Thumbnail for Trump, Bill Gates, Musk | The Epstein Files Revealed the Dirty Secrets of Global Elites @raftartv by Raftar

Trump, Bill Gates, Musk | The Epstein Files Revealed the Dirty Secrets of Global Elites @raftartv

Raftar

10m 36s2,303 words~12 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Pull quotes
[0:03]آپ صبح اٹھ کر اخبار اٹھائیں نیوز چینلز لگائیں یا پھر ٹویٹر اور انسٹاگرام چلائیں ہر جگہ ایک ہی نام کا چرچہ ہے۔ جیفری ایبسٹین Jeffrey Epstein, Donald Trump, Trump, Trump's, Epstein, turmoil.
[0:27]30 جنوری 2026 کو جب امریکہ کی ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس نے ایبسٹین فائلز ریلیز کیں تو اس میں کیے گئے انکشافات نے ایک طوفان کھڑا کر دیا۔ Today we are producing more than three million pages.
[0:27]And we leave club Tramp and I hop in the car with Gilan and Jeffrey and Gilan said he's coming back to the house.
[0:27]She says Prince Andrew abused her two more times once in New York in Epstein's mansion and again at his Virgin Islands estates.
Use this transcript
Related transcript hubs

[0:03]آپ صبح اٹھ کر اخبار اٹھائیں نیوز چینلز لگائیں یا پھر ٹویٹر اور انسٹاگرام چلائیں ہر جگہ ایک ہی نام کا چرچہ ہے۔ جیفری ایبسٹین Jeffrey Epstein, Donald Trump, Trump, Trump's, Epstein, turmoil. I was 14 years old. I was 16 years old. 17 14 years old. This is me. This was me. This is me when I met

[0:27]30 جنوری 2026 کو جب امریکہ کی ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس نے ایبسٹین فائلز ریلیز کیں تو اس میں کیے گئے انکشافات نے ایک طوفان کھڑا کر دیا۔ Today we are producing more than three million pages. ویسے تو ایبسٹین 30 جنوری کے بعد آپ سب کی خاص توجہ کا محور بنا لیکن میں نے آپ لوگوں کو اکتوبر میں ہی ایبسٹین کی تفصیلی کہانی سنا دی تھی۔ مگر کچھ سوال تھے جو اس وقت معلومات نہ ہونے کی وجہ سے ادھورے رہ گئے اور نئی فائلز ڈی کلاسیفائی ہونے کے بعد اب ہمیں ان سوالات کا بھی جواب مل گیا ہے۔ آج کی ویڈیو ہم مختصر رکھیں گے۔ ایبسٹین فائلز میں شامل ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلون مسک جیسے بڑے بڑے نام اور ان کے گندے گھناؤنے کاموں سے پردہ ہٹائیں گے۔ مشرق وسطیٰ کی ایک ننھی سی ریاست کی ان دیو قامت انڈیویجولز کو ایبسٹین کے ذریعے قابو کرنے کی داستان سنائیں گے۔ ایبسٹین جس نے دنیا کے طاقتور ترین لوگوں کو مٹھی میں قید کیا ہوا تھا وہ کون پاکستانی تھا جس کا نام سن کر ایبسٹین خوفزدہ ہو جاتا؟ یہ بھی دکھائیں گے۔ تو آئیے شروع کرتے ہیں۔ And Jeffrey Edward Epstein, and my residence address is 6100 Red Hook Boulevard in Virgin Islands. Have you ever been convicted of a crime? Yes. بنیادی طور پہ ایبسٹین اسرائیلی انٹیلیجنس ایجنسی موساد کے لیے کام کرتا تھا۔ تمام ثبوت اپ کو ہماری اس ویڈیو میں مل جائیں گے۔ انٹیلیجنس ایجنسیز کے لیے ایک چیز سب سے اہم ہوتی ہے۔ لیوریج۔ اس کے ذریعے وہ کسی بھی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف اپنے مفاد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ اور ایبسٹین موساد کو دنیا کی انفلوئنشل ترین لوگوں پہ لیوریج حاصل کر کے دیتا تھا۔ مثال کے طور پہ کوین الزبتھ کا بیٹا پرنس اینڈریو اور امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن جنہیں ایبسٹین اپنے آئی لینڈ پہ لے کر جاتا اور وہاں ان کی لسٹ کو سیٹیسفائی کرنے کے لیے کم عمر بچیاں مہیا کرتا۔ In London and we went out to club Tramp. Prince Andrew got me alcohol. It was in the VIP section. It was I'm pretty sure it was Vodka. Prince Andrew's like, let's dance together and I was like, okay. And we leave club Tramp and I hop in the car with Gilan and Jeffrey and Gilan said he's coming back to the house. And I want you to do for him what you do for Epstein. She says Prince Andrew abused her two more times once in New York in Epstein's mansion and again at his Virgin Islands estates. ان افراد کو خفیہ طور پہ اس عمل کے دوران ریکارڈ کیا جاتا اور پھر انہی ویڈیوز کے ذریعے انہیں بلیک میل کیا جاتا۔ لیکن پھر کچھ بچیاں ایبسٹین کے پاس سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئیں۔ اور انہوں نے پولیس میں کمپلین درج کرائی۔ 2019 میں ایبسٹین کو گرفتار کر لیا گیا اور اس کے بعد اس کی پراپرٹیز پہ ریڈز کے دوران وہ تصاویر اور ویڈیوز ملیں جو اس نے خفیہ طور پہ ریکارڈ کی ہوئی تھیں۔ ساتھ ہی ایف بی آئی نے اس کی ای میل اکاؤنٹس تک بھی رسائی حاصل کی۔ ان تمام شواہد کو ایبسٹین فائلز کے نام سے اکٹھا کیا گیا۔ لیکن ابھی تک ان فائلز کو ڈی کلاسیفائی نہیں کیا گیا تھا۔ اسی دوران ایبسٹین کے چند ایک وکٹمز کے انٹرویوز ٹی وی پہ نشر کیے گئے۔ بس پھر کیا تھا؟ عوام میں غصے کی ایک لہر دوڑی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایبسٹین فائلز کو ڈی کلاسیفائی کیا جائے۔ یہی وہ وقت تھا کہ اچانک ایبسٹین جیل میں مردہ پایا گیا۔ بتایا گیا کہ اس نے خودکشی کی ہے لیکن اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ جن لوگوں نے اس سے یہ کام کرایا تھا اب وہ ان کے لیے تھریٹ بن چکا تھا اور اسی لیے اسے ہمیشہ کے لیے خاموش کرا دیا گیا۔ خاموش کرانے والوں کا خیال تھا کہ ایبسٹین کی موت کے ساتھ وہ ان طاقتور ترین لوگوں کے تمام راز اپنے سینے میں لیے چل بسے گا۔ لیکن تقدیر کو شاید کچھ اور منظور تھا۔ عوامی دباؤ بڑھنے لگا اور بالاخر 30 جنوری کے دن ساڑھے تین ملین ڈاکومنٹس پہ مشتمل ایبسٹین فائلز ریلیز کر دی گئیں۔ آئیے اب ذرا ان فائلز میں شامل افراد پہ نظر ڈالتے ہیں۔ بس اگے بڑھنے سے پہلے جان لیں کہ مغربی معاشرے کے نمایاں افراد کے جو ہم میں سے کئی لوگوں نے بت تراش رکھے تھے۔ وہ بت اس ویڈیو میں ٹوٹنے والے ہیں کیونکہ وہ بڑے نام اور ان کے گندے کام ہم اپ کے سامنے رکھنے جا رہے ہیں۔ سب سے پہلا نام ہے مائیکروسافٹ کے فاؤنڈر بل گیٹس کا۔ ای میل ریکارڈز کے مطابق 2013 میں ایبسٹین نے اپنے اپ کو ایک ای میل بھیجی۔ اس میں لکھا گیا کہ بل گیٹس کو ایس ٹی ڈی کا مرض لاحق ہے۔ ایبسٹین نے مزید لکھا کہ اس نے بل گیٹس کے لیے دو رشین خواتین کا بندوبست کیا۔ جن کے ساتھ بل گیٹس نے جنسی تعلق قائم کیا۔ اور اس عمل کے دوران بل گیٹس ایک جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشن کا شکار ہو گیا۔ ایبسٹین کے مطابق گیٹس کو ڈر تھا کہ کہیں یہ انفیکشن اس کے ذریعے اس کی بیوی کو بھی نہ منتقل ہو جائے۔ اسی لیے گیٹس نے اس سے اس انفیکشن کی دوائیں مانگیں تاکہ وہ اپنی بیوی کو بغیر بتائے اسے وہ دوائیں کھلا دے۔ کئی انڈیپینڈنٹ ریسرچرز کے مطابق ایبسٹین نے اس معلومات کے ذریعے بل گیٹس کو بلیک میل کیا۔ اور 2 ملین ڈالرز ایم آئی ٹی کے ایک سپیشل پروجیکٹ میں ڈونیٹ کروائے۔ ایم آئی ٹی سے یاد آیا ٹیکنالوجی کی دنیا میں معجزے کرنے والے ایلون مسک کے متعلق بھی ان فائلز میں حیران کن انکشافات ہوئے ہیں۔ ایلون مسک کا کہنا ہے کہ وہ کبھی ایبسٹین کے ائیلینڈ یا پارٹیز میں نہیں گئے۔ لیکن ایبسٹین کے ساتھ ای میلز کا تبادلہ ہمیں کچھ اور بتاتا ہے۔ 2012 میں ایلون مسک اپنی بیوی تلولہ کے ساتھ ایبسٹین کے ہیلی کاپٹر پہ سوار ہو کر اس کے ائیلینڈ پہنچا۔ ایک اور ثبوت جو ہمیں مسک کے خلاف ملتا ہے وہ ایک وکٹم کی کمپلین کی صورت میں ہے۔ فائلز میں وکٹم کا نام مٹا دیا گیا ہے۔ لیکن وکٹم کے مطابق ایک پارٹی میں جہاں ایبسٹین کے دیگر مہمان 13 سے 14 سال کی لڑکیوں کو جنسی جبر کا نشانہ بنا رہے تھے۔ مسک بھی وہیں پہ موجود تھا۔ لیکن اسی پارٹی میں ایک اور مشہور شخص بھی موجود تھا۔ امریکہ کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ۔ یقین کیجئے وکٹم کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اس پارٹی میں جس کھناؤنے عمل میں شریک تھے اس کا الفاظ میں تذکرہ کرنا انتہائی غیر مناسب ہو گا۔ بس اتنا بتا دیتا ہوں کہ وہ ایک 14 سال کی کم عمر لڑکی کو جنسی جبر کا نشانہ بنا رہے تھے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ بھیانک بات ایک اور وکٹم نے بتائی۔ ٹرمپ پارٹیز ارینج کرتا جہاں ایبسٹین کم عمر لڑکیوں کو لاتا۔ ان بچیوں کے ساتھ کیا ہوتا؟ اس کا الفاظ میں تذکرہ کرنا بھی مناسب نہیں۔ ہم سکرین پہ ٹیسٹیمینی لگا دیں گے اپ وہ پڑھ سکتے ہیں اور ایسی درجنوں کمپلینز موجود ہیں۔ لیکن حیرت اس بات پہ ہے کہ انویسٹیگیٹرز نے کسی ایک کمپلین کو بھی اس قابل نہیں سمجھا کہ اسے مزید تفتیش کی جائے۔ ایبسٹین کی نظر کرم پانے والے افراد کی فہرست میں چوتھا نمبر ہے پرنس اینڈریو کا۔ یہ تصاویر دیکھیے۔ کہتے ہیں ون پکچر از ورتھ تھازنڈ ورڈز۔ یہ تصویریں ایک پوری کہانی سنا رہی ہے۔ یہ وہی تصاویر ہیں جو ایبسٹین کی گرفتاری کے بعد اس کی مختلف پراپرٹیز سے برامد ہوئیں۔ پچھلی ویڈیو میں ہم نے تذکرہ کیا تھا ورجینیا جیوفری کا۔ وہ خاتون جس نے پبلک انٹرویوز میں پرنس اینڈریو پہ ریپ کا الزام لگایا۔ لیکن پھر انہی دنوں اس کی پراسرار لمحات میں موت ہو گئی۔ ایبسٹین فائلز میں ایک اور گمنام کمپلین شامل تھی جس میں وکٹم کے مطابق پرنس اینڈریو نے ایبسٹین کی پارٹر ان کرائم گلین میکسویل سے ایک لڑکی کو بطور غلام خریدا۔ اور اسے تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہو گئی۔ ایک مرتبہ پھر اس کمپلین کو بھی انویسٹیگیٹ نہیں کیا گیا اور اسی لیے اج تک 100 فیصد یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ الزام درست ہے یا نہیں اس فہرست کا ایک اور دلچسپ کردار ہے اسرائیل کا سابق وزیراعظم عہد باراک۔ ایف بی ائی کی ایک سورس بیسڈ رپورٹ کے مطابق ایبسٹین نے انٹیلیجنس کی تربیت عہد باراک کی سرپرستی میں حاصل کی۔ باراک کی ایبسٹین کے مختلف پراپرٹیز پہ موجودگی کی دیگر تصاویر بھی اویلیبل ہیں جس سے دونوں کے درمیان قربت واضح ہوتی ہے۔ لیکن یہ فہرست یہاں ختم نہیں ہوتی۔ اپ جس کا نام لیں اس کا ایبسٹین کے ساتھ تعلق کا سرہ مل جاتا ہے۔ مائیکل جیکسن محمد بن سلمان نوم چومسکی مارک زکربرگ حتی کہ سٹیفن ہاکنگ بھی ان کے ائیلینڈ کی کئی مرتبہ سیر کر چکے ہیں۔ ویلیٹس ڈٹ لیٹ ڈسیبلٹی گیٹ بیٹر اف لیکن دنیا کے ان مشہور ترین افراد میں اگر کوئی ایک شخص تھا جسے جیفری ایبسٹین اپنے شکنجے میں نہ پھنسا سکا بلکہ اس سے خوفزدہ رہا۔ تو وہ تھا ایک پاکستانی۔ وہی پاکستانی جسے کئی نمایاں افراد نے یہودیوں کا ایجنٹ قرار دیا ہے۔ میں تو 2012 سے یہ بات کہہ رہا ہوں کہ یہ یہودی ایجنٹ ہیں غیر ملکی ایجنٹ ہے یہودی ایجنٹ ہے سی ائی اے کا نمائندہ عمران خان کے حق میں ٹویٹ کر رہا ہے ہماری تائید ہو رہی ہے کہ یہ غیر ملکی ایجنڈے کا نمائندہ ہے۔ لیکن اس مبینہ یہودی ایجنٹ کو دنیا کا سب سے ایکسپوزڈ یہودی ایجنٹ کس نظر سے دیکھتا تھا؟ ابھی اس پہ بھی نظر ڈالتے ہیں۔ ایک ای میل میں ایبسٹین کہتا ہے کہ عمران خان عالمی امن کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔ چائنا کے شی جن پنگ، ایران کے خامنائی اور ترکی کے اردوان سے بھی بڑا۔ یاد رہے عالمی امن کے ان دشمنوں کا ایبسٹین فائلز میں کہیں نام نہیں اتا۔ عالمی امن کے ان چیمپئنز کے برعکس جو بچوں کے ساتھ زیادتی میں مشغول تھے۔ ایبسٹین نے ایک اور ای میل میں خان اور جمائمہ کی شادی کا تذکرہ کیا۔ اسی ای میل میں اس نے عمران خان کو ایک پاگل اسلام پسند شخص بھی قرار دیا۔ کم از کم میرے نزدیک تو یہ کسی تمغے سے کم نہیں۔ ایبسٹین جیسا شیطان اگر اپ سے خطرہ محسوس کرتا ہو تو اپ میں کچھ نہ کچھ خیر ضرور ہو گی۔ اور شیطان سے یاد ایا ان فائلز میں ایک شیطانی پہلو کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ انویسٹیگیشن کے دوران ایف بی ائی کو دیگر کالز موصول ہوئیں۔ جہاں پہ ان گمنام کالرز نے بتایا کہ وہ اس جگہ موجود تھے جہاں ایبسٹین اور اس کے ساتھی بچوں کو ذبح کرتے اور درندوں کی طرح ان بچوں کے اعضاء کھاتے۔ ایک ادمی نے ایف بی ائی کو یہ بھی بتایا کہ ایک رسم کے دوران اس کو باندھا گیا اور اس کے دونوں پیر کاٹ دیے گئے۔ اس کے علاوہ کئی اور گمنام کمپلینٹس نے دعوی کیا کہ ایبسٹین کی گیدرنگز میں ڈیمونک ریچولز یا جسے عام زبان میں سیاہ علم کہتے ہیں پریکٹس کیا جاتا تھا اور انسانوں کی قربانی بھی اسی کا حصہ تھی۔ لیکن ان باتوں کو ہم 100 فیصد درست اس لیے نہیں کہہ سکتے کیونکہ کمپلینٹس نے خوف کے مارے ایف بی ائی کو اپنی شناخت واضح نہیں کی اور اسی لیے ایف بی ائی نے ان کمپلینز کو مزید انویسٹیگیٹ کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ یاد رکھیے ایبسٹین فائلز جب ریلیز کی گئیں تو ایک بڑا حصہ حذف کر دیا گیا تھا اور ابھی تک ہم صرف اتنا جانتے ہیں جتنا امریکی ڈیپارٹمنٹ اف جسٹس کی خواہش تھی۔ کہ ہم جان پائیں۔ حذف کردہ حصے میں اور کس کا نام ہو گا؟ شاید اس راز سے کبھی پردہ نہ ہٹے۔ شاید جب تاریخ لکھی جائے گی تو ایبسٹین ایک ایسے کردار کے طور پہ سامنے ائے جس نے امریکی سیاست کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیا۔ جس طرح بل کلنٹن کی افئر کی وجہ سے انہیں پریزیڈنسی سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔ شاید ڈونلڈ ٹرمپ بھی اپنے مڈ ٹرم الیکشنز میں ایبسٹین فائلز کی وجہ سے صدارت سے جائیں۔ لیکن ابھی یہ محض قیاس ارائیاں ہیں۔ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے یہ بات وقت طے کرے گا۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ کیسے ایک معمولی سا سکول ٹیچر انسانوں کی وحشی جنسی جبلت کو ایکسپلوئٹ کر کے دنیا کا طاقتور ترین شخص بن گیا۔ وائٹ ہاؤس سے لے کر یاماہا پیلیس تک سارے دروازے اس پر کھل گئے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ان فائلز میں شامل نام فائلز کے اوراق تک محدود رہیں گے یا وہ امریکی نظام عدل جس کے ہم جیسے ذہنی غلام قوموں میں قصیدے پڑھے جاتے ہیں۔ وہ انہیں انصاف کے کٹہرے میں لائے گا۔ اس سوال کا جواب تو ہم جانتے ہیں کوئی انصاف نہیں ہوگا۔ اور جس نے انصاف انصاف کا زیادہ شور کیا اسے بھی ورجینیا جیوفری کی طرح خاموش کرا دیا جائے گا۔ ایک بات تو طے ہے کہ ایبسٹین کے پورے سکینڈل نے مغربی مورل سپیریورٹی کے متھ کو ختم کر دیا ہے۔ اس وقت دنیا میں ایک بہت بڑی تبدیلی کے اثار نظر ا رہے ہیں۔ ایک نیا ورلڈ ارڈر پیدا ہو رہا ہے۔ نئے اتحاد قائم ہو رہے ہیں اور شاید اسی دور کے لیے کسی نے کہا تھا۔ The old world is dying and the new world is being born. Now is the time for monsters. شاید ایبسٹین بھی اس ٹرانزیشن کے درمیان پیدا ہونے والا ایک مانسٹر تھا۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript