Thumbnail for The Qur'an: Evidence for You or Evidence Against You | Mufti Talha Atiq Al Rai by Mufti Talha Atiq Al Rai

The Qur'an: Evidence for You or Evidence Against You | Mufti Talha Atiq Al Rai

Mufti Talha Atiq Al Rai

28m 17s3,788 words~19 min read
AI audio transcription
Transcript source

AI audio transcription

This transcript was generated from the video's audio because no usable YouTube caption track was available. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Timestamped outline
Pull quotes
[1:00]پہلی چیز کتاب اللہ اور دوسری چیز سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم قران مجید جو اللہ رب العالمین نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے امت مسلمہ کو عطا فرمایا ہے یہ دراصل اللہ رب العالمین کا کلام ہے
Use this transcript
Related transcript hubs

[0:00]نحمده ونصلي على رسوله الكريم اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم لا تحرك به لسانك لتعجل به انا علينا جمعه وقرانه فاذا قراناه فاتبع قرانه ثم ان علينا بیانه صدق اللہ العظیم تمام احباب ایک مرتبہ شوق و محبت کے ساتھ درود پاک پڑھ لیں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں

[1:00]پہلی چیز کتاب اللہ اور دوسری چیز سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم قران مجید جو اللہ رب العالمین نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے امت مسلمہ کو عطا فرمایا ہے یہ دراصل اللہ رب العالمین کا کلام ہے

[1:38]اور اللہ رب العالمین کی صفت ہے اور ایسی صفت کہ جس صفت کے ساتھ کوئی بھی شخص جڑ جائے تو خود بخود وحدہ لا شریک اس کے اندر اس کے دل کے اندر ا جاتا ہے اتر جاتا ہے ایک دور میں ایک بہت بڑا مسئلہ اٹھا امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ کے دور میں وہ مسئلہ یہ پیش ایا کہ جس طرح سے اللہ رب العالمین کی تخلیق کردہ دیگر چیزیں یہ تمام چیزیں یہ تو اللہ کی مخلوقات ہیں تو قران مجید بھی اللہ رب العالمین کی مخلوق ہے دو باتیں ہو سکتی ہیں یا تو کوئی چیز خالق ہوگی یا کوئی چیز مخلوق ہوگی درمیان میں تو کوئی چیز نہیں ہو سکتی یا کوئی چیز خالق ہوگی بنانے والی ہوگی یا کوئی چیز بنائی گئی ہوگی تو مسئلہ یہ پیش آیا کہ یہ جو قران مجید ہے جو کتاب اللہ ہے یہ خالق تو ہے نہیں اب مخلوق ہے یا نہیں اور ساتھ ساتھ یہ مسئلہ بھی ہے کہ جو بھی مخلوق ہے وہ حادیس ہے وہ ایک نہ ایک دن ختم ہو جائے گی تو اگر تو اس کو مخلوق مان لیا جائے تو یہ کتاب تو ایک نہ ایک دن ختم ہو جائے گی ویلڈ کویسچن ہے اس میں بڑے بڑے لوگوں نے حصہ لیا حتی کہ امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ کو قران مجید مخلوق نہ کہنے پر اتنی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا اس میں بڑے بڑے لوگ امام احمد بن حنبل ابو منصور ماتوریری ابو حسن اشعری بڑے بڑے نام اس کے اندر اور دوسری طرف کھڑے ہونے والے معتزلی معتزلہ کا وہ ٹولہ ان کا یہ کہنا تھا کہ بھئی قران مجید جو ہے یہ اللہ کی مخلوق ہے اور امام احمد بن حنبل اور دیگر کا کہنا تھا کہ یہ اللہ کی مخلوق نہیں ہے تو پھر کیا ہے میں جو اگے بات سمجھانا چاہتا ہوں اس کی تمید میں یہ بات سمجھنا بڑی ضروری ہے ہو سکتا ہے تھوڑی مشکل بھی ہو یہ کتاب اللہ رب العالمین کا کلام ہے اور کلام کا تعلق اس کی ذات سے ہوتا ہے تو اس لیے یہ جو اللہ کا کلام ہے یہ اللہ کی صفت ہے اس کی مخلوق نہیں ہے صفت ہے اس کی اور اللہ کی صفت کے ساتھ جو شخص جڑ جائے گا تو اللہ بھی وہی ہوگا جہاں اس کی صفت موجود ہوگی یہی وجہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں پہلی چیز تو یہ ہے کہ کلام اللہ اس کتاب کو مضبوطی سے تھام لو اور دوسری چیز سنت اپ علیہ الصلوۃ والسلام کی احادیث اور یہ بات بھی اپ کو معلوم ہونی چاہیے کہ ہے تو بہت علمی نقطہ لیکن عام فہم میں یوں سمجھ لیں کہ وحی کی دو اقسام ہیں ایک وہ وحی ہے جو پڑھی جاتی ہے وحی مطلب جس کو کہتے ہیں پڑھا جانے والی وحی وہ یہ کتاب ہے اور احادیث کو کہا جاتا ہے وحی غیر مطلوب یہ ایسی وحی ہے اللہ رب العالمین کی کہ جو پڑھی نہیں جاتی لیکن ہے وحی کلام اللہ کا ہے سورۃ النجم میں کیا ہے سورۃ النجم میں ہے نا کہ اللہ رب العالمین نے ارشاد فرمایا کہ یہ جو بات ہے کہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام اپنی طرف سے نہیں کہتے وہ الا وحی وحی کہ اللہ رب العالمین کی طرف سے جو وحی ہوتی ہے جناب محمد رسول اللہ وہی بیان فرماتے ہیں تو میں نے ابتداء کے اندر چند ایات پڑھی ان ایات میں بھی اپ دیکھ لیں کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قران مجید جو اللہ رب العالمین کی صفت ہے وہ صرف الفاظ کا نام نہیں ہے بلکہ اس کے معانی کا نام بھی ہے یعنی معنی بھی اللہ رب العالمین کی طرف سے ہیں اور الفاظ بھی اللہ رب العالمین کی طرف سے ہیں اس لیے ہمارا یہ ایمان ہونا بہت ضروری ہے کہ قران مجید الفاظ اور معانی دونوں کا نام ہے اپ دیکھیں کہ قران مجید میں اللہ رب العالمین ارشاد فرماتے ہیں کہ لا تحرك به لسانك لتعجل به انا علينا جمعه وقرانه اس قران مجید کو جمع کرنا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جبریل امین اپ کے سامنے قران مجید پڑھتے تو اب جلدی جلدی دہراتے تو اللہ نے فرمایا یہ جلدی مت کیجئے اس قران مجید کو جمع کرنا بھی ہمارا کام ہے پڑھوانا بھی ہمارا کام ہے

[7:00]جب پڑھا جائے گا پھر اپ دہرائیں پھر اس کی تشریح اور تفسیر بھی ہمارے ذمے ہے

[7:13]اس کے اندر میں ایک باریک سا نقطہ اور بھی بتانا چاہوں گا جو میں سمجھتا ہوں جتنا میں نے مطالعہ کیا یہاں پر ایک لفظ ہے ثم ان علينا بیان ہم نے بہت سارے لوگوں کو یہ اعتراض کرتے ہوئے سنا ہے کہ ہم قران مجید کو رٹواتے ہیں طوطے کی طرح بچوں کو پڑھوا دیتے ہیں اور سمجھاتے نہیں ہیں تفهیم ان کو حاصل نہیں ہوتی تو یہ یاد کرنا کوئی شے نہیں ہے اللہ رب العالمین نے یہاں پر کیا فرمایا تو اہل علم جانتے ہیں کہ ثم کا جو لفظ ہے عربی کے اندر یہ تراخی کے لیے اتا ہے اس کو کہا جاتا ہے کہ تراخی زمن یعنی ایسی چیز جو کچھ زمانے کے بعد واقع ہو یعنی ہم جو دو چیزیں ساتھ جوڑتے ہیں نا جیسے واو ہے ہم جملہ ارشاد فرمایا یہ بھی تھا اور یہ بھی تھا اردو میں اور ہے عربی میں واو ہے اسی طرح سے فا کا لفظ استعمال ہوتا ہے فورا کہ یہ فا مفا جاتی ہے فورا علفور

[8:34]تو یہاں پر میں یہ نقطہ بھی سمجھانا چاہتا ہوں کہ ہم بعض اوقات یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ بچوں کو صرف یاد کرانا کچھ نہیں ہے حالانکہ یاد کروانا پہلے سمجھانا بعد میں ہے اپ علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اپ دیکھیں قران مجید کی اس ایت نے سورۃ القیامہ میں اللہ رب العالمین نے کیا فرمایا کہ اس قران مجید کو جمع کرنا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جبریل امین اپ کے سامنے قران مجید پڑھتے تو اب جلدی جلدی دہراتے تو اللہ نے فرمایا یہ جلدی مت کیجئے پھر اس کی تشریح اور تفسیر بھی ہمارے ذمے ہے اس کے اندر میں ایک باریک سا نقطہ اور بھی بتانا چاہوں گا جو میں سمجھتا ہوں جتنا میں نے مطالعہ کیا یہاں پر ایک لفظ ہے ثم ان علينا بیان ہم نے بہت سارے لوگوں کو یہ اعتراض کرتے ہوئے سنا ہے کہ ہم قران مجید کو رٹواتے ہیں طوطے کی طرح بچوں کو پڑھوا دیتے ہیں اور سمجھاتے نہیں ہیں تفهیم ان کو حاصل نہیں ہوتی تو یہ یاد کرنا کوئی شے نہیں ہے اللہ رب العالمین نے یہاں پر کیا فرمایا تو اہل علم جانتے ہیں کہ ثم کا جو لفظ ہے عربی کے اندر یہ تراخی کے لیے اتا ہے اس کو کہا جاتا ہے کہ تراخی زمن یعنی ایسی چیز جو کچھ زمانے کے بعد واقع ہو یعنی ہم جو دو چیزیں ساتھ جوڑتے ہیں نا جیسے واو ہے ہم جملہ ارشاد فرمایا یہ بھی تھا اور یہ بھی تھا اردو میں اور ہے عربی میں واو ہے اسی طرح سے فا کا لفظ استعمال ہوتا ہے فورا کہ یہ فا مفا جاتی ہے فورا علفور

[10:34]تو یہاں پر میں یہ نقطہ بھی سمجھانا چاہتا ہوں کہ ہم بعض اوقات یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ بچوں کو صرف یاد کرانا کچھ نہیں ہے حالانکہ یاد کروانا پہلے سمجھانا بعد میں ہے اپ علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اپ دیکھیں قران مجید کی اس ایت نے سورۃ القیامہ میں اللہ رب العالمین نے کیا فرمایا کہ اس قران مجید کو جمع کرنا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جبریل امین اپ کے سامنے قران مجید پڑھتے تو اب جلدی جلدی دہراتے تو اللہ نے فرمایا یہ جلدی مت کیجئے پھر اس کی تشریح اور تفسیر بھی ہمارے ذمے ہے اس کے اندر میں ایک باریک سا نقطہ اور بھی بتانا چاہوں گا جو میں سمجھتا ہوں جتنا میں نے مطالعہ کیا یہاں پر ایک لفظ ہے ثم ان علينا بیان ہم نے بہت سارے لوگوں کو یہ اعتراض کرتے ہوئے سنا ہے کہ ہم قران مجید کو رٹواتے ہیں طوطے کی طرح بچوں کو پڑھوا دیتے ہیں اور سمجھاتے نہیں ہیں تفهیم ان کو حاصل نہیں ہوتی تو یہ یاد کرنا کوئی شے نہیں ہے اللہ رب العالمین نے یہاں پر کیا فرمایا تو اہل علم جانتے ہیں کہ ثم کا جو لفظ ہے عربی کے اندر یہ تراخی کے لیے اتا ہے اس کو کہا جاتا ہے کہ تراخی زمن یعنی ایسی چیز جو کچھ زمانے کے بعد واقع ہو یعنی ہم جو دو چیزیں ساتھ جوڑتے ہیں نا جیسے واو ہے ہم جملہ ارشاد فرمایا یہ بھی تھا اور یہ بھی تھا اردو میں اور ہے عربی میں واو ہے اسی طرح سے فا کا لفظ استعمال ہوتا ہے فورا کہ یہ فا مفا جاتی ہے فورا علفور

[12:34]تو یہاں پر میں یہ نقطہ بھی سمجھانا چاہتا ہوں کہ ہم بعض اوقات یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ بچوں کو صرف یاد کرانا کچھ نہیں ہے حالانکہ یاد کروانا پہلے سمجھانا بعد میں ہے اپ علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اپ دیکھیں قران مجید کی اس ایت نے سورۃ القیامہ میں اللہ رب العالمین نے کیا فرمایا کہ اس قران مجید کو جمع کرنا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جبریل امین اپ کے سامنے قران مجید پڑھتے تو اب جلدی جلدی دہراتے تو اللہ نے فرمایا یہ جلدی مت کیجئے پھر اس کی تشریح اور تفسیر بھی ہمارے ذمے ہے اس کے اندر میں ایک باریک سا نقطہ اور بھی بتانا چاہوں گا جو میں سمجھتا ہوں جتنا میں نے مطالعہ کیا یہاں پر ایک لفظ ہے ثم ان علينا بیان ہم نے بہت سارے لوگوں کو یہ اعتراض کرتے ہوئے سنا ہے کہ ہم قران مجید کو رٹواتے ہیں طوطے کی طرح بچوں کو پڑھوا دیتے ہیں اور سمجھاتے نہیں ہیں تفهیم ان کو حاصل نہیں ہوتی تو یہ یاد کرنا کوئی شے نہیں ہے اللہ رب العالمین نے یہاں پر کیا فرمایا تو اہل علم جانتے ہیں کہ ثم کا جو لفظ ہے عربی کے اندر یہ تراخی کے لیے اتا ہے اس کو کہا جاتا ہے کہ تراخی زمن یعنی ایسی چیز جو کچھ زمانے کے بعد واقع ہو یعنی ہم جو دو چیزیں ساتھ جوڑتے ہیں نا جیسے واو ہے ہم جملہ ارشاد فرمایا یہ بھی تھا اور یہ بھی تھا اردو میں اور ہے عربی میں واو ہے اسی طرح سے فا کا لفظ استعمال ہوتا ہے فورا کہ یہ فا مفا جاتی ہے فورا علفور

[14:34]تو یہاں پر میں یہ نقطہ بھی سمجھانا چاہتا ہوں کہ ہم بعض اوقات یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ بچوں کو صرف یاد کرانا کچھ نہیں ہے حالانکہ یاد کروانا پہلے سمجھانا بعد میں ہے اپ علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اپ دیکھیں قران مجید کی اس ایت نے سورۃ القیامہ میں اللہ رب العالمین نے کیا فرمایا کہ اس قران مجید کو جمع کرنا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جبریل امین اپ کے سامنے قران مجید پڑھتے تو اب جلدی جلدی دہراتے تو اللہ نے فرمایا یہ جلدی مت کیجئے پھر اس کی تشریح اور تفسیر بھی ہمارے ذمے ہے اس کے اندر میں ایک باریک سا نقطہ اور بھی بتانا چاہوں گا جو میں سمجھتا ہوں جتنا میں نے مطالعہ کیا یہاں پر ایک لفظ ہے ثم ان علينا بیان ہم نے بہت سارے لوگوں کو یہ اعتراض کرتے ہوئے سنا ہے کہ ہم قران مجید کو رٹواتے ہیں طوطے کی طرح بچوں کو پڑھوا دیتے ہیں اور سمجھاتے نہیں ہیں تفهیم ان کو حاصل نہیں ہوتی تو یہ یاد کرنا کوئی شے نہیں ہے اللہ رب العالمین نے یہاں پر کیا فرمایا تو اہل علم جانتے ہیں کہ ثم کا جو لفظ ہے عربی کے اندر یہ تراخی کے لیے اتا ہے اس کو کہا جاتا ہے کہ تراخی زمن یعنی ایسی چیز جو کچھ زمانے کے بعد واقع ہو یعنی ہم جو دو چیزیں ساتھ جوڑتے ہیں نا جیسے واو ہے ہم جملہ ارشاد فرمایا یہ بھی تھا اور یہ بھی تھا اردو میں اور ہے عربی میں واو ہے اسی طرح سے فا کا لفظ استعمال ہوتا ہے فورا کہ یہ فا مفا جاتی ہے فورا علفور

[16:34]تو یہاں پر میں یہ نقطہ بھی سمجھانا چاہتا ہوں کہ ہم بعض اوقات یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ بچوں کو صرف یاد کرانا کچھ نہیں ہے حالانکہ یاد کروانا پہلے سمجھانا بعد میں ہے اپ علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اپ دیکھیں قران مجید کی اس ایت نے سورۃ القیامہ میں اللہ رب العالمین نے کیا فرمایا کہ اس قران مجید کو جمع کرنا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جبریل امین اپ کے سامنے قران مجید پڑھتے تو اب جلدی جلدی دہراتے تو اللہ نے فرمایا یہ جلدی مت کیجئے پھر اس کی تشریح اور تفسیر بھی ہمارے ذمے ہے اس کے اندر میں ایک باریک سا نقطہ اور بھی بتانا چاہوں گا جو میں سمجھتا ہوں جتنا میں نے مطالعہ کیا یہاں پر ایک لفظ ہے ثم ان علينا بیان ہم نے بہت سارے لوگوں کو یہ اعتراض کرتے ہوئے سنا ہے کہ ہم قران مجید کو رٹواتے ہیں طوطے کی طرح بچوں کو پڑھوا دیتے ہیں اور سمجھاتے نہیں ہیں تفهیم ان کو حاصل نہیں ہوتی تو یہ یاد کرنا کوئی شے نہیں ہے اللہ رب العالمین نے یہاں پر کیا فرمایا تو اہل علم جانتے ہیں کہ ثم کا جو لفظ ہے عربی کے اندر یہ تراخی کے لیے اتا ہے اس کو کہا جاتا ہے کہ تراخی زمن یعنی ایسی چیز جو کچھ زمانے کے بعد واقع ہو یعنی ہم جو دو چیزیں ساتھ جوڑتے ہیں نا جیسے واو ہے ہم جملہ ارشاد فرمایا یہ بھی تھا اور یہ بھی تھا اردو میں اور ہے عربی میں واو ہے اسی طرح سے فا کا لفظ استعمال ہوتا ہے فورا کہ یہ فا مفا جاتی ہے فورا علفور

[18:34]تو یہاں پر میں یہ نقطہ بھی سمجھانا چاہتا ہوں کہ ہم بعض اوقات یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ بچوں کو صرف یاد کرانا کچھ نہیں ہے حالانکہ یاد کروانا پہلے سمجھانا بعد میں ہے اپ علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اپ دیکھیں قران مجید کی اس ایت نے سورۃ القیامہ میں اللہ رب العالمین نے کیا فرمایا کہ اس قران مجید کو جمع کرنا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جبریل امین اپ کے سامنے قران مجید پڑھتے تو اب جلدی جلدی دہراتے تو اللہ نے فرمایا یہ جلدی مت کیجئے پھر اس کی تشریح اور تفسیر بھی ہمارے ذمے ہے اس کے اندر میں ایک باریک سا نقطہ اور بھی بتانا چاہوں گا جو میں سمجھتا ہوں جتنا میں نے مطالعہ کیا یہاں پر ایک لفظ ہے ثم ان علينا بیان ہم نے بہت سارے لوگوں کو یہ اعتراض کرتے ہوئے سنا ہے کہ ہم قران مجید کو رٹواتے ہیں طوطے کی طرح بچوں کو پڑھوا دیتے ہیں اور سمجھاتے نہیں ہیں تفهیم ان کو حاصل نہیں ہوتی تو یہ یاد کرنا کوئی شے نہیں ہے اللہ رب العالمین نے یہاں پر کیا فرمایا تو اہل علم جانتے ہیں کہ ثم کا جو لفظ ہے عربی کے اندر یہ تراخی کے لیے اتا ہے اس کو کہا جاتا ہے کہ تراخی زمن یعنی ایسی چیز جو کچھ زمانے کے بعد واقع ہو یعنی ہم جو دو چیزیں ساتھ جوڑتے ہیں نا جیسے واو ہے ہم جملہ ارشاد فرمایا یہ بھی تھا اور یہ بھی تھا اردو میں اور ہے عربی میں واو ہے اسی طرح سے فا کا لفظ استعمال ہوتا ہے فورا کہ یہ فا مفا جاتی ہے فورا علفور

[20:34]تو یہاں پر میں یہ نقطہ بھی سمجھانا چاہتا ہوں کہ ہم بعض اوقات یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ بچوں کو صرف یاد کرانا کچھ نہیں ہے حالانکہ یاد کروانا پہلے سمجھانا بعد میں ہے اپ علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اپ دیکھیں قران مجید کی اس ایت نے سورۃ القیامہ میں اللہ رب العالمین نے کیا فرمایا کہ اس قران مجید کو جمع کرنا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جبریل امین اپ کے سامنے قران مجید پڑھتے تو اب جلدی جلدی دہراتے تو اللہ نے فرمایا یہ جلدی مت کیجئے پھر اس کی تشریح اور تفسیر بھی ہمارے ذمے ہے اس کے اندر میں ایک باریک سا نقطہ اور بھی بتانا چاہوں گا جو میں سمجھتا ہوں جتنا میں نے مطالعہ کیا یہاں پر ایک لفظ ہے ثم ان علينا بیان ہم نے بہت سارے لوگوں کو یہ اعتراض کرتے ہوئے سنا ہے کہ ہم قران مجید کو رٹواتے ہیں طوطے کی طرح بچوں کو پڑھوا دیتے ہیں اور سمجھاتے نہیں ہیں تفهیم ان کو حاصل نہیں ہوتی تو یہ یاد کرنا کوئی شے نہیں ہے اللہ رب العالمین نے یہاں پر کیا فرمایا تو اہل علم جانتے ہیں کہ ثم کا جو لفظ ہے عربی کے اندر یہ تراخی کے لیے اتا ہے اس کو کہا جاتا ہے کہ تراخی زمن یعنی ایسی چیز جو کچھ زمانے کے بعد واقع ہو یعنی ہم جو دو چیزیں ساتھ جوڑتے ہیں نا جیسے واو ہے ہم جملہ ارشاد فرمایا یہ بھی تھا اور یہ بھی تھا اردو میں اور ہے عربی میں واو ہے اسی طرح سے فا کا لفظ استعمال ہوتا ہے فورا کہ یہ فا مفا جاتی ہے فورا علفور

[22:34]تو یہاں پر میں یہ نقطہ بھی سمجھانا چاہتا ہوں کہ ہم بعض اوقات یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ بچوں کو صرف یاد کرانا کچھ نہیں ہے حالانکہ یاد کروانا پہلے سمجھانا بعد میں ہے اپ علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اپ دیکھیں قران مجید کی اس ایت نے سورۃ القیامہ میں اللہ رب العالمین نے کیا فرمایا کہ اس قران مجید کو جمع کرنا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جبریل امین اپ کے سامنے قران مجید پڑھتے تو اب جلدی جلدی دہراتے تو اللہ نے فرمایا یہ جلدی مت کیجئے پھر اس کی تشریح اور تفسیر بھی ہمارے ذمے ہے اس کے اندر میں ایک باریک سا نقطہ اور بھی بتانا چاہوں گا جو میں سمجھتا ہوں جتنا میں نے مطالعہ کیا یہاں پر ایک لفظ ہے ثم ان علينا بیان ہم نے بہت سارے لوگوں کو یہ اعتراض کرتے ہوئے سنا ہے کہ ہم قران مجید کو رٹواتے ہیں طوطے کی طرح بچوں کو پڑھوا دیتے ہیں اور سمجھاتے نہیں ہیں تفهیم ان کو حاصل نہیں ہوتی تو یہ یاد کرنا کوئی شے نہیں ہے اللہ رب العالمین نے یہاں پر کیا فرمایا تو اہل علم جانتے ہیں کہ ثم کا جو لفظ ہے عربی کے اندر یہ تراخی کے لیے اتا ہے اس کو کہا جاتا ہے کہ تراخی زمن یعنی ایسی چیز جو کچھ زمانے کے بعد واقع ہو یعنی ہم جو دو چیزیں ساتھ جوڑتے ہیں نا جیسے واو ہے ہم جملہ ارشاد فرمایا یہ بھی تھا اور یہ بھی تھا اردو میں اور ہے عربی میں واو ہے اسی طرح سے فا کا لفظ استعمال ہوتا ہے فورا کہ یہ فا مفا جاتی ہے فورا علفور

[24:34]تو یہاں پر میں یہ نقطہ بھی سمجھانا چاہتا ہوں کہ ہم بعض اوقات یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ بچوں کو صرف یاد کرانا کچھ نہیں ہے حالانکہ یاد کروانا پہلے سمجھانا بعد میں ہے اپ علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اپ دیکھیں قران مجید کی اس ایت نے سورۃ القیامہ میں اللہ رب العالمین نے کیا فرمایا کہ اس قران مجید کو جمع کرنا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جبریل امین اپ کے سامنے قران مجید پڑھتے تو اب جلدی جلدی دہراتے تو اللہ نے فرمایا یہ جلدی مت کیجئے پھر اس کی تشریح اور تفسیر بھی ہمارے ذمے ہے اس کے اندر میں ایک باریک سا نقطہ اور بھی بتانا چاہوں گا جو میں سمجھتا ہوں جتنا میں نے مطالعہ کیا یہاں پر ایک لفظ ہے ثم ان علينا بیان ہم نے بہت سارے لوگوں کو یہ اعتراض کرتے ہوئے سنا ہے کہ ہم قران مجید کو رٹواتے ہیں طوطے کی طرح بچوں کو پڑھوا دیتے ہیں اور سمجھاتے نہیں ہیں تفهیم ان کو حاصل نہیں ہوتی تو یہ یاد کرنا کوئی شے نہیں ہے اللہ رب العالمین نے یہاں پر کیا فرمایا تو اہل علم جانتے ہیں کہ ثم کا جو لفظ ہے عربی کے اندر یہ تراخی کے لیے اتا ہے اس کو کہا جاتا ہے کہ تراخی زمن یعنی ایسی چیز جو کچھ زمانے کے بعد واقع ہو یعنی ہم جو دو چیزیں ساتھ جوڑتے ہیں نا جیسے واو ہے ہم جملہ ارشاد فرمایا یہ بھی تھا اور یہ بھی تھا اردو میں اور ہے عربی میں واو ہے اسی طرح سے فا کا لفظ استعمال ہوتا ہے فورا کہ یہ فا مفا جاتی ہے فورا علفور

[26:34]تو یہاں پر میں یہ نقطہ بھی سمجھانا چاہتا ہوں کہ ہم بعض اوقات یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ بچوں کو صرف یاد کرانا کچھ نہیں ہے حالانکہ یاد کروانا پہلے سمجھانا بعد میں ہے اپ علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اپ دیکھیں قران مجید کی اس ایت نے سورۃ القیامہ میں اللہ رب العالمین نے کیا فرمایا کہ اس قران مجید کو جمع کرنا جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جبریل امین اپ کے سامنے قران مجید پڑھتے تو اب جلدی جلدی دہراتے تو اللہ نے فرمایا یہ جلدی مت کیجئے پھر اس کی تشریح اور تفسیر بھی ہمارے ذمے ہے اس کے اندر میں ایک باریک سا نقطہ اور بھی بتانا چاہوں گا جو میں سمجھتا ہوں جتنا میں نے مطالعہ کیا یہاں پر ایک لفظ ہے ثم ان علينا بیان ہم نے بہت سارے لوگوں کو یہ اعتراض کرتے ہوئے سنا ہے کہ ہم قران مجید کو رٹواتے ہیں طوطے کی طرح بچوں کو پڑھوا دیتے ہیں اور سمجھاتے نہیں ہیں تفهیم ان کو حاصل نہیں ہوتی تو یہ یاد کرنا کوئی شے نہیں ہے اللہ رب العالمین نے یہاں پر کیا فرمایا تو اہل علم جانتے ہیں کہ ثم کا جو لفظ ہے عربی کے اندر یہ تراخی کے لیے اتا ہے اس کو کہا جاتا ہے کہ تراخی زمن یعنی ایسی چیز جو کچھ زمانے کے بعد واقع ہو یعنی ہم جو دو چیزیں ساتھ جوڑتے ہیں نا جیسے واو ہے ہم جملہ ارشاد فرمایا یہ بھی تھا اور یہ بھی تھا اردو میں اور ہے عربی میں واو ہے

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript