[0:00]بسم اللہ الرحمن الرحیم میرا نام سید وقار ہے۔ آج جو ہمارا ٹاپک آف ڈسکشن ہے وہ ہے کانسٹیٹیوشنل پیکج جسے ہم 26 امینڈمنٹ کہتے ہیں۔ تو آئیں مل کر اس کے بارے میں لرن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فرسٹ آف آل 26 امینڈمنٹ ٹو دی کانسٹیٹیوشن آف پاکستان۔ اس 26 امینڈمنٹ کو جو ہے نا بیسیکلی ہم کیا کہتے ہیں؟ کانسٹیٹیوشنل پیکج کہتے ہیں۔ اب اس 26 امینڈمنٹ میں کیا کیا گیا ہے؟ پہلے تو جو ہے نا بیسیکلی ا ہم یہ ڈسکس کر لیتے ہیں کہ کون سی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ کانسٹیٹیوشنل امینڈمنٹ 26 کے اندر خاص طور پہ عدلیہ کی جو پارز تھیں ان کے حوالے سے جو ہے نا قانون کے اندر تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ جیسے مثال کے طور پر چیف جسٹس کا ٹینیور تین سال مقرر کر دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس کی اپوائنٹمنٹ کے لیے تین نام دے گی پارلیمنٹری کمیٹی۔ اس سے پہلے سینیئر جج کو لگایا جاتا تھا۔ تو اس سارے پراسس کو سمجھنے سے پہلے عدلیہ کی کسی بھی ملک کے اندر کیا اہمیت ہے اس چیز کو جو ہے نا ہم سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
[1:10]بیسیکلی ڈان کے اندر نا ایک آرٹیکل چھپا۔ ظہور حسین صاحب نے نا ایک تصویر لگائی۔ اس تصویر کے اندر ایک ریاست دکھائی گئی اور اس ریاست کے جو ہے نا بیسیکلی تین پلر دکھائے گئے۔ پارلیمنٹ ایگزیکٹیو اور جوڈیشری اس جوڈیشری میں یہاں پر جوڈیشری کے اندر ایک گیپ پروڈیوس کر دیا اور اس نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ یہ گیپ جو ہے 26 امینڈمنٹ کی وجہ سے ہے۔ پہلے تو ہم اس تصویر کو سمجھتے ہیں کہ پولیٹیکس کے اندر اس کی کیا اہمیت ہے۔ بیسیکلی ہر ریاست کے اندر ایک کنسیپٹ چلتا ہے سپریشن آف پار کا۔ یہ سپریشن آف پار کا کنسیپٹ دیا تھا مونٹیسکیو نے۔ 1748 اس کی ایک بک ہے اسپرٹ آف لاز اس کے اندر اور اسی سپریشن آف پار پہ جس ملک کا کانسٹیٹیوشن بنایا گیا وہ یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ ہے۔ اب یہ بیسیکلی سپریشن آف پار ہے کیا؟ کسی بھی ریاست کے کسی بھی اسٹیٹ کے تین آرگن ہوتے ہیں تین پلر ہوتے ہیں پارلیمنٹ، ایگزیکٹیو اور جوڈیشری۔ ان تینوں کا ہمسر برابر ایکول پاور فل ہونا ضروری ہے اور ملک کے اندر چیک اینڈ بیلنس کا بھی نظام ہو۔ اب یہ جو جوڈیشری ہے ہر ملک کے اندر اس کو انڈیپینڈنٹ رکھا جاتا ہے۔ کہ یہ انڈیپینڈنٹلی کام کریں۔ مثال کے طور پر جو ججز ہوتے ہیں ان کی اپوائنٹمنٹ کو نا ایگزیکٹیو چھیڑ سکتا ہے نا پارلیمنٹ چھیڑ سکتی ہے۔ ان کی جو تنخواہیں ہیں وہ زیادہ رکھی جاتی ہیں ان کے ٹینیور زیادہ رکھے جاتے ہیں تاکہ ایگزیکٹیو یا پارلیمنٹ اپنا اثر و رسوخ جوڈیشری کے اوپر نہ ڈال سکے۔ لیکن پاکستان کے اندر 26 امینڈمنٹ کا جو پراسس ہے وہ جو ہے نا بیسیکلی اب ایگزیکٹیو کنٹرول کرے گی کیوں؟ ابھی ہم آگے چل کر پڑھیں گے بھی کہ ایگزیکٹیو جو ہے نا اپوائنٹ کرے گی نام بھیجے گی چیف جسٹس آف پاکستان یعنی کہ سپریم کورٹ کا جو چیف جج ہوگا۔ اس کا نام جو ہے نا پرائم منسٹر بھیجے گا اور پریزیڈنٹ اس کی سمری پر کیا کرے گا سائن کرے گا اور تین لوگوں میں چنا جائے گا۔
[3:19]تو یہاں پر بیسیکلی یہ بیلنس آف پار یہ سپریشن آف پار کا کنسیپٹ کیا ہوتا ہے بیسیکلی ڈسٹرب ہوتا ہے۔ میں نے آپ کو بتایا کہ کسی بھی ریاست کے تین پلر ہیں تین پلر کا سیپریٹ ہونا اور ایکول پاور فل ہونا ضروری ہے۔ پرانے وقتوں کے اندر جب بادشاہ حکومت کرتا تھا تو بادشاہ ایک ہی بندہ ہوتا تھا وہ قانون بھی خود بناتا تھا پارلیمنٹ قانون بناتی ہے۔ وہ ایگزیکٹیو بھی خود ہوتا تھا وہ قانون کو لاگو بھی خود کرتا تھا عدلیہ یعنی کہ فیصلے بھی وہ خود کرتا تھا۔ تو جان ایکٹن کہتے ہیں کہ ایبسیلیوٹ پارز کرپٹ ایبسیلیوٹلی اگر ساری طاقتیں ایک بندے کے پاس آجائیں تو وہ جو ہے نا کیا ہو جاتا ہے کرپٹ ہو جاتا ہے وہ لوگوں کی آزادی کو کمپرومائز کرے گا لبرٹی کو کمپرومائز کرے گا فنڈامینٹل رائٹس کو کمپرومائز کرے گا۔ اس وجہ سے سپریشن آف پار کا کنسیپٹ دیا تھا مونٹیسکیو نے کہ ساری طاقتیں ایک بندے کے پاس جمع نہ ہوں۔ اب پاکستان کی 26 امینڈمنٹ میں کیا یہ طاقتیں ایگزیکٹیو کے پاس یا پارلیمنٹ کے پاس جمع ہوئی ہیں یا نہیں ہوئی آئیں ان کو چل کر دیکھتے ہیں۔ نیکسٹ سلائیڈ پہ چلتے ہیں یہ تو میں نے تھوڑا سا سپریشن آف پار کا کنسیپٹ سمجھایا آپ کو۔
[4:29]اس کے اندر ہے لیجسلیٹو پراسس اینڈ پولیٹیکل ڈائنامکس کے اندر کیا ہوا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ یہ بھی امینڈمنٹ ہے یہ ٹو تھرڈ میجورٹی سے پاس ہوئی۔ یہ جو 26 ویں ترمیم ہے یہ سینٹ اور اسمبلی میں سے سینٹ اور نیشنل اسمبلی میں سے ٹو تھرڈ امینڈمنٹس میجورٹی سے پاس ہوئی ہے۔ اور دوسری بات ہے کہ شروع میں اس کو مولانا فضل الرحمان۔ جو ہے نا بیسیکلی کیا کر رہے تھے؟ اپوز کر رہے تھے لیکن بعد میں وہ کیا کر گئے ہیں مان گئے ہیں۔ اب پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم یہ کرتے ہیں کہ یہ میجورٹی کیا ہوتی ہے۔
[5:07]میجورٹی تین قسم کی ہوتی ہے۔ ایک ہوتی ہے سمپل۔ ایک ہوتی ہے ایبسیلیوٹ۔ اور تھرڈ ہوتی ہے سپیشل۔ سمپل میجورٹی کا مطلب ہوتا ہے 50 پرسینٹ پلس ون 51 پرسینٹ نہیں کہا میں نے 50 پرسینٹ پلس ون ایبسیلیوٹ کا بھی مطلب ہوتا ہے 50 پرسینٹ پلس ون۔ اب یہ سمپل ہوتی ہے آف پریزنٹ ہوتی ہے موقعے پہ جتنے لوگ موجود ہیں ان میں سے سمپل یہ ہوتی ہے آف ٹوٹل جتنے ٹوٹل ممبرز ہوں گے۔ سپیشل میجورٹی ان سے زیادہ ہوتی ہے موسٹلی ہم سپیشل میجورٹی ٹو تھرڈ میجورٹی کو کہتے ہیں۔ اب اس میجورٹی سے کیا مراد ہے؟ میں ایک ایگزیمپل دے دیتا ہوں۔ ایک کلاس کے اندر 50 لوگ ہیں ان 50 لوگوں نے کسی چیز کا فیصلہ کرنا ہے۔ تو اگر موقعے پہ اس دن کلاس میں 30 لوگ آئے ہوئے تھے۔ تو اگر فیصلہ سمپل میجورٹی سے ہونا ہے تو 15 پلس ون 16 لوگ جس طرح فیصلہ کریں گے وہ بات مان لی جائے گی اسے ہم سمپل میجورٹی کا نام دیں گے۔ ایبسیلیوٹ میجورٹی اس میجورٹی کو کہتے ہیں آف ٹوٹل یعنی کہ موقعے پہ 30 لوگ موجود ہیں لیکن رائے 50 سے لی جائے گی۔ کہا جائے گا 20 باقی آئیں گے تو ایبسیلیوٹ میجورٹی میں کتنے لوگ ہونے چاہیے؟ 25 پلس ون 26 لوگ یعنی کہ ٹوٹل میں سے ہوگی تو ایبسیلیوٹ موقعے پہ جتنے لوگ موجود ہیں اس کو کیا کہتے ہیں بیسیکلی سمپل میجورٹی۔ اب آجائیں امینڈمنٹ کے اوپر کانسٹیٹیوشن کے اندر جب بھی تبدیلی کی جاتی ہے امینڈمنٹ تبدیلی کو کہتے ہیں۔ تو اس کے لیے ہمیشہ ہمیں سپیشل میجورٹی ٹو تھرڈ میجورٹی چاہیے ہوتی ہے۔ ٹو تھرڈ میجورٹی کا مطلب یہ ہے کہ اگر سے فار کہیں پر جو لوگ موجود ہیں ان کی تعداد 99 ہے تو اس میں سے ہمیں 66 لوگوں کا ووٹ چاہیے۔ کوئی بھی معاملہ کوئی بھی مدہ جو ہے نا ہم نے سلجھانا ہے تو اس کو ہم کیا کہتے ہیں؟ سپیشل میجورٹی کہتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس نے کہا کہ جب بھی امینڈمنٹ ہوگی وہ ٹو تھرڈ میجورٹی سے ہوگی۔ ٹو تھرڈ میجورٹی کا مطلب سمپل میجورٹی ہے۔ جیسے ہم پرائم منسٹر اپنا الیکٹ کرتے ہیں تو وہ ہم کرتے ہیں ایبسیلیوٹ میجورٹی ٹوٹل میں سے۔ جیسے لاسٹ ٹائم ہماری جو نیشنل اسمبلی ہے اس میں 342 ممبرز ہیں تو پرائم منسٹر کو الیکٹ ہونے کے لیے اس کا ہاف 50 پرسینٹ 171 پلس ون ووٹ زیادہ چاہیے ہوتا ہے جیسے عمران خان کو 172 ووٹ چاہیے تھے تو وہ کیا بنتے؟ پرائم منسٹر بنتے۔ تو پرائم منسٹر ایبسیلیوٹ میجورٹی سے بنتے ہیں سپیشل میجورٹی سے امینڈمنٹس ہوتی ہیں اور سمپل میجورٹی سے جو ہے نا چھوٹے چھوٹے ایکٹس اور لاز بنائے جاتے ہیں۔ تو اس وجہ سے اس نے یہ ٹرم یوز کی کہ ہم کیا کریں گے ٹو تھرڈ میجورٹی کو یوز کریں گے جب بھی ہم کوئی امینڈمنٹ کریں گے تو جو 26 امینڈمنٹ ہوئی ہے اس میں بھی ٹو تھرڈ میجورٹی ہوگی۔ اچھا اس کے بعد ہم نیکسٹ دیکھتے ہیں۔ نیکسٹ ہے ہمارے پاس 26 امینڈمنٹ۔ ہوا کیا کیا ہے 26 امینڈمنٹ میں؟ کس دن پاس ہوئی؟ کیا کیا پروسیجر اپنائے گئے اور فردر اس میں کیا تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے۔ کہ وہ کہتا ہے کہ اس کے اندر جو ڈرافٹ ہے۔ وہ انکلیوڈز 11 پیجز اینڈ 26 امینڈمنٹس۔ کہ سپیشل پارلیمنٹری کمیٹی پارلیمنٹری کمیٹی سے مطلب یہ ہے کہ جو ہمارا پارلیمنٹ ہوتی ہے جس کو ہم نیشنل اسمبلی اور سینٹ دو ہاؤس ہیں ہماری۔ جو ہے نا پارلیمنٹ کے یہ دونوں مل کر ایک کمیٹی بناتے ہیں جس نے ساری امینڈمنٹ کے پروسیجر کو دیکھنا ہوتا ہے۔ اس کمیٹی کو سپیشل پارلیمنٹری کمیٹی کہا جاتا ہے۔ اس نے جو ڈرافٹ دیا اس کے اندر 11 پیج تھے اور 26 ویں یہ امینڈمنٹ تھی۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ڈرافٹ کیا ہوتا ہے؟ ڈرافٹ جو ہے نا بعد میں بل بنتا ہے بل جو ہے نا وہ بیسیکلی ہمارے پاس ایکٹ بنتا ہے۔ ایکٹ جو ہے وہ ہمارے پاس کیا بنتا ہے؟ لا بنتا ہے۔
[9:47]میں نے کہا کانسٹیٹیوشن بناتے ہوئے اس نے ایک ٹرم یوز کی کہ ڈرافٹ انکلیوڈز 11 پیجز تو آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ اس نے یہ ڈرافٹ کا لفظ کیوں یوز کیا؟ کیونکہ کسی بھی قانون کو لکھتے ہوئے کسی بھی امینڈمنٹ کو کرتے ہوئے کچھ انفارمیشن شروع میں رف ہوتی ہے۔ وہ سپیشل پارلیمنٹری کمیٹی کے پاس ہوتی ہے کمیٹی اس کے اوپر کام کر رہی ہوتی ہے اس کی کانٹ چھانٹ کرتی ہے اس کو جوڑتی ہے۔ جوڑنے کے بعد اس کو بل کی شکل دیتی ہے وہ بل پیش کر دیا جاتا ہے کس کے اندر مجلس شوریٰ کے اندر پارلیمنٹ کے اندر۔ وہ پارلیمنٹ اس کے اوپر بحث کرے گی مباحثے کرے گی کہ اس کے اندر یہ تبدیلیاں کرو یہ ہونی چاہیے تو تب تک وہ بل کہلائے گا جب تک وہ نیشنل اسمبلی سے پاس ہوتا ہے یا سینٹ سے پاس ہوتا ہے۔ پاس ہونے کے بعد جب سائن کر دے گا پریزیڈنٹ اس کے اوپر وہ ایکٹ بن جائے گا۔ جب وہ ملک میں امپلیمنٹ کیا جائے گا تو وہ ہمارے پاس کیا بنے گا لا بنے گا۔ اب وہی ڈرافٹ وہی بل۔ جب بل بنا تو سینٹ میں پاس ہوا۔ سینٹ کے اندر جو ہے نا یہ۔ 26 امینڈمنٹ والا بل جو ہے وہ 20 اکتوبر 2024 کو جو ہے نا کیا ہوا؟ پاس ہوا۔ اور جو ہے نا 65 ووٹ سے پاس ہوا۔ کیونکہ اس ٹائم ہمارے سینٹ کے ممبران کی تعداد 96 ہے اور ہمیں سپیشل میجورٹی اس کی پیچھے ہم بات کر چکے ہیں ٹو تھرڈ میجورٹی چاہیے تھی یعنی کہ 64 ووٹ چاہیے تھے تو 65 ووٹ ملے۔
[11:10]تو سینٹ میں سے یہ بل جو ہے نا وہ کیا ہو گیا؟ پاس ہو گیا۔ پاس ہونے کے بعد یہ بل جو ہے نا پارلیمنٹ کے پاس آیا سوری نیشنل اسمبلی کے پاس آیا۔ اب نیشنل اسمبلی نے 21 اکتوبر 2024 کو جو ہے نا اس کے اوپر ووٹنگ کی۔ آپ کو یہ بھی پتہ ہونا چاہیے 26 امینڈمنٹ میں انیشلی 56 آرٹیکلز کو چینج کرنے کی بات کی گئی تھی۔ لیکن اس کے اوپر ہمارے ملک کے اندر ہمارے پولیٹیشنز کے اندر رولا پڑ گیا انہوں نے کہا کہ ہم کچھ آرٹیکلز ایسے تھے جن کے اوپر تبدیلیاں کرنا نہیں چاہ رہے تھے پولیٹیشنز۔ تو ایٹ دی اینڈ ان کو کرٹیل کر دیا گیا۔ جب سینٹ سے پاس ہوا تو 22 آرٹیکلز میں تبدیلی ہوئی۔ جب وہ نیشنل اسمبلی سے پاس ہوا تو تب جو ہے نا آرٹیکلز جو ٹوٹل چینج ہوئے وہ 27 ہوئے۔ تو اس کا مطلب ہے 26 امینڈمنٹ کے اندر جو ٹوٹل آرٹیکلز چینج ہوئے ہیں پاکستان کے 1973 کے کانسٹیٹیوشن کے ان کی تعداد کتنی ہے؟ 27 ہے۔ کیونکہ سینٹ نے بعد میں کچھ سفارشات پیش کی تو پانچ آرٹیکلز کو دوبارہ سے جو ہے نا کنسیڈر کیا گیا اور 27 آرٹیکلز کو کیا کیا گیا؟ چینج نیشنل اسمبلی میں جب سینٹ میں پاس ہوا تو 22 تھے۔ اب نیشنل اسمبلی میں بھی بیسیکلی کیا چاہیے تھی ہمیں ٹو تھرڈ میجورٹی چاہیے تھی وہاں پر ہمیں ووٹ ریکوائر تھے 224 اور جو ووٹ ملے ہیں اس کو وہ ملے ہیں 225 نیشنل اسمبلی میں۔ 225 ووٹ لے کر یہ امینڈمنٹ وہاں سے بھی پاس ہو گئی اور اسی دن ہمارے پریزیڈنٹ نے اس بل کے اوپر سائن کیا آصف علی زرداری نے 21 اکتوبر 2024 کو اور وہ بل کس میں کنورٹ ہو گیا 26 امینڈمنٹ ایکٹ کے اندر کیا ہو گیا؟ چینج ہو گیا۔ تو اس کا مطلب یہ ہو گیا کہ آصف علی زرداری کے بعد سائن کرنے کے بعد سمری کے اوپر یہ 26 امینڈمنٹ جو ہے نا ہمارے پارلیمنٹ ہاؤسز سے پاس ہو جاتی ہے کیونکہ فائنل سمری کے اوپر سائن کون کرتا ہوتا ہے؟ پریزیڈنٹ کرتا ہوتا ہے۔ اس کے بعد نیکسٹ ہم دیکھتے ہیں۔ بھئی 26 پارلیمنٹری جو 26 امینڈمنٹ تھی۔ وہ بیسیکلی پاس تو ہو گئی اس کے اندر تبدیلیاں کیا کیا کی گئی ہیں 1973 کے کانسٹیٹیوشن کے اوپر کیونکہ اس کے اوپر بہت سارا رولا پڑا رہا۔ مولانا فضل الرحمان نہیں مانتے تھے وہ کہتے تھے کہ یہ جو ہے نا بیسیکلی ملک کی ساخت ڈیموکریسی کو خطرہ ہے اسے میں نہیں مانوں گا۔ پی ٹی آئی بھی اس کے خلاف تھی ایٹ دی اینڈ جو ہے نا مولانا فضل الرحمان مان جاتے ہیں اور یہ جو امینڈمنٹ ہے میں نے ابھی اپ کو پروسیجر بتایا ٹو تھرڈ میجورٹی سے سینٹ میں سے 65 ووٹس اور 225 ووٹس نیشنل اسمبلی سے لے کر یہ پاس ہو جاتی ہے اور اس میں 27 جو آرٹیکلز ہیں اس کے اوپر کیا کیا جاتا ہے؟ تبدیلی کی جاتی ہے۔ کچھ موٹے موٹے آرٹیکلز جو موٹی موٹی باتیں اس کے اندر چینج ہوئی ہیں ان کو جو ہے نا ہم کیا کر لیتے ہیں؟ ڈسکس کر لیتے ہیں۔ سب سے پہلے نا اس امینڈمنٹ کے اندر آرٹیکل 175 اے
[14:00]1973 کا کانسٹیٹیوشن کا آرٹیکل 175 اے ہے۔ اب اس کے اندر جو پہلی تبدیلی کی گئی وہ یہ کی گئی کہ چیف جسٹس آف پاکستان۔
[14:27]کہ اپوائنٹمنٹ کس طرح سے کی جائے گی۔
[14:32]سب سے پہلے انہوں نے یہ کہا۔ کہ جو سپریم کورٹ ہوگا وہاں سے جو تین سینیئر ججز ہوں گے۔
[14:46]ان کے نام نامینیٹ کیے جائیں گے۔ ایک پارلیمنٹری کمیٹی ہوگی۔ وہ پارلیمنٹری کمیٹی ان تین ناموں کو پرائم منسٹر کو بھیجے گی پرائم منسٹر وہ نام پریزیڈنٹ کو بھیجے گا ان میں سے ایک کا چن کے۔ وہ پریزیڈنٹ اس کے اوپر سائن کرے گا اور اگلا ہمارا جو چیف جسٹس ہے وہ کیا ہو جائے گا؟ نامینیٹ ہو جائے گا اپوائنٹ ہو جائے گا۔ اب یہ تبدیلی کی گئی تو اس سے پہلے کیا پروسیجر تھا؟ اس سے پہلے یہ پروسیجر ہوتا تھا کہ سپریم کورٹ کا جو سینیئر موسٹ جج ہوتا تھا۔ جج کہہ رہا ہوں یا جسٹس کہہ لیں وہ بیسیکلی اٹومیٹیکلی کیا بن جاتا تھا چیف جسٹس آف پاکستان بن جاتا تھا اور اس کے جتنی بھی ریٹائرمنٹ ایج میں سے ٹینیور پڑا ہوتا تھا وہ پورا کرتا تھا اس کی ریٹائرمنٹ ہو جاتی تھی۔ پھر سینیئر موسٹ جو ہے نا وہ کیا بن جاتا تھا اگلا چیف جسٹس بن جاتا تھا۔ لیکن اب ایک طرح کا کنٹرول کرنے کی کوشش کی گئی کہ جونیئر بندہ بھی چیف جسٹس بن سکتا ہے سپریم کورٹ کا کیونکہ وہ تین نام جو سینیئر ججز کے ہوں گے اس میں سے وہ رو کے اندر ہوں گے۔ جیسے میں اگر یحیی آفریدی کی بات کروں۔
[15:59]یہ ہمارے جو ہے نا کرنٹلی چیف جسٹس آف پاکستان ہیں ان کو سیم پروسیجر سے الیکٹ کیا گیا ہے۔ اگلی باری سینیئر جج منصور علی شاہ کی تھی۔ یا اس کے بعد منیب صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ تو منصور علی شاہ نے کیا بننا تھا چیف جسٹس بننا تھا۔ تو جب پارلیمنٹری کمیٹی نے تین نام دیے پی ایم کو تو پی ایم نے یحیی آفریدی کا نام جو ہے نا کیا کیا؟ ایڈاپٹ کیا اور پریزیڈنٹ کو بھیجا وہ یحیی آفریدی صاحب ہمارے کیا بن گئے؟ نئے چیف جسٹس بن گئے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ جو پی ایم ہے پرائم منسٹر آپ کو پتہ ہونا چاہیے پاکستان کے اندر ایگزیکٹیو کا ہیڈ ایگزیکٹیو کہتے ہیں وہ ادارہ جو قانون لاگو کرتا ہے اس کا جوڈیشری اور قانون بنانے سے لنک نہیں ہونا چاہیے۔ پارلیمنٹری میں خیر مکس ہوتا ہے لیجسلیچر سے ہی لوگ ایگزیکٹیو میں آ رہے ہوتے ہیں۔ ایگزیکٹیو کے لوگ جو پارلیمنٹری کو کنٹرول کرتے تھے۔ اب وہ جوڈیشری کو بھی کنٹرول کر رہا ہے کہ پرائم منسٹر ایگزیکٹیو کا ہیڈ ہوتا ہے ریل۔ وہ اب کیا کر رہا ہے؟ عدلیہ کے چیف جسٹس کو بھی کنٹرول کر رہا ہے۔ اسی وجہ سے اس کے اوپر زیادہ شور پڑا ہوا تھا۔ تو اس سے پہلے میکینزم سینیئر ججز بنتے تھے لیکن 175 کے ساتھ تین سینیئر ججز جو ہیں ان کے نام جو ہے پارلیمنٹری کمیٹی کو دیے جائیں گے۔ اچھا اب یہ پارلیمنٹری کمیٹی کیا ہے؟ پارلیمنٹری کمیٹی جو ہے نا بیسیکلی اس کے اندر ٹوٹل ممبرز ہوں گے 12۔ آٹھ ممبرز جو ہوں گے وہ نیشنل اسمبلی سے ہوں گے۔ اور اس کے علاوہ جو ہے نا فور ممبرز جو ہوں گے وہ سینٹ میں سے ہوں گے۔ یعنی کہ یہ جو پارلیمنٹری کمیٹی جو نام دے گی تین سینیئر ججز کا اس کے ٹوٹل ممبرز 12 رکھے گئے ہیں۔ 26 امینڈمنٹ میں آٹھ جو ہیں وہ نیشنل اسمبلی سے ہیں چار ممبرز جو ہیں وہ کہاں سے ہیں؟ سینٹ سے ہیں۔ یہ بھی جب ناموں کا فیصلہ کریں گے تو ان میں ٹو تھرڈ میجورٹی کو دیکھا جائے گا۔ یعنی کہ آٹھ میں سے 12 میں سے آٹھ لوگ جن تین ناموں کو سلیکٹ کریں گے وہی نام آگے پریزیڈنٹ کو بھیجیں۔ سوری پرائم منسٹر کو بھیجے جائیں گے پرائم منسٹر پریزیڈنٹ کو بھیجے گا۔ اس کا مطلب ہے پارلیمنٹری کمیٹی میں بھی کیا ہوگی؟ ٹو تھرڈ میجورٹی ہوگی۔ 12 ممبرز ہوں گے۔ اور آٹھ نیشنل اسمبلی سے ہوں گے فور جو ہے نا وہ سینٹ سے ہوں گے۔ اچھا اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ اس پارلیمنٹری کمیٹی کی جو میٹنگز ہوں گی وہ ان کیمرا ہوں گی۔ ان کیمرا کا مطلب یہ ہے کہ کیمرے کے اندر وہ ڈیسائیڈ کریں گے۔ آٹھ لوگ جس طرف ہوں گے اسی نام تین ناموں کو سلیکٹ کیا جائے گا اور وہ بندے جو ان تین نام بھیجے جائیں گے ان میں سے ایک نام کو پرائم منسٹر کرے گا اور وہ پریزیڈنٹ کو بھیجے گا تو وہ ہمارا چیف جسٹس بن جائے گا۔ چلو یہ تو ہو گئی کہانی چیف جسٹس کی۔
[18:35]بھئی دوسرے ججز بھی تو ہیں۔ سپریم کورٹ کے آپ کو پتہ ہے پاکستان کے اندر سپریم کورٹ کے اندر 17 جج بیٹھتے ہیں ان کی اپوائنٹمنٹ کیسے کی جائے گی؟ اس کے لیے انہوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ہوگا۔ اسی 175 میں کہا۔
[18:54]لیکن اس کے اندر کچھ ممبرز ایڈ کیے گئے پہلے ججز ہوا کرتے تھے سپریم جوڈیشل کونسل کے اندر انہوں نے کہا کہ اب جو ہے نا فیڈرل لا منسٹر اس کے اندر بیٹھے گا۔ اس کے علاوہ ملک کا اٹارنی جنرل یہ بھی اسٹیٹ کا بندہ ہوتا ہے۔
[19:15]وہ اس کے اندر بیٹھے گا۔ ٹو ممبرز نیشنل اسمبلی کے ہوں گے۔ دو ممبرز سینٹ کے ہوں گے۔ ایک ممبر جو ہوگا وہ پاکستان بار کونسل کا ہوگا اور اس پاکستان بار کونسل کے ممبرز کی۔ جو پریکٹس ہے 15 سال سے کم نہیں ہونی چاہیے وہ جو ہے نا اگلے ججز کی کیا کریں گی اپوائنٹمنٹ کریں گی۔ جو سپریم کورٹ کے ججز ہوں گے۔ اچھا اس کے بعد 175 اے کے اندر کیا تبدیلی کی گئی؟ اس کے اندر یہ کیا گیا۔ چیف جسٹس کو ایک اختیار دیا گیا رول میکنگ کا۔ رول میکنگ کے مطابق یہ ہے کہ چیف جسٹس جو لوور کورٹس کے ججز ہوتے ہیں اس سے پہلے ان کو نہیں نکال سکتا تھا دنیا کے اندر اصول ہے کہ ججز کو کوئی بھی بندہ نہیں نکال سکتا۔ ان کی جو ٹینیورز ہوتے ہیں وہ فکسڈ ہوتے ہیں لیکن یہاں پر یہ جو رول میکنگ کلاز اس کے اندر ڈالی گئی ہے۔ اس رول میکنگ کلاز کے مطابق یہ ہے کہ چیف جسٹس ان کی کارکردگی کو دیکھے گا کوئی جج اگر اس کو۔ مطلب کہ نا دیکھتا ہے کارکردگی اچھی نہیں ہے تو وہ اس کا ریمول کر سکتا ہے۔
[20:30]دیٹ مینز کہ یہاں پر بھی ججز کے ٹینیور کو کیا کیا گیا ہے؟ کنٹرول کیا گیا ہے۔ پولیٹیکل وچ ہنٹنگ کی جا سکتی ہے کہ کوئی جج اگر ایگزیکٹیو کے مطابق جو ہے نا کام نہیں کر رہا تو اس کو کیا کر دیا جائے گا؟ نکالا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ 175 میں یہ بھی کیا گیا ہے یہ جو چیف جسٹس آف اپوائنٹ ہوں گے ان کی مدت تین سال کر دی گئی۔ بے شک ان کی ریٹائرمنٹ میں سے پانچ سال پڑے ہیں لیکن اگر اس کو چنا گیا ہے تو وہ تین سال کے لیے سرو کرے گا پھر وہ ریٹائر ہو جائے گا۔ اب اگلا میکینزم اس میں نہیں بتایا گیا کہ اگر کسی جج کی کسی جسٹس کی جو سروس ہے وہ زیادہ بچی ہوئی ہے اور اگر وہ تین سال کے لیے کام کر رہا ہے تو بعد میں وہ کہاں جائے گا؟ تو یہ بھی اس کے اندر رولو پ ہولڈ رکھا گیا ہے کہ نہیں پتا کہ وہ کہاں جاتا ہے اس کے بعد۔ یہ اس کا مین مدہ تھا سب سے زیادہ تبدیلیاں اسی 175 اے آرٹیکل کے اندر کی گئی ہیں۔ اس کے بعد نا آرٹیکل 184۔ اس کے اندر بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں 26 ویں امینڈمنٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان کے پاس یا ججز کے پاس یہ اختیار ہوتا تھا کہ وہ سو موٹو ایکشن لے سکتے ہیں۔ سو موٹو ایکشن کا مطلب یہ ہے کہ عدلیہ کہیں پر دیکھتی ہے کہ پبلک کے اندر کوئی بگاڑ چل رہا ہے جس کو ایگزیکٹیو صحیح نہیں کر رہی۔ مطلب پرائم منسٹر نے نوٹس نہیں لیا کوئی ڈی پی او بیٹھا ہوا تھا اس نے کوئی معاملہ یا مدہ صحیح نہیں کیا تو عدالت خود سے اپنی الٹرا وائرز یوز کر کے اپنی ایکسٹرا طاقتیں یوز کر کے اس پبلک میٹر کو خود سن سکتے ہیں۔ اس پبلک میٹر کو کیا کر سکتی تھی؟ خود سن سکتی تھی جیسے ثاقب نثار آئے تھے چیف جسٹس جنہوں نے دیا میر بھاشا اور محمد ڈیم کے لیے فنڈ اکٹھا کیا تھا۔ وہ ہاسپٹلز کو چیک کرنے کے لیے چلے جایا کرتے تھے۔ تو وہ کون سا آرٹیکل یوز کرتے تھے؟ 184 جس میں وہ سو موٹو ایکشن لے سکتے تھے۔ اب 26 امینڈمنٹ میں یہ سو موٹو ایکشن کا اختیار جو ہے نا عدلیہ سے کیا کر لیا گیا ہے؟ چھین لیا گیا ہے کہ آج کے بعد کسی بھی جج کے پاس جو ہے نا بیسیکلی سو موٹو کا جو ہے نا اختیار نہیں ہے۔ چلیں اس کے بعد اگلے آرٹیکل پہ چلتے ہیں جس کے اندر تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
[22:45]وہ ہے ہمارے پاس 186 اے۔ 186 ڈیل کرتا تھا سپریم کورٹ کی پارز کی کہ وہ کیسز کو شفٹ کرے۔ تو 186 کے اندر یہ دیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کو ایک پار دے دی گئی ہے کہ وہ کیسز کو شفٹ کر سکتی ہے۔ وہ کیسز کو کیا کر سکتی ہے؟ شفٹ کر سکتی ہے۔ جیسے مطلب کہ ایک ہائی کورٹ کے اندر کیس چل رہا ہے تو اس کو دوسرے سیکنڈ ہائی کورٹ کے اندر شفٹ کر دے۔ ڈن یا ان ہائی کورٹس سے کیسز کو خود اپنے پاس لے آئے تو خود سننا شروع کر دے تو دیٹ مینز کہ 186 آرٹیکل ایک میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں 26 ویں ترمیم کے اندر اور یہ کہا گیا کہ سپریم کورٹ کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ کیسز کو شفٹ کر سکتی ہے کہیں بھی۔ پہلے تو ایسا ہوتا تھا کہ مطلب کہ جو ہے نا سپریم کورٹ ان کو شفٹ نہیں کرتی تھی۔ اور اس کو اس طرح سے بھی یوز کیا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی پولیٹیکل بندہ کسی ہائی کورٹ کے جج سے سیٹسفائی نہیں ہے تو سپریم کورٹ کے تھرو وہ ایگزیکٹیو یہ کر سکتے ہیں کہ کیسز کو ایک جج سے یا اپنی پسندیدہ کورٹ میں ٹرانسفر کرا سکتے ہیں۔ تو 186 اے آرٹیکل کے تحت سپریم کورٹ شفٹنگ آف کیسز کر سکتی ہے۔ ہائی کورٹس کے اندر ایک ہائی کورٹ سے دوسرے ہائی کورٹ میں ان ہائی کورٹ سے کیس کو اٹھا کر خود بھی بیسیکلی کیا کر سکتی ہے؟ سن سکتی ہے۔ پھر ایک تبدیلی کی گئی آرٹیکل 190 اے۔ میں ان کو دو لکھوں گا کیونکہ دو لیول پہ ہوئی ہے یہ تبدیلی۔ 202 اے آرٹیکل پاکستان کا اینڈ 190 اے۔ اس کے اندر بیسیکلی پہلے تو پروپوز یہ کیا گیا تھا کہ ہم فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ بنائیں گے۔
[24:35]ہم کیا بنائیں گے؟ فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ۔ اب یہ فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ میں از ایکول ٹو کے علامت ڈال رہا ہوں سپریم کورٹ کے ایکول کام کریں گے۔ کیونکہ سپریم کورٹ کے پاس کیسز بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ تو یہ جو فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ ہم بنائیں گے تو یہ ان کے برابر کام کر رہے ہوں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایسے کیسے ہو سکتا ہے ایک ملک کے اندر دو عدالتیں کیسے ہو سکتی ہیں؟ وہ اس بات پہ اڑ گیا تو اس کے بعد نا یہ فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ والا کنسیپٹ ختم کر کے سپریم کورٹ کے انڈر فیڈرل بینچ بنائے گئے ہیں۔ اب فیڈرل بینچ جو ہے وہ سپریم کورٹ کے کیسز کس کو دیے جائیں گے؟ فیڈرل بینچ کو دیے جائیں گے وہی فیڈرل بینچ کے اندر جو ججز بیٹھے ہوں گے وہ سپریم کورٹ کے کیا کریں گے؟ ڈیسائیڈ کیسز ڈیسائیڈ کریں گے بیسیکلی ہوا کچھ نہیں ہے۔ بس یہ جو ہے نا تبدیلی کی گئی ہے کہ کان کو یہاں سے پکڑ لو یا وہاں سے پکڑ لو۔ فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ نہیں بنائے گئے تو سپریم کورٹ کے اندر فیڈرل بینچ بنایا گیا وہ بیسیکلی چیک اینڈ بیلنس رکھے گا کس کے اوپر؟ سپریم کورٹ کے اوپر۔ تو یہ آرٹیکل 198، 191 اے کے تحت کیا گیا۔ اب جیسے سپریم کورٹ کام کرتا ہے ویسے ہی ہائی کورٹ کام کرتے ہیں۔ اب آرٹیکل 202 اے کے تحت بھی ہائی کورٹ کے اندر بھی جو ہے نا بیسیکلی کانسٹیٹیوشنل بینچ بنائے گئے ہیں۔ اب ان کانسٹیٹیوشنل بینچ کا کیا کام ہے؟ یہ بھی ہائی کورٹ کے ججز کی ایویلیویشن کریں گے۔ ہائی کورٹ کے ججز جو کیسز ڈیسائیڈ کرتے ہیں۔ جو کچھ وہ کام کر رہے ہوتے ہیں ان کے کام کو انفلوئنس کریں گے ان کے سارے کورس کے کیس جو ہیں وہ کانسٹیٹیوشنل بینچ میں کیا کر دیے جائیں گے؟ ٹرانسفر کر دیے جائیں گے۔ تو دیٹ مینز کہ 26 امینڈمنٹ میں آرٹیکل 191 اے اور 202 اے کو بھی چینج کیا گیا ہے۔ اور ایک علیحدہ سے بینچز بنائے گئے ہیں کانسٹیٹیوشنل بینچز بنائے گئے ہیں۔ 191 اے کے تحت جو ہے نا وہ سپریم کورٹ کے بینچ کو جو ہے وہ کیسز کو لے گا۔ اور ہائی کورٹ میں جو کانسٹیٹیوشنل بینچ ہے وہ ججز کی کارکردگی کو کیا کر رہے ہوں گے؟ چیک کر رہے ہوں گے۔
[26:41]یہ میجر تبدیلیاں تھیں اگر آگے میں بات کروں تو چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں ہیں۔ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں یہ ہیں کہ آرٹیکل 203 ڈی اس کے اندر فیڈرل شریعت کورٹ کو چھوٹا سا اختیار دیا گیا کہ وہ قوانین کو دیکھے گا۔ کہ کوئی قوانین اسلام کے فنڈامینٹل سے تو نہیں ٹکراتا۔ یعنی کہ ایسا قانون تو نہیں پاس ہوتا جو اسلام کے فنڈامینٹل کے خلاف ہو۔ اور اس کا کیس کا فیصلہ فیڈرل شریعت کورٹ کو 12 مہینے کے اندر اندر کرنا ہوگا۔ یعنی کہ ایک سال کی مدت میں اس چیز کو نمٹانا ہوگا فیڈرل شریعت کورٹ خود سے نہیں دیکھتا کیسز کو اگر کیسز چیلنج ہو جاتے ہیں اگر کوئی قانون چیلنج ہو جاتا ہے تو پھر فیڈرل شریعت کورٹ نا اس کو دیکھتا ہے۔ تو 203 ڈی آرٹیکل کے تحت فیڈرل شریعت کورٹ کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ اسلامک فنڈامینٹل کے مطابق قوانین کو چیک کرے گا۔ اور یہ اس کا فیصلہ جو ہے نا وہ کس میں سنائے گا؟ 12 مہینے کے اندر اندر سنا رہا ہوگا۔ اسی طرح سے 26 امینڈمنٹ میں پاکستان کا آرٹیکل 215 215 الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ڈیل کرتا ہے۔ اس کے اندر بھی تبدیلی کی گئی۔
[28:02]اس میں بیسیکلی یہ تبدیلی کی گئی 215 میں کہ چیف الیکشن کمیشن۔ کہ مدت جو ہے نا تب تک رہے گی جب تک جو ہے نا نیا الیکٹ نہیں ہوتا۔ جب تک نیا اپوائنٹ نہیں ہوتا چیف نیو تب تک پرانا کام کرتا رہے گا۔ پہلے ایسا ہوتا تھا ٹینیور اینڈ ہو جاتا تھا تو سیٹ ویکنٹ ہو جاتی تھی۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آرٹیکل 215، 26 امینڈمنٹ کے تحت پرانا جو چیف الیکشن کمیشن ہوگا وہ اپنی سیٹ پر برقرار رہے گا جب تک چاہے کوئی رولا چل رہا ہے۔ چاہے کوئی مدہ جو ہے نا ڈسکشن میں ہے۔ اس کا ٹینیور پورا بھی ہو گیا ہے اس ٹینیور کے باوجود بھی وہ کیا کرتا رہے گا؟ کام کرتا رہے گا۔ اسی طرح سے اسی 26 امینڈمنٹ میں آرٹیکل 229 کے اندر تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
[28:54]229 جو ہے نا بیسیکلی یہ اسلامک آئیڈیالوجی کونسل کو دیکھتا ہے۔
[29:03]یہ فنکشننگ کو کیونکہ اسلامک آئیڈیالوجی کونسل کو تو آرٹیکل 228 یعنی کہ اس کی کمپوزیشن کو دیکھتا ہے کہ اسلامک آئیڈیالوجی کونسل ہے کیا فنکشن کیا کرتی ہے۔ 229 میں یہ ڈیسائیڈ کیا گیا کہ یہ جو ہمارے پاس بیسیکلی پارلیمنٹری کمیٹیز بنائی گئی ہیں۔
[29:24]ان میں سے کوئی بھی بندہ یا پارلیمنٹ کوئی قانون پاس کرتی ہے اور اس کے اگر ون فورتھ ممبرز اس بات کو الاؤ کرتے ہیں کہ ہم نے اس کے اوپر اسلامک آئیڈیالوجی کونسل کا کوئی نہ کوئی مشورہ لینا ہے۔ تو وہ ون فورتھ ممبرز کی اجازت سے جو پارلیمنٹ ہے وہ اسلامک آئیڈیالوجی کونسل سے کسی بھی قانون بنانے پہ اس کی کنسلٹیشنز کو کیا کر سکتی ہے؟ لے سکتی ہے۔ تو یہ بھی 26 امینڈمنٹ میں کیا گیا ہے۔ دو چیزیں اور میں مینشن کروں گا دو سے تین۔ جیسے میں کہوں کہ آرٹیکل 38۔ آرٹیکل 38 کے ساتھ جنوری فرسٹ 2028 کہا گیا یہاں تک ہم رباء کا خاتمہ کر دیں گے۔ رباء کہتے ہیں سود کو آرٹیکل 26 کے اندر بیسیکلی یہ کہا گیا کہ ملک میں سے سود کا خاتمہ کریں گے جنوری ون 2028 تک اور اس کے لیے جو کانسٹیٹیوشنل امینڈمنٹ کی گئی وہ آرٹیکل 38 میں کی گئی۔ اسی طرح سے ہے آرٹیکل 48۔ آرٹیکل 48 میں یہ ہے کہ کوئی بھی کیبنٹ یا پرائم منسٹر کوئی فیصلہ لے لیتا ہے تو اس کا کوئی کورٹ ریویو نہیں ہوگا۔
[30:44]یعنی کہ عدلیہ سے یہ طاقت بھی چھین لی گئی کہ ایگزیکٹیو نے جو بھی فیصلہ کر دیا وہ بیسیکلی کیا ہے؟ اس کا کورٹ ریویو نہیں ہوگا کیونکہ وہ جو بھی فیصلہ کریں گے وہ کس کے پاس جائے گا؟ پریزیڈنٹ کے پاس پریزیڈنٹ اس کے اوپر کیا کر دے گا؟ سائن کر دے گا اور عدالت اس کو ریویو نہیں کر سکتی۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عدلیہ سے یہ والی ریویو والی طاقت بھی چھین لی گئی آرٹیکل 48 میں اور جو ہے نا آرٹیکل 38 میں یہ کہا گیا کہ ہم سود کا خاتمہ کریں گے۔ اس کے علاوہ ایک آرٹیکل اور ہے 9 اے اس میں یہ کہا گیا کہ ہم انشور کریں گے سٹیزنز آف پاکستان کے لیے ایک ہیلدی انوائرمنٹ جس میں کلین اور ہیلدی انوائرمنٹ کو کیا کیا جائے گا؟ انشور کیا جائے گا۔
[31:24]ہوپ فولی میری یہ ویڈیو آپ لوگوں کے لیے پروڈکٹیو رہی ہوگی اور آرٹیکلز کو میں نے ایک ترتیب کے ساتھ آپ لوگوں سے ڈسکس کیا ہے۔ پہلے 175 اے کو پھر جو ہے نا 184 کو پھر 186 اے کو پھر 191 اے 202203 تاکہ ایک سیکونس میں آپ کو اچھے طریقے سے یہ سمجھ آ جائے۔ کہ 26 امینڈمنٹ میں کیا کیا گیا۔ میں چھوٹا سا ایک اپنا ریویو دیتا جاتا ہوں یہ کسی پولیٹیکل الائنس سے ریلیٹڈ نہیں ہوگا۔ بیسیکلی جیسے ظہور صاحب نے تصویر شو کی تھی پکچر شو کی تھی جس میں گیپ پروڈیوس کیا گیا جوڈیشری کے اندر تو نو ڈاؤٹ انڈیپینڈنس آف جوڈیشری کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ ججز کے ریمول کا پروسیجر بھی ججز ہی دیکھیں۔ کوئی ایگزیکٹیو ان کو ریموو نہ کر سکے۔ کوئی چیف جسٹس اکیلا ریموو نہ کر سکے۔ لیکن 26 امینڈمنٹ میں یہ کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس رول میکنگ پار کے تحت کسی بھی جج کو اس کی سروس سے نکال سکتا ہے۔ ایسا دنیا کے اندر کہیں بھی نہیں ہو رہا ہوتا۔ اس کے علاوہ ان کی جو اپوائنٹمنٹ ہوتی ہے ججز کی وہ عدلیہ خود دیکھتی ہے۔ اب وہ اپوائنٹمنٹ کس کے ذمے لگا دی گئی ہے؟ پرائم منسٹر کے۔ وہ پارلیمنٹ اور پرائم منسٹر دونوں مل کر دیکھیں گے کیونکہ پارلیمنٹری کمیٹی کس کا حصہ ہے؟ لیجسلیچر کا اور پی ایم کس کا حصہ ہے؟ ایگزیکٹیو کا وہ دونوں مل کر تین ججز کے نام لے آئیں گے۔ جونیئر ججز بھی کہاں پر بیٹھیں گے؟ چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالیں گے۔ تو باقی فیصلہ آپ نے خود کرنا ہے میری طرف سے آپ لوگوں کو 26 امینڈمنٹ پہ جو ویوز دیے گئے ہیں ہوپ فولی فروٹ فل رہے ہوں گے مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ فی امان اللہ اللہ حافظ۔



