Thumbnail for Untold Life Story of Parveen Shakir, The Poet of Flowers & True Interpreter of Hearts of Young Girls by Raftar

Untold Life Story of Parveen Shakir, The Poet of Flowers & True Interpreter of Hearts of Young Girls

Raftar

34m 6s6,284 words~32 min read
Auto-Generated

[0:00]26 دسمبر 1994 یہ اسلام اباد کی ایک سرد اور دھندلی صبح ہے۔ نیلے رنگ کی ایک سٹالٹ کار شہر کی مرکزی سڑک پر رواں دواں ہے۔ کسی بھی انے والے خطرے سے بے نیاز اپنی منزل کی جانب رواں دواں۔ مگر پھر اچانک ایک موڑ اتا ہے جو زندگی کا اخری موڑ ثابت ہوتا ہے۔ اس ننھی سی گاڑی کی ایک بس سے ٹکر ہو جاتی ہے۔ ایک ہولناک تصادم ہوتا ہے۔ ایسا حادثہ پیش ا جاتا ہے جسے اردو ادب کی تاریخ کا ناقابل فراموش سانحہ کہنا چاہیے۔ دو جانے چلی گئیں اور شام کو پاکستان ٹیلی ویژن پر ایک خبر چلتی ہے۔ ایسی خبر جس نے لاکھوں لوگوں پر سناٹا طاری کر دیا۔ یہ ایک عظیم شاعرہ کی موت کا اعلان تھا۔ موت اسے اتنی بے رحمی سے اور اتنی اچانک ادابوچے گی کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ وہ اواز دنیا سے اٹھ گئی جس کا ہر کوئی پرستار تھا۔ ہر وہ شخص جسے تھوڑی بہت اردو سمجھ اتی تھی اس نام کو جانتا اور پہچانتا تھا۔ وہ شاعرہ ہی ایسی تھی۔ تمام تر مشرقی خوبصورتی، رکھ رکھاؤ، تہذیب اور سلیقے سے نوازی ہوئی۔ اس سے بڑھ کر جو ٹیلنٹ، ذہانت، بہادری، خود اعتمادی اور فن اسے عطا ہوا وہ اس کی شخصیت کو چار نہیں اٹھ اٹھ چاند لگاتا تھا۔ جب بولتی تو باتوں سے پھول جھڑتے۔ لکھتی تو لفظوں سے خوشبو اتی۔ ایسا میٹھا، رسیلا اور دھیما لہجہ کہ سننے والوں کا دل چاہتا کہ وہ بولتی رہے اور وہ سنتے رہے۔ اور وہ لکھتی رہے اور ہم پڑھتے رہے۔ ہم بات کر رہے ہیں مکہ تیسری کشش رکھنے والی باوقار شاعرہ پروین شاکر کی جنہیں کسی نے شاعروں کی ملکہ کہا تو کسی نے خوشبو، موسموں، ہواؤں اور محبت کی شاعرہ کا نام دیا۔ دسمبر کی اس صبح وہی تھیں جو حادثے میں اپنے ڈرائیور سمیت چل بسے۔ پروین شاکر نے پہلی بار نوجوان لڑکیوں کے ایسے نازک جذبوں کو بے خوفی اور بہادری سے بیان کیا جنہیں ہمارے یہاں لڑکیاں تنہائی میں بھی زبان پر لاتے ہوئے گھبراتی ہیں۔ ان کے بارے میں اج بھی کہا جاتا ہے کہ جس طرح انہوں نے نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی کچی عمر کی لڑکیوں کے خوابوں اور امنگوں کی ترجمانی کی اس کی مثال نہ پہلے ملتی تھی اور نہ شاید ائندہ ملے گی۔

[2:18]یہ 24 نومبر 1952 ہے سحری کا وقت ہے۔ ہلکی پھلکی بارش ہو رہی ہے جب کراچی کے لیڈی ڈفرن ہسپتال میں سید شاکر حسین زیدی کے ہاں دوسری بچی نے جنم لیا۔ نام رکھا گیا پروین بانو۔ اس وقت کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ بچی بڑے ہو کر اشعار کی ایک ایسی کہکشاں سجائے گی جس کی ستاروں کو جھرمٹ دور ہی سے پہچانا جائے گا۔ جس کی روشنی عام ستاروں سے بالکل الگ ہو گی۔ پروین شاکر نے عشق و محبت کے اظہار کے لیے معاشرے میں موجود تمام روایتی بت پاش پاش کر دیے۔ اس بات کی ذرا بھی پرواہ نہیں کی کہ کوئی کیا کہے گا۔ اپنے دور کے معروف ادیب احمد ندیم قاسمی نے پروین شاکر کے بارے میں لکھا۔ پروین شاکر ایسی کھری اور سچی لڑکی ہے جس نے جو سوچا جو محسوس کیا بلا جھجک کہہ ڈالا پروین نے نہ خود کو دھوکہ دیا اور نہ اپنے پڑھنے والوں کو۔ پروین کے والد سید شاکر حسین اور والدہ افضل النساء کا تعلق بحار کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تھا۔ یہ خاندان قیام پاکستان سے دو سال پہلے بہتر روزگار کی تلاش میں کراچی ا گیا تھا۔ شروع میں اس خاندان کی رہائش چاکی واڑا میں تھی اور مڈل کلاس شخص کی طرح پروین کے والد کو بھی گھر بار چلانے کے لیے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بڑی کوشش کے بعد انہیں محکمہ ٹیلی فون اینڈ ٹیلی گراف میں کلرک کی نوکری مل گئی۔ زندگی کی گاڑی بس کسی نہ کسی طرح چلتی رہی۔

[3:40]اس گھرانے میں جب پروین تھوڑی سی بڑی ہوئیں تو گھر والوں کو اندازہ ہونے لگا کہ وہ عام لڑکیوں جیسی بالکل نہیں۔ اسے گڑیا سے کوئی لگاؤ نہیں تھا نہ اسے کھلونے پسند تھے۔ اسے تو پرندے، جانور پالنا اور ان سے باتیں کرنا اچھا لگتا تھا۔ بارش تو گویا اس کی کمزوری تھی۔ برسات کے دوران بارش کی اواز اور کچی مٹی کی خوشبو اسے بہت بھاتی تھی۔ قدرت نے بھی ہمیشہ پروین کی اس خواہش کا احترام کیا۔ جب پیدا ہوئی تب بھی رم جھم پھوار پڑ رہی تھی اور جب اسے قبر میں اتارا جا رہا تھا تب بھی بارش کی بوندیں اس کے کفن کو بھگو رہی تھیں۔ اور اس کی تازہ تازہ قبر سے کچی مٹی کی خوشبو فضا میں پھیلی ہوئی تھی۔ سنا ہے جب سے شفاعت کو اپ پائیں گے تو جیسے بوجھ سا ایک ہٹ گیا ہے۔ پروین شاکر کی والدہ بتاتی ہیں کہ وہ بچپن سے ہی بڑی ذہین تھیں۔ چیزوں کو غور سے دیکھنے اور انہیں سمجھنے کی کوشش کرتی تھی۔ والد نے بھی شاید اسی چھپی صلاحیت کو پہچان لیا تھا۔ اس لیے وہ پروین کی ضروریات کا بڑا خیال رکھتے۔ کیونکہ خود بھی شاعری کرتے تھے اس لیے بیٹی کے شہری ذوق کو دیکھتے ہوئے پروین اور نسرین دونوں بیٹیوں کو حسن عسکری عظیم ابادی کی تربیت میں دے دیا۔ وہ پروین کی نانی کے پھوپہ زاد بھائی تھے۔ پیشے کے اعتبار سے ہومیوپیتھ اور علم و ادب سے بڑا لگاؤ رکھتے تھے۔ انہوں نے دونوں بہنوں کی شیری تربیت میں بہت اہم کردار ادا کیا لیکن شہرت پروین کے حصے میں زیادہ ائی۔ پروین شاکر کو اپنی زندگی میں کسی نے صرف پروین کہہ کر پکارا تو کسی نے پاروں۔ کوئی پارہ کہتا تو کوئی بانوں سے مخاطب کر کے پیار کا اظہار کرتا رہا۔ لیکن خود جب پروین نے قلم سنبھالا تو اپنے لیے بینا تخلص انتخاب کیا مگر جلد ہی اپنے نام کے ساتھ اپنے والد کا نام شاکر لکھنا شروع کر دیا اور اخری دم تک پروین شاکر ہی رہے۔ بہرحال والدہ بتاتی تھیں کہ پارہ بچپن میں اگر ضد پر اڑ جاتی تھی تو اپنی بات منوا کر چھوڑ دی۔ وہ الگ بات ہے کہ جب جوان ہوئیں تو اس کی ایک ضد ایسی تھی کہ والدین اس کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو گئے۔ یہاں تک کہ اپنی ہر ضد منوانے والی پاروں کو اپنے دل پر پتھر رکھنا پڑ گیا۔ یہ ایسا پتھر تھا جس کے بوجھ نے اسے نڈھال کر دیا۔ چلنے کا حوصلہ نہیں، رکنا محال کر دیا۔ عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کیا۔ اس تھکا دینے والے سفر سے اگے چل کر پردہ اٹھائیں گے لیکن ابھی بات پروین کے بچپن کی۔ والدہ کے مطابق بچپن ہی سے پروین بہت حساس تھیں۔ اس کا کوئی پرندہ یا پالتو جانور مر جاتا تو دیر تک روتی رہتی۔ پھر اسے باقاعدہ زمین میں دفن کرتی کہ کہیں اسے کوئی جانور نہ کھا جائے۔ پروین کو گھریلو کام کاج کرنا بالکل پسند نہیں تھا۔ اس کا تو بس ایک ہی شوق تھا بلکہ جنون کہیے کہ وہ سارا دن کوئی نہ کوئی کتاب یا رسالہ پڑھتی رہتی اور ایک چیز اور بھی اسے پسند تھی وہ تھی اپنی پسندیدہ ذاکرہ بتول ترابی کے انداز میں نوحہ اور مرثیہ پڑھنا۔ کہ مدینہ ہے تو نجف بھی ہے کربلا بھی ہے۔ پکے شیعہ گھرانے سے تعلق ہونے کی وجہ سے پروین کی والدہ بچپن میں اسے مجالس میں باقاعدگی سے اپنے ساتھ لے جاتی۔ پروین مجلسوں سے گھر انے پر محلے کے بچوں کو اکٹھا کرتی اور انہیں جمع کر کے خود ذاکرہ بن جاتی اور دیر تک نوحے اور مرسیے پڑھتی رہتی۔ بچپن ہی سے پروین کی شخصیت اتنی پیاری، ون موہنی اور دلکش تھی کہ والدہ جب بھی تیار کرتی انہیں ڈر لگتا کہ اسے نظر نہ لگ جائے۔ پروین نے ابتدائی تعلیم رائزنگ سن سکول اور رضویہ گرلز ہائی سکول سے حاصل کی۔ اس سکول میں اپنی ذہانت سے ٹیچرز کو اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ کبھی تقریری تو کبھی ناتیاں مقابلے جیت رہی ہے۔ اچھے نمبروں سے پاس ہونا تو اس کی پہچان تھی۔ پڑھائی میں اس کی ذہانت کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ پروین کی بڑی بہن نسرین اس سے دو کلاس اگے تھی مگر پروین ڈبل پروموشن لے کر اپنی بڑی بہن کی کلاس فیلو بن گئی۔ اسی سکول کی ایک ٹیچر نے پروین شاکر کے بارے میں ایک پیش گوئی لکھ کر کی تھی۔ وہ پیش گوئی کیا تھی کیا وہ سچ ثابت ہوئی یہ بھی اپ کو اگے چل کر بتائیں گے۔ ابھی چلتے ہیں نو عمر پروین شاکر کی زندگی کے ایک اہم واقعے کی طرف۔ امد پہ تیری اترو چراغ و سبو نہ ہوں۔

[8:04]پروین جب سولہویں سال میں تھی تو اسے سینئر کلاس کے ایک لڑکے سے پیار ہو گیا۔ پتہ نہیں اسے پیار کہنا بھی چاہیے یا نہیں لیکن پروین کی کلاس فیلوز اور قریبی سہیلیوں میں اس بارے میں کھسر پھسر ضرور سنائی دیتی تھی۔ مگر شاید یہ جوانی کی ایک لہر تھی جو جلد ہی معمول پر ا گئی۔ معروف ادیب عرفان جاوید نے اپنی کتاب سرخاب میں لڑک پن کی اس محبت کو ناکام مجنونانہ سا عشق کہہ کر پکارا ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے پروین شاکر کی ذہانت کا ایک واقعہ بھی لکھا ہے۔ جب وہ سرسید گرلز کالج کراچی میں پڑھ رہی تھیں۔ ان دنوں مختلف کالجز کی لڑکیوں کے درمیان شیری مقابلہ ہوا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پروین پوری طرح شاعری سے واقف نہ تھی۔ مگر نہ صرف مقابلے میں حصہ لیا بلکہ پہلا انعام بھی جیت لیا۔ یہ نظم ایسی تھی جس نے کالج کی ہر لڑکی کو متوجہ کر لیا۔ یہی سرسید کالج تھا جہاں پروین کو عرفانہ عزیز جیسی مہربان استاد میسر ائی۔

[9:00]جنہوں نے پروین کی شخصیت کے ساتھ اس کی شاعری کو نکھارنے میں بھی بہت مدد دی۔ پروین نے ایک انٹرویو میں خود بتایا کہ عرفانہ عزیز اور احمد ندیم قاسمی کے علاوہ انہوں نے کبھی کسی کو اپنی شاعری کا ایک لفظ ادھر سے ادھر کرنے کی اجازت نہیں دی۔ یہ عرفانہ عزیز ہی تھیں جنہوں نے پروین کو یاور مہدی سے متعارف کروایا۔ ان دنوں یاور مہدی ریڈیو پاکستان کراچی سے طلبہ کا پروگرام یونیورسٹی میگزین کیا کرتے تھے۔ اب پروین اس پروگرام میں باقاعدگی سے حصہ لینے لگی۔ گزرنے والا ہر دن پروین کو شہرت کی طرف لے جاتا ہوا صاف نظر ا رہا تھا۔ میٹھی رسیلی زبان اور ہلکوڑھے لیتا دھیما لہجہ اور سب سے بڑھ کر ایک سے ایک انوکھا اور دل چھو لینے والا خیال۔ اب وہ لوگوں کو بھانے لگی تھی۔ ریڈیو اے کے دنوں میں ایک ایسا واقعہ پیش ایا جس سے ریڈیو کا پورا عملہ پروین کی شاعرانہ صلاحیتوں کا گرویدہ ہو گیا۔ ہوا یہ کہ ایک دن یاور مہدی نے شہر کے کئی شعراء اور طالب علموں کو جمع کیا۔ سب کو ایک مصرع طرح دیا اور انہیں تین گھنٹوں کا وقت دے کر غزل لکھنے کا چیلنج دیا۔ پروین شاکر کے بقول انہیں فلبدی شاعری لکھنا کبھی پسند نہیں رہا۔ شاعری کوئی مشینی چیز نہیں یہ تو حالات و واقعات اور محسوسات کا نام ہے مگر پھر بھی انہوں نے یہ چیلنج قبول کر لیا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے پورا کمرہ خالی ہونے لگا صرف پانچ لوگ باقی رہ گئے جن میں یاور مہدی، پروین شاکر اور تین لوگ اور تھے۔ پھر وہی ہوا پروین شاکر نے بازی مار لی۔ اس دور میں پروین شاکر کو مختلف ادبی شخصیات سے ملنے جلنے کا بھی موقع ملا جنہوں نے اس کے اعتماد میں اضافہ کیا۔ خاص طور پر ابن انشا کے ساتھ پروین کا پروگرام بہت زیادہ پسند کیا گیا۔ کہتے ہیں دوسروں کی چوٹ کا درد ایک حد تک ہی محسوس کیا جا سکتا ہے لیکن چوٹ کی اصل شدت کا تب پتہ چلتا ہے جب انسان کے اپنے وجود پر زخم لگے۔ شاعروں کی زندگی ویسے بھی بڑی ٹریجک ہوتی ہے۔ پروین شاکر کی زندگی میں بھی وہ لمحہ ا گیا۔

[10:53]پروین اب حقیقی محبت کی نرم اور گرم انچ سے سلگنے لگی تھی۔ ایک عزیزہ نے انہیں سرکاری عہدے پر موجود ایک شخص کے لیے بے قرار ہوتے دیکھا تو سمجھانے لگی۔ اسے منع کیا گیا کہ یہ اگ کا دریا ہے اس میں ڈوب کر جانا پڑے گا مگر پروین تھی سدا کی ضدی۔ پھر الڑ جوانی اور دنیا فتح کر لینے کا زون بھی پروین کسی صورت پیچھے ہٹنے والی نہ تھی۔ دونوں جانب سے قول و قرار ہونے لگے۔ وہی قسمیں کھائی جانے لگی جو عاشق ایک دوسرے کے لیے ہمیشہ سے کھاتے ائے۔ پروین کا محبوب ایک تو اچھے عہدے پر برسے روزگار تھا اوپر سے اچھی شکل و صورت اور قد کاٹ کا مالک ایک ذہین شخص تھا۔ پروین خواب بنتی گئی اور اس کا پریمی اس کے خوابوں میں رنگ بھرنے کے وعدے کرتا گیا۔ بات اب رشتے تک جا پہنچی تھی۔ لیکن نتیجہ پروین کی توقع کے بالکل برخلاف نکلا۔ پروین کے والدین کٹر شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے تھے جبکہ پروین کا محبوب اور اس کا خاندان سنی العقیدہ تھا۔ لڑکے نے پروین کا ہاتھ مانگنے کے لیے اپنے والدین کو بھیجا مگر جب بات مسلک پر ائی تو پروین کے والدین بھڑک اٹھے۔ بلکہ انہوں نے اپنی بیٹی کو بھی باتیں سنانا شروع کر دی۔ اسے کہا گیا کہ تم نے جرات کیسے کی کہ اپنا رشتہ خود طے کرو اور اس کے لیے بھی سنی لڑکا۔ والد نے ناممکن کہہ کر لڑکے والوں کو گھر سے رخصت کر دیا بلکہ یوں کہیے کہ باہر نکال دیا۔ کہ میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر ہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھی۔ اس واقعے نے پروین کو اندر سے توڑ کر رکھ دیا۔ وہ شیشے کی طرح ٹوٹ کر بکھر گئی۔ محبت میں سماج کی رکاوٹوں کا نتیجہ اکثر بغاوت کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔ پروین نے بھی معاشرتی رویوں کو خلاف اواز اٹھانے کی ٹھان لی۔ پروین شاکر کے اندر کی شاعرانہ روح اب تڑپ اٹھی تھی اور پھر بقول احمد ندیم قاسمی جو محسوس کیا اسے پوری بہادری اور بے خوفی سے اپنی پہلی کتاب خوشبو کی صورت میں بکھیر دیا۔ خوشبو 1976 میں شائع ہوئی۔ تب پروین کی عمر صرف 24 سال تھی۔ ٹھاٹے مارتے انگڑائیاں لیتے جذبوں کی یہ خوشبو ایسی پھیلی کہ خود پروین کو بھی اس پر یقین نہیں ا رہا تھا۔ اپنی پہلی کتاب پر انہیں پاکستان کے سب سے اعلی ادبی ایوارڈ ادم جی سے نوازا گیا جو ایک غیر معمولی بات تھی۔ خوشبو نے دنیائے ادب میں ہی نہیں گھر گھر دھوم مچا دی تھی۔ بلکہ یوں کہیے کہ پڑھنے والوں اور پڑھنے والیوں کو دیوانہ بنا کر رکھ دیا۔ کمال ضبط کو خود بھی تو ازماؤں گی میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی۔ اج ملبوس میں ہے کیسی تھکن کی خوشبو رات بھر جاگی ہوئی جیسی دلہن کی خوشبو۔ پیرن میرا مگر اس کے بدن کی خوشبو اس کی ترتیب ہے ایک ایک شکن کی خوشبو۔ بستر کا ذکر تو اردو شاعری میں ممنوع تھا اور وہ بھی عورت کے منہ سے یہ پہلی بار ہوا تھا کہ کسی لڑکی نے عشق و محبت کی نزاکتوں بلکہ وحشی لمحوں کو بھی بلا خوف و خطر بیان کیا وہ بھی ایسے معاشرے میں جہاں نکاح جیسے مقدس بندھن میں بنتے ہوئے قبول ہے کے الفاظ تک ادا کرتے ہوئے لڑکیوں کے ہونٹ کانپتے تھے۔ بہرحال یوں خوشبو کے ساتھ ہی اٹھویں کلاس کی ٹیچر کی لکھی ہوئی پیش گوئی بھی سچ ہو گئی۔ انہوں نے لکھا تھا وہ وقت ا کر رہے گا جب یہ طالبہ معروف ادیبہ اور شاعرہ کہلائے گی۔ ویسے پروین شاکر کے بارے میں دلی کے ایک جوتش نے بھی پیش گوئی کی تھی۔ ایسی پیش گوئی جس نے پروین کو زندگی بھر بے چین رکھا۔ مگر کیا وہ بات سچ ثابت ہوئی؟ یہ اگے چل کر بتائیں گے مگر ابھی بات کرتے ہیں پروین کے پہلے مجموعے کلام خوشبو کی جس نے شائع ہوتے ہی تہلکہ مچا دیا تھا۔ تب اس کتاب کی ہزاروں کاپیاں فروخت ہوئی تھیں اور اج تک ہو رہی ہیں۔ کہتے ہیں پاکستان میں ایک ایسا وقت بھی ایا جب ابن صفی کی عمران سیریز نوجوانوں کے تکیے کے نیچے ہوتی تو لڑکیوں کے تکیے کے نیچے سے پروین شاکر کی خوشبو ملتی۔ کہ اس کو نہ پا سکے تھے جب دل کا عجیب حال تھا۔

[14:58]پروین بچپن سے ہی معصوم سی گڑیا لگتی تھی۔ جب رشتہ دار پروین کے گھر اتے تو بے اختیار ان کی طرف متوجہ ہو جاتے تھے۔ تب ایک ایسے ہی رشتہ دار تھے جو پروین کو اپنی بہو بنانا چاہتے تھے۔ بات بھی طے کر دی گئی۔ سمجھے ایک طرح سے منگنی ہو گئی۔ مگر کچھ وقت گزرا تو لڑکا تعلیم کے معاملے میں بہت پیچھے رہ گیا۔ پروین تو جیسے پیدا ہی اگے نکلنے کے لیے ہوئی تھی۔ اس لیے دونوں خاندانوں کو احساس ہو گیا کہ پروین اور اس لڑکے کا جوڑ اب برابر کا نہیں رہا۔ یوں اس منہ زبانی منگنی کو باہمی رضامندی سے ختم کر دیا گیا۔ اور پھر پروین کی پہلی کتاب خوشبو کے چرچے ہو گئے ہر طرف ان کا نام تھا مگر پروین اپنے دل و دماغ سے لڑ رہی تھی۔ محبوب کے کھو جانے کا دکھ انہیں کاٹ رہا تھا۔ انہیں اپنا وجود بے معنی اور بے وقت سا محسوس ہوتا۔ ایسا لگتا گویا روح کا پرندہ گھسے پٹھے رسم و رواج کے پنجرے میں بند پھڑپھڑا رہا ہے۔ جبکہ وہ ایک ازاد پنچھی ہے۔ جو اپنی مرضی کی فضاؤں اور ہواؤں میں اڑنا چاہتی تھی۔ مگر وہ کیا کرتی زمانے کے رسم و رواج نے پروین کے تمام پر کاٹ ڈالے تھے۔ درد اتنا بڑا کہ وہ بیمار پڑ گئی۔ حالات یہاں تک جا پہنچے کہ ہسپتال داخل کرانا پڑ گیا۔ یہیں سے پروین شاکر کی زندگی اب ایک نیا موڑ لینے والی تھی۔ وہ چاہتی تھیں کہ کوئی شخص مسیحہ بن کر ائے اور ان کے اندر سلگنے والے الاؤ کو اپنی محبتوں اور چاہتوں کی برسات سے ٹھنڈا کر دے۔ کہتے ہیں نا کہ کوئی گھڑی قبولیت کی بھی ہوتی ہے اور شاید وہ گھڑی اب انے والی تھی۔ والدہ کی ماموں زاد بہن کا بیٹا نصیر علی ملٹری میں ڈاکٹر تھا۔ وہ کراچی ایا ہوا تھا جب پروین کے والدین نے نصیر سے رابطہ کیا اور اسے پاروں کی بیماری سے اگاہ کیا۔ نصیر نے پروین کو پہلے بھی دیکھ رکھا تھا۔ یہ بھی جانتا تھا کہ پروین شاعری کرتی ہے لیکن وہ پروین کی شاعری کے معیار اور اس کی شہرت سے زیادہ واقف نہیں تھا۔ نصیر علی نے لاہور کے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کر رکھا تھا۔ اس کا خاندان 1971 میں بنگلہ دیش بننے کے بعد کراچی منتقل ہوا تھا۔ پھر نصیر ہسپتال میں پروین کے عیادت کے لیے انے لگتا ہے اور اسے اس کی دلچسپی کے موضوعات پر بات کرتا ہے۔ بے تکلفی کچھ اور بڑھی تو وہ کمرے میں قدم رکھتے ہی سب سے پہلے پروین کے ماتھے پر ہاتھ رکھ دیتا اور پھر اٹھانا بھول جاتا۔ بظاہر اس کا بخار چیک کرتا لیکن پروین کا لمس اسے مسحور کر دیتا تھا۔ وہ یہ بھی جان گیا تھا کہ جیسے ہی اس کا ہاتھ پروین کے ماتھے کو چھوتا ہے پروین کے چہرے پر چھائی اداسی غائب ہو جاتی ہے۔ اس کے چہرے کی زردی سرخی میں بدلنے لگتی ہے۔ بے ارام چہرہ اسودہ اور پرسکون سا ہو جاتا ہے۔ شاید یہی وہ لمحات ہوں گے کہ پروین شاکر کو کہنا پڑا۔ اس نے جلتی ہوئی پیشانی پہ جب ہاتھ رکھا روح تک اگئی ایسی مسیحائی۔ نصیر علی جلد ہی جان گیا کہ پروین کو جسمانی نہیں روحانی روگ ہے۔ اس نے پروین کے دکھ جاننے کی کوشش کی لیکن پروین بہت ذہین تھی۔ وہ نصیر علی کی اس میں دلچسپی کو اچھی طرح نوٹ کر رہی تھیں۔ وہ اپنی ٹوٹی بکھری محبتوں کا اشتہار لگوانے کو تیار نہیں تھی۔ ہاں یہ ضرور تھا کہ نصیر علی انہیں اچھا لگنے لگا تھا۔ وہ یہ سوچنے پر ضرور مجبور ہو جاتی تھی کہ یہ مہربان سا نوجوان اس کے زخموں پر مرہم رکھ سکتا ہے۔ جلد ہی اس نے پروین سے اس کی مرضی پوچھی۔ پروین نے ہاں کر دی۔ نصیر نے اپنے گھر والوں کو رشتہ مانگنے پروین کے گھر بھیج دیا۔ یہی وہ دن تھا جب پاروں کے گھر والے اس کے لیے کسی لڑکے کی تلاش میں تھے۔ ایسا لڑکا جو کامیاب ہو، خیال رکھنے والا ہو اور ہاں شیعہ ہو۔ نصیر علی ہر معیار پر پورا اترتا تھا۔ تو ہاں کہہ دی گئی اور اکتوبر 1976 میں نارتھ نازم اباد کے الحسن میرج ہال میں پروین کی شادی ہو گئی۔ سرخ قمیض، سرخ دوپٹہ اور سبز پاجامہ پہنے پروین دلہن بنی۔ واقعی چاند سی حسین لگ رہی تھی۔ پروین کا نصیر سے شادی کا فیصلہ اپنے والدین کی خوشی کے لیے تھا۔ نصیر سے واقعی محبت ہو گئی تھی یا پرانی محبتوں کے زخموں کو بھرنے کی ایک کوشش تھی۔ جو کچھ بھی تھا پروین کو کہیں نہ کہیں یہ احساس ضرور تھا کہ اسے جوئے میں مات بھی ہو سکتی تھی اور جیت بھی۔ اس شرط پر کھیلوں گی پیا پیار کی بازی جیتوں تو تجھے پاؤں ہاروں تو پیا تیری۔ جو غم ملا ہے بوجھ اٹھایا ہے اس کا خود سر زیر بار سحر و بادا نہیں کیا۔ شادی کے وقت پروین عبداللہ گرلز کالج میں بطور لیکچرر پڑھا رہی تھی۔ ساتھ ہی وہ گوشے چشم کے نام سے جنگ اخبار میں کالم بھی لکھ رہی تھی۔ شادی کے کچھ دنوں بعد ہی پروین کو اندازہ ہونے لگا کہ نصیر علی کی والدہ کافی سخت گیر عورت ہے۔ یہ بھی پتہ چلا کہ نصیر علی نے گھر والوں اور خصوصا اپنی والدہ کو مشکل سے راضی کیا تھا۔ ان کی والدہ اپنے ملٹری ڈاکٹر بیٹے کے لیے کسی اونچے گھرانے کی بہو لانا چاہتی تھیں مگر بیٹی کی خواہش کے سامنے انہیں ہتھیا ڈالنا پڑے تھے۔ یہ انکشاف پروین شاکر کے لیے بڑا تکلیف دہ تھا بلکہ انہیں انسلٹ محسوس ہونے لگی تھی۔ پھر پروین نے اپنی زندگی میں سوائے پڑھنے لکھنے کے کوئی اور کام نہیں کیا تھا۔ نہ انہیں گھر کے کام کاج پسند تھے نہ انہوں نے کبھی سیکھنے کی کوشش کی۔ یہ بات پروین کے والدین نے نصیر علی کی والدہ کو شادی سے پہلے بتا بھی دی تھی مگر تب جواب ملا کہ شادی کے بعد سب لڑکیاں سیکھ جاتی ہیں۔ اب جس گھر میں پروین بیاہ کر ائیں وہاں مشترکہ خاندانی نظام تھا اور گھر کے تمام کام کاج کی نگرانی اور انتظام نصیر کی والدہ ہی کیا کرتی تھی۔ شادی کے بعد چند دن ہی گزرے کہ پروین کو باورچی خانے کی راہ دکھا دی گئی۔ یہاں تمام خواتین میں کام تقسیم تھا۔ ناشتہ پروین کی جیٹھانی کی ذمہ داری تھا تو دوپہر کا کھانا نند بناتی اور رات کا کھانا اب پروین کے ذمے تھا۔ جو کھانے پکانے میں بالکل کوری تھی۔ مجبوری میں کھانا بنانے کی ترکیبوں سے کام چلانا شروع کیا لیکن روزانہ کوئی 20 روٹیاں بنانا اس نازک شاعرہ کے لیے بڑا محنت طلب کام ہوتا۔ پھر رات گئے برتن دھونے کے بعد بستر نصیب ہوتا۔ تھکن سے چور وہ وجود لیے جب بیڈ روم میں داخل ہوتیں تو یہی فکر ستائے رکھتی کہ صبح جلدی اٹھنا اور کالج جانا ہے۔ ناشتہ کرنے کے لیے میز پر انا پڑتا تھا۔ دوسری صورت میں بھوکا کالج جانا پڑتا کیونکہ یہی اس گھرانے کا دستور تھا۔ جیسے تیسے دن گزرنے لگے تھے لیکن پروین کے اشعار کہنے اور مزید علم حاصل کرنے کی پیاس اب بھی ویسی ہی تھی۔ اب انہوں نے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ سسرالیوں کی جانب سے بڑی مخالفت ہوئی جیسے ہمارے ہاں عموما ہوتی ہے کہ اب مزید پڑھ کر کیا کرنا ہے۔ مگر پروین کے اندر کی ضدی لڑکی ابھی زندہ تھی۔ یہاں نصیر علی کو کریڈٹ دینا پڑے گا کہ وہ اس معاملے میں ہمیشہ پروین کے ساتھ کھڑا رہا۔ 1980 میں شادی کے تین سال بعد پروین نے کراچی یونیورسٹی سے انگریزی لسانیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ پھر پی ایچ ڈی بھی کر لیا۔ اور یہ سفر اب رکنے والا نہیں تھا۔ وہ کسی امریکی یونیورسٹی میں پڑھنے کے خواب دیکھ رہی تھی اور اگے چل کر یہ خواب بھی سچ کر دکھایا۔ انہوں نے امریکہ کے ٹرینیٹی کالج سے تعلیم حاصل کی اور 1991 میں ہاورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری لے کر وطن واپس لوٹیں۔ بہت دنوں کے بعد اپنے شہر انا ہوا تو اس کی صورت پہچانی نہیں گئی۔

[21:58]شادی کے بعد مشترکہ خاندانی نظام میں خود کو ایڈجسٹ کرنا پروین کے لیے بہت مشکل ثابت ہو رہا تھا۔ وہ سوچتی رہتی کہ کب وہ دن ائے گا جب وہ اپنی مرضی سے سوئے اور جاگے۔ اپنے شوہر کے ساتھ کسی الگ مقام پر گزارے لمحات کو پروین نے زندگی کا سب سے یادگار اور خوشگوار دور قرار دیا ہے۔ یہ شادی کے ابتدائی دن تھے جب ان کے شوہر نصیر علی کا کراچی سے ایبٹ اباد میں تبادلہ ہوا تھا۔ ایک پرفضا اور خوبصورت مقام پر۔ چاروں طرف سنوور کا جنگل سرسبز و شاداب پہاڑیاں اور بہتے چشمے۔ کالج کی چٹی اور الودگی سے پاک ٹھنڈی ہوائیں۔ یہی تو پروین کو چاہیے تھا۔ وہ سوچنے لگی کہ اب اسے بھی اپنا تبادلہ ایبٹ اباد ہی کروا لینا چاہیے۔ خوبصورت مناظر میں اس کا وجود موسم بہار کی طرح کھل اٹھا۔ مگر کچھ لوگوں کے لیے خوشیوں کے موسم بھی ہوا کے جھونکوں کی طرح ہوتے ہیں۔ وہ چند گھڑیوں کے لیے بس چھو کر گزر جاتے ہیں۔ نصیر علی کے بڑے بھائی کا اچانک انتقال ہو گیا۔ اس کی امی کا اصرار بڑھنے لگا کہ وہ جلد از جلد واپس کراچی تبادلہ کرائے۔ ایک فرمانبردار بیٹے کا ثبوت دیتے ہوئے محض ایک سال بعد ہی نصیر کو کراچی انا پڑ گیا۔ یوں ایبٹ اباد میں قدرتی حسن کی رنگینیوں اور اپنے شوہر کے ساتھ من پسند زندگی گزارنا اب پروین کے لیے ممکن نہیں رہا۔ ساس کی سخت مزاجی اور پروین کے اگے سے اگے بڑھنے اور مزید دنیا دیکھنے کی ارزوئیں بھی ان کی ازواجی زندگی میں مسائل پیدا کرتی رہیں۔ وہ ساس کی تلخ باتوں کو سننے کے باوجود تو تکار سے گریز کرتی تھیں لیکن یہ ناگوار رویہ ان کے لیے مستقل درد سر بنا رہا۔ بات یہاں تک پہنچی کہ وہ ناراض ہو کر اپنے والدین کے گھر چلی ائیں۔ میاں بیوی کے درمیان اب فاصلے بڑھنے لگے۔ نصیر ہر صورت پروین کے ساتھ رہنا چاہتا تھا اس لیے خاندان کے کچھ لوگوں نے صلح کی راہ نکال لی۔ طے پایا کہ پروین الگ گھر میں رہے۔ یوں والدین کے گھر کے قریب ہی ایک کرائے کا مکان لیا گیا اور دونوں میاں بیوی وہاں رہنے لگے۔ پروین کی شادی کو تین سال ہونے کو تھے۔ ایک روز لیڈی ڈاکٹر نے اسے خبر سنائی کہ وہ ماں بننے والی ہے۔ دونوں میاں بیوی نے فیصلہ کیا کہ اگر لڑکی پیدا ہوئی تو اس کا نام شفا رکھا جائے گا اور اگر لڑکا پیدا ہوا تو مراد علی۔ 20 نومبر 1979 کو پروین کے ہاں بیٹا پیدا ہوا لیکن تب نصیر ان کے ساتھ موجود نہیں تھا۔ وہ دن بعد ہسپتال ایا جس پر پروین بڑی رنجیدہ تھی۔ انہیں لگ رہا تھا کہ جیسے نصیر کو اپنے بیٹے اور بیوی سے کوئی غرض ہی نہیں۔ بیٹی کی پیدائش کے بعد امید بندھی کہ شاید پروین اور اس کے سسرال میں چلنے والی ناراضگی ختم ہو جائے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پروین کو کالج جانے کے لیے اب بچہ اپنے والدین کے گھر چھوڑنا پڑتا۔ امجد اسلام امجد جنہیں پروین امجد بھائی کہہ کر پکارتی تھی انہوں نے پروین کو ماں بننے پر مبارکباد دی۔ اس پر پروین نے خط کے جواب میں لکھا کہ ہاں امجد بھائی یہ دور ہے تو بہت خوبصورت مگر اس کی اذیتیں بھی بہت ہیں۔ ممکنہ فیصلوں میں ایک ہجر کا فیصلہ بھی تھا۔ ہم نے تو ایک بات کی اس نے کمال کر دیا۔ شادی کے بعد مشترکہ خاندانی نظام میں خود کو ایڈجسٹ کرنا پروین کے لیے بہت مشکل ثابت ہو رہا تھا۔ وہ سوچتی رہتی کہ کب وہ دن ائے گا جب وہ اپنی مرضی سے سوئے اور جاگے۔ اپنے شوہر کے ساتھ کسی الگ مقام پر گزارے لمحات کو پروین نے زندگی کا سب سے یادگار اور خوشگوار دور قرار دیا ہے۔ یہ شادی کے ابتدائی دن تھے جب ان کے شوہر نصیر علی کا کراچی سے ایبٹ اباد میں تبادلہ ہوا تھا۔ ایک پرفضا اور خوبصورت مقام پر۔ چاروں طرف سنوور کا جنگل سرسبز و شاداب پہاڑیاں اور بہتے چشمے۔ کالج کی چھٹی اور الودگی سے پاک ٹھنڈی ہوائیں۔ یہی تو پروین کو چاہیے تھا۔ وہ سوچنے لگی کہ اب اسے بھی اپنا تبادلہ ایبٹ اباد ہی کروا لینا چاہیے۔ خوبصورت مناظر میں اس کا وجود موسم بہار کی طرح کھل اٹھا۔ مگر کچھ لوگوں کے لیے خوشیوں کے موسم بھی ہوا کے جھونکوں کی طرح ہوتے ہیں۔ وہ چند گھڑیوں کے لیے بس چھو کر گزر جاتے ہیں۔ نصیر علی کے بڑے بھائی کا اچانک انتقال ہو گیا۔ اس کی امی کا اصرار بڑھنے لگا کہ وہ جلد از جلد واپس کراچی تبادلہ کرائے۔ ایک فرمانبردار بیٹے کا ثبوت دیتے ہوئے محض ایک سال بعد ہی نصیر کو کراچی انا پڑ گیا۔ یوں ایبٹ اباد میں قدرتی حسن کی رنگینیوں اور اپنے شوہر کے ساتھ من پسند زندگی گزارنا اب پروین کے لیے ممکن نہیں رہا۔ ساس کی سخت مزاجی اور پروین کے اگے سے اگے بڑھنے اور مزید دنیا دیکھنے کی ارزوئیں بھی ان کی ازواجی زندگی میں مسائل پیدا کرتی رہیں۔ وہ ساس کی تلخ باتوں کو سننے کے باوجود تو تکار سے گریز کرتی تھیں لیکن یہ ناگوار رویہ ان کے لیے مستقل درد سر بنا رہا۔ بات یہاں تک پہنچی کہ وہ ناراض ہو کر اپنے والدین کے گھر چلی ائیں۔ میاں بیوی کے درمیان اب فاصلے بڑھنے لگے۔ نصیر ہر صورت پروین کے ساتھ رہنا چاہتا تھا اس لیے خاندان کے کچھ لوگوں نے صلح کی راہ نکال لی۔ طے پایا کہ پروین الگ گھر میں رہے۔ یوں والدین کے گھر کے قریب ہی ایک کرائے کا مکان لیا گیا اور دونوں میاں بیوی وہاں رہنے لگے۔ پروین کی شادی کو تین سال ہونے کو تھے۔ ایک روز لیڈی ڈاکٹر نے اسے خبر سنائی کہ وہ ماں بننے والی ہے۔ دونوں میاں بیوی نے فیصلہ کیا کہ اگر لڑکی پیدا ہوئی تو اس کا نام شفا رکھا جائے گا اور اگر لڑکا پیدا ہوا تو مراد علی۔ 20 نومبر 1979 کو پروین کے ہاں بیٹا پیدا ہوا لیکن تب نصیر ان کے ساتھ موجود نہیں تھا۔ وہ دن بعد ہسپتال ایا جس پر پروین بڑی رنجیدہ تھی۔ انہیں لگ رہا تھا کہ جیسے نصیر کو اپنے بیٹے اور بیوی سے کوئی غرض ہی نہیں۔ بیٹی کی پیدائش کے بعد امید بندھی کہ شاید پروین اور اس کے سسرال میں چلنے والی ناراضگی ختم ہو جائے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پروین کو کالج جانے کے لیے اب بچہ اپنے والدین کے گھر چھوڑنا پڑتا۔ امجد اسلام امجد جنہیں پروین امجد بھائی کہہ کر پکارتی تھی انہوں نے پروین کو ماں بننے پر مبارکباد دی۔ اس پر پروین نے خط کے جواب میں لکھا کہ ہاں امجد بھائی یہ دور ہے تو بہت خوبصورت مگر اس کی اذیتیں بھی بہت ہیں۔ ممکنہ فیصلوں میں ایک ہجر کا فیصلہ بھی تھا۔ ہم نے تو ایک بات کی اس نے کمال کر دیا۔ شادی کے بعد مشترکہ خاندانی نظام میں خود کو ایڈجسٹ کرنا پروین کے لیے بہت مشکل ثابت ہو رہا تھا۔ وہ سوچتی رہتی کہ کب وہ دن ائے گا جب وہ اپنی مرضی سے سوئے اور جاگے۔ اپنے شوہر کے ساتھ کسی الگ مقام پر گزارے لمحات کو پروین نے زندگی کا سب سے یادگار اور خوشگوار دور قرار دیا ہے۔ یہ شادی کے ابتدائی دن تھے جب ان کے شوہر نصیر علی کا کراچی سے ایبٹ اباد میں تبادلہ ہوا تھا۔ ایک پرفضا اور خوبصورت مقام پر۔ چاروں طرف سنوور کا جنگل سرسبز و شاداب پہاڑیاں اور بہتے چشمے۔ کالج کی چھٹی اور الودگی سے پاک ٹھنڈی ہوائیں۔ یہی تو پروین کو چاہیے تھا۔ وہ سوچنے لگی کہ اب اسے بھی اپنا تبادلہ ایبٹ اباد ہی کروا لینا چاہیے۔ خوبصورت مناظر میں اس کا وجود موسم بہار کی طرح کھل اٹھا۔ مگر کچھ لوگوں کے لیے خوشیوں کے موسم بھی ہوا کے جھونکوں کی طرح ہوتے ہیں۔ وہ چند گھڑیوں کے لیے بس چھو کر گزر جاتے ہیں۔ نصیر علی کے بڑے بھائی کا اچانک انتقال ہو گیا۔ اس کی امی کا اصرار بڑھنے لگا کہ وہ جلد از جلد واپس کراچی تبادلہ کرائے۔ ایک فرمانبردار بیٹے کا ثبوت دیتے ہوئے محض ایک سال بعد ہی نصیر کو کراچی انا پڑ گیا۔ یوں ایبٹ اباد میں قدرتی حسن کی رنگینیوں اور اپنے شوہر کے ساتھ من پسند زندگی گزارنا اب پروین کے لیے ممکن نہیں رہا۔ ساس کی سخت مزاجی اور پروین کے اگے سے اگے بڑھنے اور مزید دنیا دیکھنے کی ارزوئیں بھی ان کی ازواجی زندگی میں مسائل پیدا کرتی رہیں۔ وہ ساس کی تلخ باتوں کو سننے کے باوجود تو تکار سے گریز کرتی تھیں لیکن یہ ناگوار رویہ ان کے لیے مستقل درد سر بنا رہا۔ بات یہاں تک پہنچی کہ وہ ناراض ہو کر اپنے والدین کے گھر چلی ائیں۔ میاں بیوی کے درمیان اب فاصلے بڑھنے لگے۔ نصیر ہر صورت پروین کے ساتھ رہنا چاہتا تھا اس لیے خاندان کے کچھ لوگوں نے صلح کی راہ نکال لی۔ طے پایا کہ پروین الگ گھر میں رہے۔ یوں والدین کے گھر کے قریب ہی ایک کرائے کا مکان لیا گیا اور دونوں میاں بیوی وہاں رہنے لگے۔ پروین کی شادی کو تین سال ہونے کو تھے۔ ایک روز لیڈی ڈاکٹر نے اسے خبر سنائی کہ وہ ماں بننے والی ہے۔ دونوں میاں بیوی نے فیصلہ کیا کہ اگر لڑکی پیدا ہوئی تو اس کا نام شفا رکھا جائے گا اور اگر لڑکا پیدا ہوا تو مراد علی۔ 20 نومبر 1979 کو پروین کے ہاں بیٹا پیدا ہوا لیکن تب نصیر ان کے ساتھ موجود نہیں تھا۔ وہ دن بعد ہسپتال ایا جس پر پروین بڑی رنجیدہ تھی۔ انہیں لگ رہا تھا کہ جیسے نصیر کو اپنے بیٹے اور بیوی سے کوئی غرض ہی نہیں۔ بیٹی کی پیدائش کے بعد امید بندھی کہ شاید پروین اور اس کے سسرال میں چلنے والی ناراضگی ختم ہو جائے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پروین کو کالج جانے کے لیے اب بچہ اپنے والدین کے گھر چھوڑنا پڑتا۔ امجد اسلام امجد جنہیں پروین امجد بھائی کہہ کر پکارتی تھی انہوں نے پروین کو ماں بننے پر مبارکباد دی۔ اس پر پروین نے خط کے جواب میں لکھا کہ ہاں امجد بھائی یہ دور ہے تو بہت خوبصورت مگر اس کی اذیتیں بھی بہت ہیں۔ ممکنہ فیصلوں میں ایک ہجر کا فیصلہ بھی تھا۔ ہم نے تو ایک بات کی اس نے کمال کر دیا۔ شادی کے بعد مشترکہ خاندانی نظام میں خود کو ایڈجسٹ کرنا پروین کے لیے بہت مشکل ثابت ہو رہا تھا۔ وہ سوچتی رہتی کہ کب وہ دن ائے گا جب وہ اپنی مرضی سے سوئے اور جاگے۔ اپنے شوہر کے ساتھ کسی الگ مقام پر گزارے لمحات کو پروین نے زندگی کا سب سے یادگار اور خوشگوار دور قرار دیا ہے۔ یہ شادی کے ابتدائی دن تھے جب ان کے شوہر نصیر علی کا کراچی سے ایبٹ اباد میں تبادلہ ہوا تھا۔ ایک پرفضا اور خوبصورت مقام پر۔ چاروں طرف سنوور کا جنگل سرسبز و شاداب پہاڑیاں اور بہتے چشمے۔ کالج کی چھٹی اور الودگی سے پاک ٹھنڈی ہوائیں۔ یہی تو پروین کو چاہیے تھا۔ وہ سوچنے لگی کہ اب اسے بھی اپنا تبادلہ ایبٹ اباد ہی کروا لینا چاہیے۔ خوبصورت مناظر میں اس کا وجود موسم بہار کی طرح کھل اٹھا۔ مگر کچھ لوگوں کے لیے خوشیوں کے موسم بھی ہوا کے جھونکوں کی طرح ہوتے ہیں۔ وہ چند گھڑیوں کے لیے بس چھو کر گزر جاتے ہیں۔ نصیر علی کے بڑے بھائی کا اچانک انتقال ہو گیا۔ اس کی امی کا اصرار بڑھنے لگا کہ وہ جلد از جلد واپس کراچی تبادلہ کرائے۔ ایک فرمانبردار بیٹے کا ثبوت دیتے ہوئے محض ایک سال بعد ہی نصیر کو کراچی انا پڑ گیا۔ یوں ایبٹ اباد میں قدرتی حسن کی رنگینیوں اور اپنے شوہر کے ساتھ من پسند زندگی گزارنا اب پروین کے لیے ممکن نہیں رہا۔ ساس کی سخت مزاجی اور پروین کے اگے سے اگے بڑھنے اور مزید دنیا دیکھنے کی ارزوئیں بھی ان کی ازواجی زندگی میں مسائل پیدا کرتی رہیں۔ وہ ساس کی تلخ باتوں کو سننے کے باوجود تو تکار سے گریز کرتی تھیں لیکن یہ ناگوار رویہ ان کے لیے مستقل درد سر بنا رہا۔ بات یہاں تک پہنچی کہ وہ ناراض ہو کر اپنے والدین کے گھر چلی ائیں۔ میاں بیوی کے درمیان اب فاصلے بڑھنے لگے۔ نصیر ہر صورت پروین کے ساتھ رہنا چاہتا تھا اس لیے خاندان کے کچھ لوگوں نے صلح کی راہ نکال لی۔ طے پایا کہ پروین الگ گھر میں رہے۔ یوں والدین کے گھر کے قریب ہی ایک کرائے کا مکان لیا گیا اور دونوں میاں بیوی وہاں رہنے لگے۔ پروین کی شادی کو تین سال ہونے کو تھے۔ ایک روز لیڈی ڈاکٹر نے اسے خبر سنائی کہ وہ ماں بننے والی ہے۔ دونوں میاں بیوی نے فیصلہ کیا کہ اگر لڑکی پیدا ہوئی تو اس کا نام شفا رکھا جائے گا اور اگر لڑکا پیدا ہوا تو مراد علی۔ 20 نومبر 1979 کو پروین کے ہاں بیٹا پیدا ہوا لیکن تب نصیر ان کے ساتھ موجود نہیں تھا۔ وہ دن بعد ہسپتال ایا جس پر پروین بڑی رنجیدہ تھی۔ انہیں لگ رہا تھا کہ جیسے نصیر کو اپنے بیٹے اور بیوی سے کوئی غرض ہی نہیں۔ بیٹی کی پیدائش کے بعد امید بندھی کہ شاید پروین اور اس کے سسرال میں چلنے والی ناراضگی ختم ہو جائے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پروین کو کالج جانے کے لیے اب بچہ اپنے والدین کے گھر چھوڑنا پڑتا۔ امجد اسلام امجد جنہیں پروین امجد بھائی کہہ کر پکارتی تھی انہوں نے پروین کو ماں بننے پر مبارکباد دی۔ اس پر پروین نے خط کے جواب میں لکھا کہ ہاں امجد بھائی یہ دور ہے تو بہت خوبصورت مگر اس کی اذیتیں بھی بہت ہیں۔ ممکنہ فیصلوں میں ایک ہجر کا فیصلہ بھی تھا۔ ہم نے تو ایک بات کی اس نے کمال کر دیا۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript