[0:00]منظر بدلتا ہے۔ رات تین بجے کا وقت ہے۔ لاہور کی گلیوں میں سکون، راولپنڈی کی فضا میں خاموشی اور وطنی عزیز کی سرحدوں پر عجیب سکوت طاری ہے۔
[0:12]مساجد میں ازانوں کی اوازیں گونج رہی ہیں کہ یک دم بھارت پاکستان کی فضائی حدود میں رافیل طیارے بھیج کر روپ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔
[0:23]اور پہلگام واقع کو بنیاد بنا کر عیار دشمن پاکستان کو للکارتا ہے تو اسی لمحے پاک فضائیہ کا جیٹن سی ار اسمان کو چیرتا ہوا اور پی ایل 15 ہی رافل کے پر کاٹ ڈالتا ہے
[0:35]اور میزائل کا وہ ایک بٹن دشمن کی نو ارب کی امیدیں راکھ بنا دیتا ہے اور پھر دنیا یہ منظر بھی دیکھتی ہے کہ کل تک جس ملک کی فضا میں سکون تھی
[0:44]اج وہی شہری پھر سے اسی جگہ جمع ہوتے ہیں پھر سے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں اور یہ نوید دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ خون دل دے کر نکھاریں گے رخص برگے گلاب
[1:00]ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے کہ وہ ہمیں تھے کہ جنہوں نے دیبل کے ساحلوں کو اپنے لہو سے تر کیا وہ ہمیں تھے کہ جو جھانسی کے کلا میں کمپنی بہادر کو اپنے لہو سے جواب دیتے رہے
[1:14]وہ ہم ہی تھے کہ جو پانی پت کے میدان میں تلواروں کے سائے میں اپنے لہو سے استعمار کو للکارتے ائے وہ ہم ہی تھے کہ جو ادھا کے نوابوں کے خاموش لبوں کو دیکھنے کے بجائے منگل پانڈے کے خون سے اس دھرتی کے سپوتوں کو حریت کا سبق پڑھاتے ائے
[1:28]وہ ہم ہی تھے صدر محترم کہ جن کے لب نہیں بلکہ لہو کی جھنکار نے ستمبر کی تاریخ گرم راتوں میں ہند توا کے علمبرداروں کو بی ار بی نہر سے پیچھے دھکیلا اور باٹا پور سے رن اف کچ کے مارگوں میں بھی ہمارا لہو بولتا رہا ہے
[1:43]ہمارا لہو بولتا رہا ہے



