Thumbnail for Real History Of Taboot E Sakina | Taboot e Sakina kya Hai | Islamic History | Almufeed islamic by Al Mufeed Islamic

Real History Of Taboot E Sakina | Taboot e Sakina kya Hai | Islamic History | Almufeed islamic

Al Mufeed Islamic

25m 47s4,442 words~23 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Use this transcript
Related transcript hubs

[0:00]تابوت سکینہ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم۔ یقیناً تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ ہم اس کی تعریف بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد کے طلبگار ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ ناظرین اج کی اس ویڈیو میں ہم تذکرہ کریں گے تابوت سکینہ اور ہیکل سلیمانی کا۔ ہم اپ کو بتائیں گے کہ تابوت سکینہ کیا ہے؟ یہ اس وقت کہاں موجود ہے؟ اور اس کو لے کر مختلف مذاہب کے لوگوں میں لڑائی کیوں ہو رہی ہے؟ نیز ہیکل سلیمانی کیا ہے اور اس کو کس نے تعمیر کیا؟ اور اس کو لے کر مسلمانوں اور یہودیوں کے کیا عقائد ہیں۔ ویڈیو بہت ہی معلوماتی ہونے والی ہے۔ لہذا اپ نے ویڈیو کو سکپ نہیں کرنا اور اخر تک ہمارے ساتھ رہنا ہے۔ ناظرین سب سے پہلے اگر تذکرہ کریں تابوت سکینہ کا۔ اگر تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو اسرائیل کو اسلامی ممالک سے اپنا وجود تسلیم کروانے کی ایک وجہ تو اپنے ناجائز وجود کو بالاخر مسلمانوں میں جائز حیثیت دلا کر مسلمانوں سے معاشی فوائد حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ انے والے وقت کی پیش بندی ہے۔ جس کا ذکر قران شریف میں اور تورات میں موجود ہے۔ دوسری طرف مخفی طور پر اسے تابوت سکینہ کی بھی تلاش ہے۔ جس کے ذریعے یہودی اپنی کھوئی ہوئی طاقت دوبارہ حاصل کر کے دنیا میں پھر سے اپنا تسلط قائم کرنا چاہتے ہیں۔ کیا اپ جانتے ہیں کہ تابوت سکینہ کیا ہے؟ اور اس میں کیا کیا چیزیں تھیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے بارے میں مسلمانوں کی نئی نسل ناد واقف ہے۔ جو کہ تمام مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ناظرین یہ ایک ایسی کراماتی تابوت ہے جسے حاصل کرنے والا دنیا فتح کر سکتا ہے۔ وہ تابوت جس کی تلاش میں اج تک یہودیوں نے ہزاروں مقامات کھوج ڈالیں۔ اس تابوت میں ایسی کیا چیز رکھی ہے؟ یہ تابوت تاریخ میں کس کے پاس تھی؟ اور اسے قیامت سے قبل کون حاصل کرے گا؟ ہم اج دنیا کے سب سے کرشماتی صندوق تابوت سکینہ کے بارے میں جانیں گے۔ ہر دور میں دوستو یاد رکھیے مسلمان، عیسائی اور یہودی ایک دوسرے سے مخالف رہے ہیں۔ مگر ایک جگہ پر جس پر تینوں مذاہب متفق ہیں وہ تابوت سکینہ ہے۔ یہ ایک معجزاتی اور کراماتی تابوت ہے جو مومنوں کے دلوں میں سکون اور قرار کی غرض سے نازل ہوا تھا اور حضرت ادم علیہ السلام سے خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث رہی۔ جس کی وجہ سے اس کی عظمت و حرمت بہت زیادہ ہے۔ اس صندوق کو تابوت سکینہ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس تابوت کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں تسلی اطمینان اور سکون حاصل ہوتا ہے۔ اسے تابوت اس لیے کہتے ہیں کہ جو چیز اس میں سے نکالی جاتی تھی وہ پھر واپس اسی میں چلی جاتی تھی۔ اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ بنی اسرائیل اس صندوق کو بڑا متبرک اور اپنے لیے فتح و نصرت کا نشان سمجھتے تھے۔ جب یہ صندوق ان کے ہاتھ سے نکل گیا تو پوری قوم کی ہمت جواب دے گئی۔ اور ہر ایک اسرائیلی یہ سوچنے لگا کہ خدا کی رحمت ہم سے دور ہو گئی اور اب ہمارے برے دن اگئے۔ یہودیوں اور مسیحوں کے نظریے کے مطابق تابوت سکینہ موسی علیہ السلام نے خدا کے کہنے پر بنایا تھا اور اس میں وہ پتھر کی لوہیں لا کر رکھی تھیں جو ان کو خدا نے کوہ سینہ پر دی تھیں اور جن میں یہودی مذاہب کی تعلیمات بیان کی گئی تھیں۔ مزید یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس میں حضرت موسی علیہ السلام کا عصا اور من و سلوی بھی رکھا گیا تھا جو بنی اسرائیل کے لوگوں کے لیے اللہ تعالی نے اسمان سے نازل کیا تھا۔ یہ بہت مقدس تابوت شمار کیا جاتا تھا اور ہمیشہ مذہبی رہنما اس کو اٹھایا کرتے تھے۔ اور اس کی حفاظت کے لیے فوج کا ایک دستہ بھی ہمیشہ ساتھ رہتا تھا۔ نیز یہ بنی اسرائیل کے نزدیک فتح اور برکت کی علامت تھا۔ اس کو جنگوں کے دوران میں لشکر سے اگے رکھا جاتا تھا اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ اس تابوت کی برکت کی وجہ سے جیت ہمیشہ بنی اسرائیل کی ہوگی۔ جب بنی اسرائیل اللہ تعالی کے احکامات کی نافرمانی کرنے لگے اور کھلم کھلا وہ کام کرنے لگے جن سے اللہ نے انہیں منع کیا تھا۔ تو یہ تابوت ان سے ایک جنگ کے دوران میں کھو گیا اور انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ تابوت حضرت طالوت کے زمانے میں واپس مل گیا۔ اسی بارے میں قران مجید میں بھی ارشاد ہے۔ ان لوگوں سے ان کے نبی نے کہا کہ طالوت کے بادشاہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق واپس ا جائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے تسکین قلب کا سامان ہے۔ اور وہ کچھ اشیاء ہیں جو موسی اور ہارون چھوڑ گئے تھے۔ ان کو فرشتے اٹھا کر لائیں گے اور بلا شبہ اس میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو۔ یہ تابوت جب تک مشرکین کے پاس رہا تب تک اس کی وجہ سے ان پر مشکلات نازل ہوتی رہیں۔ اور اخر کار انہوں نے تنگ ا کر ایک بیل گاڑی پر رکھ کر اپنے علاقے سے باہر نکال دیا۔ اور فرشتوں نے اس بیل گاڑی کو ہنکا کر واپس بنی اسرائیل تک پہنچا دیا۔ اور غالباً اسی بات کی طرف قران مجید میں بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ حضرت داؤد کے زمانے تک اس تابوت کو رکھنے کے لیے کوئی خاص انتظام نہیں تھا اور اس کے لیے پڑاؤ کی جگہ پر ایک الگ خیمہ لگا دیا جاتا تھا۔ حضرت داؤد نے خدا کے حکم سے خدا کا گھر بنانا شروع کیا جو عین اس مقام پر ہے جہاں اج مسجد اقصی موجود ہے۔ لیکن یہ عالی شان گھر اپ کے بیٹے حضرت سلیمان کے عہد میں مکمل ہوا اور اس کو ہیکل سلیمانی کے نام سے جانا جاتا ہے۔

[5:38]اس گھر کی تعمیر کے بعد تابوت سکینہ کو یہاں سے پورے احترام کے ساتھ رکھ دیا گیا۔ اور اس طرح یہ مقام یہودیوں کا مقدس ترین مقام بن گیا۔ بعد کے زمانے میں ہونے والی جنگوں نے اس ہیکل کو بہت نقصان پہنچایا لیکن بابل کے بادشاہ بخت نصر بنو قد نصیر نے اس کو مکمل طور پر تباہ کر دیا اور اس کو اگ لگا دی۔ وہ یہاں سے مال غنیمت کے ساتھ ساتھ تابوت سکینہ بھی لے گیا۔ اس تباہی کے نتیجے میں اج اصلی ہیکل کی کوئی چیز باقی نہیں ہے۔ ان تمام تباہیوں کے نتیجے میں تابوت سکینہ کہیں غائب ہو گیا اور اس کا کوئی نشان نہیں ملا۔ اس صندوق میں کیا ہے؟ بائبل کے مطابق اس میں حضرت یوسف کا جسد مبارک اور بائبل ہی کی بعض روایات کی روح سے ہڈیاں اور کپڑے تھے۔ اور اسے حضرت موسی علیہ السلام مصر سے اپنے ساتھ لائے تھے۔ ناظرین قصص الانبیاء میں ہے کہ اس متبرک صندوق میں تورات کا اصل نسخہ حضرت موسی و ہارون کے عصا و پیراہن اور من کا مرتبان محفوظ تھے۔ فلسطینیوں نے اسے اسرائیل سے چھن کر اپنے مندر بیتو جون میں رکھ دیا تھا۔ قران مجید میں اس کے بارے میں تصریح ہے کہ جب اسرائیلیوں کے ہاتھوں سے یہ صندوق نکل گیا تو فرشتے اس کی حفاظت پر مامور تھے اور اس میں ال موسی اور ال ہارون کے چھوڑے ہوئے تبرکات تھے۔ جن میں پتھر کی وہ تختیاں جو طور سینہ پر اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام کو دی تھیں۔ اس کے علاوہ تورات کا وہ اصل نسخہ ہے جسے حضرت موسی نے لکھوا کر بنی لاوا کی حفاظت میں دے دیا تھا۔ ایک بوتل جس میں من بھر کر محفوظ کر دیا تھا تاکہ انے والی نسلیں اللہ تعالی کے اس احسان کو یاد کریں۔ جو صحرا میں ان کے باپ دادا پر کیا گیا تھا اور غالباً موسی علیہ السلام کا عصا بھی اسی صندوق کے اندر تھا۔ اج بھی بہت سارے ماہر اثار قدیمہ اور خصوصاً یہودی مذہب سے تعلق رکھنے والے ماہر اس کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ تاکہ اس کو ڈھونڈ کر وہ اپنی اسی روحانیت کو واپس پا سکیں جو کبھی ان کو عطا کی گئی تھی۔ تابوت سکینہ کی موجودہ جگہ کے بارے میں مختلف لوگ قیاس سرائیاں کرتے رہتے ہیں۔ کچھ کے نزدیک اس کو افریقہ لے جایا گیا اور ایک مشہور ماہر اثار قدیمہ ران وائٹ کا کہنا ہے کہ یہ مشرق وسطی میں موجود ہے۔ اور کچھ لوگوں کے مطابق اس کو ڈھونڈنے کی کوشش انگلینڈ کے علاقے میں کرنی چاہیے۔ بہرحال کوشش جاری ہے۔ لیکن تا حال انہیں ناکامی کا سامنا ہے۔ سورہ صبح کی تفسیر میں علمائے کرام فرماتے ہیں بیت المقدس کی تعمیر جو حضرت داؤد علیہ السلام نے شروع کی پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کی تکمیل فرمائی۔ اس میں کچھ کام تعمیر کا باقی تھا اور یہ تعمیر کا کام جنات کے سپرد تھا۔ جبکہ طبیعت میں سرکشی غالب تھی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے خوف سے تعمیر کرتے ان کی وفات کا جنات کو علم ہو جائے تو فورا کام کو چھوڑ بیٹھیں اور تعمیر رہ جائے گی۔ اس کا انتظام حضرت سلیمان علیہ السلام نے بعض رانی یہ کیا کہ جب موت کا فرشتہ ایا تو موت کی تیاری کے لیے اپنے محراب میں داخل ہو گئے۔ جو شفاف شیشے سے بنی ہوئی تھی۔ باہر سے اندر کی جانب سب چیزیں نظر اتی تھیں اور اپنے معمول کے مطابق عبادت کے لیے ایک سہارا لے کر کھڑے ہو گئے۔ کہ روح پرواز کرنے کے بعد بھی جسم اسی عصا کے سہارے اپنی جگہ پر جما رہے۔ سلیمان علیہ السلام کی روح وقت مقرر پر قبض کر لی گئی مگر وہ اپنے عصا کے سہارے اپنی جگہ جمے ہوئے باہر ایسے نظر اتے تھے کہ عبادت میں مشغول ہیں۔ جنات کی یہ مجال نہ تھی کہ پاس ا کر دیکھ سکیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو زندہ سمجھ کر کام میں مشغول رہیں یہاں تک کہ سال بھر گزر گیا اور تعمیر بیت اللہ کا بقیہ کام پورا ہو گیا۔ تو اللہ تعالی نے گھن کے کیڑے کو جس کو فارسی میں دیوک اور اردو میں دیمک کہا جاتا ہے اور قران کریم نے اس کو دعوۃ الارض کے نام سے موسوم کیا ہے۔ عصا سلیمانی پر مسلط کر دیا۔ دیمک نے عصا کی لکڑی کو اندر سے کھا کر کمزور کر دیا۔ عصا کا سہارا ختم ہوا تو سلیمان علیہ السلام گر گئے۔ اس وقت جنات کو ان کی موت کی خبر ہوئی۔ تابوت سکینہ کے بارے میں سورۃ البقرہ ایت نمبر 248 میں اللہ سبحانہ و تعالی کا ارشاد گرامی ہے اور انہیں ان کے نبی نے کہا اس طالوت کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے تمہارے پاس صندوق یعنی تابوت ائے گا اس میں تمہارے رب کی طرف سے ایک تسلی ہے اور ال موسی اور ال ہارون نے جو کچھ چھوڑا تھا اس میں سے باقی چیزیں ماندہ ہیں۔ اسے فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ بے شک اس میں تمہارے لیے یقیناً ایک نشانی ہے اگر تم مومن ہو۔ اس ایت مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ وہ صندوق اللہ تعالی کی طرف سے طالوت کے بادشاہ مقرر ہونے کی نشاندہی تھی۔ اللہ تعالی کی طرف سے ایک تسلی تھی۔ اس میں موسی و ہارون کی ال کے ترکا کی باقی ماندہ اشیاء تھیں۔ بے شک اس ایت میں تابوت کا کوئی نام نہیں دیا گیا۔ مگر یہ واضح الفاظ میں بتا دیا گیا اس میں تمہارے رب کی طرف سے سکینہ ہے۔ لفظ سکینہ سکون کے مادے سے ہے اور تسکین و ارام کے معنے میں مستعمل ہے۔ یہاں اس سے مراد جان و دل کا سکون اور اطمینان ہے۔ اس لیے اس کو تابوت سکینہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ صندوق شمشاد کی لکڑی سے بنایا گیا ہے جو اندر سے باہر تک سونے سے منڈا ہوا ہے۔ یہاں تک کہ اس کا ڈھکن بھی سونے سے چھپا ہے۔ تین گز لمبا اور دو گز چوڑا ایک صندوق جس پر دو پرندے بیٹھے ہیں۔ اس تابوت سکینہ یا تابوت کے اندر بہت زیادہ اختلاف رائے اور بہت سی روایات ہیں۔ کچھ مصدقہ روایات کے مطابق یہ حضرت ادم علیہ السلام پر نازل ہوا تھا یعنی جنت سے اپ کے ساتھ ہی زمین پر اتارا گیا تھا اور تا مرگ اپ کے پاس رہا۔ پھر نسل در نسل بطور وراثت یکے بعد دیگر اپ کی اولاد تک منتقل ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ یہ حضرت یعقوب علیہ السلام تک پہنچا۔ اور پھر حضرت موسی علیہ السلام سے حضرت یسوع علیہ السلام کو ملا اور اپ کے بعد بنی اسرائیل نے اس پر قبضہ کر لیا۔ بہت دلچسپ بات یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اس تابوت کی منتقلی کے ٹھوس شواہد یا کوئی تحریری نسخے نہیں ملے لیکن علمائے کرام کی رائے کے مطابق یہ ایک لاکھ انبیاء کی میراث تھی۔ جو حضرت ادم علیہ السلام سے خاتم النبی صلی اللہ علیہ وسلم تک چلی۔ اور خاتم النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب امام مہدی کے پاس ہے جو دنیا کو اس کی رہنمائی کروائیں گے اور طالوت کی بادشاہت کی طرح یہ تابوت بھی امامت کی گواہی دے گا۔ جس پر تقریبا تمام مذاہب و مکاتب فکر کے لوگوں کا اجماع ہے۔ حضرت بلقیس حضرت سلیمان علیہ السلام سے شادی کے بعد اپنے وطن ایکسم گئیں۔ وہاں اپ کے ہاں خوبصورت بیٹے کی پیدائش ہوئی۔ اس کا نام ابن حکیم رکھا۔ جب اپ 22 سال کے ہوئے تو اپنے والد سے ملنے یروشلم گئے جب اپ نے واپسی کا قصد کیا تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپ کے ساتھ کچھ درباری اور تابوت سکینہ بھی روانہ کیا۔ حضرت بلقیس کی وفات کے بعد اپ بادشاہ بنے۔ تاریخ اپ کو مینلک اول کے نام سے جانتی ہے۔ اپ نہایت بردبار، عقلمند اور طاقتور بادشاہ تھے۔ اپ نے اپنی سلطنت کو خوب ترقی دی اور 2 ہزار سال تک تابوت سکینہ کے وارث رہے۔ اس صندوق میں وہ 10 احکامات موجود تھے جو اللہ پاک نے نازل کیے تھے۔ اور کوہ سینہ پر حضرت موسی علیہ السلام کو اس کے ذریعے احکامات ملے۔ کہا جاتا ہے کہ خدا موسی سے عہد کے صندوق پر بنے دو کروبیوں میں سے باتیں کرتا تھا۔ یہ صندوق اور ہیکل سلیمانی بنی اسرائیل کی طاقت و خوبصورتی کا سبب ہیں۔ حضرت سیدنا موسی علیہ السلام جنگ میں اس صندوق کو اگے اگے رکھتے تھے۔ اس سے بنی اسرائیل کو سکون نصیب ہوتا تھا۔ بنی اسرائیل کو جب بھی کوئی مشکل پیش اتی تو وہ اس صندوق کو سامنے رکھ کر دعا کرتے تھے۔ دشمنوں کے مقابلے میں اس کی برکت سے فتح پاتے۔ جب اپس میں اختلاف ہوتا تو صندوق سے فیصلہ کرواتے۔ صندوق سے فیصلے کی اواز اتی تھی۔ بلائیں اور افتیں صندوق کی برکت سے ٹل جایا کرتی تھیں۔ اسرائیلی تابوت سکینہ کو اپنے قبیلہ کے طور پر بھی استعمال کرتے تھے۔ تاریخ کی کتابوں کے مطابق حضرت داؤد علیہ السلام نے تابوت سکینہ کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط عمارت تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ عمارت حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور میں مکمل ہوئی۔ اور اسے ہیکل سلیمانی کا نام دیا گیا۔ جب بنی اسرائیل اللہ تعالی کی بہت زیادہ نافرمانی کرنے لگے تو ان پر یہ غضب ہوا کہ قوم امالکہ کے بہت بڑے لشکر نے حملہ کر کے ان کی بستیاں تباہ کر ڈالیں۔ اور یہ انوکھا صندوق بھی اٹھا کر لے گئے۔ اس کے بعد قوم امالکہ نے صندوق کو گندی جگہ رکھ کر بے ادبی کی۔ جس کے نتیجے میں وہ مختلف بیماریوں کا شکار ہو گئے اور ان کی پانچ بستیاں ہلاک ہو گئیں۔ انہیں یہ یقین ہو گیا کہ یہ سب مقدس صندوق کی بے ادبی کا نتیجہ ہے۔ چنانچہ انہوں نے صندوق کو ایک بیل گاڑی پر رکھ کر بنی اسرائیل کی بستیوں کی طرف چھوڑ دیا۔ وہ صندوق چار فرشتوں کی نگرانی میں اس وقت کے نبی حضرت سیدنا شمعیل علیہ السلام تک پہنچا۔ یوں بنی اسرائیل کو دوبارہ یہ عظیم نعمت حاصل ہو گئی۔ اس واقعے کے بعد بنی اسرائیل نے ہیکل سلیمانی کو دوبارہ تعمیر کیا۔ بعد از رومیو نے حملہ کیا اور اسے ایک بار پھر نشانہ بنایا۔ بعض تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ اہل بابل اسے اپنے ساتھ لے گئے۔ جبکہ ایک رائے یہ بھی ہے کہ اسے اسمانوں پر اٹھا لیا گیا۔ جبکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قیامت کے قریب حضرت سیدنا امام مہدی جب تشریف لائیں گے تو اس صندوق کو فلسطین کی تبریا نام کے ایک مشہور جھیل سے نکالیں گے۔ جبکہ ایک قول کے مطابق اپ اسے ترکی کے شہر انتاکیہ کی کسی غار سے نکالیں گے۔ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس سرزمین کو فتح کیا تو رومیوں کے کلیسا سے کچھ فاصلے پر دعا فرمائی۔ جہاں مسجد اقصی کی تعمیر کی گئی ہے۔ یہودی دعوی کرتے ہیں کہ جس جگہ مسجد اقصی واقع ہے وہاں ان کا معبد تھا۔ مسلمان اس جگہ کو اپنے لیے مقدس جانتے ہیں مگر یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ مسجد کو شہید کر کے اس کی جگہ ہیکل سلیمانی کی دوبارہ تعمیر کی جائے گی۔ وہ ہیکل کی ایک پسماندہ دیوار میں واقع دروازے کے متعلق بھی سمجھتے ہیں کہ یہ قیامت سے قبل ان کے بادشاہ کی واپسی کا راستہ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جب اس دروازے سے ان کا بادشاہ نکلے گا تو اس کے پیچھے تمام مردے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ البتہ مسلم روایات کے مطابق یہودیوں کا بادشاہ دجال ہے۔ بائبل کے مطابق اس میں حضرت یوسف کا جسد مبارک اور بائبل ہی کی بعض روایات کی روح سے ہڈیاں اور کپڑے تھے۔ اور اسے حضرت موسی علیہ السلام مصر سے اپنے ساتھ لائے تھے۔ قصص الانبیاء میں ہے کہ اس متبرک صندوق میں تورات کا اصل نسخہ حضرت موسی و ہارون کے عصا و پیرہن اور من کا مرتبان محفوظ ہے۔ ناظرین اسرائیل بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ حضرت اسماعیل کے بھائی حضرت اسحاق نے بیت المقدس میں عبادت گاہ بنائی۔ جبکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی بنیاد رکھی۔ حضرت اسحاق کی اولاد یعنی حضرت اسحاق کے بیٹے حضرت یعقوب نے اپنا لقب اسرائیل رکھ کر اپنے اہل خانہ کے ساتھ موجودہ فلسطین اور بیت المقدس کو اپنا وطن بنایا۔ جبکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد نے خانہ کعبہ کو اپنے وطن کے طور پر چنا۔ جب یعقوب علیہ السلام کے بیٹے حضرت یعقوب کے بیٹے حضرت یوسف تھے جو بعد میں بھائیوں کی بے وفائی کی وجہ سے کنویں میں ڈالے گئے اور غلام بنا کر مصر میں فروخت ہوئے۔ حضرت یوسف بعد از عزیز مصر کی جگہ فرعون کے وزیراعظم بنے اور مصر کے والی کہلائے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے مصر کے والی بننے کے بعد وہ اپنی قوم یعنی بنی اسرائیل کو اپنے ابائی وطن فلسطین سے مصر لے گئے جہاں اگلے وقتوں میں فرعون نے غلام بنا لیا تھا اور ان سے مشقت لینے لگے تھے۔ مصر میں حضرت موسی نے بنی اسرائیل کو فرعون کے قید سے نجات دلائی اور انہیں ابائی وطن بیت المقدس یعنی فلسطین لے ائے۔ سالوں بعد بنی اسرائیل کو ایک اور قوم نے غلام بنا لیا اور فلسطین پر قبضہ کر لیا۔ سینائی کے علاقے میں حضرت داؤد علیہ السلام پیدا ہوئے۔ جنہوں نے بیت المقدس پر قابض بادشاہ کی بیرونی حملہ اوروں کے مقابلے میں مدد کی اور ایرانی حملہ اور بادشاہ اور انتہائی طاقتور جالوت کو جنگ میں قتل کر دیا۔ فلسطین کے بادشاہ سور نے اپنی بیٹی کی شادی حضرت داؤد علیہ السلام سے کر دی جس کے مرنے کے بعد حضرت داؤد فلسطین کے بادشاہ بن گئے اور بنی اسرائیل پھر سے بیت المقدس میں اباد ہو گئے۔ حضرت داؤد کے انتقال کے بعد حضرت سلیمان فلسطین کے بادشاہ بنے اور یہ دور تاریخ کا واحد دور ہے جس میں یہودی انتہائی طاقتور سلطنت کے مالک بن گئے۔ جبکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد کفر میں ڈوب گئی۔ خانہ کعبہ میں بت رکھ دیے گئے بے خانماں خراب ہو گئی۔ حضرت سلیمان نے بیت المقدس میں اس جگہ ہیکل سلیمانی تعمیر کروایا جہاں حضرت اسحاق نے بنی اسرائیل کے لیے عبادت گاہ کی بنیاد رکھی۔ دوستو جو صندوق ایک نہ دو بلکہ پورے ایک لاکھ 24 ہزار انبیاء کرام کی میراث رہا ہو تو اس کی عظمت کتنی بلند ہوگی اور اس صندوق کو رکھنے کے لیے اتنی ہی بلند مرتبہ اور برکت والی جگہ کی ضرورت تھی جس کے لیے اللہ تعالی نے اپنے کلام بلاغت میں ارشاد فرمایا۔ پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی لے گئی جس کے پاس ہم نے برکت دے رکھی تھی۔ اس کے لیے ہم نے اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائے۔ یقیناً اللہ تعالی بہت ہی خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی نے اس زمین کو برکت والا کہا تو ثابت بھی کر دیا۔ اس زمین کو انبیاء کی سرزمین کا نام دیا۔ اور اس جگہ کو انبیاء کی پیدائش گاہ بنا دیا۔ جن میں حضرت یعقوب علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام، حضرت سلیمان علیہ السلام، حضرت یحیی علیہ السلام، حضرت موسی علیہ السلام، حضرت عیسی علیہ السلام اور دیگر انبیاء اس پاک زمین میں پیدا ہوئے یا باہر سے ا کر اباد ہوئے۔ اس زمین میں انگنت انبیاء کے مدفن بھی ہیں۔ یہ مقام فلسطین ہے جو موجودہ اسرائیل کہلاتا ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے حکم خداوندی کے مطابق مسجد بیت المقدس، مسجد اقصی کی بنیاد ڈالی۔ اسی وجہ سے بیت المقدس اباد ہوا۔ اپ کا نام اسرائیل علیہ السلام بھی تھا۔ اپ ہی کی اولاد بنی اسرائیل کہلاتی ہے۔ حضرت موسی علیہ السلام نے برسوں سرائے سینہ میں پھرنے کے بعد اپنی قوم کے لیے ایک عبادت کا خیمہ بنایا۔ یہ 25 فٹ لمبا پانچ فٹ چوڑا اور 15 فٹ اونچا تھا۔ اس میں قیام عبادت، اوز اور تابوت سکینہ کی جگہ تھی۔ حضرت جالوت کے دور تک یہود خیمے کا رخ کر کے عبادت کرتے جیسے یہ ان کا قبلہ ہو۔ حضرت داؤد علیہ السلام کا دور حکومت 33 سال تھا۔ اپ نے خیمہ عبادت کو بیت المقدس میں کوہ سہون میں ایک جگہ مستقل طور پر نصب کر دیا۔ اس جگہ کا نام بیت ایل یعنی اللہ کا گھر پڑ گیا۔ اسی مقام پر خداوند کریم حضرت داؤد علیہ السلام سے ہم کلام ہوا اور اس جگہ کا نام حضرت داؤد علیہ السلام نے حبرون رکھا تھا۔

[20:54]حضرت سلیمان علیہ السلام کا دور 39 سال اپ نے اس خیمہ عبادت کی جگہ ہیکل کی مستقل عمارت بنوائی جس میں اپ نے جنات کی مدد لی اور اس میں قیمتی پتھروں کو ترشوا کر لگوا دیا۔ جن میں یاقوت، زمرود اور سونے چاندی کی تختیوں کی دیواریں ہیں جن میں اعلی درجے کے موتی لگے ہوئے ہیں۔ فیروزہ کا فرش، یاقوت کے ستون اور جواہرات کی جوڑا چھت تھی۔ جن کی چمک اور روشنی اس قدر تھی کہ رات میں بھی روشنی کی ضرورت نہ پڑتی تھی۔ ایک مخصوص کمرہ تابوت سکینہ کے لیے وقف ہوا جس کا نام قدس رکھا۔ یہ عمارت 20 سال میں مکمل ہوئی۔ ناظرین سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اخر اس لکڑی کے صندوق میں ایسا کیا ہے؟ جو یہودی دیوانہ وار اس کی تلاش میں زمینی جون کو دیمک بنے ہوئے ہیں۔ ایک صندوق جو بنی اسرائیل سے دوسرے تک منتقل ہوتا ایا اور اس کے اندر انبیاء کی ذاتی اور کراماتی اشیاء رکھتے ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس صندوق کو رکھنے کے لیے اسی سرزمین کا انتخاب ہوا جسے خداوند کریم برکت والی زمین کہے جس زمین کو انبیاء کی زمین کا نام ملے جو سب سے پاک و برتر مقام ہو اس تابوت کو رکھنے کے لیے مقام کو بھی خود نبی تیار کروائیں۔ خداوند تعالی اپنے کلام میں اسے دل کا سکون کہے مومنوں ایمان والوں کی نشانیاں بتائے اس صندوق کی اہمیت کیا بیان ہو سکتی ہے؟ یہ تو سمندر کو کوزے میں بھرنے کے مصداق ہوا۔ اس کی اہمیت تو لامحدود ہے۔ تبھی اج دنیا بھر کی اقوام خواہ مسلم ہوں، عیسائی ہوں یا یہودی اس کی تلاش اور جستجو میں سرگرداں ہیں۔ کیونکہ یہ صرف ایک صندوق نہیں بلکہ فتح و کامیابی کی علامت ہے۔ یہ اتنا اہم ہے کہ اج تین ہزار سال بعد بھی اس کی تلاش کیوں جاری ہے؟ ناظرین تابوت سکینہ اور ہیکل سلیمانی دونوں کا تذکرہ ساتھ ساتھ ہی اتا ہے۔ اب ہیکل سلیمانی کے بارے میں کچھ تفصیل اپ کو بتاتے ہیں۔ دوستو یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی تعمیر کردہ عبادت گاہ کا نام ہے جو موجودہ بیت المقدس یعنی مسجد اقصی کے مقام پر تھی۔ تو سب سے پہلے اپ ناظرین سے سلیمان علیہ السلام کا تذکرہ کریں گے۔ دوستو سلیمان علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ نبی تھے۔ سلیمان علیہ السلام داؤد علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے متحدہ اسرائیل پر قبل از مسیح سے لے کر 931 قبل از مسیح تک حکومت کی ان کے بعد ملک اسرائیل کے دو حصے شمالی اور جنوبی ہو گئے۔ سلیمان علیہ السلام کا سلسلہ نسب یہودا یعنی اولاد یعقوب کے واسطے سے یعقوب سے جا ملتا ہے۔ قران پاک میں انہیں اولاد ابراہیم شمار کیا گیا ہے۔ سلیمان علیہ السلام کی حکومت کا ایک بہت بڑا امتیاز جو کائنات میں کسی اور کو نصیب نہیں ہوا یہ تھا کہ ان کے زیر نگین صرف انسان ہی نہیں بلکہ جن اور حیوانات بھی تابع تھے۔ اور یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے حاکمانہ اقتدار کے تابع اور زیر حکم تھے۔ حق تعالی نے جن کو ایسی مخلوق بنایا ہے جو مشکل سے مشکل اور سخت سے سخت کام انجام دے سکتی ہے۔ اس لیے حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ ارادہ فرمایا کہ مسجد یعنی ہیکل کے چار جانب ایک عظیم الشان شہر اباد کیا جائے اور مسجد کی تعمیر بھی از سر نو کی جائے۔ ان کی خواہش یہ تھی کہ مسجد اور شہر کو بیش قیمت پتھروں سے بنوائیں اور اس کے لیے بعید سے بعید اطراف سے حسین اور بڑے بڑے پتھر منگوائیں۔ ظاہر ہے کہ اس زمانہ کے رسل و رسائل کے محدود اور مختصر وسائل سلیمان علیہ السلام کی خواہش کی تکمیل کے لیے کافی نہیں تھے۔ یہ کام صرف جن ہی انجام دے سکتے تھے۔ لہذا انہوں نے جنات سے ہی یہ خدمات لیں۔ چنانچہ وہ دور دور سے خوبصورت اور پتھر جمع کر کے لاتے اور بیت المقدس کی تعمیر کا کام انجام دیتے۔ ناظرین ہیکل سلیمانی اور اس کی تعمیر کا تذکرہ تورات اور انجیل میں بھی موجود ہے۔ ناظرین یہ تھی ہماری اج کی ویڈیو۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اپ کو ہماری اج کی یہ ویڈیو ضرور پسند ائی ہوگی۔ اگر اپ کو ہماری یہ ویڈیو پسند ائی ہے تو اپ سے گزارش ہے کہ ہمارے چینل کو سبسکرائب کر لیں اور ساتھ ہی لگے بیل کے بٹن کو پریس کر لیں تاکہ اپ کے پاس ہماری انے والی مزید معلوماتی ویڈیوز کا نوٹیفکیشن

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript