[0:00]اپ کو میں نے عربی زبان کی الف بے سکھانی ہے اج انشاء اللہ تعالی۔ اس حوالے سے پہلی چیز عربی زبان میں حروف الحجا۔ جیسے کہ میں نے بتایا کہ اردو میں اپ نے حروف تہجی اور انگریزی میں الفابیٹ کے نام سے جانتے ہیں۔ اگر میں اپ سے اردو کے حروف تہجی کی تعداد پوچھوں تو شاید اپ کنفیوز ہوں بتانے میں کچھ اختلاف بھی ہو۔ لیکن انگریزی کے الفابیٹ اپ فوری طور پر بتا دیں گے۔ تو انگریزی کے الفابیٹس کتنے ہیں؟ 26۔ اور اردو کے حروف تہجی 52۔ اب یعنی اختلاف اپ کے سامنے ا گیا۔ بہرحال عربی زبان میں جو حروف الحجا استعمال ہوتے ہیں وہ کتنے ہیں اور کون کون سے یہ میں اپ کے سامنے لکھتا ہوں۔ ان کو میں ایک خاص ترتیب سے ایک خاص ترتیب سے لکھوں گا اپ کے سامنے اور یہی ترتیب اپ کو ان حروف کو یاد کرنے میں مدد دے گی۔
[1:13]انشاء اللہ تعالی۔ یہ حروف الحجا میں نے اپ کے سامنے بورڈ پر لکھے ہیں اور اپ ایک خاص ترتیب میں ان حروف کو دیکھ رہے ہیں کہ میں نے سات سات حروف ایک لائن میں لکھے ہیں۔ اور سات سات حروف کی یہ کتنی لائنز ہیں ٹوٹل؟ چار۔ تو ٹوٹل حروف کتنے ہو گئے؟ 28۔ تو عربی زبان میں جو حروف الحجا کی تعداد ہے وہ 28 ہے اس تعداد میں بھی ایک اختلاف ہے۔ وہ انشاء اللہ تعالی اگلی بات بتانے کے بعد اپ کے سامنے ا جائے گا۔ ان حروف کی ادائیگی ان حروف کی پرونسییشن جو ہے وہ ایک خاص انداز سے ہوتی ہے قران مجید پڑھنے والا ہر قاری جو ہے وہ اس بات کو جانتا ہے۔ اگر میں اپ سے درخواست کروں کہ اپ میں سے کوئی ان حروف کو پڑھ دے تو پھر اس کے بعد میں اپنی بات اگے لے کے چلوں گا انشاء اللہ تعالی۔
[2:10]جی الف، ب، ت، س، ج، ح، خ، د، ز، ر، س، ش، ص، ط، ز، ع، غ، ف، ک، ل، م، ن، و، ی۔ ماشاء اللہ۔
[2:47]اپ نے دیکھا کہ جو حروف الحجا ہیں ان میں اپ کے ایک ساتھی نے ان حروف کو ایک خاص انداز سے ان کی ادائیگی کی ہے۔ اس میں پہلا حرف جو اپ کے سامنے ایا وہ تھا الف پھر اس کے بعد اس کو اردو میں جس طرح ہم پڑھتے ہیں بے اس طرح انہوں نے نہیں پڑھا اس کو بلکہ اس کو انہوں نے با پڑھا ہے۔ پھر اس کے بعد اگلے حرف کو پھر انہوں نے تا پڑھا یعنی الف کے ساتھ پڑھا پھر ثا پڑھا لیکن اگلا حرف جو ایا جسے ہم اردو میں جیم کہتے ہیں اس کو انہوں نے جا نہیں پڑھا بلکہ جیم ہی پڑھا پھر اس کے بعد اگلا حرف جو ہے پھر اس کو حے نہیں پڑھا بلکہ ح پڑھا۔ تو یہ کیا چکر ہے ان حروف کو ہم کن حروف کو ہم الف کے ساتھ پروناؤنس کریں گے کون سے حروف جو ہیں وہ اسی طرح پڑھیں گے جس طرح اردو میں پڑھتے ہیں؟ اس کے حوالے سے ایک چھوٹی سی بات اپ ذہن میں رکھیں گے تو انشاء اللہ تعالی یہ بھی خدا اپ کا کھل جائے گا۔ ایک بات اور ذہن میں رکھیے گا کہ یہاں پر انے سے پہلے جو کچھ اپ کو معلوم تھا۔ اور یہاں کلاس کے اختتام کے بعد جو اپ کے علم میں اضافہ ہوا ہے کمپیریزن اپ نے ڈیلی لازمی کرنا ہے۔ اس سے انشاء اللہ تعالی اپ کو محسوس ہوگا کہ اپ کے علم میں واقعی کچھ نہ کچھ اضافہ ہو رہا ہے۔ چھوٹی سی بات ایک اپ کے سامنے رکھوں گا دیکھیں یہ جو ہمارے حروف ہیں ان کو اگر میں اردو ہم لا میں لکھوں جیسے الف کو ہم لکھتے ہیں الف بے، پڑھوں گا میں اردو کے اعتبار سے اور لکھوں گا بھی اردو املہ میں۔ بے، تے، س، جیم، حے، خے، دال
[4:49]تو اس قاعدے کو ذہن میں رکھتے ہوئے باقی حروف کی انشاء اللہ تعالی پریکٹس اپ خود کر سکتے ہیں۔ بلکہ اب میں یہ کہوں گا کہ جس کو پہلے یہ قاعدہ نہیں معلوم تھا وہ اب اس قاعدے کے بعد ان حروف کی ادائیگی کرے۔ تو مجھے زیادہ خوشی ہوگی کہ کم از کم ایک قاعدہ اپ نے جو ہے وہ اج سیکھ لیا عربی زبان کا۔ عربی زبان میں حروف الحجا کے بعد جو دوسری اہم چیز ہے وہ ہیں حرکات حرکات تین بنیادی حرکات ہیں ان سے اپ سب لوگ واقف ہیں۔ زبر زیر اور پیش یہ حرکات ہیں۔ اور ایک اور علامت اپ کو ملتی ہے۔ اس طرح کی جسے اپ جزم کہتے ہیں یا علامت سکون کہتے ہیں۔ اس کلاس میں اس بورڈ پر اس علامت کے پیش کے ساتھ نہ ملنے کے حوالے سے
[5:57]میں علامت سکون یا جزم جو ہے وہ اس طرح کیریٹ سائن کی صورت میں ظاہر کروں گا۔ تاکہ اس کی مشابہت جو ہے وہ پیش کے ساتھ نہ ہو جائے۔ یہ تین حرکات ہیں ہماری زبر زیر پیش اور یہ علامت سکون ہے۔ تو وہ جو میں نے اپ سے بات کی تھی کہ عربی حروف الحجا میں بھی اختلاف ہے وہ اختلاف کی وجہ ایک حرف ہے اور وہ ہے حمزہ حمزہ کسے کہتے ہیں؟ الف کسے کہتے ہیں؟ ان دو حروف کے حوالے سے اختلاف ہے تو نوٹ کر لیجئے کہ جب بھی حروف الحجا میں سے الف اپ کو ان تینوں حرکات یا علامت سکون کے بغیر نظر ائے گا۔ تو اس وقت یہ الف ہوگا۔ جب بھی اس الف پر ان تینوں حرکات میں سے کوئی حرکت اگئی اس پہ زبر اگئی اس پہ زیر اگئی اس پہ پیش اگئی اس پہ علامت سکون اگئی تو اب یہ الف نہیں کہلائے گا بلکہ حمزہ کہلائے گا۔ تو الف اور حمزہ کا فرق یہ دوسری چیز ہے جو اج اپ نے سیکھ لی اب میں اگر اپ کے سامنے کچھ الفاظ لکھوں تو انشاء اللہ تعالی اپ اس میں سے الف اور حمزہ کو بڑی اسانی سے پہچان سکتے ہیں۔ اس میں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہ جو پہلی وحی اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہوئی تھی۔ اس کی ایت کا پہلا لفظ جو ہے وہ وہ اپ کے سامنے لکھتا ہوں۔ اقرا۔ اب اس اقرا ورڈ میں اپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ الف کتنی مرتبہ استعمال ہوا ہے؟ تین۔ اس میں الف ہے ہی نہیں۔ اس میں کیا ہے؟ اس میں حمزہ ہے۔ یہ پہلا والا بھی حمزہ ہے کیونکہ اس الف پر زیر اگئی ہے اور یہ اخری والا بھی حمزہ ہے کیونکہ اس پر اپ علامت سکون دیکھ رہے ہیں۔ جبکہ اللہ تعالی کی توفیق سے ہم سب انسان ہیں تو اس لفظ میں حمزہ اور الف اس کی پہچان اپ کر کے بتائیں مجھے۔ پہلا والا اپ کا حمزہ ہے اور یہ الف ہے۔ تو الحمدللہ اپ کو الف اور حمزہ کی پہچان بھی اج ہو گئی ہے۔ ایک بات اور یہاں نوٹ کرتے جائیں کہ یہ جو حرکات ہیں زبر زیر پیش ان کو اگر میں ڈبل کر دوں تو تنوین یہ ڈبل حرکات جو ہیں عربی زبان میں
[8:35]تنوین کہلاتی ہیں۔ اور اس سے اگلی بات۔ عربی زبان میں اگر ہم اسماء کے حوالے سے بات کریں اسم کے حوالے سے بات کریں بہت ساری چیزیں ذہن میں رکھیے گا کیونکہ میں نے اپ کو پہلے کہا ہے کہ ہم تدریسی طریقہ اختیار کریں گے۔ جو چیزیں ہم نے سیکھی ہوئی ہیں اور انشاء اللہ تعالی میں اپ کو عربی اردو میں پڑھاؤں گا انشاء اللہ تعالی۔ اردو میں اپ پڑھیں گے اپ کو عربی بھی ا جائے گی اور اس حوالے سے ہمیشہ مجھے وہ بات یاد اتی ہے کہ وہ ایک صاحب نے کسی سے کہا تھا کہ یار تمہیں انگریزی سمجھ میں اتی ہے۔ اس نے کہا بالکل اتی ہے اگر اردو میں بولی جائے۔ تو انشاء اللہ تعالی اپ کو عربی بالکل سمجھ میں ائے گی اس لیے کہ ہم اس پوری کلاس میں اردو میں عربی پڑھیں گے۔ وہ اپ کو ا جائے گی انشاء اللہ تعالی۔ تو اسم کے حوالے سے اپ سب لوگ واقف ہیں کوئی ہے عربی زبان میں 85 فیصد اسماء اسم کی جمع ہوتی ہے اسماء ایسے ہیں جن پر جن کے اخر میں یہ ڈبل حرکت اتی ہے تنوین اتی ہے۔ یہ ایڈیشنل بات ہے اس کا ادہ انشاء اللہ تعالی اگے جا کے ہوگا۔ لیکن ابھی اپ ذہن میں رکھ لیں اس لیے کہ اقرا یہ فعل ہے۔ اور انسان یہ اسم ہے۔ لہذا اپ کا غالب گمان اس اسم کے بارے میں یہی ہونا چاہیے کہ اس کے اخر میں تنوین ہوگی کیونکہ 85 فیصد بہت بڑا حصہ ہے۔ اس لیے اس کے اخر میں میں اب یہ تنوین ڈال دوں گا۔ اس پہ دو پیش بھی ا سکتے ہیں دو زبر بھی ا سکتے ہیں دو زیر بھی ا سکتے ہیں وہ کیوں اتے ہیں یہ انشاء اللہ اہستہ اہستہ اپ سیکھیں گے۔ تو 85 فیصد اسماء عربی زبان میں ایسے ہیں جن پہ تنوین اتی ہے۔ ہم کوشش یہ کریں گے کہ عربی سیکھنے کے لیے ہم عام طور پہ جب ہم عربی پڑھتے ہیں قران مجید پڑھتے ہیں تو لفظ کے اخر پہ وقف کرتے ہیں۔ انسان لیکن ہم عربی سیکھنے کے لیے لفظ کے اخری حرف کی حرکت بھی ادا کریں گے تاکہ ہمیں پتہ چلے کہ اس پہ دو پیش ائے ہیں۔ دو زبر ائے ہیں یا دو زیر ائے ہیں اور ان کے انے کی وجہ کیا ہے۔ انشاء اللہ تعالی اس طریقے سے ہم اس کو لے کے چلے گئے۔ حروف الحجا ان کی تعداد 28 یا 29 اور فرق الف اور حمزہ کا اور فرق کیوں ہے؟ یہ بات اپ کے سامنے اگئی۔ دوسری بنیادی چیز حرکات تین حرکات زبر زیر پیش ایک علامت سکون۔ اب اس سے اگے چلتے ہیں۔ حروف اور حرکات کے ملنے سے لفظ بنتے ہیں۔ یہ اہم بات جو ہے۔ اپ کے انہی حروف الحجا میں سے میں کچھ حروف لے رہا ہوں اور ان پہ مناسب حرکات اور علامت سکون کی مدد سے میں انشاء اللہ تعالی الفاظ اپ کے سامنے لکھتا ہوں۔ سب سے پہلے میں اپ کے سامنے جس چیز سے لکھ رہا ہوں اس کے لیے میں قاف، لام، میم تین حروف لیتا ہوں یہاں سے ان پہ مناسب میں حرکات لگاتا ہوں۔ کیونکہ لفظ بن گیا اپ کے سامنے کتاب کتاب کا چھوٹا سا ایک تعارف میں اپ سے کراتا چلوں تاکہ اپ کے سامنے ائے کہ قران مجید
[11:36]ہمارے لیے ہدایت کس طرح ہے یہ جو قران مجید کا دعوی ہے کہ ہم نے قران مجید کو اسان کیا نصیحت حاصل کرنے کے لیے اس کی ایک ایگزیمپل میں اپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ کہ کتاب ورڈ اپ کے سامنے ہے کتاب کے معنی کیا ہیں؟
[12:08]کتاب کے معنی بک اور بک کسے کہتے ہیں؟ جسے پڑھا جائے کتاب کو کہتے ہیں۔
[12:28]رب یسر بڑی خوبصورت دعا ہے جو عام طور پہ مدارس میں سکھائی جاتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول دعا ہے یہ۔ یہ میں حروف الحجا کی جگہ پر اس دعا کو لکھ دیتا ہوں۔
[12:44]رب یسر اے میرے رب اسانی فرمانا۔ یہ توفیق سے ہم ا ہی گئے ہیں تو اسان کر دینا ہمارے لیے صبح سویرے اٹھ کر نیند کی قربانی دے کر ہم یہاں ائے ہیں تو اسانی کر دینا ہمارے لیے اور ظاہر بات ہے اسانی کے ساتھ ساتھ ہی مشکل چلتی ہے کبھی کوئی پرابلم ہوگی رات کو لیٹ سوئے۔ کچھ لوگ تو شاید فائنل کے چکر میں ہی نہ اٹھے ہوں اج۔ صبح اٹھنا بڑا مشکل ہے مشکل ساتھ ساتھ چلے گی۔ تو اس لیے وہ بھی دعا اسی سے کرنی ہے ولا تؤثر۔ رب یسر ولا تؤثر اے میرے رب اسانی فرمانا اور مشکل نہ فرمانا۔
[13:35]اور اب تیری توفیق سے تیرے فضل سے اس کو شروع کر ہی دیا ہے۔ تو بالخیر خیر کے ساتھ اس کو مکمل فرماتے ہیں۔
[14:44]حروف اور حرکات کے ملنے سے جو لفظ بنتے ہیں وہ دو طرح کے ہوتے ہیں۔ کچھ بامعنی ہوتے ہیں اور کچھ بے معنی ہوتے ہیں۔ اب یہ سارے الفاظ جو میں نے اپ کے سامنے لکھے ہیں یہ بامعنی الفاظ ہیں اب چونکہ ہمارا سکوپ قران مجید کو سمجھنا ہے لہذا بے معنی الفاظ کو ہم اپنے اس کلاس میں نہیں پڑھیں گے وہ ہم اپنے سلیبر سے باہر کرتے ہیں۔ تو عربی زبان میں استعمال ہونے والا ہر بامعنی لفظ کلمہ کہلاتا ہے اور جو میں بات کر رہا تھا کہ جب بھی کسی زبان کے قواعد مرتب کیے جاتے ہیں تو اس زبان میں استعمال ہونے والے تمام بامعنی الفاظ کی گروپنگ کر لی جاتی ہے۔ یہ گروپنگ اب مختلف زبانوں میں مختلف انداز سے کی جاتی ہے۔ انگریزی میں اپ بڑی اسانی سے اپ اس کو سمجھ سکتے ہیں اپ کے پارٹ اف سپیچ جو ہیں وہ یہ وہی تقسیم ہے اور ان کی تعداد اپ کو پتہ ہے کہ اٹھ ہے۔ عربی، اردو اور فارسی اس میں یہ ترکیب اسم اس میں یہ جو ڈویژن ہے تقسیم وہ تین کی ہے۔
[16:10]اسم، فعل اور حرف۔ اسم کسے کہتے ہیں؟ پہلے بھی ہلکی سی ڈیفینیشن جو ہمارے علم میں پہلے سے ہے اس کو ہم تازہ کر لیں پھر انشاء اللہ تعالی بات میں اگے چلیں گے ہاں جی اسم میں اپ سے پوچھ رہا ہوں جی اپ کا اسم تو اپ کیا بتاتے ہیں مجھے؟ اپنا نام بتا دیتے ہیں تو اسم کے معنی ہیں نام کے ٹھیک ہے فعل کسے کہتے ہیں؟ کسی کام کا کرنا یا ہونا یہ جو ہمارے معلومات ہمارے علم میں پہلے سے ہے اس کی میں بات کر رہا ہوں۔ اور حرف کسے کہتے ہیں؟ ایک تو حروف اپ کے سامنے یہ ائے ہیں۔ لیکن گرامر کی اصطلاح میں حرف ایک خاص کلمہ کو کہا جاتا ہے۔ یعنی یہ وہ کلمہ ہوتا ہے جس کے اپنے معنی واضح نہیں ہو سکتے جب تک وہ کسی دوسرے کلمہ کے ساتھ مل کر نہ ائے۔ جیسے یہاں اپ کے سامنے بورڈ پہ جو ایگزیمپل لکھی ہوئی ہے فی اس کے معنی ہیں میں جس کے لیے اپ انگریزی میں ان کا ورڈ یوز کرتے ہیں۔ اب میں ایک معنی رکھتا ہے لفظ لیکن یہ میں کو میں اپ کے سامنے یہاں پر 100 مرتبہ چھوڑ کر ہزار مرتبہ اس کی رٹ لگا دوں اپ کے سامنے اس کا مفہوم نہیں کلیئر ہو سکتا۔ لیکن جب میں اپ کو کہتا ہوں کمرے میں تو بات کلیئر ہوتی ہے۔ اسم انسان کسی چیز کا نام کسی شخص کا نام کسی جگہ کا نام کسی صفت کا نام کسی کام کا
[17:46]اقرا ورڈ اپ کے سامنے ایا پڑھ اس میں حکم دیا جا رہا ہے پڑھنے کا اور حرف جو اپنے معنی اس وقت تک واضح نہیں کر سکتا جب تک کسی دوسرے کلمہ کے ساتھ مل کر نہیں ائے گا۔ ہم اپنی اس کلاس میں جو ترتیب رکھیں گے وہ یہ رکھیں گے کہ اسم کو پہلے سٹارٹ کریں گے انشاء اللہ تعالی اس کے متعلق قواعد اکٹھے کریں گے عربی زبان کی خصوصیت ایک یہ ہے کہ عربی زبان میں جملہ فعل کے بغیر بھی بن جاتا ہے۔ نہ تو انگلش میں بنتا ہے نہ اور کسی زبان میں بنتا ہے عربی زبان میں فعل کے بغیر بھی جملہ مکمل ہو جاتا ہے۔



