[0:00]آج کے سبق میں ابتدا میں ہے شامیہ کا تعارف اور بیچ میں ہیں یہ تین چیزیں۔ رموز و مصطلاحات، قواعد ترجیح اور ان کی تطبیق، امور اثناعشریا۔ آخر میں خاتمۃالمجلس میں ان کتابوں اور فقہاء کا تعارف ہے۔ منتخب فقہاء، منتخب کتابوں کا تعارف جن کا ذکر شامیہ میں آتا ہے۔ تو بس یہ ہمارے آج کا یہ دورہ ہے۔ یہ سامنے جو آپ لکھا ہوا دیکھ رہے ہیں یہ ہر ساتھی کو ابھی بھی موبائل میں ڈالا جا سکتا ہے اور بعد میں اس کو ساتھ دیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ اس کی غرض یہ ہے کہ جہاں جہاں بھی تخصس ہوتا ہے۔ سال کے شروع میں یہ دورہ ایک بار نکال لیا جائے۔ مطالعہ کر لیا جائے۔ ورنہ جو حضرات شریک ہیں جا کر اس کو ایک بار گزروا دیں۔ سامنے ایک تختی ہے اس میں جو لکھا ہوا ہے وہ اس کو بتاتے جائیں۔ جب یہ مکمل ہو جائے گا۔ تو اس کے بعد پھر مشک ہے اجراء ہے۔ کہ ہم طالب علموں کو کہتے ہیں کہ یہ 20 صفحے آپ روز مطالعہ کرتے ہیں تو یہ صفحات لے لیں چند اور ان 20 صفات میں جو اہم چیز آتی ہے اس کے عنوانات یہاں لکھے ہیں۔ رموز و مستطلحات بھی لکھے ہیں۔ تو آپ نکال کر ادھر لکھتے جائیں۔ تو آپ کو مطالعے سننے کی اتنی ضرورت نہیں پڑے گی۔ وہ جب صبح لا کر ادھر رکھے گا کہ یہ میں نے تخریج نکالی ہے اور یہ مطالعہ نکالا ہے تو اس کو دیکھنے سے پتہ چل جاتا ہے کہ کتنا اس نے کام رات کو کیا ہے۔ تو یہ اس خاطر ہے کہ ہر تخصص میں ایک گھنٹہ کم از کم شامیہ کے مطالعے کا رکھا جاتا ہے۔ اور نصاب بھی متعین ہوتا ہے پہلی سمائی، دوسری، تیسری۔ وہی گھنٹہ، وہی نصاب، وہی مقدار مطالعہ کو زندہ اور متیقی بیدار ذہن سے مطالعہ کر کے اور فوائد مہمہ اخذ کر کے اپنے پاس درج کرنے سے وہ یاد ہو جاتا ہے۔ تو مناسبت پیدا ہو جاتی ہے کتاب سے تو اس کی یہ غرض ہے۔ ٹھیک ہے جی۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم۔ اما بعد۔ دیکھیں ادھر پہلا صفحہ جو اس کا وہ ہے عنوان، جی۔ یہ اس میں لکھا ہوا ہے عون الغفار۔ اصل میں شامیہ پر چار کام کیے گئے ہیں۔ ایک اردو میں ہے اور تین عربی میں ہیں۔ یہ عربی پر میں کیے گئے تین کاموں میں سے ایک ہے۔
[2:59]جو بقیہ دو ہیں وہ دو اس کی معجم ہے۔ ایک الف بائی ہے۔ الف بائی معجم ہے۔ کوئی بھی مسئلہ اپ کا اس کا عنوان اگر طے کر سکتے ہیں تو اور وہ عنوان میں چلے جائیں تو آپ کو مسئلہ تلاش کرنے میں اسانی ہے۔ اور جو کشف الغفار ہے وہ موضوعی معجم ہے۔ موضوعی فہرست ہے۔ کہ موضوع کے اعتبار سے اس میں مسائل شامیہ کے نکال کر رکھے گئے ہیں۔ یہ دونوں میں سے ایک چھپ گئی تھی ایک ابھی چھپ جائے گی انشاءاللہ۔ یہ تیسری ہے۔ عربی کی۔ چوتھی فیض الغفار وہ اردو میں ہے۔ وہ فتاوی نویسی کے آخر میں ہے۔ یہ کس خاطر لکھی گئی ہے نیچے لکھا ہوا ہے تعارف الکتب الخمسہ۔ کہ شامیہ کے نام سے رد المحتار کے نام سے حاشیہ ابن عابدین کے نام سے کبھی فتاوی شامی کے نام سے یہ مختلف نام ہیں جو رکھ دیتے ہیں۔ اب بعض کو اعتراض ہوتا ہے کہ یہ کس طرح سے یہ لفظ ٹھیک ہے یہ کس طرح سے ٹھیک ہے۔ علم جب رکھا جاتا ہے وہ ایک وضع عرفی ہوتی ہے جدید وضع عرفی ہوتی ہے تو جدید وضع عرفی میں آپ بحث نہیں کر سکتے۔ وہ کوئی بھی لقب کسی چیز کا پڑھ سکتا ہے۔ اگر تبطشر کسی کا لقب ہو سکتا ہے۔ تو سر من رہا لقب ہو سکتا ہے تو فتاوائے شامی کہنے میں کیا حرج ہے۔ بس انہوں نے بنا لیا کہ یہ علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک کتاب لکھی تھی جو فقہ کی پانچ کتابوں میں سے نو کے اعتبار سے تیسری سے تعلق رکھتی ہے حاشیہ۔ تو انہوں نے تو اس کو فتوی کے طور پر نہیں لکھا تھا۔ لیکن فتوی کے ماخذ کے طور پر لکھا تھا تو کسی بھی مناسبت سے مجازا نام تو رکھا جا سکتا ہے۔ یہ جب آپ کے ہاتھ میں آتا ہے تو ما بین دفتین پانچ کتابیں ہوتی ہیں ایک متن ہے ایک شرح ہے ایک حاشیہ ہے۔ ایک اس کا تکملہ ہے اور پانچواں اس پر تقریرات ہیں یہ ان پانچوں کا تعارف ہے۔ جی اور نیچے لکھا ہوا ہے واداب مطالعہ رد المحتار پانچوں میں سے پھر یہ جو تیسری ہے اس کے مطالعے کے اداب کہ ہم اس کا مطالعہ پوری کا ایک بار تو نکالیں نا۔ اور اگر دو سال کا تخصص ہے تو بہت آسانی سے نکالا جا سکتا ہے۔ چھ جلدوں والی شامیہ کا ایک سمائی میں ایک جلد تو چھ سمائی میں چھ جلدیں۔ اس کے بعد جب ہم پھر مراجعات کرتے ہیں کتاب کی تو اس سے عبارت اپنے سیاق و صباق کے ساتھ سمجھ کر اپنے رموز و مستلاحت کو ملحوظ رکھ کر اور ان کی سنا جو ہے نا ترجیح کی سنا وہ صراحت وہ اصل میں ناغیل ہیں ترجیح کے۔ وہ خود مرجح نہیں ہیں۔ تو انہوں نے سنا سے ترجیح دیتے ہیں اس کو سمجھ سمجھ کر وہ عبارت نقل کر کے فتوی میں تو لا کر استاد کو دکھانے پر یہ اس کام میں فائدہ دیتا ہے یہ واداب مطالعہ دے رہا ہے مختار۔ جی۔ اس میں دو باب ہیں۔ پہلے باب میں پانچوں کتب کا تعارف ہے اور دوسرے باب میں صرف تیسری کتاب کا تعارف ہے۔
[6:14]جی۔ یہ مصنف اور مصنف کا تعارف کہاں سے ملتا ہے؟ مصنف کا تعارف کے لیے کچھ کتابوں کی ایک نو وضع ہے جیسے کتب تراجم کہتے ہیں کتب طبقات کہتے ہیں یہ جس طرح محدثین کہ ہیں اس طرح یہ قراء کہ ہیں اس طرح ادبا اور شعراء کہ ہیں طبقات کی کتابیں اسی طرح فقہا کی بھی ہیں۔ تو محدث کا تعارف حاصل کرنا ہو تو طبقات المحدثین کی اپ اس میں نو میں چلے جائیں فقہا کا تعارف حاصل کرنا ہے تو ان کی تراجم اور طبقات میں آ جائیں۔
[6:56]اور اس کا فائدہ کیا ہے؟ فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ فقہا کے ساتھ طبقات ہیں تو ہمیں یہ پتہ چل جاتا ہے کہ جس فقی نے یہ قول کیا ہے وہ کس طبقے سے تعلق رکھتا ہے تو اس کے قول کا وزن کیا ہے۔
[7:12]اور اس کو راجے مرجو میں سے راجے کا کون سا درجہ ہے مرجو کا کون سا درجہ ہے مرجو کے بھی درجے ہوتے ہیں نا کوئی ضعیف ہوتے ہیں کوئی شاخ ہوتا ہے تو اس طرح سے راجے کے بھی درجات ہوتے ہیں ابھی ا جائیں گے اپ کے سامنے پانچ درجے۔ مصنف کا تعارف کہاں سے حاصل ہوتا ہے؟ کتابوں کی مستقل ایک نوع ہے جو کتابوں کے تعارف کے لیے اس کو کتب فہارس کہتے ہیں۔
[7:44]وہاں سے حاصل ہوتا ہے اور خود جو کتاب اپ نے ہاتھ میں اٹھائی ہے اس کے مقدمے سے شروع میں اور اس کی فہرست سے جو آخر میں ہوتی ہے اج کل وہاں سے اس کا تعارف حاصل ہوتا ہے۔ تو شامیہ کا اپ نے تعارف حاصل کرنا ہے مصنف کا تو کتب ترجم و طبقات میں چلے جائیں جو متاخرین کی ہیں۔ اور کتاب کا تعارف حاصل کرنا ہے تو کتاب کا مقدمہ دیکھ لیں فہرست دیکھ لیں۔ اس کا کیا فائدہ ہوتا ہے پھر کہ وہ جو کتاب ہوتی ہے وہ مسائل کے تین طبقات میں سے کسی ایک طبقے کو یا پھر مخلوق تینوں طبقے کو جمع کر رہی ہوتی ہے تو خود کتاب کا وزن پتہ چل جاتا ہے۔ تو جب فقی کے قول کا وزن ہمیں پتہ چلا اور جس کتاب میں جس دیوان فقہ میں وہ منقول ہے اس کا وزن بھی ہمیں پتہ چلا تو ہمیں مقصود اب پہنچنا اسان ہو گیا مقصود تک پہنچنا اسان ہو گیا اور ہم فتوے میں کون سی عبارت نقل کر کے لا کر دکھائیں گے اپنے استاد جی کو یہ ہمارے لیے اسان ہوا۔
[8:37]یہ سات طبقات ہیں فقہا کی جس کی بالکل ہم تفصیل نہیں کریں گے کیونکہ اپ نے یہ سال کے اخر میں پڑھ رہے ہیں تو اپ نے سب پڑھ لیا ہوا ہے۔ البتہ اگلے سال کے شروع میں تو اپ خود اس دورے کو پڑھیں گے تو اس وقت یہ تفصیل یہاں بھی کر لیں پھر فقہ و مفتی میں بھی کر لیں یا اس میں بھی کر لیں یہاں ہم اتنی بات بس کرتے ہیں کہ چھ طبقات ہیں تین طبقے مجتہدین کے ہیں تو مجتہدین کے بھی تین مراتب ہیں۔ اور تین مقلدین کے ہیں تو ان کے بھی تین مراد ہیں۔ اور ساتواں جو طبقہ ہے وہ کس کا ہے؟ المشتغلین بالتدریس، الافتای، والقضاء۔ ٹھیک ہے جی۔ یہاں پر ایک کاغذ مجھے دے دیں ایک کاغذ۔ بس خالی کاغذ اور ایک قلم ادھر رکھ دیں۔ یہ بالتدریس نہیں ہونی چاہیے بالفقہ ہونا چاہیے۔ اصل میں یہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ تین فنون ہیں تو بعض یہ اس میں سے ماشاءاللہ الحمدللہ فقہ کا فن درس نظامی میں خوب زندہ ہے۔
[9:51]نور الایہ سے شروع ہوتا ہے اور قدوری گرز، شرح و کایا، ہدایہ تک خوب اور خصوص میں پھر ا جاتا ہے۔
[10:04]اجاتی ہیں دوسری کتابیں فقہی مطالعہ میں اجاتی ہیں تدریس میں درس نظامی میں خوب ہو جاتی ہیں۔ افتا کا فن بھی تخصص کے واسطے سے خوب زندہ ہے۔ یہ تیسرا جو ہے قضا یہ انہی سے مربوط ہے ان دونوں سے لیکن یہ زندہ نہیں ہے اس کا جو ذیلی فن ہے تحکیم وہ بھی زندہ نہیں ہے۔ تحکیم کی دو قسمیں ہیں تحکیم قضائی اور تحکیم صلح تحکیم صلح بہت اسان ہے وہ بھی زندہ نہیں ہے رائج نہیں ہے۔ اگر کہیں کہیں پائی جاتی ہے تو اس سے تو وہ چیز وہی جلتے جلتے بجھ نہ جائے جب تک ایک چیز جاری نہیں ہے اگے اس وقت تک وہ زندہ نہیں ہوتی ہے۔ تو یہ یہی ہم کہنا چاہتے ہیں کہ ہم لوگوں کا ساری عمر کا حاصل یہ ہونا چاہیے کہ جب تخصس کی اللہ پاک نے توفیق دی اور موقع دیا تو پھر فقہ افتا قضا ان تینوں فنون کو زندہ کرنا چاہیے۔ تو ہم یہ جو یہ جگہ جگہ کورس کراتے ہیں وہ ہمارے یہی چھ کورس ہیں۔
[11:08]ایک کا نام ہے ہدایہ کیسے پڑھی پڑے ہدایہ دوسرا شامیہ دو ہو گئے۔ قواعد فقہ اور اصول فقہ چار ہو گئے۔ اور ایک ہمارا ہے دلیل اور جواب دلیل جو درس نظامی کی کتابوں سے تعلق رکھتی ہے۔ علم الکلام سے علم الفقه سے نحو سے منطق سے بلاغہ سے بس ان پانچ فنون میں دلیل اور جواب دلیل اس کی اقسام اور اخری ہوتا ہے قضا و تحکیم قضا و تحکیم وہ ذرا سا لمبا ہے باقی یہ ایک ایک دن میں انشاءاللہ ہو جاتے ہیں۔ تو میرے بھائی بزرگوں دوستو ہم لوگوں کو یہ فنون کو زندہ کرنا چاہیے۔ جس ادمی نے فقہ پڑھی ہو تو وہی افتا اسانی سے پڑھ لیتا ہے نا تو جس نے فقہ افتا دونوں پڑھی ہو اس کے لیے قضا و تحکیم کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ اور ایک چیز اگر دنیا میں نہیں ہے آپ اس میں کوشش کرتے ہیں۔ تو آپ کی اگر غلطی ہو جاتی ہے نا تو خاص کر حدود میں غلطی ہو جاتی ہے معاف کرنے میں یہ تو اور اچھی بات ہے۔ اس میں بری بات نہیں ہے۔ جناب تو یہ لکھا ہوا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر مجتہدین نہیں ہیں اور مقلدین کے جو تین طبقے تھے بڑے وہ بھی نہیں ہیں۔ تو امت کے مسائل کون حل کرے گا؟ وہ محقق حل کرے گا۔ مجتہدین کی جب تک ضرورت تھی نا کہ براہ راست کتاب سنت اجماع قیاس سے وہ مسائل کو لیں اللہ پاک نے ان کو پیدا فرمایا۔
[12:42]بعد العصر اربعہ منقطع ليس لیا ہدی ایک ہی کیس۔ رد المحتار، کتاب السلات باب الامامۃ۔ ولا یخلو الوجود من یمیز ہذا حقیقۃ لا ظنا۔ وعلم من لم یمیز ان یرجع لمن یمیز ہذا ذمتہ۔ مقدمة الدر المحتار۔ یہ امت محمدیہ کی کرامت ہے کہ لا یخلو الوجود من یمیز هذا یہ حقیقۃ لا ظن۔ وعلم من لم یمیز ان یرجع لمن یمیز ہذا ذمتہ مقدمة الدر المحتار تو یہ سارے اتنے محتاط تھے۔ اتنے محتاط تھے کہ وہ مدد کرتے تھے صرف کہ نتیجہ تم نکالو یا اپنا تمہارا استاد نکالے گا۔ ہم اپنی ذمہ داری نہیں لیتے ہم صرف اس کو سمجھ لیں اور اپ تم تک صحیح صحیح چیز پہنچا دیں یہ بڑی بات ہے اور یہاں ایسے ایسے لوگ ایسے ایسے لوگ ہیں کہ ادمی کو ہنسی اتی ہے۔ قران شریف کو بغیر زبر زیر کے پڑھ نہیں سکتے کہ ان کا کہنا ہے کہ ہمارے نزدیک یہ راج ہے۔
[13:58]سب نے ایک ہزار سال کے بعد ہیں چاروں پانچ پانچ نظر ارے ہیں نا تو یہ ایک ہزار سے چار سال بعد ہے ماتن کی وفات اور شاعری کی کب ہے؟ 88 سال بعد اور ان کی ڈھائی سو سال بعد اور ان دونوں حضرات کی چھ اور پانچ ہے یعنی 1300 سال بعد ہے تو مطلب کیا ہوا؟ کہ امات سطح پر بھی بہت کام ہوا کی شکل میں تو تلخیص ہوئی۔ لیکن اس کے بعد پھر اور بھی کام ہوئے نا کوئی ا گیا اور اس نے اس کی شرح لکھی کوئی ایا اور اس نے اس کے چھ کتابوں کے مشترک مسائل کو کتاب القافی میں شہید جمع کر دیا خدمات ہوتی رہیں۔ مونی عربی کی بھی پھر شروعات لکھی گئیں پھر حواشی لکھے گئے ان کے احادیث کی تخریج کی گئی اور ان کے راج مرجو کی تعین پر مستقل کتابیں لکھی گئی۔ خدمات ہوتی رہی ہوتی رہی ہوتی رہی۔ اور ہر اگلی صدی میں جو متن تیار ہوتا تھا وہ اس میں وہ صرف ظاہر روایت نہیں ان کی شروعات اور صرف متون عربہ نہیں اس کی بھی شروع اور حواشی اور صرف متون عربی کی شروع حواشی نہیں فتاوی اور رسائل سے بھی لے لے کر اگلا متن تیار ہوتا تھا۔ اور بحث پوری دنیا میں اس پر ہوتی تھی لوگ بیٹھے ہوتے تھے جن کو اللہ نے توفیق دی ہوئی تھی کہ کہ کو لے کر الاول کو لیتا رہے گا سلف لیتا رہے گا اس کو تو انتظار میں ہوتے تھے کہ کوئی نئی کتاب ہے تو دکھاؤ اپ کے پاس نہیں ہے تو پڑھ کر مجھے دے دو میں نقل کر کے اپ کو دوں گا۔ واپس ہاتھ سے ہاتھ نقل ہوتے تھے پوری دنیا میں وہ باقاعدہ ایک ادارہ نہیں ہے لیکن وہ اللہ نے مجموعہ امت جیسے زلت پر جمع نہیں ہوگی نا تو ایسے ہدایت پر ضرور جمع ہوتی رہے گی وہ خود کام کرتے تھے نہ کر بحث کا۔ تو یہ جو تنویر الابصار ہے اس سے پہلے ایک متن اور شرع لکھی گئی تھی خلافت عثمانیہ کے دور میں ملا خسرو ایک بڑا عالم گزرا تھا سلطان فاتح کے دور کا اور سلطان فاتح کی بات بھی نہیں مانتا تھا صرف اس لیے دنیا کو بتانے کے لیے کہ ہم نے بادشاہوں کی مرضی پر نہیں یہ فن کی تدوین کی ہے۔
[15:56]ہم نے اللہ کی مرضی تلاش کرنے کے لیے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کی تدوین میں یہ کام کیا ہے۔ امت کی بھلائی کے لیے اور اپنے اخرت کی نجات کے لیے تو اس نے درر والغرر اس نے بھی ایک متن اور شاہ خود لکھی تھی۔ تو اس سے بھی استفاضہ کر کے اب یہ متن لکھا گیا پھر ایک ہزار سال کے پورا ہونے پر اس میں پچھلے تمام متون شروع و عشاء فتاوی رسائل تک کا نچوڑ ہے۔ اس کی کئی شروعات لکھی گئی ایک شرح خود ماتن نے لکھی۔ من الغفار اگر اپ ا نہیں تو ان کی جمع پڑھے۔ متن مصدر بھی کہہ سکتے ہیں جو اپنے فاعل کی طرح مضاف ہے۔ من الغفار بھی کہہ سکتے ہیں۔ من الغفار زیادہ رائج ہے۔
[16:42]تو ایک شرح خود ماتن نے لکھی اور باقی شروعات لکھی گئیں ان سب سے استفاضہ کر کے ایک شاندار شرح تیار ہوئی الدر المختار یہ 11ویں صدی میں اس کے پھر حواشی لکھے گئے سات حواشی زیادہ مشہور ہو گئے جن میں سے کچھ ابھی مطبوع ہیں کچھ مکتوب ہیں اور کچھ مفقود ہیں۔ ان سات حواشی کی مدد سے اس ڈھائی سو سال کے اندر پھر اٹھواں حاشیہ لکھا گیا جس میں اور بھی شاندار اضافے تھے۔ اس پر بس نہیں ہوئی۔ یہ کسی ایک کی اس پر ایزارہ داری نہیں ہے۔ اس پر بس نہیں ہوئی۔ اس کا بیٹا ایا اس نے اس کا تکملہ لکھا اس کے بعد ایک حنفیہ یہ تینوں دو فلسطین کے تھے ایک یہ شام کا تھا یعنی شام فلسطین فلسطین اور شام ایک تھے کسی زمانے میں ادھر کے۔ یہ مصری عالم تھے۔
[17:37]یہ انہوں نے ا کر پھر اس پر کام کرنا شروع کیا متن پر بھی شارہ پر بھی اشیا پر بھی انہوں نے کچھ نہ کچھ لکھتے رہتے تھے ساری عمر لکھتے رہتے تھے وہ نسخہ اپنے سرانے رکھتے تھے وفات کے دن بھی کام کیا۔ تو ان کے بیٹے نے ان کی وفات کے بعد پھر وہ بھی جمع کر دیے۔ تو یہ پانچ کتابیں اکٹھی تیار ہوئیں جو پچھلے ایک ہزار سال کی کتابیں کا نچوڑ متن میں ہے۔ 100 साल की मेहनत का निचोड़ शर्रह में है, और 1200 साल की मेहनत का निचोड़ हाशिया में है, और 1300 साल की मेहनत का निचोड़ उसकी तालीकात या तकरीरात में है तो इस वजह से इसको फतवा के लिए इख्तियार किया गया।
[18:22]ٹھیک ہے؟ باقی خصوصیات وہ آپ نے پڑھی ہوں گی ادھر بھی آئیں گی۔ کہ وہ ہر ماخذ کا بڑے دقت نظر سے مراجعہ کیا گیا۔ نقل در نقل میں کوئی صدت یا خلل واقع نہ ہو گیا ہو۔ یہ دونوں سوال حل ہو گئے درس نظامی میں کیوں امات ستہ نہیں پڑھاتے اور تخصصات میں پھر کیوں اسی متون اربعہ سے نہیں فتوی دیتے۔ وہ متونی عربی اس میں موجود ہے نا ہم اخر میں جب کتابوں کا تعارف کروائیں گے نا کہ شامیہ کا ماخذ جو کتابیں ہیں تو تقریبا 100 کتابوں کا یہاں تعارف ہے لیکن اس میں بھی ہم نے یہ ترتیب مدنظر رکھی ہے۔ کہ امات سطح کی جو شروعات کا تذکرہ علامہ شامی کرتا ہے۔ متون عرب کی جن شروعات کا تذکرہ کرتا ہے۔ وہی دی ہیں یہاں زیادہ۔ تو اس مطلب کے قدوری کی پانچ پانچ دے دیے ہیں۔ ہدایہ کی دس شروعات کا تعارف دے دیا ہے۔ پھر مزید دوسری کتابیں بعد میں دی ہیں۔ یہ بتانے کے لیے کہ وہی امات صطا و ما يتعلق بہا ان سب کا خلاصہ ہے نا اس میں ہے۔
[19:32]تو ہر ادمی جا کر دوبارہ سے مراجعہ کرے گا کیا؟ کتنا مراجعہ کر سکتا ہے وہ۔ جی۔
[19:43]تو یہ پانچ کتابیں اس لیے مرج فتوی ہے۔ ہم ساتھیوں سے کہتے ہیں کہ اپ وہ والا نسخہ لے لیں جس میں یہ تعلیقات یہ جو تعلیقات ہیں نا اس کو تقریرات لکھنا چاہیے۔ ऐसे कौन में कमम से कम ये हशि पर हो क्योंकि ये निहायत मुफीद है हम जब इसी चीज का इजरा करवाते हैं ना तो वो करवाते हैं शामा की किताब अजबाय से हेदया आजरा भी जुबाय से करवाते हैं किसी खास वजह से जो हम बाद में बताएंगे ताकि फिकुल हलाल भी साथ साथ हो जाए तो उस में भी इसका शाहेद मौजूद है कि इसके बगैर चारा नहीं है बाज जगह जब आपको हाशिया में मुगल्क नजर आएगी या उस पर बास होगी वो व नीचे देखना तकरीरात वाले ने हल किया होगा।



