[0:01]اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان اللعین الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ و کفا والسلام علی عباده الذین استفاں اما بعد فقد قال اللہ سبحانہ و تعالی فی محکم کتابہ المبین بسم اللہ الرحمن الرحیم إنا اعطیناک الکوثر فصلی لربک وانہرا انا شانیک ہوا الابتر صدق اللہ العظیم
[0:40]اعزانہ محترم سورہ کوثر کی تلاوت کا شرف حاصل کیا گیا۔
[0:48]اس مختصر ترین سورہ میں تین آیتیں ہیں 10 الفاظ ہیں اور 42 حروف ہیں۔ اتنے اختصار کے باوجود اس سورہ کی شان یہ ہے کہ وہ قصیدے جو بڑے بڑے عرب شعراء نے کہے تھے اور خانہ کعبہ کی دیوار پر آویزاں تھے۔ جب اس سورہ کو ان قصیدوں کے مقابلے میں پیغمبر اکرم نے وہاں آویزاں کروایا تو ان عرب شعراء نے جو زندہ تھے اس وقت۔ انہوں نے اپنے قصیدے ڈرا کر لیے اور یہ سورہ بطور معجزہ اس دیوار پر آویزاں رہا۔ کیا ہے اس سورہ مبارکہ میں جس کی شان یہ تھی کہ جب عرب شاعر نے اس سورہ کو پڑھا کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم إنا اعطیناک الکوثر فصلی لربک وانحر ان شانیکا ہوا الابتر تو بے اختیار کہنے لگا ما ھذا قول البشر یہ بشر کا کلام نہیں ہے۔ کیا ہے اس میں؟ بھئی بات یہ ہے کہ ادب کا جواب ادب سے دیا جا سکتا ہے۔ فصاحت کا جواب فصاحت سے دیا جا سکتا ہے۔ بلاغت اور شکوہ الفاظ کا جواب شکوہ الفاظ سے دیا جا سکتا ہے لیکن غیب کا جواب اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک انسان اسی غیب کی منزل پہ نہ ہو۔ غیب کا جواب ممکن نہیں ہے اور انسان کے پاس غیب ہے نہیں جب تک کہ خدا نہ بتلائے۔ تو اس سورہ میں پروردگار عالم نے جو تسلی دی ہے اپنے حبیب کو وہ تسلی یہ ہے کہ إنا اعطیناک الکوثر۔ حبیب ہم نے تمہیں کوثر عطا کر دیا فصلی لربک اپنے رب کی نماز پڑھو وانحر اور قربانی دو انا شانیک ہوا الابتر۔ یقیناً تمہارا دشمن بےعقب اور بےنسل ہوگا۔
[2:47]تم بےنسل اور بےعقب نہیں رہو گے تو تین ہی تو آیتیں ہیں نا۔ ہم نے تمہیں کوثر عطا کیا نماز پڑھو قربانی دو۔ تمہارا دشمن بےنسل ہے بےعقب ہے۔ دیکھیے اس سورہ کے نزول سے پہلے پیغمبر اکرم نماز پڑھتے تھے اور خانہ کعبہ میں پیغمبر اکرم کی نماز کا ریکارڈ تاریخوں میں ملتا ہے کہ کبھی کبھار اپ نے نماز پڑھی۔ لیکن علی الاعلان مشرکوں کے اس شہر میں اور مشرکوں کے اس سماج میں پیغمبر اپنی نماز کو خانہ کعبہ کی چار دیواری میں ادا نہیں فرما سکتے تھے۔ حضرت خدیجہ کی ساری دولت صرف ہو چکی تھی۔ موجود نہیں تھی۔ اور پیغمبر اکرم تنگدستی کی زندگی گزار رہے تھے۔ پیغمبر کی کوئی نرینہ اولاد موجود نہیں تھی اور دنیا والے یہ سمجھ رہے تھے کہ اب ان کی نسل اگے بڑھنے والی نہیں ہے کیونکہ ان کا دستور یہ تھا۔ ان کا شعار یہ تھا ان کی رسم یہ تھی کہ وہ اولاد کو لڑکے سے گنتے تھے لڑکی کی طرف سے اولاد کو اپنے نسب میں شامل نہیں کیا کرتے تھے۔ تو تین کمیاں پیغمبر اکرم نے نعوذ باللہ بظاہر نظر آ رہی تھی۔ نماز علی الاعلان خانہ کعبہ میں نہیں پڑھ سکتے۔ تنگدستی کی زندگی گزار رہے ہیں اور نسل میں لڑکی ہے اور لڑکا موجود نہیں ہے۔ اور تینوں باتوں کے سلسلے میں ایک ایک لفظ میں پروردگار عالم نے تسلی دے دی۔ حبیب ہم تمہیں کوثر دے رہے ہیں۔ فصلی لربک اپنے رب کی نماز پڑھو۔ ایک دن وہ ائے گا جب علی الاعلان تم خانہ کعبہ میں نماز پڑھو گے۔ وانحر قربانی دو بھئی جب تنگدستی رفع ہوگی جب ہی تو قربانی دیں گے نا۔ تو علی الاعلان تم نماز پڑھ سکو گے تمہاری تنگدستی اتنی رفع ہو جائے گی کہ تم قربانی دو گے اور حبیب پوری دنیا دیکھے گی۔ مستقبل دیکھے گا کہ جو تمہارے دشمن ہیں جو نعوذ باللہ تمہیں ابتر کہہ رہے ہیں ان کا نام بھی تمہارے حوالے سے تاریخ میں رہے گا ورنہ ان کا کوئی نام لینے والا نہیں رہے گا۔ اور تمہاری نسل کو ہم کثرت عطا کریں گے۔ بات تو واضح ہو گئی نا لیکن ایک لفظ کی طرف اپنے سارے سننے والوں کو متوجہ کرنا چاہوں گا۔ انا اعطیناک الکوثر حبیب ہم نے تمہیں کوثر عطا کیا۔ بھئی کوثر کیا ہے؟ کیا ہے کوثر؟ جسے پروردگار نے عطا کر دیا۔ وہ حوض جو جنت میں ہے۔ حوض کوثر یا وہ نہر جس کا نام نہر کوثر ہے۔ اگر یہ دے دیا اور پھر کہا کہ ہم نے عطا کر دیا تو چھوٹی چیز دے کر بڑا احسان جتلانا یہ شان کریمی کے خلاف ہے۔ جنت کی ایک نہر دے کر یا جنت کا ایک حوض دے کر یہ کہنا کہ ہم نے تمہیں کوثر عطا کر دیا یہ شان کریمی اور شان رحیمی کے خلاف ہے۔ تو یہ عرض کروں کہ پورے قرآن مجید میں لفظ کوثر ایک ہی مقام پہ ہے نا یہ اتنی بڑی کوئی شے ہے جو کسی اور نبی کو نہیں ملی سوائے پیغمبر کے۔ کوئی ایسی بڑی شے ہے جو سوائے پیغمبر اخر کے کسی اور نبی کو عطا نہیں ہوئی۔ کوثر کے معنی خیر کثیر بھئی دیکھیے گا کوثر کے معنی کیا ہیں؟ خیر کثیر ہر اچھی چیز کثرت کے ساتھ۔ یہ ہے کوثر کا مفہوم۔ ہر اچھی شے پوری کثرت کے ساتھ۔ تو اگر پروردگار عالم جو چیزیں پیغمبر کو عطا کر رہا تھا۔ جو اچھی چیزیں عطا کر رہا تھا۔ اگر ان کی فہرست گنانے بیٹھ جاتا کہ ہم نے یہ اچھی چیز تمہیں دی، یہ اچھی چیز تمہیں دی، یہ اچھی چیز تمہیں دی۔ اگر گنانے بیٹھ جاتا نا تو خدا کی قسم کائنات کے سارے قلم گھس جاتے۔ کائنات کے سارے ورق ختم ہو جاتے اور اللہ کی اچھی دی ہوئی چیزیں جو پیغمبر کو عطا کی وہ ختم نہ ہوتیں۔ اس لیے لفظ کوثر کہہ کر باقی مفہوم کو سننے والوں اور پڑھنے والوں کے ذہن پہ چھوڑ دیا کہ جو بھی خیر کثیر تصور کر سکتے ہو وہ ہمارے حبیب کے پاس موجود ہے۔ جو بھی جو بھی خیر کثیر تم تصور کر سکتے ہو ہم نے اپنے اس حبیب کو دے دیا ہے۔ اب سب سے بڑا خیر کثیر کیا ہو سکتا ہے؟ عرض کروں بھئی اس سے کچھ پہلے سورہ وضحی نازل ہوا۔ کہتے ہیں کہ پونے دو سال قبل سورہ وضحی بسم اللہ الرحمن الرحیم وضحی و لیل اذا سجاع ما ودعاک ربک و ما قالا ولااخرت خیر لکا من اولی ولسوف یوتیکا ربک فترضا۔ پورا سورہ آپ کی خدمت میں پیش نہیں کر رہا ہوں۔ دن کے گرم وقت کی قسم رات کے اندھیرے کی قسم۔ تمہارا رب تم سے ناراض نہیں ہے۔ تمہارے رب نے تمہیں چھوڑا نہیں ہے۔ ولاخرت خیر لکا من اولی اور حبیب تمہارا انجام تمہارے اغاز نبوت سے بہتر ہوگا۔ یہ کہنے کے بعد ایک جملہ کہا پروردگار نے پیغمبر اکرم کو تسلی دیتے ہوئے ولسوف یوتیکا ربک فترضا حبیب ہم تمہیں اتنی نعمتیں عطا کریں گے۔ تمہارا رب یوتیکہ صیغہ مضارع عطا سے تمہارا رب تمہیں اتنی نعمتیں عطا کرے گا کہ تم راضی ہو جاؤ گے۔ اب ہے نا کہ پروردگار عالم اپنے حبیب پر مسلسل نعمتیں نازل کرتا رہے گا۔ اور اتنی نعمتیں نازل کرے گا کہ پیغمبر راضی ہو جائیں۔ اب کیا معلوم کہ کتنی نعمتیں نازل کیں۔ ہے یا نہیں؟ اور کیا معلوم کہ پیغمبر کس منزل پر راضی ہوئے؟ لیکن اتنا معلوم ہے۔ اتنا معلوم ہے کہ جو بھی نعمت آئے گی پیغمبر اکرم کے پاس وہ رضائے رسول بن کے آئے گی۔ ولسوف یوتیکا ربک فترضا حبیب ہم تمہیں اتنی نعمتیں عطا کریں گے۔ عطا کریں گے مستقبل میں کہ تم راضی ہو جاؤ گے اور فورا بعد کہا کچھ دنوں بعد انا اعطیناک الکوثر۔ حبیب ہم نے تمہیں کوثر عطا کر دیا۔ یعنی اب کوثر جو بھی ہو وہ منزل رضائے رسول ہے۔ کوثر جو بھی شے ہو وہ منزل رضائے رسول ہے۔ تو کوثر کیا ہے؟ خیر کثیر۔ علم اگر خیر ہے کثرت کے ساتھ۔ حلم اگر خیر ہے کثرت کے ساتھ۔ تقوی اگر خیر ہے پیغمبر میں کثرت کے ساتھ۔ عبادت اگر خیر ہے پیغمبر اکرم میں کثرت کے ساتھ۔ یعنی کوئی خیر دنیا کا ایسا نہیں ہے جو پیغمبر اکرم میں کثرت کے ساتھ موجود نہ ہو۔ تو کوثر تو سمجھ میں ا گیا نا کہ کوثر کیا ہے؟ خیر کثیر۔ ہر وہ شے جو دنیا میں خیر ہے، بے عیب ہے، کمال ہی کمال ہے وہ پیغمبر اکرم کو دے دی گئی۔ بات تو واضح ہے نا لیکن ایک ایسے خیر کی طرف اپ کو متوجہ کروں جس کی کثرت کا کوئی اندازہ ہی نہیں ہے۔ بھئی پیغمبر کا تقوی پیغمبر کی زندگی تک۔ پیغمبر تشریف لے گئے دنیا سے پردے میں گئے تقوی پیغمبر کا سامنے نہیں ہے۔ پیغمبر کی عبادتیں بھئی 63 برس کی زندگی تو 63 برس کی عبادتیں۔ ختم ہو گئی نا اس کے بعد۔ پیغمبر کا اخلاق 63 سال کے دوران جو آپ نے اخلاق دیکھا وہی سامنے آیا۔ اج تو نہیں ہے نا تو یہ سارے وہ خیر ہیں۔ جن کی کثرت پیغمبر کی زندگی تک لیکن ایک خیر ایسا ہے ایک خیر ایسا ہے جس کی کثرت پیغمبر کی زندگی کے بعد بھی جاری ہے۔ اور وہ خیر کیا ہے؟ انا اللہ و ملائکہ یصلون علی النبی۔ یا ایھا الذین امنوا صلو علیہ وسلمو تسلیما اللہ اور اس کے فرشتے پیغمبر پر نبی پر درود بھیجتے ہیں۔
[10:20]اے ایمان لانے والوں تم بھی اس نبی پر درود بھیجو اور اپنے سر تسلیم کو اس کے سامنے خم کرو۔ بھئی یہی ہے نا ائے درود۔ اب میں اپ کی خدمت میں ایک جملہ عرض کروں۔
[10:48]اللہ اور اس کے فرشتے پیغمبر پر درود بھیجتے ہیں۔
[11:09]اے ایمان لانے والوں تم بھی اس نبی پر درود بھیجو اور اپنے سر تسلیم کو اس کے سامنے خم کرو۔ بھئی یہی ہے نا لفظ کیا استعمال ہوا؟ کوثر ایسی کثرت جو ختم نہ ہو۔ ایسی کثرت جو ختم نہ ہو۔ انا اللہ و ملائکہ یصلون علی النبی۔ اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اور بھیجتے رہیں گے نبی پر۔ تو اب جہاں تک خدا کا مستقبل جائے گا وہاں تک محمد پہ درود بھی ساتھ میں جائے گی۔



