[0:00]جتنے بھی اوورسیز پاکستانی ہیں جب وہ پاکستان میں کوئی پراپرٹی خریدنے کے لیے آتے ہیں یا وہ پراپرٹی بیچنے کے لیے آتے ہیں یا ایون وہ اپنے کسی رشتے دار کو پاور اف ٹرنی دے دیتے ہیں کہ وہ ان کے بیہاف پہ پراپرٹی کو سیل اؤٹ کر سکے یا خرید سکے تو ایک ایسا ٹیکس ہے جو کہ ایف بی اے نے لینا ہی ہوتا ہے کہ اگر وہ پراپرٹی خرید رہے ہیں تو 236 کے کا ٹیکس ہے، اگر وہ پراپرٹی بیچ رہے ہیں تو 236 سی کا ٹیکس ہے۔ اب جو اوورسیز پاکستانی ہیں ان کے اوپر جو ہے وہ فائلر کا ریٹ اپلائی کرتا ہے اور ان کا پراپرٹی خریدنے یا بیچنے کے لیے فائلر ہونا ضروری نہیں ہوتا یہ بھی ایک سیپرٹ لاء ہے اور اس میں ایف بی آر نے اب ایک بہت امپورٹنٹ چینج جو ہے وہ کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب کوئی اوورسیز پاکستانی یا نان ریزیڈنٹ پاکستانی جب کوئی پراپرٹی خریدے گا یا بیچے گا تو اس کے جو چالان بنانے کا پروسیجر ہے اس کو جو ہے وہ انہوں نے تبدیل کر دیا ہے۔ اب وہ چالان کیسے بنے گا؟ یہ ساری تفصیلات میں اج اپ کو اس ویڈیو میں بتاؤں گا۔ اپنی ویڈیو شروع کرنے سے پہلے میں اپ سے ریکویسٹ کروں گا میرے فیس بک پیج کو لائک کریں یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کریں دوسرا میری اپ سے ریکویسٹ ہے کہ اگر میری ویڈیو سے اپ کے لیے علم میں کوئی اضافہ ہوتا ہے تو ویڈیو کو لائک، کمنٹ اور شیئر ضرور کر دیا کریں اور اگر کسی کو فیصلے یا نوٹیفیکیشن کی کاپی چاہیے تو نیچے ڈسکرپشن میں میرا جو ہے وہ واٹس ایپ چینل ا رہا ہے وہاں پہ اپ جو ہے وہ کلک کر کے جو ہے وہ کاپی حاصل کر سکتے ہیں۔ تو اب ا جاتے ہیں اصل ٹاپک کی طرف کہ جو ایف بی ار نے چینجنگ کی ہے تو وہ کیا ہے؟ تو ایف بی ار نے ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے جس کے مطابق یہ ہے کہ جتنے بھی اوورسیز پاکستانی ہیں انہوں نے جب کوئی پراپرٹی خریدنی ہے یا بیچنی ہے تو انہوں نے اپنا جو چالان بنانا ہے یعنی کہ فائلر کے طور پر اگر ان کی پراپرٹی پانچ کروڑ روپے تک ہے تو ان کا جو خریدتے ٹائم ریٹ تھا وہ جو ٹیکس کا تھا وہ ایڈوانس ٹیکس 236 کے کا 1.5 پرسنٹ تھا۔ اسی طرح اگر وہ سیل اؤٹ کرتے ہیں تو 4.5 پرسنٹ اب اس کو انہوں نے باقاعدہ طور پہ جو ہے وہ ایک اٹو میٹڈ سسٹم کے ذریعے ایف بی ار نے جو ہے اس میں ترال جو ایک ادارہ ہے اس کو جو ہے وہ انہوں نے اٹو میٹڈ سسٹم کے ذریعے جو ہے وہ اتھرائز کیا تھا انہوں نے ایک پورا فلی اٹومیٹڈ جو ہے وہ سسٹم ڈیویلپ کر لیا ہے جس کے مطابق اب اپ جو چالان ہے وہ ان کے ذریعے جو ہے وہ بنائیں گے۔ اب وہ ہوگا کس طریقے سے کہ وہ بنے گا تو ایف بی ار کی ویب سائٹ کے اوپر لیکن جو ایک ریکوائرمنٹ ہے وہ اس طریقے سے جو ایک مینول طریقے سے لوگ پہلے جاتے تھے وہ ختم کر دی گئی ہے اب فلی اٹومیٹڈ کے لیے اپ کو پہلے یہ اسٹیبلش کرنا پڑتا ہے کہ اپ جو ہے وہ 183 ڈیز سے زیادہ پاکستان سے باہر ہیں اپ کا جو اگر پاکستان میں وزٹ ہے تو اپ کو اپنے پاسپورٹ کی کاپی ساری انٹری اور ایگزٹ وہ سارا جو ہے وہ ڈاکومنٹڈ پروف جو ہے وہ دینا پڑتا ہے۔ اب جب یہ ساری چیزیں اپ اپلوڈ کر دیتے ہیں اس کے بعد جو ہے وہ ایک پی ایس ائی ڈی جو ہے وہ جنریٹ ہوتا ہے۔ جیسے ہی اس پی ایس ائی ڈی کو کمشنر اپروول دیتا ہے تو اپ اس کے بعد جو ہے وہ اس کو جمع کروا سکتے ہیں۔ ادوائز وہ جو چالان جنریٹ ہوگا اس کو صرف اس گراؤنڈ کے اوپر جو ہے وہ جمع نہیں کروایا جا سکتا جب تک جو ہے وہ کہ جی اپ نے جو ہے وہ اپ پاکستان سے باہر ہیں اور اپ نے اس کے اندر جو ڈاکومنٹس دے دیے ہیں اس کو جو ہے وہ اوکے کر دیتے ہیں وہ باقاعدہ اس کی ویریفیکیشن کرتے ہیں کیونکہ بہت سے اوورسیز پاکستانی ایسے ہیں جو کہ پاکستان ا چکے ہوئے ہیں جنہوں نے ساری زندگی وہاں پہ کام کیا محنت کی اپنی انویسٹمنٹ دی اب وہ پاکستان ا چکے ہوئے ہیں کوئی دو سال سے ایا ہوا ہے کوئی تین سال سے ایا ہوا ہے کوئی چار سال سے ایا ہوا ہے تو وہ بھی جو ہے وہ اس کنسیشن کو جو ہے وہ اویل کرنا شروع ہو گئے تھے تو اس چیز کو جو ہے وہ ریکٹیفائی کرنے کے لیے یا نلیفائی کرنے کے لیے انہوں نے یہ سسٹم ڈیویلپ کیا ہے کہ اب اپ کو جو ہے وہ سارے سسٹم میں جو ہے وہ اپنے پاسپورٹس کی کاپی انٹری ایگزٹ اپ کا ورک پرمٹ اپ کا پاکستان ائے کا پاکستان سے گئے تو کیونکہ انہوں نے فائنینشل ائیر کے اندر 183 ڈیز دیکھنے ہیں کہ اپ 183 ڈیز پاکستان سے باہر رہے ہیں یا نہیں رہے کیونکہ یہ صرف اوورسیز پاکستانیوں کے لیے نہیں ہوتا یہ تمام ان لوگوں کے لیے بھی ہوتا ہے جو کہ پاکستانی ہیں بے شک وہ اوورسیز پاکستانی نہیں ہیں لیکن وہ نان ریزیڈنٹ اسٹیٹس اٹین کر لیتے ہیں ڈیو ٹو اینی ریزن وہ باہر جاتے ہیں دو مہینے کے لیے گئے تھے وہ چار مہینے اور سٹے کر لیتے ہیں تو ان کا اسٹیٹس جو ہے وہ جیسے ہی 183 ڈیز سے زیادہ ہوتا ہے وہ نان ریزیڈنٹ کی ڈیفینیشن میں ا جاتے ہیں۔ اور نان ریزیڈنٹ جب وہ بن جاتے ہیں تو اس کے بعد وہ اس کنسیشن کو جو ہے وہ اویل کر سکتے ہیں کہ اگر ان کا فائلنگ اسٹیٹس جو ہے وہ ان ایکٹو بھی ہے یا وہ ایف بی ار میں بطور فائلر یا ٹیکس پیئر رجسٹرڈ نہیں ہیں تو اس کے باوجود بھی جو ہے وہ اس اسٹیٹس کو جو ہے وہ انجوائے کر سکتے ہیں کہ ان کے اوپر جو فائلر ریٹ اپلائی کریں گے جو ہمارے یہاں پہ ایک انکم ٹیکس ارڈیننس کا سیکشن ہے سیکشن 111 اے سی اس کے تحت جو ہے وہ ان کو یہ ایگزیمپشن حاصل ہے کہ وہ بے شک ان کا اسٹیٹس ان ایکٹیو ہے بے شک وہ ایف بی ار میں رجسٹرڈ بھی نہیں ہیں کوئی بھی سچوئیشن ہے ان میں سے اس کے باوجود جو ہے وہ ان ساری چیزوں کے ہوتے ہوئے 183 ڈیز سے زیادہ اگر پاکستان سے باہر اگر اپنا ٹائم سپینڈ کرتے ہیں تو وہ ایزیلی جو ہے وہ اپنا فائلنگ اسٹیٹس کی بنیاد کو ایکسکلوڈ کرتے ہوئے اپنے نان ریزیڈنٹ ہونے کی گراؤنڈ کے اوپر جو ہے وہ اس اسٹیٹس کو اویل کرتے ہوئے اپنا جو ٹیکس جو ٹیکس ہے یہ جو 236 کے کا 236 سی کا اس کی جو ہے وہ کنسیشن کو اویل کر سکتے ہیں تو یہ سارا سنیریو ہے میں نے اج اپ کو اس ویڈیو میں بتایا ہے کیونکہ 236 کے بائر نے دینا ہے 236 سی سیلر نے دینا ہے۔ جب تک یہ ٹیکس پے نہیں ہوتا پراپرٹی اگے رجسٹرڈ نہیں ہوتی۔ ہوپ سو اپ کو یہ ویڈیو پسند ائی ہوگی اس طرح کی مزید ویڈیوز دیکھنے کے لیے میرے فیس بک پیج کو لائک کریں یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کریں تاکہ لیگل ٹاپکس ریلیٹڈ اس طرح کی ویڈیو میں اپ سے شیئر کرتا ہوں۔ تھینک یو فار واچنگ

FBR CHANGED the procedure for Advnace tax under section 236K and 236C for overseas pakistanis
Adv Shakeel Ur Rehman
4m 48s1,247 words~7 min read
Auto-Generated
Watch on YouTube
Share
MORE TRANSCRIPTS


