[0:08]بحر عرب میں پاکستان نیوی کا اپریشن محافض البحر پرشین گلف میں پھنسے جہازوں کے لیے امید کی کرن بھارتی خاموشی اور پاکستان کی عملی پیش قدمی کیا میں خطے کے سمندری دفاع کے نئے ضامن بن کر ابھر رہے
[0:26]سفارتی محاذ سے بالی وڈ تک بھارت کا پاکستان فوبیا
[0:36]اج دا بلو نیوز روم کی ٹاپ سٹوری میں ہم بات کریں گے اس بلو اکانومی اور بلو سیکیورٹی کی جو ہماری تقدیر بدل سکتی ہے سمندر کی لہروں میں جب خوف اتر جائے اور دنیا کی 20 سے 30 فیصد ائل اور گیس سپلائی لائنز کا راستہ بند کیا جائے تو سوال صرف تجارت کا نہیں بقا کا ہوتا ہے تصور کریں کہ ایک ایسی گہرائی کا جہاں دنیا کا سب سے بڑا انرجی کوریڈور سٹریٹ اف ہرموز ایک جنگ کی لپیٹ میں خاموش ہو چکا ہے لیکن اس سناٹے میں ایک جھنڈا لہرا رہا ہے منڈے مارچ 9 پاکستان نیوی کے شپس نے وہ کیا جو وقت کی سخت ترین ضرورت تھی اپریشن محافظ البحر کا اغاز یہ صرف ایک مشن نہیں بلکہ پاکستان کی سمندری طاقت کا نیا رخ ہے تو ہوا کیا جب مڈل ایسٹ کا بحران بڑھا اور سٹریٹ اف ہرموس افیکٹیولی بلاک ہو گیا تو پاکستان نے انتظار نہیں کیا ائی ایس پی ار کے مطابق پاکستان نیوی نے اپنے مرچنٹ ویسلز کو ارمڈ ایسکورٹ دینا شروع کر دیا کیا اسکواٹ کیا جا رہا ہے ہماری انرجی لائف لائن وہ ٹینکرز جو ائل اور انرجی لا رہے ہیں ایک ٹینکر کراچی پہنچ چکا ہے جبکہ دو مزید راستے میں ہے یہ اسکواٹ صرف دشمن سے بچاؤ کے لیے نہیں بلکہ دنیا کو یہ بتانے کے لیے ہے کہ پاکستان اپنے سمندری راستے خود محفوظ کرنا جانتا ہے جہاں پاکستان نے فورا ایکشن لیا وہاں ہمارا پڑوسی ملک ابھی صرف سوچ رہا ہے انڈین میڈیا کے مطابق پرشین گلف میں انڈین فلیگڈ 38 شپس سٹریڈڈ ہیں انڈیا ابھی صرف کنسیڈر کر رہا ہے کہ پاکستان کی راہ پر چلا جائے یا نہیں مگر بات صرف پھنسے ہوئے جہازوں کی نہیں ہے ایک سبق ہے جو پچھلے ہفتے شری لنکا کے ساحل پر سیکھا گیا ایران کا وار شپ ائرس دینا جو انڈیا کے ملان 2026 ایکسرسائز میں بطور مہمان ایا تھا واپسی پر یو ایس سبمرین کا نشانہ بن گیا صرف دو دن پہلے انڈیا نے اسے بریجز اف فرینڈشپ کا حصہ کہا تھا لیکن جب یو ایس نے ٹورپیڈو سے اسے ڈبویا تو انڈیا کی خاموشی چبھ رہی ہے نہ سیکیورٹی دی گئی نہ کوئی بیان ایا ایرانین فارن منسٹر نے اسے اٹراسیٹیٹ سی کہا ہے یہ حادثہ دکھاتا ہے کہ صرف دوستی کا دم بھرنا کافی نہیں ہے سمندر میں حفاظت کرنے کی ہمت بھی ہونی چاہیے The navy is gone. It's all lying at the bottom of the ocean. 46 ships, can you believe it? I actually get a little upset with our people. I said, what quality of ship? Excellent, sir. Top of the line. I said, why didn't we just capture the ship? We're going to use it. Why did we sink them? They said it's more fun to sink them. I said that's They like sinking him better. They said it's safer to sink him. I guess it's probably true. Indian journalist Rajdeep Sardesai ne Modi sarkar par tankit karte hue kaha ke Indian government ki aik moral responsibility hai کہ وہ امریکیوں کو کہیں کہ انہوں نے ایک ریڈ لائن پار کی ہے لیکن شاید انڈیا کو رشن تیل کی زیادہ ضرورت تھی کہ اس ایکٹ اف اگریس پر خاموش رہیں سٹریٹ اف ہرموس کے علاوہ راستہ اور بھی خطرناک ہے پاکستان نے سعودی عرب سے درخواست کی ہے کہ ائل سپلائیز کو ریڈ سی کے پورٹ یامبو کی طرف ڈائیورٹ کیا جائے مگر یامبو سے انے والا جہاز یہودی کنٹرولڈ علاقوں سے گزریں گے یاد رہے کہ ہوتھز کو ایرانین پراکسز کہا جاتا ہے جو تیل اپ پانچ دن کے اندر یو اے ای سے منگوا لیتے تھے یا ہرموس سے منگوا لیتے تھے اب وہ وزیراعظم صاحب کی مدد کے ساتھ ہم نے سعودی ایمبسیڈر کی مدد کے ساتھ سعودی گورنمنٹ کے مل کے اپ کی میٹنگ بھی ہوئی سعودی عرب کی ہم نے یابو جو ریڈ سی سے جو ایک پورٹ ہے وہاں سے اس کا انتظام کیا جی جی ان کے ساتھ چل رہی ہے اور وہ بے پناہ ہماری مدد کر رہے ہیں یو اے ای کی بے پناہ مدد ا رہی ہے وہ فجیرا سے ہمیں دے رہے ہیں جو ہرموس سے باہر سے ہے اب یہاں سے جو یابو سے جو جہاز اتا ہے وہ دس دن جانے میں لگتے ہیں دس دن انے میں لگتے ہیں 20 دن لگتے ہیں ٹھیک ہے جی اج مارکیٹ کو اگ لگی ہوئی ہے اس کے بعد پریمیم بھی جو ہے وہ 2020 ڈالر کا اوپر ڈل رہا ہے اس کے بعد مجھے بتائیں کہ جو یہ کمپنی ہے ان کے لائسنس کی بھی یہ ریکوائرمنٹ ہے کہ انہوں نے 20 25 دن کا تیل اپنے پاس ہر وقت موجود رہنا ہے جو ان کا ڈیڈ سٹاک ہے تو اج جب وہ تیل وہاں سے لے کے ائیں گے مجھے بتائیں اپ کاروباری شخص ہوں اپ اس قسم کی صورتحال میں اتنا مہنگا تیل خریدیں گے اگر اپ کو یہ اعتماد نہ ہو کہ جی اگے اس پائس کی ٹرانسمیشن ہو جائے گی اس کمپلیکس ٹرائینگل میں جہاں ایک طرف یو ایس اسرائیل ہے اور دوسری طرف ایران پاکستان نیوی کا کردار اب صرف ڈیفینسو نہیں رہا یہ قابلیت راتوں رات نہیں ائی پاکستان پرسوں سے اپنی کپیسٹی بلڈ کر رہا ہے خاص طور پر ٹرکی اور چائنہ کے ساتھ مل کر کیا پاکستان ایک میری ٹائم نیٹ سیکیورٹی پرووائڈر بن سکتا ہے ائی ایس پی ار کا تازہ بیان غور سے پڑھیں پاکستان نیوی ریمینز فلی پریپیئرڈ کمیٹڈ ٹو انشورنگ سیفٹی اف نیشنل شپنگ اینڈ ریجنل میریٹائم سیکیورٹی لفظ ریجنل بہت اہم ہے جب دنیا کی بڑی طاقتیں فن کی بات کرتی ہیں تو ہم جیسے ممالک کو اپنی حفاظت خود کرنی پڑتی ہے پاکستان اس موقع سے کیسے فائدہ اٹھا سکتا ہے جانتے ہیں ڈاکٹر ہما بقائی سے ڈاکٹر ہما اپ بتا سکتی ہیں جو اس وقت منڈے کو پاکستان نیوی نے جو شپس اسکورٹ کی تھی یہاں پاکستان میں سکسیس فلی پہنچا دی تھی یہ صرف ایک موقع نہیں ہے اپ کو لگتا ہے کہ پاکستان بھی اس ریجن کے لیے اگر ائی ایس پی ار کی سٹیٹمنٹ کو دیکھا جائے کہ نیٹ میر ٹائم سیکیورٹی پرووائڈر بھی اس اس بحران میں موقع ہے پاکستان کے پاس صرف اس بحران میں نہیں مئی 2025 کے بعد جب پاکستان نے ایک ڈسائزو ڈیفیٹ انڈیا پہ انفیکٹ کی تھی تو اس کے بعد سوال اٹھا تھا کہ یہ جو ایک سیلف پروکلیم ٹائٹل تھا انڈیا کا کہ وہ نیٹ سیکیورٹی پرووائڈر ہے تو جو اپنی سیکیورٹی نہیں انشور کر سکتا وہ خطے میں یا سیز پر نیٹ سیکیورٹی پرووائڈر کیسے ہو سکتا ہے اور جو انڈیا نے ایک سمجھیے پروپیگنڈا مشینری انلیش کی تھی وہ انڈین اوشن کو انڈین اوشن یہ پرسیپشن وہ کریٹ کرنے کی کوشش کرتے تھے تو اس وہ کاؤنٹر ہوا تھا اور اس کے بعد بہت دفعہ یہ بات ہونے لگی ہے کہ پاکستان نے جو اپنے لیے ڈپلومیٹک سپیس کریٹ کی ہے وہ صرف اس حد تک محدود نہیں ہے کہ وہ خطے میں اب پروٹاگنسٹ اتنا ہی اہم ہے یا شاید انڈیا سے زیادہ اہم ہے بلکہ یہ بھی اسٹیبلش ہوا کہ جو سیز پر اور جو اس کی ملٹری سمجھیے ایکسپرٹیز ہے وہ ایکنالج بھی کی گئی اس کے لیے ریسپیکٹ بھی بڑھی اور اس کا ایک واضح ڈسپلے بھی ہو گیا اور پھر یہ چیز اور انڈوس ہوئی جب پاکستان حصہ بنا سعودی عرب کے سیکیورٹی فریم ورک کا اب بات جب اپ سعودی عرب کے سیکیورٹی فریم ورک کا حصہ بنے تو اس وقت ظاہر ہے بہت سارے سوالات بھی اٹھے اور فاسٹ فارورڈ ٹو واٹ از ہیپنگ ٹوڈے ایک پرٹیننٹ کوسچن ہے کہ ان ہو سائیڈ پاکستان از تو ایسنشلی پاکستان از ناٹ ان اینی سائیڈ اور ہماری ایک مائنڈ سیٹ ہے کہ ہم کہتے ہیں وی نیڈ ٹو پک سائیڈز وی ڈو ناٹ نیڈ ٹو پک سائیڈز وی نیڈ ٹو پک رول ہم دیٹس انٹرسٹنگ دیٹس ویری گڈ پوائنٹ وی نیڈ ٹو پک رول اور یہ نہ صرف مڈل ایسٹ یا ٹرکی سعودی کے ساتھ مل کر ہے بٹ او سیز بٹ ایک بہت بڑا جو سوال پوچھا جا رہا ہے کہ سٹریٹ اف ہرموز میں اگر پاکستان نیوی جا سکتی ہے تو کیا ہم نے ایران سے کسی طریقے سے اجازت یا یہی جب میں اپ سے کہہ رہا ہوں نیڈ ٹو پک رول تو یہ امپلسٹ انڈرسٹینڈنگ ہے کہ وہ رول ہے اف برج سٹیٹ تو اپ نے دیکھا کہ ایران نے ایکچولی پاکستان کا شکریہ ادا کیا تھا 2025 کی 12 دن کی جنگ میں فار ناٹ گونگٹس سپیس ٹو ایور دوسری دفعہ بھی انہوں نے شکریہ ادا کیا ہے ابھی جب خامنائی صاحب ایز نیکسٹ راہبر ائے ہیں تو ان کی ایک ٹیلیفونک کنورسیشن ہوئی ہے شہباز شریف صاحب سے شہباز شریف اور ہماری اسٹیبلشمنٹ بہت زیادہ کنورسیشنز میں ہے سعودی عرب کے ساتھ بھی دس اٹ سیلف پاکستان کے لیے ایک سپیس کریٹ ہوئی ہے اینڈ ٹو چیری ان کیک از پاکستان ابھی تک تو امریکہ کے ساتھ بھی ان گڈ سپیس ہے اور اگر پریزیڈنٹ ٹرمپ پیوٹن کو فون کر رہے ہیں اس جنگ میں سے کوئی وے فارورڈ یا وے اؤٹ نکالنے کے لیے تو پاکستان تو بڑی اوبیس چوائس کے طور پر ایمرج ہوتا ہے ان ریجن السو بیکاز انڈیا نے اپنے اپ کو سکوئرلی اسرائیل کے ساتھ کیا ہے کھڑا تو بائی ڈیفالٹ اینڈ بائی پرفارمنس پاکستان بہت بہت عمدہ سپیس میں ہے اس وقت اور پاکستان ہیز لسو ریمین دا رائٹ سائیڈ اف انٹرنیشنل لا لوگوں کے لیے یہ بات نہیں ہو گی نا ہم تو عرصے سے فارن پالیسی میں ایک بیلنس ایکٹ کرتے ہیں بٹوین واشنگٹن اینڈ بیجنگ بٹوین تہران اینڈ ریاض اب سچویشن زیادہ اچھی ہے کیونکہ جو ریسٹرینٹ کا مظاہرہ کیا ہے گلف سٹیٹس نے اور سعودی عریبیہ میں اف ناٹ جمپنگ ان ٹو دس وار ڈسپائٹ دا فیکٹ کہ ایران نے بائے ڈیزائن جنگ پھیلائی اور امریکن ایسٹس کو ان کنٹریز میں ہٹ کیا انہوں نے ڈیفینڈ کیا ہے اپنے اپ کو انہوں نے ہٹ بیک نہیں کیا ایران رائٹ اینڈ اس ایکویشن میں بہت کلیئر ہے انہوں نے کلیئر جی تو اس ایکویشن میں ائی تھنک پاکستان جو ہے وہ اٹ ایمرج ایز ا نیچرل چوائس فار دا گلف سٹیٹس وہاں بھی ہمارے تعلقات اچھے فار سعودی عریبیہ وہاں بھی ہمارے تعلقات اچھے اور ایران کے ساتھ بھی اور انٹرسٹنگلی ہمارے رشیہ کے ساتھ بھی تعلقات اچھے رائٹ ویز انٹرسٹنگ اگر ہم کانٹراسٹ کریں بیکاز جیسے اپ نے کہا تھا کہ انڈیا اپنے اپ کو ریجنل سیکیورٹی پرووائڈر کے طور پر پیش کرتا رہا ہے ہم نے دیکھا کہ سری لنکا کے قریب جو ایرانین وار شپ تھی کس طرح سے اس کو ڈبویا گیا اس کے علاوہ وی السو سی کہ انڈیا یو اے ای کے ساتھ بھی تعلقات ظاہر ہے بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہے سو سو کین وی پٹ دس ان ٹو کانٹیکسٹ فار پاکستان انڈیاز رول از ناؤ انڈیا ہیز لاسٹ لاٹ اف گراؤنڈ وے بیک ہم لوگ جب ائی ار کے پرچے لکھتے تھے نا مقالے لکھتے تھے ریسرچ کے پیپرز لکھتے تھے تو ہم کہتے تھے کہ انڈیا نے دو ویلوٹ ڈورسز لی تھی ایک ویلوٹ ڈورس اس نے لی تھی رشیا سے اور ایک ویلوٹ ڈورس اس نے لی تھی ایران سے ٹو گیٹ فیکٹرڈ ان ٹو دی ویسٹرن کیلکولس اور وہاں وہ اس وقت اپ کو یاد ہے وہ سیکیورٹی کونسل کا ممبر بننا چاہتا تھا اس وہ اپنی جو نیوکلیئر پروگرام ہے اس کے لیے ایتھنٹسٹی اور ویلیڈیشن چاہتا تھا اور نیوکلیئر سپلائر گروپس کے ساتھ ان ہونا چاہتا تھا تو اس نے یہ کونشیس ڈیسیژن لیا تھا اور یہی کونشیس ڈیسیژن جو اس نے لیا تھا اٹ واز ناٹ لاسٹ ان ایران نیدر واز اٹ لاسٹ ان ماسکو اب اپ فاسٹ فارورڈ ا جائیں اگے تو میں اس کو کہتی ہوں کہ مودی بلنڈرز ان فارن پالیسی سو مودی بلنڈرز ان فارن پالیسی ہیو ائسلیٹڈ انڈیا فردر فار ایگزامپل جب ان کی اساسین ایلیمینیشن ہوئی ایرانین ہیڈ خمنی صاحب کی سینیئر خمنی ناٹ ایون ون ورڈ اف ریپریمانڈ اور کنڈولنس السو فرام انڈیا جس کو ان کی اپوزیشن نے کہا کہ ہم کس قسم کے ملک ہیں اور پھر اگر یٹ اف یو گو مور ان ٹو ڈیٹیل یو ڈیگ ڈیپر بالکل اگر اپ کو یاد ہے اس جنگ کے شروع ہونے سے پہلے مودی جو تھے وہ نیتنیاو صاحب سے ملے تھے جی اور اس میٹنگ میں بڑی انٹرسٹنگ باتیں بھی ہوئی تھی جو اتنی جو یہ گرد اڑی ہوئی ہے اس میں شاید ہم اس کے بارے میں بات نہیں کرتے اس نے بات کی ہوئی تھی ہیگزاگن ہیگزاگن الائنس ٹو کم ٹو گیدر ٹو کاؤنٹر واٹ شیریٹیکلزم جس کے اپ نے دیکھا کہ اسرائیل کب سے وہ کوشش کر رہا تھا پراکسی وار پراکسی اؤٹ ریٹس اور یہ سب اینڈ دین دے سپوک اباؤٹ سنی رائزنگ ریڈیکل ایکسیس اور اس میں چھ ممالک کے نام تھے اس میں نام تھا ٹرکیاں کا اس میں نام تھا سعودی عرب کا اور اس میں نام تھا پاکستان کا اور پھر دیکھیے کس طرح جو کچھ افغانستان میں انڈیا کر رہا ہے اور کس طرح وہ اسرائیل کو انگیج کر رہا ہے افغانستان میں ان سے ان کو افغانیوں کو امداد دلوا رہا ہے ابھی جو ہم نے بی اس کی وٹس نیم اف سپیس بگرام بیس جو ہے ہاں اس کو جو ابھی ہم نے وہاں پہ اسلحہ وہاں کا نیوٹرلائز کیا ہے وہاں پہ زیونسٹ ٹورجن کا سٹاک تھا جب انڈیا اپنے مہمانوں اور اپنے جہازوں کو محفوظ کرنے میں ہچکچا رہا ہے وہاں پاکستان نیوی نے عملی قدم اٹھا کر اپنی اہلیت ثابت کر دی ہے سمندری راستے اگر بند ہو جائیں تو ملک جم جاتے ہیں اپریشن محافظ البحر دکھایا کہ پاکستان صرف راستہ مانگنے والا نہیں راستہ دکھانے والا ملک بن سکتا ہے اور اب اخری سیگمنٹ واٹس ٹرینڈنگ دنیا بدل رہی ہے نئے اتحاد بن رہے ہیں لیکن ایک چیز بالکل نہیں بدلی انڈیا کی پاکستان سے ابسیشن چاہے بات ڈپلومیسی کی ہو جنگ کی ہو یا فلموں کی ایسا لگتا ہے کہ انڈیا کی ہر کہانی پاکستان کے بغیر ادھوری ہے دنیا چاند پر پہنچ گئی ٹیکنالوجی بدل گئی لیکن انڈیا کی پرانی عادت نہیں بدلی ان کا سورج پاکستان کو برا بھلا کہہ کر نکلتا ہے اور پاکستان کی مخالفت کر کے ڈوبتا ہے ہر گلوبل مسئلے میں پاکستان کا نام گھسیٹنا اور اپنی ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالنا اب بھارت کی پہچان بن چکا ہے اس ذہنیت کی تازہ ترین مثال وائٹ ہاؤس کی پریس بریفنگ میں دیکھی گئی جب دنیا یو ایس ایران کشیدگی پر نظریں جمائے بیٹھی تھی اور دنیا بھر کے جرنلسٹ اس پر بات کر رہے تھے توب اچانک وہاں موجود ایک انڈین اوریجن جرنلسٹ نے ایسا سوال اٹھایا جسے کوئی جواب نہیں تھا Pakistan is a neighbor of Iran and Pakistan is also an ally of US. has been praising a lot about Field Marshal is Pakistan providing any kind of support in this war against Iran. I will have to check out with the Pentagon and get back to you. یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت اس طرح ہر ان ریلیونٹ گلوبل مسئلے میں پاکستان کا نام گھسیٹ کر اپنا ایجنڈا پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے ڈپلومیسی کے اعلی ترین فورم یو این سیکیورٹی کونسل میں بھی بھارت کا یہی رویہ برقرار رہا کل یو این سیکیورٹی کونسل میں جب دنیا افغانستان کی بات کر رہی تھی تو وہاں بھی بھارت اپنی عادت سے مجبور دکھائی دیا اور انڈین ڈپلومیٹ نے ایک بار پھر ان گراؤنڈ حقائق کو مسخ کرتے ہوئے پاکستان پر الزام تراشی کی بجائے اس کے کہ علاقائی امن پر بات کی جاتی بھارت نے ایک بار پھر جھوٹے پروپیگنڈا کا سہارا لے کر دنیا کی توجہ اصلی مسائل سے ہٹانے کی ناکام کوشش کی جب بھارت کا سفارتی اور سیاسی میدان میں پاکستان مخالف بیانیہ نہیں چلتا تو بھارت بالی وڈ کا سہارا لیتا ہے اسی پروپیگنڈے کے تحت فلمز بنائی جاتی ہیں جیسے ریسنٹلی دھرندر یہ فلم ایک ایسی گینگ وار پر مبنی تھی جس کا بھارت کی سرزمین سے کوئی لینا دینا نہیں تھا کراچی گینگ وار کے بارے میں ہے جس میں خود ہی اعتراف کرتے ہیں کہ انڈین سپائز پاکستان میں تخریب کاری کر رہے ہیں ہٹ ہوئی تو فورا دھرمندر ٹو بنانے کا اعلان کر دیا اب بالی وڈ کے پاس نفرت اور پروپیگنڈا کے علاوہ کچھ نہیں بچا بلیم سے لے کر بالی وڈ تک بھارت کی ہر کہانی پاکستان کے گرد کیوں گھومتی ہے اخر کب تک بھارت اپنی ناکامیوں کو پاکستان کے نام پر بیچتا رہے گا گیٹ اوور پاکستان پلیز اج کے لیے اتنا ہی اب اگلے ہفتے ملاقات ہوگی تھینک یو فار واچنگ خدا حافظ



