[0:19]فرعون کا تذکرہ کیا اور فرعون کے بارے میں فرمایا وہ فرعون ذل اوتاد وہ فرعون جو کیلوں اور میخوں والا تھا یہ کیلوں اور میخوں والا فرعون کو کیوں کہا جاتا ہے اس وجہ سے کہ یہ جب کسی شخص کو سزا دیتا جو اس کی بات نہ مانتا اور اس کے اوپر یہ جو ہے وہ ناراض ہو جاتا تو اس کو سزا دیتے وقت اس کے سر میں اس کے ہاتھوں میں اور اس کے پاؤں میں لوہے کی کیلیں ٹھکوا دیا کرتا تھا اعوذ باللہ من ذالک اخلاص کے بغیر کوئی بھی عمل قابل قبول نہیں ہوتا یاد رکھیے کسی بھی عمل کے اللہ رب العزت کے ہاں قبول ہونے کی شرائط میں سے یہ ہے کہ وہ عمل اس عمل کے اندر شرک موجود نہ ہو اس عمل کے اندر اخلاص موجود ہو وہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے مطابق ہو اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہو اگر ان میں سے کوئی بھی شرط مفقود ہوتی ہے تو کوئی بھی عمل اللہ رب العزت کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوتا
[1:14]اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین وعلی الہ وصحبہ ومن تبعہم باحسان الی یوم الدین رمضان المبارک میں خلاصہ مضامین قران مجید کے حوالے سے اج ہماری تیسویں نشست ہے جس میں انشاء اللہ تعالی ہم تیسویں پارے کے مضامین کا مختصر طور پر جائزہ اور خلاصہ اپ کے سامنے رکھیں گے اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت مجھے اور اپ سب کو قران مجید کے ساتھ اپنے تعلق کو بہت گہرا اور مضبوط بنانے کی توفیق عطا فرمائے اور بطور خاص رمضان کی ان با برکت ساعتوں اور گھڑیوں میں ہمیں قران مجید کے ساتھ جڑنے کی توفیق عطا فرمائے پارہ نمبر 23 کے ابتداء میں گزشتہ سے پیوستہ سورہ یاسین ہے پیچھے جو ہم نے حبیب نجار کا واقعہ پڑھا تھا جو اللہ رب العزت نے تین انبیاء کو ایک علاقے کی طرف مبعوث کیا تھا بستی انطاکیہ کی طرف تو وہاں پر ان لوگوں نے جب انکار کیا تو حبیب نجار نے ان سے ا کر کہا کہ اللہ تعالی کے رسولوں کی پیروی کرو اور ان کی مخالفت نہ کرو اسی کی کچھ اگے باتیں اللہ رب العزت نے بتائی ہیں وہ کہنے لگا کہ اور میں کیوں اس اللہ رب العزت کی عبادت نہ کروں جس اللہ تعالی نے مجھے پیدا کیا ہے اور اسی کی طرف تم سب کو اور مجھے بھی لوٹ کر جانا ہے کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں اس اللہ رب العزت کے علاوہ کوئی دوسرا معبود بنا لوں کہ اگر اللہ رب العزت مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے گا تکلیف پہنچانے کا ارادہ کر لے تو ان میں سے کوئی میرا سفارشی نہیں بن سکتا کوئی مجھے بچا نہیں سکتا اس تکلیف سے اس وقت تو میں یقینا گمراہوں میں سے ہو جاؤں گا اگر میں اللہ رب العزت کا راستہ چھوڑ کر میں ان لوگوں کے راستے پہ چل پڑوں تو اس وجہ سے کہنے لگے کہ میں اس اللہ رب العزت پر جس کے بارے میں تم جو ہے وہ سن چکے ہو میں اس اللہ رب العزت کے ساتھ ایمان لا چکا ہوں تو یہ ان کے بارے میں اللہ رب العزت نے یہاں ذکر فرمایا ہے اس کے بعد اللہ تعالی نے ایت نمبر 33 سے 64 تک قدرت کے کچھ دلائل کا تذکرہ کیا ہے قدرت کی کچھ نشانیاں اللہ رب العزت نے بتائی ہیں جن میں سے سب سے پہلے اللہ فرماتے ہیں آیت اللہ المیت اللہ تعالی کی ایک نشانی زمین ہے جو مردہ تھی اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ اس کو ہم نے زندہ کیا اور اس میں سے ہم نے تمام قسم کے دانے تمام قسم کے انواع و اقسام کے پھل فروٹس اور غلہ جات اور یہ ساری چیزیں اس میں سے پیدا فرمائیں جس میں سے یہ لوگ کھاتے ہیں اسی طرح سے اللہ رب العزت نے مختلف باغات جو ہے وہ ان کو اگایا ان کا اللہ رب العزت نے تذکرہ کیا ہے جو چشمے جاری کیا ہے آیت نمبر 34 میں اس کا تذکرہ کیا ہے تاکہ اس میں سے لوگ کھائیں اور اسی طرح سے اس کے بعد اللہ رب العزت نے اپنی دیگر نشانیاں جیسے رات اور دن کی نشانی کا تذکرہ کیا ہے اور اس کے بعد سورج اور چاند کا تذکرہ کیا ہے چاند کی اللہ رب العزت نے منزلیں مقرر فرمائی ہیں اور اس کے بارے میں ہم سورہ یونس میں پڑھ چکے ہیں کہ اللہ رب العزت نے اس لیے منزل مقرر فرمائی ہیں لتل عدد السنین والحساب تاکہ تم حساب کتاب اور گنتی کو جان سکو اس سے یہ بات سمجھ اتی ہے کہ مسلمانوں کا اصل جو کلینڈر اور تقویم ہے وہ اسلامی اور قمری مہینوں کے اعتبار سے ہے نہ کہ شمسی مہینوں کے اعتبار سے تو اللہ رب العزت نے ان کا تذکرہ کیا ہے اس کے بعد اللہ رب العزت فرماتے ہیں ایت نمبر 40 47 میں جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کرو جو اللہ رب العزت نے تمہیں رزق عطا فرمایا ہے تو کہتے ہیں کافر لوگ کہتے ہیں ایمان والوں کے لیے کیا ہم ان کو کھلائیں کہ جن کو اللہ چاہتا تو خود ہی کھلا دیتا یعنی ان کو اللہ تعالی نے غریب کیوں پیدا کیا اور ہمیں اللہ تعالی نے امیر پیدا کیا ہے تو گویا کہ ان کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں اگر اللہ تعالی نے امیر پیدا کیا تو یہ ہمارا رائٹ تھا اور ان لوگوں کو اگر غریب پیدا کیا ہے تو وہ اسی چیز کو ڈیزرو کرتے تھے تو کہنے لگے کہ جس کو اللہ نے بھوکا رکھا ہے ہم ان کو کیوں کھلائیں پلائیں اللہ رب العزت کی مرضی وہ ان کو کھلانا چاہے نہ کھلانا چاہے
[5:01]تم تو بڑی دور کی گمراہی میں ہو اور کہتے ہیں قیامت کب ائے گی معنی یہ ہے کہ یہ لوگ جو ہیں وہ اللہ رب العزت کی اس چیز کے اوپر اعتراض کرتے یہ تو اللہ تعالی کی طرف سے قدرت کا نظام ہے کہ وہ اللہ رب العزت جس کو چاہتا ہے وہ امیر اور غریب بنا دیتا ہے جس کو چاہتا ہے رزق اس کا تنگ کر دیتا ہے جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور یہ کبھی بھی اس بات کا معیار اور دلیل نہیں ہے کہ جن کو اللہ تعالی نے زیادہ رزق دیا ہے وہ اللہ تعالی کے محبوب ہیں اور جن کو اللہ تعالی نے کم رزق دیا ہے وہ اللہ رب العزت کے لیے معضوب ہیں یا اللہ تعالی کے ناپسندیدہ لوگ ہیں اور زیادہ تر ایسا ہی رہا ہے کہ جو اللہ رب العزت کے فرمانبردار ہوتے ہیں ایون کہ بہت سارے انبیاء بھی اللہ تعالی نے ان کو قسم پرسی کی زندگی میں رکھا اور یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اگر وہ غریب اور مسکین ہیں اور یا پھر ان کے پاس رزق کی کمی ہے تو یہ اللہ رب العزت کے ہاں ان کے ناپسندیدہ ہونے کی کوئی دلیل ہے اس کے بعد اللہ رب العزت نے ایت نمبر 51 سے 53 تک جو ہے وہ اس کا سور پھونکے جانے کا تذکرہ کیا ہے اور سور کیا ہے اس کے بارے میں کچھ وضاحت ہم پہلے بھی پڑھ چکے ہیں مفسرین کے اس کے بارے میں مختلف اراء ہیں بعض دو سور کے قائل ہیں اور بعض تین کے قائل ہیں اور پہلا سور جو ہے وہ اس کو جو تین کے قائل ہیں وہ کہتے ہیں اس میں سب لوگ بے ہوش ہو جائیں گے دوسرے سور پر پوری کی پوری دنیا کا نظام ختم ہو جائے گا سب فوت ہو جائیں گے اور تیسرے سور پر زندہ ہو جائیں گے یہاں سے مراد جو ہے وہ تیسرا نفخہ ثالثہ کا کہلاتا ہے یہ اس کو کہا جاتا ہے جس کا اس کا معنی یہ ہے یعنی نفخت البعث والنشر جس کا معنی ہے اٹھ جانا دوبارہ پھر سے یعنی ایسا نفخہ جس کے اواز انے پر لوگ دوبارہ پھر سے زندہ ہو جائیں گے لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور اللہ رب العزت کے سامنے پیش ہوں گے اور اس وقت جو ہے وہ قیامت کا منظر نامہ قائم ہوگا تو یہ اس کا ذکر ہے جس کے بارے میں اللہ رب العزت نے فرمایا کہ جب یہ لوگ سور پھونکا جائے گا اس میں اواز لگائی جائے گی تو اس اواز کے ذریعے لوگ اپنی قبروں میں سے دوڑتے ہوئے اللہ رب العزت کی طرف جمع ہوں گے اور کہیں گے یا ونا اللہ فرماتے ہیں یہ کہیں گے کہ کس نے ہائے اج ہمارے لیے ہلاکت اور افسوس کی بات ہے کس نے ہمیں ہمارے مرقد سے اٹھا دیا مرقد بیسیکلی خواب گاہ کو کہا جاتا ہے ہمیں سوتے میں کس نے جگا دیا اللہ فرماتے ہیں ہذا ما الرحمان المرسلون یہ وہ وعدہ ہے جس کا اللہ رب العزت نے تمہیں وعدہ دیا تھا اور جس کے بارے میں انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام انہوں نے تمہیں جس کے بارے میں بتایا تھا اس کے بعد اللہ فرماتے ہیں کہ اج آیت نمبر 54 میں اج کے دن کسی کے ساتھ کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا بلکہ تمہیں وہی بدلہ دیا جائے گا جو تم دنیا کے اندر اعمال کرتے رہے ہو پھر اللہ رب العزت نے اہل جنت کا تذکرہ کیا ہے ان کے لیے وہاں پر جو ہے وہ خوبصورت بیویاں حوروں کی شکل میں حوروں کی شکلوں میں ہوں گی ان کا تذکرہ کیا ہے اور اسی طرح سے سائیوں کے نیچے وہ ٹیک لگائے ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے اللہ تعالی نے ان کی عیش و ارام اور جو ہے وہ بڑی خوبصورت اور انجوائے والی زندگی کا تذکرہ کیا ہے اور وہاں پر جیسا بھی جو کچھ بھی وہ وہاں پر چاہیں گے وہ سب ان کے لیے حاضر ہوگا اویلیبل ہوگا فرشتوں کی طرف سے ان کے اوپر اللہ تعالی کی طرف سے سلامتی ہے وہ اس کی اواز اور ان کی ان کے اوپر جو ہے وہ سلامتی سلامتی کی اوازیں دی جائے گی اس کے بعد اللہ تعالی نے اہل جہنم کا تذکرہ کیا ہے اہل جہنم کو مجرمین سے کہا جائے گا اے مجرموں کی جماعت تم علیحدہ ہو جاؤ کیا تمہیں اللہ تعالی نے یہ وعدہ نہیں دیا تھا کہ تم شیطان کے قدموں کی پیروی نہیں کرو گے بے شک وہ تمہارا واضح اور کھلا دشمن ہے اور تم صرف میری ہی پیروی کرو گے میری ہی بات مانو گی عبادت کرو گی اور یہی سیدھا راستہ ہے لیکن اس کے باوجود ہوا کیا کہ تم لوگ اصل جبلت سے ہٹ گئے تم نے فطرت کے راستے کو چھوڑ کر تم نے شیطان کے راستے کی پیروی کی کیا تم اس بات کی عقل نہیں رکھتے تھے سو اج جہنم یہ ہے وہ جہنم جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا اس کے اندر داخل ہو جاؤ اس سبب سے جو تم کفر کرتے تھے اس کے بعد ایت نمبر 65 میں اللہ رب العزت نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جو میرے اور اپ کے لیے بات خاص طور پر اس پورے جو ہے وہ بیک گراؤنڈ کے بعد بڑی خطرناک ہے اللہ فرماتے ہیں اج کے دن ہم لوگوں کے منہ پر ان کے ہونٹوں پر ان کے چہروں پر ہم مہر لگا دیں گے ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے ان کے پاؤں بول کر گواہی دیں گے جو یہ کمایا کرتے تھے جو یہ کام کرتے تھے مطلب یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے فرمایا کہ قیامت والے دن بعض مرتبہ ایسا ہوگا کہ انسان سے پوچھا جائے گا کہ ہاں بھئی بتاؤ تم نے یہ سب کیوں کیا اور یہ سب کیوں نہیں کیا
[9:40]تو انسان اپنی زبان کو بند کرنے کی کوشش کرے گا اور اپنے اپ کو چھپانے کی کوشش کرے گا تو اللہ فرماتے ہیں کہ ہم اس کے منہ پر مہر لگا دیں گے اور قیامت والے دن کیا ہوگا کہ یہ انسان کے اعضاء جو ہیں وہ انسان بولنا شروع کریں گے حتی کہ انسان کہے گا کہ اج تم لوگ کیسے بول رہے ہو تو وہ کہیں گے کہ انت اللہ الذی انت کل ہمیں اس اللہ نے زبان دی ہے جس نے ہر چیز کو زبان عطا فرمائی ہے
[10:07]اسی اللہ رب العزت نے اج ہاتھوں کو پیروں کو اور باقی چیزوں کو اللہ رب العزت نے زبان دی ہے تو انسان کے ہاتھ انسان کے پاؤں انسان کی یہ باقی جو اعضاء ہیں انسان کے خلاف گواہی بن جائیں گے ایت نمبر 68 میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں جو لوگوں کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں ان کو اگین ہم ان کے بچپنے کی طرف ان کو اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ ہم ان کو واپس ریوائز کر دیتے ہیں لوٹا دیتے ہیں یعنی جیسے جیسے انسان کی عمر زیادہ ہوتی ہے اگرچہ عمر کے اعتبار سے وہ بڑا ہو جاتا ہے لیکن سم ٹائم کیا ہوتا ہے کہ اس کی سوچیں بالکل بچوں والی ہو جاتی ہیں حرکات بچوں والی ہو جاتی ہیں جیسے بچپن میں اس کو بستر پہ پیشاب نکل جاتا تھا اگین اس کے ساتھ یہ چیزیں ریپیٹ ہونے لگتی ہیں جیسے بچپن میں وہ گھر کا راستہ بھول جاتا تھا اب اس کے ساتھ اگین یہی پرابلمز کریٹ ہونے لگتے ہیں اللہ رب العزت نے اس کا تذکرہ کیا ہے اس کے بعد اللہ رب العزت نے اس صورت کے اخر میں ایت نمبر 77 میں فرمایا کہ اللہ رب العزت کس طرح سے مردوں کو زندہ کریں گے اس کا اللہ رب العزت نے ایک مثال کے ساتھ یہ بات سمجھائی ہے تو اس کا ذکر ہے جس کے بارے میں اللہ رب العزت نے فرمایا کہ جب یہ لوگ سور پھونکا جائے گا اس میں اواز لگائی جائے گی تو اس اواز کے ذریعے لوگ اپنی قبروں میں سے دوڑتے ہوئے اللہ رب العزت کی طرف جمع ہوں گے اور کہیں گے یا ونا اللہ فرماتے ہیں یہ کہیں گے کہ کس نے ہائے اج ہمارے لیے ہلاکت اور افسوس کی بات ہے کس نے ہمیں ہمارے مرقد سے اٹھا دیا مرقد بیسیکلی خواب گاہ کو کہا جاتا ہے ہمیں سوتے میں کس نے جگا دیا اللہ فرماتے ہیں ہذا ما الرحمان المرسلون یہ وہ وعدہ ہے جس کا اللہ رب العزت نے تمہیں وعدہ دیا تھا اور جس کے بارے میں انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام انہوں نے تمہیں جس کے بارے میں بتایا تھا اس کے بعد اللہ فرماتے ہیں کہ اج آیت نمبر 54 میں اج کے دن کسی کے ساتھ کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا بلکہ تمہیں وہی بدلہ دیا جائے گا جو تم دنیا کے اندر اعمال کرتے رہے ہو پھر اللہ رب العزت نے اہل جنت کا تذکرہ کیا ہے ان کے لیے وہاں پر جو ہے وہ خوبصورت بیویاں حوروں کی شکل میں حوروں کی شکلوں میں ہوں گی ان کا تذکرہ کیا ہے اور اسی طرح سے سائیوں کے نیچے وہ ٹیک لگائے ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے اللہ تعالی نے ان کی عیش و ارام اور جو ہے وہ بڑی خوبصورت اور انجوائے والی زندگی کا تذکرہ کیا ہے اور وہاں پر جیسا بھی جو کچھ بھی وہ وہاں پر چاہیں گے وہ سب ان کے لیے حاضر ہوگا اویلیبل ہوگا فرشتوں کی طرف سے ان کے اوپر اللہ تعالی کی طرف سے سلامتی ہے وہ اس کی اواز اور ان کی ان کے اوپر جو ہے وہ سلامتی سلامتی کی اوازیں دی جائے گی اس کے بعد اللہ تعالی نے اہل جہنم کا تذکرہ کیا ہے اہل جہنم کو مجرمین سے کہا جائے گا اے مجرموں کی جماعت تم علیحدہ ہو جاؤ کیا تمہیں اللہ تعالی نے یہ وعدہ نہیں دیا تھا کہ تم شیطان کے قدموں کی پیروی نہیں کرو گے بے شک وہ تمہارا واضح اور کھلا دشمن ہے اور تم صرف میری ہی پیروی کرو گے میری ہی بات مانو گی عبادت کرو گی اور یہی سیدھا راستہ ہے لیکن اس کے باوجود ہوا کیا کہ تم لوگ اصل جبلت سے ہٹ گئے تم نے فطرت کے راستے کو چھوڑ کر تم نے شیطان کے راستے کی پیروی کی کیا تم اس بات کی عقل نہیں رکھتے تھے سو اج جہنم یہ ہے وہ جہنم جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا اس کے اندر داخل ہو جاؤ اس سبب سے جو تم کفر کرتے تھے اس کے بعد ایت نمبر 65 میں اللہ رب العزت نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جو میرے اور اپ کے لیے بات خاص طور پر اس پورے جو ہے وہ بیک گراؤنڈ کے بعد بڑی خطرناک ہے اللہ فرماتے ہیں اج کے دن ہم لوگوں کے منہ پر ان کے ہونٹوں پر ان کے چہروں پر ہم مہر لگا دیں گے ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے ان کے پاؤں بول کر گواہی دیں گے جو یہ کمایا کرتے تھے جو یہ کام کرتے تھے مطلب یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے فرمایا کہ قیامت والے دن بعض مرتبہ ایسا ہوگا کہ انسان سے پوچھا جائے گا کہ ہاں بھئی بتاؤ تم نے یہ سب کیوں کیا اور یہ سب کیوں نہیں کیا
[9:40]تو انسان اپنی زبان کو بند کرنے کی کوشش کرے گا اور اپنے اپ کو چھپانے کی کوشش کرے گا تو اللہ فرماتے ہیں کہ ہم اس کے منہ پر مہر لگا دیں گے اور قیامت والے دن کیا ہوگا کہ یہ انسان کے اعضاء جو ہیں وہ انسان بولنا شروع کریں گے حتی کہ انسان کہے گا کہ اج تم لوگ کیسے بول رہے ہو تو وہ کہیں گے کہ انت اللہ الذی انت کل ہمیں اس اللہ نے زبان دی ہے جس نے ہر چیز کو زبان عطا فرمائی ہے
[10:07]اسی اللہ رب العزت نے اج ہاتھوں کو پیروں کو اور باقی چیزوں کو اللہ رب العزت نے زبان دی ہے تو انسان کے ہاتھ انسان کے پاؤں انسان کی یہ باقی جو اعضاء ہیں انسان کے خلاف گواہی بن جائیں گے ایت نمبر 68 میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں جو لوگوں کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں ان کو اگین ہم ان کے بچپنے کی طرف ان کو اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ ہم ان کو واپس ریوائز کر دیتے ہیں لوٹا دیتے ہیں یعنی جیسے جیسے انسان کی عمر زیادہ ہوتی ہے اگرچہ عمر کے اعتبار سے وہ بڑا ہو جاتا ہے لیکن سم ٹائم کیا ہوتا ہے کہ اس کی سوچیں بالکل بچوں والی ہو جاتی ہیں حرکات بچوں والی ہو جاتی ہیں جیسے بچپن میں اس کو بستر پہ پیشاب نکل جاتا تھا اگین اس کے ساتھ یہ چیزیں ریپیٹ ہونے لگتی ہیں جیسے بچپن میں وہ گھر کا راستہ بھول جاتا تھا اب اس کے ساتھ اگین یہی پرابلمز کریٹ ہونے لگتے ہیں اللہ رب العزت نے اس کا تذکرہ کیا ہے اس کے بعد اللہ رب العزت نے اس صورت کے اخر میں ایت نمبر 77 میں فرمایا کہ اللہ رب العزت کس طرح سے مردوں کو زندہ کریں گے اس کا اللہ رب العزت نے ایک مثال کے ساتھ یہ بات سمجھائی ہے فرعون کا تذکرہ کیا اور فرعون کے بارے میں فرمایا وہ فرعون ذل اوتاد وہ فرعون جو کیلوں اور میخوں والا تھا یہ کیلوں اور میخوں والا فرعون کو کیوں کہا جاتا ہے اس وجہ سے کہ یہ جب کسی شخص کو سزا دیتا جو اس کی بات نہ مانتا اور اس کے اوپر یہ جو ہے وہ ناراض ہو جاتا تو اس کو سزا دیتے وقت اس کے سر میں اس کے ہاتھوں میں اور اس کے پاؤں میں لوہے کی کیلیں ٹھکوا دیا کرتا تھا اعوذ باللہ من ذالک اخلاص کے بغیر کوئی بھی عمل قابل قبول نہیں ہوتا یاد رکھیے کسی بھی عمل کے اللہ رب العزت کے ہاں قبول ہونے کی شرائط میں سے یہ ہے کہ وہ عمل اس عمل کے اندر شرک موجود نہ ہو اس عمل کے اندر اخلاص موجود ہو وہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے مطابق ہو اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہو اگر ان میں سے کوئی بھی شرط مفقود ہوتی ہے تو کوئی بھی عمل اللہ رب العزت کی بارگاہ میں قبول نہیں ہوتا
[1:14]اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین وعلی الہ وصحبہ ومن تبعہم باحسان الی یوم الدین رمضان المبارک میں خلاصہ مضامین قران مجید کے حوالے سے اج ہماری تیسویں نشست ہے جس میں انشاء اللہ تعالی ہم تیسویں پارے کے مضامین کا مختصر طور پر جائزہ اور خلاصہ اپ کے سامنے رکھیں گے اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت مجھے اور اپ سب کو قران مجید کے ساتھ اپنے تعلق کو بہت گہرا اور مضبوط بنانے کی توفیق عطا فرمائے اور بطور خاص رمضان کی ان با برکت ساعتوں اور گھڑیوں میں ہمیں قران مجید کے ساتھ جڑنے کی توفیق عطا فرمائے پارہ نمبر 23 کے ابتداء میں گزشتہ سے پیوستہ سورہ یاسین ہے پیچھے جو ہم نے حبیب نجار کا واقعہ پڑھا تھا جو اللہ رب العزت نے تین انبیاء کو ایک علاقے کی طرف مبعوث کیا تھا بستی انطاکیہ کی طرف تو وہاں پر ان لوگوں نے جب انکار کیا تو حبیب نجار نے ان سے ا کر کہا کہ اللہ تعالی کے رسولوں کی پیروی کرو اور ان کی مخالفت نہ کرو اسی کی کچھ اگے باتیں اللہ رب العزت نے بتائی ہیں وہ کہنے لگا کہ اور میں کیوں اس اللہ رب العزت کی عبادت نہ کروں جس اللہ تعالی نے مجھے پیدا کیا ہے اور اسی کی طرف تم سب کو اور مجھے بھی لوٹ کر جانا ہے کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں اس اللہ رب العزت کے علاوہ کوئی دوسرا معبود بنا لوں کہ اگر اللہ رب العزت مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے گا تکلیف پہنچانے کا ارادہ کر لے تو ان میں سے کوئی میرا سفارشی نہیں بن سکتا کوئی مجھے بچا نہیں سکتا اس تکلیف سے اس وقت تو میں یقینا گمراہوں میں سے ہو جاؤں گا اگر میں اللہ رب العزت کا راستہ چھوڑ کر میں ان لوگوں کے راستے پہ چل پڑوں تو اس وجہ سے کہنے لگے کہ میں اس اللہ رب العزت پر جس کے بارے میں تم جو ہے وہ سن چکے ہو میں اس اللہ رب العزت کے ساتھ ایمان لا چکا ہوں تو یہ ان کے بارے میں اللہ رب العزت نے یہاں ذکر فرمایا ہے اس کے بعد اللہ تعالی نے ایت نمبر 33 سے 64 تک قدرت کے کچھ دلائل کا تذکرہ کیا ہے قدرت کی کچھ نشانیاں اللہ رب العزت نے بتائی ہیں جن میں سے سب سے پہلے اللہ فرماتے ہیں آیت اللہ المیت اللہ تعالی کی ایک نشانی زمین ہے جو مردہ تھی اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ اس کو ہم نے زندہ کیا اور اس میں سے ہم نے تمام قسم کے دانے تمام قسم کے انواع و اقسام کے پھل فروٹس اور غلہ جات اور یہ ساری چیزیں اس میں سے پیدا فرمائیں جس میں سے یہ لوگ کھاتے ہیں اسی طرح سے اللہ رب العزت نے مختلف باغات جو ہے وہ ان کو اگایا ان کا اللہ رب العزت نے تذکرہ کیا ہے جو چشمے جاری کیا ہے ایت نمبر 34 میں اس کا تذکرہ کیا ہے تاکہ اس میں سے لوگ کھائیں اور اسی طرح سے اس کے بعد اللہ رب العزت نے اپنی دیگر نشانیاں جیسے رات اور دن کی نشانی کا تذکرہ کیا ہے اور اس کے بعد سورج اور چاند کا تذکرہ کیا ہے چاند کی اللہ رب العزت نے منزلیں مقرر فرمائی ہیں اور اس کے بارے میں ہم سورہ یونس میں پڑھ چکے ہیں کہ اللہ رب العزت نے اس لیے منزل مقرر فرمائی ہیں لتل عدد السنین والحساب تاکہ تم حساب کتاب اور گنتی کو جان سکو اس سے یہ بات سمجھ اتی ہے کہ مسلمانوں کا اصل جو کلینڈر اور تقویم ہے وہ اسلامی اور قمری مہینوں کے اعتبار سے ہے نہ کہ شمسی مہینوں کے اعتبار سے تو اللہ رب العزت نے ان کا تذکرہ کیا ہے اس کے بعد اللہ رب العزت فرماتے ہیں ایت نمبر 40 47 میں جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کرو جو اللہ رب العزت نے تمہیں رزق عطا فرمایا ہے تو کہتے ہیں کافر لوگ کہتے ہیں ایمان والوں کے لیے کیا ہم ان کو کھلائیں کہ جن کو اللہ چاہتا تو خود ہی کھلا دیتا یعنی ان کو اللہ تعالی نے غریب کیوں پیدا کیا اور ہمیں اللہ تعالی نے امیر پیدا کیا ہے تو گویا کہ ان کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں اگر اللہ تعالی نے امیر پیدا کیا تو یہ ہمارا رائٹ تھا اور ان لوگوں کو اگر غریب پیدا کیا ہے تو وہ اسی چیز کو ڈیزرو کرتے تھے تو کہنے لگے کہ جس کو اللہ نے بھوکا رکھا ہے ہم ان کو کیوں کھلائیں پلائیں اللہ رب العزت کی مرضی وہ ان کو کھلانا چاہے نہ کھلانا چاہے
[5:01]تم تو بڑی دور کی گمراہی میں ہو اور کہتے ہیں قیامت کب ائے گی معنی یہ ہے کہ یہ لوگ جو ہیں وہ اللہ رب العزت کی اس چیز کے اوپر اعتراض کرتے یہ تو اللہ تعالی کی طرف سے قدرت کا نظام ہے کہ وہ اللہ رب العزت جس کو چاہتا ہے وہ امیر اور غریب بنا دیتا ہے جس کو چاہتا ہے رزق اس کا تنگ کر دیتا ہے جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور یہ کبھی بھی اس بات کا معیار اور دلیل نہیں ہے کہ جن کو اللہ تعالی نے زیادہ رزق دیا ہے وہ اللہ تعالی کے محبوب ہیں اور جن کو اللہ تعالی نے کم رزق دیا ہے وہ اللہ رب العزت کے لیے معضوب ہیں یا اللہ تعالی کے ناپسندیدہ لوگ ہیں اور زیادہ تر ایسا ہی رہا ہے کہ جو اللہ رب العزت کے فرمانبردار ہوتے ہیں ایون کہ بہت سارے انبیاء بھی اللہ تعالی نے ان کو قسم پرسی کی زندگی میں رکھا اور یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ اگر وہ غریب اور مسکین ہیں اور یا پھر ان کے پاس رزق کی کمی ہے تو یہ اللہ رب العزت کے ہاں ان کے ناپسندیدہ ہونے کی کوئی دلیل ہے اس کے بعد اللہ رب العزت نے ایت نمبر 51 سے 53 تک جو ہے وہ اس کا سور پھونکے جانے کا تذکرہ کیا ہے اور سور کیا ہے اس کے بارے میں کچھ وضاحت ہم پہلے بھی پڑھ چکے ہیں مفسرین کے اس کے بارے میں مختلف اراء ہیں بعض دو سور کے قائل ہیں اور بعض تین کے قائل ہیں اور پہلا سور جو ہے وہ اس کو جو تین کے قائل ہیں وہ کہتے ہیں اس میں سب لوگ بے ہوش ہو جائیں گے دوسرے سور پر پوری کی پوری دنیا کا نظام ختم ہو جائے گا سب فوت ہو جائیں گے اور تیسرے سور پر زندہ ہو جائیں گے یہاں سے مراد جو ہے وہ تیسرا نفخہ ثالثہ کا کہلاتا ہے یہ اس کو کہا جاتا ہے جس کا اس کا معنی یہ ہے یعنی نفخت البعث والنشر جس کا معنی ہے اٹھ جانا دوبارہ پھر سے یعنی ایسا نفخہ جس کے اواز انے پر لوگ دوبارہ پھر سے زندہ ہو جائیں گے لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور اللہ رب العزت کے سامنے پیش ہوں گے اور اس وقت جو ہے وہ قیامت کا منظر نامہ قائم ہوگا تو یہ اس کا ذکر ہے جس کے بارے میں اللہ رب العزت نے فرمایا کہ جب یہ لوگ سور پھونکا جائے گا اس میں اواز لگائی جائے گی تو اس اواز کے ذریعے لوگ اپنی قبروں میں سے دوڑتے ہوئے اللہ رب العزت کی طرف جمع ہوں گے اور کہیں گے یا ونا اللہ فرماتے ہیں یہ کہیں گے کہ کس نے ہائے اج ہمارے لیے ہلاکت اور افسوس کی بات ہے کس نے ہمیں ہمارے مرقد سے اٹھا دیا مرقد بیسیکلی خواب گاہ کو کہا جاتا ہے ہمیں سوتے میں کس نے جگا دیا اللہ فرماتے ہیں ہذا ما الرحمان المرسلون یہ وہ وعدہ ہے جس کا اللہ رب العزت نے تمہیں وعدہ دیا تھا اور جس کے بارے میں انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام انہوں نے تمہیں جس کے بارے میں بتایا تھا اس کے بعد اللہ فرماتے ہیں کہ اج آیت نمبر 54 میں اج کے دن کسی کے ساتھ کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا بلکہ تمہیں وہی بدلہ دیا جائے گا جو تم دنیا کے اندر اعمال کرتے رہے ہو پھر اللہ رب العزت نے اہل جنت کا تذکرہ کیا ہے ان کے لیے وہاں پر جو ہے وہ خوبصورت بیویاں حوروں کی شکل میں حوروں کی شکلوں میں ہوں گی ان کا تذکرہ کیا ہے اور اسی طرح سے سائیوں کے نیچے وہ ٹیک لگائے ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے اللہ تعالی نے ان کی عیش و ارام اور جو ہے وہ بڑی خوبصورت اور انجوائے والی زندگی کا تذکرہ کیا ہے اور وہاں پر جیسا بھی جو کچھ بھی وہ وہاں پر چاہیں گے وہ سب ان کے لیے حاضر ہوگا اویلیبل ہوگا فرشتوں کی طرف سے ان کے اوپر اللہ تعالی کی طرف سے سلامتی ہے وہ اس کی اواز اور ان کی ان کے اوپر جو ہے وہ سلامتی سلامتی کی اوازیں دی جائے گی اس کے بعد اللہ تعالی نے اہل جہنم کا تذکرہ کیا ہے اہل جہنم کو مجرمین سے کہا جائے گا اے مجرموں کی جماعت تم علیحدہ ہو جاؤ کیا تمہیں اللہ تعالی نے یہ وعدہ نہیں دیا تھا کہ تم شیطان کے قدموں کی پیروی نہیں کرو گے بے شک وہ تمہارا واضح اور کھلا دشمن ہے اور تم صرف میری ہی پیروی کرو گے میری ہی بات مانو گی عبادت کرو گی اور یہی سیدھا راستہ ہے لیکن اس کے باوجود ہوا کیا کہ تم لوگ اصل جبلت سے ہٹ گئے تم نے فطرت کے راستے کو چھوڑ کر تم نے شیطان کے راستے کی پیروی کی کیا تم اس بات کی عقل نہیں رکھتے تھے سو اج جہنم یہ ہے وہ جہنم جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا اس کے اندر داخل ہو جاؤ اس سبب سے جو تم کفر کرتے تھے اس کے بعد ایت نمبر 65 میں اللہ رب العزت نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے جو میرے اور اپ کے لیے بات خاص طور پر اس پورے جو ہے وہ بیک گراؤنڈ کے بعد بڑی خطرناک ہے اللہ فرماتے ہیں اج کے دن ہم لوگوں کے منہ پر ان کے ہونٹوں پر ان کے چہروں پر ہم مہر لگا دیں گے ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے ان کے پاؤں بول کر گواہی دیں گے جو یہ کمایا کرتے تھے جو یہ کام کرتے تھے مطلب یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے فرمایا کہ قیامت والے دن بعض مرتبہ ایسا ہوگا کہ انسان سے پوچھا جائے گا کہ ہاں بھئی بتاؤ تم نے یہ سب کیوں کیا اور یہ سب کیوں نہیں کیا
[9:40]تو انسان اپنی زبان کو بند کرنے کی کوشش کرے گا اور اپنے اپ کو چھپانے کی کوشش کرے گا تو اللہ فرماتے ہیں کہ ہم اس کے منہ پر مہر لگا دیں گے اور قیامت والے دن کیا ہوگا کہ یہ انسان کے اعضاء جو ہیں وہ انسان بولنا شروع کریں گے حتی کہ انسان کہے گا کہ اج تم لوگ کیسے بول رہے ہو تو وہ کہیں گے کہ انت اللہ الذی انت کل ہمیں اس اللہ نے زبان دی ہے جس نے ہر چیز کو زبان عطا فرمائی ہے
[10:07]اسی اللہ رب العزت نے اج ہاتھوں کو پیروں کو اور باقی چیزوں کو اللہ رب العزت نے زبان دی ہے تو انسان کے ہاتھ انسان کے پاؤں انسان کی یہ باقی جو اعضاء ہیں انسان کے خلاف گواہی بن جائیں گے ایت نمبر 68 میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں جو لوگوں کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں ان کو اگین ہم ان کے بچپنے کی طرف ان کو اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ ہم ان کو واپس ریوائز کر دیتے ہیں لوٹا دیتے ہیں یعنی جیسے جیسے انسان کی عمر زیادہ ہوتی ہے اگرچہ عمر کے اعتبار سے وہ بڑا ہو جاتا ہے لیکن سم ٹائم کیا ہوتا ہے کہ اس کی سوچیں بالکل بچوں والی ہو جاتی ہیں حرکات بچوں والی ہو جاتی ہیں جیسے بچپن میں اس کو بستر پہ پیشاب نکل جاتا تھا اگین اس کے ساتھ یہ چیزیں ریپیٹ ہونے لگتی ہیں جیسے بچپن میں وہ گھر کا راستہ بھول جاتا تھا اب اس کے ساتھ اگین یہی پرابلمز کریٹ ہونے لگتے ہیں اللہ رب العزت نے اس کا تذکرہ کیا ہے اس کے بعد اللہ رب العزت نے اس صورت کے اخر میں ایت نمبر 77 میں فرمایا کہ اللہ رب العزت کس طرح سے مردوں کو زندہ کریں گے اس کا اللہ رب العزت نے ایک مثال کے ساتھ یہ بات سمجھائی ہے



