[0:00]بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم سب سے بڑا سوال کہ کاروبار کو کامیاب کیسے بنائے؟ دوستو یہ جو بزنس ہے نا تجارے اس میں بڑی برکت ہے اور چونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے تجارت کی ہے تو یہ سنت بھی ہے لہذا مسلمانوں کو تجارت کی طرف موٹیویٹ ضرور کرنا چاہیے لیکن جس طرح ہر کام کے اصول ہوتے ہیں اسی طرح تجارت بھی کی کچھ اصول و ضوابط ہوتے ہیں رولز اینڈ ریگولیشنز ہوتے ہیں تجارت بزنس کے بھی جن پر عمل کر کے ہی کامیابی مل سکتی ہے اج سے سینکڑوں سال پہلے صحابہ کرام نے اسلامی اصولوں کے تحت تجارت کی تھی اور اس وقت ہمیں مسلمانوں کو اسپیشلی طور پر یہودیوں کے مقابلے میں اس وقت انہیں اسلاموں کو اسلامی جو اصول تھے ان کو فالو کرنے کی ضرورت ہے تو لوگ ان کی ایمانداری اور خوش اخلاقی سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرنے لگے ایک چینی کہاوت ہے جو شخص خوش اخلاق نہیں ہے اسے دکان نہیں کھولنی چاہیے ہمارا تو یہ حال ہے کہ اگر ہمارا دکاندار اس کا کاروبار نہیں چل رہا ہوتا تو برکت کے لیے قران خوانی اور ایت کریمہ تو ورد کا ضرور کرائیں گے اس کا لیکن اگر کاروبار چلنے لگ گیا ہو تو گاہکوں سے خاص طور پر چھوٹے گاہکوں سے بے حد بے رخی بدتمیزی سے پیش ائیں گے تجارت شروع کرنے اور کامیابی سے جاری رکھنے کے لیے کچھ اصول ذکر کیے جا رہے ہیں انہیں اچھی طریقے سے یاد رکھیے اور دماغ کی کھڑکیوں کو کھول کے سنیے گا پہلا اصول قرض اور سود لے کر کاروبار شروع نہ کریں معذرت کے ساتھ اس وقت ملک پاکستان میں بھی سود نے اپنی جڑیں اتنی مضبوط کر لی ہیں کہ استغفراللہ سود اور قرض لے کر کاروبار شروع نہ کریں پہلا یہ ہے کہ قرض لے کر کاروبار ہرگز شروع نہ کریں بلکہ پہلے کچھ بچت کریں جمع پونجی کریں پھر اس میں انویسٹ کریں صرف قرض سے کاروبار کا اغاز کامیاب ایکسپیرینس نہیں ہے تجارت کے لیے سود پہ پیسہ خدا ہرگز مت لیں کیونکہ سود میں برکت نہیں ہے وبال ہے سود اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے خلاف اعلان جنگ ہے سود اور قرض لے کر بزنس سٹارٹ نہیں کرنا چاہیے دوسرا اصول اپنی بچت سے اپنی سیونگ سے کاروبار بزنس سٹارٹ کریں دوسرا یہ ہے کہ کاروبار پر ساری جمع پونجی نہ لگا دیں کیونکہ کاروبار جمنے اور اس کو فروغ پانے میں اٹس ا ٹائم ٹیکنگ پراسس بلکہ کئی بار تو برسوں لگ جاتے ہیں تب تک اپنے گھریلو خرچ کے لیے رقم اپ کے پاس ضرور ہونی چاہیے تیسری بات یاد رکھیں کامیاب کاروبار کے لیے ایکسپیرینس ایکسپوزر کا ہونا بے حد ضروری ہے تیسرا یہ ہے دوستو کہ کاروبار چاہے کچھ بھی کریں اس کا ایکسپیرینس ضرور ہونا چاہیے اپ کے پاس اس کے لیے کسی کارخانے یا دکان میں ملازمت کریں یا کوئی اور سورس اختیار کریں اس سے اپ کو کام کی چھوٹی موٹی چھپی ہوئی اہم چیزیں بھی معلوم ہوں گی اور ہمارے بعض سے جو بعض بھائی جو ہیں وہ خلیجی ممالک میں زندگی بھر کما کر جمع کرتے رہتے ہیں مگر بغیر کسی ایکسپیرینس کے جب ملک پاکستان میں لینڈ کرتے ہیں تو بغیر ایکسپیرینس کے کاروبار سٹارٹ کرتے ہیں اور اسی وقت وہ فلاپ ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کاروبار کبھی زندگی میں نہیں کرنا چاہیے اپ کو جاب کرنی چاہیے تو یاد رکھیں بغیر ایکسپیرینس اور ایکسپوزر کے اپ کو بزنس سٹارٹ نہیں کرنا چاہیے اور وہ لوگ کیا کرتے ہیں نتیجتا ساری جمع بوچی لٹا بیٹھتے ہیں اور ہاتھ پہ ہاتھ دھرے رکھ کے گھر میں بیٹھ جاتے ہیں اور دوسروں کو لعنت طعن اور کوستے رہتے ہیں چوتھی بات یاد رکھیں اپنے پیشن اور ذوق کے مطابق کاروبار سٹارٹ کریں یاد رکھیں دوستو کسی کی دیکھا دیکھی یا دوسروں کی باتوں میں ا کر کوئی کاروبار شروع نہ کریں تجارت اسی چیز کی کریں جس کا اپ کو تجربہ ہو اور اسی کی طرف اپ کی طبیعت وہ بھی راغب ہو یہ ہمیشہ اپ نے یاد رکھنا ہے پانچویں بات یاد رکھیں کاروبار ہمیشہ چھوٹے پیمانے سے شروع کریں پانچویں بات یہ ہے دوستو کہ جب بھی کوئی کاروبار کریں ہمیشہ چھوٹے پیمانے سے سٹارٹ کریں پھر گریجویلی اسے ترقی دینے کی کوشش کریں اپنے کارخانے اور دکان کے چھوٹے سے چھوٹے کام خود بھی سرانجام دینے کی کوشش کیا کریں اسٹارٹ میں اگر اپ کی کوئی شاپ ہے کوشش کیا کریں جھاڑو بھی خود لگایا کریں صفائی ستھرائی کا کام بھی خود کیا کریں خواہ اس کے لیے ملازم ہی کیوں نہ ہو اپ کے پاس موجود کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ اتفاق یا ان کی غیر موجودگی تاکہ کوئی اپ کو پریشانی نہ اٹھانا پڑے چھٹی بات یاد رکھیں اپنی ملازمین کی قدر و عزت ضرور کریں پرانے ملازمین کی قدر کریں اور ان کے سکھ اور دکھ میں بنفس نفیس خود شریک ہوں اس سے اپ کو ان کے تجربوں سے زیادہ دنوں تک فائدہ بھی ہوتا رہے گا اور چھوٹے گاہکوں سے بالخصوص خوش اخلاقی سے پیش ائیں اگر کوئی گاہک سامان نہ بھی خریدے تو بھی اپنی دکان میں انے کے لیے اس کا شکریہ ادا کریں اگر جگہ ہو تو پانی پلانے کا بھی انتظام رکھیں اور گاک گاہکوں کے ساتھ انے والے چھوٹے بچوں کی دلجوئی کے لیے چاکلیٹس یا ٹافیاں وغیرہ بھی ضرور رکھا کریں یہ چھوٹی چھوٹی باتیں لوگوں کا دل جیتنے اور ان کو قریب لانے کا ایک بہت بڑا سورس بنتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ میں اپ کو شیئر کرنا چاہتا ہوں ساتواں وہ ہے کہ چیزوں کی واپسی یا تبدیلی میں تحمل سے کام لیں یقین مانیں میں نے اکثر مسلمانوں کی دکانوں پہ باہر اتنا بڑا ٹیگ لگا ہوا دیکھا ہوتا ہے کہ وہاں پہ لکھا ہوتا ہے برملا لکھا ہوتا ہے کہ خریدی ہوئی چیز واپس یا تبدیل نہیں ہوگی یہ بہت بڑا میں سمجھتا ہوں سائن ہے اس کاروباری کے لیے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت کے منافی ہے سامان میں اگر واقعی عیب ہو تو بہانے نہ بنائے بلکہ تبدیل کر کے دیں اپنے کام میں کچھ نہ کچھ دوسروں کے مقابلے میں انڈویولٹی انڈویولٹی جو ہے نا اپنی انفرادیت ضرور لے کر ائیں اور اخری چیز یہ ہے کہ ہم اپنے ہم پیشہ لوگوں سے تعلقات ہمیں دوستانہ رکھنے چاہیے ان سے رابطے میں رہیں عام طور پر یہ دیکھا ہے کہ ہم لوگ تاجر پیشہ جو لوگ ہوتے ہیں ایک دوسرے سے رقاوت اور حسد رکھتے ہیں پروفیشنل جیلسی رکھتے ہیں جو کہ انتہائی نقصان دہ ہے روزانہ اخبارات کا مطالعہ کریں کاروباری حالات پہ نظر رکھیں اپنی قابلیت سے زیادہ بڑھ چڑھ کر دعوی اور وعدہ کبھی نہ کریں طے شدہ وقت سے پہلے متوقع کوالٹی سے بہتر اور مقررہ لاگت سے کم میں پورا کیا جانے والا کام گاہک کے اطمینان اور اپ کی کامیابی کا سبب بنتا ہے دوستو یاد رکھیے کاروبار خالص اسلامی اصولوں پر کریں اور اپنی دنیا سمیت اخرت کو بھی بہتر بنانے کا سامان ضرور کریں زکوۃ بالکل صحیح حساب لگا کر ادا کریں اور اپنے کاروبار کی حفاظت صدقے کے ذریعے کریں اور اخری بات یاد رکھیں کہ قسم کھا کر مال بیچنے سے مال تو بک جاتا ہے مگر برکت ختم ہو جاتی ہے دوستو اگر یہ اسلامی اصول کاروبار کرنے کے اپ کو اچھے لگے ہو تو دوسروں کے ساتھ ضرور شیئر کیجئے گا اپنا اور اپنے ساتھ جڑے رشتوں کا خیال رکھیے گا اللہ حافظ

How to grow your small business successfully | Business Growth Strategies in Urdu | Dr Asad Mehmood
Asad Mehmood
6m 24s1,245 words~7 min read
Auto-Generated
Watch on YouTube
Share
MORE TRANSCRIPTS


