[0:00]انسان کو اپنی زندگی حقیقت کے ائینے میں گزارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ بہت ساری خوش فہمیوں سے بہت ساری غلط فہمیوں سے اور بہت سارے دعوؤں سے۔ اپنے اپ کو بچا کے رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالی کی رحمت پر امید رکھنا۔ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شفاعت کی امید رکھنا۔ نیک اور صالحین کی نسبت کی امید رکھنا یہ برا نہیں۔ یہ بڑا ہی بہترین ہے یہ بڑا ہی خوبصورت عمل ہے۔ اس کی بہت ساری برکات ہیں لیکن کسی غلط فہمی کا شکار ہو جانا۔ اور یہ ساری امیدیں وابستہ کر کے یا ان ساری باتوں کو پیش نظر رکھ کے بے عمل ہو جانا۔ اپنی زندگی کو امور خیر سے پیچھے کر لینا۔ یہ نہ صرف یہ کہ قابل تحسین نہیں بلکہ یہ قابل توجہ ہے اس کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ قران مجید سورہ بقرہ سے جو ایات کریمہ میں نے تلاوت کی ہے۔ اس میں اللہ تبارک و تعالی نے اسی بات کا ذکر اہل یہود کے لیے فرمایا ہے۔ یہودی جگہ جگہ قران مجید بتاتا ہے کہ کہیں کہتے تھے کہ ہم اللہ کے بیٹے ہیں معاذ اللہ اللہ کے بڑے پیارے ہیں۔ ہمیں تو تھوڑے دنوں کے لیے عذاب ہوگا بڑی جلدی ہمیں معاف کر دیا جائے گا۔ وہ بڑی لمبی چوڑی خوش فہمیوں کا اظہار کرتے اور بڑے بڑے دعوے کرتے۔ پھر چلتے چلتے انہوں نے ایک اور دعوی کر دیا کہنے لگے کہ اخرت کا گھر تو صرف ہمارے لیے ہے۔ جنت میں صرف یہودی جائیں گے اور کوئی نہیں جائے گا۔ اللہ تبارک و تعالی نے ان کے اس دعوے کا ذکر فرمایا ہے۔ یہ دیکھیں دعوی کتنا بڑا ہے۔ کہ اخرت کا گھر تو صرف ہمارے لیے ہے۔ فقط ہمارے لیے۔ مسلمان یہ دعوی نہیں کرتے۔ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے جب اس بات کا اظہار کیا ہے تو اس طرح کیا ہے۔ فرمایا جنتیوں کی 120 صفیں ہوں گی اور 80 میری امت کی ہوں گی۔ لیکن یہ بھی فرمایا کہ باقی لوگ بھی تو ہوں گے نا ان کی 40 صفیں ہیں لیکن جنت میں دوسرے پچھلے لوگ بھی موجود ہوں گے یہ دعوی نہیں کیا کہ صرف مسلمان جائیں گے ان سے پہلے جو نبی اور ان کی ایماندار اور نیک امتیں گزری ہیں ان میں سے کوئی جنت میں ہی نہیں جائے گا۔ یہ نہیں فرمایا۔ لیکن یہ اس طرح کے دعوے بعض لوگ کرتے ہیں اور سنائی دیتے ہیں۔ تو یہودی بھی یہ کہا کرتے تھے کہ جنت تو خالص ہمارے لیے ہے۔ اور کوئی نہیں جائے گا اس میں تو اللہ کریم نے فرمایا قل ان کانت لكم الدار الاخرة عند الله خالصه من دون الناس۔ اے محبوب علیہ السلام اپ ان سے فرما دیں اہل یہود سے کہ اگر اخرت کا گھر اللہ کے نزدیک باقی سب لوگوں کو چھوڑ کے خالص تمہارے لیے ہی ہے۔ سب کو چھوڑ کے صرف تمہارے لیے ہے اخرت کا گھر تو فتم الموت تو پھر جنت میں تو مر کے جانا ہے نا لہذا موت کی تمنا تو کرو۔ پھر کہو نا یا اللہ ہمیں موت دے تاکہ وہ جو تو نے ہمارے لیے اتنی بڑی چیز بنائی ہے ہم اس سے استفادہ کر سکیں۔ پھر تم موت کی تمنا کرو ان صادقین اگر تم سچے ہو لیکن رب فرماتا ہے یہ کبھی بھی موت کی تمنا نہیں کریں گے انہیں پتہ ہے جو انہوں نے کمائی کر کے اگے بھیجی ہے۔
[3:55]یہ موت کی دعوے کریں گے کہ جنت میں صرف ہم ہی جائیں گے لیکن کبھی بھی موت کی تمنا یہ کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے اس لیے کہ انہیں پتہ ہے۔ کہ ہم نے اخرت کے لیے کیا یہ جو بہت سارے لوگ کہتے ہیں نا میری نسبت اور میری بات اور بلے بلے سارا کچھ میں ہی ہوں۔ تو ان سے کہو پھر سارا پیسہ کوٹھی پہ ہی لگائے جاتے ہو پھر تو جنت تمہارا انتظار کر رہی ہے۔ پھر یہاں اتنے خرچے کرنے کی تمہیں کیا مشکل پڑی ہوئی ہے۔ قران مجید کہتا ہے یہ کبھی بھی موت کی تمنا نہیں کریں گے ان کو پتہ ہے جو اعمال انہوں نے کر کے بھیجے ہیں۔ واللہ بالظالمین اللہ ظالموں کو جانتا ہے۔ اللہ کو خبر ہے۔ میرے نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہودی موت کی تمنا کرتے۔ جب ان سے کہا گیا تھا نا کہ اگر اخرت کا گھر خالص تمہارے لیے ہے تو موت کی تمنا کرو۔ اگر اس مقام پر وہ موت کی تمنا کرتے تو اسی وقت سارے مر جاتے۔ ختم ہو جاتا معاملہ اگر تمنا کر لیتے تو تمنا ہی نہیں کریں گے۔ خوش فہمیوں میں مبتلا ہونا بڑی بڑی باتیں کرنا بڑے بڑے دعوے کرنا۔ بڑے بڑے تذکرے کرنا بڑی بڑی علانیہ گفتگو کرنا۔ اور اپنے ہی خیال میں بڑا کچھ بن جانا یہ سنجیدہ لوگوں کا طریقہ نہیں۔ میں نے کچھ استانے اپنی انکھوں سے دیکھے ہیں۔ وہ کہتے ہیں جناب ہمارے حضرت کی نسبت اور حضرت ساتھ بیٹھے مسکرا رہے ہیں۔ اتنی دیدہ دلیری تو نہیں نہ ہونی چاہیے۔ اپ اپنے سامنے سارا کچھ اپنے اپ کو کہلوا رہے ہیں۔ شیخ ہلکا ہلکا مسکرا رہے ہیں ان سے پوچھیں تو کہتے ہیں جی میں تو نہیں انہیں کہتا تو اپ کہتے نہیں تو منع کیوں نہیں کرتے۔ اپ خوش فہمیوں میں نعت کھاں کھڑا ہوا ہے تو اس نے نسبت کی بات شروع کیا ہے تو اللہ جانے وہ کدھر کا کدھر پہنچ گیا ہے۔ میں کہتا ہوں کون انکار کر رہا ہے نسبت کے فیض کا؟ کون منکر ہے یہی تو باعث نجات ہے ہمارے لیے امیدیں لیکن یہ کہ خوش فہمی میں مبتلا ہو جانا۔ اور اس طرح کے بڑے بڑے دعوے کرنا۔ اور پھر بہت ساری خوابیں اتی ہیں لوگوں کو۔ اور خوابوں کی بنیادوں پر بڑا کچھ بنتا ہے۔ تو میں کہتا ہوں جناب خواب خواب میں تو میں کہہ دوں اپ سے خواب میں کہ میں رات کا صدر بن گیا ہوں تو اپ کو کوئی اعتراض ہے؟ میں خواب میں بنا ہوں اپ کو اس میں کیا اختلاف ہے۔ حقیقت کی زندگی میں ائیں۔ حقیقت کی زندگی میں جتنے لوگ نیک ہیں پرہیزگار ہیں دعوی ہے غلامی کا دعوی ہے نسبت کا فلانی شے کا۔ تو پھر بھئی اپ نے اتنا مال کاہے کو جمع کر لیا ہے۔ پھر یہ کاریں یہ بنگلے یہ کوٹیاں یہ جائیدادیں یہ جلسوں کی فیسیں یہ ناتوں کی فیسیں یہ کس لیے ہیں؟ پھر تو اخرت اپ کے لیے سجی ہوئی ہے سمری ہوئی ہے پھر تو اپ اس طرف توجہ کریں۔ حقیقت پسندی کا مزاج جب تک قوموں میں نہیں اتا۔ قومیں اتنی دیر تک اپنی روحانی اخلاقی اور کردار کی بلندی نہیں حاصل کر پاتی۔ تو موت کی تمنا یہاں ایک بات اور سن لیں۔ شریعت اسلامیہ کے اندر مصیبتوں سے گھبرا کر موت کی تمنا کرنا منع ہے۔ کوئی شخص کسی مشکل میں ہے بیماری میں ہے تکلیف میں ہے دکھ میں ہے تو موت کی تمنا کرے کہ اس بیماری سے تو مر جاؤں تو اچھا ہے تو یہ منع ہے اس کے لیے ہمارے ہاں کچھ لوگ لا علمی کی بنیاد پر چھوٹا سا جھگڑا گھر میں ہوا تو کہتا ہے میں تو اللہ سے دعا کرتا ہوں میں اب مر ہی جاؤں بھئی اپ اتنی سی بات نہیں سہ سکیں اور اپ نے اتنی سی بات پر اتنی بڑی بات کر دی کہ میں اب چلا ہی جاؤں اور یہ جھگڑوں کے اندر عام لوگ کہہ دیتے ہیں یہ منع ہے۔ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا بلکہ مسلم شریف میں فرمایا کہ اگر تم نے کبھی دعا کرنی بھی ہو۔ کسی وقت تو ان لفظوں سے کر سکتے ہو کہ یا اللہ جب تک میرا زندہ رہنا میرے حق میں بہتر ہے مجھے دنیا میں رکھ اور جب میرا یہاں سے چلے جانا تیری حکمت کا تقاضا ہے اور میرے حق میں بہتر ہے تو پھر مجھے ایمان کے ساتھ لے جا۔ پھر تو مجھے لے جا۔ تمنا موت کی کرنا اور مصیبتوں سے گھبرا کر کرنا۔ او بھائی مشکلات میں جینا تو حسن ہے۔ اصل میں نا جس کی جان تھی نا اس کے نام نہیں نہ لگائی ہم نے۔ ہم نے کبھی بچوں کے نام لگا دی کبھی کاروبار کے نام لگا دی کبھی دوستوں کے نام لگا دی پھر وہ بے وفا ہوا تو مرنے کو جی چاہا وہ بے وفا ہوا تو مرنے کو جی چاہا اس نے تنگ کیا تو مرنے کو جی چاہا۔ نبی اولی بالمومنین من انفسهم اللہ فرماتے ہیں تم نہیں جان کے مالک میرا نبی تمہاری جانوں کا مالک ہے۔ جان پاوے نہ جان میرے محبوبہ میں تے لگیاں توڑ نبھ سا رات تیرے وچ رل کے مرساں تے قدم نہ پچھاں ہٹے شہر تیرے دے ٹکڑے منگساں تے تیرے کتیاں دے قدم چمیں اعظم اے جان امانت تیری تو جدوں منگ سے میں پیش کر سا۔
[9:06]یہ تو کسی اور کی ہے ہماری ہے نہیں۔ تو بہت سارے لوگ گھبرا کر او ہو بڑی تکلیف ا گئی بھئی اپ جلدی نہ کریں۔ بالکل جلدی نہ کریں۔ ہاں حوصلہ پیدا کریں اور جیا تو جاتا ہی مشکل میں ہے۔ اقبال نے کہا تھا کار جہاں دراز ہے اب میرا انتظار کر۔ یہ زندگی لمبی ہے یہ مشکلات سے ہو کر کے گزرتی ہے اس میں مد و جزر رہتا ہے۔ تو شریعت اسلامیہ میں منع ہے۔ موت کی تمنا کرنا۔ موت کی خواہش کرنا۔ بلکہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے تو یہاں تک ارشاد فرمایا کہ تم موت کی تمنا نہ کرو۔ اس لیے کہ اگر تم برے ہو اور زندہ ہو تو ہو سکتا ہے زندگی میں اللہ تمہیں توبہ کی توفیق دے دے۔ اور اگر تم اچھے ہو تو پھر بھی موت کی تمنا نہ کرو اس لیے کہ اچھے ہو تو تمہاری اچھائی میں روز برکت ہی ہو رہی ہے۔ لوگوں کو فائدہ ہی ہو رہا ہے خیر ہی بٹ رہی ہے۔ تمنا موت کی کرنا۔ اور ویسے بھی نہ ہم اپنی مرضی سے یہاں ائے ہیں اور نہ مرضی سے جانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ معاذ اللہ۔ نہ اپنی مرضی ائے ہیں نہ اپنی مرضی اپنی مرضی سے کوئی مرنے کی کوشش کرے گا تو خودکشی حرام ہے۔ اور رب رسول کی مرضی سے مرے گا تو وہ شہادت ہے۔ وہ اس طرح کی شہادت ہے کہ جس میں کہا مردہ کہنا ہی نہیں یہ تو زندہ ہے۔ اس لیے کہ میرے نام پہ مر گیا ہے۔ تو موت کی تمنا کرنا یا اس طرح کا رویہ منع ہے۔ البتہ یہ جو یہود کا کام تھا۔ ان کا جو لہجہ تھا۔ اللہ فرماتے ہیں یہ تو ہزار ہزار سال عمر مانگتے ہیں تو جانا ہی نہیں چاہتے۔ کچھ لوگ لمبی عمر کے حریص ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اخرت کے لیے کام نہیں کیا۔ اخرت پر اس طرح کا یقین نہیں اس طرح کا مزاج نہیں دنیا داری کا مزاج بن گیا بہت سارا مال جمع کر لیا بڑے بنگلے بنائے اتنی مشکل دنیا داری اکٹھی کی اب چھوڑ کے مر جائیں۔ ان لوگوں کا مرنے کو دل ہی نہیں کرتا۔ کوئی ارادہ ہی نہیں ہے۔ بالکل نہیں دنیا چھوڑنا چاہتے محنت سے اکٹھی کی ہے۔ اتنے لاؤ لشکر بنائے ہیں اب کیسے چھوڑ جائیں؟ کچھ لوگ ایسے ہیں۔ جنہوں نے گٹھڑی باندھ کے رکھی ہوئی ہے۔ ان کو زیادہ ویٹ نہیں کرنا پڑتا اس لیے کہ انہوں نے کوئی سامان بوکی نہیں کرایا تو جو ہے ہینڈ کیری ہے۔ اسی لیے لوگ انتظار کرتے رہیں گے اور جناب بلال حبشی جنت میں پہنچ بھی جائیں گے۔ ابھی میزان عمل لگا ہوگا لیکن حضرت ابوذر غفاری جنت میں ٹہلتے ہوئے نظر ا رہے ہوں گے۔ لوگوں نے جمع نہیں نہ کیا۔ جتنا مال زیادہ اتنی چیکنگ بھی اس کی زیادہ جتنے بیگ زیادہ ائر پورٹ پہ اتنا انتظار بھی زیادہ ہین کیری والے کو کوئی مسئلہ اسی کسی دے کچھ بھی نہ لگدے۔ تے نہ کوئی ساڈا در دی۔ بھئی مال کاہے کا تو حساب کاہے کا مولا علی شیر خدا۔ کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم سے کسی نے کہا ہم گنجائشیں تلاش کرتے ہیں نا اور شریعت کی گنجائش اختیار کرنے میں حرج بھی کوئی نہیں ہوتا۔ شریعت گنجائش دیتی ہے مال جائز ہو اپ کو تو اپ اس کو استعمال کریں بڑا مکان بنائیں بڑی جائیداد خریدیں بڑی گاڑی میں سفر کریں مہنگا موبائل خریدیں اچھے کپڑے پہنے کوئی منع نہیں کرتا۔ لیکن جو حضور کا مزاج ہے۔ جو سرکار نے اپنے لیے پسند کیا۔ وہ یہ ہے کہ سویرے روٹی کھانی ہے شام کو فاقہ کرنا ہے۔ تو حضرت مولا علی شیر خدا کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم سے کسی نے کہا کہ چلو جائز پیسے اکٹھے کر لیں۔ جائز تو جمع کرنا منع نہیں۔ تو حضرت علی کی باتیں بڑی حکمتوں والی تھی نا تو ایک جملے میں انہوں نے کئی جواب دے دیے کہنے لگے میاں مال حرام ہو تو عذاب ہوتا ہے۔ حلال ہو تو حساب ہوتا ہے۔ لہذا ہم دونوں کام ہی نہیں کرتے۔ نہ ادھر جاتے ہیں نہ ادھر جاتے ہیں۔ جمع کرنے کی حاجت کیا ہے دنیا اتنی سجا لینا اتنی سوار لینا۔ بڑا ٹھنڈا ای سی چلتا ہے ہمارے کمروں میں کھلی انکھوں سے لوگ بستر سے اٹھ نہیں پاتے۔ انکھیں کھل گئی ہیں۔ الارم بج گیا ہے۔ لیکن وہ بہت مزے کی پسند کی روٹی رات کھائی تھی اپنی مرضی کا کھانا کھایا تھا پیٹ بھر کے کھایا تھا مرضی کے مشروبات پیئے تھے۔ ٹھنڈے کمرے میں ارام ہے۔ کھل گئی ہیں انکھ موٹے الارم نے اواز دیا اٹھو۔ لیکن یہ غفلت ہے نا دنیا جمع کر لیا نا ساری۔ میں اپ کو صحیح بتاتا ہوں اگر یہ ساری اسانیاں نہ ہوں دقتیں ہوں۔ کچھ رات کو ہمیں تھوڑا پسینہ بھی ائے۔ یہ مچھر کبھی نہ سونے دے تو بار بار انکھ کھلے۔ یہ تن ارام پسند نہ ہوں تو کچھ اٹھیں۔ کچھ رات کو گرمیوں کی چھوٹی راتوں میں بھی تہجد پڑھی جا سکے۔ لیکن اقبال کہتے ہیں لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن اسانی۔ یہ تن اسان ہو گئے۔ مزاج نہیں رہا ہمارا ہمیں ارام چاہیے سکون چاہیے۔ اپ یقین کریں۔ کبھی کبھی میں حیران ہوتا ہوں رونا اتا ہے اپنی اگلی نسل پر رونا اتا ہے۔ رونا اتا ہے۔ یعنی بچے مدرسے میں پڑھنے والے چونکہ وہ ایسی والے گھر سے اٹھ کے اتے ہیں۔ مدرسے میں پڑھنے والے بچے کہتے ہیں جناب وہ کچھ گرمی زیادہ ہے تو میری کچھ طبیعت برداشت نہیں کرتی تو میری اماں نے کہا تھا چار چھٹیاں لے لو۔ کہ موسم ٹھیک ہو جائے گا تو پھر سے تعلیم ہو جائے گی۔ تو غور سے چہرے دیکھتے ہیں۔ تو ہم کہتے ہیں یار اگر کل کو ہمیں جہاد پہ جانا پڑا تو ہم لوگ جائیں گے۔ ہم میدانوں میں نکلیں گے۔ ہم وہ لوگ ہیں جو سختیاں برداشت کریں گے۔ یہ والے لوگ ہیں جو میدان میں جائیں گے جو ایک منٹ کے لیے اتنی دنیا جمع کر لی مرنے کو جی نہیں چاہ رہا۔ حضرت شاہ فرید الدین عطار رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں میں بڑا مہنگا کاروبار کرتا تھا اتر بیچتا تھا۔ مہنگا کاروبار ہے نا عرب شریف کے اندر اپ جائیں تو جہاں سونے والی دکان ہوتی ہے اس کے ساتھ خوشبو والی دکان ہوتی ہے۔ مکہ مکرمہ میں دیکھ لیں مسجد نبوی میں دیکھ لیں یہ مہنگا کاروبار ہے یہ میرا بزنس تھا کاروبار تھا۔ تو اپ فرماتے ہیں کہ ایک دن ایک بزرگ اگئے انہوں نے ایک شیشی دیکھی خوشبو سونگھی دوسری تیسری چوتھی۔ اچھے سیل مین اگے بڑھ کے خود کہتے ہیں اپ کو کیا چاہیے۔ میں نے بھی کہا بابا جی کیا چاہیے مجھے بتائیں کیا دیکھ رہے ہیں؟ تو بابا جی بڑے دھیمے ٹھنڈے اور حوصلے والے لہجے میں کہنے لگے پتر دیکھ رہا ہوں تیری جان بڑی مشکل سے نکلے گی۔ میں نے کہا وہ کیوں؟ کہنے لگے اتنی مہنگا مہنگا تو نے مال جمع کیا ہے کبھی مرنے لگے گا تو یہ یاد ائے گا کبھی وہ یاد ائے گا کبھی سادہ کر لیں۔ اس کو سادہ کر لیں۔ کبھی اس سوسائٹی والا پلاٹ یاد ائے گا۔ کبھی ادھر والا یاد ائے گا۔ کبھی لاہور والا یاد ائے گا۔ کہاں مرنے کو جی چاہتا ہے۔ اور پھر ایک اور دھوکہ ہے میں بچوں کے لیے کر رہا ہوں۔ بچوں کے نام تو ایک دھیلا بھی نہیں وہ تو سارا اپ کے اپنے نام ہیں۔ ایسے ہی بہانا بنایا ہوا ہے بچوں کس بچے کے نام؟ بچے نے تو 50 دفعہ کہا ہے کہ وہ ایک دکان بھیج دو میں نے کام کرنا ہے تو ابا کہتا ہے مروں گا تو تاں بکے گی۔ کہاں بچوں کے لیے کون کہتا ہے بچوں کے لیے؟ یہ تو خواہشات ہیں جن پر ہمارا اپنا قبضہ ہے۔ ہر کنجی تو ہماری جیب میں ہے۔ کون کہہ رہا ہے؟ وہ تو کبھی جا کے ملے گا ان کو جب موقع ائے گا۔ تو کہا یہ اتنا مال جمع کیا ہے تم پتر تیری جان تو مشکل سے نکلے گی۔ تو کہتے ہیں میں دنیا دار تھا دنیا دار کو نصیحت کریں تو وہ غصہ کرتا ہے طنز کرتا ہے۔ کہتے ہیں مجھے غصہ ایا تو میں نے جھٹ سے کہا لوگ کہتے ہیں نہیں تو اپنی قبر جانا ہے تو میں اپنی کہتے ہیں میں نے جھٹ سے کہا میں نے کہا بابا میری جان تو مشکل سے نکلے گی تو تیری کیسے نکلے گی؟ کہتے ہیں بابا جی کہنے لگے پتر ادھر ا نا ذرا تو میں کاؤنٹر کے اوپر سے ہو کے بابا جی کے پاس ایا۔ وہ میری دکان کے فرش پہ لٹے کعبے کو منہ کیا کلمہ پڑھا اور ان کی روح پرواز کر گئی۔ عرش فرشتے بانگاں ملیا۔ مکے پئے گیا شور بلے شاہ اسی نہیں ہوں مرناں اتے مر گیا ہی کوئی ہوور نالے وارث شاہ ہو کدوں مردے جنہاں کیتیاں نیک کمائیاں نے۔ کہا یہ دیکھ لو مر گئے۔ بس اتنی کام تھا۔ تیاری ہے۔ امام غزالی کا اخری وقت تھا نا تو انہوں نے وضو کیا۔ غسل کیا خوشبو لگائی اپنے ہاتھوں سے چادر بچھائی۔ پھر تکیا رکھا۔ پھر لیٹے پھر حضور پہ درود پڑھا۔ اور پھر کہنے لگے رب اگر تیری مرضی ہے تو غزالی بھی تیرا تیار ہے۔ بس یہ جملے زبان پہ تھے اور روح پرواز کر گئی۔ موت کو سمجھے ہیں غافل اختتام زندگی۔ یہ ہے شام زندگی پھر صبح دوام زندگی عزیز بھائیو ہم نے نا بڑی اسائشیں جمع کر لی ہیں۔ بڑا کچھ اپنی عقل کے زور پر ہم نے اکٹھا کر لیا۔ نہیں ہمارا پروگرام۔ کسی سے پوچھ لیں صحت کیسی ہے۔ تو عمر اگر اس کی بڑی اوپر بھی چلی جا رہی ہو۔ اب تو خیر سالگرہ میں انے کا رواج ہر جگہ ا گیا ہے۔ ہم سے بھی لوگ پوچھتے ہیں کہ اپ بتائیں اپ کس تاریخ کو پیدا ہوئے تھے۔ تو میں کہتا ہوں کوئی کارنامہ سرانجام دے لینے دو پھر بتا دیں گے۔ ابھی تو کچھ کر نہیں سکے۔ کچھ بتائیں گے تو کوئی دن بھی بنا لیں گے۔ ابھی تو لگتا ہے کہ بڑا وقت ضائع ہو گیا ہم سے تو عزیز بھائی کوئی نہیں کہتا کہ اب ٹائم اگیا ہے۔ شوگر ہو گئی ہے بلڈ پریشر ہو گیا ہے طبیعت خراب رہتی ہے فلانا مسئلہ ہو گیا ہے۔ تو تمنائے موت اور موت کا ڈر اور نہ مرنے کا ارادہ اور دنیا سے دل کو لگا کے رکھنا اور ہر وقت جینے کی خواہش پیدا کرنا اور ہر وقت علم مزید کی دوڑ میں رہنا۔ وہ لوگ اس لیے تیار رہتے تھے دعائیں مانگتے تھے شہادت کی کہ انہوں نے نہ دنیا بنائی نہیں تھی حضرت عمر نے تو دوسرا کرتا نہیں پہنا ساری زندگی۔ وہ جو مکان ا رہا تھا وہی چل رہا تھا۔ وہ تو تھوڑے پہ قرضہ تھا ان پہ لیکن ہر نماز کے بعد صحیح بخاری میں موجود ہے وہ دعا مانگتے تھے۔ اللہم ارزقنی شهادت فی سبیک یا اللہ ایسا نہ ہو میں تب ہی موت چلا جاؤں مجھے اپنے راستے میں شہادت کی موت دینا۔ ہر نماز کے بعد دعا مانگی جا رہی لیکن شہادت والی موت کی موت کی نہیں شہادت والی موت اللہم رزقنی شها فی سبیک اور مالک مدینہ چھوڑنے کو دل نہیں کرتا یا اللہ شہادت کی موت دینا اور دینا بھی اپنے نبی کے شہر کے اندر یہی رہوں یہی میرا مدفن بنے اللہ نے انہیں موقع دیا۔ اپ دیکھیں نا ان لوگوں کا دل کرتا تھا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ ساری زندگی میدان میں گزاری پورے جسم میں ایک انچ جگہ باقی نہیں تھی جہاں زخم نہ ہو۔ ساری زندگی میدان میں رہے لیکن اخری وقت روتے تھے۔ فرماتے تھے اس کی بے نیازی دیکھو میں شہادت کے لیے میدان میں رہا لیکن شہادت میرا مقدر ہی نہیں تھی۔ اور پھر اخری وقت بھی فرمایا میرا گھوڑا میرے کپڑے میری زرہ میری تلوار کسی مجاہد کو دے دینا چلو میں اب جہاد میں نہیں ہوں تو میرا سامان تو جہاد میں رہے۔ کسی مجاہد کو دینا ان لوگوں نے جتنی محنت کی نا مرنے کے بعد کے لیے کی مرنے کے بعد کے لیے۔ زندگی کا جو دوسرا پل ہے اس کے لیے کوشش کی وہاں انہوں نے صدقات جمع کرائے خیرات جمع کرائے عبادات جمع کرائیں حسن اخلاق جمع کرایا اچھا سلوک جمع کرایا۔ انہوں نے اخرت کے بنک میں ڈھیروں مال جمع کرایا وہاں ان کے مکان بک ہوئے جنت میں ان کے نام کی بڑی بڑی جگہیں اللہ تبارک و تعالی کے فضل سے طے کی گئیں۔ تو پھر انہیں وہاں جانے میں کوئی دشواری بھی نہیں تھی۔ انہیں کوئی مشکل نہیں تھی وہ تیار تھے لیکن چونکہ ساری محنت ہی دنیا کے لیے ہے۔ وہ جو خاص ایک اخرت پر مسلمان کا ایمان اور یقین اور تعین تھا اس طرف ہمارا مزاج نہیں۔ اپ دیکھیے حضرت ملک الموت عزرائیل علیہ السلام نا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی روح قبض کرنے کے لیے حاضر ہوئے۔ تو کہا جناب چلیے اپ کی روح لینے ایا ہوں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام فرمانے لگے عزرائیل۔ یہ قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو تفسیر مہری میں لکھا ہے۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام فرمانے لگے عزرائیل کیا کوئی خلیل بھی اپنے خلیل کی روح قبض کرتا ہے؟ اللہ ابراہیم خلیلا اللہ نے تو مجھے دوست بنایا ہے۔ دوست ہو کے دوست کی روح قبض کرنے جا رہا ہے۔ حضرت عزرائیل نے ارادہ چھوڑا اور حضرت ابراہیم کا وہ جملہ لے کے رب کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ عرض کی مالک جناب ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں عرض کرو کہ مالک کیا کوئی خلیل بھی اپنے خلیل کی ملاقات کو نا پسند کرتا ہے؟
[21:54]اپ کو تو ملنے کو بلا رہے ہیں موت تو ایک پل ہے یہاں سے گزریں گے تو جا کے محبوب سے ملیں گے۔ تو کیا کوئی خلیل بھی نا پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے خلیل سے ملاقات نہ کرے حضرت سیدنا عزرائیل علیہ السلام پیغام لے کے ائے اور کہا اللہ کے خلیل رب فرماتا ہے کیا خلیل بھی خلیل کی ملاقات کو تو حضرت ابراہیم تو کھل کے روئے کہنے لگے اب دیر نہ کر اب ذرا جلدی کر اب ذرا جلدی لے جا اور میرے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں حدیث ہے۔ فرمایا تم میں سے جو رب سے ملنے کو پسند کرتا ہے نا جو اللہ سے ملنے کا شوق رکھتا ہے نا اللہ بھی اس کی ملاقات کو پسند فرماتا ہے۔ اور فرمایا تم میں سے جس کا رب سے ملنے کا شوق نہیں نا اللہ بھی اس کی ملاقات کو پسند نہیں فرماتا۔ یہ سیاتم میں حدیث ہے۔ ایک دفعہ غور کر نہ لیں فلاں سے ملنے کو بھی جی چاہتا ہے فلاں علاقہ دیکھنے کو بھی جی چاہتا ہے فلاں کی ملاقات کو بھی جی چاہتا ہے۔
[23:54]کبھی اس کو ملنے کو بھی جی چاہتا ہے جس نے بنایا ہے سارا کچھ۔ کبھی اس کی صحابہ تو تڑپ کے حضور کی بارگاہ میں ائے تھے نا قریب تڑپ کے کہا تھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سالوں بیت گئے سجدے کرتے عبادت کرتے روزہ رکھتے حج کرتے زکوۃ دیتے اب دل کرتا ہے کبھی وہ ملے۔ کبھی اسے دیکھیں کبھی اے حقیقت منتظر نظر نا لباس مجاز میں لاکھوں سجدے تڑپ رہے ہیں میری جبین نیاز میں دل کرتا ہے ملنے کو۔ تو جب صحابہ نے ا کے حضور کی بارگاہ میں عرض کی نا یا رسول اللہ رب سے ملنے کو جی چاہتا ہے۔ تو اللہ نے فرمایا اور قریب اے محبوب جب میرے بندے اپ کے پاس ا کے میرے بارے میں سوال کریں تو ان سے فرما دو میں تو ان کے قریب ہی ہوں۔ جب بھی دعا مانگیں گے میں ان کی دعاؤں کو قبول فرماؤں گا میں قریب ہوں ان کے اپنے دل کے اندر شوق ہو۔ اللہ رسول کی طرف بڑھنے کا شوق ہو مسلمان موت سے نہیں ڈرتا۔ لیکن صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حدیث ہے۔ نبی پاک علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اج ایک مسلمان ایک ہزار کافر کو اگے لگا لیتا ہے اور کافر بھاگ جاتا ہے ایک وقت ائے گا ایک کافر ہوگا۔ اور ہزار مسلمان کو بھگا ڈالے گا۔ یا رسول اللہ کیوں؟ ہمارے پاس اسلحہ نہیں ہوگا۔ ہمیں لڑنے کا سلیقہ نہیں ائے گا تو نبی پاک علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا یہ مسئلہ نہیں تمہیں وہن ہو جائے گا وہن۔ یا رسول اللہ یہ وہن کیا ہوتا ہے؟ تو حضور نے فرمایا تمہیں نا زندگی سے پیار ہو جائے گا۔ تمہیں مرنا برا لگے گا کراہت ائے گی مرنے سے۔ تم مرنا نہیں چاہو گے تو جب کسی کو زندگی سے پیار ہو جائے تو پھر وہ بھاگتا ہے پھر وہ ہر بندے کی ہر بات مانتا ہے چونکہ وہ جینا چاہتا ہے۔ اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں وہ جب بدر میں مسلمان پہنچے نا تو جاسوس بھیجا ابو جہل نے کہا جاؤ پتہ کر کے اؤ لوگ کتنے ہیں اور ان میں جوان کتنے ہیں۔ بوڑھے کتنے ہیں اور اسلحہ کتنا ہے۔ جاسوسی اس دور میں بڑی اسان تھی کوئی مخصوص وردی تو فوجیوں کی ہوتی نہیں تھی۔ تو وہ شخص ا گیا مسلمانوں کو دیکھ کر واپس گیا تو جا کے اس نے بدر کے دن ابو جہل سے کہا کہ وہ 313 ہیں اور ان میں بچے بھی ہیں بوڑھے بھی ہیں اور اسلحہ بھی زیادہ نہیں اور گھوڑے اور اونٹ اور سواریاں بھی تھوڑی ہیں۔ تو ابو جہل بڑا ہسا۔ اور معاذ اللہ کہنے لگا کیا ان نے ہم سے لڑنا ہے تھوڑے سے تو لوگ ائے ہیں۔ اس طرح کرو صبح نہ انہیں پشتوں پہ باندھ کے نا گھوڑوں کی تو مکے لے چلتے ہیں وہاں جا کے دیکھیں گے ان کے ساتھ کیا کرنا ہے۔ تو وہ جاسوس کہنے لگا پوری بات تو سن لے۔ اس نے کہا پوری بات کیا ہے؟ کہنے لگا ائے 313 ہیں۔ پر گھر واپس جانے کا کسی کا بھی ارادہ نہیں۔ وہ کشتیاں جلا کے ائے ہیں۔ میں رات وہاں گزار کے ایا ہوں۔
[26:52]میں نے بوڑھوں کو بھی شہادت مانگتے دیکھا ہے۔ میں نے بچوں کو بھی شہادت مانگتے دیکھا ہے۔ میں نے ایک ایک کے سینے میں مر مٹنے کا جذبہ دیکھا ہے۔ وہ جینے کی امنگ لے کے نہیں ائے۔ ہتھیلی پہ رکھ کے ائے ہیں جان۔ اور ایک ایک شخص شہید ہو کے جانا چاہتا ہے۔ اور وہ ایک دوسرے کے پیچھے چھپیں گے نہیں۔ یہ جو موت ہے نا موت یہ تو ایک پل ہے اس سے گزرے گے۔ اللہ رسول کے حضور جائیں گے۔ جنت کی نعمتیں خدا کی تیار کی ہوئی رحمتیں مسلمان کا اگے بڑھ کے استقبال کریں گے۔ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ کو زخم لگ رہا ہے۔ میدان جہاد میں اور تیز زخم لگ رہا ہے سخت تکلیف میں۔ تو ایک شخص نے ا کے پوچھا کیا حال ہے؟ تو اپ فرمانے لگے حال کیا ہونا ہے تھوڑا سا ٹائم رہ گیا ہے۔ تو بندہ پریشان ہو گیا اس نے کہا کس بات میں؟ فرمانے لگے تھوڑا سا ٹائم رہ گیا ہے بس میں نبی پاک سے ملنے والا ہوں اور حضور کے صحابہ سے ملنے والا ہوں۔ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنہ کہنے لگے تھوڑا سا ٹائم رہ گیا ہے تھوڑا سا۔ تھوڑا سا مرنا مرنا ہر کوئی اکھے تے میں بھی اکھاں مرنا تے جس مرنے خوشبو نہ اوے وہ مرنا کی مرنا تے جس مرنے وچ سونا راضی۔ اس مرنے تو کی ڈرنا ایک گل رکھنا یاد کہ میری میرا جس دن ہوے مرنا سب کچھ کرنا سب کچھ کر کے میرا منہ روزے ول کر ناں شاید میرا اقا میں دیدار حضور دا کرنا۔



