی تنبیہ کر دی کہ جو خواہ مخواہ کی لٹیگیشن ہے اس سے اوائڈ کیا جائے۔

[8:35]تو دوستو ایف بی ار کے اس فیصلے نے بہت ساری وضاحتیں کر دی ہیں جو خاص طور پہ ان لوگوں کے لیے بہت ہی مفید ہیں جو پراپرٹی ڈیلر ہیں یا انویسٹر ہیں یا کبھی کبھار کوئی پلاٹ لیتے ہیں اور بعد میں اس کو بیچ دیتے ہیں۔

[8:50]تو اس کے اوپر بالکل اس نے وضاحت کر دی۔ امید ہے کہ یہ جو وضاحت ہے اور یہ جو فیصلہ ہے اسلام اباد ہائی کورٹ کا یہ تمام سننے والوں کے لیے بہت ہی فائدہ مند ہوگا۔

[9:05]اور خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو پراپرٹی کے لین دین سے وابستہ ہیں۔ تو دوستو اگر اپ کو ہماری یہ ویڈیو فائدہ مند لگی ہے تو اس کو لائک کریں اور اپنے رشتہ دار اور دوستوں کے ساتھ شیئر کریں تاکہ وہ بھی اس فیصلے اور اس کے جو مفید اثرات ہیں ان سے ان کو اگاہی مل سکے اور ہمارے چینل کو بھی ضرور سبسکرائب کیجئے گا تاکہ ہائی کورٹس اور ٹربیونلز کے اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے بارے میں اپ کو اگاہ کیا جا سکے تھینک یو ویری مچ خدا حافظ۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript