[0:08]الحمد لله رب العالمين والصلاه والسلام على النبي الامين اما بعد۔ آج ہم انشاءاللہ بات کریں گے طالب العلم والاعتناء بالسنۃ والحدیث کہ طالب علم سنت اور حدیث کے متعلق کیسے اپنا رویہ اختیار کرے اور کیسے وہ علوم اور فنون کی گہرائیوں میں جائے یہاں تک کہ اس کی طرف اشارہ کرنے لگے علماء کہ یہ ہے وہ محدث عصر شیخ الحدیث جن سے حدیث اور سنت کے بارے میں سوال کرنا چاہیے۔ کیونکہ طالب علم وہی حقیقی طالب علم ہوتا ہے جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلق بڑا مضبوط اور گہرا ہو۔ ورنہ وہ طالب علم ہی کیا جس کو حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے شغف نہ ہو اور نہ اس کا کوئی شوق ہو۔ یہ ناقابل تصور ہے کہ ایک طالب علم ایسا بھی پایا جاتا ہے جو حدیث اور حدیث کے علوم سے خالی ہو۔ حالانکہ باقی فنون اور باقی علوم میں وہ ماہر ہو۔ یہ تصور ناقابل تصور ہے۔ اس کے بعد شیخ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت گزاری اللہ تعالی نے قرآن میں کئی بار یعنی تقریبا 30 سال 30 بار سے زیادہ اللہ تعالی نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ طالب یعنی مسلمانوں کو اللہ کے رسول کی اطاعت کرنی چاہیے۔ اور اسی طرح امام ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی نونیہ میں کہا ہے العلم قال الله قال رسول علم کیا ہے؟ علم یہ ہے اللہ تعالی کا قول اللہ کے رسول کا قول۔ قال الصحابہ العلم ما قال الصحابہ اول العرفان العلم کا نصب الخلاف سفاہہ بین الرسول و بین فلان اللہ اکبر یعنی صحابہ نے یہی کہا ہے کہ علم قال اللہ قال رسول ہے اور علمی موشگافیوں میں پڑھنا اور علمی اختلافات کا ظاہر کرنا یہ علم نہیں ہے بلکہ یہ سفاہت ہے یہ بے وقوفانہ حرکت ہے کہ قال اللہ قال رسول کے کہنے کے بجائے اپ قال فلان قال علان کرتے رہیں۔ اسی لیے شیخ یہ بھی فرماتے ہیں کہ کہیں بھی اختلاف ہو تو اپ نے سنت کی طرف رجوع کرنا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال سے رجوع کرنا ہے۔ اسی لیے اپ دیکھتے ہیں کہ سلف صالح اپنے علم کی شروعات میں بھی اور انتہا میں بھی وہ علوم الحدیث اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول پڑھتے تھے یاد کرتے تھے سناتے تھے اور اس کے اوپر فخر کرتے تھے۔ اور اسی لیے فقہا اور محدثین نے شروع شروع میں اس کے اوپر تصنیف اور تدوین کا اہتمام کیا اور اسی طرح صحیح بخاری صحیح مسلم موطا مالک ابن ماجہ سنن ابن ابی داؤد اور اسی طرح مسند یعنی سنن الترمذی وغیروہ من کتب السنن اسی طرح بہت سارے جو کتب ہے اسی طرح جو سب سے بڑا جو سب سے بڑی جو کتاب ہے حدیث میں وہ مسند امام احمد ابن حنبل جو اج کل 50 جلدوں میں اتی ہے اور اس میں بہت ساری احادیث موجود ہے۔ تو یہ جو کتب ستہ ہے امام احمد کے مسند کے ساتھ اور موطا امام مالک کے ساتھ ان سب کا علماء اہتمام کرتے ائے ہیں۔ اسی لیے اپ دیکھتے ہیں ان کتب کی بہت ساری شروحات ہیں اور بہت سارے یعنی توضیحات اور فقہ الحدیث اپ دیکھیں گے۔ اب ہم اتے ہیں اس طرف یعنی ہم پوچھیں گے کہ علم الحدیث کے کتنے قسم ہیں۔ یعنی واٹ ار دا ٹائپس اف سائنسز اف حدیث دیر ار ٹو ٹائپس اف سائنسز اف حدیث دو ٹائپ ہے یعنی سائنسز اف حدیث کے علوم الحدیث کے ایک ہے علم روایا اور ایک ہے علم درایہ۔ علم روایا کیا ہے؟ وہ نقل الحدیث یعنی سند کے طور پر ایک راوی ایک محدث سے سنتا ہے وہ محدث دوسرے سے پھر تابعین پھر صحابہ پھر اس طرح وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاتے ہیں۔ تو اسی لیے روایت میں اس چیز کا اہتمام کیا جاتا ہے کہ انسان یہ دیکھے کہ کیا راوی نے اس سے بات سنی یا نہیں سنی۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت موجود ہے کہ نظ اللہ امرا سمعتہ فعہ فادہ کما سمعہ فرب مبلغ اوعامی سامعی۔ اللہ تعالی اس کے چہرے کو نور سے منور کر دے جو اللہ کے کلام کو سن کر اگے پہنچائے۔ کتنی خوبصورت بات ہے۔ اللہ کے نبی کی طرف سے اپ کو دعا دی جا رہی ہے۔ کیا اللہ کے نبی کے دعا سے کوئی بڑی دعا ہو سکتی ہے اللہ اکبر۔ تو جو حدیث کا کام کرنے والے وہ ایسے للو پنجو چھوٹو لوگ نہیں ہے بلکہ بڑے بڑے کبار علماء محدثین اسی حدیث کی بنیاد پر انہوں نے اپنی پوری زندگی حدیث میں کھپا دی ختم کر دی فنا کر دی اور عالم الحدیث میں اور علم الحدیث کے وہ مایا ناز ستارے بن گئے۔ اللہ اکبر۔ اسی لیے یعنی ایک انداز میں علماء کہتے ہیں کہ ادھر مراد جنت ہے کہ یا اللہ ان لوگوں کو جنت عطا کر دے جو میرا کلام ہر صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام اگے پہنچاتے ہیں۔ اور سب سے زیادہ شیخ صالح ال شیخ فرماتے ہیں واظم من جاہد فی العلم فی الحقیقتہ اہل الحدیث بروایتی اور سب سے زیادہ جنہوں نے اس علم میں اس فن میں مجاہدہ اور جہاد عظیم اور کوشش اور کاوشیں کی ہیں وہ کون ہیں حقیقت میں وہ اہل الحدیث ہے کہ انہوں نے اس کی روایت کی۔
[5:36]وہ یعنی بہت سارے یعنی ایک شہر سے دوسرے شہر میں بڑے بڑے براعظموں میں وہ رحلت اور سفر کرتے اسی طرح مثلا صحابہ کرام میں سے ایک صحابی مدینہ سے یعنی مصر سے مدینہ تشریف لے گئے کس لیے ایک حدیث کے لیے۔ بغداد سے کوفہ گئے شام سے مصر گئے ایک حدیث کے لیے یعنی جیسے کہ ایک صحابی ہیں عقبہ بن عامر وہ یعنی مصر سے ایک حدیث من ستر مسلم ستر اللہ یوم القیام جو کسی مومن کے اوپر ستر رکھتا ہے اللہ تعالی اس کے اوپر ستر رکھتا ہے قیامت کے دن۔ تو وہ صحابی مصر سے مدینہ تشریف لے گئے۔ اپ ذرا سوچیے۔ اور یہ روایت باقی اور ہمارے ہاں ہمارے تک پہنچی۔ اسی لیے محدثین نے اس کا بڑا اہتمام کیا اور یہ گولڈن ایرا اف حدیث یعنی وہ جس کو ہم بولتے ہیں عصر الذہبی گولڈن ایرا اف حدیث جس میں یعنی جو جو حدیث کے طالبان اور طلب علم کرنے والے تھے انہوں نے کس طرح حفاظت کی ایک ایک راوی ایک ایک شخص کی بائیوگرافی ہے یہ کہاں پیدا ہوا کہاں اس نے کھانا کھایا اس کے اساتذہ کون ہیں اس کے شاگرد کون ہیں یہ صداقت میں کیسا ہے یہ جھوٹ بولتا ہے اس کا حفظ کیسا ہے اس کا دماغ کیسا ہے اس نے کون سا کھانا کھایا یہ سارا کچھ وہ جمع کرتے ہیں۔ یہ کب فوت ہوا کیا مرتے وقت اس کا ذہن صحیح تھا نہیں تھا کہیں اس نے روایت میں غلطی تو نہیں کی۔ یہ بہت باریک بینی بہت مشقت سے بھرپور ایک طریقہ کار تھا جس سے ہم تک یہ حدیث پہنچی۔ جس کا ہمیں پتہ نہیں جس کی ہمیں قدر نہیں کہ یہ حدیث کس طرح روایت کی گئی۔ اسی لیے اگے جا کر محدثین نے روایت کرنی شروع کی اور لوگوں کو اجازت دینی شروع کی۔ اچھا جی شیخ فرماتے ہیں کہ احوال طالب العلم مع الروایہ جو روایت کرنے والے ہیں ان کے متعلق طالب علم کا کیا اہتمام ہونا چاہیے تو شیخ فرماتے ہیں کہ طالب علم کو پتہ ہونا چاہیے کہ کیفیت الروایت بالتلقی کیف ینقل الحدیث و سیغ تحدیث کہ حدیث کیسے منتقل ہوئی۔ اس کو منتقل کرنے کی کیا صیغے ہیں کیسے بیان کیا جاتا ہے؟ کیسے محدث اپنی حدیث کو بیان کرتا ہے کیسے کتابیں لکھی گئی کیسے روایات مختلف ہیں کیسے یہ روایت ہم تک پہنچی زیادہ اور نقصان کے ساتھ کیسے یہ اجازت کیا ہوتے ہیں روسو مثلا امام بخاری کون ہے امام مسلم کون ہے ابو داؤد کون ہے مسند کون ہے مسند کا مصنف کون ہے مصنف مسند کون سی کتاب ہے۔ اس طرح تو ایک طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ اگر وہ چاہتا ہے کہ اس علم میں اس فن میں تمکن حاصل کرے تو وہ ان چیزوں کو جانے۔ یہ بہت ضروری ہے۔ ا ا ا اسی لیے شیخ فرماتے ہیں کہ بعض اج کل لوگ علم علم حدیث کا خاص خیال نہیں رکھتے لیکن وہ زیادہ تر نہ حفظ کرتے ہیں بلکہ زیادہ یہ ہوتا ہے کہ اجازات ہاں ایک بلت سے دوسرے بلت میں جاتے ہیں اور اجازہ اجازہ حاصل کرتے ہیں۔ بولتے ہیں ہذا صار فی قصور فی المقصود من الروایہ وہ حفظ السنہ الا یہ ان یکون المقصود من الروایۃ التکاثر کما حصل فی الاعاصر المتاخرہ بولتے ہیں سند اور اجازت سے مقصد یہ تھا کہ حفظ
[9:11]احادیث کی حفاظت کی جائے لیکن ابھی کیا ہو گیا ایک تصویر ایک رسمی جسٹ ا ببر ببل یعنی اپ نے ایا اجازت دے دی یہ لو جی میں اجازت دے رہا ہوں حدیث میں اجازت دے رہا ہوں تمہاری نسبت میں نے صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دی بس ایسے ہی نہ اس بندے کا پتہ ہے نہ اس نے حدیث پڑھی نہ اس نے سنایا بس ایک جیسے کہ اج کل ہمارے یونیورسٹیز میں کیا ہے سرٹیفیکیٹ۔ بندے کو کھک نہیں پتا لیکن سرٹیفیکیٹ ہے۔ اسی طرح اج کل بعض طلب علم اس کو وہ حدیث پڑھنی نہیں اتی جس میں اس نے سرٹیفیکیٹ لی ہوئی جس میں اس نے اجازہ لی ہوئی ہے۔ اجازہ کیا ہوتی ہے یہ ہمارے ٹریڈیشنل طریقہ ہے۔ ایک روایتی طریقہ ہے پرانے زمانے میں محدثین جب کسی کو حدیث سناتے سمجھاتے پڑھاتے اس کے بعد اس کو اجازہ عنایت کرتے لیکن اج کل بالکل اس کو ایک رسمی شکل دے دی گئی ہے اور ہر کوئی نعوذ باللہ یعنی روایت حدیث لیتا ہے اور اس کے پاس یعنی مبالغہ اور اس میں یعنی غلو کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اسانیر اس کے پاس تو بڑے ہوتے لیکن وہ استقامت والا نہیں وہ من اہل الاستقامت اصلا وہ من عندہ اجازات عالیہ واسانید فی بعض الامصار و اہل الاستقامت یعنی کچھ ایسے لوگ ہیں جن کے پاس بڑے بڑے اسانید بڑے بڑے اجازت بڑے محدث لیکن وہ دین کے اوپر پابند ہی نہیں دین کے اوپر چلتے نہیں ہیں عمل نہیں کرتے تقوی للہیت والے نہیں ہیں۔ بس میرے پاس اجازہ ہے بڑی اپ نے تیر مار لی بھئی جان اجازہ ہے۔ ہاں اجازہ ہے اور بڑے گناہ کرتا ہے حلیق نہیہ بالکل کلین شیف اور کوئی اداب العلم نظر ہی نہیں اتے۔ یہ کیسے ایک بندہ اس کو یعنی حدیث کا ماہر سمجھے اسی لیے اج کل صرف اجازہ ہونا کافی نہیں ہے۔ اندر کوئی مغز ہونا چاہیے۔ اسی طرح شیخ فرماتے ہیں۔ ا یعنی اس کے اوپر اور بھی شیخ نے بڑی باتیں کی ہے ماشاءاللہ ا کہ روایات کے متعلق اور اسی طرح یعنی ا شیخ فرماتے ہیں کہ اج کل یعنی بعض جو محدثین یعنی بعض جو محققین ہیں وہ اس میں کمی بیشی کرتے ہیں کہ حدیث کی کئی روایتیں ہوتی ہیں۔ وہ اس کو ایک سمجھ کے پیش کرنے لگتے ہیں۔ اچھا جی دوسری قسم کے پاس اتے ہیں حدیث کی وہ ہے علم الدرایہ۔ علم الدرایہ کیا ہے؟ شیخ فرماتے ہیں هذا التقسیم للمتاخرین ان علم الحدیث ینقسم الى روایہ ودرایۃ۔ کہ یہ تقسیم متاخرین کی ہے۔ کہ وہ متاخرین مطلب بعد میں انے والا اج کل کے لوگ بعد میں انے والے لوگوں کی۔ کہ وہ روایت کو درایت اور روایت میں فرق کرتے ہیں حدیث کو۔ روایت کا میں نے اپ کو بتا دیا سند وغیرہ۔ درایت کس کو بولتے ہیں اس کے متعلق شیخ فرماتے ہیں و الدرایہ انما ہی الدرایۃ بالمتن لا بال سند یعنی بفقہ الحدیث و ما یحملہ من العلم۔ درایہ سے دوسرا معنی یہ ہے کہ اس حدیث کے معانی اس متن کے انڈرسٹینڈنگ اس کا مفہوم اس کا فہم کیا ہے۔
[12:20]تو شیخ فرماتے ہیں کہ ظاہر ہے ہمیں زیادہ یہی لگتا ہے کہ اس میں دونوں معنی ہے دونوں معنی یعنی روایت الدرایہ میں یعنی حدیث صحیح ہے ضعیف ہے اس کا پتہ ہونا اور اس کے متن میں معنی کیا ہے یہ سارا بھی جان لینا یہ روایت اور درایت ہے۔ اچھا جی اگے شیخ نے ایک اور بات پیش کی ہے کہ الکلام علی رجال الحدیث الکلام علی رجال الحدیث معرفت رجال الحدیث جز علم الدرایت الرواة۔ حدیث کے رجال کون ہوتے ہیں وہ لوگ جنہوں نے حدیث کو روایت کیا امام شعبہ امام زہری سلیمان ابن مہران اعمش شعبہ حجاج شعبہ ہاں اور مثلا سفیان الثوری سفیان ابن عین یہ سارے کون ہیں۔ من ہول رجال الحدیث یہ حدیث کو روایت کرنے والے لوگ کون ہیں یہ اس کو بولتے ہیں رجال الحدیث ٹھیک ہے ان کے بارے میں جاننا مثال کے طور پر ایک طالب علم ہے۔ مثال کے طور پر سیف اللہ ٹھیک ہے انہوں نے ایک شیخ شیخ سنا اللہ ان سے حدیث سنتے ہیں روزانہ جا کے علم حاصل کرتے ہیں لیکن ایک دن سیف اللہ صاحب نہیں گئے تو اس دن جو شیخ نے روایت کی ہے بعد میں ا کر اگر سیف اللہ صاحب وہ روایت کریں تو لوگ پکڑ لیں گے کہ دیکھو یار یہ تو وہ دن ہے جس دن سیف اللہ ایا نہیں تھا اور یہ اج بول رہے ہیں مجھے شیخ نے بتایا حالانکہ شیخ نے نہیں بتایا سیف اللہ نے کہاں سے لیا اپنے ساتھیوں سے اپنے ساتھیوں سے لے کے کہا کہ شیخ نے مجھے بتایا تو یہ کیا ہو گیا یہ پرابلمیٹک ہو گیا اس کو بولتے ہیں تدلیس دلس دل تدلیس اس کے بارے میں اگے بات ائے گی۔ تو اتنی دقت ہوتی ہے اتنی باریک بینی ہوتی ہے حدیث کے علم کو روایت کرنے میں اور ان کے جو رجال ہیں ان کے جو بندے ہیں جو راوی احادیث ہیں ان کو جانچنے اور پرکھنے میں۔ ایسے ہی نہیں کہ ہم بولتے ہیں حدیث ضعیف حدیث صحیح ایسے ہی نہیں کہتے ہر بندے کو ہم جانچتے ہیں پھر جا کے اپ اس نتیجے میں پہنچتے ہیں اسی لیے شیخ فرماتے ہیں اما علم الحدیث فی معرفت الرجال فی علم طویل صعب۔ علم الرجال کا جو علم ہے حدیث میں یہ بہت لمبا طویل علم ہے اور بڑا مشکل ہے ہر کوئی اس میں مہارت نہیں حاصل کرتا اس میں بندے کی عمر کھب جاتی ہے پھر جا کے اس کو کچھ چیزیں پتہ چلتی ہیں۔ صرف اس رجال الحدیث کی ایک کتاب اپ لے لیں 40 40 50 جلدوں میں اور اس میں کم از کم 10 ہزار 20 ہزار لوگوں کی بائیوگرافی ہوتی ہے۔ کہ یہ کہاں پیدا ہوا کہاں اس کے اساتذہ کون ہیں۔ حتی کہ اپ ذرا سوچے نا یہ تک دیکھا جاتا ہے۔ کہ اس راوی نے ہاں یعنی اس کا چال چلن کیسا تھا کیا اس نے کسی دن یعنی شوخیاں ماری کوئی ایسا غیر مناسب مذاق اور جوک مارا یہ تک دیکھا جاتا ہے۔ اللہ اکبر کیوں؟ کیونکہ وہ بندہ اللہ کے نبی کا کلام نقل کرتا ہے۔ تو اس میں بہت زیادہ احتیاطات مثال کے طور پر اس میں کئی کتابیں ہیں مثال کے طور پر تہذیب الکمال فی علم رجال فی اسماء فی علم رجال تہذیب التہذیب تاریخ الکبیر الجرح و التعلیل الضعفا لل عقیلی الکامل ابن علی اسی طرح 20 کتابیں ہیں واللہ رجال کی۔ ٹھیک ہے اس لیے ہر کوئی اس میں ماہر نہیں ہو سکتا۔ ٹھیک ہے جی اچھا جی ا ا ا اگے ہم چلتے ہیں اگے شیخ فرماتے ہیں کہ بندے کو چاہیے کہ وہ مشاہیر اور مشہور جو لوگ ہیں ان کے اوپر کام کرے اور جو مشہور محدثین اور رواۃ ہیں۔ ان کے متعلق دیکھیں شیخ فرماتے ہیں کہ طبقات الروات السلاث طبقات الروات السلاث رواۃ کے تین قسم ہیں۔ نمبر ون منہم المتشدد ایک سخت الذی یقدح و یطون فی الراوی جو راوی میں سختی کرتا ہے۔ تھوڑی سی بھی الغلط چھوٹی سی غلطی پر بھی وہ پکڑتا ہے۔ منہم المتساہل دوسرا جو متساہل ہے جو اسان وہ جو ثقہ نہیں ہے اس کو بھی ثقہ کہہ دیتا ہے۔ یا بغیر کسی صحیح طریقے سے صبر اور تحقیق اور وہ کرنے بجائے وہ چھوڑ دیتا ہے۔ تو کیا کرتا ہے پھر وہ یثک المجاہل جو مجہول لوگ ہیں ان لوگوں کو بولتے ہیں ثقہ۔ تیسرا منہم المتوسط المعتدل الذی یاخذ بالنظرة الشمولیت للراوی و یصبر احادیثہ و لا یکتفی بالقلیل متوسط معتدل کون ہے؟ جو ایک بندے کے متعلق نظرہ شمولیہ رکھتا ہے شامل کامل ہر جانب سے دیکھتا ہے۔ اور اس کے احادیث کو جانچتا ہے پڑتال ہاں اور چھوٹی سی بات پر اکتفا نہیں کرتا اور یہ بات کس نے ذکر کی ہے؟ سقاوی نے اپنی جز میں اس لیے بہت ضروری ہے کہ اپ جانے وہ بندہ وہ عالم دین کدھر سے ہے اور اس کس کس کنٹری سے ہے ٹھیک ہے جی۔ اچھا جی ا یعنی شیخ فرماتے ہیں اذا مسالت اقوال ائمة الجرح و تعدیل والقول الذی یاخذ به و ما لا یاخذ به هذه مسئلۃ عظمی تحتاج الى نظر من ائمة واهل العلم بالحدیث و لیس کل احد يستطيع ذلك۔ بولتے یہ جو مسئلہ ہے کہ اقوال الجرح والتعدیل ائمہ جرح وتعدیل کا جو قول ہے اس میں سے کون سا قول لیا جائے گا کون سا قول نہیں لیا جائے گا یہ ایک بڑا مسئلہ ہے بڑا دقیق مسئلہ ہے بڑی گہرائی اس میں طلب ہے اور اس میں وہی لوگ کام کر سکتے ہیں جو علم الحدیث کے ماہرین ہیں۔ لیکن اج کل بولتے ہیں شیخ لیکن طالب علم فی ایامنا هذه یفک ائیے عرف طبقات الجرح والتعدیل لیکن اج کل طالب علم کے لیے کافی ہے کہ وہ جان لے کہ ائمہ الجرح والتعدیل کے طبقات کیا ہے۔ وہ کس کنٹری سے ہیں اور ان میں سے کون سا متشدد ہے اور کون سا متوسط ہے متساحل ہے یہ سارا جان لینا یہ کب ہوگا اگر وہ ائمہ دین کی کتابیں پڑھے گا۔ تو اللہ تعالی ہمیں ان باتوں پر غور و فکر کرنے کی توفیق دے۔ انشاءاللہ ہم اگلی مجلس میں اور باتیں کریں گے فی الحال ہم اس سے اکتفا کرتے ہیں۔ اگلی مجلس میں ہم بات کریں گے صحیح حدیث کیا ہے ضعیف حدیث کے متعلق فقہ الحدیث کے تین اقسام کے بارے میں اسی طرح بعض کتب کا تعارف پیش کریں گے اللہ تعالی ہمیں ان باتوں پر غور و فکر اور عمل کی توفیق دے اور ہمیں اپنی علم میں ترقی اور مہارت عطا کرے۔ واخر دعوانا عن الحمد لله رب العالمين وصلى الله وسلم على نبينا محمد والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته



