Thumbnail for Hum ne takhreeb se khud apne nasheman phoonke by Saghir Ahmed

Hum ne takhreeb se khud apne nasheman phoonke

Saghir Ahmed

8m 49s1,137 words~6 min read
AI audio transcription
Transcript source

AI audio transcription

This transcript was generated from the video's audio because no usable YouTube caption track was available. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Use this transcript
Related transcript hubs

[0:04]سامعین میری تقریر کا موضوع ہے۔ ہم نے تخریب سے خود اپنے نشیمن پھونکے۔ صدر عالی وقار، سوچتا ہوں پرندے کیوں نہیں آتے کنکر کیوں نہیں گراتے۔ دیکھتا ہوں بندوق اٹھتی ہے گولی چلتی ہے چلانے والے کی آواز آتی ہے لا الہ الا اللہ۔ گولی جسم کے آر پار ہوتی ہے تو مرنے والے کے منہ سے صدا آتی ہے۔ لا الہ الا اللہ پرندے کیوں نہیں آتے کنکر کیوں نہیں گراتے۔ صدر عالی وقار، عالی وقار جب قاتل بھی مسلمان، مقتول بھی مسلمان۔ قاتل کا بھی وہی نعرہ جو مقتول کا نعرہ قاتل کا بھی وہی کعبہ جو مقتول کا کعبہ قاتل کا بھی وہی رب جو مقتول کا رب قاتل کہلائے غازی اور مقتول شہید تو پھر پرندے کس کی مدد کو آئیں۔ قاتل کی یا مقتول کی؟ کنکر کس پہ گرائیں قاتل پہ یا مقتول پہ تخریب کار پہ یا تخریب گزیدہ پہ حاضر صدر ذی وقار، اسی لیے پرندے نہیں آتے، کنکر نہیں گراتے۔ اور مفلس شہر کو دھنمان سے ڈر لگتا ہے پر نہ دھنمان کو رحمان سے ڈر لگتا ہے۔ اب کہاں ایثار و اخوت وہ مدینے جیسی اب تو مسلم کو مسلمان سے ڈر لگتا ہے اب تو مسلم کو مسلمان سے ڈر لگتا ہے۔ صدر عالی وقار جی تو چاہتا تھا کہ کشمیر، فلسطین، چیشنیہ، بوسنیا، افغانستان، لہو، لاشیں، کٹے پھٹے انسان اور خون میں رنگی تارکول کی سڑکوں کی بات کرتا۔ مگر صدر عالی وقار، آج اس مباحثے کے قواعد و ضوابط کے مطابق میرے پاس بولنے کے لیے پانچ سے سات منٹ ہیں اور پانچ سے سات منٹ میں تو اپنوں کے لگائے ہوئے زخم دکھانا مشکل ہے اوروں کے قصے کیا چھینوں۔ ذی وقار میرا موضوع ہم نے تخریب سے خود اپنے نشیمن پھونکے۔ زیر بحث قرارداد میں موجود لفظ ہم سے میری مراد میں آپ اس ایوان میں موجود ہر شخص اور نشیمن سے مراد اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ اس نشیمن کو اس ارض پاک کو دنیا کے نقشے پر لانے والا قائد اپنی زندگی کی آخری سانسیں گن رہا تھا۔ گاڑی دیر سے پہنچانے والے کون گریبان میں جھانکیں تخریب کار ہم خود ہیں۔ سکوت ڈھاکہ وطن دو لخت ایک آشیانہ دو حصوں میں بانٹنے والے کون گریبان میں جھانکیں تخریب کار ہم خود ہیں۔ وطن کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے والے سندھو دیش، پختونستان، جاگ پنجابی جاگ اور عظیم بلوچستان کا نعرہ لگانے والے کون گریبان میں جھانکیں تخریب کار ہم خود ہیں۔ گھنٹیاں نہ بجاؤ میں یہاں سے چلا جاؤں گا۔ مگر میری آواز اس شور صدمے گونج تو لینے دو۔ صدر عالی وقار، عالی وقار اپنا نشیمن تو ایک طرف خدا کے گھر لال مسجد کے در و دیوار کو مسلمانوں کے خون سے نہلانے والے کون گریبان میں جھانکیں تخریب کار ہم خود ہیں۔ قوم کے سپوت قوم کے نوجوان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پس زندان ڈالنے والے کون گریبان میں جھانکیں تخریب کار ہم خود ہیں۔ اور عالی وقار، ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے۔ صدر عالی وقار، قاتل کوئی اور نہیں۔ قصوروار کوئی اور نہیں۔ تخریب کار کوئی اور نہیں۔ چلیے ذرا دیر کو تصور کیجئے کہ قاتل کوئی اور ہے تخریب کار کوئی اور ہے قصوروار کوئی اور ہے۔ تو پھر میرا جلتا نشیمن سوال کرتا ہے کہ خزانے خالی کون کر گیا؟ املاک کس نے نیلام کی؟ عہدے کس نے بیچے؟ درآمد و برآمدات کی آڑ میں ملک کون لوٹتا رہا؟ پرچم کا تقدس پامال کس نے کیا؟ کراچی کی فٹ پاتھوں پر، کراچی کی فٹ پاتھوں پر حکیم سعید شہید مفتی علامہ حسن ترابی اور مفتی شام زعی کا خون کس نے بہایا؟ منصف اعلی کو شہر شہر، نگر نگر انصاف کا بھکاری کس نے بنایا؟ آئین کی دھجیاں اڑانے والے کون ہیں عالی وقار۔ میرا جلتا نشیمن سوال کرتا ہے کہ تخریب کار میں بھی نہیں، تخریب کار آپ بھی نہیں۔ قصوروار میں بھی نہیں قصوروار آپ بھی نہیں تو میرا جلتا نشیمن سوال کرتا ہے میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟ تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے۔ تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے۔ صدر عالی وقار، قاتل کوئی اور نہیں قصوروار کوئی اور نہیں تخریب کار کوئی اور نہیں۔ صدر ذی وقار، اپنی ہی تخریب کاریوں سے اپنے ہی نشیمن جلانے کی یہ داستانیں میں کیا رقم کروں گا۔ اس موضوع پر بات کرنا جی تو اے کاش اے کاش کہ اپ ایک دعوت نامہ اس بوڑھے باپ کو بھیج دیتے کہ جس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے جوان بیٹے کو لال مسجد میں تیزاب سے جلتے دیکھا۔ اے کاش اے کاش کہ اپ ایک دعوت نامہ اس سہاگن کو بھیج دیتے کہ جس جس کا سہاگ میٹ ہوٹل کے دھماکے میں اجڑ گیا ہے۔ اے کاش اے کاش کہ اپ ایک دعوت نامہ ایف آئی اے کی بلڈنگ میں ہلاک ہونے والے رفیق خان کی اس بیٹی کو بھیج دیتے کہ جو اب بھی منتظر ہے کہ بابا چوڑیاں کب لائیں گے؟ بابا چوڑیاں کب لائیں گے؟ عالی وقار اے کاش اے کاش کہ اپ ایک دعوت نامہ۔ ایک دعوت نامہ سواد کے ان معصوم بچوں کو بھیج دیتے کہ جو ملبے کے ڈھیر تلے اپنی کتابیں تلاش کرتے ہیں، اپنی کرسیاں تلاش کرتے ہیں، اپنے بینچ تلاشتے ہیں۔ وہ یہاں آتے نالہ و شیون بلند کرتے اور بتاتے کہ تخریب کار کوئی اور نہیں وہ آتے گری ازاری کرتے اور بتاتے کہ تخریب کار کوئی اور نہیں معصوم بچے آنکھوں میں آنسو لے کر آتے۔ اور پکار پکار کر کہتے کہاں ہے از و سما کا مالک کہ چاہتوں کی رگیں کریدے حوس کی سرخی رخ بشر کا حسین غازہ بنی ہوئی ہے ارے کوئی مسیحا ادھر بھی دیکھے کوئی تو چارہ گری کو اترے افق کا چہرہ لہو میں تر ہے زمین جنازہ بنی ہوئی ہے۔ زمین جنازہ بنی ہوئی ہے صدر عالی وقار اگر اب بھی اسے ہان میں کوئی یہ کہتا ہے کہ تقریب کار کوئی اور ہے قصور وار کوئی اور ہے تو پھر میں یہ کس کے نام لکھوں؟ جو علم گزر رہے ہیں میرے شہر جل رہے ہیں میرے لوگ مر رہے ہیں۔ کوئی اور تو نہیں ہے پس خنجر آزمائی ہم ہی قتل ہو رہے ہیں۔ ہم ہی قتل کر رہے ہیں، ہم ہی قتل کر رہے ہیں بہت بہت سامعین وزیر اعلی تقریری و تحریری مقابلہ جات پنجاب سے شرکت کرنے والے تمام طلباء کی نمائندگی کرتے ہوئے میں سلام پیش کرتا ہوں اس سوچ کو کہ جس نے پاکستان کی 61 سالہ تاریخ میں سلام پیش کرتا ہوں اس سوچ کو جس نے پاکستان کی 61 سالہ تاریخ کے اندر پہلی مرتبہ اتنی بڑی انعامی رکوع کے ساتھ یہ مقابلے مرتب کروائے۔ اور تعلیمی اداروں میں دم توڑتی ہوئی ان سرگرمیوں کو ایک بار پھر سے اجاگر کیا۔ سلام، سلام اے قوم کے شہباز سلام، اے قوم کے شہباز اے شہپر نشین گفتار تیرا باصفا، کردار دلنشین بہت بہت شکریہ

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript