Thumbnail for Marka-e-Haq Speech by Jinnah University For Women Karachi (Official)

Marka-e-Haq Speech

Jinnah University For Women Karachi (Official)

56s169 words~1 min read
Auto-Generated

[0:00]مجھے کہنے دیجئے خدا کرے کہ میری از پاک پہ اترے وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو یہاں جو پھول کھلے کھلا رہے برسوں

[0:12]یہاں سے خزاں کو بھی گزرنے کی مجال نہ ہو کیونکہ ہم جابر بھی ہم کندھی بھی ہم ابن خلدون طفلی بھی ہم ابن سینہ ابن الہیثم ہم البیرونی اور توسیی بھی ہم شاعری میں شیرازی ہیں ہم نغمہ گری میں فردوسی ہیں

[0:28]ہم ساز بنے تو بھلے شاہ ہم سوز بنے تو وارث شاہ ہم عقل بنے تو شاہ لطیف ہم وجد بنے ہم رقص بنے ہم سجدہ سرمست بنے ہم شہباز ہیں قلندر کے ہم سمندر کے غازی ہیں

[0:44]ہم لکھنے والے پڑھنے والے جلندھر کے کہ میں بے خوف ہوں بے باک ہوں الفاظ سے تلوار سے کہ کٹ گئی غلامی کی زنجیریں میں عبدالکلام ازاد ہوں اس مٹی کی رہنے والی ہوں

[0:56]اس مٹی کو سجانا ہے بن گیا تیرا اور میرا پاکستان اب اسی جناح کا پاکستان بنانا ہے اب اسی جناح کا پاکستان بنانا ہے بہت شکریہ

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript