[0:10]جنگ ازادی کے نتیجے میں جو برطانیہ کی حکومت ائی تو اس 90 سالہ دور میں مسلمانوں نے کس طرح اپنے لیے اپنی الگ تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے اور پھر اس کے بعد اپنے لیے ایک علیحدہ ریاست پاکستان کے حوالے سے جو جدوجہد کی ہے وہ ہمارا اج کا ٹاپک ہے۔ ہمارے ابجیکٹوز بھی یہی ہے کہ مسلمانوں نے جو پاکستان کے لیے جو کوششیں کی ہیں اس کو مختلف فیزز کے ساتھ اور مختلف فیزز میں اس کو سمجھنا اور یہ بھی سمجھنا کہ پاکستان کا جو حصول ہے وہ ایک شخص یا ایک ارگنائزیشن کی نہیں بلکہ ایک کلیکٹو ایفرٹ کے بعد جو ہے پاکستان وجود میں ایا ہے اس کلاس کے اخر میں ہم یہ بھی سمجھ جائیں گے۔ سب سے پہلے بیک گراؤنڈ پر اتے ہیں بیک گراؤنڈ میں یہ سمجھ لیجئے کہ 1857 کی جنگ ازادی میں شکست کھانے کے بعد ہندوستان میں برطانیہ کی حکومت شروع ہوئی۔
[1:09]اس 90 سالہ دور کو ہم ہندوستان کی تاریخ میں تحریک ازادی کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ایک بات اپ ذہن میں رکھیں کہ اس 90 سالہ جو برطانوی دور ہے اس کو ہم مختلف زاویوں سے پڑھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر برطانیہ کے اصلاحات جو انہوں نے قوانین کی صورت میں کی جس طرح مختلف قسم کے ایکٹس ائے 1858 کا، 61 کا، 92 کا، 1909 کا، 1919 کا اور 1935 کا۔ اس دور کو ہم اس حوالے سے بھی پڑھ سکتے ہیں یعنی برٹش ریفارمز کے حوالے سے پڑھ سکتے ہیں۔ یا پھر اس کو ہم اس زاویے سے پڑھ سکتے ہیں کہ مسلمانوں اور ہندوؤں نے جو مشترکہ جدوجہد کی ہے برطانیہ کو یہاں سے نکالنے کے لیے اس لحاظ سے بھی ہم اس کو پڑھ سکتے ہیں۔ اور اس کو ہم جو ہے مسلمانوں کی وہ جدوجہد کے حوالے سے بھی پڑھ سکتے ہیں جو انہوں نے ہندوستان میں اپنی ایک الگ تشخص کی بنیاد پر اور پھر ایک الگ ریاست کے حصول کے لیے کی۔ یہاں پر ہم اس تیسرے زاویے سے اس 90 سالہ دور کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ اس 90 سالہ دور کو بہتر اور مختصر طریقے پر سمجھنے کے لیے ہم اس دور کو تین کیٹگریز میں تقسیم کرتے ہیں تین فیزز میں تقسیم کرتے ہیں۔ سب سے پہلے ہم 1857 سے لے کر 1905 تک یہ ایک فیز ہے 1906 سے 1937 تک یہ دوسرا مرحلہ ہے اور پھر مسلمانوں کی جو جدوجہد ہے اس کا اخری مرحلہ جو ہے وہ اخری 10 سال ہے 1937 سے لے کر 1947 تک۔ ان فیزز پر مختصر سی بات کرتے ہیں کہ پہلے دور میں چونکہ زیادہ کوئی سیاسی طور پر ترقی نہیں ہوئی لہذا کیونکہ ہندوستان کی کوئی سیاسی پارٹی وجود میں نہیں تھی۔ صرف 1885 میں کانگریس وجود میں ائی تھی لیکن اس کا بھی مقصد یہ تھا کہ ایک ایسی رجسٹرڈ پارٹی ہو کہ جس کے ارادوں اور پالیسیوں سے برطانوی سرکار باخبر ہو تاکہ یہ تا ہم یہ دور جو ہے وہ مسلمانوں کی تعلیمی طور پر اگاہی کا دور تھا۔ بہت سے تعلیمی ادارے وجود میں ائے جنہوں نے مسلمانوں کو بیدار کیا اور بعد میں مسلمانوں کے سیاست میں اہم کردار بھی ادا کیا۔ اس ضمن میں ہم صرف دیوبند اور علی گڑھ کے کردار پر روشنی ڈالیں گے۔ دوسرے دور میں مسلم لیگ کے وجود میں انے سے ہندوستان میں مسلمانوں اور یعنی مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان ایک سیاسی جدوجہد کا اغاز ہوا جو 1937 تک یہ جدوجہد جاری رہی۔ اور تیسرا دور جو ہے وہ دور جو ہے وہ مسلمانوں کا ایک واضح مقصد یعنی حصول پاکستان کی طرف سیاسی جدوجہد کا دور تھا اور خاص طور پر اس دور میں قائد اعظم نے ایک مرکزی کردار جو ہے وہ ادا کیا۔ سب سے پہلے پہلے فیز پر بات کرتے ہیں کہ جنگ ازادی میں شکست کھانے کے بعد ہندوستان کے مسلمانوں کو سیاسی سماجی معاشی اور تعلیمی غرض زندگی کے ہر میدان میں پسماندہ رکھا گیا۔ اس لیے کہ برطانیہ مسلمانوں کو اپنا حقیقی دشمن تصور کرتے تھے۔ مسلمان حاکم سے محکوم بن گئے۔ زیادہ سے زیادہ وہ چپڑاسی کے پوسٹ پر ہوتے تھے یا پھر انگریزوں کے قلموں میں سیاہی بھرتے تھے۔ مسلمان چونکہ انگریزوں سے نفرت کرتے تھے لہذا انگریزی تعلیم کے حصول کو وہ برا مانتے تھے۔ نتیجتا ہندوں کے مقابلے میں وہ بہت پیچھے رہ گئے تھے۔ مزید یہ کہ برطانیہ نے عیسائیت کو فروغ دینے کے لیے باقاعدہ عیسائی مبلغین بھیجنا شروع کر دیے تھے۔ ان حالات کے پیش نظر ہندوستان میں دو افکار دو سوچیں وجود میں ائیں۔ ایک سوچ مولانا قاسم علی نانوتوی کی تھی جو مسلمانوں کی نظریاتی تحفظ چاہتے تھے لہذا اس مقصد کے لیے اس نے 1866 میں سہارنپور میں مدرسہ دیوبند کی بنیاد رکھی۔ جبکہ دوسری سوچ جو تھی وہ سر سید احمد خان کی تھی جو مسلمانوں کو جدید تعلیم سے اراستہ کرنا چاہتے تھے تاکہ اس بنیاد پر ایک تو برطانیہ کے ساتھ ان کے تعلقات اچھے ہوں اور دوسری بات یہ کہ ان کو سرکاری ملازمتوں میں حصہ ملے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اس نے علی گڑھ کے مقام پر 1875 میں ایم اے او سکول کی بنیاد رکھی جو دو سال بعد 1877 میں علی گڑھ کالج بنا اور 1920 میں اسے علی گڑھ یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا۔ ابتدا میں یہ دونوں صرف تعلیمی ادارے تھے مگر بعد میں ان اداروں کے فارغ التحصیل طلباء نے بالترتیب جمعیت علماء ہند اور ال انڈیا مسلم لیگ بنائیں۔ جمعیت علماء ہند نے تو چند وجوہات کی بنا پر پاکستان بننے کی مخالفت کی تھی جس کو میں اگلے لیکچر میں اس پر بحث کروں گا۔ مگر اس سے جدا ہونے والا ایک گروپ جمعیت علماء اسلام نے علامہ شبیر احمد عثمانی کی سربراہی میں قائد اعظم اور مسلم لیگ کے شانہ بشانہ حصول پاکستان میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ تو یہ دو جماعتیں جو تھیں جو تعلیمی ادارے تھیں انہوں نے بہت ہی پوزیٹیو رول پلے کیا جب پہلے فیز میں جو مسلمانوں کی جو سٹرگل ہے اس میں ان اداروں کا وجود میں انا اور مسلمانوں کو سیاسی سماجی اور تعلیمی حوالے سے اگاہ کرنا اور پھر اس بنیاد پر وہ جو ایک ایجوکیٹڈ کلاس وجود میں ائی تو انہوں نے بعد میں جا کر جو ہے پولیٹیکلی ہندوستان میں بہت اہم رول پلے کیا اس کے علاوہ جمعیت علماء ہند نے تحریک ازادی میں بھی بہت امپورٹنٹ رول پلے کیا سلک لیٹر کانسپریسی جو ہے اس کی واضح مثال ہے جو تحریک ریشمی رومال ہے یا خلافت موومنٹ جو ہے یہ علماء دیوبند میں نے اس میں بہت اہم رول پلے کیا اور مسلم لیگ کا تو ظاہری بات ہے اگلے فیز میں بھی میں اس کو ڈسکس کرنے والا ہوں لیکن ان تعلیمی اداروں کے فارغ التحصیل طلباء نے جو ہے وہ ان پولیٹیکل پارٹیز کی بنیاد رکھی اور جو بعد میں پاکستان کا ازاد ہونا اور پاکستان کا بننا جو ہے اس کا سہرہ جو ہے ان دونوں جمعیت علماء اسلام اور جو ہے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے پھر ممکن ہوا پاکستان کا حصول۔
[6:24]دوسرے فیز پر ہم بات کرتے ہیں کہ 1906 میں مسلم لیگ کے وجود میں انے کے ساتھ ہی ہندوستان میں دوسرے دور کا اغاز ہوا اور مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان ایک سیاسی جنگ شروع ہوئی۔ لہذا یہ دور متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی مفادات کے تحفظ کا دور ہے۔ اس دور میں بنیادی طور پر مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان جن امور پر اختلاف رہا وہ مندجذیل ہے۔ وہ ہے جی سب سے پہلے قانون ساز اداروں اور ملازمتوں میں مسلمانوں کو ایک تہائی نمائندگی دینا نمبر دو مسلمانوں کو مخلوط انتخابات کے بجائے جداگانہ طریقہ انتخابات کا حق دینا اور نمبر تین ہندوستان میں وحدانی طرز حکومت کے بجائے وفاقی طرز حکومت قائم کرنا۔
[7:16]اب ظاہری بات ہے یہ وہ مطالبات تھے جو جن کا نہ ماننا مسلمانوں کے خلاف تھا اور جن کا ہونا جو ہے وہ مسلمانوں کے حق میں تھا۔ ظاہری بات ہے کہ مسلمان ون تھرڈ ریپرزنٹیشن مانتے تھے چاہتے تھے وہ اس لیے چاہتے تھے کہ ہندوستان میں جو ہے وہ اگر ون فورتھ ان کی پاپولیشن تھی لیکن مسلمان چاہتے تھے کہ ہماری جو پاسٹ ہے ہماری جو ہسٹری ہے ہماری جو امپورٹنس ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں ون تھرڈ دیا جائے۔ اور ون تھرڈ وہ اس لیے ڈیمانڈ کر رہے تھے کہ اگر ان کو ون تھرڈ مل جائے تو ون تھرڈ تو مطلب ہے کہ مسلمان ہو جائیں گے پھر جو باقی جو ہے تھری جو تین گناہ ہے ان میں پھر ہندوں اور پھر اس کی مختلف کاسٹ اور پھر سک بھی ا جائیں گے تو اس لیے وہ جو اوور ال میجورٹی ہے وہ جو اتھارٹی ہے وہ ہندوں میں نہیں رہے گی۔ تو اوور ال جو ہے وہ سب سیم ہو جائیں گے تو سب سے پہلی بات تو اس لیے وہ ون تھرڈ کو ڈیمانڈ کر رہے تھے۔ اور ظاہری بات ہے کہ سیپریٹ الیکٹوریٹس کا مطلب جو تھا وہ یہی تھا کہ مسلمانوں کا انتخابات میں جداگانہ انتخابات کا طریقہ کار ہو۔ یعنی اگر انتخابات میں امیدوار جو ہو وہ مسلمان اور ہندو ہو تو چونکہ ہندو جو ہے وہ میجورٹی میں تھے لہذا مسلمانوں کے جیتنے کے چانسز کم تھے۔
[8:23]لہذا مسلمان چاہتے تھے کہ ہندو ہندو کے درمیان اور مسلم مسلم کے درمیان مقابلہ ہو اور سیٹیں جو ہیں وہ ریزروڈ ہو مسلمانوں کے لیے اور تیسری بات بات یہ کہ مسلمان فیڈرل اس لیے فیڈرل سسٹم مانگ رہے تھے انسٹڈ اف یونٹری سسٹم وحدانی سسٹم کے مقابلے میں کیونکہ وفاقی حکومت میں یہ ہوتا ہے کہ پھر صوبے خود مختار ہوتے ہیں ان کو ازادی ہوتی ہے اور پھر مسلمان جو جتنے بھی دو تین چار صوبوں میں میجورٹی میں تھے تو ان کی صوبوں میں وہاں پر حکومت کے چانسز تھے۔ لیکن وحدانی حکومت کا مطلب تھا کانگریس کی اتھارٹی تو اس لیے وہ اوور ال اتھارٹی کو توڑنے کے لیے مسلمان وفاقی حکومت کو ڈیمانڈ کر رہے تھے۔
[9:21]تو یہ وہ ڈیمانڈز تھے جو مسلم لیگ کے اور کانگریس کے جو سیاسی جدوجہد تھی ان کا جو پیش خیمہ تھا وہ یہ تھا کہ مسلمان ایک الگ قوم ہے اور وہ اپنا الگ تشخص برقرار رکھنا چاہتے تھے مگر کانگریس یہ بات ماننے کے لیے راضی نہیں تھی۔ اگرچہ تاریخ میں ہمیں صرف ایک مقام ایسا ملتا ہے جہاں پر دونوں پارٹیوں نے ان مطالبات پر ایگری کر لیا تھا اور وہ تھا 1916 میں میثاق لکھنؤ جو قائد اعظم کی کوششوں سے مسلم لیگ اور کانگریس کی پارٹیاں جو ہے وہ لکھنؤ کے مقام پر جو ہے ان مطالبات کو ایگری کر لیا لیکن 1928 میں نہرو رپورٹ نے دوبارہ کانگریس نہرو رپورٹ کے ساتھ جو ہے وہ کانگریس دوبارہ اپنے وعدوں سے مکر گئی اور ان کو پش پشت ڈال دیا۔ اگرچہ مسلمانوں کی کچھ چند لیڈرشپ جیسے ڈاکٹر اقبال وغیرہ ہندوں کے ارادوں کو جلد سمجھ چکے تھے لہذا وہ متحدہ ہندوستان کے بجائے مسلمانوں کی اپنی خود مختار ریاست کی خواہش مند تھے۔ 1930 کا خطبہ الہ آباد اس کی واضح مثال ہے اور 1933 میں چوہدری رحمت علی نے اس ریاست کو پاکستان کا نام بھی دیا۔ تا ہم دیگر مسلمانوں کو یہ احساس 1937 میں کانگریس وزارتوں کے رویے سے ہوا۔ اس کے بعد اخری 10 سال بر صغیر پاک و ہند میں مسلمانوں نے اپنے لیے ایک الگ ریاست پاکستان کے حصول کے لیے جدوجہد شروع کی۔ اس کے بعد اخری فیز شروع ہوتا ہے جب مسلمانوں کو یہ احساس ہوا کہ متحدہ ہندوستان میں ہم مسلمانوں کی مفادات کی جنگ نہیں جیت سکتے لہذا ہندوستان کے مسلمان جو ہے انہوں نے اپنے لیے پاکستان کی جدوجہد شروع کی۔ تو اس حوالے سے اپ یہ سمجھیں کہ برطانوی سامراج کے اخری جو 10 سال ہے وہ حصول پاکستان کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوئے۔ 1937 سے لے کر 1939 تک کانگریس وزارتوں نے جو مسلمانوں کے ساتھ سلوک کیا اس کی ایک رپورٹ پیش کرنے کے لیے قائد اعظم نے سر محمد مہدی اف پیر پور کو یہ ذمہ داری سونپی۔ پیر پور رپورٹ شائع ہوئی اور اس میں کانگریس کے ان تمام ناانصافیوں کا ذکر کیا جو انہوں نے اپنی وزارتوں کے دوران جو ہے وہ کیا اور اس کے بعد قائد اعظم کی صدارت میں مسلم لیگ کا 27واں اجلاس مارچ 1940 میں لاہور میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں شیر بنگال مولوی فضل الحق نے قرارداد پیش کی جس میں کہا گیا کہ ہندوستان کے مسلمان کسی ائین کو ہرگز قبول نہیں کریں گے جب تک بر صغیر کے شمال مغرب اور شمال مشرق میں یعنی موجودہ جو پاکستان ہے اور جو بنگال میں مسلم میجورٹی ایریاز ہیں ان کو ازاد ریاستیں نہ بنائی جائیں۔ اس قرارداد کو ہندو اخبارات نے قرارداد پاکستان کا نام دیا بعد میں قائد اعظم نے اسی لفظ کو جو ہے وہ اختیار کیا اور ایک سال بعد ایک اجلاس میں لفظ ریاستوں کو ہٹا کر لفظ ریاست بنا دیا جس سے جو پاکستان کا جو حاصل کرنا ہے اور جو حصول پاکستان کا جو مقصد تھا اس کو مزید واضح کیا۔
[12:07]بر صغیر کے مسلمانوں کے اس واضح مقصد کے تعین کرنے کے بعد برطانیہ اور کانگریس نے اپنی انتہائی کوشش کی کہ قائد اعظم کو وہ مطالبہ مطالبہ پاکستان سے دستبردار کیا جائے۔ لیکن وہ مرد مجاہد ایک انچ بھی اپنے ہدف سے اور اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹا۔ اس سلسلے میں برطانیہ نے مسلمانوں کو مختلف لالی پاپ دینے کی کوشش کی جن میں 1942 میں کرپس مشن 1945 میں ویول پلان 1946 میں کابینہ مشن پلان اور عارضی حکومتیں غرض کہ وہ وہ کوئی بھی جو ہے وہ نہیں چھوڑا کوئی بھی کسر نہیں چھوڑی جو کسی بھی طور پر پاکستان کا الٹرنیٹ سمجھتے تھے۔ لیکن قائد اعظم نے 1940 میں ڈائریکٹ ایکشن ڈے یوم راست اقدام منا کر ان کے تمام تر جتنے بھی لالی پاپس تھے ان کے تمام تر جتنے بھی پروویزنز تھے ان کو جو ہے وہ جو ہے پیچھے چھوڑ دیا اور قائد اعظم نے واضح طور پر یہ کہا کہ حصول پاکستان جو ہے وہ بر صغیر کے مسلمانوں کا وہ واحد مقصد ہے اور اس مقصد کے لیے اگر ہم دو کروڑ جانوں کی قربانی ہمیں دینی پڑے تو ہم دیں گے۔ لہذا برٹش جو حکومت تھی وہ مجبور ہوئی اور اس پرپز کے لیے انہوں نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو بھیجا اس نے یہاں پر ا کر ایک منصوبہ بنایا جو اس کو تین جون کا منصوبہ کہتے ہیں جس کے تحت پاکستان جو ہے وہ وجود میں ایا۔ اپنے اس بحث کو کنکلوڈ کرتے ہیں کہ پاکستان کا حصول جو ہے وہ محض ایک شخص یا ایک تنظیم کی وجہ سے ممکن نہیں ہوئی بلکہ یہ ایک اجتماعی کوشش کا نتیجہ تھیں۔ علی گڑھ تحریک دیوبند علماء کا کردار مسلمانوں کی سیاسی پارٹیاں مسلم عوام اور لیڈرشپ ان سب کا کردار جو ہے وہ ناقابل فراموش ہے لیکن اخری 10 سالوں میں قائد اعظم کے جرات مندانہ فیصلے قیام پاکستان کا سبب بنے۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان قیام پاکستان کی ایک بنیادی وجہ جو ہے وہ قائد اعظم کا ضدی پن تھا کہ اگر قائد اعظم ضد نہ کرتے ہو کسی بھی پروویژن اور کسی بھی ان کے جو جو مراد تھے اگر وہ کسی بھی طور پر کسی بھی مرحلے میں مان لیتے تو حصول پاکستان جو تھا وہ ممکن نہ تھا۔ تو یہ 1857 سے لے کر 1947 تک جو کہانی ہے اس کو مختصر طور پر سمجھنے کی اور سمجھانے کی میں نے کوشش کی ہے۔ اخر میں دو سوالات میں اپنے سٹوڈنٹس کے لیے دے رہا ہوں۔ ایک سوال یہ ہے کہ فرام 1906 ٹو 1937 مسلمز اف انڈیا سٹرگل فار پولیٹیکل رائٹس ان یونائیٹڈ انڈیا ایلیبریٹ یعنی 1906 سے 1937 کے درمیان مسلمانوں نے جو اپنی سیاسی حقوق کو کی حفاظت کے لیے جو کوششیں کی ہیں ان کو ایلیبریٹ کریں۔ وہ اس ان سلائیڈز میں موجود ہیں اور ایک اور سوال ہے کہ اخری 10 سالوں میں قائد اعظم کے کردار کو واضح کریں 1937 سے 1947 کے درمیان جتنے بھی جو لاسٹ ڈکیڈ ہے جو پاکستان موومنٹ کے حوالے سے بہت اہم ہے۔ اس میں جو قائد کا کردار ہے اس پر بھی میں نے بحث کی ہے اور اس کو جو ہے وہ اپ ان سلائیڈز سے ہی لکھیں اور دیکھیں اور سمجھنے کی کوشش کریں مزید کسی ہیلپ کی ضرورت ہو تو میرا واٹس ایپ نمبر ہے تھینک یو سو مچ اللہ حافظ۔



