[0:00]صحیح حدیث میں موجود ہے کہ ایک بندہ جو ضرورت مند نہیں ہے اس کے باوجود لوگوں سے سوال کرتا ہے قیامت والے دن اس حالت میں ائے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت نہیں ہوگا جبکہ دوسری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بطور خاص ان لوگوں کے بارے میں جو صحیح معنی میں ضرورت مند ہیں
[0:15]اور ان پر خرچ کرنے کے حوالے سے اپ نے فرمایا کہ तुम्हें अल्लाह ताला की तरफ से रिस्क और मदद तुम्हारी सिर्फ इस वजह से की जाती है कि तुम जुफा पर और कमजोरों पर खर्च करते हो
[0:27]اپ علیہ الصلوۃ والسلام کی زبانی سب سے پہلے تمہارے گناہ بخش دے گا استغفار کرنے سے اللہ رب العزت تمہارے اوپر اسمانوں کو برستا ہوا بھیجے گا یعنی رحمت کی بارشیں نازل فرمائے گا اللہ تمہاری مالوں کے ساتھ مدد فرمائے گا
[0:41]तुम्हारी बेटों के साथ औलादों के साथ मदद फरमाएगा और तुम्हें कयामत वाले दिन अल्लाह रब्बुल इज्जत नहरों का और जन्नतों का वारिस बना देगा और इंसान को क्या चाहिए
[1:14]رمضان المبارک میں خلاصہ مضامین قران مجید کے حوالے سے اج ہماری انتیسویں نشست ہے جس میں انشاء اللہ تعالی ہم انتیسویں پارے کے مضامین کا مختصر طور پر خلاصہ اور جائزہ اپ کے سامنے رکھیں گے
[1:27]اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت مجھے اور اپ سب کو سننے والوں اور دیکھنے والوں کو سب کو اللہ رب العزت قران مجید کے ساتھ اپنے تعلق کو بہت گہرا اور مضبوط بنانے کی توفیق عطا فرمائے
[1:42]رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں سے صحیح معنی میں استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے انتیسویں پارے میں سب سے پہلے سورۃ الملک ہے جس سورت کی 30 ایات ہیں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قران مجید میں ایک سورت ہے جس کی 30 ایات ہیں جو شخص اس کو پڑھے گا وہ عذاب قبر سے محفوظ ہو
[1:58]رات کو سوتے وقت اس کو پڑھے گا وہ عذاب قبر سے محفوظ رہے گا اسی طرح سے جامع ترمذی کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سوتے وقت سورہ سجدہ اور سورۃ الملک کی تلاوت فرمایا کرتے تھے
[2:11]اسی سورت کی ایت نمبر ٹو میں اللہ رب العزت نے انسان کا مقصد تخلیق ذکر کیا ہے اور خاص طور پر موت اور حیات کو زندگی اور موت کو پیدا کرنے کا مقصد ذکر کیا ہے
[2:26]واللہ رب العزت جس نے موت کو اور زندگی کو اس لیے پیدا کیا تاکہ وہ تمہیں ازمائے کہ تم میں سے عمل کے اعتبار سے اچھا کون ہے زیادہ نہیں اچھا یعنی زیادہ اعمال کس کے ہیں اللہ رب العزت کو یہ مقصود نہیں ہے
[2:40]اللہ تعالی کو یہ مقصود ہے کہ اعلی اور بہترین کوالٹی وائز کس کے اعمال زیادہ اچھے ہیں اس کا مطلب ایک تو فرائض ہیں جو ہر شخص کو ہر صورت میں ادا کرنے ہی ہیں اس کے علاوہ نوافل میں قران مجید کی تلاوت میں سخاوت میں ان تمام چیزوں کے اندر اللہ رب العزت کو یہ مقصود نہیں ہے کہ کوئی شخص جو ہے وہ اعمال کرنے کے انبار لگائے بلکہ صحیح حدیث میں موجود ہے اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دو رکعت جو خشوع و خضوع کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں اور حضور قلبی کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں وہ پوری رات کی عبادت سے اللہ رب العزت کو زیادہ محبوب ہوتی ہیں
[3:12]تو اس لیے اللہ رب العزت نے فرمایا کہ اللہ تعالی کو جو چیز مقصود ہے جیسے حدیث میں اپ نے فرمایا کہ اللہ رب العزت تمہارے چہروں اور مالوں کی طرف نہیں دیکھتا بلکہ اللہ رب العزت تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کی کوالٹی کی طرف اس کے اخلاص کی طرف دیکھتا ہے تو یہ اللہ رب العزت نے یہاں پر ذکر کیا ہے ایت نمبر فائیو میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ ستاروں کی پیدائش کے جو مقاصد ہیں اللہ نے ان کا ذکر کیا ہے
[3:43]ہم نے اسمان کو ستاروں کے ذریعے خوبصورتی عطا فرمائی ہے اور دوسرے نمبر پر ستارے جو ہیں اس لیے ہیں تاکہ شیطانوں کو جو کہ فرشتوں کی باتیں سننے کی کوشش کرتے ہیں وہ فرشتے جب اپس میں اللہ تعالی کی طرف سے احکامات ملنے کے بعد ڈسکشن کرتے ہیں اور کس کس طرف کس کی ڈیوٹی لگی ہے اس کے اس طرف جانے کی جب وہ اپس میں مشاورت کرتے ہیں تو بعض شیاطین ان کی باتیں سننے کی کوشش کیا کرتے تھے
[4:16]تو اللہ رب العزت نے فرمایا کہ ستارے جو ہیں وہ ان کو مارنے کے کام اتے ہیں جیسے شیহাব ثاقب شہاب ثاقب کے بارے میں اللہ رب العزت نے ذکر کیا ہے اللہ نے فرمایا شیاطین کے لیے اللہ رب العزت نے جہنم کی اگ کو تیار کر رکھا ہے اس کے بعد اللہ رب العزت ایت نمبر 10 اور 11 میں ارشاد فرماتے ہیں کہ اہل جہنم جو ہیں وہ قیامت والے دن اس بات کا اعتراف کر لیں گے کہ یقینا ہم سے ہی زیادتی ہوئی ہے
[4:39]اللہ تعالی نے فرمایا کہ وہ کہیں گے اگر ہم دنیا کے اندر صحیح معنی میں اس بات کو توجہ سے سن لیتے کیونکہ سنا تو ہوگا لیکن دل سے نہیں سنا ہوگا اوپر اوپر سے سنا ہوگا جیسے اللہ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جن کے دل تو موجود ہیں لیکن سمجھتے نہیں ہیں کان تو موجود ہیں لیکن سنتے نہیں ہیں اور انکھیں موجود ہیں لیکن اس سے دیکھتے نہیں ہیں یہ جانوروں جیسے لوگ ہیں ان کی کیفیت اس کی طرح سے ہو گئی ہے
[5:11]تو ابھی اہل جہنم کہیں گے اگر ہم صحیح معنی میں سن لیتے عقل کر لیتے اس پر غور و فکر کر لیتے تو اج ہم جہنم میں نہ پڑے ہوتے اللہ فرماتے ہیں کہ اس وقت یہ اپنا گناہوں کا اعتراف کریں گے لیکن اب ان کے لیے جہنم کے سوا کچھ نہیں ہے بڑی ہی خطرناک جہنم ہے جو اللہ رب العزت نے ان لوگوں کے لیے تیار کر رکھا ہے
[5:32]اس کے بعد اللہ رب العزت ایت نمبر 23 میں سورۃ الملک کی اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں انسان جو ہے وہ اللہ تعالی کی بہت زیادہ نعمتیں ہونے کے باوجود اللہ رب العزت کی ناشکری کرتا ہے کہ دیجیے وہی اللہ رب العزت ہے جس نے تمہیں پیدا کیا
[5:48]جس نے تمہیں قوت سماعت عطا فرمائی قوت بصارت عطا فرمائی کان اور انکھیں دیں اور اسی طرح سے جس اللہ رب العزت نے تمہیں دل عطا فرمائے اس کے باوجود تم میں سے بہت ہی کم لوگ ہیں جو اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتے ہیں ایت نمبر 30 میں اللہ رب العزت نے اپنی قدرت کا ایک نشانی جو ہے وہ اس کا بطور خاص تذکرہ کیا ہے
[6:11]اللہ فرماتے ہیں اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپ ان سے کہہ دیجئے کیا ہے تمہارا اگر اللہ رب العزت زمین کے پانی کو خشک کر دے تو پھر کون ہے جو اس جاری چشمے اور پانی کو واپس لوٹا سکے تو یقینا اللہ رب العزت کے سوا کوئی ایسی ذات نہیں ہے
[6:29]لہذا ہمیں جو ہے وہ بطور خاص اللہ رب العزت کی ان نعمتوں پر اس کا شکر بھی ادا کرنا چاہیے اور ہمیشہ ہمیشہ اپنے اپ کو شرک سے بچانے کی کوشش کرنی چاہیے اس کے دین پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرنی چاہیے اس کے بعد سورۃ القلم ہے
[6:42]ابتدا میں اللہ رب العزت نے جو ہے وہ ایت ایت نمبر ایک سے لے کر ایت نمبر چار تک اللہ رب العزت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ کا ذکر کیا ہے مشرکین کو جو اپ کے بارے میں باتیں کیا کرتے تھے اللہ رب العزت نے ان کا رد کیا ہے
[6:57]اللہ فرماتے ہیں جس کا معنی اللہ ہی جانتے ہیں اور قسم ہے قلم کی اور وہ جو قلم لکھتے ہیں ان سب کی قسم ہے اپ اللہ رب العزت کی نعمت کے ساتھ دیوانے نہیں ہیں جیسے یہ مشرکین اپ کے بارے میں باتیں کرتے ہیں اور یقینا اللہ رب العزت نے اپ کے لیے ایسا اجر تیار کر رکھا ہے جس کی کوئی حد نہیں ہے
[7:22]یقینا اپ بہت ہی بلند و بالا اخلاق کریمانہ کا مالک ہیں کلیم انا کے مالک ہیں جس کے بارے میں یہ کفار اور مشرکین سوچ بھی نہیں سکتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جو بہترین اپ کی جو عادات تھیں جو اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اخلاق تھے اور اسی طرح سے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں کے ساتھ جو میل جول تھا اور کتنی زیادہ برداشت تھی اللہ رب العزت نے اس کے بارے میں بطور خاص اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف فرمائی ہے
[7:51]تو اس کے بعد اللہ رب العزت ایت نمبر 17 سے 17 سے 33 تک اللہ رب العزت نے اس صورت کے اندر بطور خاص ایک واقعہ ذکر کیا ہے اللہ فرماتے ہیں ہم نے ان لوگوں کو ازمایا جیسا کہ ہم نے ایک باغ والوں کو ازمایا تھا وہ باغ والے جو کہ بڑے ہی جو ہے وہ صبح کے ٹائم پہ جن لوگوں نے کہا کہ ہم تقسیم کریں گے اور اس کے بعد اللہ رب العزت نے اس کے سب ڈیٹیلز بتائی ہیں
[8:17]اس کا مختصر طور پر جو ہے وہ خلاصہ یہ ہے اس باغ والوں کا کہ ایک باغ والوں کا اللہ نے تذکرہ کیا ہے بنی اسرائیل کے اندر ایک شخص تھا جو اپنی مال و دولت جتنی بھی اس کے پاس جو مطلب اس کے اس میں امدن ہوتی تھی اس سب کو وہ تین حصوں میں تقسیم کر دیا کرتا تھا
[8:35]ایک حصہ ائندہ کے لیے جو اس نے اس میں کاشتکاری کرنی ہوتی اس کے لیے روک لیتا ایک حصہ جو ہے وہ اپنے گھر پہ کھانے کے لیے روک لیتا اور ایک حصہ وہ اللہ رب العزت کی راہ میں فقراء کو مساکین کو اور ان سب لوگوں کو اللہ رب العزت کی راہ میں وہ تقسیم کر دیا کرتا اب اس کے بچے جو تھے جب وہ والد فوت ہوگیا تو اس کے بیٹوں نے سوچا جب وہ بڑے ہوئے اور باقی مالک بنے
[8:56]تو انہوں نے سوچا کہ ہمارا باغ تو پاگل ہی تھا ہمارا باپ تو اس کو اندازہ ہی نہیں تھا وہ یہ سب کیا کرتا رہا خوامخواہ میرا رزق برباد کرتا رہا ضائع کرتا رہا ایسے خوامخواہ فقیروں مسکینوں کو تو کہنے لگے ایسا کرتے ہیں ایسا کرو کہ ایسے وقت میں صبح صبح یعنی جو سحری کا ٹائم ہوتا ہے اس وقت میں اپنے اس میں جاؤ اور جا کے وہاں پر جو ہے وہ اس وقت میں جاؤ تاکہ لوگوں کو پتہ نہ چلے
[9:16]جو ہے وہ لوگوں کو اندازہ نہ ہو سکے فقراء اور مساکین وہاں پہ پہنچ نہ سکیں تو اس وقت جا کر اپنے باغ کی فصل جو ہے وہ اس کو اٹھا کے راتوں رات ہی گھر پہ ا جاؤ اور جو ہے وہ کسی کو بھی اس بات کی کانوں کان خبر نہ ملنی چاہیے لیکن عجیب سلسلہ ہوا جب وہ وہاں پر پہنچے جب وہاں پہنچے تو کہنے لگے شاید ہم راہ بھٹک گئے ہیں
[9:42]بلکہ جو ہے وہ شاید ہمیں محروم ہی کر دیا گیا ہے کیونکہ یہاں پر تو باغ کا وجود ہی نہیں ہے ان میں سے منجھلا کہنے لگا جو درمیانہ والا تھا وہ کہنے لگا کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم اللہ رب العزت کی تسبیح بیان نہیں کرتے ہو وہ کہنے لگے اے اللہ تو پاکیزہ ہے یقینا ہم ہی اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں تو ہوا یہ کہ جب وہ اپنے باغ کی جگہ پر پہنچے تو وہاں پر باغ کا نام و نشان تک موجود نہیں تھا
[10:09]صرف اتنا ہی ٹائم لگتا اتنی ہی دیر لگتی ہے اللہ تعالی کی طرف سے ایک بیماری انسان پر اتی ہے اور اس کا گھمنڈ اس کا تکبر اور اس کا سب کچھ خاک میں مل جاتا ہے اللہ تعالی کی طرف سے ایک افت اتی ہے اور جو کروڑوں پتی ہوتے ہیں وہ روڈ کے اوپر ا جاتے ہیں
[10:24]تو اس وجہ سے اللہ تعالی کی طرف سے ان ایسے جو انجام ہیں ان سے ڈرنا چاہیے مکافات عمل سے انسان کو بطور خاص ڈرنا چاہیے صحیح حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جیسا کہ اج کل ہم فقراء کو مساکین کو غریبوں کو ڈانٹ دیتے ہیں
[10:37]اگرچہ اس چیز کو جو ہے وہ جیسا کہ ہمارے معاشرے میں بہت سارے لوگوں نے ایک عادت بنا لیا ہے اور ان کی ضرورت بھی نہیں ہوتی ان کو بھی اس بات سے بڑا جو ہے وہ ڈرنا چاہیے صحیح حدیث میں موجود ہے کہ ایک بندہ جو ضرورت مند نہیں ہے اس کے باوجود جو ہے وہ لوگوں سے سوال کرتا ہے قیامت والے دن اس حالت میں ائے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت نہیں ہوگا
[10:53]جبکہ دوسری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بطور خاص ان لوگوں کے بارے میں جو صحیح معنی میں ضرورت مند ہیں اور ان پر خرچ کرنے کے حوالے سے اپ نے فرمایا کہ तुम्हें अल्लाह ताला की तरफ से रिस्क और मदद तुम्हारी सिर्फ इस वजह से की जाती है कि तुम जुफा पर और कमजोरों पर खर्च करते हो ایت نمبر 35 میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کیا ہم مسلمانوں کو فرمانبرداروں کو مجرموں کی طرح بنا دیں گے
[11:21]کیا مومن اور مجرم برابر ہو جائیں گے کیا ہو گیا تمہیں کیسے تم فیصلے کرتے ہو تو اس کا معنی یہ ہے کہ کبھی بھی ایمان والے اور جو ایمان نہ لانے والے کافر اور مومن کبھی برابر نہیں ہو سکتے
[11:34]ایت نمبر 48 سے 50 تک اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت اپ نے اللہ رب العزت نے فرمایا اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کے حکم پر صبر کیجئے اور مچھلی والے کی طرح نہ ہو جائیے یعنی یونس علیہ الصلوۃ والسلام یونس بن مطا کی طرف کی طرح نہ ہو جائیے
[11:53]پھر انہوں نے کیا کیا جب اللہ تعالی کی طرف سے ان کو مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا گیا یعنی پہلے صبر نہیں کیا اور پھر جب اللہ کی طرف سے مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا گیا پھر غم میں تھے تو اس وقت اللہ تعالی کو پکارا اللہ فرماتے ہیں اگر اللہ تعالی کی نعمت ان کو نہ پالیتی یعنی دعا کرنے کی وجہ سے اللہ رب العزت نے فورا ان کو اپنی حفاظت میں لے لیا ورنہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ کسی چٹیل میدان میں ڈال دیے جاتے اور وہاں پر جو ہے وہ ایسے ہی وہ پریشانی کی حالت میں وہاں پر پڑے رہتے
[12:24]اللہ نے اپ کو چنا اور اپ کو اپنے نیک بندوں میں شامل کر لیا تو یہ دعاؤں کی برکت ہے اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے جو فورا دعا پڑھی اس دعاؤں کی برکت سے اللہ رب العزت نے اپ علیہ الصلوۃ والسلام پر رحم فرمایا اپ کی اس غلطی سے درگزر فرمایا اور ان کو معاف کر دیا اور اس کے بعد اپنے دوبارہ پھر سے اپنے برگزیدہ بندوں میں ہی شامل کر لیا
[12:46]جیسا کہ پہلے اپ علیہ الصلوۃ والسلام اللہ کے برگزیدہ پیغمبروں میں شامل تھے اس کے بعد سورۃ الحاقہ ہے سورۃ الحاقہ یہ اس کے اندر قیامت کے اللہ رب العزت نے کچھ مناظر کا تذکرہ کیا ہے وہ ثابت ہو جانے والی وہ حق کے ساتھ ثابت ہو جانے والی اور اپ کیا جانے کہ وہ حق کے ساتھ ثابت ہونے والی کیا ہے
[13:04]اور اپ کو کیا خبر کہ وہ حق کے ساتھ ثابت ہونے والی کیا ہے یہ وہ قیامت ہے جو کڑ کڑا دینے والی ہے جس کو ثمود اور عاد نے جھٹلا دیا تھا اور وہی ثمود کے لوگ ہیں جن کو بلند چیخ کے ساتھ ساؤنڈ ویپن کے ساتھ جن کو ہلاک کر دیا گیا تھا اور جو قوم عاد تھی اللہ فرماتے ہیں کہ ان کو تند و تیز ہوا کے ساتھ ان کو ہلاک کر دیا گیا
[13:33]جو ہوا ان کے اوپر سات راتیں اور اٹھ دن تک مسلسل جاری رہی اپ ان کو دیکھیں گے اس کے اندر گرے ہوئے گویا کہ کھجور کے کھوکھلے تنوں کی مانند ہوتے ہیں اللہ فرماتے ہیں اس طرح سے ان لوگوں کا انجام ہوا تو یہ جھٹلانے والوں کا انجام ہے
[13:58]قیامت کو اللہ فرماتے ہیں تو تمہیں سمجھ جانا چاہیے کہ وہ قیامت جو ہے وہ ایسی چیز نہیں ہے جس کو جھٹلایا جا سکے اور ایسی نہیں ہے کہ جس کا وقوع ممکن نہ ہو اور ایسی نہیں ہے کہ جو جس دن اللہ رب العزت سب کو جمع نہیں کریں گے ایت نمبر 13 سے 15 تک اللہ رب العزت نے اسی قیامت کے متعلق ارشاد فرمایا کہ جب اس کے اندر ایک ہی شور پھونکا جائے گا
[14:20]اس قیامت کے بارے میں اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھایا جائے گا ایک ہی ضرب کاری لگا کر ان دونوں کو ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا اس دن یہ واقع ہونے والی قیامت واقع ہوگی اللہ فرماتے ہیں کہ اس دن اسمان بھی پھٹ جائیں گے یہ اللہ رب العزت نے اس کا قیامت کو جو ہے وہ منظر نامہ ذکر کیا ہے
[14:44]پھر اس کے بعد اللہ رب العزت ایت نمبر 19 سے 24 تک بطور خاص قیامت والے دن لوگوں کی جو حالت ہوگی اس میں سے کچھ وہ لوگ ہوں گے جن کے نام اعمال دائیں ہاتھ میں ملیں گے اس کو بائیں ہاتھ میں ملیں گے اب جن کو دائیں ہاتھ میں نام اعمال ملیں گے اللہ نے ان کی جو ہے وہ نقشہ کشی یہاں پر ارشاد فرمائی ہے
[15:03]اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں جن کے نام اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں ملیں گے وہ تو کیا کہیں گے اپنا نام اعمال ہاتھ میں لیا ہوگا جیسے کسی بچے کا رزلٹ اتا ہے اور وہ اچھا رزلٹ ہوتا ہے تو بچہ جگہ جگہ اپنے سب رشتہ داروں کو دکھاتا پھرتا ہے دیکھو بھئی میرا رزلٹ ایا ہے دیکھو بھئی میرا رزلٹ ایا ہے اور اس کے بعد اللہ فرماتے ہیں وہ کہے گا کہ مجھے یقین تھا کہ میں اللہ سے ملاقات کرنے والا ہوں
[15:28]خوشیوں میں ہوگا اور وہ عیش و عشرت میں ہوگا راضی ہوگا بلند و بالا بڑی بلند درجات والی جنتوں میں ہوگا جس کے جس کے قریب قریب میں جو ہے وہ اللہ تعالی کی جنتوں کے پھل جو ہیں وہ جھکے پڑے ہوں گے کھاؤ اور پیو اور مزے کے ساتھ اب یہ اس سب کا نتیجہ ہے جو تم نے دنیا کے اندر اعمال کیے تھے اور اس کے بعد اللہ تعالی نے بائیں ہاتھ میں جن کا نام ہے اعمال ملے گا ان کا ذکر کیا ہے
[16:01]اور وہ شخص جس کا نام اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں ملے گا وہ کہے گا اے اللہ کاش کہ اج مجھے میرا نام اعمال نہ دیا جاتا اور میں اپنے حساب کتاب کو اج جان نہ پاتا کاش کہ یہ موت ہی حقیقت میں موت ثابت ہو جاتی اور اج مجھے اٹھنا نصیب نہ ہوتا مجھے میرے مال نے کوئی فائدہ نہ پہنچایا مجھے میری بادشاہت نے میرے سٹیٹس نے میری جو دنیا کے اندر جو میرا مقام و مرتبہ تھا اسی نے اج مجھے جو ہے وہ ہلاک کر دیا
[16:33]اللہ فرمائیں گے اس کو پکڑو اور اس کو طوق پہنا دو پھر اس کو جہنم کے اندر کھینچتے ہوئے ڈال دو پھر اس کو جو ہے وہ زنجیروں میں جکڑ ڈالو 70 زنجیروں میں جکڑ دو اور اس کے بعد پھر اس کو پھر اس کو جہنم کی طرف چلا دو یہ وہ شخص ہے جو عظیم مالک اللہ رب العزت کے ساتھ ایمان نہیں لاتا تھا
[16:58]جو مسکینوں کو کھانا کھلانے پر ابھارتا نہیں تھا نہ خود کھلاتا تھا نہ جو ہے وہ دوسرے لوگوں کو ان کو موٹیویٹ کرتا تھا اللہ فرماتے ہیں اج اس کا کوئی دوست نہیں ہے اج ان کو جو کھانا دیا جائے گا وہ اہل جہنم کے زخموں کو دھونے والا پانی جو ان کے زخموں سے ٹچ ہوتا ہوا پانی ائے گا وہ ان کو کھانا دیا جائے گا جس کو گنہگاروں کے سوا کوئی نہیں کھاتا ہے
[17:24]اللہ رب العزت ہمیں ایسے انجام سے محفوظ رکھے ہمیں اپنے نام اعمال دائیں ہاتھ میں اللہ رب العزت لینے کی توفیق عطا فرمائے ایسے اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنے نام اعمال قیامت والے دن دائیں ہاتھ میں لے سکیں اللہ رب العزت نے اس سورت کے اخر میں ارشاد فرمایا کہ جیسے یہ مشرکین مکہ کہا کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قران اپنے پاس سے بنا لیا ہے تو اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں
[17:44]ایک تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم شاعر نہیں ہیں نہ ان کے کہنے کے مطابق کاہن ہیں اور بلکہ اللہ رب العزت کے رسول ہیں اور یہ قران مجید اللہ رب العزت کی طرف سے نازل کردہ ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنے پاس سے نہیں بنایا اور اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ یہ تقوی اختیار کرنے والوں کے لیے ایک بہترین نصیحت ہے جو اللہ رب العزت نے قران مجید کے سورت میں نازل فرمایا ہے
[18:04]اس کے بعد سورۃ المعارج ہے سورۃ المعارج میں اللہ رب العزت نے ایت نمبر ایک سے چار تک جو ہے وہ بطور خاص ان مشرکین مکہ کو جو قیامت کا انکار کرتے تھے اور قیامت کے بعد کے معاملات کا انکار کرتے تھے وہ کہتے تھے کہ جو قیامت انے والی ہے یا جو عذاب انے والے ہیں ان سب کو ہم پر واقع کر کے دکھا دیجئے تو اللہ رب العزت نے ان کے جواب میں اس سورت کو جو ہے وہ نازل فرمایا ہے
[18:25]اللہ فرماتے ہیں یہ سوال کرنے والے اس عذاب واقع کے بارے میں واقع ہونے والے عذاب کے بارے میں سوال کرتے ہیں وہ کافروں کے لیے واقع ہوگی اور اس کو کوئی روکنے والا نہیں ہوگا اللہ تعالی کی طرف سے ہوگی جو کہ سیڑھیوں والا ہے یعنی اس کی طرف سیڑھیاں جو کہ جہاں سے فرشتوں کے جانے کے رستے ہیں جہاں سے فرشتے اوپر چڑھتے ہیں ان سیڑھیوں سے وہ انسین سیڑھیاں سٹیئرز مراد ہیں جو صرف فرشتوں کے لیے اللہ رب العزت نے سلسلہ بنا رکھا ہے
[18:55]تو اللہ فرماتے ہیں کہ جہاں سے فرشتے چڑھتے ہیں اور اسی طرح سے روح القدس جبرائیل علیہ السلام اللہ رب العزت کی طرف چڑھتے ہیں یہ لوگوں کے حساب و کتاب کا دن ہے جس کی اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کہ اس کی مقدار 50 ہزار سال کے برابر ہوگی جس دن لوگوں کا حساب و کتاب اللہ رب العزت لیں گے
[19:20]تو اللہ رب العزت نے اس کے اندر جو ہے وہ ان لوگوں کا جواب دیا ہے اس کا ذکر کیا ہے اس کے بعد اللہ رب العزت نے ایت نمبر اٹھ سے لے کر 18 تک جو ہے وہ قیامت کا بطور خاص منظر ذکر فرمائے اللہ فرماتے ہیں جس دن اسمان جو ہے وہ پگھلے ہوئے تانبے کی مانند ہو جائے گا
[19:33]اور اسی طرح سے پہاڑ جو ہیں وہ اس دن دونی ہوئی روئی کی طرح ہو جائیں گے کوئی دلی دوست کسی دلی دوست کو پکار اور سوال نہیں کر سکے گا بلا نہیں سکے گا حالانکہ وہ ایک دوسرے کو سامنے دیکھ رہے ہوں گے اور اس دن جو مجرم ہے وہ چاہے گا پسند کرے گا کہ اج کاش کہ وہ ہر چیز کو فدیہ کر دے اپنے بیٹوں کو فدیہ کر دے اپنی جان بچانے کے لیے
[20:00]اپنی بیوی کو فدیہ کر دے اپنے بھائیوں کو فدیہ کر دے اپنا پورا خاندان جو دنیا کے اندر اس کے لیے تمکن کا سبب تھا جو دنیا کے اندر اس کے لیے پراؤڈ اور فخر کا سبب تھا جو اس کو جگہ اور ٹھکانہ دیتا تھا اج پورے خاندان کو فدیہ کر دے جو کچھ بھی زمین کے اندر ہے سب فدیہ کر دے پھر خود نجات پا جائے اللہ فرماتے ہیں نہیں نہیں یہ بڑی ہی شعلے والی اگ ہے
[20:29]جو چہروں کے اوپر سر کے اوپر اس طرح سے چپکے گی کہ اس کی کھال کو اتار پھینکے گی اللہ فرمائیں گے پکارو پکڑو اس کو فرشتوں سے کہیں گے پکڑو اس کو جو اس وقت پیٹھ پھیرتا تھا جو اعراض کر کے چلا جاتا تھا مال جمع کر کر کے رکھتا تھا اور اس کو سنبھال سنبھال کے گن گن کے رکھتا تھا اللہ رب العزت ہمیں ایسے انجام سے محفوظ فرمائے اس کے بعد اللہ رب العزت نے اہل جنت کا کچھ ذکر کیا ہے
[20:56]جو قیامت والے دن ان عذابوں سے محفوظ ہوں گے اللہ رب العزت ایت نمبر بطور خاص 22 سے 35 تک اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا ہے مگر وہ نمازیں پڑھنے والے جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں اپنے مالوں میں اللہ رب العزت کا حق رکھتے ہیں اور وہ اللہ تعالی کے لیے خرچ کرتے ہیں سوال کرنے والوں کے لیے محروموں کے لیے
[21:13]اسی طرح سے قیامت کے دن کی تصدیق کرنے والے ہیں اللہ تعالی کے عذابوں سے ڈرنے والے ہیں اور یقینا اللہ کا عذاب ایسا نہیں ہے کہ اس سے جو ہے وہ امن میں رہا جا سکے اس سے محفوظ رہا جا سکے یعنی اس کے لیے کچھ اعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے اور اسی طرح سے اللہ رب العزت نے فرمایا اپنی امانتوں کی اپنے وعدوں کی حفاظت کرنے والے اور اپنی گواہیوں اور اپنی جو ہے وہ قسموں کے اوپر قائم رہنے والے اور اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے والے
[21:40]یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ رب العزت جنتوں میں ڈالیں گے اس کے بعد سورہ نوح ہے سورہ نوح میں اللہ رب العزت جو ہے وہ نوح سب سے پہلے وہ نبی ہیں جن کو اللہ رب العزت نے رسول بھی بنا کر بھیجا جن کی طرف کتاب بھی نازل فرمائی اور جن کی عمر جو ہے وہ تقریبا ایک ہزار پچاس سال تھی 40 سال پر اپ کو نبوت ملی 950 سال نوح علیہ الصلوۃ والسلام نے تبلیغ فرمائی اور اپ کے طوفان نوح کے بعد جو ہے وہ تقریبا 60 سال تک نوح علیہ الصلوۃ والسلام جو ہے وہ واپس اس دنیا کے اندر زندہ رہے
[22:07]تو یہ نوح علیہ الصلوۃ والسلام ہیں جو اللہ تعالی کے سب سے پہلے رسول ہیں اللہ رب العزت نے نبوت تو ادم علیہ الصلوۃ والسلام سے شروع ہو چکی تھی تو اللہ رب العزت نے اپ علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں یہاں پوری سورت کا ذکر فرمایا ہے
[22:18]किस तरह से उन्होंने दिन रात एक करके अपनी कौम को तबलीग फरमाई अल्लाह رب العزت نے اس کا تذکرہ کیا ہے تو اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کہ ہم نے نوح علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ جا کر اپنی قوم کو ڈرائیے اس سے پہلے کہ ان کے اوپر دردناک عذاب ا جائے انہوں نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگوں میں تمہیں اللہ تعالی کی طرف سے واضح ڈرانے والا ہوں
[22:32]اللہ کی عبادت کر لو اس اللہ تعالی سے ڈر جاؤ اور میری فرمانبرداری کر لو اللہ تعالی تمہارے گناہ بھی بخش دے گا اللہ رب العزت تمہیں جو ہے وہ مہلت بھی عطا فرمائے گا یقینا اللہ تعالی کی طرف سے وقت ا جاتا ہے عذاب کا یا موت کا تو اس میں تاخیر نہیں کی جاتی
[22:50]اگر تم اس بات کو جان لو نوح علیہ السلام فرمانے لگے ایت نمبر فائیو میں اے اللہ رب العزت میں نے اپنی قوم کو دن رات پکارا ان کو دن رات میں نے دعوت دی لیکن اس کے باوجود یہ لوگ جو ہے وہ مجھ سے دوری ہوتے چلے گئے دین کی بات سننے سے جو ہے وہ اہستہ اہستہ اگے ہی نکلتے چلے گئے اور دین کی بات سننے کی طرف نہیں ائے
[23:10]ایت نمبر 10 سے 12 میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ نوح علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سے کہا میں نے ان سے کہا اپنی اللہ تعالی کے سامنے جو ہے وہ گویا کہ اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی صفائی بیان کی ہے کہ اللہ رب العزت میں نے ان کو اس اس طرح سے دعوتیں دی ہیں اللہ نے اس کا سب کا تذکرہ کیا ہے تو فرمانے لگے اے اللہ میں نے ان سے کہا کہ اللہ رب العزت سے بخشش طلب کرو
[23:31]وہ اللہ رب العزت تمہارے گناہ بخش دے گا یہاں پر استغفار کی برکات اللہ رب العزت نے بیان فرمائی ہیں یعنی نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی زبانی سب سے پہلے تمہارے گناہ بخش دے گا استغفار کرنے سے اللہ رب العزت تمہارے اوپر اسمانوں کو برستا ہوا بھیجے گا یعنی رحمت کی بارشیں نازل فرمائے گا
[23:48]اللہ تمہاری مالوں کے ساتھ مدد فرمائے گا تمہاری بیٹوں کے ساتھ اولادوں کے ساتھ مدد فرمائے گا اور تمہیں قیامت والے دن اللہ رب العزت نہروں کا اور جنتوں کا وارث بنا دے گا اور انسان کو کیا چاہیے استغفار کرنے کی وجہ سے دنیاوی مسائل اللہ حل فرما دیتے ہیں معاشی مسائل حل فرما دیتے ہیں معاشرتی مسائل حل فرما دیتے ہیں اولاد اللہ رب العزت عطا فرما دیتے ہیں
[24:12]لیکن یہ بات بھی نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم کے پلے نہ پڑی جیسا کہ اج کل ہمیں بھی اس طرح کی باتیں سمجھ میں نہیں اتی ہیں اللہ رب العزت نے اس کے بعد نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم سے چونکہ بت پرستی کا اغاز ہوا تھا اس سے پہلے بت پرستی دنیا کے اندر موجود نہیں تھی شرک کا اغاز نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم سے ہوا تھا
[24:30]تو انہوں نے جو اپنے بت بنا رکھے تھے ان بتوں کا تذکرہ کیا ہے اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں ایت نمبر 23 میں ارشاد فرمایا کہ وہ جب نوح علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سے کہا کہ یہ بت پرستی چھوڑ دو تو کہنے لگے اپنی قوم کے جو بڑے سربرار تھے سردار تھے اپنی قوم سے کہنے لگے نوح علیہ السلام کی باتوں میں نہ ا جانا ان کی باتوں میں ا کر اپنے خداؤں کو نہ چھوڑ دینا
[24:51]ود کو نہ چھوڑنا سو کو نہ چھوڑنا یغوس اور یعق اور نصر یہ پانچ بت تھے ان کے ان کو نہ چھوڑنا اور یہ لوگ سب کو گمراہ کرنے والے تھے اور اللہ رب العزت سے فرمایا کہ اللہ رب العزت ان ظالموں کو گمراہی کے اندر ہی اور بڑھا دے کیونکہ اب یہ لوگ جو ہے وہ ایمان لانے کی طرف انے والے نہیں ہیں
[25:14]ایت نمبر 25 میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کو غرق کر دیا گیا ان کو جہنم کی اگ میں داخل کر دیا گیا گناہوں کی وجہ سے انسان کو یہ سب انجام بھگتنا پڑتے ہیں اب ان ان کے لیے اللہ تعالی کی طرف سے کوئی مددگار نہیں ہے جو ان کو غرق ہونے سے بچا سکے
[25:34]جیسے نوح علیہ السلام کا اپنا بیٹا اس کے اندر غرق ہو گیا اور اسی طرح سے دیگر قوم کے لوگ اللہ فرماتے ہیں اب ان کو جہنم سے بچانے والا کوئی ان کا مددگار نہیں ہوگا اور نوح علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ رب العزت سے کہا اے اللہ نہ اس زمین پر کافروں کی جڑ ختم کر دے ان کے گھروں کو برباد کر دے اللہ اگر تو نے ان کو دنیا کے اندر چھوڑ دیا تو یہ تیرے اور بندوں کو گمراہ کر دیں گے
[25:54]اور اے اللہ اگر یہ جنیں گے بھی اگے ان کی نسل بڑھے گی بھی تو وہ فاجر اور کافر اور فاسق ہی ہوں گے تو اللہ رب العزت ان کی جڑ ختم کر دے ذرا اندازہ لگائیں نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ سے اس بات کو سمجھیں کہ کتنے دکھ اور تکلیف میں نوح علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ الفاظ کہے ہوں گے
[26:17]جب 950 سال نوح علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو تبلیغ فرمائی اور یہ لوگ جو ہے وہ ایمان لانے کی طرف نہیں ائے تو اخر نوح علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ رب العزت سے پھر یہ دعائیں کیں اور پھر اللہ رب العزت سے کہا اپنے لیے اے اللہ مجھے بخش دے میرے والدین کو بخش دے اور جو میرے گھر میں ا چکے ہیں ایمان ایمان کی حالت میں وہ مرد ہوں یا عورتیں ہوں اے اللہ ان سب کی بخشش فرما دے
[26:40]اور اے اللہ ظالموں کو تباہ و برباد کر دے ان کا دنیا کے اندر نام و نشان بھی جو ہے وہ ختم ہو جائے اللہ رب العزت نے اس کے بعد جو ہے وہ سورۃ الجن ہے جس کے اندر اللہ رب العزت نے جنوں کی بابت خاص طور پر ذکر فرمایا ہے اور یہ جو عکاز کے جو مارکیٹ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ دعوت کے بڑے حریث تھے ہر وقت جو ہے وہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو دین کی دعوت دیتے رہے
[27:05]تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم عکاز کے مارکیٹ میں جب وہاں پر میلہ لگا تو لوگوں کے پاس اپ صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تاکہ وہاں جا کر لوگوں کو دین اسلام کی دعوت دے سکیں تو وہاں پر فجر کی نماز اپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا رہے تھے فجر کی نماز میں جنوں نے قران سنا تو جنوں کے قران سننے کی اس کیفیت کا اور ان کے اوپر جو اس کا ری ایکٹ ہوا جو اس کے اوپر امپیکٹ اس کا ایا
[27:24]اللہ نے اس کا ذکر کیا ہے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کو کہیے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جب جنوں نے جنوں کے ایک نفر نے ایک گروہ نے قران سنا تو کہنے لگے ہم نے ایک بڑا عجیب کلام سنا ہے جو ہدایت کی طرف بلاتا ہے سو ہم نے تو اس پر جو ہے وہ ہم تو ایمان لے ائے ہیں اور ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور ہمارا رب بڑا ہی بلند و برتر مقام و مرتبے والا ہے
[27:51]جس نے نہ تو اپنی بیوی بنائی ہے اور نہ ہی اس کو اولاد کی کسی طرح کی ضرورت ہے جیسا کہ مشرکین مکہ کہا کرتے تھے ایت نمبر سکس میں اللہ رب العزت نے جنوں کی ایک نیچر کا بیان کیا ہے اللہ فرماتے ہیں انسانوں میں سے کچھ لوگوں نے جنوں سے پناہ پکڑنا شروع کر دی جنوں کو جو ہے وہ اپنا بڑا سمجھنا شروع کر دیا جیسا کہ اج کل بھی بہت سارے لوگ ظاہر ہے جنات کے اندر بھی شیاطین قسم کے لوگ بھی ہیں اور اسی طرح سے اللہ تعالی کے نیک لوگ بھی ہیں
[28:28]تو ان جو ہے وہ شیاطین قسم کے جنات کے ذریعے انہوں نے پناہ پکڑنا شروع کر دی جیسے یوں سمجھ لیجئے کوئی بندہ کسی ظالم کا سہارا لے لے ظالم کے جا کر گود میں بیٹھ جاؤ اور پھر لوگوں کے اوپر ظلم کرنا شروع کر دے تو اس سے کیا ہوتا ہے کہ ظالم کی مدد ہوتی ہے ظالم اور زیادہ شیر ہو جاتا ہے تو یہاں پر اللہ رب العزت نے جنوں کی اس کیفیت کا بیان کیا کہ جب لوگوں نے ان کو اپنے سر پہ چڑھایا تو وہ سرکش ہو گئے تو خیر اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ رب العزت ہی کی پناہ ہمیشہ انسان کو پکڑنی چاہیے
[28:53]اس کے بعد ایت نمبر 18 میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا مسجدیں اللہ تعالی کے لیے ہیں وہاں اللہ تعالی کے سوا کسی اور کو مت پکارو اور اسی طرح سے اس کے بعد اللہ رب العزت نے ایت نمبر 20 سے 23 تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام و مرتبے کا اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت کا بیان کیا ہے
[29:10]اللہ فرماتے ہیں ان سے کہہ دیجئے کہ میں اللہ رب العزت کی طرف جو ہے وہ دعوت دیتا ہوں اور میں اللہ رب العزت کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپ ان کو بتا دیجئے کہ میں کسی بھی قسم کے نقصان اور بھلائی کا مالک نہیں ہوں
[29:30]اور دیکھو ان سے کہہ دیجئے کہ اگر اللہ رب العزت جو ہے وہ اللہ رب العزت کے سامنے مجھے کوئی پناہ نہیں دے سکتا اور نہ ہی میں اللہ رب العزت کے سوا اس کے سوا جو ہے وہ کوئی کسی قسم کا ٹھکانہ پاتا ہوں اس کے بعد اللہ رب العزت نے سورۃ المزمل ہے اس کا بیان کیا ہے
[29:48]سورۃ المزمل میں جو ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ابتدائی زمانے کی سورت ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ رب العزت نے کچھ جو ہے وہ ٹیکنیکس بتائی ہیں اور کچھ عبادات اپنے اوپر لازم کرنے کا جو ہے وہ حکم دیا ہے
[30:00]کہ کس طرح سے اپ ایک ایسا جو ہے وہ اپنے اپ کو اس مقصد کے لیے بہترین اور کامیاب پا سکتے ہیں جس مقصد کے لیے اللہ رب العزت نے اپ کا انتخاب کیا ہے اور وہ بڑا ہی بہترین نسخہ ہے جو اللہ رب العزت نے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا ہے وہ نسخہ کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ رب العزت نے قیام اللیل جیسی نعمت عطا فرمائی ہے
[30:21]تو عبادات کے ذریعے اللہ رب العزت کے ہاں انسان مقام و مرتبہ حاصل کرتا ہے جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا رات میں نماز پڑھا کرو جس وقت لوگ سو رہے ہوتے ہیں تو اللہ رب العزت نے اس کا ذکر کیا ہے اے کمبل اوڑھنے والے کھڑے ہو جائیے نماز پڑھیے بہت تھوڑی سی رات جو ہے وہ اس کو چھوڑیے
[30:35]کم از کم ادھی رات جو ہے وہ قیام کیجئے یا اس میں سے کچھ کم کر لیجئے یا اس میں سے کچھ اس میں کچھ اضافہ کر لیجئے اور جو ہے وہ اسی طرح سے قران مجید کو خوب ٹھہر ٹھہر کر تجوید کے ساتھ پڑھیے چونکہ اس کے بارے میں علی رضی اللہ تعالی عنہ کا فرمان موجود ہے ترتیل کا معنی یہ ہے کہ حروف کو خوبصورت ادا کیا جائے اور اسی طرح سے قران مجید میں جو پنگچشنز ہیں ان کو پہچانا جائے
[31:03]بے شک ہم اپ کے اوپر ایک بڑا بھاری کلام نازل فرمانے والے ہیں اور یہ رات کا جو جاگنا ہے یہ نفس کو کچلنے والا ہے اور اسی طرح سے بات کو درست رکھنے والا ہے تو یہ سب اللہ رب العزت نے یہاں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جو ہے وہ مختلف طرح کی نصیحتیں یہاں پر بیان فرمائی ہیں
[31:25]اسی طرح اس سورت کے اخر میں اللہ رب العزت نے قیام اللیل کے اندر تھوڑی تخفیف فرمائی ہے اللہ فرماتے ہیں اللہ رب العزت نے اس بات کو جان لیا ہے کہ تمہارے اندر کچھ بیمار بھی ہوں گے کچھ مسافر بھی ہوں گے جو اللہ رب العزت کے فضل کو تلاش کرنے کے لیے یعنی تجارت کی غرض سے ادھر ادھر دوسرے ممالک میں دوسرے شہروں میں اتے جاتے ہیں
[31:42]کچھ ان میں سے مجاہدین بھی ہیں جو اللہ رب العزت کے رستے میں جہاد کرنے جاتے ہیں تو ظاہر ہے ان ساری مصروفیات کی وجہ سے اس کے بعد انسان کو کچھ تھکان تھکان ہوتی ہے کچھ جو ہے وہ سستانے کو جی چاہتا ہے رات کبھی سونے کو جی چاہتا ہے تو اللہ نے فرمایا کہ اب کیا ہے اب جو جتنا اسان ہو یعنی کتنا جتنا بھی حصہ رب کو قیام کر لو گے اللہ رب العزت کے ہاں وہ بڑی جو ہے وہ درجے والی بات ہوگی
[32:01]لہذا کسی ایک حصے میں ضرور جو ہے وہ نفل نوافل کا اور تہجد کا اہتمام کرنا چاہیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات کی نماز کی بہت ہی زیادہ فضیلت بیان فرمائی ہے اس کے بعد اللہ رب العزت نے سورۃ المدثر ہے سورۃ المدثر میں بھی اللہ رب العزت نے یہ دوسری وحی ہے بطور خاص جو ہے وہ پہلی وحی جو تقریبا پانچ ایات تھیں کی اس کے بعد جو ہے دوسری وحی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب ایک خوف کی کیفیت لاحق تھی
[32:30]اپ صلی اللہ علیہ وسلم جو ہے وہ فورا فرمایا میرے اوپر کمبل اوڑھا دو اور اپ صلی اللہ علیہ وسلم جو ہے وہ خوف کے عالم میں خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس تشریف لائے تو اللہ رب العزت نے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوسری وحی ان الفاظ کے ساتھ بیان فرمائے اے کمبل اوڑنے والے کھڑے ہو جائیے لوگوں کو ڈرائیے اور اپنے رب کی تکبیر بیان کیجئے بڑھائی بیان کیجئے
[32:50]اپنے کپڑوں کو ہمیشہ صاف رکھیے نجاست اور جو اس طرح کی چیزیں ہوتی ہیں ان کو اپنے اپ سے دور کر دیجئے اور کسی پر اس نیت سے احسان نہ کریں کہ بعد میں اپ اس سے زیادہ کا تقاضا کر سکیں اپنے رب کے لیے صبر کیجئے تو یہ اللہ رب العزت نے اس سورت کے اندر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جو ہے وہ دوسری وحی کے طور پر گویا کہ حوصلہ دیا ہے
[33:14]اللہ رب العزت نے اپنے ساتھ کا یقین دلایا ہے اور اسی طرح سے ایت نمبر 11 سے 25 میں اللہ رب العزت نے کفار کی سازش کا تذکرہ کیا ہے بطور خاص جب حج کا موسم انے والا تھا تو کفار نے سوچا کہ ایسا نہ ہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر بہت زیادہ لوگ متاثر ہو جائیں اور انہوں نے یہ کہا کہ مشہور کر دو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو ہے وہ
[33:47]اللہ رب العزت ہمیں اس سے بچنے کی توفیق دے اور دنیا اور اخرت کے معاملات کو صحیح معنی میں ہمیں سمجھنے کی توفیق دے جو اخرت کا گھر ہے اس میں ہمیشہ کے لیے رہنا ہے اللہ رب العزت ہمیں اس کی فکر کرنے کی توفیق دے



