Thumbnail for 6 Big Mistakes That Sank the Unsinkable Titanic by Zem TV

6 Big Mistakes That Sank the Unsinkable Titanic

Zem TV

10m 16s1,642 words~9 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Use this transcript
Related transcript hubs

[0:00]1200 دنوں میں بنایا جانے والا ٹائیٹینک صرف 2 ہی گھنٹوں میں کیوں ڈوب گیا؟ 10 اپریل 1912 یہ وہ دن تھا جب دنیا کا سب سے بڑا اور مہنگا ترین بحری جہاز ٹائیٹینک اپنے پہلے سفر کے آغاز کے لیے بالکل تیار تھا۔ اس دن اٹلانٹک اوشن بے حد پرسکون تھا اور سمندری طوفان آنے کا دور دور تک کوئی چانس نہیں تھا۔ جہاز میں 1500 پیسنجرز سوار بھی ہو چکے تھے اور لاکھوں لوگ ڈاک پر ٹائیٹینک کے پہلے سفر کا آغاز دیکھنے کے لیے کھڑے تھے۔ نہ ہی پیسنجرز کو، نہ ہی الوداع کرنے والے لاکھوں لوگوں کو اور نہ ہی ٹائیٹینک کے عملے کو معلوم تھا کہ جو جہاز کچھ ہی دیر میں روانہ ہونے والا ہے اس کو بناتے وقت چھ ایسی غلطیاں کی گئی ہیں جو اس جہاز کو بدترین حادثے کا شکار بنانے والی ہیں۔ ذیم ٹی وی کی ویڈیوز میں ایک بار پھر سے خوش آمدید۔ ناظرین آج آپ جانیں گے اپنے دور کے سب سے مہنگے، سب سے لگژری اور سب سے طاقتور جہاز ٹائیٹینک کی 6 ایسی غلطیاں جو اگر نہ کی جاتیں تو شاید آج ٹائیٹینک کریش ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی کامیابی کی وجہ سے دنیا میں فیمس ہوتا۔ آخر ایسی کون سی چھ غلطیاں تھیں جو 40 سال ایکسپیرینس رکھنے والے ٹائیٹینک کے کیپٹن ایڈورڈ اسمتھ کو بھی نظر نہیں آئیں۔ کیپٹن کے 40 سال کے ایکسپیرینس کو تو چھوڑیں یہ غلطیاں ٹائیٹینک آپریٹ کرنے والی کمپنی دی وائٹ سٹار لائن جس کو 107 شپس آپریٹ کرنے کا ایکسپیرینس تھا ان کو بھی نظر نہیں آئیں۔ اور تو اور یہ غلطیاں ٹائیٹینک مینوفیکچر کرنے والی کمپنی ہارلینڈ اینڈ وولف کو بھی نظر نہیں آئیں جنہوں نے صرف ٹائیٹینک سے پہلے ہی 500 سے زیادہ شپس مینوفیکچر کی تھیں۔ ٹائیٹینک کی کنسٹرکشن 1907 میں شروع ہوئی تھی اور تقریبا 3 سال کا وقت اور 2000 ورکرز کی محنت کے بعد جہاز کو تیار کر لیا گیا۔ اب جہاز پوری طرح سے تیار ہو چکا تھا لیکن اس کو ٹیسٹ کرنے کا فیز ابھی باقی تھا۔ ٹائیٹینک بنانے والوں کا اس پر بھروسہ تب مزید بڑھ گیا جب ٹائیٹینک نے اپنا پہلا ٹیسٹ رن کامیابی سے پار کر لیا تھا۔ ٹیسٹ پاس کرتے ہی پوری دنیا میں مختلف اخبارات میں اس کی مارکیٹنگ کی گئی جس کی ہیڈنگ تھی ان سنگبل ٹائیٹینک۔ یعنی کبھی نہ ڈوبنے والا جہاز بنا لیا گیا ہے۔ جہاز کا پہلا سفر انگلینڈ کے شہر ساؤتھ ہیمپٹن سے شروع ہونا تھا جس کا دن 10 اپریل 1912 مقرر کیا گیا اور جس کی منزل امریکہ کا شہر نیویارک تھی۔ ٹائیٹینک کے اکنامی پورشن میں سفر کرنے کی قیمت 30 ڈالر جبکہ فرسٹ کلاس میں سفر کرنے کی 150 ڈالر تھی۔ جو آج کے دور میں 3 لاکھ 40 ہزار روپے بنتے ہیں۔ اس مارکیٹنگ کے نتیجے میں یکایک ساری ٹکٹس بک کر لی گئیں اور آخر کار وہ دن آ ہی گیا جب ٹائیٹینک اپنے پہلے سفر کا آغاز کرنے والی تھی۔ مسٹیک نمبر ون دوپہر کو ٹھیک 12 بجے ٹائیٹینک نے اپنے پہلے سفر کا آغاز کر دیا۔ اور ساتھ ہی ٹائیٹینک کی غلطیاں سامنے آنا شروع ہو گئیں۔ کیپٹن اسمتھ کو مالکان کی طرف سے ڈیڈلائن مل چکی تھی کہ کسی بھی صورت میں 17 اپریل تک یعنی صرف 7 ہی دنوں میں نیویارک پہنچنا ہے۔ اسی وجہ سے کیپٹن نے جہاز کی رفتار شروع سے ہی بہت تیز رکھی تھی اور یہی تھی ٹائیٹینک کی سب سے پہلی غلطی۔ کیپٹن اسمتھ کو مالکان کی دی گئی انسٹرکشنز اور پریشر کی وجہ سے نیویارک جلد سے جلد پہنچنا تھا کیونکہ یہ ٹائیٹینک کا پہلا سفر تھا اور اگر وہ نیویارک ٹائم سے نہ پہنچتے تو ٹائیٹینک کی ریپوٹیشن کو کافی نقصان ہوتا۔ دنیا کی کوئی بھی گاڑی ہو، مشین یا پھر جہاز ان کے کئی آپریٹنگ پروسیجرز ہوتے ہیں جن میں سپیڈ لیمٹ بھی ان پروسیجرز کا ایک پارٹ ہوتا ہے اور وہ پارٹ ٹائیٹینک کے سفر کے آغاز میں ہی وائلیٹ کیا گیا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں جہاز ساؤتھ ہیمپٹن کے پورٹ کو اتنا پیچھے چھوڑ گیا کہ اب دور دور تک نیلے سمندر کے علاوہ کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ مسٹیک نمبر 2 اب ٹائیٹینک کو چلتے ہوئے تین دن گزر چکے تھے۔ فرانس اور ائرلینڈ میں تھوڑی دیر کے سٹاپ کے علاوہ ٹائیٹینک پچھلے 72 گھنٹوں سے مسلسل نیویارک کی طرف بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ یہ 14 اپریل 1912 کی شام تھی۔ سمندر پر ہر طرف خاموشی اور دھند چھائی ہوئی تھی جس کی وجہ سے وزیبلٹی بھی کافی کم ہو چکی تھی۔ اسی رات ایک اور بحری جہاز جو کہ ٹائیٹینک سے کچھ گھنٹے ہی اگے تھا اس کے کیپٹن نے وائرلیس پر ٹائیٹینک کو سمندر پر تیرتی ہوئی چٹانیں یعنی آئس برگس کے بارے میں وارننگ دی تھی۔ ایکسپرٹس کا ماننا ہے کہ یہ وارننگ کم سے کم بھی چھ بار دی گئی تھیں۔ لیکن وائرلیس آپریٹرز کی کوتاہی کی وجہ سے انتہائی امپورٹنٹ وارننگز ان سے مس ہو گئیں۔ ان کے لیے شاید یہ نارمل بات تھی لیکن یہی تھی ٹائیٹینک کے عملے کی دوسری غلطی۔ کیونکہ ٹائیٹینک اپنے طرز کا پہلا لگژری جہاز تھا اور اس میں کئی وی آئی پیز بھی موجود تھے۔ اسی وجہ سے زیادہ تر ٹائیٹینک کا عملہ فرسٹ کلاس پیسنجرز کی خدمت میں مصروف تھا۔ اگر ان وارننگز کو سیریس لیا جاتا تو اگے کا پورا سین ہی الگ ہوتا۔ مسٹیک نمبر تھری جہاز کی سپیڈ بھی زیادہ تھی اور ان سے ایک بہت امپورٹنٹ وارننگ بھی مس ہو چکی تھی۔ ٹائیٹینک اب تیزی سے انتہائی بے خوف انداز میں آئس برگ کی رینج میں بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ لیکن ابھی بھی ٹائیٹینک کو حادثے سے بچایا جا سکتا تھا کیونکہ جہاز کے پہرے دار الرٹ تھے۔ جو کسی بھی آئس برگ کی اطلاع دور سے دیکھنے پر ہی کیپٹن کو دینے کے لیے ریڈی تھے۔ لیکن دور سے دیکھنے کے لیے ان کے پاس ایک چیز موجود ہی نہیں تھی اور وہ چیز تھی دوربین۔ جی ہاں پہرے دار الرٹ تو تھے لیکن وہ آئسبرگ کو دوربین نہ ہونے کی وجہ سے دور سے نہیں دیکھ سکے اور یہی تھی ٹائیٹینک کی تیسری غلطی۔ آئسبرگ کی خبر کیپٹن اسمتھ کو اس وقت ہوئی جب جہاز کے پہرے داروں نے خبر دی کہ جہاز کے بالکل سامنے ایک فٹ بال فیلڈ کی سائز جتنا آئسبرگ ہے۔ لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی کیونکہ آئسبرگ انتہائی قریب آ چکا تھا۔ مسٹیک نمبر فور کیونکہ اٹلانٹک اوشن میں اکثر شپس کو ایسے آئسبرگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کو بڑے بڑے بحری جہاز آرام سے ہینڈل کر لیتے ہیں۔ شاید کیپٹن اسمتھ نے بھی یہی سوچا تھا۔ آئسبرگ کی خبر ملتے ہی کیپٹن اسمتھ نے جہاز کے انجن بند کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی ٹائیٹینک کا رخ بدلنے کا بھی ارڈر دیا۔ بیشک کیپٹن اسمتھ نے آئسبرگ سے بچنے کی بہت کوشش کی لیکن فاصلہ اتنا کم رہ گیا تھا کہ کچھ بھی کرنا فضول ثابت ہوا۔ آئسبرگ اب ٹائیٹینک کے سینٹر سے ٹکرا چکا تھا۔ لیکن ٹائیٹینک کے ابھی بھی بچنے کی کافی امید باقی تھی۔ یہ امید باقی رہ گئی تھی کہ شاید آئسبرگ جہاز کی باڈی کو نقصان نہ پہنچائے یا پھر آئسبرگ جہاز سے ٹکراتے ہی خود ہی ٹوٹ جائے۔ اور شاید ہوتا بھی ایسے ہی اگر ٹائیٹینک کی چوتھی غلطی اپنا کام نہ دکھاتی۔ ایکسپرٹس کا ماننا ہے کہ ٹائیٹینک کی باڈی پر جو ریوٹس لگی تھیں وہ سٹیل کی نہیں بلکہ کاسٹ آئرن کی بنی تھیں۔ ان ریوٹس کا کام لوہے کے بڑے بڑے پیسز کو اپس میں جوڑے رکھنا ہوتا ہے۔ لیکن چونکہ کاسٹ آئرن سٹیل سے نرم ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے جس جگہ آئسبرگ ٹائیٹینک کی باڈی سے ٹکرایا وہاں کے ریوٹس پریشر کی وجہ سے کھل گئے اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر کیپٹن اسمتھ کو تھا۔ مسٹیک نمبر فائیو ٹائیٹینک کی ٹکر ایک فٹ بال فیلڈ جتنے بڑے آئسبرگ سے ہو چکی تھی اور اب جہاز کے نچلے حصے میں پانی بھرنا شروع ہو چکا تھا۔ اس خطرناک تصادم نے پورے عملے اور پیسنجرز کو الرٹ کر دیا تھا اور ساتھ ہی جہاز میں موجود ٹائیٹینک کے مالک جوزف بروس کو بھی۔ بیشک ٹائیٹینک میں پانی بھرنا شروع ہو گیا تھا لیکن ابھی بھی ٹائیٹینک کے بچنے کی امید باقی تھی کیونکہ ٹائیٹینک کو ایسے ڈیزائن کیا گیا تھا کہ اگر اس کے تین فلورز میں پانی بھر بھی جائے پھر بھی یہ نہیں ڈوب سکتا۔ لیکن بدقسمتی تھی اس جہاز کی کہ تین فلورز کو کراس کر کے پانی اب چوتھے فلور تک جا پہنچا تھا۔ اب معاملہ ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ ٹائیٹینک آہستہ آہستہ اوشن میں ڈوبتا جا رہا تھا۔ 2:18 پر شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ٹائیٹینک کی ساری روشنیاں بجھ گئی تھیں۔

[9:08]اور اگلے ہی لمحے جہاز ٹوٹ کر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ یوں ٹائیٹینک کو سمندر کے اندر مکمل طور پر ڈوبنے کے لیے 2 گھنٹے 40 منٹ لگے اور اس طرح 1500 لوگ اٹلانٹک اوشن کے ٹھنڈے پانی میں ڈوب کر مر گئے۔ آپ کو ایک اور بات بھی بتاتے چلیں کہ پانی کا ٹمپریچر اس وقت -2 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔ مطلب اگر پیسنجرز اس ٹھنڈے پانی میں چھلانگ بھی لگاتے تو بچنے کا کوئی چانس نہیں تھا کیونکہ انسان اتنے کم ٹمپریچر میں 30 منٹ سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ کہا جاتا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد 1500 سے بھی کافی زیادہ تھی کیونکہ جن لوگوں کی جہاز کے عملے سے جان پہچان تھی ان میں سے کافی لوگ جہاز پر بغیر ٹکٹ سوار ہوئے تھے۔ زندہ بچ جانے والوں میں سب سے زیادہ تعداد بچوں اور خواتین کی تھی۔ دوسری طرف کیپٹن اسمتھ تھا جو سارا وقت لوگوں کی جان بچانے میں لگا رہا اور وہ آخری آدمی تھا جس نے ڈوبتے جہاز سے چھلانگ لگائی تھی۔ امید ہے زیم ٹی وی کی یہ ویڈیو بھی اپ بھرپور لائک اور شیئر کریں گے۔ اپ لوگوں کے پیار بھرے کمنٹس کا بے حد شکریہ۔ ملتے ہیں اگلی شاندار ویڈیو میں۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript