Thumbnail for طلبِ علم میں صبر | علمی مہارت کا حصول | شیخ سیف اللہ ثناء اللہ by Tilmeaz Institute

طلبِ علم میں صبر | علمی مہارت کا حصول | شیخ سیف اللہ ثناء اللہ

Tilmeaz Institute

11h 20m19,963 words~100 min read
Auto-Generated

[0:08]الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی نبی الامین اما بعد. اج ہم انشاءاللہ الصبر علی طلب العلم کے متعلق بات کریں گے. کہ طلب علم حاصل کرنے میں کیا کرنا چاہیے صبر کتنا کرنا چاہیے اخر کار کب تک صبر کریں شیخ. تو اس کے متعلق ہم بات کریں گے اج انشاءاللہ. دیکھیں علم حاصل کرنے میں بہت ضروری ہے کہ طالب علم کے پاس صبر ہو. اور اپ دیکھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ اور اسی طرح اللہ کے انبیاء جو اول العزم من الرسل تھے ان کی خصوصیت ان کی خاص خصوصیت یہ تھی کہ وہ بڑے صبر والے تھے. تو اس لیے بہت ضروری ہے کہ انسان حق پر ثابت ہو چاہے وہ بہت زیادہ ہی کیوں نہ ہو مخالفین. اور وہ سنت المرسلین اور ان کی ہدایت پر صبر اور شکر سے کام لے. اور وہ صبر میں اچھے اخلاق کا دامن مت چھوڑے اسی لیے اپ دیکھتے ہیں قران میں سورہ یوسف میں اللہ تعالی نے حضرت یوسف کو کئی بار اس بات کی تقریر اور تلقین اور نصیحت کی کہ صبر سے کام لے. اور اسی طرح یہ بھی بہت ضروری ہے کہ اللہ تعالی نے جیسے قران میں فرمایا جو تقوی پرہیزگاری اختیار کرتا ہے. اللہ تعالی محسن لوگوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا. اگے شیخ نے اس چیز کا بھی ذکر کیا ہے کہ العبرت بسیرت من صبر. کہ ہمیں چاہیے کہ ہم عبرت حاصل کریں ان لوگوں سے جنہوں نے صبر کیا. اور وہ کون لوگ ہیں وہ ہیں صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تابعین ائمہ اور اسی طرح ان سے پہلے جو انبیاء گزرے ہیں اسی لیے علماء نے علم کے حصول میں شدت تحمل اور شدت صبر کا مظاہرہ کیا.

[2:17]یہاں تک کہ وہ بڑے بڑے عظیم حالات عظیم سفر میں علم حاصل کرنے جاتے اور لوگوں سے ملتے کیونکہ لا علم بدون صبر بغیر صبر کے اپ علم حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں.

[10:09:54]اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے. کیونکہ ان ساروں میں علم عمل حق کو بیان کرنے اور ایمان میں ان سب میں اگر صبر نہیں ہوا تو اپ ان چاروں یا ان تینوں کو حاصل نہیں کر سکتے. اسی لیے امام محمد ابن سیرین نے اس چیز کا ذکر کیا ہے کہ لا علم برات الجسد. علم کو انسان ارام سے کمفرٹ زون میں رہ کر بڑی ہی چل رہ کر بندہ علم حاصل نہیں کر سکتا. علم حاصل کرنے کے لیے مشقت اور درد اور تکلیف اور کیا کیا نہیں سہنا پڑتا. اسی لیے اپ دیکھتے ہیں اج کل جو طلباء علم حاصل کرنے کا شوق تو رکھتے ہیں لیکن علم کے لیے قربانیاں دینے کے لیے تیار نہیں ہے وہ علم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں. اور ہر وقت ہر لمحے وہ چھلانگیں مارتے رہتے ہیں علم کے میدانوں میں اخر میں وہ خالی ہاتھ واپس لوٹتے ہیں. اسی لیے اللہ تعالی نے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ صبر خود بخود ایک عبادت ہے. اسی لیے اللہ تعالی نے قران میں سورۃ العصر میں کیا فرمایا ان الانسان لفی خسر الا الذین امنوا وعمل الصالحات وتواص بالحق وتواص بالصبر. یعنی اس ایمان کا جو ذکر کیا گیا ہے سورۃ العصر میں اس میں علم بھی ہے عمل بھی ہے اس میں حق. کی اواز بھی بلند کی گئی لیکن اس میں ایک اور چیز بھی ہے وتواص بالحق وتواص بالصبر اور صبر کی بھی اس میں وصیت ہے.

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript