Thumbnail for Story Of GHADEER | Full Documentary by Indepth Media

Story Of GHADEER | Full Documentary

Indepth Media

15m 9s2,376 words~12 min read
Auto-Generated

[0:03]بسم اللہ الرحمن الرحیم رسول کا اخری حج ہجرت کے دسویں سال 24 ذی قادہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی زندگی کا پہلا اور اخری حج کرنے مکہ کی جانب روانہ ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مدینہ و اطراف مدینہ کے لوگوں کو اپنے اس حج کے سفر میں شامل ہونے کی دعوت دی ان کی اس اواز پر اصحاب و احباب سب نے برابر لبیک کہا یوں ان کی ہمراہی میں مدینے سے مکہ جانے والے قافلے کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 20 ہزار تک جا پہنچی تاریخ نے اس حج کو تین ناموں سے یاد کیا ہے پہلا حج الاسلام چونکہ یہ اسلام کی تاریخ کا پہلا حج تھا دوسرا حج الوداع اس لیے کہ یہ رسول اکرم کا پہلا اور اخری حج تھا اور تیسرا حج البلاغ اس لیے کہ اس حج کے اختتام پر قران کی معروف ایت ایت تبلیغ نازل ہوئی کہ جس ایت کا شان نزول غدیر کا واقعہ ہی ہے جس سال رسول خدا مدینے سے مکہ حج کرنے کے لیے ائے عین اسی برس امیر المومنین علی علیہ السلام یمن سے رسول اسلام کے ہمراہ حج کرنے ائے رسول خدا نے ہی 300 گھڑ سواروں کے ہمراہ امام علی علیہ السلام کو یمن روانہ کیا تھا امیر المومنین نے یمن پہنچ کر لوگوں کو دعوت اسلام دی ایک بڑی تعداد امیر المومنین کے ہاتھوں دائرہ اسلام میں داخل ہوئی ادھر رسول خدا منزلوں کو طے کرتے ہوئے مکے کی حدود قریب پہنچے ہی تھے کہ ادھر امیر المومنین یمن سے رسول خدا کے قافلے کے ساتھ املے دونوں بھائیوں نے مکے کی حدود میں داخل ہو کر حج کے مناسک و مراسم ادا کرنا شروع کیے اس طرح رسول اللہ کی اتباع میں ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد مسلمانوں نے اسلام کے پہلے حج کا فریضہ ادا کیا غدیر خم اب جب رسول خدا اپنا پہلا اور اخری حج کر کے واپس لوٹ رہے تھے اور حاجیوں کے ہمراہ مدینے کی راہ پر گامزن تھے منزل ب منزل جیسے ہی حاجیوں کا یہ قافلہ غدیر خم کے مقام پر پہنچا تو خداوند عالم کی طرف سے جبرائیل امین ایت کی صورت میں ایک حکم نامہ لے کر رسول اللہ کے حضور حاضر ہوئے غدیر خم مکہ کی حدود سے باہر ایک ایسی جگہ کا نام ہے جہاں سے مختلف ملکوں اور شہروں کو راستے نکلتے تھے یمن، عراق، مصر، مدینہ، بصرہ وغیرہ کی طرف یہاں سے راستہ نکلتا گویا یہ جگہ ایک چوک کی صورت میں تھی جہاں پر مختلف شہروں سے انے والے راستے املتے اسلام کا یہ قافلہ جب مقام قدیر پر پہنچا تو ذی الحجہ کی 18 تاریخ اور جمعرات کا دن تھا جس طرح نماز روزہ اور حج کے لیے واضح طور پر قرانی ایات موجود ہیں ایسے ہی قران مجید کی تین ایات کا تعلق براہ راست واقع غدیر سے ہے پہلی ایت وہ ہے جو واقعے سے پہلے نازل ہوئی۔ ایت کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ حج الوداع کے موقع پر اللہ نے اپنے رسول کو بالخصوص عہدہ رسالت سے مخاطب کرتے ہوئے امام علی علیہ السلام کی ولایت و امامت کا حکم دیا اور یوں فرمایا یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک وان لم تفعل فما بلغت رسالته والله يعصمك من الناس اے رسول جو کچھ اپ کے رب کی طرف سے اپ پر نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دیجیے اور اگر اپ نے ایسا نہ کیا تو گویا اپ نے اللہ کا پیغام نہیں پہنچایا اور اللہ اپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا ایت کے نازل ہوتے ہی رسول خدا نے اپنے ہمراہ تمام حاجیوں کو غدیر خم پر پڑاؤ ڈالنے کا حکم دیا سامان سفر کھول دیا گیا خیمے نصب کر دیے گئے اور سواریوں کی رسیوں کو ڈھیلا چھوڑ دیا گیا حکم خدا کی اہمیت کے تقاضے کو مدنظر رکھتے ہوئے رسول خدا نے حکم دیا کہ جو لوگ اس مقام سے اگے بڑھ چکے ہیں انہیں واپس بلایا جائے اور پیچھے رہ جانے والوں کا انتظار کیا جائے تب اگلے پچھلے تمام لوگ رسول کے قافلے کے ساتھ املے پھر رسول خدا نے اللہ کے حکم کی تعمیل کی اور جو کچھ نازل ہوا اور جو حکم ملا اسے من و عن حاجیوں اور صحابیوں کے درمیان بیان کیا اعلان ولایت ایک پہر میدان خم کا ایک پہر را شور کا ایک پہر میدان خم کا ایک پہر را شور کا دو پہر کی دھوپ سے اسلام کو سایہ ملا غدیر کے میدان میں جوں ہی دو پہر کا وقت ہوا تو معاذ نے اذان دی اذان کے ختم ہوتے ہی وہاں موجود لوگوں نے نماز کی صفیں ترتیب دی سب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھی نماز کے ختم ہوتے ہی رسول اکرم کے قدم مبارک اس جانب بڑھے جہاں لوگوں کے درمیان کھڑے ہو کر رسول خدا نے اپنی زندگی کا اہم ترین خطبہ دینا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اس اہم خطاب کے لیے غدیر کے اس میدان میں جو ممبر نصب کیا گیا تھا وہ اونٹوں کی پالانوں کو ترتیب دے کر بنایا گیا

[5:31]دنیا کا انوکھا ممبر تھا رسول خدا ممبر پر جلوہ افروز ہوئے رسول اللہ کے ارد گرد حاجی صحابیوں کا ایک مجمع تھا غدیر کے واقعے میں موجود افراد کی تعداد کے بارے میں محققین کے درمیان ایک حد تک اختلاف پایا جاتا ہے بہرحال کم سے کم 10 ہزار زیادہ سے زیادہ 70 ہزار افراد اس میدان میں موجود تھے سب کی نظریں رسول اللہ کے چہرہ اقدس پر جمی تھیں اتنے میں وما ینطق عن الهوا کے مصداق نے اپنے لبوں کو جنبش دی خطبہ غدیر ایھا الناس عنقریب میں داعی اجل کو لبیک کہنے والا ہوں اور قیامت والے روز ہر ادمی سے باز پرس کی جائے گی مجھے رسول کے متعلق تم سب کی کیا رائے ہے سب نے یک زبان ہو کر کہا اے اللہ کے رسول ہم گواہی دیتے ہیں اپ نے خدا کے دین مبین کو نہایت امانت داری کے ساتھ من و عن ہم تک پہنچایا ہمیں تاریکیوں سے نکال کر روشن راہوں پر لا کھڑا کیا اور اس کے لیے اپ نے بڑی جد و جہد کی مصائب جھیلے سختیاں برداشت کی پھر رسول خدا نے حاضرین سے پوچھا کیا تم لوگ اللہ کے ایک ہونے مجھ محمد کو اس کا عبد و رسول ہونے جنت و جہنم اور قیامت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کی گواہی دیتے ہو سب زبانوں نے رسول کے سوال کی تصدیق کی تو رسول اللہ نے کہا اے اللہ ان لوگوں پر گواہ رہنا پھر رسول نے کہا ایھا الناس اللہ میرا مولا ہے اور میں مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں یہ جملہ کہنے کے بعد فورا رسول اللہ نے فرمایا اگاہ رہو من کنت مولا ف علی مولا اللہم وال من والہ وعد من اعدہ جس جس کا میں مولا ہوں اب علی اس کے مولا ہیں۔ پروردگار تو اس سے محبت رکھنا جو علی سے محبت کا دم بھرے اور اس سے دشمنی رکھنا جو علی سے دشمنی رکھے پھر فرمایا میں تم لوگوں کو چھوڑ کر جا رہا ہوں۔ اب تم لوگ مجھے اپنے درمیان نہیں پاؤ گے اب مجھ سے تم سب لوگوں کی ملاقات اس وقت ہوگی جب تمہیں حوض کوثر پر میرے سامنے لایا جائے گا پھر حوض کوثر پر میں تم لوگوں سے ثقلین کے متعلق سوال کروں گا اور دیکھوں گا کہ کس طرح تم لوگوں نے میرے بعد ثقلین کی مخالفت کی اور اسے چھوڑ دیا ثقلین کا لفظ سنتے ہی سب نے رسول خدا کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا اور ثقلین سے متعلق وضاحت چاہی تو رسول نے کہا ثقلین سے مراد خدا کی کتاب اور میرے اہل بیت ہیں وہ کتاب کہ جس کا ایک سرہ خدا کے ہاتھ میں اور دوسرا اپ لوگوں کی جانب ہے یہ دونوں کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے حتی اسی کیفیت میں حوض کوثر پر مجھ سے املیں گے تم لوگوں پر لازم و فرض ہے کہ ان دونوں سے جڑے رہنا اور ان دونوں کو تھامے رکھنا متمسک رہنا اسی میں تمہاری بھلائی ہے جیسے ہی غدیر کے مقام پر بہ حکم خدا علی علیہ السلام کی ولایت و امامت کا اعلان ہوا اسی دوران اللہ نے ایک اور ایت کا امین بنا کر جبرائیل کو رسول خدا کے پاس بھیجا ایت میں واضح طور پر خدا نے کہا کہ الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دین اج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا اور یوں امیر المومنین علیہ السلام کی ولایت و امامت کا اعلان ہوتے ہی دین مکمل ہو گیا اعلان ولایت کے بعد بیعت اور مبارکباد جب اعلان ولایت ہو چکا اب سامعین و حاضرین سے بیعت لینے کا مرحلہ ایا تو اس کام کے لیے دو خیمے نصب کیے گئے ایک نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا دوسرا علی علیہ السلام کا اب نبی اکرم نے وہاں موجود تمام صحابہ کو حکم دیا کہ فردا فردا اگے بڑھ کر علی علیہ السلام کو امیر المومنین کہہ کر بیعت کریں نبی کے حکم پر بیعت کرنے والا پہلے نبی اکرم کے خیمے میں داخل ہوتا نبی کے دست مبارک پر عہد ولایت کرتے ہوئے اگے علی علیہ السلام کے خیمے کی طرف بڑھ جاتا جہاں علی علیہ السلام کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر یہ عہد کرتا کہ نبی کے بعد اپ میرے ولی و سردار ہیں گویا رسول پہلے اپنے ہاتھ پر بیعت لے کر پھر امیر المومنین کے پاس بھیج کر یہ بتلاتے رہے کہ علی کی ولایت بعینی ہی وہی ولایت ہے جو میرے ہاتھوں پر کر رہے ہو کیونکہ رسول بھی جانتے تھے کہ امت میرے بعد اس مولا کے معنی میں تبدیلی کرے گی لہذا یہ شبہ کسر وہیں توڑ دیا امیر المومنین کی بیعت کرنے میں سبقت کرنے والوں میں مسلمانوں کے پہلے اور دوسرے خلیفہ اور طلحہ و زبیر تھے افسوس تو اس بات پر ہے کہ اس وقت مسلمانوں کے پہلے اور دوسرے خلیفہ نے نہ صرف امیر المومنین کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا بلکہ یہ کہہ کر مخاطب کیا کہ اے علی علیہ السلام مبارک ہو اپ کو کہ اپ میرے اور ہر مومن و مومنہ کے اقا و سردار قرار پائے اور پھر اس طرح باقی مرد حضرات بھی اتے رہے اور مولا کی بیعت کرتے رہے خواتین نے کیسے بیعت کی چونکہ غدیر کے میدان میں خواتین بھی شامل تھیں۔ اب جب ان کی بیعت کا معاملہ پیش ایا تو نبی اکرم نے پانی سے بھرا تشت منگوایا ایک طرف مولا کو بٹھا دیا دوسری جانب خواتین باری باری خیمے میں داخل ہوتی اور پانی بھرے تشت میں ہاتھ رکھتی اسی تشت میں دوسری جانب مولا کا دست مبارک تھا اس طرح پانی کے ذریعے خواتین سے بیعت لینے کا سلسلہ تمام ہوا ولایت کے انکار کرنے والے پر عذاب خدا غدیر کے واقعے کو تشکیک کی نگاہ سے دیکھنا گویا دن دہاڑے سورج کا انکار کرنا ہے کوئی کج بحث اور ہٹ دھرمی ہی ایسا کر سکتا ہے ورنہ ایک عاقل انسان کا ہرگز یہ کام نہیں ہو سکتا ایسا واقعہ جس کا پہلا گواہ کلام خدا یعنی قران دوسرا خود ہمارا سچا نبی تیسرے نبی کے نامی گرامی صحابہ جس کے چشم دید گواہ ہوں۔ پھر 1400 سالہ اسلامی تاریخ کی طویل داستان جس واقعے کو صدی ب صدی نقل کرتی چلی ا رہی ہو واقعے کے پہلے راویوں میں عینی شاہدین میں خود صحابہ کی ایک جماعت جیسے عمر ابن خطاب عثمان بن عفان عائشہ بنت ابی بکر زبیر ابن عوام رسول کے چچا عباس ابن عبدالمطلب ہوں غدیر اسلامی تاریخ کا وہ واحد واقعہ ہے جس کے راویوں کی تعداد بہت زیادہ ہے کیا اہل بیت کیا صحابی کیا تابعی کیا تابع تابعی علماء فقہا شعراء تاریخ دان سب نے اس واقعے کو نقل کیا 110 صحابہ جو راوی ہونے کے ساتھ ساتھ عینی شاہد بھی ہیں 90 کے قریب تابعین اور دوسری صدی سے لے کر 14ویں صدی تک 360 بڑے بڑے سنی علماء نے اس واقعے کو نقل کیا جب غدیر کے واقعے کی خبر شہر ب شہر قریہ ب قریہ پہنچی تو نعمان بن حارث فیری کے کانوں میں بھی اس واقعے کی صدا گونجی وہ رسول اکرم کی بارگاہ میں ایا اور ا کر رسول خدا سے کہنے لگا کہ اے رسول اپ نے کہا اللہ ایک ہے ہم نے مان لیا اپ نے کہا میں اس کا رسول ہم نے یہ بھی مان لیا اپ نے کہا نماز روزہ زکوۃ ہم نے سر تسلیم خم کیا اپ کہتے چلے گئے ہم مانتے چلے گئے یہاں تلک کہ اپ نے ہمارے اوپر اپنے چچا کے بیٹے علی کو یہ کہہ کر مسلط کر دیا کہ جس جس کا میں مولا ہوں علی اس اس کا مولا و اقا ہے اب یہ علی کی ولایت کا اعلان اپ اپنی خواہش پر کر رہے ہیں یا خدا کے حکم سے تو رسول اللہ نے کلمہ توحید قسم کھاتے ہوئے کہا یہ اسی کا حکم ہے یہ سنتے ہی نعمان بن حارث نے کہا اے اللہ اگر اپ کا رسول سچ کہہ رہا ہے تو مجھ پر ابھی ابھی عذاب نازل ہو اور اسمان سے مجھ پر پتھر گر پڑے اس کی دعا ختم نہیں ہوئی تھی کہ اسمانوں کی بلندیوں سے ایک پتھر نیچے گرا نعمان کے سر پر لگا اور دونوں پیروں کے درمیان سے نکل گیا اور یوں نعمان فیری وہیں ہلاک و فنار ہو گیا اس موقع پر خدا نے ایت نازل کی جو غدیر سے متعلق قران کی تیسری ایت ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم سائل سائل بعذاب واقعی ایک سوال کرنے والے نے عذاب کا سوال کیا جو واقع ہونے ہی والا ہے اس واقعے کو شیعہ سنی تمام مفسرین نے نقل کیا کیا ان سب کے باوجود بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ خطب غدیر میں مولا دوست کے معنی میں ہے کیا رسول نے اپنی زندگی کے اخری دنوں میں دوستی کا اعلان کرنے کے لیے اتنے لوگوں کو دھوپ میں کھڑا رکھا اور ایک ایک سے یہاں تک کہ خواتین سے بھی بیعت لی کیا دوستی کے بیعت بھی لی جاتی ہے

[14:56]جن لوگوں نے روز غدیر امیر المومنین کے ہاتھوں پر بیعت کی، چند ہی مہینوں بعد ایسا کیا ہوا کہ انہوں نے خلافت کی رسی کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript