Thumbnail for طالب علم اور أدب سؤال | علمی مہارت کا حصول | شیخ سیف اللہ ثناءاللہ by Tilmeaz Institute

طالب علم اور أدب سؤال | علمی مہارت کا حصول | شیخ سیف اللہ ثناءاللہ

Tilmeaz Institute

15m 32s2,229 words~12 min read
Auto-Generated

[0:08]الحمد لله رب العالمين والصلاه والسلام على النبي الامين اما بعد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من يريد الله به خير يفقهه في الدين احبتي الكرام واخواني الكرام اج ہم بات کریں گے انشاءاللہ ادب السوال ایٹیکٹ اف اسکنگ کوسچن یعنی کیا اداب ہیں کیا انداز تکلم ہونا چاہیے طالب علم کا سوال کرتے وقت اہل علم سے سوال کرنا یہ بھی ایک فن ہے ارٹ اف کوسچننگ فن السوال یعنی جتنا اپ کے یعنی اج کل خاص کر اس پرفتن دور میں ہمیں سوال کرنے کے اداب سیکھنے کی بہت ضرورت ہے۔ اور بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے عوام تو چھوڑیے خواس بھی بلکہ بعض طلبت العلم اپنے استاد اور شیخ اور عالم دین سے ان کو سوال کرنا نہیں اتا۔ کس طرح سوال کو پیش کرنا ہے کس طرح دعائیہ کلمات پیش کرنی ہے کس طرح استاد سے بات کرنی ہے یہ بہت اہم چیز ہے۔ کیونکہ کبھی کبھی اگر طالب علم سوال کو برے نیت سے کرے تو ہو سکتا ہے وہ علم شرعی سے محروم ہو جائے۔ اس لیے شیخ فرماتے ہیں کہ سوال کرنا اور اس کو کس طرح کرنا یہ سیکھنا بہت ضروری ہے۔ سوال بہت سارے لوگ کرتے ہیں اور سوال کرنا اچھی بات ہے لیکن کچھ لوگ کثرت سوال کرتے ہیں الاٹ اف کوسچنز الاٹ اف ڈاؤٹس بہت سارے شکوک و شبہات ہر وقت سوال ہر وقت سوال سوال کر کر کے تنگ کر دیتے ہیں۔ اور شریعت نے کثرت سوال سے منع کیا ہے نہیں ہے۔ اس کی کیا دلیل ہے کیا حدیث ہے کوئی صحیح حدیث بالکل ہے۔ صحیح بخاری اور مسلم کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

[2:19]ما جس چیز کا میں نے تم لوگوں کو منع کیا ہے اس سے رک جاؤ اس سے منع ہو جاؤ اور جس چیز کا میں نے تم لوگوں کو حکم دیا ہے وہ جتنی تمہاری استطاعت ہے پورا کر لو۔ تم میں سے پہلے جن لوگوں کو ہلاکت دی گئی ہے اس کی وجہ کیا تھی کثرت سوال وہ کثرت سے سوال کیا کرتے تھے

[2:50]اور وہ اپنے انبیاء کے سامنے اختلاف کیا کرتے تھے اللہ کے نبی کا قول کہ کثرت سے سوال کرتے اس سے مراد یہ ہے ان چیزوں کے بارے میں سوال کرنا جو ابھی چیز واقع پذیر نہیں جو واقع پذیر نہیں جو ابھی ہوئی ہی نہیں اپ بولتے شیخ اگر اس طرح ہوا تو کیا ہو گا اس کا کیا حکم ہو گا شیخ اگر اس طرح اگر اگر شکر نہیں ہوتا جب ہو گا تو دیکھا جائے گا۔ ایک تو یہ معنی ہے دوسرا معنی کہ اللہ تعالی کے قران اور حدیث اللہ تعالی کے قران میں اس کا ذکر نہیں ہے اس لیے ایک اور جو روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ جو روایت ہے یہ صحیح بخاری میں موجود ہے حدیث نمبر 7288 انٹرنیشنل نمبرنگ کے مطابق۔ اسی طرح صحیح مسلم میں بھی ہے حدیث نمبر 1337 انٹرنیشنل نمبرنگ کے مطابق ہاں اچھا جی اسی طرح ایک اور حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان اعظم المسلمین فی المسلمین جرما من سال عن شیء لم یحرم لم یحرم علی لم یحرم على المسلمین فحرم علیھم

[4:15]مسلمانوں میں سب سے زیادہ جرم والا مسلمان کون ہے وہ بندہ جو کسی ایسی چیز کے بارے میں سوال کرتا ہے جو حرام نہیں کی گئی لیکن اس کے سوال کرنے کی وجہ سے وہ حرام کر دی جاتی ہے۔ یہ حدیث بھی بخاری صحیح بخاری کتاب الافتصام حدیث نمبر 7289 اینڈ صحیح مسلم حدیث نمبر 2358 انٹرنیشنل نمبرنگ کے مطابق اچھا جی اللہ تعالی نے کیا فرمایا قران میں لا تسالوا عن اشیاء ان تبلکم تس مت پوچھو ان چیزوں کے بارے میں جن کا اگر جواب اگیا تو تمہیں برا لگے گا۔ اسی لیے یعنی علما اور سلف کثرت سوال سے گریز کیا کرتے تھے اور منع کیا کرتے تھے۔ اگے یعنی شیخ نے اس چیز کا بھی ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالی نے یعنی قران نے بھی ذکر کیا ہے ایک جگہ پر کہ ویسلونک عن المہز کہ لوگ اپ سے محذ کے بارے میں پوچھتے ہیں لوگ اس کے بارے میں پوچھتے ہیں واذا سالک عبادی عنی اور اگر بندے اپ سے میرے بارے میں پوچھے تو ان سے کہیں کہ میں قریب ہوں۔ تو یہ ساری باتیں اس چیز کی طرف دلالت کرتی ہیں کہ سوال کرنا صحیح ہے لیکن کثرت سوال کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور کثرت سوال سے کیا مراد ہے وہ بھی اپ کو بتا دی گئی ہے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ اہل علم اہل ذکر سے سوال کرنے کے مختلف طریقے اور احوال ہیں۔ لوگ سوال کرنے کے ان کو ضرورت پڑتی ہے تو اداب ہیں تو شیخ فرماتے ہیں۔ دو قسم کے اداب کے اداب من جہت سائل اداب من جہت المسول جس سے سوال کیا جا رہا ہے اس کا ادب اور جو سوال کر رہا ہے اس کا ادب ٹھیک ہے جی ٹٹ اف کوسچنر جو کوسچن پوچھ رہا ہے اور ٹٹ اف ون هو انسرنگ المفتی ٹھیک ہے جی وہ کیا ہے تو شیخ فرماتے ہیں اداب سائل سوال کرنے والے کے اداب نمبر ون ان کہ اس کا مسئلہ واضح ہو کلاؤڈی نہ ہو کلیئر کٹ سوال ہو یہ نہیں کہ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ بندہ اتا ہے سوال پوچھتا ہے وہ سوال کا خود

[6:50]اس کو سوال خود سمجھ میں نہیں اتا ہے اور سوال خود کلاؤڈی اور بھابی اور اس میں کچھ گرمڑ اور پرابلمٹک چیزیں ہوتی ہیں سوال خود مکمل نہیں ہوتا۔ اس لیے شیخ فرماتے ہیں کچھ لوگ ہوتے ہیں جیسے ہی ذہن میں سوال ایا ایک دم پوچھ لیا وہ اس سوال کو پکاتے نہیں ہے کوسچن از ناٹ ککڈ یٹ ٹھیک ہے وہ جا کے سوال پوچھتے ہیں اور سوال جب پوچھتے تو مفتی جو ہے وہ پوچھتا ہے جی اس کا اپ کا اس سے کیا مطلب ہے وہ بولتے اچھا اچھا اس کے بارے میں بھی سوچنا تھا۔ بالکل اس کے بارے میں بھی سوچنا تھا۔ تو اس لیے بہت ضروری ہے کہ سوال کرنے والا سوال کرنے سے پہلے مسئلے کو سمجھ لیں تصور کر لیں پھر جا کے سوال کرے۔

[7:33]اچھا جی اب اس کی ہم اپ کو مثال دیتے ہیں جیسے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کلیئر کٹ واضح کرسٹل سوال کیے۔ مل اسلام مل الاحسان اخبرنی عن الایمان اخبرنی عن الاحسان اخبرنی عن عماراتہ کلیئر کٹ کوسچنز لائک کرسٹری

[7:56]اسی طرح ہمارے سوالات بھی ایسے ہونے چاہیے۔ دوسرا دوسرا ادب اہل علم سے ایسے سوال مت کریں جس کا اپ کو جواب پتہ ہو۔ کئی طلبت العلم یا کئی لوگ جن کو سوال کا جواب پتہ ہوتا ہے لیکن وہ ا کے جان بوجھ کے مفتی سے یا شیخ سے سوال کرتے ہیں حالانکہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ تو اس لیے بہت ضروری ہے کہ انسان یعنی جن کے پاس یعنی اطلاع ہے اور معرفت ہے وہ ان چیزوں کا خیال رکھیں۔ ٹھیک ہے جی اور مناظرہ نہیں کرنا مناظرہ کرنے کے لیے اپ نے کوئی سوال نہیں کرنا ٹھیک ہے جی اللہ تعالی نے قران میں کیا فرمایا ہے سوال کرو اگر تمہیں نہیں پتہ اس کا مطلب ہے اگر تمہیں پتہ ہے تو اہل علم سے سوال مت کرو۔ بات ہی ختم ہو گئی ٹھیک ہے جی اس کا مفہوم مخالف یہی ہے۔ تیسرا ادب سوال کرنے وقت الا تذکر للعالم قول غیر اپ اس عالم کے سامنے کسی اور کا قول پیش مت کریں۔ یعنی بہت سارے لوگ ہیں سوال پوچھتے ہیں اپ جواب دو بولتے اس عالم نے یہ کہا شیخ اپ کا کیا خیال ہے اس عالم نے یہ کہا اپ کا کیا خیال ہے شیخ یہ ادب کے یعنی مناسب اور ادب ادب سے یعنی خالی بندہ ہے یہ مناسب نہیں ہے کیونکہ یعنی اپس میں علماء کو لڑوانا اور فتوی تو اس لیے اپ کو جس کے اوپر ٹرسٹ ہے اپ کو اعتماد ہے اپ ان کا جواب لے لیں اور اس کے اوپر عمل کریں۔ چوتھا ادب یہ ہے کہ سوال پوچھنے میں پہلی مت بجائیں۔ سوال پوچھنے میں پہلی مت بنائیں یہ نہ ہو کہ اپ کا سوال لغ ہو پزل ہو۔ ایک پہلی ہو جس جس میں اس طرح کا مسئلہ ہو اس لیے کلیئر کٹ سوال کیا کریں اور پہلی مت بجایا کریں۔ ٹھیک ہے جی اس لیے شیخ فرماتے ہیں کہ اپ سوال کرتے ہوئے شرماۓ نہیں۔

[10:08]پچوان ادب یہ ہے کہ طالب علم بندہ اپنے لیے پوچھے دوسروں کے لیے مت پوچھے۔

[10:23]اپنے لیے پوچھے کہ ایا میرا مسئلہ یہ ہے۔ یہ نہیں کہ شیخ ان کا مسئلہ یہ تھا اپ شیخ بولے اب مجھے بتاؤ کہ اس کا مسئلہ جو یہ تھا اس میں ایک سوال کریں استاد یہ شیخ وہ اس بندے کو پتہ ہی نہ ہو۔ وہ پوچھے کہ کیا ہوا تھا مجھے ڈیٹیل سے بتاؤ وہ بولے یار مجھے پتہ ہی نہیں تو یہ مناسب نہیں ہے۔ اس لیے بہت ضروری ہے کہ بندہ یعنی سوال کرے ڈائریکٹ اور اگر اس کو شرم اتا ہے تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن مختصر اور کلیئر کٹ کوسچن ہو جیسے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتا ہے کہ وہ کان رجل مذع ان کو کثرت سے مزید ہا نکلتی تھی۔ تو تو ان کو ایک انداز میں شرمندگی اور شرم اور حیا ائی کہ وہ رسول اللہ سے پوچھے کیونکہ ان کے اندر ان کی بیٹی ہے تو انہوں نے حضرت مقداد کو یہ کہا کہ اپ جا کے نبی کریم سے اس مسئلے کے بارے میں پوچھیں۔ کہ کثرت مزید کے بارے میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب دیا کہ فیہ الوضو کہ اس میں جواب ہے پھر انہوں نے وہ جواب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نقل کیا۔ تو اس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ طالب علم یا بندہ یا سوال پوچھنے والا وہی سوال کرے جو اس سے متعلق ہو کیونکہ جواب سوال پوچھنے والے کے احوال اور اس کے انداز کے اوپر ڈیپنڈ کرتا ہے اور جو سوال اگر اپ کسی کو بھیجیں گے سوال کرنے کے لیے تو ہو سکتا ہے وہ اس طرح سوال نہ کرے جس طرح کرنا چاہیے اور کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ جواب دقیق نہیں ہوتا بہ نسبت سوال کے یعنی سوال میں کئی کمی بیشیوں کی وجہ سے جواب بھی درست اور صحیح اور دقیق نہیں ہوتا بلکہ اس میں بھی کئی کمی بیشیاں ہوتی ہیں۔ الادب السادس ایٹیکیٹ نمبر سکس جب کوئی پوچھنے والا پوچھے اہل علم سے تو وہ

[12:28]چاہے وہ فون سے کرے یا اج کل کے زمانے میں واٹس ایپ پہ فون کرے تو وہ عالم کا جواب ریکارڈ نہ کرے

[12:41]ڈائریکٹ اپ ان عالم دین سے اجازت مانگیں کہ شیخ استاد مفتی صاحب میں یہ اپ کا جواب ریکارڈ کر رہا ہوں کیا اپ کی اجازت ہے۔ بغیر اجازت کے اپ ریکارڈنگ نہ کریں کیونکہ ایسے بھی واقعات ہوئے ہیں کہ سوال کرنے والا سوال کرتا ہے بڑے بھونڈی انداز میں اور جواب دینے والا عالم تھوڑا سا سخت جواب دیتا ہے۔ تو وہ جواب ریکارڈ کیا جاتا ہے بغیر عالم سے پوچھے اور اس کو پھر نشر کیا جاتا ہے اور اگر عالم کو پتہ ہوتا ہے کہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے تو وہ اس کو اس طرح جواب نہ دیتے جس طرح انہوں نے اس کو اکیلے میں جواب دیا۔ اس لیے عالم کی یعنی توقیر اور اس کی عزت کی حفاظت کرنا ہمارے اوپر بڑی لازم ہے۔ بلکہ کئی لوگوں نے اپنی طرف سے عالم کے یعنی جوابات کو ریکارڈ کیا اور بلکہ بعض ایسے بھی ہیں جن کو علماء نے منع کیا کہ میری یہ بات تم نے ریکارڈ کی ہے اس کو نشر نہیں کرنا اس کے باوجود وہ نشر کرتے ہیں اور ان کے جو پرائیویٹ ریکارڈنگ اینڈ ڈسکشنز ہیں اس کو جنرل پبلک میں لا کے ان علماء کے بارے میں بد گمانیاں اور بد زنیاں پیدا کرتے ہیں۔ اسی لیے شیخ فرماتے ہیں کہ اگر اپ کوئی ریکارڈنگ کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے السلام علیکم احسن اللہ الیکم السلام علیکم شیخ صاحب کیا حال ہے اپ کا کیسی صحت ہے اللہ تعالی اپ کو مبارک بنائے میں اپ سے ایک سوال کرنے والا ہوں اور اس کا جواب چاہیے لیکن اپ کی اگر اجازت ہو میں اس کو ریکارڈ کر لوں۔ ٹ سیٹ اور اگر وہ اجازت نہ دیں تو ان کی پرائیویسی اور ان کی رائٹ ان کا یہ حق ہے اگر وہ کو اجازت نہ دیں تو اپ ریکارڈ نہ کریں۔ ٹھیک ہے جی اچھا جی مثال کے طور پر میں اپ کو ایک اور مثال دیتا ہوں ایک سعودی عرب میں بڑا معروف پروگرام اتا ہے نور الدرب فتاوی کا یہ طریقہ کار ہے اس میں مفتی صاحب اتے ہیں تفصیلی گفتگو ہوتی ہیں دلائل کے انبار ہوتے ہیں اور بڑی اچھی انداز میں گفتگو ہوتی ہے۔ اگر یہی سوال اس شیخ سے اکیلے میں ایک عام بندہ ا کے پوچھے تو شیخ صرف حکم بتائیں گے۔ دلیل تعلیل اختلاف بہت کم بتائیں گے۔ یہ فرق رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ ایک جنرل پبلک کے لیے جواب دینا اور ایک سپیسیفک پرسن کے لیے جواب دینے میں فرق ہوتا ہے۔ تو ہمیں بحیثیت عوام بحیثیت طلبت العلم ان چیزوں کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ ہم اج اسی پر اقتفا کرتے ہیں انشاءاللہ اگلی نشست میں باقی اداب سوال پڑھے جائیں گے اور پڑھائے جائیں گے اور سمجھنے کی کوشش ہوگی والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript