[0:00]ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں احد کے پہاڑ پر کھڑے تھے اور ان کے ساتھ اسلام کے تین بڑے خلیفہ ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے۔ لیکن اچانک ایک زلزلہ آیا اور احد کا پہاڑ ہلنے لگا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا، اے احد کے پہاڑ، رک جا۔ تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق، اور دو شہید کھڑے ہیں۔ اس حدیث کے بعد، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے، لیکن حضرت عمر اپنی پوری زندگی ان کی یہ بات بھول نہیں سکے ہیں۔ اسی لیے اپنی پوری خلافت میں حضرت عمر ایک بہت ہی عجیب دعا مانگا کرتے تھے کہ یا اللہ مجھے شہادت کی موت دے۔ لیکن شہادت بھی ایسی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر مدینہ میں ملے حضرت عمر کی یہ دعا سن کر، لوگ ان سے پوچھتے تھے کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ اب تو عرب میں ساری جنگیں ختم ہو چکی ہیں، اور مدینہ دنیا کی سب سے سیف سٹی ہے۔ تو یہاں پر آپ کو کوئی کیسے شہید کرے گا؟ لیکن حضرت عمر کہتے تھے کہ اگر اللہ نے چاہا تو ایسا ہو کر رہے گا۔ لیکن حضرت عمر کی شہادت دنیا کا کوئی چھوٹا موٹا ایونٹ نہیں تھا۔ کیونکہ شہید ہونے سے پہلے حضرت عمر نے دنیا کی سب سے بڑی ایمپائر بنائی تھی۔ اتنی بڑی ایمپائر کہ آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عمر تک اس سے بڑی ایمپائر کوئی نہیں بنا سکا تھا۔ مطلب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایمپائر الیگزینڈر دی گریٹ، جولیس سیزر اور ایون فرعونوں سے بھی بڑی ایمپائر تھی۔ لیکن آج افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے علاوہ پوری دنیا حضرت عمر کو صرف عمر کہتی ہے۔ ایون گوگل میں بھی انہیں صرف عمر کہا جاتا ہے۔ لیکن الیگزینڈر کو آج پوری دنیا الیگزینڈر دی گریٹ کے نام سے یاد کرتی ہے۔ حالانکہ الیگزینڈر کی ایمپائر حضرت عمر کی خلافت کے سامنے کچھ بھی نہیں تھی۔ حضرت عمر کی خلافت کا یہ ریکارڈ اگلے کئی صدیوں تک کوئی نہیں توڑ سکا لیکن آخر چھ سو سال بعد ایک بادشاہ نے ان کا ریکارڈ توڑ دیا جسے ہم سب بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ ناؤ، حضرت عمر کی خلافت کے سب سے بڑے کاموں میں سے ایک فرعونوں کے ملک ایجپٹ کو فتح کرنا تھا۔ جو اس وقت کی دنیا کا سب سے پاورفل اور رچ علاقہ تھا۔ لیکن اب جب مسلمانوں کی ساری اٹینشن ایجپٹ کی طرف تھی وہاں پرشین بادشاہ کو تھوڑا ریلیکس ہونے کا ٹائم ملا اور اس نے اس ٹائم کو یوز کر کے اپنے سارے جرنلز اور لوگوں کی طرف آخری لیٹرز بھیجے۔ اور ان سب سے کہا کہ اگر اب بھی تم لوگ نہیں جاگے تو عمر ہماری اس آٹھ سو سال پرانی پرشین ایمپائر کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے گا۔ جس کے بعد پرشین ایمپائر کی عوام اپنی تلواریں اٹھا کر ہر طرف سے ایک بہت بڑی فوج بنانے لگی اور مسلمانوں سے آخری جنگ کے لیے تیار ہونے لگی۔ اب جب مدینہ میں خلیفہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس بات کا پتہ چلا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ مسلمانوں کی پوری فوج کو ایک جگہ جمع کر کے پرشین ایمپائر سے آخری لڑائی کے لیے بھیجیں گے۔ لیکن ایسا کرنے سے ان کے ایک بہت بڑے منسٹر علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں روک دیا اور کہا اگر ہم مسلمانوں کی پوری فوج کو ایک جگہ جمع کریں گے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ رومن ایمپائر دوبارہ ہم پر حملہ کر دے۔ حضرت علی کی یہ بات خلیفہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بہت پسند آئی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی رائے چھوڑ کر حضرت علی کی رائے مانی اور ہر علاقے سے چھوٹی چھوٹی فوجیں جمع کر کے پرشین ایمپائر پر آخری حملہ کیا۔ اس طرح مسلمان ایک بار پھر پرشین ایمپائر کے بہت سارے قلعوں کو فتح کرنے لگے جن میں سے ایک قلعے کی سٹوری سمجھنا بہت ہی امپورٹنٹ ہے۔ کیونکہ اس قلعے کے لیڈر کا نام تھا ہر مزان جو اس وقت پرشین ایمپائر کا سب سے طاقتور جرنل تھا۔ اسی لیے ہر مزان کی سٹی کو مسلمانوں نے بہت ہی مشکلوں سے فتح کیا تھا۔ لیکن یہ سٹی فتح کرتے ہی ہر مزان مسلمانوں کی فوج سے بھاگنے لگا اور مسلمان اس کا پیچھا کرنے لگے۔ بھاگتے بھاگتے ہر مزان اپنی سٹی کے سب سے لمبی بلڈنگ پر چڑھ کر زور زور سے چیخنے لگا کہ میرے پاس سو تیریں ہیں اور ان سو تیروں سے میں ایک ایک مسلمان کو چن چن کے ماروں گا۔ لیکن میری ایک شرط ہے اگر مسلمان مجھ سے یہ وعدہ کریں کہ وہ مجھے عمر بن خطاب کے پاس لے کر جائیں گے تو میں سرنڈر کرنے کے لیے تیار ہوں۔ تو مسلمانوں نے کہا ٹھیک ہے اس میں کون سی بڑی بات ہے تو انہوں نے ہر مزان کو پکڑا اور اسے سیدھا مدینہ میں خلیفہ کی طرف روانہ کیا۔ ہر مزان پہلی بار مدینہ میں داخل ہوا اور اس کا خیال تھا کہ خلیفہ عمر کا ایک بہت بڑا محل ہو گا اور باقی بادشاہوں کی طرح ایک بہت بڑے دربار میں بیٹھے ہوں گے۔ لیکن وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ دنیا کا اتنا بڑا بادشاہ ایک سادہ سی بلڈنگ میں زمین پر آرام فرما رہے تھے۔ کہا جاتا ہے یہ دیکھ کر ہر مزان نے پوچھا بھی کہ خلیفہ کے گارڈز کدھر ہیں۔ تو اسے بتایا گیا کہ خلیفہ عمر کو ان چیزوں کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ لوگوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اٹھایا اور انہیں کہا کہ یہ پرشین ایمپائر کا بہت بڑا جرنل آپ سے ملنے آیا ہے۔ لیکن حضرت عمر نے کہا کہ میں تب تک اس سے بات نہیں کروں گا جب تک اس نے یہ بادشاہوں والے کپڑے پہنے۔ جاؤ اور اسے بدل کر آؤ۔ جب ہر مزان اپنے کپڑے بدل کر بالکل عام انسان کی طرح حضرت عمر کے سامنے پیش ہوا۔ تب حضرت عمر نے اسے اپنے پاس آنے کی اجازت دی۔ لیکن اس ہر مزان کی وجہ سے پہلے ہی اتنے مسلمان شہید ہو چکے تھے کہ حضرت عمر اسے سزائے موت دینے کا ارادہ کر چکے تھے لیکن آتے ہی ہر مزان نے کہا کہ مجھے پانی پلایا جائے۔ جیسے ہی اسے پانی دیا گیا تو ہر مزان نے وہاں سب کے سامنے حضرت عمر سے کہا کہ مجھ سے وعدہ کریں۔ جب تک میں اس اس پانی کو نہ پیوں تب تک مجھے کوئی قتل نہیں کرے گا۔ جیسے ہی حضرت عمر نے ہر مزان کی بات مان لی ہر مزان نے وہ پانی زمین پر پھینک دیا اور کہا میں نے تو پانی پیا ہی نہیں بلکہ یہ پانی تو اب میں کبھی پی ہی نہیں سکتا اور اب آپ کے وعدے کے مطابق مجھے کوئی نہیں مار سکتا۔ جس کے بعد ہر مزان نے جلدی سے اسلام قبول کر لیا اور اس طرح مدینہ میں اپنی جان بچا لی۔ حضرت عمر نے بھی یہ دیکھ کر ہر مزان کو معاف کر لیا لیکن انہیں پتہ تھا کہ ہر مزان کوئی عام انسان نہیں ہے بلکہ پوری پرشین ایمپائر کا آرمی چیف ہونے کی وجہ سے ہر مزان کو اس ایمپائر کے ایک ایک کونے کا پتہ تھا۔ اسی لیے حضرت عمر نے ہر مزان کو مدینہ میں رہنے کی اجازت دی بلکہ پرشین ایمپائر کے خلاف اسے اپنا ایڈوائزر بھی بنایا۔ لیکن حضرت عمر کو اس بات کا پتہ نہیں تھا کہ ایک دن یہی ہر مزان ان کی شہادت میں ایک بہت بڑا رول پلے کرے گا۔
[7:38]آرمی چیف ہر مزان کی گرفتاری کا جب پرشین بادشاہ کو پتہ چلا تو اسے بہت غصہ آیا کیونکہ یہ پرشین ایمپائر کے لیے ایک بہت بڑی بے عزتی تھی تو انہوں نے اور تیزی سے اپنی فوج کو جمع کرنا شروع کیا اور آخر پوری پرشین ایمپائر سے ایک بہت بڑی فوج جمع کر کے ایران کی سٹی نہاوند میں مسلمانوں سے آخری جنگ لڑنے کے لیے تیار ہوئی۔ اب یہاں پہ تھوڑی کنفیوژن ہے کہ پرشین فوج کے جمع ہونے کی خبر حضرت عمر تک کس نے پہنچائی؟ پرانے گورنر سعد بن ابی وقاص نے یا نئے گورنر عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو ایک بہت بڑے صحابی تھے اور ان کے ماں باپ نے سب سے پہلے اسلام کے لیے اپنی جان دی تھی۔ حضرت عمر کو جب اس کا پتہ چلا تو انہوں نے اپنے سارے منسٹرز کی ایک میٹنگ بلائی اور ان سے پوچھا کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ جس پر حضرت عثمان نے انہیں مشورہ دیا کہ آپ کو خود ایک بہت بڑی فوج لے کر پرشین بادشاہ سے لڑنے کے لیے جانا چاہیے۔ لیکن حضرت علی نے کہا کہ نہیں خلیفہ کو مدینہ میں رہ کر کسی اور کو بھیجنا چاہیے۔ تو حضرت عمر نے ایک بار پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے کو پسند کیا اور تیس ہزار کی بڑی فوج جمع کر کے اسے پرشین ایمپائر سے آخری جنگ کے لیے روانہ کیا۔ جس کے بعد نہاوند میں اسلام اور پرشینز کی آخری بہت بڑی جنگ ہوئی اور آخر بہت مشکلوں سے مسلمان یہ جنگ جیت گئے۔ لیکن یہ جنگ اتنی خطرناک تھی کہ یرموک اور قادسیہ کے بعد سب سے زیادہ لوگ اس جنگ میں مارے گئے تھے۔ اور مسلمانوں کے جنرل نعمان بن مقرن بھی اسی جنگ میں شہید ہوئے تھے۔ مسلمان یہ جنگ جیت تو گئے لیکن اس جنگ کے بعد مسلمانوں کی تاریخ ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔ کیونکہ مسلمانوں نے اس جنگ میں ایک ایسا آدمی گرفتار کیا جس کا نام تھا فیروز۔ اور جس نے آگے جا کر جنگ کے بعد عربوں نے اس کا نام ابو لولوا رکھا اور یہ مغیرہ بن شعبہ کا غلام بنا لیکن فیروز باقی سارے غلاموں سے بہت ہی ڈیفرنٹ تھا۔ کیونکہ یہ اس زمانے کا ایک قابل لوہار تھا۔ جسے دیکھ کر ابو لولوا کا ماسٹر مغیرہ بن شعبہ اسے مسلمانوں کے کیپیٹل مدینہ لے کر آیا۔ جہاں پر یہ اپنے ماسٹر کے لیے لوہے کا کام کرتا تھا۔ اور وہ یہیں پر مدینہ میں رہنے لگا۔ وہاں پرشین ایمپائر میں اب مسلمانوں کے پاس فری ہینڈ تھا اور مسلمان آسانی سے ہر علاقے کو فتح کرنے لگے یہاں تک کہ مسلمانوں کی ایک فوج اوپر اذربائیجان تک پہنچی اور مسلمانوں کی دوسری فوج تاریخ میں پہلی بار حضرت عمر کی خلافت میں انڈیا کے بارڈرز کو کراس کر کے اندر داخل ہوئی جو آج پاکستان کا علاقہ بلوچستان ہے۔ اور اسی طرح یہ سارا علاقہ پوری پرشین ایمپائر ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔ آخر یہ دیکھ کر پرشین بادشاہ بھی مسلمانوں سے بھاگنے لگا اور جب اسے پوری دنیا میں کوئی جگہ نہیں ملی تو مجبورا اسے چائنا میں جا کر رہنا پڑا۔ اور چائنا کے بادشاہ نے اسے بہت اچھی طرح ویلکم کیا۔ یہ اسی پرشین بادشاہ کا پوتا تھا جسے اس سے بہت سال پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لیٹر بھیج کر اسلام کی طرف آنے کی دعوت دی تھی اور اس بادشاہ کے دادا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیٹر کو بہت ہی غرور سے پھاڑ دیا تھا۔ لیکن اب حضرت عمر کی فوج نے پوری پرشین ایمپائر کو ہمیشہ کے لیے فتح کر لیا تھا۔ مطلب مسلمانوں کی یہ خلافت جو ایک زمانے میں چھوٹی سی مدینہ کی ریاست تھی اب انڈیا اور چائنا تک پھیل چکی تھی اور دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور تھی۔ لیکن جیسے ہی مسلمانوں کی فوج پاکستان کے بارڈر کے قریب پہنچی یہ حضرت عمر کی خلافت کا آخری ٹائم تھا۔ کیونکہ اس کے کچھ ہی دنوں بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کر دیا گیا۔
[12:05]کیونکہ مسئلہ یہ تھا کہ اس سے کچھ ہی عرصہ پہلے جس غلام کو مسلمان پکڑ کر مدینہ لے کر ائے تھے فیروز یا ابو لولوا وہ مدینہ میں مسلمانوں کے ساتھ تو رہتا تھا لیکن وہ یہاں کبھی بھی خوش نہیں تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جب بھی وہ مدینہ میں اپنے علاقے کے بچوں کو دیکھتا تھا تو کہتا تھا کہ ان عربوں کی وجہ سے آج ہم تباہ ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ بار بار کہتا تھا کہ کاش ان عربوں کی غلامی دیکھنے سے پہلے میں نہاوند کی جنگ میں ہی مر جاتا۔ مطلب فیروز کے دل میں مسلمانوں کی اتنی نفرت تھی اور اسی نفرت کے ساتھ ایک دن فیروز خلیفہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ میرا ماسٹر مغیرہ مجھ پر بہت ظلم کرتا ہے مطلب مجھے ہر دن اپنی کمائی سے اسے دو درہم دینے پڑتے ہیں۔ دو درہم حضرت عمر کی خلافت اتنی تیزی سے بڑھی تھی کہ مسلمانوں کے پاس اب تک اپنی کوئی کرنسی بنانے کا ٹائم ہی نہیں تھا۔ تو ان کی خلافت میں مسلمان پرشین ایمپائر کی بنائی ہوئی درہمز سلور کوائنز کو یوز کرتے تھے۔ تو ابو لولو کی دو درہم کی پرائس کو اگر آج کے زمانے میں دیکھا جائے تو کچھ پندرہ سولہ سو روپے بنتے ہیں۔ تو جب اس پرائس کا اس نے حضرت عمر کو بتایا تو حضرت عمر نے اس سے پوچھا کہ تم کیا کرتے ہو؟ تو اس نے کہا میں لکڑی اور لوہے کا کام کرتا ہوں۔ تو حضرت عمر نے اسے کہا کہ تب تو یہ پیسے بالکل ٹھیک ہیں۔ لیکن یہ سن کر فیروز کو ان پر بہت غصہ آیا اور وہاں سب کے سامنے اس نے کہا کہ عمر کا انصاف دنیا میں سب کے لیے سوائے میرے اور وہاں سے چلا گیا۔ حضرت عمر نے فیروز کو تو واپس بھیج دیا لیکن ان کے دل میں اب بھی یہ تھا کہ میں ضرور اس کے ماسٹر مغیرہ سے اس کے بارے میں بات کروں گا تاکہ وہ اس پر ٹیکس کم کر دے۔ اس سب کے کچھ ہی دنوں بعد حضرت عمر نے ایک دن فیروز کو دوبارہ مدینہ کے بازار میں دیکھا اور اس کا دل بہلانے کے لیے حضرت عمر نے اسے کہا کہ اے ابو لولو میں نے سنا ہے تم بہت اچھی چکی بناتے ہو تو کیا میرے لیے بھی ایک بناؤ گے؟ لیکن فیروز کے دل میں اب بھی حضرت عمر کے لیے وہی غصہ تھا تو اس نے حضرت عمر سے کہا کہ کیوں نہیں میں آپ کے لیے ایک ایسی چکی بناؤں گا جسے آج کے بعد پوری دنیا یاد رکھے گی۔ اب یہ بات اس نے ایک ایسے انداز میں کہی تھی کہ اس سے حضرت عمر کو سمجھ اگئی کہ فیروز اسے دھمکی دے رہا ہے اور یہی بات انہوں نے باقی صحابہ کو بھی بتائی کہ اس آدمی نے مجھے دھمکی دی ہے۔ لیکن اسلام کا قانون یہ ہے کہ کوئی بھی کسی بھی دوسرے شخص کو صرف شک کی وجہ سے گرفتار نہیں کر سکتا چاہے وہ کوئی بادشاہ ہی کیوں نہ ہو اسی لیے اس دھمکی کے بعد بھی حضرت عمر نے فیروز کو جانے دیا۔ مطلب حضرت عمر پوری ایمپائر کا خلیفہ ہونے کے بعد بھی اپنے آپ کو قانون سے اوپر نہیں سمجھتے تھے۔ اس دھمکی کے بعد فیروز یہاں سے چلا تو گیا لیکن اس نے اپنے دل میں یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اب وہ حضرت عمر کو زندہ نہیں چھوڑے گا۔ تو سب سے پہلے فیروز نے جا کر ایک بہت ہی خطرناک اور یونیک خنجر ڈیگر بنانا شروع کیا۔ یہ ایک ایسا ڈیگر تھا جسے سینٹر سے پکڑا جاتا تھا اور اس کی دونوں سائیڈز پر بہت ہی شارپ بلیڈز تھیں۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ اس خنجر کے تیار ہوتے ہی فیروز نے ایک بہت ہی ڈیڈلی زہر بنانا شروع کیا۔ اس زمانے کی پرشیا میں لوگ جس زہر کو یوز کیا کرتے تھے وہ زیادہ تر اس ہیملاک کے پودے سے بنایا جاتا تھا جو دیکھنے میں تو بہت خوبصورت ہے لیکن اس کے چھوٹے سے ذرے سے بھی انسان اندر سے بالکل جل جاتا ہے۔ اسی لیے یہ پودا اس زمانے کے اسیسنز کا فیوریٹ پوائزن تھا اور کہا جاتا ہے کہ اس سے بہت سال پہلے ایک گریٹ فلاسفر سوکریٹیس سقراط کو بھی اسی زہر سے مارا گیا تھا۔ فیروز نے اپنے اس یونیک خنجر کو ساری رات اس زہر کے اندر رکھا اور پھر اگلے ہی دن فجر کی نماز سے پہلے جا کر مسجد نبوی کے ایک کونے میں چھپ گیا اور خلیفہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتظار کرنے لگا۔ تو اب جیسے ہی حضرت عمر نے اگلے دن فجر کی اذان سنی تو وہ اٹھے اور مسجد میں اپنی آخری نماز پڑھنے کے لیے روانہ ہوئے۔ حضرت عمر کے پہنچنے سے پہلے ہی مسلمان مسجد میں نماز کے لیے صفوں میں کھڑے ہو چکے تھے لیکن پھر بھی حضرت عمر ایک ایک صف کو کراس کرتے ہوئے انہیں حکم دے رہے تھے۔ مسلمانوں اپنی صفوں کو سیدھا کرو۔ اس وقت اپنی شہادت سے کچھ ہی دیر پہلے حضرت عمر کی خلافت ویسٹ میں الجزائر سے لے کر ایسٹ میں انڈیا تک پھیلی ہوئی تھی۔ مطلب اگر آج کی دنیا کے پچیس یا تیس کنٹریز کو ملا لیا جائے۔ تب جا کر وہ اکیلے حضرت عمر کی خلافت بنتی ہے۔ لیکن یہاں پہ یہ سمجھنا لازمی ہے کہ اس سب کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہی بتا چکے تھے۔ حضرت عمر کی شہادت سے صرف پچیس سال پہلے جب مکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تھوڑے ہی فالوورز تھے اور لوگ ان پر بہت ظلم کیا کرتے تھے تو ان سخت حالات میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے کہتے رہتے تھے کہ ایک دن یہی مسلمان دنیا کی دونوں سپر پاورز رومن اور پرشین ایمپائر کو فتح کریں گے۔ اور یہ سن کر مکہ کے لوگ ہمیشہ ان کا بہت مذاق اڑایا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ مسلمان ہم سے اپنے آپ کو نہیں بچا سکتا تو یہ لوگ سپر پاور سے کیا لڑیں گے؟ لیکن آج صرف کچھ ہی سال بعد حضرت عمر نے اپنی خلافت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان باتوں کو پورا کر دیا تھا کیونکہ آج مسلمان دنیا کے سب سے بڑے سپر پاور تھے اور حضرت عمر دنیا کے سب سے طاقتور بادشاہ تھے۔ آخر حضرت عمر مسلمانوں کے سامنے امام کی جگہ پر کھڑے ہوئے اور نماز شروع کی۔ اللہ اکبر
[18:26]کہا جاتا ہے کہ حضرت عمر ہر فجر کی نماز میں قرآن کی سورۃ یوسف کی تلاوت کرتے تھے جس میں یوسف علیہ السلام ایک غلام سے پورے ایجپٹ کے لیڈر بنتے ہیں۔ لیکن آج وہی ایجپٹ حضرت عمر کی خلافت کا ایک چھوٹا سا صوبہ تھا۔ لیکن اب اپنی زندگی کی آخری نماز میں حضرت عمر نے جیسے ہی نماز شروع کی پیچھے سے ابو لولو فل سپیڈ بھاگتے ہوئے ایا اور اپنے زہریلے خنجر سے زور سے حضرت عمر کو مارا۔ اور پھر دوبارہ مارا اور دوبارہ مارا اسی طرح ابو لولو نے بہت تیزی سے حضرت عمر پر چھ وار کیے۔ اور حضرت عمر زمین پر گر گئے۔ یہ دیکھ کر پیچھے کھڑے مسلمانوں نے ابو لولو کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن فیروز نے وہاں سے بھاگنے کے لیے اپنے اسی خنجر سے وہاں نو اور لوگوں کو بھی شہید کر دیا۔ لیکن آخر جب مسلمانوں نے اسے پکڑ لیا تو فیروز نے اسی خنجر سے اپنا ہی گلا کاٹ کر خودکشی کر لی۔ اب پیچھے کھڑے مسلمانوں کو اس بات کا پتہ نہیں تھا کہ حضرت عمر پر حملہ کیا گیا ہے اسی لیے وہ سب کنفیوز تھے کہ حضرت عمر نے اچانک نماز کیوں روک دی؟ یہ دیکھ کر عبدالرحمن بن عوف اگے بڑھے اور حضرت عمر کی باقی نماز کو پورا کیا۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد حضرت عمر نے ہوش میں ا کر پوچھا کہ ابن عباس مجھے مارنے والا کون تھا؟ تو انہیں بتایا گیا کہ مغیرہ بن شعبہ کا وہی غلام فیروز۔ یہ سن کر حضرت عمر نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ مجھے کسی کلمہ پڑھنے والے مسلمان نے نہیں مارا۔ مطلب فیروز نے صرف دو درہموں کی وجہ سے دنیا کے سب سے طاقتور بادشاہ خلیفہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر حملہ کیا۔ لیکن یہاں پر کہانی کا ایک دوسرا اینگل بھی ہے۔ جب سے فیروز مدینہ ایا تھا وہ یہاں بالکل بھی خوش نہیں تھا اور مسلمانوں سے بہت سخت نفرت کرتا تھا اور مدینہ کے باقی لوگوں سے دور رہ کر صرف ایک شخص کے ساتھ پھرتا تھا وہی ہر مزان اور کہا جاتا ہے کہ جس خنجر سے حضرت عمر کو مارا گیا تھا وہی خنجر لوگوں نے اس سے صرف ایک ہی دن پہلے ہر مزان کے پاس دیکھا تھا۔ جس کی وجہ سے بہت ہسٹورینز کہتے ہیں کہ فیروز کا یہ حملہ اکیلا نہیں بلکہ پرشین ایمپائر کی ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔ اور یہ سازش مدینہ میں بیٹھے پرشین ایمپائر کے پرانے جنرل ہر مزان نے بنائی تھی۔ اسی لیے حضرت عمر کی شہادت کے کچھ ہی دنوں بعد ان کے ایک بیٹے عبید اللہ نے ہر مزان کی جان بھی لے لی تھی۔ لیکن یہ ایک بہت کنٹروورشل مسئلہ ہے اور اج کسی کو نہیں پتہ کہ وہاں ایگزیکٹلی کیا ہوا تھا۔ خیر، مسلمان مسجد سے حضرت عمر کو اٹھا کر ان کے گھر لے کر ائے۔ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جسم پر لگے زخم اتنے گہرے تھے کہ انہیں گھر لانے کے بعد جب انہیں کھجور کا پانی اور دودھ پلایا گیا تو وہ ان کے معدے میں جانے کے بجائے ان کے زخموں سے باہر نکلنے لگا۔ یہ دیکھ کر حضرت عمر کے ڈاکٹر نے انہیں کہا کہ یا امیر المومنین اللہ کو یاد کریں مطلب اب آپ کے پاس تھوڑا ہی ٹائم بچا ہے۔ یہ سن کر حضرت عمر کے پاس بیٹھے کچھ لوگ رونے لگے تو حضرت عمر نے انہیں ڈانٹا اور کہا جس نے رونا ہے وہ یہاں سے باہر نکل جائے۔ نارملی جو مر رہا ہوتا ہے لوگ اسے تسلی دیتے ہیں لیکن حضرت عمر کی پرسنلٹی ایسے تھی کہ اپنی موت کی خبر سننے کے بعد بھی انہیں کوئی فرق نہیں پڑا۔ اپنی موت کی خبر سن کر حضرت عمر نے سب سے پہلے حکم دیا کہ مجھ پر جتنا بھی قرضہ ہے اس کا حساب لگایا جائے۔ تو پتہ چلا کہ حضرت عمر پر چھیاسی ہزار درہمز کا قرضہ تھا۔ تو حضرت عمر نے اپنے بیٹے اور خاندان کو حکم دیا کہ میرے بعد اس قرضے کو ادا کیا جائے۔ ساتھ بیٹھے لوگوں نے کہا کہ ایسا کرنے کی کیا ضرورت ہے یہ سارا تو وہ پیسہ ہے جو آپ نے اپنی طرف سے غریبوں اور یتیموں کو دیا ہے۔ لیکن حضرت عمر نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور ان کی شہادت کے بعد جس گھر میں وہ شہید ہوئے تھے اسے بیچ کر حضرت عمر کے قرضے کو ادا کیا گیا اور اس گھر کو خریدا کس نے؟ ایک بہت ہی رچ صحابی اور فیوچر خلیفہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان۔ جب پورے مدینہ میں یہ بات پھیل گئی کہ اب ان کے بیلویڈ خلیفہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس دنیا میں نہیں رہ پائیں گے تو ہر گھر سے رونے کی اوازیں انے لگی۔ یہاں تک کہ ایک صحابی نے کہا کہ حضرت عمر کی شہادت کے دن مدینہ کے لوگ ایسے رو رہے تھے جیسے ہر گھر میں ان کا اکلوتا بیٹا مرا ہو۔ کیونکہ حضرت عمر نے اپنی حکومت ایک بادشاہ کی طرح نہیں بلکہ ایک باپ کی طرح کی تھی۔ اب جب حضرت عمر اپنے بستر پر اپنی زندگی کی اخری سانسیں لے رہے تھے تو انہوں نے اپنے بیٹے عبداللہ بن عمر کو بلایا اور اسے اپنی زندگی کی اخری خواہش بتائی کہ جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھو کہ عمر اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونا چاہتا ہے۔ لیکن یاد رکھنا کہ عمر ہی کہنا امیرالمومنین مت کہنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ اس لیے کیا کہ کہیں حضرت عائشہ اسے خلیفہ کا ایک ارڈر سمجھ کر مجبورا مان نہ لے۔ یہ سن کر حضرت عائشہ نے کہا کہ یہ جگہ میں ہمیشہ اپنے لیے رکھنا چاہتی تھی کیونکہ یہاں انہی کے کمرے میں ایک طرف ان کے شوہر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسری طرف ان کے والد ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ لیکن حضرت عائشہ نے کہا کہ اج کے دن میں اپنے آپ سے بھی زیادہ اج عمر کو اس جگہ کا حقدار سمجھتی ہے۔ حضرت عمر کو جب اس بات کا پتہ چلا تو وہ بہت خوش ہوئے اور کہا یہی میری اخری خواہش تھی اور ساتھ ہی حکم دیا کہ میرے مرتے ہی ایک بار دوبارہ حضرت عائشہ سے ضرور پوچھ لینا۔ اب عرب میں ایک رواج تھا کہ جب بھی کوئی بہت بڑا ادمی مرتا تھا اس کے لیے ایک بہت ہی مہنگا کفن بنایا جاتا تھا اور اس کفن پر ہر طرح کے پرفیومز لگائے جاتے تھے۔ لیکن حضرت عمر نے اپنے بیٹے کو سختی سے کہا کہ میرے مرنے کے بعد میرے لیے صرف ایک عام سا کفن لینا۔ اور اس پر کسی قسم کا پرفیوم نہیں لگانا۔
[25:12]اور اس طرح دس سال اور چھ مہینے تک مسلمانوں کے خلیفہ رہنے کے بعد حضرت عمر اس دنیا سے چلے گئے۔ اور اس طرح اسلام کے دوسرے خلیفہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس مدینہ میں دفنا دیا گیا۔



