Thumbnail for Pakistan vs England T20 World Cup 2026 Match | Playing XI, Time & Schedule vs England | Sports Hub by Sports Hub Urdu

Pakistan vs England T20 World Cup 2026 Match | Playing XI, Time & Schedule vs England | Sports Hub

Sports Hub Urdu

11m 18s1,825 words~10 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Use this transcript
Related transcript hubs

[0:00]السلام علیکم دوستو۔ نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے میچ میں ایک پوائنٹ گوانے کے بعد پاکستانی کپتان اغا سلمان غصے میں ا گئے ہیں۔ جی ہاں دوستوں مطلب یہ کہ اب یہاں پر پاکستانی ٹیم کا جو اگلا سنیریو ہے وہ انگلینڈ کے خلاف بڑا میچ ہے۔ اور یہ میچ اگر پاکستانی ٹیم جیتی ہے تو یقینی سمجھ لیجئے کہ پاکستان ٹیم نے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔ اور یہاں پر پاکستانی ٹیم کی پلینگ 11 بھی ا چکی ہے اور پلینگ 11 وہ ائی ہے جس کا انتظار پاکستانی فینز کو تھا۔ اور پرچی پر انے والے کھلاڑیوں کو اس بات کا ڈر تھا۔ ائیے جانتے ہیں پاکستانی ٹیم کی پلینگ 11 جو انگلینڈ کے خلاف سپر ایٹ میں پاکستان ٹیم کے دوسرے میچ کے لیے رہنے والی ہے۔ جی ہاں دوستوں اسی کے ساتھ ساتھ اس میچ کا ٹائم ٹیبل اور شیڈول بھی اسی ویڈیو کے اندر جانتے ہیں اور اس کے علاوہ یہاں پر بارش کی کیا اپڈیٹ ہے یہ بھی معلوم کریں گے۔ اور اگر خدانخواستہ اس میچ میں بھی بارش ا جاتی ہے تو پاکستان کا پھر کیا حال ہو گا وہ بھی اپ لوگوں کو بتاتے ہیں۔ مکمل تفصیلات دیتے ہیں خاص طور پر پاکستانی ٹیم کی اوپننگ جوڑی کے بارے میں بھی بتاتے ہیں تو سب سے پہلے دوستوں اپ نے ویڈیو کو لائک کر دیجیے گا۔ اور اگر اپ چینل پر پہلی دفعہ ائے ہیں تو چینل کو سبسکرائب بھی کر دیجیے گا۔ اب ویڈیو کو بغیر وقت ضائع کیے دوستو سٹارٹ کرتے ہیں۔ سب سے پہلے پاکستانی ٹیم کی پلینگ 11 کے اوپر بات کرتے ہیں اس کے بعد اوپننگ جوڑی دیکھ لیں گے اور پھر اس میچ کا ٹائم ٹیبل اور شیڈول کی طرف بڑھیں گے اور اغا نے ٹیم کے بارے میں کون سا بڑا بیان جاری کیا ہے وہ بھی اخر میں جانیں گے۔ سب سے پہلے پلینگ 11 پر نظر ڈالتے ہیں تو اگر دوستوں پلینگ 11 کی بات کی جائے تو اپ لوگوں نے پلینگ 11 چیک کرتے جانا ہے۔ بس دیکھتے جانا ہے کہ کتنی زبردست پلینگ 11 تیار کی گئی ہے۔ لیکن ویڈیو میں اگے بڑھنے سے قبل دوستوں اپ سب سے صرف اتنی سی درخواست ہے کہ اپ جس جگہ جس شہر اور جس ملک سے بھی یہ ویڈیو دیکھ رہے ہیں۔ اس کا نام اپ نے کمنٹ سیکشن میں ضرور لکھنا ہے تاکہ ہمیں پتہ چل سکے کرکٹ شائقین دنیا میں کہاں کہاں موجود ہیں۔ تو دوستوں پلینگ 11 کچھ اس طرح سے ہے۔ نمبر ایک کے اوپر فخر زمان کی ٹیم میں واپسی ہو چکی ہے۔ جی ہاں دوستوں مطلب یہ کہ پاکستان کے فینز کو ایک بار پھر فخر زمان کے اصل فارم میں واپسی دیکھنے کو ملے گی۔ فخر زمان نے اچھی خاصی پریکٹس کی ہے اور وہ اوپننگ بھی کریں گے جو ٹیم کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے۔ جب بھی فخر زمان نے کم بیک کیا ہے انہوں نے کسی نہ کسی کھلاڑی کو اوپننگ یا اہم رول میں کم بیک کرنے کی ضرورت ہی نہیں دی۔ فخر زمان کی ٹیم میں واپسی اس وقت ہوئی ہے جب ٹیم کو ایک مضبوط اوپنر کی اشد ضرورت تھی۔ فخر زمان کی انٹری ہمیشہ کسی ولن کی طرح انٹری ڈالتی ہے۔ جہاں بھی فخر نے بڑے کارنامے کیے ہیں وہ اسی انداز میں ہوئے ہیں۔ پہلے ٹیم میں اس کی جگہ محدود بنتی تھی لیکن اس نے جیسے ہی جگہ پائی اس نے کسی کو بھی نہیں چھوڑا۔ اس وقت نمبر ایک پر فخر زمان ہے اور دوستوں یہ کہنا مشکل نہیں ہو گا کہ انگلینڈ کے خلاف پاکستان کا اوپننگ سٹینڈ اس وقت مضبوط ہو گیا ہے۔ نمبر دو پر دوستوں شاہزاد افرحان پاور ہیٹر جی ہاں دوستوں جو ابھی ٹیلنٹ پاور اور جگر کی وجہ سے ہر ٹیم کے لیے اہم ہے۔ فرحان تقریبا ہر میچ میں بہترین پرفارم کرتے ائے ہیں سوائے ایک میچ کے جو انڈیا کے خلاف تھا۔ اس نے ہر میچ میں کارکردگی دکھائی ہے اور ائی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ رنز بھی انہی کے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ جب صاحبزادہ فرحان فخر کے ساتھ اوپننگ کریں گے تو میچ میں مزہ اور دلچسپی دگنی ہو جائے گی۔ کیونکہ دونوں اوپنرز اگر اپنے اغاز میں ہی جو ہے نا پوزیشن سنبھال لیں گے اور مخالف ٹیم کے اوپر اٹیک شروع کر دیں گے تو پھر میچ یک طرفہ ہو سکتا ہے۔ صاحبزادہ فرحان کی موجودگی اوپننگ نائن میں پاکستان کو ایک مضبوط اور بالکل بڑا زبردست پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے۔ نمبر تین پر دوستوں سائم ایوب ہیں۔ سائم کی ٹیم میں جگہ بنانا ضروری تھی کیونکہ وہ اوپننگ کے لیے نہیں ہے۔ سیدھی اور صاف بات یہ ہے کہ سائم کو اوپننگ پر کھلانا سراسر غلطی ہوگی۔ اسی وجہ سے انہیں نمبر تین پر رکھا گیا ہے۔ کیونکہ دوستوں اپ لوگوں نے دیکھا ہوگا ورلڈ کپ کے ابھی تک جتنے بھی سائم نے میجرز کھیلے ہیں وہ ایز اے اوپنر کوئی بھی خاص پرفارمنس نہیں دے سکے۔ اس لیے اب سائم ایوب کو مڈل ارڈر میں ایک بیک اپ کے پلیئر کے طور پر کام دیا جا رہا ہے۔ اور ان کی موجودگی سے ٹیم کو بیٹنگ میں توازن ملے گا۔ اگر فخر یا فرحان ابتدائی وکٹیں کھو بھی دیں تو پھر بھی پاکستان کی موجی پوزیشن مضبوط رہے گی۔ اس کے بعد نمبر چار پر بابر اعظم ہیں۔ جو ٹیم کے سب سے تجربہ کار اور اہم بیٹسمینوں میں سے ہیں۔ بابر کو نمبر چار پر رکھنا ایک سمارٹ فیصلہ ہے کیونکہ وہ کسی بھی دباؤ میں ٹیم کو سنبھال سکتے ہیں۔ یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ اغا سلمان نمبر پانچ پر ہیں۔ جو ٹیم کو بیٹنگ لائن اپ کو مکمل کرتے ہیں۔ اگر سائم ایوب کو بولنگ رول دیا جائے تو بابر نمبر تین پر ا سکتے ہیں لیکن انگلینڈ کے خلاف یہی ترتیب رکھی گئی ہے کہ نمبر تین پر سائم، نمبر چار پر بابر اور پھر نمبر پانچ پر اغا سلمان ہوں گے۔ مائیک ہیسن نے بھی کہا ہے کہ اتنی بڑی تبدیلی ایک دم سے نہیں کی جا سکتی۔ جی ہاں دوستوں اغا سلمان اپ لوگوں کو اب نمبر پانچ پر نظر ائیں گے۔ جو اپنے فارم اور بیٹنگ کے ساتھ ٹیم کو مضبوطی دیں گے۔ اغا سلمان کی موجودگی سے بیٹنگ لائن اپ بیک اپ جو ہے نا اعتماد دونوں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہاں پر دوستوں اب یہ بھی دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اغا سلمان اور بابر اعظم کے درمیان بیٹنگ کی ترتیب میں توازن برقرار رہتا ہے یا پھر نہیں۔ اغا سلمان نے اہم لمحات میں رنز بنائے ہیں اور ٹیم کو مشکل حالات سے نکالا ہے جبکہ بابر اعظم ایز اے اینکلر پلیئر ٹیم کو سنبھالتے ہیں۔ اس کے بعد دوستوں نمبر چھ پر عثمان خان ہیں جو اس وقت ٹیم میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ خواجہ نافل کو ڈراپ کر دیا گیا ہے اور عثمان خان کو شمولیت ایک بہترین فیصلہ ہے۔ عثمان خان وہی کھلاڑی ہیں جنہوں نے دوستوں انڈیا کے خلاف تھوڑی بہت عزت بچائی تھی پاکستان کی اور اس بار بھی اسی طرح کی پچ پر میچ ہو گا جس کی وجہ سے ان کی ترتیب واضح ہے۔ اس کے بعد دوستوں شاہداب خان اگلے نمبر پر ہیں جنہیں فل ٹاس خان بھی کہا جا رہا ہے ان کی بری پرفارمنس کی وجہ سے۔ شاہداب خان نے اپنی جگہ مضبوط اس وقت کر لی ہے حالانکہ پرفارمنس نہیں ہے صرف پرچی کی بنیاد پر۔ ٹیم میں کئی کھلاڑی پرچیاں لے کر گھومتے ہیں بغیر پرچی کے ٹیم میں جگہ بنانا اس وقت مشکل ہے لیکن شاہداب نے اپنی کارکردگی سے یہ مقام برقرار رکھا ہے۔ یعنی کہ کارکردگی پرچی والی اگر دوستو ابرار احمد یا دیگر کھلاڑی انڈیا کے خلاف پرفارم نہیں کر پائے تو پھر پرفارم شاہداب خان نے بھی نہیں کیا۔ تو پھر کیوں شاہداب خان کو ٹیم سے ڈراپ نہیں کیا جا رہا اور بار بار انہیں پرفارمنس نہ ہونے کے باوجود ٹیم میں شامل کیا جا رہا ہے۔ ایک مرتبہ پھر اپ لوگ دیکھیں گے کہ اس میچ میں شاہداب خان ٹیم کا حصہ ہوں گے۔ اس کے بعد دوستوں اگلے نمبر پر محمد نواز ہیں۔ اور ان کی شمولیت لازمی ہے۔ نواز اس وقت ٹیم کے حقیقی میچ ونر ہیں جنہوں نے اپنے بل بوتے پر اپنی جگہ برقرار رکھی ہوئی ہے۔ وہ اپنے تجربے اور صلاحیت سے ٹیم کو مشکل حالات میں جتوا سکتے ہیں۔ نواز کی بیٹنگ اور بولنگ دونوں پہلوؤں میں ٹیم کے لیے پرفارمنس کا بھروسہ ہے۔ اور وہ کسی بھی لمحے میچ کا رخ بدل سکتے ہیں۔ اس کے بعد دوستوں عثمان طارق ایک فل ٹائم سپنر کے طور پر شامل ہے۔ اور یوں کہا جائے کہ وہ پاکستان کے اس وقت پریمیم فاسٹ بولر بن چکے ہیں تو غلط نہ ہو گا۔ وہ اس وقت پاکستانی ٹیم کے بہترین بولروں میں سے ایک ہیں۔ انڈیا کے خلاف ڈیتھ اوورز میں عثمان خان نے زبردست رنز کے جو ہے نا روکے اور اہم وکٹیں حاصل کی۔ جبکہ دیگر بولرز نے وہاں پر 17 رنز دیے تھے۔ اس کے باوجود ٹیم کے لیے بیٹنگ پر دباؤ ڈالنے اور رنز روکنے میں بھی بڑا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ڈیتھ اوورز میں بھی ٹیم کو سنبھال لیتے ہیں وکٹیں بھی نکال لیتے ہیں اور مخالف ٹیم کو باندھ کر بھی رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ دوستوں سلمان مرزا فاسٹ بولر کے طور پر ٹیم میں شامل ہیں۔ بیچارے سلمان مرزا باوجود اچھی پرفارمنس کے کم فین فالونگ کی وجہ سے اکثر ٹیم سے باہر ہو جاتے ہیں۔ لیکن اس بار ان کو شامل کیا گیا ہے۔ سلمان مرزا نسیم شاہ اور رانا فہیم اشرف کے ساتھ ٹیم کی فاسٹ بولنگ لائن اپ مضبوط ہو جائے گی۔ اور وہ انگلینڈ کے خلاف اہم وکٹیں حاصل کرنے میں مددگار بھی ثابت ہوں گے۔ اب دوستوں ٹیم میں ابھی عباس افریدی اور سفیان مقیم بھی کو بھی ہونا چاہیے تھا لیکن ان کے فین فالونگ زیادہ نہیں ہیں۔ وہ پرچی سسٹم کے بیس پر نہیں ائے۔ اس لیے ان کو نہ سکواڈ میں رکھا گیا ہے اور نہ ہی جب سکواڈ میں نہیں ہے تو پھر پلینگ 11 میں تو ہوں گے ہی نہیں۔ یوں کہا جائے کہ سراسر ان کے ساتھ زیادتی ہے تو پھر یہ غلط نہ ہو گا۔ اس کے بعد دوستوں رانا فہیم اشرف اخری نمبر پر ہیں۔ ان کی شمولیت ٹیم کے فاسٹ بولنگ اٹیک کو مکمل کرتی ہے۔ تو دوستوں یہ ہے پاکستانی ٹیم کی پلینگ 11 جو انگلینڈ کے خلاف اگلے ال امپورٹنٹ میچ جو اپ کو نظر انے والی ہے۔ اگر اس میچ میں بارش کے امکانات کی بات کی جائے تو دوستوں ابھی تک کی ویدر اپڈیٹس کے مطابق اس میچ میں بارش نہ ہونے کے امکانات ہیں جو پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے اچھی خبر ہے۔ اور اگر اس میچ کے ٹائم ٹیبل اور شیڈول کی بات کی جائے تو یہ میچ دوستوں کل 24 فروری کو پاکستانی وقت کے مطابق شام 6 بج کر 30 منٹ پر شروع ہو گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان اس میچ کا کس طرح سے اغاز کرتا ہے۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript