[0:00]اشهد ان محمد رسول الله اما بعد فاعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله رب العالمين الرحمن الرحيم مالك يوم الدين اياك نعبد واياك نستعين اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين انعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين امین
[0:59]رب اشرح لی صدری و یسر لی امری واحلل عقدت من لسانی یفقهو قولی اللهم ربنا الهمنا رشدنا وعزنا من شرور انفسنا اللهم ارنا الحق حقا و ارزقنا اتباعه وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه اللهم ربنا يسر لنا امورنا كلها و اتمم لنا بالخير وتقبل منا فانك خير المتطهرين امین یا رب العالمین معزز حاضرین اور محترم خواتین ہم اللہ کے نام سے اس سال کی نماز تراویح کے ساتھ دور ترجمہ قرآن کا آغاز کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے میں عرض کر چکا ہوں۔ کہ اب میری عمر بھی کافی ہو چکی ہے۔ قمری حساب سے 68 برس مکمل ہو چکے ہیں۔ اور مختلف قسم کے عوارض بھی مجھے لاحق ہیں۔ اور بہت سے احباب نے اور رفقاء نے مشورہ دیا تھا کہ میں اتنا بڑا بوجھ اپنے ذمہ نہ دوں۔ لیکن میں نے خالصتا توکلا اللہ اس کی ہمت کی اس کا ارادہ کیا۔ اس کے لئے اہتمام بھی خصوصا ہوا ہے۔ مجھے اندازہ ہے کہ اب میرے خیالات کی جو روح ہے۔ وہ اتنی تیز نہیں ہے جتنی کبھی ہوا کرتی تھی۔ کراس ریفرنسز بھی جو ہیں قرآن حکیم کے وہ اتنے مستحظر نہیں ہیں جتنے کبھی ہوتے تھے۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ میری زبان بھی بعض اوقات لڑکھڑاتی ہے اس لیے کہ مجھے جو ادویات استعمال کرنی پڑتی ہیں ان کا عذاب پر بھی اثر ہوتا ہے اور جو ہمارے اعضاء رئیسہ ہیں ان پر بھی اثر ہوتا ہے۔ بہرحال ان سب کے الا رغم اللہ کا نام لے کر آغاز کر رہے ہیں۔ میری انتہائی گزارش یہی ہے تیرے نام سے ابتدا کر رہا ہوں۔ ابھی میں نے سورہ فاتحہ کی تلاوت کی اور اپ نے سماعت فرمائی۔ یہ سورہ مبارکہ مصحف کے اعتبار سے تو پہلی سورت ہے ہی سب کو معلوم ہے۔ لیکن یہ بھی نوٹ کر لیجئے کہ یہ نزول کے اعتبار سے بھی سب سے پہلی مکمل سورت جو حضور پر نازل ہوئی وہ یہی ہے۔ اس سے قبل متفرق آیات نازل ہوئیں۔ پانچ آیتیں سورہ علق کے آغاز میں کچھ آیتیں سورہ قلم یا سورہ نور کے آغاز میں کچھ آیتیں سورہ مزمل کی ابتدا کی کچھ آیتیں سورہ مدثر کے آغاز کی۔ پانچویں وحی تقریبا اس پر اجماع ہے کہ یہ سورۃ الفاتحہ کی ہے اور یہ مکمل سورت ہے جو حضور پر نازل ہوئی۔ سورۃ الفاتحہ کے معنی ہوئے افتتاح سورت۔ فتح یفتاح کے معنی ہیں کھولنا۔ مفتاح کنجی کو کہتے ہیں چابی کو۔ تو یہ اوپننگ سورہ آف دی قرآن قرآن حکیم کی افتتاحی سورت۔ ویسے جیسا کہ میں تعارف سے قرآن کے ضمن میں عرض کر چکا ہوں۔ عربوں کا یہ مزاج تھا کہ جس چیز سے انہیں خصوصی محبت ہوتی تھی اس کے بہت سے نام رکھتے تھے۔ اس کے بھی بہت سے نام ہیں۔ سورۃ الفاتحہ سب سے عام ہے۔ لیکن الکافیہ الشافیہ ام القرآن اساس القرآن کم از کم یہ چار نام تو میں سمجھتا ہوں کہ ہر مسلمان کو مزید معلوم ہونی چاہیے۔ اور بھی بہت سے نام ہیں۔ اس سورہ مبارکہ کی بالاتفاق بالاجماع سات آیتیں ہیں۔ اگرچہ ان کی ترتیب میں کچھ اختلاف ہے۔ ایک رائے یہ رائے امام شافعی کی بھی ہے اور بصرہ کے جو قراء تھے ان کی بھی ہے۔ کہ آیت بسم اللہ بھی سورہ فاتحہ میں شامل ہے۔ اس کا جز ہے۔ وہ اس کو شامل کر کے پھر سات آیتیں بناتے ہیں تو آخری جنہیں ہم دو آیتیں سمجھتے ہیں۔ صراط الذین انعمت علیهم غیر المغضوب علیهم ولا الضالین وہ ان کے نزدیک ایک آیت ہے۔ تو گویا کہ نتیجہ یہ نکلا کہ آیتوں کی تعداد سات ہی رہتی ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا موقف اور کوفے کے جو قراء تھے ان کا بھی موقف یہ ہے کہ آیت بسم اللہ نہ سورہ فاتحہ کا جز ہے نہ کسی اور سورت کا جز ہے۔ سوائے ایک مقام پر جہاں حضرت سلیمان علیہ السلام کا خط جو ہے نقل ہوا ہے جو انہوں نے ملک سماء کو لکھا تھا ان ہو من سلیمان ان ہو بسم اللہ الرحمن الرحیم تو قرآن کے متن میں صرف اسی جگہ پر یہ آیت شامل سمجھتے ہیں۔
[5:58]باقی یہ صرف علامت کے طور پر کہ یہاں سے ایک نئی سورت شروع ہو رہی ہے درج کی گئی۔ اس سورہ مبارکہ کو الصلاۃ قرار دیا گیا ایک حدیث میں اس کا جو اسلوب ہے وہ دعا کا ہے۔ اور دعا کے ساتھ اس کی جو مناسبت ہے اور پھر اسی کی وجہ سے ہماری نماز کا یہ جزو لا ينفک بنا دیا گیا۔ بلکہ ایک حدیث جو میں اپ کو سناؤں گا اس میں اسی کو نماز قرار دیا گیا۔ الصلاۃ یہی ہے۔ ویسے وہ حدیث مبارک موجود ہے لم یقرأ فاتحہ الکتاب صلاۃ لم یقرأ فاتحہ الکتاب جو شخص سورہ فاتحہ کی تلاوت نہیں کرتا اس کی کوئی نماز نہیں۔ اس کے حوالے سے بھی ہمارے ہاں دو مسلک ہیں ذکر صرف اس لیے کر رہا ہوں کہ اپ کے علم میں ہو ان میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ کسی بھی ایک رائے کا انسان قائل اور حامل ہو سکتا ہے۔ بغیر اس کے کہ دوسرے کو بالکل غلط قرار دے۔ بلکہ یہ کہ اس کے لیے بھی گنجائش اپنے ذہن میں اور اپنے دل میں رکھے۔ تو ایک رائے یہ ہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم اس سورت کا حصہ ہے۔ جی اور دوسری رائے یہ ہے کہ اس کا حصہ نہیں ہے۔ اسی اعتبار سے یہ کہ یہ سورہ مبارکہ نماز میں پڑھی جانی ضروری ہے۔ لم یقرا فاتحہ الکتاب۔ البتہ یہ اختلاف ہے یہ بات جو میں ذکر کر رہا تھا کہ ذہن سے نکل گئی کہ ایا مقتدی بھی ہے امام کے پیچھے کھڑا ہو کر جب نماز پڑھ رہا ہو تو کیا اس صورت میں بھی اس کے لیے لازم ہے کہ سورہ فاتحہ پڑھے۔ اس میں دو رائے ہو گئی بلکہ تین۔ ایک رائے انتہائی ہے اور وہ فقہ حنفی کی طرف منسوب ہے۔ کہ اگر اپ امام کے پیچھے متدی کی حیثیت سے نماز پڑھ رہے ہیں تو کسی بھی رکعت میں اپ سورہ فاتحہ نہیں پڑھیں گے۔ ایک دوسری بالکل برعکس رائے ہے وہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی ہے۔ کہ ہر حالت میں چاہے امام جہری رقاعت پڑھا رہا ہو جس میں وہ بلند اواز سے سورہ فاتحہ پڑھا رہا ہو اور چاہے وہ سری رقاعت ہو ہر حالت میں مقتدی کو بھی پڑھنی ہے۔ ایک تیسری رائے بین بین ہے وہ امام مالک کی ہے رحمۃ اللہ علیہ کہ جو سری رقاعت ہے اس میں کہ امام بھی خاموشی سے پڑھ رہا ہے مقتدیوں کو بھی پڑھنی چاہیے۔ جو جہری رقاعت ہے جس میں کہ امام بلند اواز سے پڑھ رہا ہے اس میں مقتدیوں کو خاموش رہ کر پوری توجہ جو ہے سننے پر صرف کر دینی چاہیے۔ القراۃ فاستمعوا له اور خود خاموش رہو۔
[8:44]میری اپنی رائے میں یہ تیسری رائے سب سے زیادہ صائب ہے اور اس میں کسی طرح کی بھی کوئی کوئی پیچیدگی پیدا نہیں ہوتی۔ بہرحال اس سورہ مبارکہ کا جو اسلوب ہے میں نے عرض کیا دعائیہ ہے۔ البتہ قرآن مجید کے علم و حکمت کے اعتبار سے اس کے فلسفے کے اعتبار سے ایک بات سمجھ لینی چاہیے۔ قرآن کا فلسفہ یہ ہے کہ بنیادی ہدایت ہر انسان کے دل میں موجود ہے۔
[9:17]بالقوة پوٹینشیلی یہ جو قرآن مجید یا اللہ کی کتابیں نازل ہوتی ہیں یہ انہیں ایکٹیویٹ کرتی ہیں۔ وہ اندر کے جو ڈارمٹ کانشیسس ہے خوابیدہ شعور جو ہے اسے بیدار کر کے اور پھر یہ کہ اسے اجاگر کرتی ہیں۔ ہر سلیم الفطرت انسان اور سلیم العقل انسان دو سلامتیں شرط ہیں سلیم الفطرت۔ نیچر پرورٹڈ نہ ہو۔ فطرت مسخ نہ ہو گئی ہو۔ عقل سلیم ہو۔ ان دونوں چیزوں کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ انسان از خود بغیر کسی وحی کی رہنمائی کے بغیر کسی نبی کی تعلیم کے سے استفادہ کیے ہوئے از خود بھی کچھ حقائق تک پہنچ جاتا ہے۔ اور وہ حقائق کیا ہیں نمبر ایک یہ کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے اور وہ ایک ہی ہے۔ اور وہ تمام صفات کمال سے متصف ہے۔ نمبر دو یہ کہ انسان کی زندگی صرف یہ زندگی نہیں ہے۔ بلکہ ایک اور زندگی ہے کہ جس میں اس زندگی کے اعمال کے نتائج برآمد ہوں گے۔ یہ دو باتیں اس کی زیادہ وضاحت کے ساتھ جو ہے اس کا تذکرہ ائے گا سورہ لقمان میں جہاں حضرت لقمان کی شخصیت کا تذکرہ ہے۔ لیکن یہاں صرف یہ بات سمجھ لیجئے۔ کہ قرآن کا فلسفہ یہ ہے کہ ہر انسان میں ہر فرد نوع بشر میں جو اپنی ولادت کے وقت مسلم ہوتا ہے۔ حضور کی حدیث ہے کل مولود یلد الفطر ابواہ یہدیہ یہودی و نصری و مجوسی ہر بچہ نوع انسانی کا فطر اسلامی پر پیدا ہوتا ہے۔ وہ فطرت کے اندر وہ ہدایت ونیات ہے۔ اب اگر وہ فطرت مسخ نہیں ہوئی اور عقل جو ہے وہ صحیح رخ پر کام کر رہی ہے۔ تو ان دو حقائق تک وہ انسان خود پہنچ جائے گا۔ لیکن ان دونوں حقائق تک پہنچنے کے بعد اب وہ دست بستہ دعا کرے گا کہ اے رب اب مزید ہدایت تو مجھے عطا فرما۔ ایک تو یہ کہ میں کیا کروں کیا نہ کروں۔ میری عقل اس میں ٹھوکر کھا سکتی ہے۔ میں کسی اچھی چیز کو بری سمجھ سکتا ہوں کسی بری کو اچھی سمجھ سکتا ہوں۔ تو مجھے صحیح صحیح راستہ صحیح صحیح راہ ہدایت پر چلا۔ یہ دعا ہے جو انسان کرتا ہے۔ جبکہ وہ ایمان باللہ اور ایمان بالاخرہ تک خود پہنچ چکا ہو۔ اور یہ سمجھتا ہے کہ صحیح زندگی کا رخ یہی ہے۔ کہ جس رب کو میں نے پہچانا ہے کہ وہ اس کائنات کا خالق ہے اور مالک ہے اور رب ہے۔ میں اس کی بندگی کروں اس کی اطاعت کروں اس کا حکم مانوں اس کے راستے پر چلوں لیکن وہ راستہ کونسا ہے؟ اس کے لیے پھر دست ب دعا ہوتا ہے کہ پروردگار تو میری رہنمائی فرما۔ یہ مقام ہے کہ جہاں اپ سمجھ لیجئے۔ اپنے اپ کو بھی اج اس جگہ پر تصور کرتے ہوئے پھر اس سورہ مبارکہ کو پڑھیے۔ کہ اپ اس مقام پر اللہ کے فضل و کرم سے پہنچ چکے ہیں کہ اللہ کو اپ نے پہچان لیا۔ اور اس کی توحید کو جان لیا۔ اس کے جملہ صفات کمال سے واقف ہو گئے۔
[12:38]اپ یہ بھی جان گئے کہ برقر اس کے حضور میں حاضر ہونا ہے اور وہ حساب کتاب لے گا۔ پھر اپ نے یہ عہد بھی کر لیا کہ اب زندگی گزارنی ہے اس رب کی بندگی میں اسی کی فرمانبرداری میں۔ اب یہاں کھڑے ہو کر اپ پوچھتے ہیں۔ کہ اللہ مجھے وہ تفصیلی ہدایت عطا فرما۔ ایسا نہ ہو کہ کبھی میں کسی راستے پر چلتا ہوا کسی پگڈنڈی پر مڑ جاؤں۔ اور وہ تھوڑی سی جو ڈیوییشن ہو میرے راستے کی وہ میری عاقبت کو برباد کر دے۔ یک لحظہ غافل گشت و سرسا راہ ہم دور شد اس لیے کہ ہوتا یہی ہے سیدھے راستے سے ذرا سی کوئی پگڈنڈی جو ہے تھوڑے سے تھوڑے سے اینگل پر نکلی ہے لیکن جب چلتے جائیں گے اپ تو جتنا اگے بڑھیں گے اس پر اس راہ صراط مستقیم سے اپ اتنے ہی زیادہ دور ہوتے چلے جائیں گے۔ یہ ہے قرآن مجید کی حکمت اور فلسفے کے اعتبار سے اس سورہ مبارکہ کا مقام۔ اب ائیے ہم بسم اللہ کرتے ہیں۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے جو رحمان اور رحیم ہے۔ اس پر کچھ گفتگو ہو چکی ہے تعارف قرآن کے ضمن میں کہ رحمان اور رحیم دو نام ہیں کہ جو رحمت کے مادے سے نکلتے ہیں۔ رحمان میں اللہ تعالی کی رحمت کا جوش ہجانی کیفیت طوفانی کیفیت۔ اور رحیم میں اللہ تعالی کی رحمت کا دوام اور تسلسل۔
[14:03]یہ دونوں کیفیات اللہ کی رحمت میں بیک وقت موجود ہیں۔ جس کا ہم تصور نہیں کر سکتے۔ ہم سمندر کو دیکھتے ہیں مطاطن سمندر ہے اس میں ہیجان ہے طوفان ہے۔ دریا کو دیکھتے ہیں کہ وہ سکون کے ساتھ چل رہا ہے خاموشی سے چل رہا ہے بہہ رہا ہے تسلسل کے ساتھ بہہ رہا ہے۔ ہم ان دونوں کیفیات کو علیحدہ علیحدہ دیکھتے ہیں تو ہمارا ذہن ان دونوں کو بیک وقت اس کا تصور نہیں کر سکتا تخیل ممکن نہیں۔ لیکن اللہ کی رحمت کی یہ دونوں شانیں مستقل اور ہر وقت موجود ہیں بیک وقت اسی لیے ان دونوں کے درمیان کہیں حرف عطف نہیں ائے گا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین کل حمد اور حمد کو ذہن میں رکھ لیجئے حمد مساوی ہے
[14:50]تعریف جمع شکر عام طور پر ترجموں میں ایک لفظ لایا جاتا ہے کل تعریف اللہ کے لیے ہے یہ کافی نہیں۔ تعریف اپ کسی شے کی کر سکتے ہیں جس میں کوئی حسن ہے خوبی ہے کسی بھی اعتبار سے خواہ اپ کو اس کے حسن و خوبی سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو رہا۔ ایک پھول ہے بہت خوبصورت ہے بس ٹھیک ہے خوبصورت ہے اپ نے کہا تعریف کر دی۔ شکر کرتے ہیں اپ اس شے کا جس سے اپ کو کوئی فائدہ پہنچا ہو استفادہ ہوا ہو اپ کی کوئی ضرورت پوری ہوئی ہو اپ کی کوئی مشکل رفا ہوئی۔ اور اپ دیکھیں گے کہ حمد میں یہ شکر کا پہلو غالب ہے۔ جتنی بھی دعائیں ہیں حضور سے منقول شکر کے مقام پر وہاں حمد آتا ہے بھوک لگی ہوئی تھی کھانا کھایا۔ الحمد للہ الذی اطعمنی و سقا نی۔ اب یہاں دیکھیے ترجمہ تعریف نہیں شکر ہے اس اللہ کا جس نے مجھے کھلایا اور پلایا۔ اب بیت الخلاء سے باہر ائے نجاستیں اپ سے دور ہو گئی طبیعت میں انشراب ہوا الحمد للہ الذی اذهب عن الاذا و عافانی شکر ہے اس اللہ کا جس نے اذیت بچ چیزیں مجھ سے دور کر دیں اور مجھے عافیت بخشی۔ تو یہ الحمد للہ رب العالمین اللہ تعالی کا حسن و کمال اور حسن و جمال اپنی جگہ بھی اس انتہا کا ہے کہ جتنی تعریف اس کا حق ہے ہم کر ہی نہیں سکتے۔ لیکن اس کے احسانات اور انعامات ہم پر اتنے ہیں۔ کہ ہم ان کو بھی گن نہیں سکتے۔ لہذا ایک ہی احسان ہم نے کر دیا الف لام کے ساتھ الحمد اللہ رب العالمین۔ تمام تعریفیں اور کل شکر اس اللہ کے لیے ہیں کہ جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ رب ہے۔ مالک ہے۔ رب میں ایک مفہوم ہوتا ہے ربوبیت کا اور اس میں مفہوم شامل ہوتا ہے تربیت کا ربانی سغیرہ۔ تو مالک ہونا اور تربیت دینا۔ اپ جس شے کے مالک ہوں گے اپ چاہیں گے اس میں بڑھوتری ہو۔ اس میں اضافہ ہو وہ نشو و نما پائے۔ تو یہ دونوں چیزیں اپس میں ایک دوسرے کا چوی ہوئے۔ پروردگار بھی اور مالک بھی ہے۔ عام طور پر عربی میں رب کا لفظ مالک کے لیے اتے ہیں۔ رب البیت رب الدار رب المال تو مال وہاں پر ظاہر بات ہے کہ اس سے مراد کیا ہے مال والا۔ گھر والا گھر کا مالک۔ تو کل شکر اور کل تعریف اس اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا مالک بھی ہے اور پروردگار بھی ہے۔ الرحمن الرحیم رحمان ہے اور رحیم ہے اب دوبارہ اس کی میں وضاحت نہیں کروں گا۔ مالک یوم الدین یوم دین کا مختار مطلق ہے۔ دین عربی زبان میں کہتے ہیں بدلے کو دنہ کما دا نو۔ کما تدینو تدانو یہ کہ آوٹ ہے۔ جیسے اردو میں ہم کہتے ہیں جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ کما تدین و تدانو۔ تو یہ بدلہ ہے۔ اس کا بنیادی مفہوم جو ہے وہ بدلہ ہے۔ تو بدلے کا ایک دن ہے جس دن فیصلہ ہو گا کہ کون کیا کما کر لایا ہے اسے کیا بدلہ ملنا چاہیے۔ ایا اس کا برائیوں کا پلڑا بھاری ہے کہ اسے سزا ملنی چاہیے۔ یا اس کی حسنات اور نیکیوں کا پلڑا بھاری ہے کہ اسے جزا ملنی چاہیے۔ اس کا انعام و اکرام کے ساتھ معاملہ کیا جانا چاہیے۔ وہ ایک دن ہے۔ اسے ہم یوم القیامہ کہتے ہیں۔ اور لیکن اصل بات جو یہاں کہی گئی یعنی ایک جملے میں تین باتوں کا اعتراف ہو رہا ہے۔ بعث بعد الموت ایک دن ائے گا کہ ہم مرنے کے بعد تمام انسان اٹھا لیے جائیں گے۔ پھر حساب و کتاب۔ پھر اللہ کے ہاں حاضری ہو گی اور حساب کتاب ہو گا۔ اور تیسرے یہ کہ اس حساب کتاب کے دن کا مختار مطلق اللہ ہے۔ یعنی کسی اور کو اپنے ذہن میں سہارا بنا کر اپ زندگی گزاریں کہ وہ مجھے چھڑا لے گا یا وہ مجھے وہ ہستی جو ہے اتنی زوردار ہے کہ وہ مجھے بچا لے گی۔ اس سے اپنے دل کو اپنے ذہن کو بالکل پاک کر لیجئے مالک یوم الدین ایک دوسری جگہ پر قرآن میں ایا ہے اس روز کو پکارنے والا پکارے گا للمن الملک الیوم للہ الواحد القہار اج کے دن کس کا اختیار مطلق ہے؟ اب پھر کہا جائے گا اللہ کے لیے الواحد القہار جو پوری طرح چھایا ہوا ہے۔ مستولی ہے۔ تو مالک یوم الدین جو جزا و سزا کے دن کا مالک ہے۔ اب یہاں سے کلام ایک رخ بدل رہا ہے۔ ابھی تک تو یہ غائبانہ انداز میں کلام ہو رہا ہے۔ اللہ سے خطاب نہیں ایا اس میں ابھی۔ الحمد للہ رب العالمین الرحمن الرحیم مالک یوم الدین اب خطاب ایا ہے۔ ایاک نعبد و ایاک نستعین ہم صرف تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور کریں گے۔ اور ہم صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں اور مانگیں گے۔ یہ ترجمہ میں کیوں کر رہا ہوں یہ فعل مضارع ہے۔ عربی زبان میں فعل مضارع حال اور مستقبل دونوں کو کور کرتا ہے۔ ایا کا جو ہے مفعول فاعل جو ہے مفعول جو ہے اس میں ضمیر مفعولی اسے پہلے لا کر حصر کا مضمون پیدا ہو گیا۔ ہم تیری بندگی کرتے ہیں نہیں ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور کریں گے۔ حال میں ترجمہ کیجئے تو یہ اظہار حال ہے۔ اور مستقبل میں ترجمہ کیجئے تو یہ ایک عہد ہے قول و قرار ہے۔ بہت بڑا معاہدہ ہے۔ اور ایاک نستعین اور صرف تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں اور مانگیں گے۔ اس میں بھی حال کا ترجمہ اظہار حال اللہ کرے کہ واقعی ہمارا حال وہی ہو جب ہم یہ الفاظ کہتے ہیں تو واقعتا ہم اس پر پورے اتر رہے ہوں کہ اسی کی بندگی کر رہے ہو۔ اور اسی سے ساری استعاذت استمداد کر رہے ہو۔ جہاں تک مستقبل کا تعلق ہے وہ پھر عہد ہے۔ اہنا الصراط المستقیم یہ مقام وہ اگیا کہ یہاں تک تو ہے پروردگار ہم پہنچ گئے ہیں۔ تیرے فضل سے تیرے کرم سے فطرت سلیمہ بھی تیری عطا کردہ تھی۔ عقل سلیم بھی تیری ودیعت کردہ تھی۔ ان دونوں کی روشنی سے ہم یہاں تک تو پہنچ گئے۔ اب ہماری جو ضرورت ہے احتیاط ہے وہ کیا ہے؟ اہنا الصراط المستقیم۔ ہدایت بخش ہمیں سیدھے راستے کی۔ یہاں دو باتیں سمجھ لیجئے۔ انفرادی سطح پر انسان کے لیے نہ معلوم کتنے مرحلے اتے ہیں ہر روز کہ جس میں وہ ایک ٹھٹک کر کھڑا ہو جاتا ہے یہ کروں یا یہ کروں۔ دو آلٹرنیٹ سامنے ا رہے ہیں۔ فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ قدم قدم پر ہدایت کی ضرورت ہے۔ اور اجتماعی طور پر نوع انسانی تین بڑے بڑے عظمی مسائل میں واقعتا یہ ہے کہ تسلیم کر لیا جانا چاہیے کہ عقل انسانی اس کو راستہ نہیں دکھا سکتی۔ عام معاشرتی سطح پر مرد اور عورت کے درمیان حقوق و اختیارات کا کیا توازن ہو۔ ناممکن ہے انسان طے نہیں کر سکتا۔ انسان یا مرد ہے یا عورت ہے۔ عورت سوچے گی اپنے لحاظ اپنے جذبات کا اپنے خیالات کا لحاظ رکھے گی مرد کے جذبات و احساسات کا اسے کوئی تعصب اس کا کوئی تصور ہی ممکن نہیں۔ مرد سوچے گا اسے اپنے احساسات معلوم ہیں لیکن یہ کہ عورت کے احساسات سے وہ نابلد ہے۔ ان کو محسوس کر ہی نہیں سکتا۔ لامحالہ وہ اپنے بارے میں وہ جو بھی نظام بنائے گا اس میں وہ اپنی بالادستی رکھے گا۔ وہ تو ایک ہی ہستی ہو سکتی ہے کہ جو دونوں کی خالق ہے۔ مرد کی بھی عورت کی بھی۔ اور اس کو دونوں سے محبت ہے۔ دونوں کا خیر خواہ ہے۔ دونوں کا رب ہے۔ دونوں کو پروان چڑھانا چاہتا ہے۔ اسی طرح فرد اور معاشرہ یا ریاست حکومت اور ریاست ہمیشہ یہ چاہتی ہے کہ سارے اختیارات ہمارے ہاتھ میں ا جائیں۔ ٹوٹلی ٹیٹینین سوسائٹی ہو بس ہم حکم دیں اور لوگ اس پر چلیں۔ افراد یہ چاہتے ہیں نہیں ہمیں ازادی ہونی چاہیے۔ اب اپ دیکھیں گے دنیا میں کتنے جھگڑے چلتے ہیں اسی پر فریڈم فریڈم فریڈم۔ وہ فریڈم واقعتا اپنی جگہ پر ایک شے ہے۔ افراد کی ازادی ہونی چاہیے۔ لیکن افراد کی ازادی اتنی نہ ہو جائے کہ وہ مادر پدر ازاد ہو جائے۔ کوئی قانون کوئی قاعدہ کوئی اخلاقی کوئی حدود و قیود جو ہیں ان کا پابند نہ رہے۔ تو اب کہاں ہے وہ نقطہ اعتدال کہ جس میں انسان کے انفرادی ازادی انفرادی اختیار اور ادھر اجتماعی مصلحتیں جو ہیں ان کو بیلنس کیا جا سکے۔ انسان طے نہیں کر سکتا صرف اللہ ہی اس کے لیے نظام دے سکتا ہے۔ تیسرا مسئلہ ہے سرمایہ اور محنت اس میں کیا توازن ہو۔ سرمایہ اور محنت دونوں مل کر کچھ بنا رہے ہیں۔ اس پروڈیوس کر رہے ہیں۔ اب اس میں نفع جو ہوا ہے اس میں سرمائے کا کتنا حصہ ہونا چاہیے اور لیبر کا کتنا ہونا چاہیے کون طے کر سکتا ہے۔ اس کے لیے بھی کہ ایسا نہ ہو کہ سرمایہ داری جو ہے اقاق بیل بن کر پورے معاشرے پر چھا جائے۔ اور غریب بیچارہ مزدود بیچارہ کاشتکار بیچارہ وہ گویا کہ چکی کے دو پاٹوں میں پس کر رہ جائے۔ اس کی کوئی حیثیت نہ رہ جائے۔ لیکن یہ کہ دوسری طرف اگر یہ کہ مزدور کا جو حق ہے اس سے زیادہ اس کو دے دیا جائے تو سرمایہ جو ہے وہ سکر جائے گا شاہی ہو جائے گا۔ وہ پھر میدان میں نہیں ائے گا۔ کیا کیا جائے۔ کون سا نقطہ اعتدال ہے۔ یہ تین مسائل ایسے ہیں۔ اہنا الصراط المستقیم۔ تو یوں سمجھیے کہ ایک جو بنیادی ہدایت تھی۔
[24:25]ایک اللہ کو پہچان لینا یہ جان لینا کہ کل حسن و جمال اور تمام انعام و اکرام کا مبا اس کی ذات ہے۔ وہ رحمان ہے اور رحیم ہے۔ اور یہ جان لینا کہ مرنے کے بعد جی اٹھنا ہے حساب کتاب ہے فیصلہ ہو گا جزا و سزا کا اور مختار مطلق اس دن کا اللہ ہے۔ پھر یہ عہد کر لینا ایاک نعبد و ایاک نستعین اس کے بعد دعا پروردگار ہمیں ہدایت پر قائم رکھ ہماری ہدایت میں اضافہ فرما اس ہدایت کے لفظ کو سمجھ لیجئے بنیادی ہدایت تفصیلی ہدایت قدم قدم پر ہدایت ہدایت پر ہدایت و الذی ہادہ زاہ و ہدا جو لوگ ہدایت کے راستے پر اتے ہیں اللہ ان کی ہدایت میں اضافہ کرتا ہے۔ تو یہ قدم قدم پر ہمیں ہدایت کی ضرورت ہے اور مرحلہ وار ضرورت ہے۔ ہدایت اس کو بھی کہتے ہیں کہ کسی نے اپ سے کوئی پتہ پوچھا اپ نے کہا ادھر جانا ہے پھر دوسری گلی میں مڑنا پھر جانا دو تین لائٹیں چلے جانا پھر مڑنا وغیرہ وغیرہ یہ بھی ہدایت ہے۔ نظری طور پر اپ نے بتایا ہے۔ ایک ہدایت یہ ہوئی کہ بھئی میں چلتا ہوں اپ کے ساتھ میں اپ کو وہاں تک پہنچا دوں گا تاکہ اپ کو دقت نہ ہو اپ نے منزل تک پہنچا دیا۔ ان دونوں کے درمیان یہ تو میں نے ایک فرد کی مثال دی ہے اللہ اور بندے کے درمیان نہ معلوم کتنے مراحل ہیں ہدایت کی۔ تو کسی وقت بھی انسان اپنے اپ کو ہدایت خداوندی سے مستغنی نہیں سمجھ سکتا۔ اور نہیں تو پروردگار جو ہدایت دی ہے اس کو ہدایت پر قائم رکھ کیا پتہ شیطان کا کوئی حملہ کیا پتہ ہمارے نفس کی کوئی شرارت کسی ایسے رخ پر ہمیں ڈال دے کہ اب تک کی ساری کمائی بھی ضائع ہو جائے۔ لہذا یہ نہ سمجھیے کہ جب یہ ساری چیزیں ان کو معلوم تھیں۔ ان چیزوں کا تو اقرار کر رہا ہے تو اب ہدایت کونسی مانگ رہا ہے تو ہدایت کا تو بڑا میدان کھلا ہوا ہے۔ اور اس ہدایت کی وہ جو میں نے اخری شکل اپ کو بتائی ہے کہ منزل مقصود تک پہنچا دے یہ ہدایت بھی قرآن مجید میں اس معنی میں بھی لفظ ایا ہے۔ کہ اہل جنت جب جنت میں داخل ہوں گے تو جو ترانہ حمد ان کی زبان پر اس وقت ہو گا وہ کیا ہے الحمد للہ الذی ہدانا و ما کنا لنہدیا اگر نہ اللہ کل شکر اللہ کا جس نے ہمیں یہاں تک پہنچا دیا۔ ہدایت دی یہاں تک یہاں تک پہنچا دیا۔ اور ہم ہرگز نہ پہنچ پاتے ہم ہرگز ہدایت یافتہ نہ ہو سکتے اگر اللہ ہی ہمیں ہدایت نہ دیتا۔ اہنا الصراط المستقیم سیدھا راستہ۔ صراط الذین انعمت علیهم اب اس کی مزید وضاحت ہے۔ راستہ اس کا ان لوگوں کا جن پر تیرا انعام ہوا۔ یہ کون لوگ ہیں؟ اس کی وضاحت اپ کو ملے گی سورہ نساء میں من یطیع اللہ رسول فاک مع الذین انعمت اللہ علی النبیین والصدیقین والشهداء والصالحین۔ چار طبقات ہیں منعم علیہم جن پر اللہ کا انعام ہوا ہے۔ چوٹی پر انبیاء کرام اس کے بعد صدیقین کرام اس کے بعد شہداء عظام اس کے بعد عام صالح مسلمان صالح۔ یہ بیس لائن ہے۔ اس سے اوپر کا درجہ شہداء کا ہے۔ اس سے اوپر کا درجہ صدیقین کا ہے۔ اور پھر اس سے اوپر کا درجہ انبیاء کا ہے۔ انبیاء میں سے پھر وہ بھی ہوتے ہیں کہ جو العزم من الرسل ہیں۔ لیکن یہ چار طبقات ہیں ان کے راستے پر ہمیں چلا۔
[28:13]غیر المغضوب علیہم ولا الضالین جو مغضوب علیہم نہیں ہوئے۔ جن پر تیرا غضب نہیں ہوا اور غضب ہوتا ہے ان پر کہ جو ہدایت کے واضح ہونے کے بعد ہدایت کو ترک کر دیں۔
[28:34]وہ ہیں مغضوب علیہم۔ جنہیں ہدایت مل گئی ہو ہدایت کو پہچان لیا ہو۔ پھر اپنی شرارت نفس کی وجہ سے اپنی نفسانیت کی وجہ سے اپنے تکبر کی وجہ سے اپنے حسد کی وجہ سے وہ اس رب اس حق کو رد کر دے۔ اس کو ترک کر دے۔ ان پر اللہ کا غضب اتا ہے۔ اور اس میں اس کی بہت بڑی مثال تاریخ کے اعتبار سے یہودیوں میں اللہ نے انہیں ہدایت دی کتاب عطا کی۔ تورات، انجیل، زبور سینکڑوں نبی ان میں مبعوث کیے۔ 1400 برس تک نبوت کا تار ٹوٹا ہی نہیں۔ مسلسل ابتدا میں بھی دو نبی موسی اور ہارون اور اختتام پر بھی دو نبی عیسی اور یحیی علیہم الصلوۃ والسلام اور ان کے مابین کوئی لمحہ نہیں ایا ہے تاریخ بنی اسرائیل میں جبکہ کوئی نہ کوئی نبی موجود نہ ہو۔ لیکن انہوں نے اپنی شرارت نفس کی وجہ سے ہدایت تورات سے بھی منہ موڑا اور پھر سب سے بڑی بات یہ کہ ہدایت محمدی سے ہدایت قرآنی سے بھی صلی اللہ علیہ وسلم منہ موڑا وہ ہیں مغضوب علیہم۔ و الضالین اور نہ ہی گمراہ ہوئے۔ یہ لفظ جو اتا ہے عربی زبان میں گمراہ کا بھی ہے اور تلاش حق میں بھٹکنے والے کا بھی ہے۔ ایک وہ شخص ہے جس پر حق ابھی واضح نہیں ہوا وہ تلاش میں ہے اس کے لیے بھی زال کا لفظ ائے گا۔ اسی طرح کوئی شخص کسی کے عشق و محبت میں ایسا ہو جائے دیوانہ ہو جائے اس کو بھی زال کہتے ہیں۔ یعنی اس کے اوپر جذبات کا اتنا غلبہ ہو گیا ہے کسی کی محبت و عشق کی بنا پر۔ تو حضور کے لیے یہ لفظ ایا ہے و وجدت ضالا فهدایا اور یہ تو سورۃ الضحی ہے۔ اکثر لوگوں کو یاد ہو گی تو یہ جو زال کا لفظ ہے اس میں سمجھ لیجئے ضروری نہیں ہے کہ وہ گمراہ ہو۔ بلکہ وہ بھی کہ جو ابھی راہ ہدایت کی طلب میں اس کے حصول کے لیے اس کی تلاش میں کوششاں ہیں۔
[31:16]اور وہ بھی کہ جو کسی مغالطے کی وجہ سے حق سے منحرف ہو جائے۔ یہ بھی جان لیجئے کہ ایک ہے بدنیتی تکبر حسد حق کو جان کر پہچان کر رد کر دینا یا چھوڑ دینا یا ترک کر دینا۔ ایک ہے کسی غلطی میں کسی جذبات کے اندر ا کر کسی غلف کے اندر مبتلا ہو کر اور حق سے منحرف ہو جانا۔ اس کی جو سب سے بڑی مثال ہے وہ نصاری ہے عیسائی ہے۔ حضرت مسیح کو انہوں نے مانا لیکن غلف کیا۔ یہ لفظ ائے گا اگے لا تغلو فی دینکم اپنے دین میں غلو نہ کرو۔ جیسے ہمارے ہاں بھی بعض لوگ ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی محبت کے اظہار میں غلف کر جاتے ہیں۔ یہ انتہا درجے کو ہو گیا تھا حضرت مسیح علیہ السلام کے ماننے والوں میں اور اس کی بنا پر انہوں نے تثلیس کا عقیدہ یاد کر لیا اور حضرت مسیح علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا بنا دیا۔ اس کی سب سے بڑی مثال ضالین کی اس اعتبار سے کہ ہدایت پانے کے بعد کسی بدنیتی سے نہیں بلکہ کسی اچھے جذبے میں غلو کی وجہ سے رسول سے محبت کرنا تو اچھا جذبہ ہے۔ لیکن یہ محبت بھی ایک حد میں رہنی چاہیے۔ غلو کرے گی تو ظاہر بات ہے کہ اس کے بعد وہ گمراہی کی طرف لے جائے گی۔ یہ ہے اس سورہ مبارکہ کا ترجمہ اور اس کے بعد اخیر میں امین کہنا یہ مسنون بھی ہے کہنا چاہیے البتہ اختلاف یہاں بھی صرف اتنا ہے کہ نماز میں جب اپ امام کے ساتھ ہیں وہ اگر جہری قرات کر رہا ہے تو ایا اس کے بعد اپ کو بھی بالجہر کہنا ہے امین یا نہیں کہنا یہ اختلاف ہے۔ ان میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ یہ چیز متفقہ علیہ ہے کہ کہنا ہے امین بلکہ یہ امین تو یہودوں میں بھی ہے۔ یہ امین جو ہے یہ عیسائیوں میں بھی ہے۔ ان کی بھی جو برنس پرےئر ہے اس کے بعد امین وہ ایمن کہتے ہیں وہ فرق کیا ہے وہ تو تلفظ کا فرق ہے۔ اسی طریقے سے اور بہت سے الفاظ ہیں ان میں بعد میں اب میں اس سورہ مبارکہ کے بارے میں خاص حدیث اپ کو سنانا چاہتا ہوں۔
[33:40]اور اسی سے در حقیقت جو امام ابو حنیفہ کا موقف ہے رحمۃ اللہ علیہ اس کی حقانیت مزید مبرہن ہو جائے گی۔
[33:53]یعنی کیا کہ آیت بسم اللہ سورہ فاتحہ کا جز نہیں ہے۔ سورہ فاتحہ الحمد للہ رب العالمین سے شروع ہوتی ہے۔ وہ میں اپ کو بتانا بھول گیا کہ جن کے نزدیک یہ سورت کا جز ہے وہ پھر جاہلی قرات میں بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی بلند اواز سے کہیں گے۔ اور جن کے نزدیک یہ سورہ فاتحہ کا جز نہیں ہے وہ نہیں کہیں گے وہ الحمد للہ رب العالمین سے قرات کریں گے۔ تو کوئی فرق نہیں ہے بنیادی۔ یہ حدیث جو ہے یہ مسلم شریف میں ہے اور حدیث قدسی ہے۔ اس کے راوی حضرت ابو ہریرہ ہیں رضی اللہ تعالی عنہ اور اس حدیث نے اس سورت کے مجامع مضامین کا نہایت عمدہ تجزیہ کر دیا ہے۔ حدیث کے الفاظ سن لیجئے قسمت صلاۃ بینی و بین عبد نصفین اللہ تعالی فرما رہے ہیں حدیث قدسی ہے۔ میں نے نماز کو صلوۃ کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان ادھا ادھا تقسیم کر لیا ہے۔ فصل ہلی و نصف ہا لی عبد اس کا نصف جو ہے وہ میرے لیے ہے۔ اور نصف جو ہے وہ میرے بندے کے لیے ہے۔ عبد ما سال
[35:08]اور جو میرے بندے نے مانگا میں اسے دوں گا میرا وعدہ ہے یا میں نے اسے دیا۔ اس کے بعد اس کی تفصیل اتی ہے۔ قال عبد جب بندہ کہتا ہے الحمدللہ رب العالمین قال اللہ حمت عبد جب بندہ کہتا ہے الحمدللہ رب العالمین اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے میری حق کی وذا قال الرحمن الرحیم قال اللہ مجد عبد جب بندہ کہتا ہے الرحمن الرحیم اللہ فرماتا ہے میرے بندے نے میری تمجید بیان کی میری بزرگی بیان کی اب یہ تین ایتیں ہو گئیں۔ تینوں میں اللہ کی حمد ہے ثنا ہے تمجید ہے۔ یہ تین ایتیں خالص اللہ کے لیے ہو گئیں۔
[36:04]اب چوتھی ایت ائی۔ ایاک نعبد و ایاک نستعین اس کے بارے میں جب بندہ کہتا ہے ایاک نعبد و ایاک نستعین قال اللہ تعالی هذا ما بيني و بين عبدي عبد ما سال یہ تو یوں سمجھیے کہ یہ گرا لگ گئی ہے میرے اور میرے بندے کے مابین اس نے مجھ سے قول و قرار کیا ہے۔
[36:39]اس نے تسلیم کیا ہے کہ میری ہی بندگی کرتا ہے اور کرے گا اور مجھ سے مدد چاہی ہے میری مدد اس کے شامل حال رہے گی۔
[37:59]واذا قال اور جب بندہ کہتا ہے اہنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیهم غیر المغضوب علیهم ولا الضالین قسم صلاۃ بینی و بین عبد نصفین فصل ہالی و نصف عبد و عبد ما سال اللہ تعالی اس سورہ فاتحہ کا جو اصل مفہوم ہے۔ وہ بھی ہمارے ذہنوں پر ہمارے شعور کی سطح پر اسے اجاگر کیے رکھے۔ ہمیں توفیق دے کہ جب بھی پڑھیں جب بھی سنیں تو وہ کیفیت اگر ہو جائے۔



