[0:00]اللہ نے فرمایا ایسا نہیں ہے جس کو اللہ رب العزت عطا فرمانا چاہتا ہے بعض مرتبہ وہ انگوٹھا چھاپ ہوتا ہے اپنی سگنیچر تک نہیں کر سکتا اللہ اس کو جو ہے وہ اربوں روپے کا مالک بنا دیتا ہے اور دوسری طرف کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بہت سارے بڑے بڑے پڑھے لکھے لوگ پی ایچ ڈی قسم کے لوگ جو ہے وہ کسی انپڑھ کے ساتھ جو ہے نا وہ اس کی کلرک کے طور پہ نوکری اور جاب کرنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں۔ تو اس کا معنی یہ نکلا کہ سارا سارا دن سوشل میڈیا پر مصروف رہنا فضولیات میں لگے رہنا لغویات میں لگے رہنا ہر وقت ہنسنے ہنسانے کی چیزیں دیکھتے رہنا یا اللہ تعالی کی نافرمانی کی چیزوں کو دیکھتے رہنا یہ سارے کا سارا لوحدیث ہے اور اس کا مقصد کیا ہے کہ جب یہ لوگ ان کے اوپر چلے جاتے ہیں تو پھر وہ کیا کرتے ہیں؟ اللہ رب العزت کے راستے سے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں تو اللہ رب العزت نے یہاں پر یہ بات کلیئر کٹ ارشاد فرما دی کہ اڈاپٹڈ چائلڈ جو ہوتا ہے وہ اپنے ماں باپ کا ہی بیٹا ہوتا ہے وہ کبھی بھی تمہارا بیٹا نہیں بن سکتا نہ وراثت میں حقدار ہوگا۔ نہ جو ہے وہ کسی بھی طرح سے اس سے پردے کے احکام ساقط ہوں گے۔
[1:03]اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین وعلی الہ وصحبہ اجمعین ومن تبعہم باحسان الی یوم الدین رمضان المبارک میں خلاصہ مضامین قران مجید کے حوالے سے اج ہماری 21 نشست ہے جس میں انشاء اللہ تعالی ہم 21ویں پارے کے مضامین کا مختصر طور پر جائزہ لیں گے۔ ابتداء میں سورۃ العنکبوت کا اخری حصہ ہے پھر اس کے بعد 21ویں پارے میں سورہ روم مکمل ہے پھر سورہ لقمان مکمل ہے پھر سورہ سجدہ مکمل ہے۔ اور تقریبا ادھی جو ہے وہ اس میں سورۃ الاحزاب ہے۔ اس پارے کے اخر میں ابتداء میں اللہ رب العزت نے جو احکام اس میں بیان فرمائے ہیں۔ اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں ایت نمبر 45 ہے سورۃ العنکبوت کی تلو ما اوحی الی من الکتاب اقیم الصلوۃ اللہ فرماتے ہیں کہ جو اپ کی طرف وحی کی جاتی ہے اس کی تلاوت کیجئے اور نماز کو قائم کیجئے ان الصلوات تنہا عن الفحشاء و المنکر بے شک نماز بے حیائی سے اور برائی کی باتوں سے برے کاموں سے منع کرتی ہے۔ لیکن اس کے بعد اللہ نے فرمایا ذکر اللہ اکبر اور اللہ رب العزت کا ذکر تو بہت ہی بڑی چیز ہے۔ لیکن کون سی نماز ہے جو انسان کو بے حیائی سے اور بری باتوں سے منع کرتی ہے؟ اس میں کچھ باتیں اور کچھ شرائط ہیں جن کو ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ نماز اخلاص کے ساتھ پڑھی جائے خالص اللہ رب العزت کی رضا کے لیے پڑھی جائے صرف عادت کے طور پر نماز نہ پڑھی جائے۔ اسی طرح سے دل کی صفائی کے ساتھ خشوع و خضوع کے ساتھ باجماعت نماز ادا کی جائے سنت کے مطابق ادا کرنے کی کوشش کی جائے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح حدیث میں ارشاد فرمایا صلو کما صلی نماز ایسے پڑھو جیسے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ممبر پر کھڑے ہو کر باقاعدہ نماز پڑھ کر دکھایا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ جو ارکان جیسے جیسے میں ادا کرتا ہوں ایسے ایسے تم بھی اس کو ادا کرنا سیکھ لو اسی طرح سے وقت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ہے وہ نماز پڑھنا سکھایا۔ اور جو بھی اس کا ابتدائی اور انتہائی وقت ہے وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بتایا اللہ رب العزت نے فرمایا کہ نماز مومنین پر وقت مقررہ پر فرض کی گئی ہے لہذا وقت مقررہ پر نماز ادا کی جائے کیونکہ صحیح حدیث میں موجود ہے کہ جو شخص نماز کو اتنا لیٹ کرتا ہے کہ سورج جو ہے وہ شیطان کے دو سنگوں کے بیچ میں ا جاتا ہے یعنی عصر کی نماز کے بارے میں بطور خاص ارشاد فرمایا تو فرمایا حدی الصلات المنافق تین مرتبہ ارشاد فرمایا کہ یہ منافق کی نماز ہے۔ صحابہ نے پوچھا اللہ کے رسول کون سی نماز تو اپ نے فرمایا جو سورج کے غروب ہونے کا انتظار کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہونے لگتا ہے تو اٹھتا ہے اور چار ٹھونگے مار لیتا ہے تو اس کا معنی یہ ہے کہ اس طرح کی نماز اللہ رب العزت کے ہاں قبول نہیں ہوتی۔ اور وہ نماز کبھی بھی انسان کو بے حیائی اور برائی کی باتوں سے منع نہیں کر سکتی جس میں اخلاص نہ ہو جس میں خشوع و خضوع نہ ہو جو سنت کے مطابق نہ ہو جس میں وقت کی پابندی نہ ہو جس میں باجماعت جو ہے وہ اس کا اہتمام نہ ہو۔ اس کے بعد اللہ رب العزت نے ایت نمبر 50 میں ارشاد فرمایا قال انزل علیہ من مشکین مکہ کہا کرتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اللہ تعالی کی کوئی نشانی کیوں نہیں اتی؟ اللہ نے فرمایا انما ایات عند اللہ ان کو بتائیے کہ یقینا یہ ساری ایات اور جو نشانیاں ہیں وہ اللہ رب العزت کے پاس ہیں اور میں اللہ تعالی کی طرف سے واضح ڈرانے والا بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اس سے مراد اصل میں ان لوگوں کی یہ تھی یہ چاہتے تھے کہ جیسے صالح علیہ السلام کو اللہ نے اوٹنی دی جیسے موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ رب العزت نے عصا کا جو ہے وہ اژدہا بن جانا اسی طرح سے ید بیضا اور اس طرح کی کوئی نشانی جو ہے وہ جیسے پہلے انبیاء کو اللہ رب العزت نے دی تو ایسی نشانی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں نہیں دی جاتی؟ تو اللہ رب العزت نے اس کے بارے میں بڑی پیاری بات ارشاد فرمائی نیکسٹ ایت میں ایت نمبر 51 میں انزل علیک الکتاب کیا ان کے لیے یہ نشانی کافی نہیں ہے کہ ہم نے قران مجید کو نازل کیا ہے؟ چونکہ عرب تھے اپنی زبان دانی پر ان کو بڑا مان تھا تو اللہ رب العزت نے وہ نشانی ان کو عطا فرمائی جس کی ان لوگوں کے نزدیک بڑی اہمیت اور حیثیت تھی کیونکہ ان سے پوچھا جاتا کہ فخر کیا ہے تو کہتے دنیا میں سب سے بڑا جو پراؤڈ ہے وہ تو صرف یہ ہے کہ کوئی بندہ عربی نسل ہو بھلے اس کو کچھ بھی نہ اتا ہو۔ تو اس وجہ سے جو ہے وہ اللہ رب العزت نے فرمایا کہ تمہیں اللہ نے وہ قران جو ہے وہ نشانی کے طور پر دیا ہے جس قران مجید کا تمہارے پاس کوئی جواب نہیں ہے تم ایک ایت نہیں بنا سکتے 10 ایاتوں کا چیلنج دیا وہ نہیں بنا سکتے ایک سورت کا چیلنج دیا وہ نہیں بنا سکتے اس میں وہ سٹوریز اور واقعات اللہ نے بیان فرمائے ہیں۔ جن کی تمہاری تاریخ گواہی دیتی ہے تمہارے بڑے اباؤ اجداد سے تم نے سن رکھی ہیں اور جو ہے وہ اس کے باوجود تمہیں یہ بات سمجھ نہیں اتی کہ اللہ تعالی کی کتنی بڑی نشانی ہے پھر اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی ہی تمہارے اور میرے درمیان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے فرمایا کہ ان سے کہہ دیجئے میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کے طور پر کافی ہے۔ وہ ہی اسمان و زمین کی ساری باتوں کو جانتا ہے اور وہ لوگ جو باطل پر ایمان لاتے ہیں باطل کیا ہے ہر وہ چیز جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری میں دین کی قبولیت میں رکاوٹ ہو وہ باطل ہے۔ چاہے وہ شرک ہو چاہے وہ نفاق ہو چاہے وہ اس کے علاوہ جو ہے وہ ایزم ہو کسی بھی طرح کا ایسا سورس اف اور ذریعہ جو انسان کے دین کو قبول کرنے میں رکاوٹ ہو وہ باطل ہے۔ اللہ فرماتے ہیں باطل پر ایمان لانے لانے والے اللہ کے ساتھ کفر کرنے والے یہی لوگ اصل میں خسارہ پانے والے ہیں۔ ایت نمبر 56 میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں سورۃ العنکبوت کی اے میرے وہ بندو جو ایمان لائے ہو ان ار واسع ف دنیا بعد و عبون میری زمین بڑی وسیع ہے تو تم کسی دوسری جگہ چلے جاؤ تاکہ تم خالص میری عبادت کر سکو۔
[6:37]اس میں بنیادی طور پہ یہ بات اللہ رب العزت نے ارشاد فرمائی ہے کہ اگر کسی جگہ پر رہ کر اسلام کے اوپر عمل کرنا مشکل ہو اسلام پر عمل پیرا ہونا مشکل ہو جائے اسلام کی جو احکامات ہیں ان کو بجا لانا مشکل ہو جائے۔ تو اللہ رب العزت نے فرمایا کہ اب قیامت والے دن تمہارا یہ عذر قابل قبول نہیں ہوگا کہ تم جو ہے وہ قیامت والے دن اللہ سے کہو چونکہ ہم وہاں پہ پھنس گئے تھے سٹرک ہو گئے تھے اس وجہ سے جو ہے وہ ہم اس کے اوپر عمل نہیں کر سکے۔ اللہ نے فرمایا میری زمین بڑی وسیع ہے کہیں اور چلے جاؤ یہاں سے ایک پوائنٹ کے طور پر اور مسئلہ کے طور پر یہ بات بھی سمجھنے والی ہے۔ خاص طور پر وہ اوورسیز لوگ جو یورپ یورپ میں جا کے اباد ہو جاتے ہیں۔ یا اسی طرح سے مغربی ممالک میں اباد ہو جاتے ہیں۔ اور پھر اس کے بعد وہاں کی بہت سارے معاملات کو بطور عذر پیش کر کے اسلام کی بہت سارے احکامات کو وہ چھوڑنے کی طرف چلے جاتے ہیں ان کے لیے جائز نہیں ہے۔ سب سے پہلے تو دارالکفر میں رہائش اختیار کرنا ان کے لیے جائز نہیں ہے۔ جہاں جائیں کاروبار کریں بزنس کریں جاب کریں اور واپس ا جائیں اپنی رہائشیں اپنے بچوں کو وہاں پہ رکھنا اور اس طرح کے مسائل ہمارے سامنے موجود ہیں کہ بڑی مشکل سے ایک نسل بچتی ہے دوسری نسل اسلام سے جو ہے وہ بالکل خارج ہو جاتی ہے۔ تیسری نسل تو بالکل ان کو پتہ ہی نہیں ہوتا اسلام کیا ہوتا ہے الا ماشاء اللہ تو اس وجہ سے ایسے کسی بھی جو ہے نا وہ جو چیز اپ کی بائی چوائس ہے اس کو اپ جو ہے وہ زبردستی اسلام کے پوائنٹ اف ویو سے عذر اور بہانہ نہیں بنا سکتے۔
[8:03]اس کے بعد اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ اللہ رب العزت ہی کے ہاتھ میں ہر شخص کا رزق ہے۔ وہ جس کا چاہتا ہے رزق بڑھا دیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے رزق تنگ کر دیتا ہے یقینا اللہ رب العزت ہر چیز کو جاننے والے ہیں۔ اس کا معنی یہ ہے کہ کسی کے بھی ہاتھ میں کسی شخص کا رزق نہیں ہے۔ جیسے اللہ رب العزت نے 12 پارہ کی پہلی ایت میں فرمایا رزق جتنے بھی زمین کے اندر چلنے والے جتنے بھی ذی روح لوگ موجود ہیں جن جن کی جو جو خوراک ہے ایون کہ درختوں کی بھی اگر کوئی خوراک ہے اگر انسیکٹس کی کوئی خوراک ہے چرن پرند کی کوئی خوراک ہے۔ وہ سب اللہ رب العزت کے ذمے ہیں اور اللہ جس کا چاہتا ہے رزق بڑھا دیتا ہے اور جو ہے وہ تنگ کر دیتا ہے انسان اس کے اندر جو ہے وہ انسان کا کوئی کمال نہیں ہے۔ انسان یہ نہ سمجھے جیسے اللہ رب العزت نے فرمایا نا کہ انسان کو اللہ نے وہ سب کچھ سکھا دیا جو نہیں جانتا تھا اور پھر اس کے بعد کیا ہوا کہ انسان جب کچھ کمانے کے قابل ہوا جب چلنے پھرنے کے قابل ہوا تو سرکشی شروع کر دی اور کہنے لگا کہ یہ سارا کچھ تو میری مرحون منت ہے یہ تو مجھے موروثی ملا ہوا ہے یہ تو میری محنت کا نتیجہ ہے تو اللہ نے فرمایا ایسا نہیں ہے۔ جس کو اللہ رب العزت عطا فرمانا چاہتا ہے بعض مرتبہ وہ انگوٹھا چھاپ ہوتا ہے اپنی سگنیچر تک نہیں کر سکتا اللہ اس کو جو ہے وہ اربوں روپے کا مالک بنا دیتا ہے اور دوسری طرف کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بہت سارے بڑے بڑے پڑھے لکھے لوگ پی ایچ ڈی قسم کے لوگ جو ہے وہ کسی انپڑھ کے ساتھ جو ہے نا وہ اس کی کلرک کے طور پہ نوکری اور جاب کرنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ اللہ رب العزت کی مرضی کی بات ہے اللہ فرماتے ہیں ایت نمبر 64 میں دنیا الا لہو یہ جو دنیا اور اس کی زندگی ہے یہ صرف کھیل اور تماشا ہے۔ اور جو ہے وہ اصل جو زندگی ہے وہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں اصل جو زندگی ہے وہ اخرت کی زندگی ہے جیسا اللہ نے فرمایا کہ دنیا تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔ اس کے بعد اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں اللہ رب العزت نے فرمایا کہ اصل جو زندگی ہے وہ اخرت کی زندگی ہے اور دنیا کی زندگی سوائے کھیل تماشا کے کچھ نہیں ہے۔ اس کے بعد اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں اہل مکہ پر بطور خاص جو اللہ رب العزت نے ایک احسان کیا اس کا ذکر ہے ایت نمبر 67 میں اللہ کیا یہ لوگ اہل مکہ دیکھتے نہیں ہیں کہ اللہ رب العزت نے باقی جتنے بھی قبائل ہیں ان سب کو لوٹ لیا جاتا ہے۔
[10:19]ان کی جو ہے وہ راہزنی کے واقعات کا وہ شکار ہو جاتے ہیں لیکن اہل مکہ کو اللہ رب العزت نے محفوظ رکھا اللہ رب العزت نے ان کی حفاظت کی اس کی وجہ یہ ہے کہ سارے لوگوں کے دلوں میں یہ اس اسلام کے انے سے پہلے کی بات ہے۔ سارے لوگوں کے دلوں میں اہل مکہ کی ایک خاص عقیدت ان کے دلوں میں موجود تھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ کعبہ کے متولی تھے تو اللہ نے فرمایا کہ کعبہ کی تولیت کی وجہ سے کعبہ کے انتظام و انصرام کی وجہ سے دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم ان کو جو ہے وہ ہر طرح کے سفروں کے اندر محفوظ رکھتے ہیں جیسے سورۃ القریش میں اللہ رب العزت نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ لوگ باطل پر ایمان لاتے ہیں۔ اللہ رب العزت پر ایمان نہیں لاتے اور اس بات کو سمجھنے کو تیار نہیں ہیں کہ جس اللہ تعالی کے گھر کے رکھوالے ہونے کی وجہ سے ان کو پورے جو ہے وہ چوروں اور ڈاکوؤں سے اللہ رب العزت نے ان کو پروٹیکشن دے رکھی ہے۔ تو اگر اس اللہ رب العزت پر ایمان لائیں گے تو پھر یقینا ان کے لیے دنیا اور اخرت دونوں جگہوں پہ بہتر ہو جائے گا۔ اس کے بعد سورہ روم ہے اس کے ابتداء میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا الف اللہ اعلم یہ پہلی ایت کے معنی کو جانتے ہیں اور مغلوب ہو گئے۔ وقتی طور پہ رومی لوگ عنقریب وہ لوگ جو ہے وہ دوبارہ پھر سے غالب ا جائیں گے یہ اصل میں معاملہ کیا ہے یہ ہجرت سے پہلے کی بات ہے۔ کہ اتفاق سے اس وقت جو دو سپر طاقتیں دنیا کے اندر موجود تھیں ایک روم اور ایک ایران یہ یعنی روم اور فارس یہ دو سپر طاقتیں تھیں اس زمانے کی اور اس میں رومی جو تھے چونکہ یہ اہل کتاب تھے عیسائی تھے کرسچن تھے اس وجہ سے مسلمانوں کی ہمدردیاں رومیوں کے ساتھ تھیں۔ جبکہ دوسری طرف فارس والے جو تھے یہ چونکہ دین کی کسی بھی دین کے اوپر موجود نہیں تھے اور یہ یا تو زور توش تھے یا مجوسی تھے اور اتش پرست تھے اس وجہ سے ان لوگوں کا دین جو ہے وہ اللہ رب العزت کے ہاں اس کی کوئی حیثیت اور مقام نہیں تھا۔ اہل کتاب جو تھے وہ چونکہ اللہ تعالی کی طرف سے نازل کردہ دین تھا کچھ نہ کچھ ان لوگوں کے اندر علماء اور جو ہے وہ رحبان وغیرہ موجود تھے۔ تو اب معاملہ کچھ یوں ہوا کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے مسلمانوں کی ہمدردیاں چونکہ رومیوں کے ساتھ تھیں اہل کتاب ہونے کی وجہ سے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے ابوجہل کے ساتھ اس بات کی جو ہے وہ ایک شرط باندھ لی کہ رومی جو ہے وہ وقتی طور پہ اگرچہ مغلوب ہو گئے ہیں اور ان کے اوپر اہل فارس غالب ا گئے ہیں لیکن عنقریب اللہ تعالی ان کو غالب کر دے گا۔ رومیوں کو اور جو فارس کے لوگ ہیں یہ مغلوب ہو جائیں گے۔ لیکن اللہ رب العزت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان ایات کے ذریعے یہ بات ارشاد فرمائی کہ چند سالوں کی بات ہے اللہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ اپ جو ہے وہ پانچ سال کے بجائے اس شرط کو تھوڑا سا بڑھا لیں چونکہ بدع کا جو لفظ ہے یہ نو کے عدد تک بولا جاتا ہے۔ یعنی ایک سے لے کر نو تک کے عدد تک یہ بولا جاتا ہے تو اس وجہ سے اپ اپنی شرط کو تھوڑا سا ایکسٹینڈ کر لیں تو انہوں نے خیر شرط کو ایکسٹینڈ کر لیا اور 100 اونٹوں کی شرط باندھی ہوئی تھی۔ بہرحال عنقریب ایسا ہوا کہ تقریبا ساتویں سال میں اللہ رب العزت نے رومیوں کو دوبارہ پھر سے غلبہ عطا فرمایا اور یہ اس وقت کی بات ہے جب ادھر سے اللہ رب العزت نے مسلمانوں کو جو ہے وہ ہجرت کے بعد اللہ رب العزت نے فتح اس میں غزوہ بدر میں اللہ رب العزت نے ان کو فتح عطا فرما دی تھی۔ تو یہ اللہ رب العزت نے یہاں پر اس مضمون کا تذکرہ کیا ہے اس کے بعد ایت نمبر سیون میں اللہ رب العزت یہ بات ارشاد فرماتے ہیں بطور خاص ان لوگوں کے بارے میں جو دنیاوی اعتبار سے تو اپنے اپ کو بڑے پڑھے لکھے سمجھتے ہیں بڑے جو ہے نا وہ لٹریسی ریٹ ان کا بہت زیادہ ہائی فائی ہوتا ہے۔ بڑے اپنے اپ کو کوالیفائیڈ اور ایجوکیٹڈ سمجھتے ہیں لیکن حقیقت کیا ہوتی ہے اللہ فرماتے ہیں دنیا دنیا کے ظاہری علوم تو ان لوگوں نے حاصل کر لیے لیکن حقیقت میں اخر جو اخرت کا علم تھا جس کے اوپر اصل میں عقل کی بنیاد عقل جو ہے نا وہ جس کا صحیح معنی میں تقاضا تھا جو اس دنیا کی حقیقت میں سمجھ لیجئے کہ جو جو انسان کا بویا ہوا ہے جب انسان نے اس کو کاٹنا ہے اصل جو ٹارگٹ ہے انسان کا جب اس کو انسان نہیں سمجھتا اور وہ کب سمجھ اتا ہے وہ دین کے علم کے ساتھ سمجھ اتا ہے۔ تو اس وجہ سے اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ اگر اخرت سے یہ لوگ غافل ہیں تو پھر ان لوگوں کو دنیا کی زندگی کا اس کے علوم کا اور اس کے جو ہے وہ نالج کا کوئی فائدہ نہیں جیسا کہ اج کل ہماری بہت سارے مسلمانوں کی اس طرح کی حالت ہو چکی ہے۔ اس کے بعد اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں ایت نمبر 11 میں اللہ اللہ رب العزت ہی ہے جس نے پہلی مرتبہ بھی مخلوق کو پیدا کیا۔ تمام کی تمام جو کریشن ہے وہ اللہ رب العزت نے پہلی مرتبہ بھی پیدا کی اور پھر اگین اللہ رب العزت اس کو ریپیٹ کرے گا اور جب اللہ نے پہلی مرتبہ پیدا کی پہلی مرتبہ پیدا کرنا مشکل نہیں تھا تو دوبارہ پیدا کرنا اللہ رب العزت کے لیے کیسے مشکل ہو سکتا ہے؟ و اور جس دن قیامت قائم ہوگی اللہ فرماتے ہیں کہ مجرمین لوگ حیران و پریشان ششدر ہو کر وہاں پر جو ہے وہ کھڑے دیکھ رہے ہوں گے۔ اور ان کی سمجھ میں بھی نہیں ائے گا کہ یہ ہمارے ساتھ کیا معاملہ ہوا ہے کیونکہ دنیا ان لوگوں نے جو ہے نا وہ غفلت کے اندر گزاری ہوگی اب قیامت والے دن حساب و کتاب کا وقت ہوگا تو ان کو سمجھ نہیں ائے گا کہ یہ کیا ہو گیا۔ اللہ فرماتے ہیں ایت نمبر 17 سے فسبحان اللہ حین تمسون و حین تصبحون اللہ رب العزت کی تسبیح بھی بیان کرو شام کے وقت میں صبح کے وقت میں وللہ الحمد فی السماوات و الارض اسی کے لیے تمام کی تمام تعریفیں ہیں اسمانوں اور زمین کے اندر وعشیا اور پہر کے وقت بھی و حین تظھرون اور اسی طرح سے جب تم ظہر کا جو ہے وہ وقت کرتے ہو اس وقت بھی بعض مفسرین اسے تسبیح مراد لی ہے۔ اللہ تعالی کی تسبیح جو ہے وہ صبح دوپہر شام اور بعض لوگوں نے اس سے پانچ وقت کی نمازیں مراد لی ہیں بہرحال دونوں چیزیں ہی اس سے مراد ہو سکتی ہیں اللہ تعالی کی تسبیح جو ہے وہ بھی ہر وقت بیان کی جائے اللہ تعالی کے ذکر سے اپنی زبان کو ہمیشہ تر رکھا جائے اور اسی طرح سے پانچ وقت کا جو ہے وہ پانچ وقت نماز کا بھی اہتمام کیا جائے۔ اس کے بعد ایت نمبر 19 سے 27 تک اللہ رب العزت نے اپنی قدرت کی بہت ساری نشانیوں کا تذکرہ کیا ہے۔ ان میں سے پہلی نشانی یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے فرمایا کہ اللہ رب العزت نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر کتنے خوبصورت مرد بنا کر اور جو ہے وہ بشر بنا کر اللہ رب العزت نے تمہیں دنیا میں بھیجا۔ پھر اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ اس اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس اللہ رب العزت نے تمہارے نفسوں سے تمہاری بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان میں سکون حاصل کرو اور بیویوں کے لیے شوہر پیدا کیے تاکہ وہ ان میں سکون حاصل کریں اور اسی طرح سے دونوں کے درمیان اللہ رب العزت نے محبت رکھی ہے یہاں سے اسلام کے حلال رشتے کی یہ بات سمجھ میں اتی ہے۔ اگر کوئی شخص گناہ کرتا ہے تو ایک سے دو مرتبہ کرنے کے بعد ایک مرتبہ بھی گناہ میں اس کا ارتکاب کرنے کے بعد انسان کے ضمیر پر وہ بوجھ بن جاتا ہے اس کو انسان کیری ان نہیں کر پاتا اس کو کنٹینیو نہیں کر پاتا ہمیشہ انسان جو ہے نا وہ ڈیمج ہوتا چلا جاتا ہے جبکہ حلال میں اللہ رب العزت نے اتنی برکت رکھی ہے کہ میاں بیوی کا رشتہ جیسے جیسے وہ جو ہے وہ بڑھتا جاتا ہے اس کی لائف جو ہے وہ بڑھتی چلی جاتی ہے ویسے ویسے اس کے اندر محبت اور مودت اللہ تعالی کے حکم سے بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اس کے بعد اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے اسمانوں و زمین کو پیدا کیا تمہاری زبانوں کے مختلف ہونے کو جتنی قومیں دنیا کے اندر موجود ہیں اتنی ہی زبانیں اللہ رب العزت نے پیدا کی ہیں اور پھر ایک دوسرے کو ان زبانوں کو سمجھنے کی صلاحیت بھی اللہ رب العزت نے عطا فرمائی ہے۔ اور اللہ کو جب وہ اپنی اپنی زبان میں پکارتے ہیں تو اللہ رب العزت ان تمام لوگوں کی زبانوں میں ہی ان لوگوں کی پکار کو سنتا ہے اس کو قبول فرماتا ہے اور جو بھی ان کی ضروریات ہوتی ہیں اللہ رب العزت پوری کرتا ہے۔ چرن پرند کی زبان ہے انسانوں کی زبانیں ہیں اس کے علاوہ جو ہے وہ مختلف جو دنیا کے اندر اللہ تعالی کی تخلیقات ہیں ان سب کی اپنی اپنی زبانیں ہیں پھر اللہ رب العزت نے فرمایا کہ اس اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے اسمانوں و زمین کو اپنے حکم کے ساتھ قائم کیا ہوا ہے وہ اسمان جس کے بارے ہم سورہ لقمان میں پڑھیں گے بغیر ایسے ستونوں کے جو تمہیں نظر اتا ہو اللہ رب العزت نے کیسے اس کو قائم رکھا ہوا ہے۔
[17:53]یہ اللہ رب العزت ہی کی جو ہے وہ قدرت ہے۔ اس کے بعد اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں ایت نمبر 27 میں اللہ وہ ذات ہے جو تمام کے تمام معاملات کی تدبیر کرتا ہے۔ پھر اللہ رب العزت کے فرشتے ان معاملات کو جو انسان جو ہے وہ جو اعمال کرتا ہے ان کو لے کر اللہ رب العزت کی طرف جاتے ہیں۔
[18:19]اس دن جس کی جس دن کی جو مقدار ہے وہ 1000 سال کے برابر ہے۔ یہ اللہ رب العزت نے یہ دن کے حوالے سے قران مجید میں تین جگہوں پر یہ بات ارشاد فرمائی ہے سورہ حج کی ایت نمبر 48 میں ذکر کیا ہے۔ اسی طرح سے جو ہے وہ سورہ معارج کی ایت نمبر تھری میں اللہ رب العزت نے ذکر کیا ہے اور یہاں پر جو اللہ رب العزت نے ذکر کیا ہے یہ وہ دنیا کا اخری دن ہے جس دن کائنات کی ہر چیز فنا اور تباہ ہو جائے گی۔
[18:48]اور صرف اللہ رب العزت کی ذات باقی ہوگی یہ وہ دن ہے جو اللہ رب العزت نے یہاں پر 1000 سال کے برابر ذکر کیا ہے۔ ایت نمبر 12 میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کاش کہ اپ قیامت والے دن مجرموں کو دیکھیں جب اللہ رب العزت کے سامنے اپنے سر کو جھکائے ہوئے کھڑے ہوں گے اور کہیں گے کہ اللہ رب العزت اج ہم نے سب کچھ دیکھ لیا سب ہم نے سن لیا اے اللہ کسی صورت میں ہمیں واپسی کی کوئی ترتیب بن جائے۔ ہمیں ایک مرتبہ واپس جانے کی مہلت دے دے۔ اننا صالحین اننا موقنون ہم نیک اعمال کریں گے ہم یقین کر لیں گے ہم ایمان لے ائیں گے اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں۔
[19:29]اب ان کو کسی بھی طرح کی کوئی جو ہے وہ فیسیلٹیشن دینے کا فائدہ نہیں اب ان کو کوئی مہلت نہیں دی جائے گی اب ان کو کوئی ریلیکس نہیں دیا جائے گا بلکہ اگلی ایت میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں۔ لیکن حق القول جہنم جنات ان میں سے بعض لوگ یہ تھے جو غفلت کے اندر زندگی گزارتے تھے اور اس دنیا کے اندر اللہ رب العزت کو بھلائے ہوئے تھے۔ اور اللہ رب العزت کے تمام کے تمام احکامات کو اللہ رب العزت کے تمام کے تمام معاملات کو انہوں نے بھولے ہوئے لوگوں کی طرح دنیا کے اندر زندگی گزاری تھی تو اللہ رب العزت نے فرمایا دنیا میں تم نے ہمیں بھلا دیا تھا اج ہم نے تمہیں بھولے ہوئے لوگوں کی طرح کر دیا ہے۔ لہذا اس جہنم کے اندر اپنے اعمال کی بدولت ہمیشہ ہمیشہ یہاں پر اللہ تعالی کے عذابوں کو چکھتے رہو اس کے بعد اللہ رب العزت نے مومن اور کافر کے بارے میں فاسق کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی ایت نمبر 18 میں فاسق کیا فاسق اور مومن جو ہیں یہ برابر ہو سکتے ہیں اللہ فرماتے ہیں ہرگز ایسا نہیں ہو سکتا۔ اما ایمان والے نیک اعمال والے تو جنتوں میں ہوں گے جن کا ٹھکانہ اللہ نے اتنا خوبصورت بنایا ہے جن کی مہمان نوازی اللہ رب العزت نے اپنے ذمے لی ہے جبکہ فاسق ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جب بھی وہاں سے نکلنے کی کوشش کریں گے دوبارہ ان کو فرشتے دھکیل کے پھر جہنم میں پھینک دیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ اپنے اعمال کی بدولت اج عذاب کو چکھو۔
[20:56]اور پھر شدید قسم کا عذاب اللہ رب العزت ان کو اس کا جو ہے وہ شکار کریں گے۔ اس کے بعد اللہ رب العزت نے سورہ احزاب ہے جیسا کہ اپنے نام سے ظاہر ہے احزاب کا معنی حزب کی جمع ہوتی ہے جس کا معنی مختلف گروہ اور لشکر ہوتے ہیں قبیلہ بنو نظیر جس کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جلا وطن کر دیا تھا۔
[21:19]اور ان کو خیبر میں بھیج دیا تھا۔ ان لوگوں نے منافقین کا قبیلہ تھا یہود کا قبیلہ تھا۔ اور ان لوگوں نے جو ہے وہ کیا کیا؟ تمام عالم عرب کے تمام کفار کو مشرکین کو منافقین کو غطفان کو جتنے بھی قبیلے تھے ان سب کو جمع کر کے جن کی تعداد تقریبا 10 ہزار کے قریب تھی ان کو جمع کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے مقابلے میں لے ائے جن کی تعداد جو ہے وہ تقریبا 3000 تھی۔ تو اس سورت میں اللہ رب العزت نے بنیادی طور پہ اس مضمون کو ذکر کیا ہے اس کے علاوہ دیگر مضامین بھی جو ہیں اللہ رب العزت نے یہاں ذکر فرمائے ہیں۔ ایت نمبر فور میں اللہ تعالی فرماتے ہیں اللہ نے کسی بھی سینے میں دو دل نہیں رکھے۔
[22:00]دوسرا معنی اس کا یہ ہے کہ کسی بھی دل میں اللہ رب العزت نے دو محبتیں کبھی جمع نہیں کیں بطور خاص دین اسلام کی محبت اور کفر کی محبت ایسا نہیں ہو سکتا کہ کسی دل کے اندر یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ موجود ہوں اور اگر وہ اپنے اپ کو ایسا سمجھتا ہے تو اللہ کے فرمان کے مطابق وہ اللہ کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہا ہے اور ایمان والوں کو حقیقت میں وہ اپنے اپ کو دھوکے میں ڈالے ہوئے ہے۔
[22:27]اس وجہ سے ایک دل میں کبھی بھی دین اسلام اور کفر جمع نہیں ہو سکتے تو یہ اللہ رب العزت نے یہاں پر ارشاد فرمایا اس کے بعد اللہ رب العزت نے لے لے اور اڈاپٹڈ چائلڈ جو ہوتا ہے اس کا یہاں پر اللہ رب العزت نے حکم ذکر کیا ہے۔ معاملہ دراصل یہ تھا جس کی تفصیل اگے موجود ہے ایت نمبر جو ہے وہ فائیو میں اور اسی طرح سے ایت نمبر فور میں بھی کچھ اس کے بارے میں ذکر ہے۔ اللہ رب العزت ارشاد ارشاد فرمایا کہ اصل میں اس سے پہلے یہ ہوتا تھا کہ جو لوگ اپنا کسی بھی بچے کو اپنا لے پالک بیٹا بنا لیتے تھے کبھی کسی کو اولاد نہیں ہوتی یا ویسے ہی جو ہے وہ کسی دوسرے کو اپنا بیٹا بول دیتے۔ تو اب اس کے لیے وراثت کے مسائل بھی وراثت بھی اسی طرح سے اس کو اس کا حقدار ٹھہراتے اسی طرح سے پردے کے معاملات بھی اس سے ساقط ہو جاتے اور یہ ساری کی ساری چیزیں پھر اس کے باپ کے نام سے ہی اس کو پکارا جاتا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنا ایک لے پالک بیٹا بنایا ہوا تھا جس کا نام زید تھا رضی اللہ تعالی عنہ زید بن حارثہ اس کو ابتداء میں صحابہ کرام زید بن محمد کہہ کر پکارا کرتے تھے۔
[23:44]تو اللہ رب العزت نے یہاں پر یہ بات کلیئر کٹ ارشاد فرما دی کہ اڈاپٹڈ چائلڈ جو ہوتا ہے وہ اپنے ماں باپ کا ہی بیٹا ہوتا ہے وہ کبھی بھی تمہارا بیٹا نہیں بن سکتا نہ وراثت میں حقدار ہوگا۔ نہ جو ہے وہ کسی بھی طرح سے اس سے پردے کے احکام ساقط ہوں گے یعنی اس کی جو دیگر لے پالک بہنیں بنیں گی ان سے وہ پردے کا جو ہے وہ غض بصر کا حکم اسی طرح سے ہوگا جیسے غیر محرم سے ہوتا ہے۔
[24:16]اس کی جو ماں ہے جب وہ بڑا ہو جائے گا تو وہ جو لے پالک بیٹا ہے وہ یعنی اس ماں کا ماں جو ہے وہ اس سے پردہ کرے گی اس کو جو ہے وہ اس سے پردے کا اور غض بصر کا حکم اسی طرح سے ہوگا اور یہ سارے کے سارے احکام اسی طرح سے ہوں گے پھر اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ ان بچوں کو ان کے حقیقی والدین کے نام سے ہی پکارو حقیقی والد کے نام سے پکارو جیسا کہ قیامت والے دن والد کے نام سے پکارا جائے گا۔
[24:55]تو اللہ نے فرمایا کہ وہ ان کو باپوں کے نام سے پکارو تو اس کے بعد صحابہ نے بھی زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ کو زید بن حارثہ ہی کہنا شروع کر دیا زید بن محمد کہنا جو ہے وہ سلسلہ یہ ختم کر دیا تو اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ یہ جو اس سے پہلے تم سے کوتاہی ہو چکی ہے وہ اللہ رب العزت نے معاف فرما دی ہے۔
[25:46]اس کے بعد اللہ رب العزت نے ایت نمبر سکس میں بطور خاص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کا ذکر کیا ہے اور ازواج مطہرات کے مقام کا ذکر کیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک تو ایمان لانا لازم ہے۔ اسی طرح سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے ساتھ اتنی محبت انسان کرے اتنی محبت کرے جیسا کہ عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ ان کا واقعہ بھی موجود ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ کہا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اپ سے بڑی محبت کرتا ہوں۔ اپنے والدین سے زیادہ اپنی اولاد سے زیادہ ہر چیز سے زیادہ اپنے مال سے زیادہ لیکن اپنے اپ سے زیادہ نہیں تو اپ نے فرمایا کہ عمر ایمان مکمل نہیں ہے۔ پھر انہوں نے دوبارہ کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپ سے اتنی محبت کرتا ہوں۔
[26:45]کہ اپنے والدین سے زیادہ اپنی اولاد سے زیادہ اپنے مال سے زیادہ حتی کہ اپنے اپ سے بھی زیادہ یعنی جب میری جان کے نذرانے کی بھی ضرورت پیش ائے گی تو اپ پر وہ بھی قربان ہوگا تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا الان یا عمر عمر اب ایمان مکمل ہے۔
[27:08]جیسے حدیث میں اپ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اتنی محبت نہ کرے اپنے والدین سے زیادہ اپنی اولاد سے زیادہ اپنے مال سے زیادہ حتی کہ اپنے اپ سے بھی زیادہ تو اسی طرح سے اس کے بعد اللہ رب العزت نے اسی ایت کے اندر ازواج مطہرات کا مقام جو ہے وہ اس کا بیان کیا ہے ازواج مطہرات ایک تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہیں۔
[27:54]یہ ان کا مقام ہے یعنی کائنات کی جو ہے وہ سب سے بہترین ہستیاں اور جو ہے وہ خواتین ہیں وہ اسی طرح سے جو ہے وہ ان کا مقام یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے فرمایا کہ وہ امہات المومنین ہیں مومنوں کی مائیں ہیں۔
[28:18]اور اسی طرح سے ان کے ساتھ نکاح کرنا جو ہے وہ جائز نہیں ہے دوسرے لوگوں کے لیے اور باقی جو پردے کے احکام ہیں وہ ان کے ساتھ اسی طرح سے رہیں گے جیسا کہ غیر محرم کے ساتھ ہوتے ہیں تو بہرحال اللہ رب العزت نے اس میں ان کا عزت اور مقام اس کا ذکر کیا ہے۔ اس کے بعد اللہ رب العزت نے ایت نمبر نائن سے بطور خاص جو ہے وہ غزوہ احزاب کا ذکر کیا ہے۔ غزوہ احزاب بنیادی طور پہ پانچ ہجری میں پیش ایا تھا اس کا دوسرا نام غزوہ خندق ہے۔ خندق اس وجہ سے کہا جاتا ہے احزاب اس وجہ سے کہ اس میں لشکر جمع ہو گئے تھے جیسا میں نے تفصیل اپ کو سامنے رکھی ہے ابتداء میں اور خندق اس وجہ سے کہ سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ کے مشورے پر چونکہ مسلمان جو ہیں وہ یہاں محاصرے میں جنگ لڑی تھی مدینہ میں تو تین اطراف جو ہے وہ خالی تھیں چوتھی طرف پہاڑ موجود تھا تو تین اطراف میں اس کے جو ہے نا وہ خندق کھود دی گئی بہت گہری جو ہے وہ کھائیاں کھود دی گئی تاکہ دشمن جو ہے وہ پار کر کے مدینہ پر حملہ اور نہ ہو سکے۔ مسلمانوں کی تعداد 3000 تھی کفار کی تعداد اس میں سارے قبائل ان کے یوں سمجھ لیں کہ اس وقت سمجھ لیجئے کہ اس وقت نیٹو فورس سی سی ساری کی ساری اور سارے مشرکین منافقین بنو قریظہ بنو نظیر چونکہ بنو قریظہ جو ہے وہ اس وقت اگرچہ حلیف تھے لیکن ان لوگوں نے جو ہے وہ منافقین کا اور مشرکین کا ساتھ دیا۔ تو یہ بنو غطفان یہ سارے کے سارے مل کر جو ہے وہ تقریبا 10 ہزار کا لشکر تھا جنہوں نے حملہ کیا ایک مہینے تک یہ محاصرہ جو ہے وہ جاری رہا اس کے اندر بہت ساری جو ہے وہ صحابہ نے اپنی جاں نثاری کے جو ہے وہ جوہر دکھائے اور اسی طرح سے اس میں محاصرے کے دوران جو ہے وہ بہت سارے معجزات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ نمودار ہوئے جیسا ایک پتھر ٹوٹنے ٹوٹنے کا واقعہ ہے اسی طرح سے جو ہے وہ ایک ہنڈیا میں کھانے کے حوالے سے واقعہ ہے۔
[30:46]نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک سے جو ہے وہ پانی نکلنے کا واقعہ ہے تو یہ معجزات یہاں پر علماء ہوئے۔ اخر کار ایک مہینہ یہ محاصرہ جاری رہا اور اس کے بعد اللہ رب العزت کے حکم سے اللہ تعالی نے ایک تیز اندی اور طوفان بھیج دیا اس تیز اندی اور طوفان کی وجہ سے ان لوگوں کے خیمے اکھڑ گئے۔ ان کی ہنڈیا جو کھانے کے لیے رکھی ہوئی تھی وہ الٹ گئیں۔ جانور رسیاں تڑا کے انہی کے اوپر چڑھ گئے اور اس طرح سے اللہ رب العزت نے ان کفار کو نوابود کیا اور جو ہے وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اپ کے صحابہ کو اللہ رب العزت نے یہاں پر جو ہے وہ فتح عطا فرمائی تو یہ غزوہ خندق اور احزاب جو ہے وہ اس کا اللہ رب العزت نے یہاں ذکر کیا ہے۔
[31:36]کچھ وہ لوگ جو خاص طور پر جو ہے وہ یہاں پہ اس میں پس و پیش کر رہے تھے اگے بڑھنے میں اور میدان میں انے میں ان کے حوالے سے اللہ رب العزت نے یہ بات ارشاد فرمائی قلکم فرار تم کیا سمجھتے ہو کہ تم اگر جنگ میں شریک نہیں ہو گے تو تم موت سے بچ جاؤ گے یاد رکھو موت سے تم کسی بھی صورت میں فرار نہیں کر سکتے اس کے بعد اللہ رب العزت نے اس کی جو ہے وہ ایت نمبر 21 میں یہ بات ارشاد فرمائی کہ رسول اللہ اس میں حسنات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ اور رول ماڈل ہے۔ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تمہیں یعنی دین کے اعتبار سے جیسے اللہ رب العزت نے فرمایا جو چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں دے دیں وہ لے لو جس سے منع کر دیں اسے رک جاؤ اج کل بہت سارے فتنے جو موجود ہیں ان میں سے ایک فتنہ فتنہ انکار حدیث ہے۔
[32:29]انکار حدیث میں وہ لوگ بظاہر بڑا خوبصورت جو ہے وہ ہمارے سامنے نعرہ رکھتے ہیں کہ ہمارے لیے قران کافی ہے قران میں اگر کوئی چیز ا گئی ہے اور اسی طرح سے ہمارے بہت سادہ لوح مسلمان وہ کہتے ہیں جی سب سے پہلے قران دیکھیں گے اگر قران میں مسئلہ مل گیا تو حدیث کو دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے اور اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر حدیث میں نکلا تو اس کو سیکنڈری حیثیت حاصل ہوگی ایسا نہیں ہے۔ جہاں تک مسئلہ ایتھینٹیسٹی کا ہے تو قران اور حدیث دونوں سے ثابت ہونے والی جو بات اور جو بھی مسئلہ ہے اس کی ایتھینٹیسٹی بالکل سیم ہے اس میں کوئی فرق نہیں ہے۔
[33:09]کیونکہ دونوں وحی ہے قران مجید بھی وحی ہے حدیث رسول بھی وحی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ قران مجید وحی مطلق ہے یعنی جس کی تلاوت عبادت ہے اور حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو ہے وہ وحی غیر مطلوب ہے جس کی جو ہے وہ تلاوت عبادت نہیں ہے۔
[33:57]البتہ ویسے حدیث پڑھنے پڑھانے کا جو کام ہے دنیا کا بہترین کام ہے جب قران مجید میں یہ موجود ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مرضی سے کوئی بات ہی نہیں کرتے تو پھر یہ کہنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث جو ہے وہ اس میں کوئی شک و شبہ ہو سکتا ہے یا جیسا کہ اج کل کے سو کالڈ منکرین حدیث جو ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ فتنہ عجم ہے عجمی جو ہے وہ سارے کے سارے انہوں نے حدیث کے جمع کرنے کا کام کیا ہے۔ جبکہ ان کو اللہ کا یہ فرمان نظر نہیں اتا ہے جس میں اللہ فرماتے ہیں کہ اس دین کو ہم نازل کرنے والے ہیں اور اس کی حفاظت کا ذمہ بھی ہم نے ہی لیا ہے تو دین جو ہے وہ سارے کا سارا ظاہر قران کے اندر تو موجود نہیں ہے۔ قران اور حدیث دونوں کو ملا کر ہی یعنی قران مجید کے اندر اگر موجود بھی ہے تو وہ اشارات ہیں تفصیلات اس کی حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اندر ہیں تو اس وجہ سے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی اصل میں دین کا مظہر ہے۔
[34:55]وہیں سے ہمیں دین صحیح میں صحیح معنی میں سمجھ ا سکتا ہے جیسے اپ صلی اللہ علیہ وسلم رضی اللہ تعالی عنہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا گیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق کیسا تھا تو اپ نے فرمایا اپ صلی اللہ علیہ وسلم چلتا پھرتا قران تھے یعنی قران کا عملی نمونہ اپ کو دیکھنا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو دیکھ لیجئے تو وہ زندگی اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے لیے نمونہ اور اسوہ حسنہ ہے رول ماڈل ہے اسی کو تمہیں اپنانا چاہیے۔ اس پارے کے اخر میں اللہ رب العزت نے ایت نمبر 28 ہے جس میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اصل میں اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے بطور خاص جب فتوحات کا سلسلہ بڑا بہت سی جنگوں میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی مال غنیمت اتا تھا تو مہاجرین اور انصار کی خواتین کو دیکھ کر ازواج مطہرات نے بھی ان کے دلوں میں بھی یہ خواہش پیدا ہوئی کہ ہمیں بھی مال و متاع ملنا چاہیے۔ ہمیں بھی جو ہے وہ زیورات اور جولری اور اس ٹائپ کی چیزیں ظاہر ہے خواتین ہیں خواتین ہونے کے ناطے سے یہ ان کی جو یہ خواہش تھی وہ کوئی غیر فطری نہیں تھی لیکن اللہ رب العزت کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے مقام کی وجہ سے ان کی اس طرح کی دنیاوی اعتبار سے جو خواہش تھی وہ اللہ تعالی کو پسند نہیں ائی۔
[35:45]نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند نہیں ائی تو اللہ رب العزت کے حکم سے اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اختیار دیا اگر تم دنیا چاہتے تو دنیا کا مال و متاع لے کر جو ہے وہ تم اپنے گھروں پہ چلی جاؤ میں تمہیں وہ دنیاوی مال و متاع دے دیتا ہوں اور اس کے بعد تمہیں چھوڑ دیتا ہوں لیکن اس کے ساتھ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ساتھ ان کو یہ اختیار دیا کہ یہ مشورہ اپنے والدین سے پوچھے بغیر نہ کرنا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی اور ان کے ذریعے واقعہ ازواج سے بھی کہا گیا اور ساتھ میں کہا دوسری ایت میں اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرو گی تو پھر اللہ تعالی نے ان کے لیے بڑا ہی بہترین اجر تیار کر رکھا ہے۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ نے جیسے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کو دیکھا تو فورا یہ کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیسے ہو سکتا ہے کہ میں اپ پر ترجیح جو ہے وہ دنیاوی مال و متاع کو دوں لہذا ارشاد فرمایا کہ میں تو اللہ اور اس کے رسول کو ہی اختیار کروں گی اور اپ کی جو ہے وہ رضی اللہ تعالی عنہ کے جو ہے وہ بعد باقی جتنی بھی ازواج مطہرات تھی اس وقت نو بیویاں اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احبال عقد میں موجود تھیں سب کی سب نے پھر کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی چاہیے ہمیں مال و متاع نہیں چاہیے۔ اخری ایت میں اس پارے کی اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا یاد رکھو اگرچہ ازواج مطہرات سے اس بات کی توقع نہیں کی جا سکتی لیکن اللہ رب العزت نے ان کے مقام کے پیش نظر ان کو یہ بات ارشاد فرمائی کہ اگر تم میں سے بھی کسی نے برائی کا ارتکاب کر لیا اللہ نہ کرے فحاشی کی طرف تمہارا مائنڈ چلا گیا یا کچھ ایسا ایسا ہو گیا تو تمہیں دگنا عذاب دیا جائے گا۔ مراد اصل میں یہ تھا حالانکہ ایسا ان سے ممکن نہیں تھا۔ اللہ رب العزت نے جیسے نبیوں کی حفاظت کی ہوتی ہے ایسے ازواج مطہرات بھی اللہ تعالی اپنے انبیاء کو وہ دیتے ہیں جن کے اندر اس طرح کی کوئی کسی کسی طرح کی جو ہے وہ دنیاوی کوئی لزش اور اس طرح کی کوتاہی نہ ہو لیکن صرف ان کے مقام و مرتبہ کی وجہ سے تاکہ وہ اپنے عزت اور مقام کو مزید بہتر انداز سے جو ہے وہ اس کو پروٹیکٹ کر سکیں۔
[37:59]تو اللہ تعالی سے دعا ہے کہ جو کچھ میں نے اپ کے سامنے بیان کیا اللہ تعالی مجھے اور اپ سب کو سمجھنے عمل کرنے اور اگے پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ استغفر اللہ ولکم المسلمین السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ



