[0:00]ایک اور مثال دیکھیے یہاں پہ دو شعر ہیں ان کے یہاں پہ اخر میں آیا ہے ہدب ینسلون اور اس کے بعد فلیعمل العاملون بالکل وہی تراکیب ہیں جو عمرالقیس کے اشعار میں موجود تھیں۔ پھر ایک اور مشہور آیات یہ بھی بخاری و مسلم کی روایت میں موجود ہے کہ حضرت ابراہیم کے مقام کو نماز کی جگہ بنا لیا جائے۔ یہ بھی حضرت عمر کا قول تھا جو کہ قرآن مجید میں آیت بن کے پھر نازل ہو گیا۔ شراب کے جو تین مدارج میں شراب حرام ہوئی ہے وہ بھی حضرت عمر ہی کے قول پہ ہوئی ہے۔ کہ جب آپ کہتے تھے کہ نماز مت پڑھو جب شراب پیے ہوئے ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا جاتا تھا کہ شراب اور جوئے کے بارے میں کچھ کہیے گا لوگ اس سے گمراہ ہو رہے ہیں بالکل وہی آیات اتر گئیں قرآن مجید میں بھی۔
[0:39]سلام دوستوں امید ہے آپ سب لوگ بہت خیریت سے ہوں گے۔ تو رمضان آ چکا ہے۔ قرآن مجید کا مہینہ ہے تو سوچا کیوں نہ اس مہینے میں کچھ ایسی ویڈیوز بنائی جائیں جس سے قرآن مجید پر تنقیدی فکر کے دروازے کھلیں۔ تو اس ویڈیو میں پہلے میں بات کروں گا رحمان کے اوپر۔ قرآن مجید میں ایک سوال ہے کفار کا کہ رحمان کیا ہوتا ہے تو اس پہ قرآن مجید کا جواب دیکھیں گے۔ پھر میں ان چند افراد کا ذکر کروں گا چند واقعات کا ذکر کروں گا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن مجید صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصنیف نہیں ہے یا صرف ان پہ نازل شدہ آیات نہیں ہیں بلکہ اس کی آتھرشپ میں اس کے لکھنے والوں میں یا انفلوئنس کرنے والوں میں کچھ مزید افراد کا نام بھی آتا ہے تاریخ میں۔ تو چلیے شروع کرتے ہیں۔ پہلے آپ یہ آیت دیکھیے یہ سورہ فرقان کی آیت نمبر 60 ہے۔ ان لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ اس رحمان کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں رحمان کیا ہوتا ہے؟ کیا بس جسے تو کہہ دے اسی کو سجدہ کرتے پھریں؟ یہ دعوت ان کی نفرت میں الٹا اور اضافہ کر دیتی ہے۔ تو کفار مکہ یہ پوچھ رہے تھے کہ بھئی یہ رحمان کیا ہوتا ہے؟ ہم کیوں اس کی عبادت کریں؟ قرآن مجید اس کا جواب نہیں دیتا۔ اگلی آیت پڑھیے۔ سورہ فرقان آیت نمبر 61 بڑا متبرک ہے وہ جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں ایک چراغ اور ایک چمکتا چاند روشن کیا۔ سوال یہ نہیں تھا کہ رحمان کیا کرتا ہے۔ سوال یہ تھا کہ رحمان کون ہے یعنی واٹ از دی آئیڈینٹٹی اف رحمان۔ قرآن مجید اس کا کوئی جواب نہیں دیتا وہ بس یہ بتا دیتا ہے کہ وہی ہے جس نے آسمان میں برج اور چاند بنائے وغیرہ۔ اور ایک آیت کے بعد آیت نمبر 63 میں وہ ایک اور بات کرتا ہے۔ رحمان کے اصلی بندے وہ ہیں جو زمین پہ نرم چال چلتے ہیں اور جاہل ان کے منہ کو آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام۔ یہاں کیا ہو رہا ہے؟ ایک سوال پوچھا گیا قرآن مجید اس کا جواب نہیں دیتا۔ ائیڈینٹیٹی کے بجائے وہ ورک کو بتا دیتا ہے کہ رحمان یہ کرتا ہے اور اس کے بعد وہ سوال کو شٹ ڈاؤن کر دیتا ہے۔ کیسے کہ اس نے آپ کے سوال نہ پوچھنے کو ایک دینی حکم بنا دیا۔ ایک دینی اخلاقی کام بنا دیا کہ رحمان کے بندے جو وہ ہیں جو زمین پہ نرم چال چلتے ہیں اور جاہل اگر پوچھیں تو ان کو کہو سلام۔
[2:41]یعنی کوئی جواب نہیں دو سلام کہہ کے آگے بڑھ جاؤ۔ یہاں سوال کو ایڈریس نہیں کیا جا رہا یہاں سوال کو روکا جا رہا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیوں؟ تو رحمان کو تھوڑا سا کھولتے ہیں۔ جو رحمان یا رحمانن ہے یہ ساؤتھ عربیہ میں جو یمن کا علاقہ ہے وہاں کے پالی تھیس یعنی مشرکانہ مذہب کے خداؤں میں سے ایک خدا تھا بلکہ یہ کہنا چاہیے وہاں کے وہ خداؤں کی ایک کوالٹی تھا جس کو مرسیفول کہا جاتا ہے جس کو رحمدل کہا جاتا ہے یہ رحمان بھی تھا اور رحمانن بھی تھا یہ ساؤتھ عربیہ یعنی یمن کا علاقہ۔ اس پہ پھر حکومت آ جاتی ہے ہمیاریوں کی جس کو ہمیار ڈینسٹی کہتے ہیں۔ یہ لوگ یہودیت کو ایکسیپٹ کر لیتے ہیں یاد رہے کہ یہودیت تقریباً ساڑھے تین چار ہزار سال پرانی ہے اسلام سے دو ڈھائی ہزار سال پہلے یہودیت آئی تھی یہ یہودیت کو مان لیتے ہیں۔ اور جگہ سے وہ جنگوں کی وجہ سے مائگریٹ کر کے ائے ہوتے ہیں یہودی پھر ہمیاری ان کو مان لیتے ہیں۔ اس کے بعد رحمانن نام بن جاتا ہے لقب بن جاتا ہے یہودی مونوتیسٹک یعنی یہودی توحیدی خدا کا جس کو جہووا کہا جاتا ہے۔ پھر آتے ہیں کرسچیئنز کرسچیئنز اور ہیمیاوی میں بڑی جنگیں ہوتی ہیں اور کرسچیئنز اس میں پھر فتح یاب ہوتے ہیں تو پھر یہی رحمانن حضرت عیسیٰ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ بات میں ابھی بتا دوں کہ یہ جو ہمیں پتھروں پہ انسکرپشنز ملی ہیں کرسچیئنز اس میں دونوں باتیں ہیں۔ حضرت عیسیٰ کو بھی رحمانن کہا گیا ہے رحمان یا رحمانن کہا گیا ہے اور اس کے علاوہ ان کو رحمان مسایا اف رحمانن بھی کہا گیا یعنی رحمان یا رحمانن کا مسیحا یا رحمان یا رحمانن کا بھیجا ہوا مسیحا دونوں باتیں ان کے لیے ملتی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ کرسچیئنیٹی میں ٹرینیٹی کے اندر خدا اور عیسیٰ الگ نہیں ہیں۔ وہ ایک ہی شخصیت کے مختلف پہلو ہیں تو حضرت عیسیٰ کو بھی رحمان کہا جاتا تھا اور حضرت عیسیٰ ان کا سٹیٹس تھا بینگ ا مسایا وہ بھی کہا جاتا تھا کہ یہ رحمانن کے مسیحا ہیں۔ تو یہ عرب جو ہیں وہ یہ پوچھ رہے تھے کہ رحمان کون ہے بھئی مطلب وہ عیسائیوں والا رحمان ہے کہ ہم اس کو مان لیں وہ تو تم کہتے ہو کہ شرک ہے وہ تو وہی ہے جو ہم بھی کرتے ہیں یا یہ یہودیوں والا رحمان ہے جو کہ تم کہتے ہو کہ انہوں نے کتاب مٹا دی یہ کر دیا وہ کر دیا قرآن مجید اس کا کوئی واضح جواب نہیں دیتا۔ وہ سیدھا سیدھا بتاتا ہے کہ رحمان کون ہے یہ پوچھو ہی مت جو یہ پوچھے اس کو کہو قالو سلامہ اور رحمان کون ہے جس نے آسمان میں برج بنائے اور چاند بنائے جو کہ آپ کسی بھی خدا کے بارے میں دعویٰ کر سکتے ہیں یہ دعویٰ نہیں یہ دلیل ہوتا ہے۔ اب آگے چلتے ہیں۔ میں آپ کو ایک شخص کا بتاتا ہوں جن کا نام تھا عمرالقیس یہ بڑے مشہور شاعر تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بہت پہلے پیدا ہوئے اور آپ کی پیدائش سے کچھ سال پہلے ہی انتقال کر گئے۔ ان کے شعر زبان زد عام تھے سوک اقاز یعنی بازاروں میں پڑھے جاتے تھے مجلسوں میں پڑھے جاتے تھے جب کوئی فیسٹیول کا موقع ہوتا تھا تب اس کو بڑی زور سے حدیث خوان پڑھتے تھے پڑھاتے تھے تو یہ ایک مشہور آدمی تھے ان کا کلام ان کے مرنے کے بعد بھی لوگوں کو یاد تھا اور دہرایا جاتا تھا۔ اب آپ اس تصویر میں عمرالقیس کا کلام دیکھیے پھر میں آگے چلتا ہوں۔ تو یہ میں نے ان کا کلام لگایا ہے الٹے ہاتھ پہ اور سیدھے ہاتھ پہ سورہ قمر کی چند آیات ہیں۔ پہلی آیت دیکھیے وانشق القمر یہ بالکل وہی الفاظ ہیں جو کہ سورہ قمر کی پہلی آیت میں آئے ہیں۔ دوسرا دیکھیے فتعاطی فاعقر یہ بھی بالکل ایسے ہی قرآن مجید میں آیا ہے اور آخر میں کہشیم المحتضر یہ بھی بالکل ویسے ہی قرآن مجید میں آیا ہے۔ یہ عمرالقیس کا کلام تھا جہاں سے یہ ترکیب اٹھا کے قرآن میں ڈال دی گئی۔ دیکھیے سوال یہ نہیں ہے کہ کس طرح الفاظ عربی کے آئے ہیں نہیں الفاظ تو عربی کے وہی ہوں گے لیکن ترکیب پہ غور کیجیے کہ شق القمر فتعاطی فاعقر کہشیم المحتضر یہ بالکل وہی ہے جو عمرالقیس کی تراکیب لوگ جانتے تھے بالکل وہی قرآن نے بھی استعمال کی۔ اب آپ یہ بتائیے کہ اگر آپ کے سامنے کوئی ایسا کلام پڑھا جائے جس کے اوریجن سے آپ واقف ہوں جو بہت ملتا جلتا ہو کسی اور کلام سے تو اس کو آپ خدا کا کلام کیسے مانیں گے؟ اس کی مزید مثالیں میں آپ کو دیتا ہوں اس سے پہلے میں ایک بات واضح کر دوں کہ اس کو ہم زبان میں کہتے ہیں سرقہ۔ سرقہ دو طرح کا ہوتا ہے سرقہ ایک تو یہ ہوتا ہے کہ آپ نے کسی خالق کا کوئی کلام لیا اور اس کو ویسے ہی اپنے کلام میں فٹ کر دیا بغیر ریفرنس کے اور یہ شاعر لوگ بہت زیادہ کرتے ہیں۔ دوسرا سرقہ ہوتا ہے سرقہ بالمعنی کہ آپ نے اس خیال کو لے لیا اور اس خیال کو لے کے جو ہے وہ آپ نے اپنے کلام میں ڈال دیا۔ یہ دونوں ادب کی اسناف میں سرقہ شمار ہوتی ہیں اور یہ معیوب باتیں ہیں تو یہاں پہ عمرالقیس کے تین اشعار ہیں تین تراکیب ہیں اور تینوں تراکیب بعین ہی موجود ہوتی ہیں قرآن مجید میں اور آج بھی پڑھی جاتی ہیں۔ یہ میں نے جس کتاب سے لیا ہے وہ اس کا لنک میں لگا دوں گا یہ امجد حسین کوئی صاحب ہیں میں ان کو میں ذاتی طور پہ نہیں جانتا۔ انہوں نے قرآن مجید و اسلام پہ کافی کتابیں لکھی ہیں بہت اچھی ریفرنس لکھیں یہ جو کتاب ہے یہ اصل میں تقریباً ترجمہ یا ترجمانی ہے کلیئر ٹیسڈل کی کتاب دی آتھرشپ آف دا قرآن کی تو یہ انہوں نے وہاں سے لیا ہے یہ سارا مٹیریل میں نے یہ اس کو میں اردو میں لگا دوں گا تاکہ جو بھی دیکھنا چاہے وہ دیکھ لے۔ یاد رہے کلیئر ٹیسڈل کی کتاب کو میں نے بھی ریکمنڈ کیا تھا جب میں نے اسلام کے تنقیدی مطالعے پہ اپنی ویڈیوز بنائی تھیں۔ چلیے آگے چلتے ہیں کچھ اور مثالیں دیکھتے ہیں۔ ایک اور مثال دیکھیے یہاں پہ دو شعر ہیں ان کے یہاں پہ آخر میں آیا ہے ہدب ینسلون اور اس کے بعد فلیعمل العاملون بالکل وہی تراکیب ہیں جو عمرالقیس کے اشعار میں موجود تھیں اور سورہ انبیاء اور سورہ الصافات میں آج بھی پڑھی جاتی ہیں۔ تو یہ بہت بڑے شاعر تھے یعنی ان کا کلام زبان زد عام تھا قرآن مجید میں یہ تراکیب آنے کے باوجود بھی یہ کلام اتنا پاورفل تھا کہ اس کو محفوظ رکھا گیا۔ دلوں میں محفوظ رکھا گیا دہرایا گیا پھر آخر کتابوں میں لکھا گیا اور اسی طرح 1400 1500 برس کے بعد آج ہم بھی یہ کلام دیکھ سکتے ہیں اور اس کو قرآن مجید سے ٹیلی کر کے کسی نتیجے پہ پہنچنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اب میں آپ کو ایک اور شخصیت کا تعارف کراتا ہوں ان کا نام ہے زید بن عمرو بن نفیل۔ یہ مکہ بھی ہوتے تھے اور ان کا مذہب مواہد تھا۔ مواہد کہتے ہیں توحید کے ماننے والے کو یہ اصل میں ایک گالی تو نہیں کہنا چاہیے لیکن ایک بہت ہی ذلیل کرنے والا لفظ تھا عربوں میں کیونکہ وہ لوگ جو کہ اپنے آبائی دین کو مشرکانہ دین کو چھوڑ کے کسی ایک ان دیکھے خدا پہ ایمان لائیں اچھا یہاں میں یہ بات بتا دوں کہ عرب جانتے تھے کہ اللہ کون ہے وہ کئی جگہوں پہ وہ اللہ کے لیے انسکرپشنز ملتے ہیں کہ وہ صرف اللہ سے دعائیں مانگ رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ وہ باقی لوگ بھی مانتے تھے جو کہ ہم اسلامی تاریخ میں پڑھتے ہی ہیں۔ تو یہاں پہ وہ لوگ جو صرف اللہ کو مانتے تھے ان کو مواہد کہہ کے چڑھایا جاتا تھا تو یہ بہت بڑے مواہد تھے زید بن عمرو بن نفیل۔ ان کو بہت تکلیف دی جاتی تھی۔ عمر بن خطاب کے جو والد تھے وہ ان کو بہت زیادہ تنگ کرتے تھے وہ مکے میں اوباش لڑکوں کو بچوں کو ان کے پیچھے لگا دیتے تھے کہ ان کو پتھر مارو ان کو تنگ کرو ان پہ آوازیں کسو اور یہ شہر سے باہر غار حرا میں جا کے پناہ لیتے تھے یہ ابن اسحاق کی روایت ہے جو ابن اسحاق کون ہیں جنہوں نے پہلی سیرت النبی لکھی اور پھر ان کی کتاب کو ایڈٹ کیا ابن ہشام نے آج ہمارے پاس اوریجنل ابن اسحاق موجود نہیں ہے ابن ہشام نے اس میں سے کون کون سے واقعات نکالے ہم مکمل نہیں جانتے یہ چند ریمیننٹس ہیں جو یہاں موجود ہیں۔ اگر آپ نے اسلامیات پڑھی ہے بچپن میں اسکول میں تو یہ روایت کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اوباش لڑکوں کو لگا دیا جاتا تھا یہ مکہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بیان کی جاتی ہے پھر یہ روایت آپ کو یا ملتی جلتی روایت آپ کو طائف کے قصوں میں بھی ملتی ہے کہ جب آپ طائف گئے تو اوباش لڑکے آپ کے پیچھے لگ گئے اور آپ کو پتھر مارتے تھے اور آپ کی جوتیاں بھی خون سے بھر گئیں وغیرہ وغیرہ لیکن یہ اصل واقعہ جو ہے یہ زید بن عمرو بن نفیل کا ہے جس کو اپنے آبائی مذہب کے چھوڑنے کے جرم میں یہ حال کیا جاتی تھی اور غار حرا میں بھی عمر و زید بن عمرو بن نفیل یا نفیل وہی وہاں پہ جاتے تھے یہ واقعہ بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جوڑ دیا گیا یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ جھوٹ ہو یہ عین ممکن ہے کہ وہیں پہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ان سے ہوئی ہو آپ نے ان کے دین کو جو احدیت کا دین تھا اس کو درست سمجھا ہو آپ خود غار حرا میں جا کے بیٹھتے ہوں لیکن یہ روایتیں اب نکال دی گئی ہیں اب اس کو صرف ایک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بنا دی گئی ہے اور اس میں میں آپ کو ایک اور بات بتاؤں کہ اگر آپ میں سے جو لوگ گئے ہیں سعودی عرب اور غار حرا گئے ہیں تو اس کی چڑھائی بڑی مشکل ہے۔ اب تو انہوں نے چیئر لفٹ بھی لگا دی ہیں جب میں گیا تھا تو اس پہ سیڑھیاں تھیں ٹوٹی پھوٹی سیڑھیاں تھیں لیکن وہ انتہائی دور اور مشکل جگہ پر وہ غار واقع ہے۔ اس کے ساتھ ایک اور مزے کی بات بتائی جاتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب وہاں پہ مراقبہ فرماتے تھے تو حضرت خدیجہ آپ کے لیے کھانا وغیرہ لے کے جاتی تھی۔ حضرت خدیجہ کی شادی ہوئی 40 سال کی عمر میں ان کے ہاں چھ اولادیں ہوئیں اب 40 سال کی خاتون نے چھ بچے کیسے پیدا کیے؟ میں نہیں جانتا۔ لیکن پھر وہ نبوت کے ٹائم پہ وہ کم از کم 60 62 برس کی ہوں گی۔ تو 60 برس کی عورت کے لیے اتنا چڑھنا ناممکن بات ہے لیکن جب آپ عقیدت کی انداز میں دیکھیں تو پھر سب کچھ ممکن ہو جاتا ہے۔ تو یہ زید بن عمرو بن نفیل یا نفیل یہ مواہد تھے مکے میں ان کو تنگ کیا جاتا تھا ان کو پتھر مارے جاتے تھے اور یہ اکثر غار حرا میں رہتے تھے اپنی کہنا چاہیے کہ عبادت کے ساتھ یا اپنے ائیڈیاز کے ساتھ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ان کی ملاقات ہوئی اور ممکن ہے بلکہ بہت زیادہ ممکن ہے کہ احدیت کے خیالات جو آئے ہیں توحید کے خیالات جو آئے ہیں وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہیں سے سمجھے ہوں زید بن عمرو سے۔ پھر ایک دوسرے کریکٹر آتے ہیں ورقہ بن نوفل۔ ورقہ بن نوفل کے لیے میں کچھ بتانے کی بجائے آپ کو شاہ عبدالعزیز کی تفسیر سے کچھ پڑھتا ہوں آپ میرے ساتھ رہیے گا۔ شاہ عبدالعزیز بھی سورہ اقراء کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ شخص عبرانی کتابوں اور تورات و انجیل سے پوری واقفیت رکھتا تھا اور ان کتابوں کا عربی زبان میں ترجمہ بھی لکھا کرتا تھا۔ اس علم دوست دین دار آدمی نے عمر کی پوری برکت پائی تھی۔ یہ عالم شباب میں یہود و نصاریٰ کے ملکوں میں سیاحی کر کے اور عالموں کی صحبت اٹھا کر عیسائی ہو گیا تھا اور ہمیشہ اسی دین پر قائم رہا۔ اپنی بساط و گنجائش کے موافق اس نے کس قدر نسخے کتابوں کے اور کس قدر تحریری کلام نشر و نظم و تراجم وغیرہ اپنے پاس نہ جمع کیے ہوں گے اور خود بھی کس قدر نہ لکھا پڑھا ہو گا۔ کان یکتب الکتاب بالعرابی وہ عربی میں ایک کتاب لکھا کرتے تھے یہ تم خود جانتے ہو اور یکتب من الانجیل بالعربیۃ اور وہ انجیل سے ترجمہ کر کے عربی میں لکھا کرتے تھے یہ بھی تسلیم کرتے ہو اور لکھتے بھی اتنا ہی تھے۔ یہ زبان تھوڑی سی الگ ہے کیونکہ ظاہر سی بات ہے یہ پری پارٹیشن کی زبان ہے۔ تو عبدالعزیز صاحب کیا بتا رہے ہیں کہ ورقہ بن نوفل جو تھے یہ ایک عیسائی عالم تھے یہ یہود و نصاریٰ کے مذاہب کی کتابوں کو پڑھ چکے تھے ان کی کتابوں کی بیس پہ اپنی کتاب بھی ایک عربی میں انہوں نے لکھ کے رکھی ہوئی تھی اور اس کے بعد انہوں نے انجیل کا ترجمہ بھی عربی میں کیا تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ورقہ بن نوفل حضرت خدیجہ کے کون تھے ان کے انتہائی قریبی عزیز تھے اور یہ بھی آتا ہے کہ حضرت خدیجہ ہی ان کی وارث بھی ٹھہریں۔ یہاں پہ بخاری کی میں آپ کو ایک روایت بتاؤں کہ بخاری شریف میں روایت ہے کہ ورقہ بن نوفل کا جب انتقال ہوا تو آپ بہت ہی مغموم ہیں۔ پہلے وہ لمبی روایت ہے پورا اس میں قصہ بیان ہوا ہے کہ کس طرح جبریل آئے کہا اقراء آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ما انا بقاری پھر آپ کو انہوں نے سینے سے لگا کے بھیجا اور پھر وہ آگے چلتا ہے قصہ تو اس میں یہ اتا ہے کہ جب ورقہ بن نوفل کا انتقال ہو جاتا ہے تو وحی کچھ عرصے کے لیے بند ہو جاتی ہے۔ باقی روایات میں یہ ملتا ہے کہ وحی تین سال تک بند رہی ورقہ بن نوفل کے انتقال کے تین سال بعد تک کوئی وحی نازل نہیں ہوئی۔ یہ روایت ہمارے جو سنی مسلمان ہیں پاکستان کے وہ کبھی بیان نہیں کرتے میں نے یہ روایت پہلی بار پڑھی تھی محمد حسین ہیکل کی کتاب حیات محمد میں جو آج بھی ملتی ہے۔ اب مجھے نہیں معلوم کہ یہ ایڈیٹڈ ہے کہ نہیں ہے اس وقت بھی مترجم نے لکھ دیا تھا کہ یہ روایت جھوٹی ہے اس کے میں یہ ہے اس میں وہ ہے۔ روایت جھوٹی نہیں ہے اس کی سند بھی اچھی ہے اس میں یہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خودکشی کے لیے پہاڑ پہ چڑھتے تھے اتنی آپ ڈپریس ہو جاتے تھے لیکن پھر حضرت جبرائیل آتے تھے اور آپ کو تسلی دیتے کہ آپ فکر نہ کریں آپ ہی رسول اللہ ہیں اور آپ پھر نیچے اتر آتے تھے۔ تو ورقہ بن نوفل کی وفات کے تین سال بعد تک وحی نہیں ائی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جو کتابیں ورقہ بن نوفل کی تھیں یہ حضرت خدیجہ کو ملی ہیں وہی ان کی وارث تھی۔ تو وہاں سے پھر یہ ممکن نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہی کتابیں ملی ہوں۔ انہی کتابوں سے آپ نے جو سیکھا وہ سیکھا اس کو ہم کنفرم نہیں کر سکتے کیونکہ یہ کتابیں آج موجود نہیں ہیں۔ لیکن یہ تاریخی واقعات یہ بتاتے ہیں کہ یہ بہت زیادہ ممکن ہے کہ ان کتابوں سے آپ نے کم از کم یہودیت کے عقائد سیکھے ہوں گے عیسائیت کے عقائد سیکھے ہوں گے توحید سیکھی ہو گی عبادات کے طریقے سیکھے ہوں گے یہ بات بالکل بالکل کہنا چاہیے کہ ازہر من الشمس ہے کہ یہ کامن بات ہے کہ آپ کے پاس آپ ہی تھے کسٹوڈین ان تمام علمی ذخائر کے جو ورقہ بن نوفل نے جمع کیے تھے اب یہ قرآن مجید کی چند آیات ہیں جو کہ قرآن مجید کے عربی ہونے پہ کہنا چاہیے تعریف کر رہے ہیں یہ۔ پہلی آیت ہے عاشوراء کی صاف صاف عربی زبان میں۔ دوسری آیت ہے سورہ یوسف کی ہم نے اسے نازل کیا ہے قرآن بنا کر عربی زبان میں تاکہ تم اہل عرب اس کو اچھی طرح سمجھ سکو۔ آیت ہے سورہ رات کی اسی ہدایت کے ساتھ ہم نے یہ فرمان عربی تم پر نازل کیا ہے کہ اب اگر تم اس علم کے باوجود ہو تمہارے پاس آ چکا ہے لوگوں کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی تمہارا حامی و مددگار ہے اور نہ کوئی اس کی پناہ سے تم کو بچا سکتا ہے۔ آخری آیت سورہ فصلاط کی ایک ایسی کتاب جس کی آیات خوب کھول کر بیان کی گئی ہیں عربی زبان کا قرآن ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں تو قرآن مجید کی لینگویسٹک ہے اس پہ تو تفصیلاً تو بات کرنے کا موقع نہیں ہے یہ لیکن میں آپ کو اتنا بتاؤں کہ جب اس کالر نے قرآن مجید کی زبان کو سمجھنا شروع کیا تو انہوں نے قریش کی زبان کو عربی فصح کہا کہ یہ فصیح عربی ہے جس میں یہ قرآن مجید نازل ہوتا ہے لیکن جب ہم قرآن مجید کو فیلوجی یعنی زبان کے ارتقاء کے علم کی نظر میں دیکھتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی الفاظ کی اکثریت عربی نہیں ہے۔ میں آپ کو چند مثالیں اس کی بتاتا ہوں آخر میں کتاب بھی بتاؤں گا۔ یہ آپ چند لفظ دیکھیے جو ہم میں سے سب قرآن مجید میں پڑھ چکے ہیں۔ اجر، ابابیل، ابلیس، اساطیر، استبرق، اسبات، اعراف، اللہ، سجیین، سراج، سفینہ،
[15:17]سقر، سکینہ، سلسلہ، سلطان، سلوہ، شہر، شہداء، شیطان، سراط، قرآن، مصحف، جنت، جہنم یہ تمام کے تمام الفاظ دوسری زبانوں سے قرآن مجید میں آئے ہیں۔ یعنی یہ عربی مبین کا جو دعویٰ ہے یہ بہت عجیب بن جاتا ہے جب آپ الفاظ کی فیلوجی کو دیکھیے دیکھیے یہ بات تو بالکل درست ہے کہ ہر زبان جو ہے وہ مختلف زبانوں سے مل کر بنتی ہے لیکن اس کا ایک الگ فلیور پھر آ جاتا ہے پھر آپ اس کو خالص وغیرہ کی سے نہیں کرتے آپ یہ نہیں کہتے کہ شیکسپیئر کی انگلش خالص تھی۔ وہ خالص نہیں تھی وہ جرمنک زبان تھی وہ آگے چل کے وہ اپنی جون بدلتی رہی اور انگلش آج اس سے بہت الگ ہے جو شیکسپیئر کے زمانے میں لکھی جاتی تھی کہ عربی کے معاملے میں معاملہ یہ آ جاتا ہے کہ یہ عربی مبین کا دعویٰ ہے۔ یہ اس کو ایسے کہا جا رہا ہے کہ یہ خالص ترین زبان میں نازل ہوئی ہے جبکہ اس میں الفاظ کی اکثریت جو ہے وہ عجمی ہے یعنی غیر عربی زبان سے وہ الفاظ آئے ہیں اس میں فارسی کے کچھ الفاظ بھی ہیں اب میں آپ کو ایک کتاب دکھاتا ہوں۔ یہ کتاب ہے فورن وکیبلری اف دا قرآن آرتھر جیفری کی کتاب ہے آپ اس کو سرچ کریں گے تو آپ کو مل جائے گی۔ کافی بڑی کتاب ہے 300 پیج کے قریب ہے تو اس میں جو بھی آپ لفظ دیکھیں اس کی بہت اچھی ریسرچ موجود ہے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ تمام الفاظ قرآن مجید میں جو آئے ہیں یہ عربی کے نہیں ہیں بلکہ عربی نے یہ کسی اور زبان سے لیے ہیں کسی اور زبان سے لیے ہوئے الفاظ کو اپنا بنانا غلط نہیں ہے زبانوں کے لحاظ سے میتھڈ آف کمیونیکیشن لیکن اس کو اللہ کا معجزہ قرار دینا اس پہ اعتراض ہے اس پہ میں چاہتا ہوں کہ میرے مومنین دوست جو ہیں وہ اس پہ ضرور غور و فکر کریں اس مبارک مہینے میں۔ اب اکثر یہ آتا ہے کہ جی قرآن مجید معجزہ ہے اور عرب جو ہے عاجز ہو گئے تھے جواب لانے سے لیکن قرآن کچھ اور کہانی سناتا ہے میں آپ کے سامنے دو آیات پڑھتا ہوں۔ ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ تمہارے متعلق کہتے ہیں کہ ان اس شخص کو ایک آدمی سکھاتا پڑھاتا ہے۔ حالانکہ ان کا اشارہ جن آدمی کی طرف ہے اس کی زبان بھی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے۔ دوسری آیت دیکھیے جن لوگوں نے نبی کی بات ماننے سے انکار کر دیا وہ کہتے ہیں کہ یہ فرقان ایک من گھڑت چیز ہے جسے اس شخص نے آپ ہی گھڑ لیا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس کام میں اس کی مدد کی ہے۔ یعنی قریش مکہ جو ہیں یا کفار مکہ جو ہیں وہ یہ جانتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ یہ کتاب تو تم دوسروں سے سیکھ کے لکھتے ہو۔ ان میں کتنے لوگوں کا نام آتا ہے یہ میں آپ کو بتاتا ہوں مختصراً طور پہ۔ اس میں پہلا نام آتا ہے ایک یہودی غلام کا جس کا نام تھا ابو فکیہہ اور یہ امین بن الحزرمی القرشی کے غلام تھے۔ یہ جو ہیں یہودیت کے عالم تو شاید ہم نہیں جانتے لیکن بہرحال یہودیت کے بارے میں بہت زیادہ جانتے تھے۔ عین ممکن ہے کہ جو ورقہ بن نوفل کی کتب آپ کے پاس آئی ہوں وہ آپ نے پھر دیکھی ہوں پڑھی ہوں سمجھی ہوں اس کے بعد ان صاحب سے بھی انہوں نے کچھ نہ کچھ سیکھا ہو عقائد کے بارے میں۔ ایک اور غلام کا نام آتا ہے جو عیسائی تھا جس کا نام تھا الجبر اس کو عجمی کہا جاتا تھا وہ عربی اچھے نہیں بولتا تھا لیکن وہ رومی زبان بولتا تھا۔ اب رومی زبان سیریائک بھی ہو سکتی ہے ارمیک بھی ہو سکتی ہے۔ اچھا یہ ایک بات میں آپ کو اور بتا دوں کہ لکسمبرگ جو ایک سکالر ہیں ان کا غلط نام ہے یہ انہوں نے کتاب لکھی تھی کہ ارمیک انڈرسٹینڈنگ آف دا قرآن اس کتاب میں انہوں نے بتایا تھا کہ کس طرح ارامی زبان سے الفاظ لے کے عربی قرآن میں ڈالے گئے لیکن ان کے مطالب جو تھے وہ پھر وہ بدل دیے گئے۔ تو اس کو اگر اصل ارامی زبان میں دیکھیں گے تو اس کے مطلب کچھ اور ہوتے ہیں۔ حور کا مطلب وہ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے انگور۔ اچھی قسم کے انگور اس کا کوئی مطلب جو ہے کوئی عورت یا کوئی خوبصورت عورت یا سفید عورت ایسا ایسا کچھ نہیں ہے۔ لیکن بہرحال وہ ایک وہ ایک الگ بحث ہے یہاں میں آپ کے نے کہا دو لوگوں کا نام بتایا ایک ابوفکیہہ اور ایک کرسچین سلیو جبر یا جابر۔ یہ بھی روایتوں میں آتا ہے کہ حضرت خدیجہ جو تھیں وہ اس غلام سے بہت ملتی تھیں آنا جانا تھا کام کاج کے لیے یا وہ علمی آدمی تھا دیکھیے حضرت خدیجہ جو تھیں وہ ایک عالمہ خاتون تھیں۔ بہت پڑھی لکھی تھیں پورا اپنا بزنس چلاتی تھیں تو یہ تو ناممکن بات ہے کہ وہ پڑھی لکھی نہ ہو۔ اب ایک اور شخصیت ہیں جن کو سیدالکاتبین بھی کہا جاتا ہے سنی کہنا چاہیے پیراڈائم میں کیا وجوہات ہیں کس طرح وہ سیدالکاتبین بنے ہیں یہ اس کو میں چھوڑ دیتا ہوں ان کا نام تھا حضرت زید بن ثابت۔ یہ وہی زید بن ثابت ہیں جن کو حضرت ابوبکر نے پہلے کام دیا کہ وہ قرآن مجید کو جمع کریں اور پھر حضرت عثمان نے بھی ان سے یہی کام لیا۔ یہ 611 عیسوی میں پیدا ہوتے ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہے 632 میں یعنی یہ بالکل ٹین ایجر تھے آپ کی وفات کے وقت۔ تو یہ بہت عجیب سی بات ہے کہ ان کو سیدالکاتبین کہا جائے آخر اللہ کا کلام جو آخری نازل ہو رہا ہے اس کو لکھوانے کے لیے سب سے زیادہ ایک کیا چند 12 15 سال کا لڑکا ہی ملا تھا جب حضرت ابوبکر ان کو یہ کہتے ہیں تب بھی ان کی عمر ایسا ہی ہوتی ہے یا تو 19 یا 20 اس طرح کی ہوتی ہے بالکل کنفرمیشن تو ہمیں نہیں ہوتی لیکن وہ بہت ہی نوجوان آدمی تھے ان کو ہم سیدالکاتبین اب کہہ دیتے ہیں کیونکہ قرآن مجید کے جمع کی روایتیں جو ہیں اس کو درست ثابت کرنے کے لیے۔ زید بن ثابت کون تھے؟ ابن مسعود سے آتا ہے ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ جو کہ قرآن مجید کے بڑے عالم تھے اپنا ایک مصحف بھی رکھتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ یہ ایک یہودی بچہ ہے جس کے بال ہیں یعنی یہ یہ آپ تصویر میں دیکھ سکتے ہیں کہ یہودی جو آرتھوڈاکس یہودی ہوتے ہیں وہ یہ لاکس آف ہیئر اپنے کانوں کی طرف بڑھاتے ہیں اس کی مذہبی وجوہ ہے۔ تو یہ حضرت زید بن ثابت ایک یہودی بچے تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے پھر آپ نے ان کو کہا کہ تم زبان بھی سیکھو حالانکہ غالب امکان یہ ہے کہ وہ پہلے سے ہی یہودیوں کی زبان جانتے تھے کیونکہ وہ تھے ہی یہودی تو عبرانی وہ جانتے تھے جیسے آج یہودی جو ہیں عبرانی پڑھ سکتے ہیں وہ جو آرتھوڈاکس یہودی ہیں وہ عبرانی پڑھ سکتے ہیں۔ تو ایسی بات نہیں ہے کہ قریش جو تھے وہ زبردستی میں ایمان نہ لائے ان کی ایمان لانے کی بڑی سٹرونگ وجوہات تھیں وہ ان لوگوں کو جانتے تھے جن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا میل جول تھا اٹھنا بیٹھنا تھا یا کافی عرصے سے جاننا تھا جن سے معلوم ہوتا تھا کہ آپ انہی سے سیکھ کر بتا رہے ہیں پھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو ہیں وہ ورقہ بن نوفل کے وارث ٹھہرے تھے حضرت خدیجہ کے تھرو تو یہ بھی وہ جانتے تھے کہ آپ کا جو ذخیرہ کتب تھا معلومات تھا وہ بھی آپ تک پہنچا اس کے بعد جو واقعات آپ نے بتائے ہیں وہ زید بن عمرو بن نفیل کے ساتھ بھی وہ جانتے تھے کہ یہ تو اس کے واقعات ہیں جن کو بتایا جا رہا ہے پھر عمرالقیس کے اشعار جو ہیں وہی قرآن مجید کی آیتوں میں بھی مل جاتے ہیں تو یہ بھی بڑا مشکل ہو جاتا ہے۔ جانے سے پہلے میں آپ کو ایک مثال بتاتا ہوں پھر میں یہ ویڈیو ختم کروں گا۔ اور وہ مثال ہے حضرت عمر کی۔ عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ کم از کم قرآن مجید کی 15 سے 20 آیات وہ نازل ہوئی ہیں جو حضرت عمر کا موقف تھا اگر آپ ان احادیث کو دیکھیں تو الفاظ بھی وہی ہیں۔ مشہور مشہور باتوں میں چار ہیں جو بخاری و مسلم میں آئی ہیں ایک ہے حکم حجاب کہ حضرت عمر بار بار یہ کہتے تھے اور آیت حجاب پہ نازل ہوئی ہے۔ شراب کے جو تین مدارج میں شراب حرام ہوئی ہے وہ بھی حضرت عمر ہی کے قول پہ ہوئی ہے۔ کہ جب آپ کہتے تھے کہ نماز مت پڑھو جب شراب پیے ہوئے ہو یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا جاتا تھا کہ شراب اور جوئے کے بارے میں کچھ کہیے گا لوگ اس سے گمراہ ہو رہے ہیں بالکل وہی آیات اتر گئیں قرآن مجید میں بھی۔ پھر ایک اور مشہور آیات یہ بھی بخاری و مسلم کی روایت میں موجود ہے کہ حضرت ابراہیم کے مقام کو نماز کی جگہ بنا لی جائے یہ بھی حضرت عمر کا قول تھا جو کہ قرآن مجید میں آیت بن کے پھر نازل ہو گیا۔ اور سب سے مشہور جو روایت ہے وہ دو ہیں ایک منافقین کی نماز نہ پڑھنا اور دوسرا غزوہ بدر میں قیدیوں کے بارے میں آپ کی رائے حضرت عمر کی جو رائے تھی قرآن میں بھی بعین ہی وہی نازل ہوئی اگر آپ ان آیات کو اگر آپ کے پاس ٹائم ہو اس رمضان میں تو آپ ان احادیث کو سرچ کیجیے ان کے میں جو الفاظ بیان ہوئے ہیں وہ دیکھیے اور پھر قرآن مجید کی آیات سے اس کا مقابلہ کیجیے۔ یاد رہے احادیث جو لکھی جاتی ہیں وہ روایت بالمعنی ہوتی ہے یعنی وہ بالکل صحیح اسی زبان میں نہیں لکھی جاتی لیکن اس کے باوجود بھی حضرت عمر کا جو قول نقل ہوا ہے اور جو قرآن مجید کی آیت ہے اس میں مماثلت حیرت انگیز ہے۔ جانے سے پہلے آپ یہ تصویر اور دیکھیے یہ بھی شعر ہی ہیں لیکن آج ہم ان کو ایک سورت کے نام سے جانتے ہیں۔ چلیے میں آپ سے اجازت لیتا ہوں اپنا بہت خیال رکھیے گا ملتے ہیں کچھ دنوں میں کسی نئی ویڈیو کے ساتھ اللہ حافظ۔



