[0:15]اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم رب اشرح لی صدری ويسر لی امری واحلل عقدت من لسانی یفقہو قولی رب یسر ولا تعسر وتم بالخیر امین یا رب العالمین
[0:31]لسان القران 2024 کورس کے دوسرے لیکچر کے ساتھ اپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔
[0:39]پہلے لیکچر میں ہم نے الحمدللہ عربی زبان میں استعمال ہونے والے حروف الحجا کو تفصیل سے پڑھا بنیادی حرکات اور کچھ علامات کو دیکھا۔
[0:48]اور الف اور حمزہ کا بنیادی فرق ہمارے سامنے ایا۔ اج ہم لسان القران کورس کو تھوڑا سا اگے بڑھاتے ہیں اور میں اپ کو پہلا فارمولا لسان القران کا دینے جا رہا ہوں اور فارمولا یہ ہے کہ حروف اور علامات ان کے ملنے سے لفظ بنتے ہیں۔
[1:12]حروف اور علامات یہ دو لفظ ہیں اور ان کے ملنے سے بھی لفظ بنتے ہیں۔ حروف بھی عربی کا لفظ ہے علامات بھی عربی کا لفظ ہے اور لفظ بھی عربی زبان کا ہی لفظ ہے۔
[1:28]لیکن یہ تینوں الفاظ جو ہیں ہماری اردو زبان میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ تو میں نے جو فارمولا اپ کو دیا ہے وہ یہ ہے کہ حروف اور علامات اور علامات میں اپ جانتے ہیں تین بنیادی حرکات شامل ہیں اور سکون کی علامت بھی اسی میں ہے۔
[1:47]اور شد بھی اسی میں ا جائے گی اور پھر کھڑی زبر کھڑی زیر اور الٹی پیش کو بھی اپ اچھی طرح سے پچھلے لیکچر میں سمجھ چکے ہیں۔
[1:57]مثال کے طور پہ یہ جو پہلا لفظ ہے حروف اس کو ہی دیکھ لیتے ہیں میں نے حروف الحجا میں سے حا کو لیا، را کو لیا، واؤ کو لیا، فا کو لیا اور پھر حا پہ پیش حرکت لگائی، را پہ پیش حرکت لگائی، واؤ کو ساکن کیا اور فا کو ویسے ہی چھوڑ دیا تو ان کے ملنے سے جو لفظ وجود میں ایا وہ ہے حروف۔
[2:26]اب یہاں ایک سوال اپ کے ذہن میں پیدا ہو گا کہ میں نے ہر حرف پر کوئی نہ کوئی علامت لگائی ہے۔
[2:32]چاہے وہ حرکت تھی یا سکون کی علامت تھی۔ لیکن اخری حرف کو میں نے بغیر کسی حرکت کے یا سکون کی علامت کے چھوڑ دیا ہے۔
[2:43]پڑھتے ہوئے میں نے اسے ساکن ہی پڑھا ہے لیکن میں نے اس پہ سکون کی علامت نہیں لگائی۔ تو ایک بہت ہی اہم بات نوٹ کر لیں عربی لفظ کے ہر حرف پر سوائے الف کے۔
[2:57]حرکت یا علامت اتی ہے۔ پھر سن لیجئے عربی لفظ کے ہر حرف پر سوائے الف کے کوئی نہ کوئی حرکت یا سکون کی علامت اپ کو نظر اتی ہے۔
[3:10]تو یہاں فا پر بھی کوئی حرکت ہونی چاہیے یا سکون کی علامت ہونی چاہیے تو بالکل یہاں بھی حرکت ہے۔
[3:19]لیکن چونکہ عربی لفظ پر جب ہم رکتے ہیں تو اگر حرکت ہو تو اس حرف کو حرکت کے ساتھ نہیں بولا جاتا بلکہ ساکن کر کے بولا جاتا ہے۔
[3:34]اور ماشاءاللہ قران مجید پڑھنے والا ہر قاری اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ جب بھی وہ کسی لفظ پر وقف کرتا ہے تو اس لفظ کے اخری حرف پر جو حرکت ہوتی ہے اس حرکت کو وہ پروناؤنس نہیں کرتا۔
[3:55]تو اسی بات کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے اپ کے سامنے عربی زبان کا ہی ایک لفظ حروف بولا ہے ہر حرف پر میں نے کوئی علامت جو ہے وہ اپ کو دکھائی ہے۔
[4:11]چاہے وہ حرکت تھی یا سکون کی علامت تھی لیکن اخری حرف پر میں نے اپ کو کوئی علامت نہیں دکھائی اور نہ ہی وہ علامت بولی تو ابھی ہم شروع میں کسی بھی لفظ کے اخری حرف پر کوئی علامت نہیں لگائیں گے۔
[4:30]تو جو میں نے اپ کو فارمولا دیا ہے پہلا فارمولا وہ یہ ہے کہ حروف اور علامات کے ملنے سے لفظ بنتے ہیں جن میں حروف بھی ایک لفظ ہے اور یہ حروف لفظ جو ہے یہ چند حروف اور علامات کے ملنے سے بنا ہے۔
[4:50]اسی طرح علامات لفظ کو بھی دیکھیں یہ بھی عین لام الف میم الف تا حروف لیے میں نے اور عین پہ زبر لگائی لام پہ زبر لگائی الف پہ کوئی حرکت یا سکون نہیں ہوتا کیونکہ اگر الف پر کوئی حرکت یا سکون کی علامت ا جائے تو پھر اس کو الف نہیں کہتے بلکہ حمزہ کہتے ہیں۔
[5:15]میم پہ میں نے زبر لگائی اور اس کے بعد پھر الف کو میں نے خالی چھوڑ دیا اور ایک بات اچھی طرح ذہن میں رکھ لیجئے کہ جب بھی کہیں عربی کے کسی لفظ میں الف ا جائے تو الف سے پہلے ہمیشہ زبر حرکت ہی ہو گی الف سے پہلے نہ تو زیر حرکت ا سکتی ہے اور نہ ہی پیش حرکت ا سکتی ہے۔
[5:42]تو بنیادی تین حرکات ہیں الف سے پہلے والے حرف پر ہمیشہ زبر حرکت ہوتی ہے نہ تو پیش حرکت ا سکتی ہے اور نہ ہی زیر حرکت ا سکتی ہے۔
[5:54]اب تا جو ہے اس کو ہم نے ویسے ہی چھوڑ دینا ہے اگرچہ اس تا پر بھی ہم اگے جا کے پڑھیں گے کہ اپ کو کوئی نہ کوئی علامت ضرور نظر ائے گی۔
[6:06]تو ان تمام حروف اور حرکات کو ملا کے میں نے جو لفظ اپ کے سامنے رکھا وہ ہے علامات۔
[6:16]اسی طرح تیسرا لفظ جو کہ لفظ ہے وہ بھی اپ کے سامنے میں رکھ دیتا ہوں میں نے حروف الحجا میں سے لام لیا فا لیا زو لیا اس کے بعد لام پہ زبر حرکت لگائی فا کو میں نے ساکن کیا اور ضا کو میں نے ویسے ہی چھوڑ دیا کیونکہ یہ لفظ کا اخری حرف ہے۔
[6:37]تو میرا جو لفظ بنا وہ تھا لفظ۔ تو پہلا فارمولا میں نے اپ کو دے دیا ہے لسان القران کورس کا کہ حروف اور علامات کے ملنے سے لفظ بنتے ہیں اور اپ اس طرح سے بے شمار الفاظ بنا سکتے ہیں۔
[6:54]لفظ کی جمع جو ہے وہ الفاظ ہے۔ یہاں ایک بات اچھی طرح نوٹ کر لیجئے کہ لفظ کی پرونونسیشن جو ہے وہ لفظ ہے عام طور پر اکثر لوگ اسے لفظ بولتے ہیں۔
[7:12]جو کہ عربی زبان کے اعتبار سے غلط ہے اور غلط کو بھی اچھی طرح سمجھ لیجئے غلط کو غلط کہنا غلط ہے۔
[7:20]یعنی لام پہ اپ زبر لازما بولیے کیونکہ غلط بھی عربی زبان کا ہی لفظ ہے۔ تو ایک بات اور اپ کے سامنے ا گئی کہ حروف اور علامات کے ملنے سے لفظ بنتے ہیں لفظ نہیں بنتے اور لفظ کو لفظ کہنا غلط ہے غلط نہیں ہے۔
[7:44]تو یہ بہت اہم چیزیں میں نے اپ کے سامنے رکھی ہیں امید ہے اپ کو انشاءاللہ تعالی الفاظ کی پرونونسیشن بھی انشاءاللہ تعالی اس کورس میں صحیح طریقے سے کرنی ا جائے گی۔
[7:58]اب ایک اور اہم بات جو ہے وہ ذرا سمجھ لیجئے۔ اپ نے تین الفاظ میں دیکھا حروف علامات اور لفظ میں کہ کچھ حروف ایسے تھے جن کو میں نے اگلے حرف کے ساتھ ملا کر لکھا۔
[8:14]جیسے حروف میں میں نے حا کو را کے ساتھ ملا کر لکھا لیکن را کو واؤ کے ساتھ ملا کر نہیں لکھا اور واؤ کو فا کے ساتھ ملا کر نہیں لکھا۔
[8:27]اسی طرح علامات میں میں نے عین کو لام کے ساتھ ملا کر لکھا لام کو الف کے ساتھ ملا کر لکھا لیکن الف کو میم کے ساتھ ملا کر نہیں لکھا میم کو الف کے ساتھ ملا کر لکھا لیکن الف کو تا کے ساتھ ملا کر نہیں لکھا۔
[8:47]اسی طرح لفظ میں میں نے لام کو فا کے ساتھ ملا کر لکھا اور فا کو ظا کے ساتھ ملا کر لکھا۔ تو رزلٹ یہ نکلا کہ ہمارے جو حروف الحجا ہیں 28 ان میں کچھ حروف ایسے ہیں۔
[9:04]جو لفظ بناتے ہوئے اگلے حرف کے ساتھ ملا کر لکھے جاتے ہیں اور کچھ حروف ایسے ہیں جو لفظ بناتے ہوئے اگلے حرف کے ساتھ ملا کر نہیں لکھے جاتے وہ کل چھ حروف ہیں۔
[9:29]پہلا حرف الف ہے دوسرا حرف دال ہے تیسرا حرف ذال ہے چوتھا حرف را ہے پانچواں حرف زا ہے اور چھٹا حرف واؤ ہے۔
[9:43]تو الف دال ذال را زا اور واؤ یہ چھ حروف ہیں یہ جب کسی لفظ میں ا جاتے ہیں تو ان حروف کے اگے انے والا حرف ملا کر نہیں لکھا جاتا۔
[10:02]دیکھیں حروف میں را اگیا تو را کو ہم نے واؤ کے ساتھ ملا کر نہیں لکھا پھر واؤ اگیا تو واؤ کو بھی ہم نے اگے فا کے ساتھ ملا کر نہیں لکھا۔
[10:16]علامات میں الف اگیا تو الف کے بعد ہم نے میم کو ملا کر نہیں لکھا اور پھر الف اگیا اور الف کے بعد ہم نے تا کو ساتھ ملا کر نہیں لکھا۔
[10:29]اور تیسرے لفظ لفظ میں ان چھ حروف میں سے ایک حرف بھی نہیں تھا اس لیے ہم نے تینوں حروف کو ساتھ ملا کر لکھا۔
[10:39]اب میں اپ کو یہ 28 حروف ایک لائن میں دکھا رہا ہوں جیسا کہ اپ دیکھ رہے ہیں میں نے ایک ہی ٹیبل میں 28 کے 28 حروف لکھ دیے ہیں۔
[10:54]اب میں ان تمام حروف کو اپ کو ملا کر لکھ کر دکھاتا ہوں۔ تو پہلا حرف الف ہے الف جب ا جائے تو الف کے بعد جو حرف ائے گا الف کو اس کے ساتھ ملا کر ہم نہیں لکھیں گے۔
[11:06]اس لیے با اپ دیکھ رہے ہیں الگ کر کے لکھا گیا اس کے بعد تا کو ملا دیا گیا ثا کو ملا دیا گیا جیم کو حا سے ملا دیا گیا حا کو خا سے ملا دیا گیا خا کو دال سے ملا دیا گیا اب دال اگیا تو دال پر روک دیا گیا اور دال کو اگلے حرف کے ساتھ اپ نے نہیں ملا کر لکھنا۔
[11:29]تو اگے ذال اگیا اب ذال بھی وہی حرف ہے جس کو اگے ملا کر نہیں لکھ سکتے لہذا اگے را جو ہے بالکل الگ لکھا گیا را کے بعد پھر زا اگیا اس کو بھی اپ ملا کر نہیں لکھ سکتے اس کے بعد سین اگیا۔
[11:47]تو زا کے ساتھ سین ملا کے نہیں لکھا جا سکتا سین کے بعد شین اگیا شین ملایا جا سکتا ہے لہذا ملا کر لکھا گیا پھر صاد ملا کر ضاد ملا کر طا ملا کر زا ملا کر عین غین فا قاف کاف لام میم نون حا ملا کر اور حا کے ساتھ واؤ بھی ملا لیا گیا لیکن واؤ اگے ملا کر نہیں لکھا جا سکتا اس لیے اپ کو یا جو ہے وہ الگ سے لکھا ہوا نظر ا رہا ہے۔
[12:21]تو الفاظ لکھنے میں یہ رول اپ کو انشاءاللہ تعالی بہت فائدہ دے گا کیونکہ عربی زبان کے بہت سارے الفاظ ہم اردو زبان میں استعمال کرتے ہیں۔
[12:32]اگر اپ کو اردو صحیح لکھنی ا گئی تو انشاءاللہ تعالی عربی بھی اپ کو صحیح لکھنی ا جائے گی۔ تو ایک ذہن میں اور بات رکھیے گا کہ ایک عربی رسم الخط ہوتا ہے اور ایک قرانی رسم الخط ہے۔
[12:48]اپ عربی میں اگر کتاب لکھنا چاہیں تو اپ بالکل اسی طرح لکھیں گے جس طرح اپ اردو میں کتاب لکھتے ہیں۔
[12:57]لیکن قران مجید میں کتاب اپ کو اس طرح نظر ائے گا جیسا کہ اپ دیکھ رہے ہیں یعنی کاف ہے تا ہے پھر تا پہ اپ کو کھڑی زبر نظر ائے گی پاکستان کے مصحف میں اور سعودیہ کے مصحف میں اپ کو زبر اور الف نظر ائے گی اور پھر اپ کو با نظر ائے گی۔
[13:38]تو عربی زبان کا اپنا رسم الخط ہے اور قران مجید کا اپنا رسم الخط ہے یہ بات بھی اپ نے ذہن میں اچھی طرح سے رکھنی ہے۔
[13:48]تو الحمدللہ جی عربی زبان کا پہلا فارمولا پڑھنے کے بعد اب ہم تھوڑا سا اگے چلتے ہیں۔ ہمیں جب یہ بات سمجھ میں ا گئی کہ حروف اور علامات کے ملنے سے لفظ بنتے ہیں تو اگلی بات نوٹ کر لیجئے کہ لفظ جو ہیں وہ دو طرح کے ہوتے ہیں۔
[14:04]لفظ کی ایک قسم ایسی ہوتی ہے جو کہ بامعنی ہوتی ہے یعنی اس کے کوئی نہ کوئی معنی ہوتے ہیں اور الفاظ کی ایک قسم ایسی ہوتی ہے جس کے کوئی معنی نہیں ہوتے۔
[14:19]اور یہ بات ہم اردو میں اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں مثلا اردو زبان بولتے ہوئے ہم بہت سارے الفاظ ایسے بولتے ہیں جو بامعنی اور بے معنی کا کمبینیشن ہوتے ہیں۔
[14:34]جیسے ہم اردو میں کہتے ہیں پانی وانی چائے شائے ڈر ور تو اب ان تینوں کمبینیشنز میں پانی ایک بامعنی لفظ ہے چائے ایک بامعنی لفظ ہے ڈر ایک بامعنی لفظ ہے لیکن وانی شائے اور ور جو ہیں یہ بے معنی لفظ ہیں۔
[14:57]تو لفظ جو ہیں وہ دو طرح کے ہوتے ہیں ایک بامعنی ہوتے ہیں جن کے کوئی نہ کوئی معنی ہوتے ہیں اور دوسرے بے معنی ہوتے ہیں جن کے کوئی معنی نہیں ہوتے۔
[15:06]قران مجید میں کوئی بھی لفظ بے معنی نہیں ہے لہذا بے معنی لفظ کو گرامر میں کہتے کیا ہیں؟ یہ بھی ہم نہیں پڑھیں گے اور اپنے سلیبس سے اسے باہر نکال دیں گے ہماری گفتگو جو ہے وہ عربی زبان میں بامعنی الفاظ تک ہی محدود ہوگی۔
[15:27]تو بامعنی لفظ ہم انشاء اللہ تعالی لسان القران کورس میں پڑھیں گے اور نوٹ کر لیجئے کہ بامعنی لفظ کو عربی گرامر میں کلمہ کہتے ہیں۔
[15:40]بامعنی لفظ کو عربی زبان میں کلمہ کہتے ہیں۔ کلمہ لفظ ایسا لفظ ہے جو ہماری اردو زبان میں بھی استعمال ہوتا ہے لیکن اردو میں ہم اسے کلمہ پروناؤنس نہیں کرتے۔
[15:55]تو بامعنی لفظ کو عربی گرامر میں کلمہ کہتے ہیں۔ اب یہ جو کلمہ اپ کے سامنے ایک لفظ ایا ہے تھوڑا سا غور کریں۔
[16:05]یہ کاف لام میم اور گول تا کا مجموعہ ہے۔ کاف پہ زبر حرکت لگی ہوئی ہے لام پہ زیر حرکت لگی ہوئی ہے میم پہ زبر حرکت لگی ہوئی ہے اور گول تا کو ہم نے ویسے ہی چھوڑا ہوا ہے۔
[16:22]اب سوال یہاں پر یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ گول تا یہ کون سا حرف ہے یہ تو ہمارے حروف الحجا میں موجود نہیں تھا۔
[16:32]تو یہاں پر میں اس گول تا کے بارے میں بھی اپ کو تھوڑا سا بتاتا چلوں کہ یہ گول تا جو ہے یہ اصل میں لمبی تا ہی تھی۔
[16:40]لیکن اسے ہا کی شکل میں اوپر دو نقطوں کے ساتھ ذکر کیا گیا۔ اب یہ لمبی تا اور گول تا کہاں استعمال ہوتی ہے؟ ان کی پرونونسیشن میں کیا فرق ہے؟
[16:58]تو اس بارے میں نوٹ کر لیجئے کہ لمبی تا جو ہے یہ کسی بھی لفظ کے شروع میں بھی ا سکتی ہے درمیان میں بھی ا سکتی ہے اور اخر میں بھی ا سکتی ہے۔
[17:10]جیسے عربی زبان کا ایک لفظ ہے جو کہ اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے تائب۔ تائب کے معنی ہوتے ہیں توبہ کرنے والا۔
[17:21]تو تائب لفظ میں اپ دیکھیں تا شروع میں ائی ہوئی ہے۔ دوسرا لفظ کتب دیکھیں جو کہ کتاب کی جمع ہے تو کتب لفظ میں تا جو ہے وہ درمیان میں ا رہی ہے۔
[17:33]اسی طرح تیسرا لفظ دیکھیں جو کہ بنت ہے بنت کے معنی لڑکی کے یا بیٹی کے ہوتے ہیں اور بنت لفظ میں تا جو ہے وہ اخر میں ا رہی ہے۔
[17:45]تو لمبی تا جو ہے یہ کسی بھی لفظ کے شروع میں بھی ا سکتی ہے درمیان میں بھی ا سکتی ہے اور اخر میں بھی ا سکتی ہے۔
[17:53]جبکہ گول تا جو ہے یہ ہمیشہ لفظ کے اخر میں ہی اتی ہے۔ نہ تو یہ شروع میں ا سکتی ہے اور نہ ہی درمیان میں ا سکتی ہے۔
[18:06]جیسے اپ دیکھیں جنہ جسے ہم اردو میں جنت کہتے ہیں عربی میں اسے جنہ کہا جائے گا اور گول تا اس لفظ کے اخر میں ہے۔
[18:18]اسی طرح بیٹی کے لیے عربی زبان میں ایک اور لفظ استعمال ہوتا ہے اور وہ ہے ابنا ابنا کے اخر میں بھی اپ کو گول تا نظر ا رہی ہے۔
[18:28]تو گول تا ہمیشہ لفظ کے اخر میں اتی ہے شروع یا درمیان میں نہیں ا سکتی۔
[18:35]اور دوسری بات دونوں میں فرق کے لحاظ سے یہ ہے کہ جب اپ لمبی تا پر وقف کرتے ہیں تو اپ تا کی اواز بھی نکالتے ہیں۔
[18:47]جیسے بنت اخت جنات تو لمبی تا پر جب اپ وقف کریں گے رکیں گے تو اپ تا کی اواز پروناؤنس کریں گے لیکن گول تا پر جب اپ رکیں گے وقف کریں گے تو تا کی اواز نہیں پروناؤنس کریں گے۔
[19:14]بلکہ تا کی اواز کو اپ ہا کی اواز میں تبدیل کر دیں گے۔ جیسے جنہ کلمہ ایا اور یہ قاعدہ میں نے اپ کو وقف کرنے کی صورت میں بتایا ہے۔
[19:25]اگر اپ اگے ملا کر پڑھیں گے تو پھر گول تا کی اواز جو ہے وہ بھی تا کی اواز میں ہی سنائی دے رہی ہے۔
[19:36]جیسے یہ لفظ ہے رحمہ جس کے اخر میں گول تا ہے۔ لیکن اس رحمہ لفظ کو اگر میں اگے انے والے لفظ اللہ کے ساتھ ملا کر پڑھوں تو یہ بن جائے گا پڑھنے میں رحمۃ اللہ۔
[19:53]تو اب اپ دیکھیں اپ کو گول تا کی اواز بھی تا کی اواز میں ہی سنائی دے رہی ہے۔ تو یہ بہت اہم بات تھی جو میں نے اپ کے ساتھ شیئر کی ہے امید ہے اپ کو فائدہ ہو گا اس سے تو لمبی تا اور گول تا کا فرق جو ہے وہ میں نے اپ کو بہت تفصیل سے الحمدللہ سمجھا دیا ہے۔
[20:15]تو بات ہم یہ کر رہے تھے کہ لفظ کی دو اقسام ہیں ایک بامعنی دوسری بے معنی اور بامعنی لفظ کو عربی گرامر میں کلمہ کہا جاتا ہے۔
[20:26]گویا قران مجید پڑھتے ہوئے جو بھی لفظ اپ کے سامنے ائے گا وہ گرامر کے اعتبار سے کلمہ ہو گا۔ اب کلمہ جو ہے عربی گرامر میں تین طرح کا ہوتا ہے۔
[20:41]یا ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ عربی گرامر میں کلمہ کی تین اقسام ہیں۔ اقسام جو ہے یہ قسم کی جمع ہے اور قسم اور اقسام جو ہے یہ لفظ ہم اردو زبان میں استعمال کرتے ہیں۔
[20:59]کلمہ کی جو تین اقسام ہیں ان میں پہلی قسم اسم ہے جسے ہمارے ہاں اردو میں اسم بولا اور پڑھا جاتا ہے۔ تو اس کی صحیح پرونونسیشن جو ہے وہ اسم ہے۔
[21:14]دوسری قسم جو ہے وہ فعل ہے اور تیسری قسم وہ حرف ہے جسے ہمارے ہاں اردو میں حرف کہا جاتا ہے۔
[21:25]لیکن عربی زبان میں یہ اسم فعل اور حرف کہلاتے ہیں۔ تو کلمہ کی تین اقسام ہیں اسم فعل اور حرف۔
[21:40]گویا رزلٹ یہ نکلا کہ قران مجید کا جو بھی لفظ اپ کے سامنے ائے گا وہ یا تو کلمہ کی قسم اسم ہو گا یا فعل ہو گا یا پھر حرف ہو گا اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو گا۔
[21:53]یعنی قران مجید میں استعمال ہونے والا ہر لفظ کلمہ ہو گا اور کلمہ کی قسم یا تو اسم ہو گا یا فعل ہو گا یا پھر حرف ہو گا۔
[22:06]اور اسی سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر ہم ان تین اقسام کو اچھی طرح سے سمجھ لیں تو قران مجید کے تمام الفاظ ہماری سمجھ میں ا جائیں گے اور جب قران مجید کے تمام الفاظ ہماری سمجھ میں ا جائیں گے تو انشاء اللہ تعالی ہم ان الفاظ کو اگے جوڑ کر جملے بنائیں گے اور جملے جب اپ کو سمجھ میں انے لگ جائیں گے تو قران مجید کی ایات اپ کو سمجھ میں انے لگ جائیں گی۔
[22:38]تو انشاء اللہ تعالی ہم کلمہ کی پہلی قسم اسم سے اگلے لیکچر میں انشاء اللہ تعالی شروع کریں گے اور اسم کو اچھی طرح سے جان لینے کے بعد پھر ہم کلمہ کی دوسری قسم فعل کی طرف جائیں گے۔
[24:50]جبکہ حرف جو ہے وہ اسم پڑھتے ہوئے اور فعل پڑھتے ہوئے ہمارے سامنے ا جائے گا۔ تو امید کرتا ہوں کہ لسان القران کورس 2024 کا دوسرا لیکچر بھی اپ کے لیے مفید ثابت ہو گا۔
[25:07]انشاء اللہ تعالی تیسرے لیکچر میں اپ سے جلد ملاقات ہو گی اپ سے درخواست ہے کہ قران کی زبان سیکھنے کے لیے ان لیکچرز کو زیادہ سے زیادہ اپنے دوستوں اپنے رشتہ داروں اور اپنے مسلمان بہن بھائیوں کے ساتھ شیئر کریں۔
[25:33]اور ان لیکچرز کا سب سے بڑا فائدہ اپ یہ بھی انشاءاللہ محسوس کریں گے کہ اپ کو ان لیکچرز کی بدولت صرف عربی زبان ہی نہیں ائے گی بلکہ انشاءاللہ تعالی اپ کو اردو زبان بھی صحیح لکھنی پڑھنی اور بولنی ا جائے گی۔
[25:52]تو انشاء اللہ تعالی تیسرے لیکچر میں اپ سے جلد ملاقات ہوتی ہے۔ اجازت دیجئے سبحانک اللہم وبحمدک اشھد ان لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک



