[0:10]ان الحمد لله. نحمده ونستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور انفسنا ومن سيئات اعمالنا. من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له واشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له. واشهد ان محمدا عبده ورسوله يا ايها الذين امنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن الا وانتم مسلمون. يا ايها الناس اتقوا ربكم الذي خلقكم من نفس واحده وخلق منها زوجها وبث منهما رجالا كثيرا ونساء. واتقوا الله الذي تساءلون به والارحام ان الله كان عليكم رقيبا. يا ايها الذين امنوا اتقوا الله وقولوا قولا سديدا يصلح لكم اعمالكم ويغفر لكم ذنوبكم. ومن يطع الله ورسوله فقد فاز فوزا عظيما. اما بعد فان خير الحديث كتاب الله وخير الهدي هدي محمد صلى الله عليه وسلم. وشر الامور محدثاتها وكل محدثه بدعه وكل بدعه ضلاله وكل ضلاله في النار. اعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفسه. تلك الدار الاخره نجعلها للذين لا يريدون علوا في الارض ولا فسادا والعاقبه للمتقين. حضرات گرامی ابھی میں نے اپ کے روبرو سورہ قصص کی ایک ایت پڑھی ہے۔ اللہ تبارک و تعالی نے اس ایت میں ارشاد فرمایا کہ تلک الدار الاخرہ وہ اخرت کا گھر۔ نجعلہ للذین لا یردون علوف الارض ولا فساد اخرت کے اس گھر کو ہم ان لوگوں کے حق میں کرنے والے ہیں۔ جو زمین میں نہ سرکشی کرتے ہیں اور نہ ہی فساد چاہتے ہیں۔ والعقب للمتقین اور انجام کار ہمیشہ متقیوں کے حق میں ہوتا ہے۔ اللہ رب العزت نے اس ایت میں اس حقیقت کو بیان کیا ہے کہ اخرت کی کامیابی ان بندوں کا نصیب ہے ان بندوں کا مقدر ہے۔ جو زمین میں تکبر نہیں کرتے اترا تے نہیں ہے بلکہ زمین میں عاجزی اور انکساری سے چلا کرتے ہیں۔ حضرات اللہ رب العالمین کی عظمت کو جو شخص بھی جانے گا۔ اور اپنی حیثیت کو پہچانے گا ہر اس شخص کے اندر ایک ایک صفت ضرور پیدا ہوتی ہے۔ جس صفت کو کہا جاتا ہے تواضع عاجزی اور انکساری۔ رب العالمین کی کبریائی ہمیں عاجزی کا سبق پڑھاتی ہے۔ رب العالمین کی عظمت ہمیں ان کساری کا سبق پڑھاتی ہے۔ رب العالمین کی عظمت ہمیں تواضع کا سبق پڑھاتی ہے۔ تواضع عاجزی اور انکساری اس زمین پر انسان کے اندر بہت بڑی صفت ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح مسلم کی ایک حدیث میں فرمایا ان اللہ تعالی اوحا الی ان تواضع حتی لا یفخر احد علی احد ولا یبغی احد علی احد۔ نبی نے فرمایا کہ اللہ نے میری جانب اس بات کی وحی کی ہے۔ جبریل امین میرے پاس یہ وحی لے کر ائے ہیں۔ کہ انسانوں سب عاجزی اختیار کرو۔ انکساری اختیار کرو۔ تواضع اختیار کرو۔ ایک دوسرے کے حق میں نرم بن جاؤ۔ حتی لا یفخر احد علی احد۔ یہاں تک کہ کوئی کسی پہ فخر نہ کرے ولا یبغی علی احد علی احد اور کوئی کسی پہ ظلم اور زیادتی نہ کرے۔ شریعت کہتی ہے قران کہتا ہے۔ انسان کی حیثیت کیا ہے؟ انسان کی حیثیت انسان اگر اپنی حیثیت کو جان لے۔ اور اپنی ہی حیثیت کو پہچان لے تو پھر دور دور تک اسے اترا نے کا اور تکبر کرنے کا کچھ بھی اسے حق حاصل نہیں ہے۔ اغاز کے اعتبار سے بھی دیکھ لو انجام کے اعتبار سے بھی دیکھ لو اغاز کے اعتبار سے انسان کیا ہے؟ اغاز اور ابتدا کے اعتبار سے انسان نطے کا حقیر سا خطرہ ہے انسان۔ یہ جو زمین میں انے کے بعد خدائی کے دعوے کرتا ہے، انا ربکم الاعلی کہتا ہے۔ اغاز کے اعتبار سے اس انسان کی حیثیت کیا ہے؟ وہ نطفے کا حقیر سا خطرہ ہے وہ۔ اور انجام کے اعتبار سے اگر دیکھو تو کیا ہے؟ انجام کے اعتبار سے دیکھو تو یہ مٹی میں گھلنے ملنے سڑنے والا وجود ہے انسان۔ پھر کس بنیاد پہ فخر کرے۔
[5:01]کس بنیاد پہ اترا ہے۔ کس بنیاد پہ تکبر کرے۔ اسی لیے رب العزت کہتا ہے کہ انسانوں زمین پہ جیو عاجزی سے جیو انکساری سے جیو۔ تمہاری چال چلن سے تمہارا تواضع تمہاری انکساری تمہاری عاجزی ٹپکنی چاہیے۔ اللہ نے سورہ فرقان میں عباد الرحمن کی صفات بیان کی کہ میرے خاص بندے کون ہیں۔ اور میرے خاص بندوں کی صفات کیا ہیں؟ پہلی ہی صفت کیا بیان کی رب نے وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض ہونا اپ سورہ فرقان کا اخری پورا ایک رکوع پڑیے اخری پورا ایک پیج پڑھیے گا پورا صفحہ مومنوں کی صفات لیکن غور کیجیے کہ اس میں پہلی صفت قران نے کیا بیان کی وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض ھونا رحمان کے بندے وہ ہیں۔ کہ زمین پہ چلتے ہیں عاجزی سے چلتے ہیں۔ انکساری سے چلتے ہیں۔ ان کے چلنے کا انداز ایسا ہوتا ہے۔ کہ ان کے مزاج، طبیعت اور اخلاق میں پایا جانے والا تواضع معلوم ہوتا ہے۔ تواضع کی چال عاجزی کی چال اور انکساری کی چال اسے قران نے رحمان کے بندوں کی پہلی اور اولین صفت قرار دیا ہے۔ اس لیے سمجھا جا سکتا ہے بھائیوں کہ میری اور اپ کی زندگی میں عاجزی اور تواضع کی صفت انکساری کی صفت کیا معنی رکھتے ہیں؟ دیکھو تواضع کا مطلب یہ نہیں عاجزی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنی عزت اپ کم کرے۔
[6:35]انگریزی میں جسے سیلف ریسپیکٹ جسے کہتے ہیں۔ اسلام تو اس کی تعلیم دیتا ہے۔ انسان اپنی عزت اپ کم کرے۔ نہیں نہیں۔ صحابہ نے اللہ کے نبی سے پوچھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبر کی مذمت بیان کی کہ وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا۔ صحابہ نے پوچھا اے اللہ کے نبی ہم میں سے ایک شخص چاہتا ہے کہ اچھا کپڑا پہنے۔ اچھا لباس پہنے اس کے جوتے اچھے رہے اس کے چپل اچھے رہے۔ کیا یہ بھی عاجزی کے خلاف ہے۔ یہ بھی تکبر میں داخل ہے۔ نبی نے کہا کہ نہیں نہیں ان اللہ جمیل یحب الجمال اچھا پہنو اچھا پہنو اچھا لباس اچھے جوتے اچھے چپل یہ تو اللہ جمیل ہے۔ خوبصورت ہے وہ تمہارے اندر بھی خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ ولکن کبرا بٹر الحق الناس نبی نے کہا میں جس تکبر کی بات کر رہا ہوں۔ جس غرور کی بات کر رہا ہوں جس انانیت کی بات کر رہا ہوں اس کی پہچان کیا ہے؟ تکبر ادھا تکبر حق کو جھٹلانا ہے اور ادھا تکبر لوگوں کو حقیر سمجھنا ہے۔
[7:54]تو مطلب سمجھ گئے کہ عاجزی اور انکساری وہ ہے کہ اپ کے اندر وہ صفت انے کے بعد اپ کسی کو حقیر نہ سمجھے۔ اس کے کپڑے کی وجہ سے حقیر نہ سمجھے۔ اس کی جھونپڑی کی وجہ سے حقیر نہ سمجھے۔ اس کے خاندان کی وجہ سے حقیر نہ سمجھے۔ میرے اندر احساس برتری ائے کہ میں بہت اونچا ہوں۔ اور سامنے والے کو میں سمجھوں یہ بہت کم تر ہے۔ یہ ہے غرور۔ یہ ہے تکبر۔ عاجزی کیا ہے؟ عاجزی یہ ہے کہ میں مالدار رہوں۔ اور غریب کو بھی اپنے برابر سمجھوں غریب کی بھی عزت کروں۔ عاجزی یہ ہے کہ میں علم والا رہوں۔ ایک ان پڑھ کی بھی میں عزت کروں اس کی قدر کروں اس کو حقیر نہ سمجھوں۔ عاجزی یہ ہے کہ میں ڈگری ہولڈر رہوں۔ لیکن ایک عام سڑک پہ کام کرنے والی کی بھی عزت کروں احترام کروں۔ یہ عاجزی ہے تواضع ہے اور یہ تواضع ہر مسلمان کے اندر مطلوب صفت ہے۔ او حضرات انسان کی یہ کمزوری ہے۔ ذرا سا مال اگیا تکبر کرنے لگتا ہے۔ ذریعہ سی قابلیت اگئی تکبر کرنے لگتا ہے۔ ذرا سا نام ہو گیا تکبر کرنے لگتا ہے۔ کوئی چھوٹا سا عہدہ مل گیا تکبر کرنے لگتا ہے۔ الغرض انسان تکبر کرنے کے لیے بہانا چاہیے بہت جلد تکبر اور غرور کا شکار ہو جاتا ہے۔ یاد رکھیے گا مٹی سے بنے انسان کے لیے یہ صفت جچتی نہیں ہے۔ کبرائی اللہ کی شان ہے۔ اللہ نے کہا العظمت والعزاری و کبریاء ردئی فمن نزعنی واحد منه ما عذبته۔ کبریائی میری چادر ہے۔ عظمت میری ہے۔ اور جو کوئی مجھ سے چھیننا چاہے گا۔ میں اسے سزا دوں گا، عذاب دوں گا یہ رب العالمین کی تمبی ہے بندوں کی۔ حضرات تواضع عاجزی اور انکساری کے حوالے سے اس کا سب سے بہترین نمونہ اگر دیکھنا چاہیں تو اللہ کے نبی کی زندگی۔ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت عظیم تھے، عظیم تھے، عظیم تھے۔ اتنے عظیم کہ میرا اور اپ کا عقیدہ ہے کہ اپ اولاد ادم کے سردار تھے۔ ادم سے قیامت تک جتنے انسان ائیں گے اس میں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا اور اپ سے عظیم کوئی انسان نہ پیدا ہوا ہے۔ نہ ہوگا۔ یہ ہمارا ایمان ہے ہمارا عقیدہ ہے۔ اور اتنی عظمت کے باوجود پیارے نبی کی انکساری کے مظاہر اگر دیکھو گے نا پوری زندگی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر ایسی عاجزی کے نمونے پیش کیا ہے۔ ایک مرتبہ ایک صحابی نے اللہ کے نبی کو یوں خطاب کیا یا خیر الوریہ کہا یا خیر الوریہ اے مخلوقات کی سب سے عظیم ہستی۔ اے روح زمین کی سب سے افضل ہستی۔ بات کوئی غلط تھی کیا؟ بالکل صحیح ہے۔ مخلوقات میں انسانوں میں سب سے افضل اپ ہی ہیں۔ صحابی نے اسی الفاظ سے اپ کو خطاب کیا۔ کہا یا خیر الوریہ اے مخلوقات کی سب سے افضل ہستی۔ نبی نے فورا کیا کہا؟ ابراہیم علیہ السلام بھائی یہ لقب تو ابراہیم علیہ السلام کو دو ابراہیم علیہ السلام اس لقب کے زیادہ حقدار ہیں۔ اگر ابراہیم علیہ السلام اس لقب کے زیادہ حقدار ہیں تو بدرجوال اپ بھی حقدار ہوئے اس لیے کہ ابراہیم علیہ السلام سے افضل اپ ہیں۔ पर आपकी आजिसी थी के आपने वह लब अपने लिए लेने के बजाए अपने दादा जद अमजत इब्राहिम अलै सलाम की तरफ फेरा आप इतने बड़े थे। और इतने मोहतरम थे सहाबा में लेकिन आपकी आजजी का यह आलम मेरे भाइयों सहाबा में इतना मिलजुल के रहते थे बाहर से कोई अजनबी आता ना. उसको पहचानना मुश्किल हो जाता है इसमें आखिर नबी है कौन। अपना कोई खास इम्तियाज बैठक में लिबास में कपड़े में हैयत कुछ नहीं। अजनबी आने वाले अजनबी को यह पहचानना मुश्किल होता कि इस भीड़ में नबी कौन है। कहीं एक मौके पर ऐसा हुआ. आने वाले अजनबी हजरत अबू बकर को नबी समझ बैठे यह शायद अल्लाह के नबी बाद में बताना पड़ता नहीं अल्लाह के नबी आप. صلواۃ اللہ وسلامہ علیہ چھوٹے بچے۔ اللہ کے نبی کا گزر چھوٹے بچوں پر سے ہوتا تھا۔ تعلیم کیا ہے؟ چھوٹے بچے بڑों को सलाम करें। लेकिन नबी का تواضع دیکھو چھوٹے بچوں پر سے گزر ہوتا مدینے کی گلیوں میں چھوٹے بچے کھیل رہے ہوتے۔ अल्लाह के नबी सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम छोटे बच्चों पर से गुजरते हुए उन्हें आगे बढ़कर सलाम करते थे सलाम करके गुजरा करते थे। और इससे बड़ा मजहर आजजी का क्या है जानते हैं? लोग अपने नौ मौलद बच्चों को नबी की खिदमत में लाते थे। जो बच्चे अभी अभी पैदा हुए किस लिए लाते थे? तनीख के लिए। खजूर चटाने के लिए, शहद चटाने के लिए, नबी की बरकत हासिल करने के लिए, के मेरे बच्चे के मुंह में उसके पेट में जाने वाली पहली गजा नबी का लुआब हो। नबी करीम सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम खजूर चबाते थे और उसको बच्चे के मुंह में डालते थे इस अमल को तनीक कहा जाता है। सहाबा इकराम और सहाबियात अपने नौ मोलूद बच्चों को नबी करीम सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम की खिदमत में लेकर आते थे। और अल्लाह के नबी क्या करते थे जानते हैं? ऐसा नहीं कि वह बच्चा मां के हाथ में है, बाप के हाथ में है। नहीं। आप अपने हाथ में ले लेते हैं। अपने हाथ में ले लेते हैं। लोगों के बच्चों को अपनी गोद में ले लेते हैं। और बस्ता औकात बस्ता औकात यह भी होता। यह बच्चे जिन्हें नबी करीम सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम ने अपनी गोद में रखा है। नबी करीम सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम की गोद जैसे ही मिलती तो पेशाब कर देते थे नबी की गोद में। अल्लाह अल्लाह कभी किसी हदीस में किसी मौके पर ऐसा नहीं आया कि बच्चों के पेशाब करने पर नबी ने नागवारी का इजहार किया हो। फरज महसूस किया हो। तकलीफ महसूस की हो। और यह कहा हो कि आइंदा किसी बच्चे को नहीं लूंगा। अल्लाह अल्लाह बच्चे पेशाब करते थे। अल्लाह के नबी चूंकि खाना नहीं खाया बच्चा पानी छिड़कना काफी होता है। पानी मंगवाते थे पानी छिड़क लिया करते थे पर लोगों के बच्चों का इस्तकबाल करना उन्हें अपने हाथ में लेना उन्हें अपनी गोद में लेना उन्हें तनिक करना यह अमल कभी अल्लाह के नबी ने छोड़ा नहीं। आज हम जानते हैं बाज बड़े इतने बड़े इतने बड़े हो जाते हैं उन्हें अपने बच्चों को उठाने की फुर्सत नहीं है। अपने बच्चों को झुलाने की फुर्सत नहीं है। समझ रहे हैं। सारा काम बीवी करती है घर की खवातीन करती है। हम इतने बड़े हो जाते हैं कि अपने बच्चों के लिए टाइम नहीं है और कुर्बान जाइए नबी करीम सल्लल्लाहु अलही वसल्लम के इन अखलाक पर आपसे बड़ा और आपसे ज्यादा मशरूफ और आप से ज्यादा आप से बड़ा मिशन रखने वाला इस जमीन पर कोई नहीं था। पर अल्लाह के नबी का तवाज और आपकी इन कसारी आम लोगों के मन ने मासूम बच्चों को अपनी गोद में लिया करते थे आप सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम। उम्मुल मोमिनीन आयशा सिद्दीका रदी अल्लाह अन्हा से पूछा गया घर पे होते नबी क्या करते थे। उम्मुल मोमिनीन ने क्या कहा? कि नबी जब घर में होते तो घर के कामों काज करते थे। और एक दूसरी हदीस में कामों काज की तफसीर खुद उम्मुल मोमिनीन ने की कि अल्लाह के नबी सल्लल्लाहु अलही वसल्लम जब घर में होते थे। जूती का अगर तसमा टूट गया है आप खुद अपने हाथ से जूती का तसमा बनाया करते थे लगाया करते थे। कपड़ा अगर फट गया है आप खुद उस कपड़े को अपने हाथ से सिया करते थे। सुबहान अल्लाह ये क्या अखलाक है ये कैसा तवाजु है ये कैसी इनकसारी है। मैं अपने आप से पूछूं आप अपने आप से पूछें अपने घर में झाड़ू देने की कभी तौफीक हुई है क्या? मैं अपने आप से पूछूं आप अपने आप से पूछें घर के बर्तन मांजने की कभी तौफीक हुई है क्या? हम तो समझते हैं ये सारा काम तो औरतों का है। ये नबी है सलवातुल्लाह वसलम अलैहि। और घर की खवातीन के साथ और घर में आपके मामलात ये हैं कि घर के सारे कामों काज में अपनी फैमिली का अपनी बीवियों का हाथ बटाया कर रहे हैं सलवातुल्लाह वसलम अलैहि। और हजरात नबी करीम सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम का तवाज और आपकी इनकसारी की एक बहुत बड़ी अलामत क्या है जानते हैं? मुअशेरे के जईफों कमजोरों और नादारों के साथ आपका जो सुलूक था। मुअशेरे के जईफ आप से बहुत करीब थे और आप भी मुअशेरे के जईफों कमजोरों नादारों से उतने ही करीब थे। एक मर्तबा मक्की जिंदगी की बात है। मुशरिकीने मक्का ने डिमांड किया आपसे कहा कि मोहम्मद आप हमें दावत दे रहे हैं। और आप ये चाहते हैं कि हम आकर आपकी गुफ्तगू सुने आपकी बात सुने आपका कुरान सुने हम आएंगे पर एक हमारी शर्त है एक डिमांड है कहा क्या शर्त है। कहा यह आपकी मजलिस में यह जो गरीब है यह बिलाल ये अमार बिन यासिर ये फलां ये फलां इन गरीबों को पहले दूर कीजिए हम जैसे बड़े लोगों को अगर आप अपनी मजलिस में देखना चाहते हैं। आसमान से फौरन वही आ गई वला तरु अलन युद्दूना रब्बहुम बिल दाती वल अई युरीदून वजहा ए पैगंबर हरगिज हरगिज ऐसा ना करना। ये अल्लाह के बंदे जो कि गरीब हैं फकीर हैं कंगाल हैं सही पर रब के सच्चे बंदे हैं सुबह शाम अल्लाह की इबादत में मशरूफ रहते हैं। इन मुतकब्बिरों की वजह से इन मगरूरों की वजह से इन अनियत पसंदों की वजह से इन नफ्स परस्तों की वजह से अल्लाह के इन जाईफ कमजोर बंदों को हरगिज हरगिज अपनी मजलिस से दूर ना करना। और नबी ने इस आयत के नुजूल के बाद मुशरिकीने मक्का से कहा मेरी मजलिस में आना हो बिना शर्त के आओ बगैर डिमांड के आओ। तुम्हारी वजह से मैं अपने इन कमजोर सहाबा को दूर नहीं कर सकता है। इनके रहते हुए तुम्हें आना है वरना तुम्हारे आने की कोई जरूरत नहीं। इन्हीं पत्थरों पे चलकर अगर आ सको तो आओ। इन्हीं पत्थरों पे चलकर अगर आ सको तो आओ मेरे घर के रास्ते में कोई कहकशा नहीं है। अल्लाह अकबर गुश्ता जुमे हमने वो वाकया सुनाया। यानी कमजोरों के साथ। अल्लाह के नबी का जो सुलूक था वो आपके अखलाक के अजीम पहलू को और आपकी शख्सियत में पाए जाने वाली आजीजी और इनकसारी के पहलू को किस कदर नुमाया करता। जब वो काली कलोटी खातून बुढ़िया सहाबिया हबशुन नस्ल खातून गरीब खातून बुढ़ी हबशुन नस्ल काली कलोटी गरीब मस्जिद ए नबवी साफ किया करती थी झाड़ू दिया करती थी। एक रात अचानक उनका इंतकाल हो गया। अल्लाह के नबी ने ये सहाबा ने ये समझ कर नबी सो गए हैं। आराम कर रहे हैं। नबी के आराम में खलल ना हो उसके लिए हमने आपको बताना मुनासिब नहीं समझा। हमने गुस्ल दिया, कफन पहनाया। सहाबा ने ही नमाजे जनाजा पढ़ाई रात ही रात बकी कब्रिस्तान में दफन करा आए। दूसरे दिन सुबह फजर हुई। अल्लाह के नबी ने फजर की नमाज पढ़ाई और नमाज पढ़ाने के बाद सलाम फेर कर मुक्त दियों की जानिब मुतवज्जे हुए। और कुर्बान जाइए, कुर्बान जाइए। सहाबा अभी इंतजार में है कि नबी अपने अजकार से फारिग हो रात बताएंगे कि क्या हादसा हुआ है। अल्लाह के नबी जब मुतवज्जे हुए और वो बुढ़िया जिस मकाम पे बैठा करती थी वहां नजर ना आई। सहाबा के बताने से पहले नबी ने आगे बढ़कर पूछ लिया भाई वो बुढ़िया क्यों नजर नहीं आ रही वो बुढ़िया कहां चली गई। अल्लाह अल्लाह गैर मामूली बात है। अमीर हूं मालदारों के साथ हमारा सुलूक ऐसा होता है। दो दिन नजर ना आए हम पूछते हैं उनसे आप नहीं थे, नूर नहीं था, रोशनी नहीं थे, उजाला नहीं था। आप आ गए उजाला आ गया रोशनी आ गई नूर आ गया। गरीब की अहमियत को कोई महसूस करता है। गरीब साल भी नजर ना आए कोई पूछता है। ये क्या अखलाक है नबी के ये क्या तवाज है नबी का क्या इनकसारी है नबी की। थोड़ी देर सलाम फेरने के बाद हर दिन नजर आने वाली बुढ़िया आज नजर नहीं आ रही है। नबी सहाबा से पूछते हैं। बुढ़िया नजर नहीं आ रही माजरा क्या? सहाबा ने कहा अल्लाह के नबी अभी हम बताने ही वाले थे। रात उस बुढ़िया का इंतकाल हो गया अल्लाह की। कहा तो फिर क्या हुआ? कहा अल्लाह के नबी आप आराम फरमा रहे थे। आपकी नींद में खलल ना हो उसके लिए हमने आपको बताना मुनासिब नहीं समझा। हमने गुस्ल दिया कफन पहनाया नमाज पढ़ी दफन करा। अल्लाह के नबी सख्त गुस्सा हुए कहा हल्ला अज तुमनी भीहा हल्ला अज तुमनी भीहा। कहा कि लोगों को बताना था, बताना था, जगाना था मुझे। और फिर अल्लाह अकबर इस सहाबिया की बरकत से एक सुन्नत उम्मत को मिली। नबी ने क्या किया? सहाबा को लेकर बकी कब्रिस्तान का रुख किया और उस सहाबिया की कब्र पे खड़े होकर नमाज जनाजा पढ़ाई फिर से फिर से। क्या सुन्नत मालूम हुई? कि अगर किसी की नमाज जनाजा फौत हो जाती है तो वो लोग तदफीन के बाद कब्र पे खड़े होकर कब्र पे नमाजे जनाजा पढ़ सकते हैं। ये सुन्नत इस गरीब सहाबिया को लेकर अल्लाह के नबी ने उम्मत को बताई। ये गरीबों के साथ नबी का सुलूक गरीबों के साथ नबी का रवैया यह बताता है कि नबी के अंदर कैसे तवाजु था। और देखिए तवाज का एक और बड़ा मजहर क्या जानते हैं? अल्लाह के नबी अपनी गुफ्तगू में बाज ऐसे मौजूत छेड़ते थे। बाज अपनी जिंदगी के ऐसे पहलुओं पे गुफ्तगू करते थे। जिन पहलुओं से आपकी इनकसारी और आजीजी जाहिर होती थी। कैसे आप बकरियां चराया करते थे तो आपने हदीस में फरमाया कि दुनिया में जितने नबी आए हर नबी ने बकरियां चराई है। हर नबी ने बकरियां चराई हैं और आपने कहा आपने बारे में कि एक वक्त था कि मैं भी मक्के वालों की बकरियां चराया करता था। उजरत लेकर उजरत पर चराया करता था। ये जो बकरियां चराने की बात अल्लाह के नबी पूरी अहमियत से पूरे एहतेमाम से जिक्र कर रहे हैं। ये आपका तवाजु है। क्यों जानते हैं? फर्ज करो मैं आज बहुत बड़ा अमीर हूं। मैं आज बहुत बड़ा अमीर हूं। फर्ज करो। कभी मैं ऑटो ड्राइवर था। जो दूसरों की ऑटो चलाता था। मेरे पास अपनी ऑटो भी नहीं थी। दूसरों की ऑटो चलाता था। आज जब मैं बंगले में हूं। कोई अगर मुझे याद दिलाए ना आप ऑटो भी चलाते थे ना एक थप्पड़ मारूंगा उसको मैं। मैं नहीं चाहता कि मेरा मेरा उस तारीख माझी को कोई मुझे याद दिलाए। समझ रहे हैं। मैं बस आज को देख रहा हूं। और गुजरा हुआ कल जब मैं गरीब था उसे याद रखना नहीं चाहता। अल्लाह के नबी के अखलाक आपका तवाजु आपकी इनकसारी नबी बनने के बाद और आला मुका मात पे फायज होने के बाद अल्लाह के नबी अपनी उस माझी को याद कर रहे हैं। जब आप सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम गरीब थे नादार थे बकरियां चराया करते थे। जो कि इस बकरियों के चराने में अल्लाह की जानिब से बहुत बड़ी हिकमत थी कि लोगों की कयादत रहनुमाई और रहबरी की तरबियत अल्लाह के नबी की करना चाह रहा था। अल्गरज कहना ये है मैं मेरे मोहतरम भाइयों और बहनों कि तवाजो और इनकसारी की सिर्फ का आला से आला नमूना अगर देखना चाहते हो। अल्लाह के नबी सल्लल्लाहु अलही वसल्लम की जिंदगी इसका सबसे बड़ा नमूना है। अल्लाह ताला मेरी और आपकी जिंदगी में याद रखो ऐसे हालात लाता है जो हालात के मुझे और आपको आजीजी का सबक पढ़ाते हैं। मगर मसला यह है हम हालात से सबक हासिल नहीं करते हैं। हर शख्स की जिंदगी में किसी ना किसी पहलू से ऐसे हादसात होते हैं ऐसे वाकयात होते हैं। कि जिस हादी से उसे आजीजी का सबक लेना चाहिए कि मेरे अंदर कहीं ना कहीं कुछ गुरूर आया है लगता है। अल्लाह मुझे आजीजी का सबक देना चाह रहा है पढ़ाना चाह रहा है ऐसे हालात आते हैं और हम सबक हासिल नहीं करते हैं। कैसी उसकी एक मिसाल अल्लाह के नबी के जमाने में ये हुआ नबी करीम सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम की एक ऊंटनी थी। समझ रहे हैं। ऊंटनी थी अल्लाह के नबी। और वो रनिंग राइज में बहुत माहिर थी। हमेशा फर्स्ट आया करती थी। और पूरे मदीने में पूरे सहाबा के दरमियान मशहूर के अल्लाह के नबी की इस ऊंटनी को किसी का ऊंट हरा नहीं सकता है। एक बार क्या हुआ जानते हैं? ये बुखारी शरीफ की हदीस है। सही बुखारी में हदीस है। एक मर्तबा एक देहाती आया। एक बद्दू आया। गुमनाम देहाती गुमनाम बद्दू और उसने अल्लाह के नबी की ऊंटनी के साथ कॉम्पिटिशन किया। इस बद्दू की ऊंटनी पहले आ गई। नबी का ऊंट दूसरे नंबर पे आ गया। सारे सहाबा को तकलीफ हुई। सारे सहाबा को तकलीफ हुई। अरे नबी का ऊंट सेकंड हो गया। दूसरे नंबर पे आ गया। जो हमेशा फर्स्ट नंबर लाने वाला फर्स्ट रैंक लाने वाला आज सेकंड हो गया नबी का ऊंट। अल्लाह के नबी ने क्या कहा जानते हैं? हकना अल्लाह या याफ शई इल्ला व जबा। अल्लाह अल्लाह अल्लाह के नबी ने कहा इस दुनिया में अल्लाह का कानून है जिस चीज को भी वो तरक्की अदा करता है। उसकी तरक्की की एक उम्र होती है। उस उम्र के बाद उस तरक्की को जवाल होना ही है। अल्लाह अल्लाह अल्लाह। हर चीज जिस चीज की भी दुनिया के हर मामले में नबी ने कहा। अल्ला या यरफा मन दुनिया इल्ला वजह आज तक मेरी ऊंटनी का मुकद्दर था कि उसकी तरक्की अब अल्लाह ने उसके हक में अल्लाह का कानून है। जिस चीज को भी वो रफते अदा करता है तरक्की अदा करता है सर बुलंदी अदा करता है एक मरहले को पहुंचने के बाद अल्लाह उसे जवाल से दो चार करता है। आजीजी का सबक इस तरह के हालात इस तरह के वाकयात है जो मुझे भी आजीजी का सबक पढ़ाते हैं ना मुझे मगरूर होना है ना आपको मगरूर होना है। ना अपनी काबिलियत में मगरूर होना है ना दौलत में मगरूर होना है नेमतें मिली है तो अल्लाह का शुक्र अदा करना है। और अल्लाह के बंदों के साथ रहम कर्म का सुलूक करना है और हमेशा अपना जायजा लेते रहना है कि कहीं गुरूर तो नहीं आ रहा। उरवा बिन जुबेर मशहूर ताबी हैं। हजरत उरवा बिन जुबेर फरमाते हैं एक मर्तबा मैंने देखा हजरत उमर बिन खत्ताब खलीफा रसूल। उमर बिन खत्ताब रजी अल्लाह अन्हु पानी से भरा हुआ मटका अपने कंधे पे उठाए हुए मुश्किल से ले जा रहे हैं। मैंने कहा ला या अमीरुल मोमिनीन उरवा बिन जुबेर ने कहा अमीरुल मोमिनीन आप तो अमीरुल मोमिनीन है। अमीरुल मोमिनीन रहकर आप ये काम कर रहे हैं। पानी का इतना बड़ा मटका अपने कंधे पे धोए जा रहे हैं। ये आपके लिए मुनासिब नहीं है काम किसी और से ले लिए होते। हजरत उमर ने क्या जवाब दिया जानते हैं? हजरत उमर ने कहा भाई उरवा मसला यह है मेरे पास। यह जो ममालिफ फतह हो रहे हैं शहर फतह हो रहे हैं और मुख्तलिफ इलाकों के वूफूद मेरी खिदमत में आने लगे हैं। इन मुख्तलिफ मुमालिक के वफूद के आने से मैं महसूस कर रहा हूं मेरा नफ्स जरा मोटा हुआ जा रहा है। मैं अपने नफ्स की सरकशी को तोड़ रहा हूं। पानी ढोकर लोगों के सामने अपने नफ्स की सरकशी को तोड़ रहा हूं अपने मेरा नफ्स जो मोटा हो रहा है उसे सबक सिखा रहा हूं कि आजीजी इनकसारी के सबक को ना भूलो और तवाज इख्तियार करो। इसलिए मोहतरम भाइयों यह बहुत बड़ी सिफत है। बहुत बड़ी सिफत है आजीजी। इसी अपने अंदर पैदा करो और खुसू सन मालदार अगर आजीजी इख्तियार करें। एक तालीम याफ्ता शख्स अगर आजीजी इख्तियार करें ये काबिलियत रखने वाला शख्स आजीजी इख्तियार करें। एक डॉक्टर आजीजी इख्तियार करें एक आलिम आजीजी इख्तियार करें एक लीडर आजीजी इख्तियार करें तो इन लोगों के अंदर आजीजी की सिफत बड़ी प्यारी लगती है बड़ी अच्छी लगती है। याद रखो आजीजी हमें खुद की नजरों में छोटा करती है। अल्लाह की नजरों में भी बड़ा करती है। मखलूक की नजरों में भी बड़ा करती है। तकब्बुर खुद की नजरों में हमें बड़ा दिखाएगा। मगर मखलूक की नजरों में भी छोटे होंगे अल्लाह के नजदीक भी छोटे होंगे। पर आजीजी खुद की नजरों में हमें छोटा दिखाएगी। हम खुद को छोटा समझेंगे। मगर अल्लाह की मखलूक हमें बड़ा देखेगी बड़ा समझेगी और अल्लाह के नजदीक तो हम बड़ों में हमारा शुमार होगा ही। इसलिए इनकसारी पैदा कीजिए और उसके लिए जरूरी क्या होता है जानते हैं? अपने नफ्स से लड़ना अपने नफ्स को मारना अपने नफ्स को कुचलना जरूरी होता है। तभी ये इनकसारी की सिफत पैदा हो सकती है। नबी ने कहा दो मुसलमान जो बात नहीं करते आपस में झगड़ा हो गया इख्तिलाफात हो गए हैं। बात नहीं करते हैं। नबी ने कहा कि खैर हुमा अल्लधी यबदु अस्सलाम इन दोनों में अल्लाह के नजदीक सबसे अच्छा वो है जो आगे बढ़कर सामने वाले को सलाम कर दे। उन्हें जवाब दे रहा है नहीं दे रहा है अलग बात। सामना हुआ आगे बढ़कर सलाम कर दिया। अल्लाह के नजदीक ये सबसे बेहतर है। क्योंकि अल्लाह के पास कानून ये है कि मन तवाजअलिल्लाह या याफाऊ मन तवाजअलिल्लाह या याफाऊ जो अल्लाह की खातिर खुद को छोटा कर ले अल्लाह उसे बाई नसीब करता है। जो अल्लाह की खातिर तवाज और आजीजी इख्तियार करें अल्लाह उसे सर बुलंद करता है अल्लाह उसे रिफते अदा करता है। तो हजरात लोग क्या कहते हैं? लोग क्या समझते हैं? लोगों की नजर को मेयार ना बनाओ। अल्लाह के नजदीक हमारी हैसियत क्या है? उसको मेयार बनाकर अपने अंदर आजीजी और इनकसारी पैदा करो। अल्लाह के नबी बैठे हुए थे। तशरीफ फरमाते अल्लाह के नबी।



