[0:01]اگر آپ تھوڑی دیر کے لیے رک کر سوچیں کہ آپ کی زندگی میں سب سے اہم چیز کیا ہے سب سے قیمتی دولت کیا ہے وہ کیا چیز ہے کہ جسے آپ سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں جس کی خوشی آپ کے لیے سب سے بڑی خوشی ہے اور جس کا غم آپ کے لیے سب سے بڑا غم ہو جاتا ہے ان کے خوش ہونے پر آپ خوش ہونے لگتے ہیں اور ان کی تکلیف پر آپ دکھی ہونے لگتے ہیں غمگین ہونے لگتے ہیں یقینا آپ سب سمجھ گئے ہوں گے کہ وہ پیاری ترین چیز ہماری اولاد ہے انسان کو سب سے زیادہ خود اپنی ذات سے محبت ہوتی اور یہ ایک مانی ہوئی بات اور اپنے بعد پھر اپنے ہی حصے اپنے وجود کے حصے اپنے دلوں کے ٹکڑے اپنی اولاد سے محبت ہوتی انسان اپنی زندگی میں کتنا بھی کامیاب ہو لیکن اگر اس کی اولاد کامیاب نہیں تو اسے اپنی کامیابیوں بھول جاتی ہیں انسان خود کتنی بھی ترقی کر جائے لیکن اگر اولاد در بدر کی ٹھوکریں کھا رہی ہو بھٹک رہی ہو تو انسان کو اپنی ترقی ترقی نظر نہیں آتی اولاد انسان کے لیے نہ صرف یہ کہ اس دنیا میں خوشیوں اور سعادت کا باعث ہے بلکہ انسان کے مرنے کے بعد بھی بنیادی اعتبار سے اور آخرت کے اعتبار سے ایک قیمتی ورثہ ہے آپ جو کچھ بھی چھوڑتے ہیں مرنے کے بعد ان چیزوں میں سے دنیا میں بھی آپ کی اولاد ان چیزوں کی وارث بنتی ہے جو کچھ بھی آپ مال و متاع میں سے چھوڑیں اور اگر اولاد نہ ہو تو انسان کی اس دنیا میں وہ دلچسپی اور اس دنیا سے وہ محبت بھی نہیں ہوتی اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اولاد کے بارے میں فرمایا تھا کہ وہ مبخلہ مجبنہ ایک ایسی چیز ہے کہ جس کی وجہ سے انسان بخل کا شکار ہوتا ہے اور اسی کی وجہ سے انسان بزدلی کا شکار بھی ہوتا ہے کمزور ہو جاتا ہے بہت ساری چیزوں میں انسان بڑے بڑے فیصلے کرنا چاہتا ہے لیکن اولاد اس کے پاؤں پکڑ لیتی ہے اولاد اس کے بہت سے فیصلوں کو بدل ڈالتی ہے انسان اپنے مال میں بہت سے لوگوں کو حصے دار بنانا چاہتا ہے لیکن جب اولاد نظر آتی ہے تو پھر سب کچھ اسی کے لیے ہو جاتا ہے اور انسان کیا چاہتا ہے کہ جب انسان اس دنیا سے جائے تو اس کے پیچھے اس کے بچے اس کی دنیاوی دولت کے وارث بنے وہ پھلے پھولے لیکن ہم صرف دنیا کے لیے سوچتے ہیں جبکہ ہماری اولاد ہماری آخرت کی ترقی اور ہماری آخرت کی منزلوں کی بلندی کا ذریعہ بھی ہو سکتی ہے کیونکہ اولاد اگر انسان کے مرنے کے بعد اچھے کام کرتی ہے تو والدین کے درجوں کی بلندی کا ذریعہ ہوتی ایک حدیث پاک میں آتا ہے کہ ایک شخص مرنے کے بعد عالم برزخ میں جب اس کا درجہ بڑھایا جاتا ہے تو وہ پوچھتا ہے کہ یہ میرے ساتھ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے یعنی میرے ساتھ یہ اتنا اچھا سلوک کیوں ہو رہا ہے اور میرے درجے کیوں بلند ہو رہے ہیں تو اسے بتایا جاتا ہے کہ یہ تمہاری اولاد کی دعا کی وجہ سے ہو رہا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا اذا مات ابن آدم انقطع عمل کہ جب انسان مر جاتا ہے ابن آدم مر جاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہو جاتا ہے الا من ثلاث سوائے تین چیزوں کے صدقۃ جاریہ ایسی جگہ پہ مال لگانا جس کا فائدہ بعد میں بھی اس کو ملتا رہے یا پھر اویعلم ینتفع بہ انسان ایسا علم چھوڑ جائے ایسا سکھا جائے کہ جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتا رہے جس سے اور لوگ فائدہ اٹھاتے رہیں یا پھر تیسری چیز ولد صالح یدولہ نیک اولاد جو والدین کے لیے دعائیں کرتی یعنی انسان اب خود نیکی کرنے کے قابل نہیں رہا دنیا سے رخصت ہو چکا لیکن کیا چیز اس کی نیکیوں میں اضافے کا سبب بن رہی ہے اس کی اولاد تو یہ تین چیزیں انسان کے مرنے کے بعد بھی انسان کے نیکیوں میں اضافے کا سبب بنتی ہیں اور ان تین چیزوں میں بھی اگر آپ دیکھیں تو سب سے پیاری چیز آپ کی اور آپ کے قریب ترین چیز آپ کے دلوں میں رہنے والی چیز آپ کی اولاد ہی ہوتی ہے آپ کتنے بھی پڑھے لکھے ہوں آپ کتنا بھی لوگوں کو سکھا رہے ہوں تعلیم دے رہے ہوں آپ کتنے بھی مالدار ہوں لیکن اگر آپ کی اولاد نہیں یا پھر اولاد ہے اور بگڑ چکی ہے یا اس کی صحیح تربیت نہیں ہوئی تو باقی نیکیاں بھی انسان کی بیکار ہوتی ہوئی نظر آتی ہیں باقی خیر کے کام اور باقی محنت بھی بعض اوقات پھر بے فائدہ ہونے لگتی ہے ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن کچھ لوگ آئیں گے اور ان کے اعمال ہوں گے تو بہت لیکن بتایا یہ جائے گا کہ ان کی اولاد ان کی نیکیاں کھا گئی یعنی خود تو بڑے نیک تھے لیکن اولاد نے ان کی نیکی پہ پانی پھیر دیا سب صفائی کر دی دنیا میں بھی یہ ہوتا ہے آپ کتنی بھی نیک نامی کمائیں لیکن بعض اوقات آپ کی نیک نامی کو بٹہ لگانے والی اولاد ہی ہوتی اسی لیے قرآن پاک میں اللہ سبحانہ و تعالی اولاد کو انسان کا دشمن بتاتے ہیں اردو میں بھی پنجابی میں بھی ان کو میٹھا دشمن کہا جاتا ہے کہ لگتے بہت پیارے ہیں لیکن سب سے زیادہ تکلیف بھی بعض اوقات بچوں ہی کی طرف سے پہنچتی آپ مائیں اچھی طرح جانتے ہیں ولادت کا مرحلہ ہو یعنی بچوں کے پیدائش کا مرحلہ ہو یا پھر اس کے بعد ان کی تربیت کا مرحلہ ہو یا پھر بڑے ہو کر ان سے خدمت لینے کا معاملہ ہو یہ سارے مراحل کس قدر تکلیف دہ صبر آزما اور انتظار والے ہوتے ہیں اور ہماری عام دعاؤں میں ایک دوسرے کے لیے کیا ہوتا ہے اللہ تمہیں اولاد کی خوشیاں دیکھنا نصیب کرے کیونکہ واقعی انسان کے لیے ایک بہت بڑی خوشی کا ذریعہ بھی ہے اولاد لیکن اس کے ساتھ ساتھ قرآن پاک میں اللہ تعالی فرماتے ہیں ان من اولادکم ازواجکم عدوا لکم کہ تمہارے بچے اور تمہاری بیویاں یا بیویوں کے جو شوہر تمہارے دشمن ہو سکتے ہیں فاحضرہم ان سے محتاط رہو وان تعفو وتصفحو وتغفرو فان اللہ غفور رحیم پھر اگر تم معاف کر دو درگزر کرو بخش دو تو اللہ بھی غفور و رحیم ہے یعنی اولاد کا رشتہ ایسا ہے کہ جس کو تم کاٹ کے پھینک نہیں سکتے وہ تمہارے ساتھ جڑے ہوئے ہیں تمہارے ساتھ ان کا تعلق ہر صورت میں ہے آپ ان کو جتنا بھی اگ کریں جیسے بھی ڈسون کریں آپ کر نہیں سکتے کیونکہ آپ کے نام کے ساتھ ان کا نام ہے آپ کی پہچان ہے آپ ان کی پہچان وہ آپ کی پہچان ایک دوسرے کے لیے لازم ملزوم ہے لہذا یہ ایک ایسا زندگی کا حصہ ہے کہ جسے آپ اگنور نہیں کر سکتے آپ کی کتنی بھی مجبوریاں ہوں آپ کے کتنے بھی کام ہوں آپ پر کتنی بھی ذمہ داریاں ہوں آپ کیسے بھی بیمار ہوں لیکن اولاد کی تربیت کی ذمہ داری اولاد کی اچھائی بھلائی کی ذمہ داری یہ آپ پر ہے آپ اس سے فرار حاصل نہیں کر سکتے یہ ذمہ داری ادا کرنی ہی ہے اور اس کے لیے قرآن پاک میں اللہ سبحانہ و تعالی فرماتے ہیں یا ایہا الذین امنوا واهلیک نارا اے لوگوں جو ایمان لائے ہو اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ پہلے اپنے آپ کو اور پھر اپنے بال بچوں کو آگ سے بچاؤ لہذا ایک عام انسان کی حیثیت میں اور خصوصا مسلمان والدین کی حیثیت میں جہاں ہمارے اوپر ذمہ داری ہے اولاد کو کھلانے پلانے کی ان کی صحت صفائی کی ان کو ادب آداب سکھانے کی وہاں ان کے ایمان اور دین کی حفاظت کی ذمہ داری بھی ہم پر ہے اور قیامت کے دن اس کے بارے میں پوچھ ہو گی حدیث پاک میں آتا ہے کل راع و کل مسؤول عن رعیتہ تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا پوچھا جائے گا اور اس میں عورتیں بھی ذمہ دار ہیں فی بیت زوجها و مسؤول عنہا عورت اپنے شوہر کے گھر میں نگران ہے باہر کے کاموں کے نگران نہیں ہے باہر کے شوہر کے بزنس کے نگران نہیں بنائی گئی لیکن گھر کی زندگی میں شوہر کی عدم موجودگی میں عورت کی ذمہ داری ہے راعیہ فی بیت زوجها و مسؤول عنھا اور قیامت کے دن اس سے اس ذمہ داری کے بارے میں سوال ہونے والا ہے یہ وہ چیز ہے جس کے بارے میں پوچھا جائے گا اگر آپ ان کو بہت اچھا کھلا نہیں سکتے بہت اچھا پلا نہیں سکتے بہت اچھا گھر نہیں لے کر دے سکتے طرح طرح کے کھلونے نہیں لے کر دے سکتے ان کی ہر خواہش پوری نہیں کر سکتے تو پوچھ نہیں ہوگی اس کا امتحان نہیں ہوگا لیکن اگر وہ دین سے دور ہو گئے بھٹک گئے انہوں نے دین کا راستہ چھوڑ دیا ان کے ایمان میں خلل آ گیا تو ضرور پوچھ ہوگی لہذا اس پوچھ سے پہلے اس سوال سے پہلے ہمیں اس دنیا میں اس وقت میں اس محلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آپ کو تیار کرنا ہے جواب کے لیے اور ہمارا یہ جواب کسی معمولی ہستی کے سامنے نہیں ہے اس ہستی کے سامنے ہے جو عالم الغیب والشہادہ ہے غیب اور حاضر سب کو جاننے والا ہے دلوں کے چھپے ہوئے خیالات اور وسوسے اور نیتیں اور ارادے اس کے لیے چھپے ہوئے نہیں ہیں یہ سب کچھ اس کے سامنے ظاہر ہے اس لیے ہم انسانوں کے سامنے تو عذر کر سکتے ہیں کسی انسان کو تو بہلا سکتے ہیں کسی انسان کو تو کہہ سکتے ہیں ہماری بڑی مجبوریاں ہیں ہم پہ بڑی ذمہ داریاں ہیں ہم پہ بہت بوجھ ہے ہمارے پاس وقت نہیں ہے ہمیں فرصت نہیں ہے لیکن اللہ تعالی کے سامنے ہم یہ عذر اور بہانے نہیں کر سکتے کیونکہ اس کو پتہ ہے کہ ہماری کون سی مجبوری کیسی ہے اور کتنی ہے اور کہاں ہم وقت کس کام میں لگاتے ہیں جو وقت ہم کسی اور زیادہ بہتر اور تعمیری کام میں لگا سکتے ہیں کیونکہ بعض اوقات ہمارے پاس وقت ہوتا ہے لیکن اس وقت کو ہم صرف اور صرف انٹرٹینمنٹ میں گزارنا چاہتے ہیں ہم بھی کام کر کے لوٹے ہیں بچے پڑھ کر لوٹے ہیں اب کون بیٹھ کے ان کی تربیت کرے کون ان کو بیٹھ کے پوچھے کہ تمہیں باہر کیا مشکل پیش آئی کیا سن کر آئے ہو کیا دیکھ کر آئے ہو کیا سوچتے ہو تمہارے دل میں کیا خیالات ہیں اس کے بارے میں ہم جاننے کی رحمت ہی گوارا نہیں کرتے وہ ایک اور سوچ میں جا رہے ہیں وہ ایک اور دنیا میں رہتے ہیں ہم ایک اور دنیا میں رہتے ہیں اتنی بڑی خلیج اتنا بڑا فاصلہ ہوتا چلا جا رہا ہے یہ کیسے کم ہو گا اس کے لیے صرف ایک خواہش اور صرف امید اور انتظار ہی کافی نہیں اس کے لیے سنجیدگی سے ہمیں کچھ کرنا ہو گا اور اپنے لیے کرنا ہوگا کسی دوسرے پر کچھ احسان نہیں اپنے فائدے کے لیے اپنے بچوں کے فائدے کے لیے اپنی آئندہ نسلوں کے فائدے کے لیے ہمیں اپنی یہ ذمہ داری نبھانی ہو گی اپنی آخرت میں جواب دہی کرنے کے لیے کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالی کا وعدہ ہے کہ جو نیک لوگ ہوں گے ہم قیامت کے دن ان کی اولاد کو بھی ان کے ساتھ ملا دیں گے یعنی اگر والدین کے درجے بلند ہیں یا اولاد کے بلند ہیں تو ان کو وہاں پر اکٹھا کر دیا جائے گا اور کسی ایک کے عمل میں کمی نہیں کی جائے گی جو نیچے کے درجے والا ہو گا وہ اوپر کر دیا جائے گا ملا دیا جائے گا لیکن اگر اولاد نافرمان ہے تو پھر وہ تو دنیا میں بھی انسان کو چھوڑ جاتی ہے قیامت کے دن تو بہت ہی دوری ہو جائے گی آپ دیکھیے حضرت نوح علیہ السلام آخری وقت میں اپنے بیٹے کو پکارتے ہیں یا بنیر کبا معنا اے بچے ہمارے ساتھ سوار ہو جاؤ لیکن بچہ اب بھی نہیں سن رہا ساری زندگی سمجھاتے سکھاتے ہیں کوئی کوتاہی نہیں کرتے ان کے چار بچے تھے تین بچے بہت ہی نیک اور بہت ہی اچھے نکلے نوح علیہ السلام کے بچوں میں سے ایک بچہ جس کی کمپنی اچھی نہیں تھی وہ آخری وقت تک بھی سمجھ کر نہ دیا تو اس نے کہا سعا جب وہنی من الم جب طوفان آیا جب بارش ائی جب زمین سے پانی ابلنے لگا تو نوح علیہ السلام کشتی میں سوار ہوئے اپنے گھر والوں کے ساتھ تو انہوں نے پکارا کہ او بچے ہمارے ساتھ تم بھی ا جاؤ اب بھی ایمان لے اؤ کہنے لگا کہ نہیں میں وہ پہاڑ پہ چڑھ جاؤں گا یا جب پہاڑ پہ پناہ لوں گا یا من مجھے وہ پانی سے بچا دے گا میں نہیں ڈوبتا فکر نہیں کرے میری اپنا کام کرے آپ نوح علیہ السلام رو کے پکارتے ہیں قال لا من امر اللہ بیٹے آج اللہ کے حکم سے کوئی بھی تمہیں بچا نہیں سکتا کوئی بھی چھڑانے والا نہیں کوئی کام نہیں آ سکتا اور ابھی ان کی گفتگو جاری تھی وحال بین و الم و المین ایک موج ائی اور باپ بیٹے کے درمیان فاصلہ کر گئی اور بیٹا غرق ہو کر رہ گیا پیغمبر ہیں ساڑھے نو سو سال تبلیغ کر رہے ہیں اللہ کی خاطر دن رات دوڑ دھوپ کرنے والے ہیں کسی لمحے کچھ بھی کمی نہیں کرتے اللہ کی عبادت میں اللہ کے پسندیدہ ترین بندوں میں سے ہیں لیکن اپنے بچے کے معاملے میں وہ بھی بے بس ہیں اپنے بچے کو نہیں بچا سکتے اپنی بیوی کو نہیں بچا سکے تو کسی بھی انسان کی نیکی دنیا میں تو اس کی اولاد کے لیے ہو سکتا ہے فائدہ مند ہو لیکن آخرت میں اگر ایمان نہیں اگر عمل صالح نہیں تقوی نہیں تو اولاد کو ہم بچا نہیں سکتے قیامت کے دن دنیا میں تو بعض اوقات بہت سے طریقوں سے ہم کسی نہ کسی طرح ان کو کھینچ تان کے کسی ایک مقام پر لے ہی آتے ہیں لیکن آخرت میں نہیں لا سکیں گے اللہ تعالی قادر بالکل بے لاق ہے اس میں کوئی بے انصافی نہیں لہذا وہ دن کہ جس میں کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا وہ دن کہ جس میں سارے رشتے ایک دفعہ ختم ہو جائیں گے جب سور پھونکا جائے گا تو آپس میں کوئی رشتہ داریاں باقی نہیں رہیں گی کوئی ایک دوسرے کو پوچھے گا بھی نہیں وہاں تو ہر ایک دوسرے سے بھاگے گا جس دن بھاگے گا انسان اپنے ہی بھائی سے اپنی ہی ماں سے اپنے ہی باپ سے اپنی بیوی سے اور اپنے بیٹے سے ہر شخص پر اس وقت ایسی حالت ہوگی جو اسے دوسرے سے بے نیاز کر دے گی لہذا جو خیر خواہی کرنی ہے ہمیں آج کرنی ہے جو کچھ دینا ہے بچوں کو آج دینا ہے اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دیں پھر کیا کریں اگر واقعی آپ سمجھتے ہیں کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے اگر آپ یقین مانتے ہیں اس بات کو کہ اس کے بارے میں قیامت کے دن ہم سے پوچھا جائے گا اور اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی اولاد کی نیکیاں آپ کے حق میں صدقہ جاریہ ہوں گی تو ائیے پھر کچھ چیزیں آپ کی خدمت میں رکھوں گی کہ جن کا آپ کو ہر صورت خیال کرنا ہو گا دنیا کی کامیابی کے لیے بھی ان کی اور آخرت کی کیونکہ جب اولاد نیک ہوتی ہے نا اس کے اندر سارے اچھے اخلاق ہوتے ہیں وہ خدا کا خوف رکھتی ہے تو وہ آپ کو بھی حق دے گی اور وہ باقی انسانوں کو بھی حق دے گی پھر وہ کسی پر بھی ظلم کرنے والے نہیں ہوں گے کیونکہ اللہ کی محبت اور اللہ کا خوف انسان کو ایک بہترین انسان بناتا ہے ایسا انسان وعدہ خلاف نہیں ہوتا جھوٹ نہیں بولتا کسی کو دھوکہ نہیں دیتا خیانت نہیں کرتا وہ ہر ایک کا حق پہچانتا ہے وہ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے والا ہوتا ہے اگر آج ہم دیکھیں کہ اولاد کے ہاتھوں ہمیں بسا اوقات طرح طرح کی مشکلات ان کی شادی کرنے کے بعد ان کے میچور ہونے کے بعد ان کے کاروبار کرنے کے بعد بھی بعض اوقات بہت سی پریشانیاں ہمیں جو ان کی طرف سے پہنچتی ہیں ان میں ایک بہت بڑا سبب ہوتا ہے کہ ان کے کردار میں وہ پختگی نہیں ہوتی وہ میچورٹی ان کے اندر نہیں ہوتی وہ چیز ان کے اندر نہیں ہوتی جو ہونی چاہیے جس کی وجہ سے وہ اپنی زندگی کے بہت سے معاملات خود بھی حل کر سکیں تو ائیے دیکھتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا ہے اولاد کی تربیت کے بارے میں یہ بات یاد رکھیے کہ اولاد کی تربیت ان کی پیدائش کے بعد نہیں ان کی پیدائش سے پہلے شروع ہوتی اب آپ چونکہ مکس کراؤڈ ہے بہت سے لوگ ایسے ہوں گے کہ جو ابھی اس مرحلے میں داخل ہی نہیں ہوئے مثلا بعض بچیاں ہوں گی جن کی شادی نہیں ہوئی بعض ایسی ہیں کہ جو ابھی اس مرحلے میں ہیں اور ہو سکتا ہے کہ ائندہ کئی بچوں کی ماں بنے یا یہ کہ آپ نانی دادی بن چکی ہیں تو آپ کے گھر میں بچوں کی پیدائش ہو یا یہ کہ آپ کے بچے بڑے ہو چکے ہیں تو آپ کو مشکلات پیش آ رہی ہیں تو چونکہ مجھے ان سارے گروپس کو باری باری دیکھنا ہے اس لیے میں مختصرا ہر گروپ کے بارے میں کچھ بات کروں گی تو سب سے پہلے ابتدا میں یہ بات یاد رکھیے کہ تربیت پیدائش کے بعد نہیں پیدائش سے پہلے شروع ہوتی جو ایک ائیڈیل سچویشن ہے اگر ہم ائیڈیل سچویشن اب نہیں بھی رکھتے تو کیا کریں وہ بات بعد میں ہو گی لیکن ائیڈیل سچویشن یہی ہے کہ تربیت اولاد کے لیے اچھی لڑکی کا انتخاب ضروری ہے اور اچھی لڑکی سے مراد صرف خوبصورت لڑکی نہیں صرف مالدار لڑکی نہیں با اخلاق اور دین دار لڑکی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت سے چار چیزوں کی بنیاد پر شادی کی جاتی ہے اس کے نام نصب اس کے مال اس کی خوبصورتی اور اس کے دین کی بنیاد پر تو تم دین والی کو اختیار کرو تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں یہ ایک محاورہ ہے پیار کی ڈانٹ ہے کہ سختی سے تھوڑا سا ڈانٹ کے کہا کہ تم جب عورت کا انتخاب کرو تو اس کے دین کو دیکھو اخلاق کو دیکھو کیونکہ ایک بااخلاق انسان ایک سلجھا ہوا انسان پورے خاندان کی اصلاح کا ذریعہ بنتا ہے اور ایک بد اخلاق انسان ایک بد زبان انسان خواہ وہ کتنا بھی خوبصورت ہو کتنا بھی مالدار ہو بعض اوقات پورے خاندان میں پھوٹ ڈال دیتا ہے تو بیوی کا انتخاب دینداری کی بنیاد پر اس کے بعد باقاعدہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دعائیں سکھائی ہیں کہ شوہر اور بیوی کے باہمی ازدواجی تعلق کے موقع پر بھی شیطان مردود سے پناہ مانگو کیونکہ اس وقت شیطان تمہاری اولاد میں شریک ہونا چاہتا ہے اس وقت سے وہ کوشش کرتا ہے کہ وہ شریک ہو جائے اور اولاد تمہاری نہ رہے اس کی ہو جائے تمہاری مرضی اور تمہارے طریقے پر نہ چلے اس کے طریقے پر چلے لہذا اس وقت بھی وہ اپنا کام کرنا نہیں چھوڑتا لہذا مسنون دعا سکھائی گئی پھر اس کے بعد یہ ہے کہ پریگنینسی کا جو مرحلہ آتا ہے تو ڈیورنگ پریگنینسی اب دیکھیں کہ بچہ اپنی ساری خوراک کہاں سے لے رہا ہوتا ہے ماں کے خون سے ماں جو کچھ کھاتی جو کچھ سوچتی جو اس کی جذباتی کیفیات ہوتی جیسی اس کی ذہنیت ہوتی وہ انڈائریکٹلی بچے پر اثر انداز ہو رہی ہوتی جیسے وہ ماں کے خون سے غذا لے کے نشونما پا رہا ہوتا ہے ایسے ہی ماں کے خیالات اور ماں کے روٹین اور ماں کے جو طریقے ہیں وہ بھی اس پر اثر انداز ہو رہے ہوتے ہیں لہذا اس دوران ماں کو خاص طور پر اپنی سوچ پازیٹو رکھنی چاہیے مثبت سوچ جلنا کڑھنا رونا دھونا غم اٹھانا ویسے بھی یہ ہے کہ وہ کیفیت ایسی ہوتی ہے یعنی وہ مرحلہ ایسا ہوتا ہے کہ جس میں ایک عورت جس سے قرآن پاک میں آتا ہے کہ وننا ونن تکلیف پر تکلیف اٹھا رہی ہوتی ہے جذباتی اعتبار سے بھی بہت ڈسٹرب ہوتی ہے ایموشنلی بھی بہت ڈسٹرب ہوتی ایسے میں گھر والوں کو بھی خیال رکھنا چاہیے کہ ایک بچی جس کے لیے یہ ماحول بھی نیا ہے اور اس کے بعد اس کے اندر اتنی زیادہ فزیکلی چینجز آ رہی ہیں اتنے ہارمونل چینجز ہیں تو اس بچی کو ایک اچھے ماحول کی بے حد ضرورت ہے لہذا بہت سی چیزوں میں درگزر کرنا چاہیے آپ اپنی آئندہ نسل کی خاطر اس بچی کو کچھ مارجن دے وقت دے نہ کہ اسے ایسی ٹینشن سے گزاریں کہ جس کا سارا اثر براہ راست اس بچے پر ائے اور ایک گھر میں خاردار پودا اگے نہیں سارے اہل خانہ کو صبر و ضبط شوہر کو بھی صبر و ضبط اور تحمل کی ضرورت ہے کیونکہ مرد حضرات اس کیفیت سے گزرتے ہی نہیں ان کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ عورت کے اوپر یہ موڈز کیوں آ رہے ہیں اور یہ کیفیت کیوں ہے وہ کبھی رو رہی ہے کبھی ہنس رہی ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہو رہی ہے یہ سب کیفیات ایک جسمانی تبدیلی کی وجہ سے ہوتی اس لیے اس میں عورت کو ایک رخصت اور ایک رعایت دی جانی چاہیے اس کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ ایسی بچیاں جو کسی نئے ماحول میں آئیں اور اپنی پچھلی ساری دوستیں چھوڑ چکی ہوں اور رشتہ دار بھی چھوڑ چکے ہوں اور خاص طور پر جیسے ماحول میں آپ رہتے ہیں بعض اوقات آپ دور دراز ملکوں سے بچیوں کو بیا کر لاتے ہیں ان کے لیے ماحول بھی نیا ان کے لیے گھر بھی نیا اور ان کے لیے جسمانی طور پر بھی ایک نیا ایکسپیرینس تو ایسے میں کچھ اور بھی زیادہ آپ کی ذمہ داری ہو جاتی ہے صبر و تحمل کی اور بات برداشت کرنے کی لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رکھیے کہ اگر آپ کا تعلق کسی بھی ایسی محفل سے ہے کسی ایسی مجلس سے ہے جہاں آپ کم از کم ہفتے میں بھی ایک بار جا کر روحانی سکون حاصل کرتے ہیں تو اپنے ساتھ اپنی بیٹیوں کو اپنی بہوؤں کو اپنے ایسی بچیوں کو ساتھ لے کر جائیے تاکہ ان کو بھی ایک اچھی کمپنی ملے کیونکہ آپ جب اللہ کی مجلس میں بیٹھتے ہیں قرآن کی مجلس میں بیٹھتے ہیں تو یقینی طور پر آپ کے اوپر ایک سکینت نازل ہوتی ہے جس کا حدیث پاک میں بھی ذکر آتا ہے لہذا اچھی کمپنی سے مراد اچھی دوستیں اچھے لوگ اور اس کے علاوہ اچھی مجلسیں اچھی محفلیں یہ بچیوں کے لیے بے حد ضروری ہیں اس سے کیا ہوتا ہے کہ وقتی طور پر اپنے غم بھول جاتی ہے اور ایک وہ اداسی کی کیفیت بھی ختم ہوتی ہے اور جب اچھے لوگوں سے دوستی ہوتی ہے وہ کہتے ہیں کہ اچھا دوست خوشبو بیچنے والے کی طرح ہوتا ہے کہ جس سے اگر آپ خوشبو نہ بھی خریدیں تو صرف اس کی خوشبو کی دکان سے آپ اگر بیٹھے ہوئے ہیں پاس تو خوشبو ہی آتی رہے گی آپ کسی بھی پرفیوم کے کاؤنٹر پہ جائیے تو آپ دیکھیں گے کہ اگر آپ نہیں بھی خریدے تو تھوڑا سا اس کو ٹیسٹ کرتے ہوئے بھی آپ نکلتے ہیں تو آپ کے لباس یا آپ کے کپڑوں سے خوشبو ہی آتی ہے تو خوشبو کے تو پاس سے بھی آپ گزر جائیں تو آپ پر ایک اثر ہوتا ہے جیسے سموکنگ اگر کوئی سموکنگ کر رہا ہو آپ خود نہیں بھی کر رہے ہوں تو آپ کے کپڑوں میں دھواں جذب ہو جائے گا
[24:54]آپ وہاں سے نکل کے گھر آئیں گے تو باقی رہیں گے اثرات اسی طرح اگر انسان اچھی محفل میں اٹھتا بیٹھتا ہے تو لازمی طور پر اس کے اثرات اس پر اچھے ہوتے ہیں اس کے علاوہ ذکر کی کثرت کرنی چاہیے قرآن پاک میں اللہ تعالی فرماتے ہیں اللہ ذکر اللہ تطمئن القلوب یاد رکھو اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ہوتا ہے پھر اسی طرح یہ ہے کہ جب پیدائش کا مرحلہ ہو یعنی ولادت ہو رہی ہو اس وقت آیت الکرسی پڑھنی چاہیے کیونکہ اس سے شیطان دور ہوتا ہے اور جب بچہ پیدا ہو جائے تو اس کے کان میں اذان دینی چاہیے کیونکہ اذان سن کے بھی شیطان بھاگتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مریم کی مثال دے کر فرمایا کہ ہر بچے کو پیدا ہوتے ہی شیطان ٹھوکا لگاتا ہے سر مریم کے اور عیسی ابن مریم کے کیونکہ ان کی والدہ نے دعا کی تھی اب آپ دیکھیے
[26:01]آپ صلی اللہ علیہ وسلم بتا رہے ہیں کہ ان کی والدہ نے دعا کی تھی تو اللہ تعالی نے ان کو شیطان سے بچا کے رکھا آپ بھی یہ دعا کر سکتی ہیں یہ دعا کو خاص نہیں تھی ان کے لیے آپ کے لیے بھی ہے اور وہ دعا کیا تھی اعوذ باللہ اعوذ باللہ و ذریتہا من الشیطان الرجیم یا اللہ میں اس بچی کو اور اس کے آئندہ آنے والی نسل کو اب آپ دیکھیں کتنی دور تک سوچ رہی تھی وہ اس کی آئندہ آنے والی نسل کو شیطان مردود سے بچا کر تیری پناہ میں دیتی ہوں تیری حفاظت میں دیتی ہوں لہذا کتنی ضروری ہے یہ بات کہ ہم ہر ہر مرحلے پر چوکنے رہیں ہر ہر موڑ پر ہم خیال رکھیں اور کسی وقت بھی غافل نہ ہوں پھر اسی طرح جب بچہ پیدا ہو تو اس پر خوشی کا اظہار کریں ہمارے ہاں عام طور پر یہ ہوتا ہے جب بیٹی پیدا ہوتی ہے تو سب کے منہ لٹک جاتے ہیں حالانکہ آپ کو نہیں پتہ کہ آپ کے لیے خوش قسمتی کا باعث کون ہو بیٹا ہو یا بیٹی ہو ہو سکتا ہے کہ ایک بیٹی آپ کے لیے کئی رحمتوں کے دروازے کھولے آپ کے رزق میں معلوم نہیں اس بچی کی آمد سے کتنا اضافہ ہو اس کی اچھی تربیت میں آپ کے لیے کتنے درجات کی بلندی ہو لہذا بچے کی پیدائش پر گھر والوں کو خاص طور پر ایک دوسرے کو اور باقی دوست رشتہ داروں کو بھی مبارک دینی چاہیے حضرت حسن بشری نے ایک بچے کی پیدائش پر یوں دعا دی کہ اللہ نے جو بچہ تمہیں دیا ہے اس میں تمہارے لیے برکت ہو شکر کی توفیق ہو یہ بچہ نیک اور پارسا بنے صحت اور لمبی عمر پائے یعنی ایک دعا کا نمونہ ہے یہ اس طرح کی دعائیں دی جا سکتی ہیں پھر اسی طرح یہ ہے کہ بچے کی جو پہلی غذا ہے وہ بھی کسی نیک انسان سے بااخلاق اچھے انسان سے دلوانی چاہیے کیونکہ بچہ جب پیدائش کے بعد بالکل معصوم ہوتا ہے اس پر پہلے پہلے جو بھی اثرات ہوں گے وہ اس کے اندر جذب ہو جائیں گے پرنٹ ہو جائیں گے آپ اس کے کان میں اذان دیتے ہیں اللہ اکبر اللہ کی بڑائی اس کے دل میں جائے گی چاہے وہ نہیں سمجھے مگر اس کے اثرات ہیں قرآن پاک کے اور اللہ کے جو ذکر کے الفاظ اور حروف ہیں اس کے بھی اثرات ہیں وہ اثرات انسان کے اندر جاتے ہیں جو اٹھائے گا اس کے ہاتھوں کے بھی اثرات اس کی شخصیت پر ہوں گی جو اسے پہلی دفعہ کھلائے گا اس کے بھی اثرات اس بچے کی شخصیت میں جائیں گی اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایسے بچے لائے جاتے تھے جو بالکل نو مولود ہوتے تھے اور آپ ان کی تحنیک کرتے تھے اور کہتے ہیں کہ انسان کی انگلیوں سے ریز نکلتی ہیں تو جب ایک اچھے انسان اچھے کردار کے انسان کے پاس ویسے بھی آپ نے دیکھا ہوگا یہ صرف بچوں کے لیے نہیں کسی شخص کے پاس آپ بیٹھے ہیں تو ہم اتنا کمفرٹیبل فیل کرتے ہیں اتنا اچھا آپ کو لگتا ہے اور کسی شخص کے پاس آپ بیٹھتے ہیں تو آپ تھوڑی دیر میں کہتے ہیں کہ بس کب ختم ہوئی یہ مجلس تو ہم یہاں سے اٹھیں یعنی آپ کو گھبراہٹ ہوتی ہے کچھ لوگوں کی کمپنی سے ایسا ہوتا ہے کہ کچھ لوگ جن کی سوچ پازیٹو ہوتی ہے جن کا اخلاق اچھا ہوتا ہے ان کی طرف آپ خود بخود کھینچتے چلے آتے ہیں ان کے اندر ایک خاص کشش ہوتی ہے تو نیکی اپنے اندر ایک کشش رکھتی ہے کشش محض لباس میں نہیں ہوتی کشش محض کسی میک اپ میں نہیں ہوتی کشش شخصیت کی خوبصورتی میں ہوتی ہے کشش دل کی خوبصورتی میں ہوتی ہے لہذا اس خوبصورتی کو منتقل کیا جاتا ہے بچوں کی طرف پھر اسی طرح ماں کا دودھ پلانا یعنی اگر تحنیک کے بعد ماں اپنا دودھ پلائے تو بچے اور ماں کے درمیان ایک قریبی تعلق پیدا ہوتا ہے آج مائیں اپنی خوبصورتی کے لیے اتنی خودغرض بعض اوقات ہو جاتی ہیں کہ بچوں کو دودھ نہیں پلانا چاہتی اور اب تو آپ دیکھیں کہ میڈیکل سائنس نے اتنے زیادہ اس کے فضائل بیان کیے ہیں کہ نہ چاہتے ہوئے بھی مائیں وہ کرتی ہیں لیکن اگر آپ میڈیکلی یہ کام کر رہے ہیں تو اس کا اجر تو نہیں ہے نا اجر تو اس وقت ہو جب آپ کی نیت بھی اچھی ہو کہ آپ اللہ کے حکم پر عمل کر رہے ہیں اور آپ کو معلوم ہے کہ ایک ایک گھونٹ جو آپ بچے کو پلاتے ہیں وہ آپ کی طرف سے ایک طرح سے صدقہ بھی ہوتا ہے صدقے سے مراد یہ نہیں کہ ہم جیسے کسی کے اوپر کوئی بیماری آ گئی تو کسی کو کچھ دے ائے کسی پہ وار کی تو وہ صدقہ صدقے مراد یہ ہے کہ ایک ایک قطرے کا اجر آپ کی طرف سے لکھا جاتا ہے وہ جو کچھ آپ دیتے ہیں وہ آپ کے نامہ اعمال میں شمار ہو گا کہ آپ نے اپنے جسم کا ایک حصہ اپنے اندر سے اپنی غذا سے ایک چیز نکال کر ایک بچے کی پرورش میں استعمال کی لہذا اس کو بھی بہت خوشی کے ساتھ کریے اب دیکھیں کہ بعض اوقات بچوں بہت تنگ کرتے ہیں اس وقت مائیں پھر بعض اوقات بد دعائیں دینے لگتی ہیں ارے کبھی بھی ایسا نہیں کریں کتنا بھی غصہ ائے بچوں پر کتنا بھی تکلیف ہو بعض اوقات بچوں کے دانت جب نکلتے ہیں وہ کاٹتے ہیں ماں کو دودھ پلاتے ہیں تو بے اختیار ماؤں کی زبان سے بعض اوقات بہت خراب لفظ بھی نکل جاتے ہیں نہیں معلوم نہیں کس وقت کی کیا دعا اٹھا لی جائے قبول ہو جائے اور پھر ساری زندگی آپ اس پہ پچھتائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر خواتین کو کس بات کی تلقین کی کہ وہ اپنی زبان کا استعمال درست کریں آپ نے فرمایا میں نے تمہاری اکثریت کو جہنم میں دیکھا ہے اچھا اس کا یہ مطلب نہیں کوئی ڈسکرینیشن تھی عورتوں سے تو اللہ تعالی بہت سخت نالہ ہیں اور بہت نفرت کرتے ہیں اس لیے جہنم یہ مطلب نہیں ہے اس بات کا مراد اس سے کیا تھی اس کا معنی کیا تھا اس کا مطلب کیا تھا



