Thumbnail for Para 24 | Khulasa-e-Quran — خلاصہ قرآن پارہ 24 | Inspiring Quranic Summary by Youth Flix

Para 24 | Khulasa-e-Quran — خلاصہ قرآن پارہ 24 | Inspiring Quranic Summary

Youth Flix

44m 1s8,163 words~41 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Timestamped outline
Use this transcript
Related transcript hubs

[0:00]صحیح حدیث میں بے شمار اس طرح کی چیزیں موجود ہیں۔ اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں حدیث قدسی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ فرماتے ہیں میرے بندے اگر تو میرے ساتھ اس حالت میں ملاقات کرے کہ زمین کا سارے کا سارا اسپیس اسمان زمین کا اور اسی طرح سے ایک حدیث میں جو ہے وہ مکمل زمین تیری گناہوں سے بھری ہوئی ہو

[0:18]اور اللہ رب العزت فرماتے ہیں اس میں ایک ذرے کے برابر شرک موجود نہ ہو تو میں تجھے سارے کے سارے گناہ معاف کر دوں گا۔ یہ بات ارشاد فرمائی صحیح بخاری کے اندر موجود ہے عائشہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا عذاب قبر برحق ہے تو اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی ایت کا حوالہ دیتے ہوئے اسی کی مناسبت سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی کہ فرمایا بالکل برحق ہے اور اگ پر ہر شخص جو ہے وہ صبح و شام اگر کوئی جنتی ہے تو وہ جنت پر پیش کیا جاتا ہے یعنی جنت اس کے سامنے پیش کی جاتی ہے اور اگر کوئی جہنمی ہے تو اس کے سامنے صبح و شام جہنم پیش کی جاتی ہے یہ لوگ اپنی جلدوں سے کہیں گے

[0:54]تم ہمارے خلاف کیوں ہو گئی ہو تمہیں ہی تو پالنے کے لیے ہم یہ سب کچھ کرتے رہے ہیں۔ تو وہ جلدیں بول کر کہیں گی انسان کے اعزاء جو انسان کے خلاف ہو جائیں گے بول کر کہیں گے اج اس مالک نے ہمیں بولنے کی طاقت عطا فرمائی ہے جو ہر ایک کو بولنے کی طاقت دیتا ہے۔

[1:21]اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمدللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین وعلی الہ وصحبہ اجمعین ومن تبعہ باحسان الی یوم الدین رمضان المبارک کی مناسبت سے خلاصہ مضامین قران مجید کے حوالے سے اج ہماری 24 ویں نشست ہے جس میں انشاء اللہ تعالی ہم 24 ویں پارے کے مضامین کا مختصر طور پر جائزہ اپ کے سامنے پیش کریں گے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت مجھے اور اپ سب کو قران مجید کے ساتھ اپنے تعلق کو بہت گہرا اور مضبوط بنانے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ہمیشہ اپنی زندگی کے تمام معاملات میں قران اور حدیث سے ہی رہنمائی لینے اسی پر عمل کرنے اور اس کو اگے پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔

[2:01]24 ویں پارے میں ابتداء میں سورہ زمر ہے۔ پھر اس کے بعد سورہ مومن ہے جس کا دوسرا نام سورۃ الغافر ہے اور اس کے بعد جو ہے وہ کچھ حصہ سورہ ح می سجدہ کا ہے۔ ابتداء میں سورہ زمر کے مضامین میں اللہ رب العزت نے پہلی ایت میں یہ بات ارشاد فرماتے ہیں ایت نمبر 32 ہے

[2:24]اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ تعالی پر جھوٹ باندھے اور اسی طرح سے جب اس کے پاس حق ا جائے تو اس کو جھٹلانے اس سے جو ہے وہ جھٹلانے کی کوشش کرے سچ کو جھٹلانے کی کوشش کرے کیا ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم نہیں ہونا چاہیے یقینا ایسا ہی ہے یہ استفاف میں انکاری ہے یعنی ان کا ٹھکانہ جہنمی ہے۔

[2:49]جبکہ اس کے مقابلے میں وہ شخص جو سچ بولے اللہ تعالی کے بارے میں بھی اور اسی طرح جب اس کے پاس سچ ا جائے تو اس سچ کی وہ تصدیق کرے اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں یہی لوگ اصل میں تقوی اختیار کرنے والے ہیں۔ اس کے بعد ایت نمبر 36 میں اللہ رب العزت یہ بات ارشاد فرماتے ہیں

[3:07]کیا اللہ رب العزت اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے۔ اور یہ لوگ اپ کو ان سے ڈراتے ہیں جو اللہ رب العزت کے علاوہ انہوں نے معبود بنا رکھے ہیں اور جس کو اللہ گمراہ کر دیں اس کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا اور جس کو اللہ ہدایت دے دیں اس کو کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔ کیا یقینا اللہ رب العزت بہت ہی غالب اور انتقام لینے والا نہیں ہے۔ اس کے بعد ایت نمبر 38 میں اللہ فرماتے ہیں اگر اپ ان سے پوچھیں گے کہ اسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو ضرور بضرور یہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ اللہ رب العزت نے ہی پیدا کیا ہے تو اللہ نے فرمایا اپ ان سے کہہ دیجئے پھر تم کیا سمجھتے ہو جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اگر اللہ رب العزت مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے مجھے کوئی تکلیف پہنچانے کا فیصلہ کر لے تو کیا یہ لوگ اللہ تعالی کی پہنچائی ہوئی اس تکلیف کو دور کر سکتے ہیں اور اگر اللہ رب العزت مجھے کسی معاملے میں اپنی رحمت پہنچانا چاہے اپنی رحمت دینے کا فیصلہ کر لے تو کیا یہ لوگ اللہ تعالی کی رحمت کو مجھ تک پہنچنے سے روک سکتے ہیں کہہ دیجئے میرے لیے اللہ رب العزت ہی کافی ہے اسی پر توکل کرنے والوں کو بھروسہ کرنے والوں کو بھروسہ کرنا چاہیے جس سے یہ بات کھل کر سمجھ میں اگئی کہ اللہ رب العزت ہی کے ہاتھ میں ہدایت ہے اللہ رب العزت ہی کے ہاتھ میں گمراہی ہے اللہ رب العزت ہی کے ہاتھ میں کسی کو تکلیف دینا اور اللہ رب العزت ہی کے ہاتھ میں کسی کو رحمت پہنچانا ہے۔ اس کے بعد ایت نمبر 41 میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں یقینا ہم نے اپ تک کتاب جو ہے وہ حق کے ساتھ نازل کر دی ہے لوگوں کے لیے اب جو کوئی شخص ہدایت پاتا ہے تو وہ اپنے ہی لیے ہدایت جو ہے اس کا بندوبست کرے گا اور جو کوئی گمراہ ہوتا ہے اس کے باوجود یعنی قران مجید کے نازل ہونے کے باوجود وہ اس کو پڑھتا نہیں یا پھر پڑھتا ہے تو صرف کیڑے نکالنے کے لیے پڑھتا ہے اور مقدر اس کا گمراہی بنتی ہے تو اللہ فرماتے ہیں کہ یہ اس کا اپنا مسئلہ ہے ہم نے تو جو ہے وہ قران مجید نازل کر دیا ہے اب جس کے جی میں ائے وہی پائے روشنی اور اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپ ان لوگوں پر کارساز نہیں ہیں اس کے بعد اللہ تعالی فرماتے ہیں ایت نمبر 45 میں کہ جب ان لوگوں کے سامنے اللہ رب العزت کا اکیلے کا ذکر کیا جاتا ہے تو اللہ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کے دلوں میں اکیلے اللہ کا نام سن کر نفرت پیدا ہو جاتی ہے اکیلے اللہ کا نام سننا نہیں چاہتے اپ کبھی مشرکین کے سامنے اکیلے اللہ رب العزت کا ذکر کیجئے کبھی مسجد کی بات کیجئے کبھی توحید کی بات کیجئے تو وہ نہیں سنیں گے یہی وجہ ہے کہ اپ کو مسجدوں میں رش نہ ہونے کے برابر جب کہ درباروں پہ قبروں پہ مزاروں پہ اس طرح کے بت خانوں پہ اپ کو رش سب سے زیادہ ملے گا کیونکہ وہ لوگ اکیلے اللہ رب العزت کی بات سننے سننا نہیں چاہتے اور کچھ تو ایسے بدبخت ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے پلڑے میں توحید کے سوا کیا ہے جو لینا ہو گا محمد سے لے لیں گے اللہ ہمیں معاف فرما دے اس حد تک جو ہے وہ اللہ رب العزت کے ساتھ وہ زیادتی کی بات کرتے ہیں اس کے بعد اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ قیامت والے دن جب ان لوگوں کو اللہ رب العزت کے سامنے پیش کیا جائے گا ایت نمبر 47 ہے اگر کائنات کے اندر زمین کے اندر جتنی بھی چیزیں ہیں ساری کی ساری اللہ رب العزت کے سامنے یہ لوگ فدیہ کر دیں اپنی جان بچانے کے لیے اللہ فرماتے ہیں تو ان سے قبول نہیں کیا جائے گا اور ان کے سامنے وہ سب کچھ ایسا کچھ ظاہر ہو جائے گا جس کا کبھی انہوں نے گمان بھی نہیں کیا تھا ایسی جہنم دیکھنے کو ملے گی اللہ رب العزت کیسا غضب ان لوگوں کو دیکھنے اور سننے کو ملے گا اور اس کے مقابلے میں اللہ رب العزت نے ایت نمبر 53 ہے ان لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا اے میرے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے ان بندوں سے کہہ دیجئے جن بندوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیے ہیں زیادتیاں کی ہیں کسی بھی طرح سے اپنے نفس کو انہوں نے پراگندہ کر لیا ہے اس کو جو ہے وہ غلاظت والا کر لیا ہے ان سے کہیے مایوسی کا شکار نہ ہوں مایوسی کا شکار نہ ہوں مایوسی گناہ ہے اور وہ بھی اللہ رب العزت کے لیے مایوسی بڑی ہی خطرناک قسم کی چیز ہے کہ اللہ کی رحمت سے انسان ناامید ہو جائے اللہ فرماتے ہیں اللہ تمام کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے اور وہ اللہ رب العزت تو بڑا ہی بخشنے والا ہے وہ تو بڑا ہی رحم فرمانے والا ہے صحیح حدیث میں بے شمار اس طرح کی چیزیں موجود ہیں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں حدیث قدسی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ فرماتے ہیں میرے بندے اگر تو میرے ساتھ اس حالت میں ملاقات کرے کہ زمین کا سارے کا سارا اسپیس اسمان زمین کا اور اسی طرح سے ایک حدیث میں جو ہے وہ مکمل زمین تیری گناہوں سے بھری ہوئی ہو اور اللہ رب العزت فرماتے ہیں اس میں ایک ذرے کے برابر شرک موجود نہ ہو تو میں تجھے سارے کے سارے گناہ معاف کر دوں گا بے شمار واقعات موجود ہیں 99 قتل کرنے والا بنی اسرائیلی اس نے بھی ایک شخص کو جب مسئلہ پوچھا اس نے اس کو کہا کہ اب تو تمہارے لیے معافی نہیں ہے کیونکہ معافی تو ایک قتل کی نہیں ہوتی اور تم 99 کر چکے ہو تو اس نے کہا ٹھیک ہے جا 99 معاف ہوں گے وہاں پر 100 بھی ہو جائیں گے اس نے اس کو بھی قتل کر دیا اور اس کے بعد ایک ایسے متبحر عالم دین کے پاس گیا عالم ربانی کے پاس گیا جس نے اس کو بتایا کہ اللہ تعالی کی رحمت ہے اللہ فرماتے ہیں کہ میری رحمت ہر چیز کے اوپر وسعت والی ہے لہذا 99 100 کیا جتنے بھی گناہ کوئی شخص کر لیتا ہے اگر اللہ نے اس کو توفیق دے دی ہے تو اللہ اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہیں وہ شخص ابھی راستے میں تھا اگلی بستی کی طرف نہیں پہنچا تھا نیکو کاروں کی بستی کی طرف اس عالم دین کے مشورے کے مطابق راستے میں اس کی موت ہو گئی اللہ رب العزت نے فرشتوں کو بھیجا زمین کو ماپ لیا جائے جہنم والے فرشتوں نے کہا یہ جہنم میں جائے گا جنت والے فرشتوں نے کہا جنت میں جائے گا کیونکہ توبہ کا ارادہ کر چکا ہے اللہ نے فرمایا زمین کی میژرمنٹ کر لی جائے جب زمین کی میژرمنٹ کی تو انفیکٹ زمین جو ہے وہ ابھی اس کا گناہوں والی بستی کے قریب فاصلہ تھا کم تھا اور ابھی وہ گناہوں نیکوں نیکوں والی بستی سے ابھی دور تھا ایز ا رزلٹ اللہ رب العزت نے زمین کو حکم دیا اور زمین نے جو ہے وہ فورا موو کر کے وہ ڈسٹنس جو ہے وہ اس کا بالکل اس کے اپوزٹ کر دیا اور اللہ رب العزت نے اس بندے کو بخشنے کی راہ پیدا فرما دی اللہ رب العزت تو اپنے بندے کے ساتھ اتنے رحم فرمانے والے ہیں ذوالکفل کا واقعہ موجود ہے جس نے ہر طرح کا گناہ کیا تھا ایک خاتون نے اس کو اللہ رب العزت سے ڈرایا اس کے دل میں اللہ کا ڈر پیدا ہو گیا اور جب اللہ تعالی کا ڈر پیدا ہوا تو اس نے فورا اس خاتون کو چھوڑ دیا اور اس کو کہا کہ تم جاؤ اور میں اللہ رب العزت نے جو مجھے اب سمجھ دے دی ہے اب میں اسی کے مطابق کروں گا اللہ تعالی نے اس کو سمجھ عطا فرمائی وہیں سجدے میں گر گیا اللہ رب العزت نے اس پر موت طاری کر دی لوگوں نے باتیں بنائیں کہ قفل کے بارے میں کہ قفل ایسا قفل ویسا اللہ نے اس کے دروازے پہ لکھ دیا کہ اللہ رب العزت نے قفل کو بخش دیا ہے تو اللہ اتنا زیادہ بخشنے والا ہے سو ڈونٹ بی ڈس اپوائنٹمنٹ اباؤٹ اللہ اللہ رب العزت کے بارے میں ہمیں کسی بھی طرح سے مایوس نہیں ہونا چاہیے اس کے بعد اللہ رب العزت نے قیامت کے حالات کا تذکرہ کیا ہے اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں لوگوں نے اللہ تعالی کی قدر کو پہچانا ہی نہیں قیامت والے دن زمین اللہ کی مٹھی میں ہوگی اسمان و زمین اللہ رب العزت کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوں گے وہ بڑا ہی پاکیزہ ہے بہت ہی بلند و برتر ہے ان تمام چیزوں سے جو اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرتے ہیں اور جب نفخہ جو ہے وہ ہو گا یعنی سور پھونکا جائے گا زمین کے اندر جتنے بھی ذی روح ہیں سب کے سب بے ہوش ہو جائیں گے مگر جس کو اللہ تعالی چاہیں گے پھر جب نفخہ ثانیہ ہو گا دوسرا صور پھونکا جائے گا تو سب کے سب اللہ رب العزت کے سامنے اٹھ کر حاضر ہو جائیں گے اور اس کے بعد اللہ فرماتے ہیں ایت نمبر 67 میں 69 میں زمین اللہ تعالی کے نور سے روشن ہو جائے گی اعمال نامے لا کے لوگوں کے سامنے رکھ دیے جائیں گے سارے نبیوں کو وہاں پہ بلا لیا جائے گا سارے کے سارے گواہوں کو طلب کر لیا جائے گا اب انصاف کے مطابق فیصلے ہوں گے اور کسی پر ایک ذرے کے برابر ظلم نہیں ہوگا اور ان لوگوں کو پورے کا پورا اجر اور بدلہ دیا جائے گا کسی نے ذرے کے برابر نیکی کی ہوگی تو اس کو اس کے مطابق اجر ملے گا کسی نے ذرے کے برابر برائی کی ہوگی تو وہ اس کو بھی دیکھ لے گا اللہ فرماتے ہیں کہ وہاں پر تمام کے تمام لوگوں کے ساتھ پورے کا پورا معاملہ کیا جائے گا پھر اللہ نے دو گروہوں کا ذکر کیا ایت نمبر 71 میں پہلا گروہ ہے اہل جہنم کا گروہ ہے اللہ فرماتے ہیں جب جہنمیوں کو جہنم کی طرف چلایا جائے گا جب ان کے لیے جہنم کا دروازہ کھولا جائے گا اس کے دروازے کھولے جائیں گے اور بھرا ہوا جہنم کا دروغہ ان سے کہے گا کیا تمہارے پاس اللہ تعالی کے رسول نہیں اتے رہے جو تمہیں قران کی تلاوت اللہ تعالی کی کتابیں پڑھ کر سناتے تھے ایات تمہیں سناتے تھے اور اج کے دن سے اللہ تعالی کی ملاقات سے تمہیں ڈراتے تھے وہ کہیں گے یہ بات بالکل سچ ہے لیکن ہم مارے قسمت کے ہماری بدبختی اور شومی قسمت کہ ہمارے اوپر عذاب جو ہے وہ ثابت ہو چکا اور ہم جو ہے وہ ایمان نہیں لا سکے ان سے کہا جائے گا جاؤ پھر اب جہنم میں داخل ہو جاؤ بہت ہی بدترین ٹھکانہ ہے یہ تکبر کرنے والے کا اس کے بعد دوسرا گروہ ہے اللہ فرماتے ہیں اہل جنت کو جب جنت کی طرف چلایا جائے گا جب وہ جنت کے دروازوں پر پہنچیں گے اور جنت کے اٹھ دروازے ہیں صحیح حدیث کے مطابق واؤ کا استعمال کیا ہے جس کا معنی بعد مفسرین نے یہ لکھا ہے کہ ان کے پروٹوکول کے لیے باقاعدہ یہاں پر اب دروازے کھولے جائیں گے ان کی رسپیکٹ کے لیے کھولے جائیں گے اور جب دروازے کھولے جائیں گے تو وہاں پر جنت کا دروغہ کھڑا ہو گا جو انتہائی کائنڈ ہو گا بڑی نرم دلی کے ساتھ لوگوں سے کہے گا تم پر سلامتی ہو خوش ہو جاؤ اج اس جنت کے اندر چلے جاؤ یہ جنتیں ہمیشہ ہمیشہ اللہ رب العزت نے تمہارے لیے تیار کی ہیں اس بات پر وہ اللہ رب العزت کا شکر ادا کریں گے اور اس کے بعد اللہ فرماتے ہیں اس عورت کی اخری ایت میں کہ جب اپ دیکھیں گے فرشتوں کو جب جنت اور جہنم کا فیصلہ ہو چکا ہو گا تو اس کے بعد کا منظر اللہ رب العزت نے ذکر کیا ہے اپ فرشتوں کو دیکھیں کہ وہ فرشتے جو اللہ رب العزت کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اللہ تعالی کے عرش کے ارد گرد اللہ فرماتے ہیں کہ ایک جو ہے وہ ماحول اور حلقہ باندھے ہوئے کھڑے ہوں گے اللہ کی تسبیح بیان کر رہے ہوں گے اس کی تحمید بیان کر رہے ہوں گے اور لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور اس وقت یہ پکارا جائے گا اج تمام کی تمام تعریفیں صرف اور صرف اللہ رب العزت کے لیے ہیں اس کے بعد سورۃ المومن ہے جس کا سورۃ دوسرا نام سورۃ الغافر ہے غافر کا معنی بخشنے والی ذات اللہ تعالی کی صفت ہے ابتداء میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا یہ کتاب اللہ تعالی کی طرف سے نازل کر رہا ہے وہ اللہ رب العزت جو بڑا غالب ہے جاننے والا ہے اللہ تعالی کی صفات کا ذکر ہے گناہوں کو بخشنے والا ہے توبہ کو قبول کرنے والا ہے وہ بڑی سخت سزا دینے والا ہے لیکن وہ بڑے ہی فضل والا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور اسی کی طرف سب لوگوں کو لوٹ کر جانا ہے اس کے باوجود لوگ جو ہیں اللہ رب العزت کی کلام کے بارے میں قران مجید کے بارے میں اپس میں جھگڑا کرتے ہیں اس کے بعد اللہ رب العزت نے اہل ایمان کے لیے بڑی ہی سعادت کا ذکر کیا ہے ایت نمبر سیون سے نائن میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں اللہ تعالی کے عرش کو اٹھانے والے فرشتے اور اس کے ارد گرد جتنے بھی فرشتے ہوتے ہیں جو اپنے رب کی تسبیح اور تحمید اور حمد بیان کر رہے ہوتے ہیں اور اللہ رب العزت کے ساتھ ایمان رکھتے ہیں اور وہ فرشتے اہل ایمان کے لیے دعائیں مانگتے ہیں اور اللہ رب العزت اپنے فرشتوں کی دعاؤں کو کبھی رد نہیں کرتے کیا کہتے ہیں اے اللہ جس کی رحمتیں ہر چیز کے اوپر وسیع ہیں جس کا علم ہر چیز کو اپنے احاطہ میں لیے ہوئے ہیں اے اللہ جنہوں نے توبہ کی ہے ان کو بخش دے جنہوں نے تیرے راستے کا امتحان کیا ہے ان کو بخش دے اور اللہ ان کو جہنم کے عذاب سے بچا لے اے اللہ رب العزت ان کو ان نعمتوں اور جنات میں داخل فرما دے ان باغوں میں داخل فرما دے جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے ان میں سے بھی جو نیک ہیں ان کے اباؤ اجداد میں سے بھی جو نیک ہیں ان کو بھی ان کی بیویوں کو بھی ان کے شوہروں کو بھی ان کی اولادوں کو بھی اے اللہ رب العزت تو بڑا ہی غالب اور حکمت والا ہے اور اے اللہ رب العزت ان کو برائیوں سے بچا لے یعنی اہل ایمان کے لیے کتنی بڑی سعادت کی بات ہے کہ اہل ایمان کے لیے اللہ کے عرش کو اٹھانے والے فرشتے دعائیں کرتے ہیں کہ اللہ رب العزت ان کو گناہوں سے بچا لے اللہ ہمیں اس سعادت پر پورا اترنے کی توفیق عطا فرمائے اے اللہ جس کو تو گناہوں سے بچا لے اس پر تو نے بڑا ہی رحم فرما دیا اور یہی اصل میں بہت بڑی کامیابی ہے اللہ تعالی ہمیں بھی یہ کامیابی عطا فرمائے ایت نمبر 17 16 اور 17 میں اللہ رب العزت نے اگین قیامت کا ایک منظر نامہ اس کا جو ہے وہ ذکر کیا ہے جس دن یہ سارے کے سارے اللہ رب العزت کے حضور پیش کیے جائیں گے اللہ کی بارگاہ میں اللہ تعالی کے دربار میں یہ کھڑے ہوں گے اب اللہ پر کچھ نہیں چھپ سکتا اللہ فرمائیں گے بتاؤ اج کے دن بادشاہت کس کی ہے اور پھر اللہ رب العزت خود فرمائیں گے اکیلے اللہ رب العزت کی جو بڑا ہی زبردست طاقتوں کا مالک ہے اج بادشاہت اس کی ہے اج تمہیں وہ دیا جائے گا جو تم دنیا میں کماتے رہے ہو اج کسی پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا اللہ تعالی تو بڑے ہی جلد حساب لینے والے ہیں اس کے بعد اللہ رب العزت نے فرعون کے بارے میں ذکر کیا ہے موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے جب اس کو دعوت دی تو فرعون اپ علیہ الصلوۃ والسلام کی جان کا دشمن بنا اور کہنے لگا ایت نمبر 26 ہے سورۃ المومن کی کہنے لگا مجھے چھوڑو ذرا میں موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھوں اور اس کو میں قتل ہی کر دوں اور اس کو بولو کہ اپنے رب کو پکار لے مجھے ڈر ہے کہ یہ کہیں تمہارے دین کو نہ بدل کے رکھ دے یا کہیں زمین کے اندر فساد نہ مچا دے یعنی جو کام وہ خود کرتا تھا وہ اس نے موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں کہہ دیا اور اس کے بعد اللہ رب العزت نے فرمایا کہ موسی علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم میں سے ایک شخص کھڑا ہوا جو موسی علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان رکھتا تھا اللہ رب العزت پر ایمان رکھتا تھا اخرت کے دن پر ایمان رکھتا تھا لیکن اس سے پہلے وہ اپنا ایمان چھپاتا تھا اب جب اس نے دیکھا کہ موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے پراپر دعوت فرعون کے سامنے پیش کر دی ہے اور اب جو ہے وہ اس اللہ رب العزت نے ہمت عطا فرمائی اور شخص کہنے لگا جو ایمان لایا تھا فرعون ایت نمبر 28 سے 54 تک اللہ رب العزت نے بڑی تفصیل کے ساتھ اس بندے کا مکالمہ فرعون کے ساتھ ذکر کیا ہے وہ بندہ جو اپنے ایمان کو چھپاتا تھا اور وہ فرعون کی قوم میں سے تھا کہنے لگا کیا تم اللہ تعالی کے ایک بندے کو اس وجہ سے قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے یہ مسلمانوں کو ایمان والوں کو انبیاء کو زکریا اور یحیی علیہ الصلوۃ والسلام کو قتل کیے جانے کا بڑا ہی عجیب قسم کا سبب ہے کہ اللہ تعالی کے بندے اس نام پہ اس بات پہ کٹ جاتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ رب العزت کے سوا ہمارا کوئی معبود نہیں ہے اور یہ بات اج تک سمجھ سے بالاتر ہے کہ ان ظالموں کو اس بات سے کیا تکلیف ہوتی ہے کہ جب ایک بندہ یہ کہتا ہے کہ میرا رب تو اللہ ہے میں اس کو نہیں چھوڑ سکتا جبکہ یہ لوگ جو ہے معبودان باطلہ کو اپنا رب بناتے ہیں تو اسی بنا پر وہ موسی علیہ الصلوۃ والسلام کا فرعون بھی دشمن ہوا تو وہ جو ہے وہ اس ایمان والے شخص نے کہا کہ کیا تم ایک بندے کو اس وجہ سے قتل کرتے ہو کہ اس نے کہا کہ میرا رب اللہ ہے جبکہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے دلائل ا چکے ہیں اور دیکھو اگر موسی علیہ الصلوۃ والسلام اپنی اس بات میں جھوٹے ہیں تو فرمائے تو ان کا جھوٹ انہی پر ہے تمہیں اس بات سے کیا تکلیف اور پرواہ ہے اور اگر وہ اپنے وعدے میں سچے ہیں تو پھر دیکھو جو وعدہ وہ تمہیں دیتے ہیں وہ تمہیں پہنچ کر رہے گا اللہ تعالی اس بندے کو ہدایت نہیں دیتے جو زیادتی کرنے والا جھٹلانے والا ہوتا ہے فرمائے کہ اے میری قوم کے لوگوں دیکھو اج تو تم دنیا کے اندر غالب ہو اگر اللہ کا عذاب ا گیا تو ہمیں پھر کون ہماری مدد کرے گا فرعون کہنے لگا کہ میں تو وہی تمہیں بتا رہا ہوں جو میں نے دنیا کے اندر دیکھا ہے اور میں تمہیں جو ہے وہ ہدایت دے رہا ہوں تمہیں تمہاری رہنمائی کر رہا ہوں بڑے ہی سیدھے راستے کی طرف وہ شخص کہنے لگا جو ایمان لایا تھا کہ اے میری قوم کے لوگوں میں تم پر ان عذابوں سے ڈرتا ہوں جو اس سے پہلے بہت سارے گروہوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں قوم نوح کی طرح قوم عاد کی طرح قوم ثمود کی طرح اور اس کے بعد بہت ساری قوموں کو اور دیکھو اللہ رب العزت اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا اور پھر کہا کہ اے میری قوم کے لوگوں میں تم پر اس دن سے ڈرتا ہوں جس دن تم چیخ و پکار کرو گے لیکن وہ چیخ و پکار تمہارے کام نہیں ائے گی تمہیں اللہ رب العزت سے کوئی بچانے والا نہیں ہوگا اور جس کو اللہ گمراہ کر دیں اس کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا دیکھو تمہارے پاس اس سے پہلے یوسف علیہ الصلوۃ والسلام ا چکے ہیں واضح دلائل کے ساتھ اس کے باوجود تم لوگوں نے ان کی باتوں کو نہیں مانا حتی کہ جب وہ دنیا سے چلے گئے تو تم لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا اج کے بعد اللہ رب العزت کسی نبی کو دوبارہ نہیں بھیجے گا اللہ رب العزت اسی طرح سے اسراف کرنے والوں کو اور شک کرنے والوں کو اپنے راستے سے گمراہ کر دیتے ہیں جو لوگ اللہ تعالی کی ایات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی ان کے بارے میں ارشاد فرمایا ان کے دلوں پر اللہ رب العزت تکبر کرنے والوں پر جبر کرنے والوں پر اپنے اپ کو سرکشی پر جو ہے وہ ابھارنے والوں پر اللہ رب العزت ان کے دلوں پر مہریں لگا دیتے ہیں اس کے بعد کہنے لگا ایت نمبر 38 میں جو ایمان لایا تھا کہ اے میری قوم کے لوگوں میں تمہیں کہتا ہوں میری بات مان لو یہ بڑا ہی سیدھا راستہ ہے سیدھے راستے کے اوپر چلنا شروع کر دو اور دیکھو میرے قوم کے لوگوں ایت نمبر 39 ہے اے میری قوم کے لوگوں یہ دنیا تو چند دن کا سامان ہے تھوڑا سا وقتی فائدہ ہے اور اخرت کا گھر ہی اصل میں اصل گھر ہے جو کوئی برائی کرے گا تو اس کا بدلہ اسی کے برابر اس کو ملے گا اور جس نے نیکی کا کوئی عمل کیا چاہے وہ مرد ہو یا عورت ہو اور وہ ایمان والا ہوا تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے بغیر حساب کے اللہ تعالی کے پاس سے رزق دیے جائیں گے اور اے میری قوم کے لوگوں میں تمہیں کیوں جو ہے وہ تمہیں میں تمہیں نجات کے راستے کی طرف دعوت دیتا ہوں اور تم مجھے جہنم کی طرف پکارتے ہو اور تم مجھے یہ کہتے ہو کہ میں اللہ تعالی کے ساتھ کفر اور شرک شروع کر دوں جس کا مجھے کسی بھی بارے میں کوئی دلیل اور میرے پاس جو ہے وہ کوئی اس کا اوتھینٹک کوئی وجہ نہیں ہے کہ میں اللہ تعالی کو چھوڑ کر تمہارے ان معبودان باطلہ کی طرف چلا جاؤں اور میں تو تمہیں عزیز اور غفار رب کی طرف بلاتا ہوں اور کہنے لگا کہ لوگوں میں تو جو ہے وہ جس کی طرف تم مجھے بلاتے ہو کہنے لگا کہ اور دیکھو کہ ہمارا حقیقت میں جو لوٹنا ہے وہ تو اللہ رب العزت کی طرف ہے اور جو اسراف کرنے والے ہیں وہ تو حد سے تجاوز کرنے والے ان کا ٹھکانہ تو جہنم ہوگا اس کے بعد کہنے لگا میں تو اپنے اپ کو اپنے معاملے کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں یقینا اللہ رب العزت اپنے بندوں کو دیکھنے والا ہے اب انہوں نے جتنی بھی چالیں اس بندے کے بارے میں چلیں موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ اللہ رب العزت نے اس بندے کو نجات عطا فرمائی اور ان لوگوں کو اللہ رب العزت نے عذاب کا شکار کیا اس کے بعد اللہ رب العزت نے ایت نمبر 45 سے 46 میں اللہ رب العزت نے ذکر کیا ہے اب اگ ہے جو صبح و شام ان لوگوں کے اوپر پیش کی جاتی ہے حتی کہ قیامت قائم ہو جائے گی اے فرعون کے لوگوں بڑے ہی سخت قسم کے عذاب میں داخل ہو جاؤ صحیح حدیث میں موجود ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کے جواب میں یہ بات ارشاد فرمائی صحیح بخاری کے اندر موجود ہے عائشہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا عذاب قبر برحق ہے تو اللہ کے نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی ایت کا حوالہ دیتے ہوئے اسی کی مناسبت سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی کہ فرمایا بالکل برحق ہے اور اگ پر ہر شخص جو ہے وہ صبح و شام اگر کوئی جنتی ہے تو وہ جنت پر پیش کیا جاتا ہے یعنی جنت اس کے سامنے پیش کی جاتی ہے اور اگر کوئی جہنمی ہے تو اس کے سامنے صبح و شام جہنم پیش کی جاتی ہے تو یہاں سے عذاب قبر جو ہے اس کا برحق ہونا ان ایات سے ثابت ہوتا ہے ایت نمبر 51 میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں یقینا ہم اپنے مومن بندوں کی مدد فرماتے ہیں جیسا کہ ہم نے موسی علیہ الصلوۃ والسلام اور ان پر ایمان لانے والوں کی مدد فرمائی اور جس دن گواہ سارے کے سارے کھڑے ہو جائیں گے قیامت والے دن ان لوگوں کو ظالموں کو ان کی معذرت کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گی اور ان پر اللہ تعالی کی طرف سے لعنت ہوگی اور بڑا ہی برا گھر ہوگا تو یہاں سے بعض لوگوں کے دل میں یہ خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ زکریا اور یحیی علیہ الصلوۃ والسلام اور اسی طرح سے بعض دیگر انبیاء کو جنہوں نے جن کو بنی اسرائیل کے لوگوں نے قتل کر دیا جب اللہ اپنے بندوں کی مدد فرماتے ہیں تو پھر ان کو جو ہے وہ کیوں قتل کیا گیا تو یہ اس ایت کے منافی نہیں ہے اللہ تعالی کی ازمائشیں جیسا کہ اللہ رب العزت نے فرمایا ایمان لانے کے بعد کسی پر ازمائشیں نہیں ڈالی جائیں گی ایسا نہیں ہو سکتا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی تکالیف جو ہے وہ ہمارے سامنے ہیں تو یہ اللہ تعالی کی طرف سے اپنے ان بندوں کو ازمائشوں میں ڈال کر ان کے مقامات کو ان کے جو ہے وہ بلند مزید ان کے مرتبہ کو اللہ تعالی کی طرف سے بلند کیا جاتا ہے تو یہ ایت جو ہے وہ اس یہ واقعہ جو ہے اس ایت کے بالکل بھی منافی نہیں ہے۔ اس کے بعد اللہ رب العزت نے ایت نمبر 59 میں ارشاد فرمایا یقینا قیامت تو انے والی ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے لیکن اکثر لوگ اس بات کو ایمان نہیں لاتے اور اللہ نے فرمایا اللہ رب العزت نے یہ بات فرمائی ہے اللہ نے حکم دیا ہے کہ اے میرے بندوں مجھے پکارا کرو مجھ سے دعا مانگا کرو میں تمہاری پکار کو سنتا ہوں۔ اللہ تعالی بطور خاص ان لوگوں کو ہدایت نصیب فرمائے جو مسجد کو چھوڑ کر اللہ کو چھوڑ کر اللہ کے گھر کو چھوڑ کر اور اپنے گھروں میں بیٹھ کر بھی اللہ کو پکاریں گے تو اللہ وہاں بھی سنتا ہے اللہ تعالی کو چھوڑ کر وہ ادھر ادھر مختلف دروں کے اوپر جا کر دھکے کھاتے ہیں اللہ ان کو ہدایت نصیب فرمائے اللہ پکارتے ہیں کہ میرے بندوں مجھے پکارو میں تمہاری دعاؤں کو سنتا ہوں تمہاری دعاؤں کو قبول کرتا ہوں اور یقینا وہ لوگ جو میری مجھے نہیں پکارتے جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں یعنی دعا سے تکبر کرتے ہیں کیونکہ صحیح حدیث میں ابو داؤد کی روایت میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کو بھی عبادت قرار دیا ہے دعا بذات خود عبادت ہے یعنی نماز کے ساتھ بھی جو ہے وہ دعا مانگی جا سکتی ہے دیگر مقامات ہیں جہاں پر دعائیں قبول ہوتی ہیں اقامت اور جماعت کے درمیان دعائیں قبول ہوتی ہیں اسی طرح فرض نمازوں کے بعد دعائیں قبول ہوتی ہیں سحری کے ٹائم پہ دعائیں قبول ہوتی ہیں اسی طرح قران مجید کی تلاوت کے ساتھ دعائیں قبول ہوتی ہیں کوئی بھی نیک عمل کیا جائے تو اس کے ساتھ دعائیں قبول ہوتی ہیں تو یہاں پر اللہ رب العزت نے یہ بات ارشاد فرمائی کہ یہ لوگ جب جو ہے وہ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں بعض مفسرین نے کہا کہ اس سے مراد جو ہے وہ عبادت ہے دعا سے مراد اور عبادت جو ہے وہ جیسے حدیث میں نے اپ کے سامنے رکھی ہے تو یہ اپس میں متضاد مفہوم نہیں ہے تو اللہ نے فرمایا کہ جو میری عبادت یعنی دعا سے تکبر کرتے ہیں جو دعا نہیں مانگتے وہ اللہ تعالی کو پسند نہیں ہے عنقریب یہ لوگ اللہ رب العزت فرماتے ہیں ذلیل و رسوا ہو کر جہنم میں جائیں گے اس کے بعد ایت نمبر 69 سے 67 تک اللہ رب العزت نے ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جو دین کے بارے میں مختلف قسم کی نزا پیدا کرتے ہیں جھگڑا پیدا کرتے ہیں دین کے بارے میں مختلف قسم کے کیڑے نکالتے ہیں دین پر اعتراضات کرتے ہیں اللہ فرماتے ہیں اپ نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو اللہ کی ایات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں کہ وہ کہاں کہاں بھٹکتے پھرتے ہیں جنہوں نے کتاب کو جھٹلا دیا جنہوں نے ہمارے انبیاء کو جھٹلا دیا عنقریب ان کو سمجھ ا جائے گی عنقریب یہ جان لیں گے کب کیا جانیں گے جب طوق ان کے گلے میں ڈالے جائیں گے اور زنجیریں ان لوگوں کے جو ہے وہ گلے میں ڈالی جائیں گی پھر ان لوگوں کو گھسیٹا جائے گا گھسیٹ کے جہنم میں پھینک دیا جائے گا پھر جہنم کی اگ میں ان لوگوں کو پکایا جائے گا وہاں پر ان کو جلایا جائے گا پھر ان سے کہا جائے گا کہاں ہیں جن کو تم اللہ تعالی کے سوا پکارتے اور شرک کرتے تھے اللہ تعالی کے ساتھ پھر یہ کہیں گے کہ اللہ وہ تو سارا کچھ چھپ گیا ان میں سے تو کچھ بھی ہمارے ساتھ نہیں ا سکا اج ہمیں کوئی نظر نہیں اتا اور بلکہ کہیں گے ہم تو اس سے پہلے کسی کو بھی نہیں پکارتے تھے اللہ اسی طرح سے ان کافروں کو گمراہ کرتے ہیں فرماتے ہیں اللہ تعالی یہ وہی سب جو تمہیں اج عذاب دیا جا رہا ہے یہ وہی ہے جس کی بدولت تم دنیا کے اندر خوشی خوشی گھوما پھرا کرتے تھے اور جہاں پر تم اترایا کرتے تھے اج جہنم کے اندر داخل ہو جاؤ جہنم کے دروازے تمہارے لیے کھلے ہوئے ہیں بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے جو اللہ رب العزت نے تمہارے لیے تیار کر رکھا ہے اس سورۃ کی اخری ایات میں ایت نمبر 84 اور 85 میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں جب یہ لوگ عذاب کو دیکھیں گے تو اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ اس وقت کہیں گے ہم اکیلے اللہ رب العزت پر ایمان لے ائے اور جن کو ہم اللہ تعالی کے سوا پکارتے تھے ان سب کا ہم انکار کرتے ہیں اب ہم ان کے ساتھ کفر کرتے ہیں اللہ فرماتے ہیں اج ایمان کا کوئی فائدہ نہیں ہے جب عذاب سامنے ا جائے عذاب دیکھ لیں اپنی انکھوں سے اور قیامت والا دن ا جائے تو اللہ فرماتے ہیں اس عذاب جو ہے وہ ان لوگوں کا واپس پلٹنا ان کا ایمان ان کو نفع نہیں دے گا اللہ کا یہی طریقہ ہے جو اس سے پہلی قوم اور بندوں کے اندر گزر چکا ہے اور ان کافروں کے لیے سوائے خسارہ کے سوائے ہاتھ ملنے کے سوائے حسرت یاس کے ان کے لیے اب کچھ نہیں بچا اس کے بعد سورہ ح می سجدہ ہے ح می سجدہ میں اللہ رب العزت نے ایت نمبر سکس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت یہ ارشاد فرمایا اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپ لوگوں کو بتا دیجئے کہ میں اللہ رب العزت نے مجھے بھی ایک بشر اور ایک انسان ہی پیدا کیا ہے انسان ہونے کے ناطے سے میں دیگر انسانوں کی طرح کا ہوں ہاں البتہ وحی اللہ رب العزت نے میری طرف فرمائی ہے جو فضائل مناقب اور مراتب اللہ تعالی نے مجھے عطا فرمائے ہیں یقینا وہ کسی اور کو حاصل نہیں ہیں تو معنی یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بشر ہی بنا کر بھیجا ہے اللہ رب العزت نے کسی اور مخلوق میں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتخاب نہیں کیا تو نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا اللہ تعالی نے اس کا جو ہے وہ یہاں ذکر کیا ہے کہ اے نبی علیہ السلام اپ ان لوگوں سے کہہ دیجئے اللہ رب العزت کے لیے تم سیدھے ہو جاؤ سیدھے راستے پر چلو اس سے ہمیشہ بخشش مانگا کرو اور بڑی ہی ہلاکت تباہی و بربادی اور اللہ کی رحمت سے دوری ہے ان مشرکین کے لیے جو زکات ادا نہیں کرتے اور اخرت کا انکار کرتے ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں اور نیک اعمال کرتے ہیں اللہ رب العزت نے ان کے لیے ایسا اجر تیار کر رکھا ہے جس میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی ایت نمبر نائن میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپ ان سے کہہ دیجئے کیا تم اس اللہ رب العزت کے ساتھ کفر کرتے ہو جس نے زمین کو دو دنوں میں بنایا اور پھر تم اس کے ساتھ شریک بناتے ہو یہ ہے تمہارا رب جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے پھر اس اللہ رب العزت نے اس زمین کے اندر پہاڑ اگا دیے پھر اس کے اندر برکتیں عطا فرمائیں ہر چیز کی مقدار مقرر فرمائی پھر اس کے اندر مختلف خوراکیں جو بھی لوگوں کو چاہیے تھیں وہ سب اللہ رب العزت نے پیدا فرمائیں چار دنوں کے اندر تو معنی کیا ہے ابن عباس رضی اللہ عنہ اس کے بارے میں بہترین تفصیل بیان فرماتے ہیں فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے دو دن میں صرف زمین کو پیدا کیا پھر اس کے بعد چار دنوں میں اللہ رب العزت نے باقی زمین کی جتنی بھی جو ہے نا وہ یہ معاملات تھے وہ دو دنوں کے اندر اللہ رب العزت نے وہ پیدا فرمائیں اور اس کے بعد اللہ رب العزت جو ہے وہ اسمان کی طرف متوجہ ہوا تو یہ اللہ رب العزت نے اس کا تذکرہ کیا ہے پھر اللہ رب العزت اسمانوں کے اوپر مستوی ہوا یہ استوا العرش کا عقیدہ ہے جس کا ہم پہلے بھی کئی مرتبہ ذکر کر چکے ہیں اور وہ اسمان دھوئیں کی مانند تھا اللہ نے اسمان کو اور زمین سے یہ فرمایا نہ پسند کرتے ہوئے یا پسند کرتے ہوئے جیسے بھی تمہیں اچھا لگتا ہے اللہ تعالی کی فرمانبرداری کرو یعنی اتنی بڑی زمین اور اسمان جب اللہ تعالی کی فرمانبرداری پر نہ صرف مجبور ہیں بلکہ کہنے لگے اے اللہ ہم تو خوشی خوشی فرمانبرداری کرنے کو تیار ہیں تو اللہ رب العزت نے اسمانوں کو سات اسمان اللہ رب العزت نے جو ہے وہ دو دن کے اندر بنا دیے اور پھر ہر اسمان کی طرف اللہ رب العزت نے اس کے جو بھی معاملات تھے اس کی طرف وحی فرما دی اور اللہ رب العزت نے اسمان کو ستاروں کے ساتھ خوبصورتی عطا فرمائی اور ان ستاروں کو جو ہے وہ شیطانوں کو مارنے کا ذریعہ بنایا یہ اس اللہ رب العزت کی قدرت ہے اور اس اللہ رب العزت کی جو کہ بڑا ہی غالب اور جاننے والا ہے صحیح حدیث میں زمینوں کے بارے میں موجود ہے کہ اللہ رب العزت نے سات زمینیں بنائی ہیں اور اسی طرح سے سات اسمانوں کا ذکر تو قران مجید کی کئی ایت کے اندر موجود ہے لہذا یہ اللہ رب العزت ہے جس اللہ رب العزت نے اپنا اتنا بڑا تعارف کروایا ہے اس کے بعد اللہ رب العزت نے فرمایا کہ اس کے باوجود یہ لوگ اعراض کرتے ہیں اگر یہ اعراض کرتے ہیں تو پھر ان کو بتائیے کہ تم سے پہلے قوم عاد اور قوم ثمود گزر چکے ہیں قوم عاد کے لوگ اتنے سخت تھے اتنے جو ہے وہ سخت جان تھے کہ وہ کہا کرتے تھے ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے اور تفسیری روایات کے اندر موجود ہے کہ ان کا بچہ جب 300 سال کا ہوتا تو بلوغت کو پہنچتا تھا 300 سال کا بچہ یعنی 300 سال جب اس کی عمر ہو جاتی تو اس وقت وہ بالغ ہوتا تھا تو یہاں سے اپ اندازہ لگائیے کہ اللہ رب العزت نے پھر یہ کیا کرتے تھے پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بنایا کرتے تھے اج تک ان لوگوں نے جتنا کچھ بھی اللہ رب العزت نے ان قوموں کو عطا فرما رکھا تھا اج تک ہماری کوئی سائنس جو ہے نا وہ اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکی ہے کہ اتنی بڑی بڑی طاقتیں اللہ رب العزت نے جبکہ اس وقت ٹیکنالوجی بھی نہیں تھی تو کیسے اللہ رب العزت نے ان کو عطا فرمائی تھیں تو یہ اتنے بڑے عاد اور اتنے بڑے سمود اللہ فرماتے ہیں یہ سارے کے سارے اللہ رب العزت نے ان کو نست و نابود کر دیا تو تم اللہ رب العزت کے سامنے کیا معنی رکھتے ہو ایت نمبر 19 میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں یاد کرو اس وقت کو جس دن اللہ کے دشمنوں کو جہنم کے سامنے جو ہے وہ محشر کے دن جو ہے وہ جمع کیا جائے گا میدان حشر میں جب جمع کیا جائے گا حتی کہ جب جو ہے وہ ان سب ان کے سامنے وہ سب کچھ ا چکا ہو گا تو اس وقت معاملات ان کے سامنے کھل جائیں گے تو اللہ فرماتے ہیں پھر ان کے کان ان کی انکھیں اور ان کی جلدیں وہ سب کی سب ان کے خلاف گواہی دیں گی جو یہ عمل کیا کرتے تھے اور یہ انسان یہ لوگ اپنے جلدوں سے کہیں گے تم ہمارے خلاف کیوں ہو گئی ہو تمہیں ہی تو پالنے کے لیے ہم یہ سب کچھ کرتے رہے ہیں وہ جلدیں بول کر کہیں گی انسان کے اعزاء جو انسان کے خلاف ہو جائیں گے بول کر کہیں گے اج اس مالک نے ہمیں بولنے کی طاقت عطا فرمائی ہے جو ہر ایک کو بولنے کی طاقت دیتا ہے اور اسی نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے اور تم یہ تو سوچتے رہے تم نے تنہائی میں گناہ کرتے وقت یہ تو سوچ لیا کہ تم لوگوں سے چھپ گئے ہو تم نے یہ نہیں سوچا کہ تم اپنی جو ہے وہ اپنے اعضاء سے نہیں چھپ سکتے تم نے یہ نہیں سوچا کہ تم اللہ رب العزت سے نہیں چھپ سکتے بلکہ تم تو یہ سمجھتے رہے کہ اللہ رب العزت تمہاری بہت سی باتوں کو جانتا ہی نہیں ہے اللہ فرماتے ہیں اج کے دن یہ صبر کر لیں قیامت کے دن یا معذرت کر لیں اللہ فرماتے ہیں ان کو نہ معذرت فائدہ دے گی نہ ان کا صبر کرنا فائدہ دے گا ان لوگوں کو اخر جہنم کے اندر جانا ہوگا اللہ رب العزت ہمیں ایسے انجام سے محفوظ فرمائے اس کے بعد اللہ رب العزت نے قران مجید کی تاثیر کا ذکر کیا ہے اور کفار کس طرح سے قران مجید کو سن کر شور و غل کیا کرتے تھے اس کا تذکرہ کیا ہے ایت نمبر 26 میں اللہ فرماتے ہیں اور یہ کافر لوگ کہا کرتے تھے قران مجید کو نہ سنا کرو اور اس کے درمیان شور کیا کرو تاکہ تم غالب ا جاؤ اور لوگ قران مجید کی اواز پر لبیک نہ کہہ دیں تو یہ کیا کرتے سیٹیاں بجاتے تالیاں بجاتے اسی طرح سے شور و غل کیا کرتے ڈھول پیٹتے اور یہ سارا کچھ کرتے تاکہ لوگ قران مجید کی بات کو نہ سن سکیں لیکن قران مجید کی تاثیر ایسی ہے کہ اللہ رب العزت نے جس نے ایک مرتبہ سن لیا اس کے دل میں گھر کر گیا اللہ رب العزت ہمیں بھی ایسا ہی جو ہے وہ اللہ تعالی سے ڈرنے والا دل عطا فرمائے ایت نمبر 30 سے 32 میں اللہ رب العزت نے ان لوگوں کا تذکرہ کیا ہے جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں پھر اس کے اوپر استقامت اختیار کرتے ہیں اللہ نے ان کو کتنا فائدے میں رکھا ہوا ہے کیا ان کو بینیفٹس ملیں گے اللہ رب العزت نے ان کا تذکرہ کیا ہے یقینا وہ لوگ جنہوں نے یہ کہہ دیا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس کے اوپر ڈٹ گئے پھر اس کے اوپر قائم ہو گئے صحیح حدیث میں موجود ہے ایک صحابی نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا صحیح مسلم کی حدیث ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کسی ایسی بات کی نصیحت فرما دیجیے کوئی ایسی بات بتا دیجیے کہ اپ کے بعد مجھے کسی سے پوچھنے کی نوبت نہ ائے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بس یہ دو باتیں پلے باندھ لو یہ کہہ دو کہ میرا رب اللہ ہے پھر اس بات کے اوپر استقامت اختیار کر لو زندگی بھر اس بات کو کبھی نہ چھوڑنا توحید کی سب سے مضبوط دلیل ہے اللہ رب العزت کے سوا پھر کسی کو نہ پکارنا اللہ تمہیں اسی میں کامیابی عطا فرما دیں گے تو اللہ نے اس کا تذکرہ کیا ہے جو یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس کے اوپر ڈٹ جاتے ہیں استقامت اختیار کرتے ہیں کیا ہوتا ہے ان کو نتیجہ کیا ملتا ہے فرشتے نازل ہوتے ہیں اور وہ فرشتے ا کر کہتے ہیں تم پر کوئی خوف نہیں ہے تمہیں کسی قسم کا کوئی غم نہیں ہے جنت کی بشارتیں تمہیں دی جاتی ہیں جس کا اللہ رب العزت نے تم سے وعدہ کر رکھا ہے ہم تمہارے اخرت اور دنیا کے اندر دوست اور مددگار ہیں اللہ رب العزت نے فرمایا اور تمہارے لیے وہ سب کچھ تمہیں ان جنتوں میں ملے گا جو تم چاہو گے جیسا تم وہاں پر بلا پکارو گے جیسا تم جو ہے وہ کچھ لینا چاہو گے جو بھی تم وہاں پر پکار پکارو گے اللہ تعالی تمہاری قبول فرمائیں گے اج تم مالک کے غفور الرحیم کے مہمان ہو اج تمہاری مہمانی اس کی طرف سے کی جائے گی اس کے بعد اللہ رب العزت نے ان کا تذکرہ کیا جو اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں دعوت کا طریقہ کار بتایا اس سے زیادہ بہترین بات اور کلام کس کا ہو سکتا ہے جو اللہ تعالی کی طرف بلاتا ہے نیک اعمال کرتا ہے اور یہ بھی کہتا ہے کہ میں اللہ تعالی کے فرمانبرداروں میں سے ہوں تو نیکی اور برائی کبھی برابر نہیں ہو سکتی تو نیکی اور برائی کبھی برابر نہیں ہو سکتی اگر کوئی شخص تمہیں برا برائی کے ساتھ جواب دے تو تم اس کو اچھائی کے ساتھ جواب دیا کرو نتیجہ کیا نکلے گا کہ تمہارے اور اس کے درمیان جو دشمنی ہے وہ دوستی میں بدل جائے گی گہری محبت میں بدل جائے گی اور یہ کام اللہ رب العزت فرماتے ہیں یہ جو عطیہ ہے یعنی برائی کا جواب اچھائی سے دینے والا یہ اللہ تعالی کی طرف سے صبر کرنے والوں کو ہی عطا ہوتا ہے اور یہ عطیہ بڑا ہی بہت ہی بلند مقام ہے اور بڑا ہی فیصلہ ہے جو اللہ رب العزت کی طرف سے لوگوں کو عطا کیا جاتا ہے اور اے اللہ کی طرف بلانے والے دعوت دینے والے اگر شیطان میں شیطان تمہارے دل میں کسی قسم کا وسوسہ پیدا کر دے تو اللہ فرماتے ہیں فورا اللہ تعالی کی پناہ طلب کرنا اللہ رب العزت یقینا سننے والے اور جاننے والے ہیں اس پارے کے اخر میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا ہے ایت نمبر 44 میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں اگر ہم قران مجید کو عربی زبان کے علاوہ کسی اور زبان میں نازل کر دیتے تو یہ مشرکین مکہ یہ کفار کیا اعتراض پیدا کرتے اعجمی اور عربی کیا قران مجید جو ہے وہ عجمی زبان میں کسی غیر عربی زبان میں جبکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خود عربی زبان میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا ان سے کہہ دیجیے یہ مسئلہ تمہیں سمجھ میں انے والا نہیں ہے باوجود اس کے کہ قران تمہاری خالص اور فصیح عربی زبان کے اندر موجود ہے اس کے باوجود تم ایمان لانے والے نہیں ہو تو ایمان لانے والوں کے لیے یہ قران مجید اللہ تعالی نے اس کو ہدایت بنایا ہے اس کو شفا بنایا ہے اور جو لوگ اللہ رب العزت کے ساتھ ایمان نہیں لاتے اس قران مجید کے ذریعے ہی اللہ رب العزت ان لوگوں کو گمراہ فرما دیتے ہیں ان کے کانوں میں بہت بڑا بوجھ پڑا ہوا ہے اور یہ قران ان کے اندھے پن کا سبب بن جاتا ہے یہی وہ لوگ ہیں جن کو بڑی ہی دور سے پکارا جائے گا اس کے بعد اللہ رب العزت نے موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو کتاب دینے کا تذکرہ کیا ہے اور فرمایا کہ ان کے ان کی قوم نے بھی اس کے درمیان اختلاف کیا اور وہ بھی اس کے بارے میں شک و شبہ کے اندر پڑے رہے اللہ فرماتے ہیں جو بندہ نیک عمل کرتا ہے تو وہ اپنے ہی نفس کے لیے کرتا ہے اور جو کوئی برا عمل کرتا ہے تو اس کا وبال بھی اسی پر پڑے گا اور تمہارا رب کسی بھی بندے پر ظلم کرنے والا نہیں ہے اللہ سے دعا ہے کہ جو کچھ میں نے اپ کے سامنے بیان کیا مجھے اور اپ سب کو سمجھنے عمل کرنے اور اگے پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript