Thumbnail for Surah Al-Nisa part 04 (verse 12 - 14) - Javed Ahmed Ghamidi by Dars e Quran (Javed Ahmed Ghamidi)

Surah Al-Nisa part 04 (verse 12 - 14) - Javed Ahmed Ghamidi

Dars e Quran (Javed Ahmed Ghamidi)

47m 46s4,036 words~21 min read
AI audio transcription
Transcript source

AI audio transcription

This transcript was generated from the video's audio because no usable YouTube caption track was available. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Timestamped outline
Pull quotes
[0:28]الحمدللہ الحمدللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی محمد الامین فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم خواتین و حضرات سورہ نساء کی ایت 12 سے ہم درس کی فضا کر رہے ہیں۔
[19:10]فرمایا یہ حصے بھی انہوں نے اگر کوئی وصیت کی ہے تو پہلے اس کو پورا کیا جائے گا قرض ہے تو وہ ادا کیا جائے گا اس کے بعد۔
Use this transcript
Related transcript hubs

[0:28]الحمدللہ الحمدللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی محمد الامین فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم خواتین و حضرات سورہ نساء کی ایت 12 سے ہم درس کی فضا کر رہے ہیں۔

[0:46]اس سے پہلے ایت 11 میں حصے بیان ہوئے یہ حصے اولاد کے تھے والدین کے تھے۔ اس کے بعد درمیان میں کلام کو روک کر اللہ تعالی نے یہ بات فرمائی کہ یہ حصے میں نے کیوں مقرر کیے۔ سلسلہ کلام کے بیچ میں یہ بھی قران مجید کا خاص انداز ہے یعنی ایسا نہیں کیا کہ پہلے یہ بات بیان کی ہو یا خاتمے میں بیان کی ہو ایک خاص ادبی اسلوب میں بات شروع کی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب بات شروع کر کے اس سے بیان کر دیں سوالات پیدا ہو گئے نا لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے اپ کے ذہن میں بھی ہوں گے میرے ذہن میں بھی ہوں گے اب درمیان میں روکا بات کو اور یہ بتایا کہ یہ جو حصے مقرر کیے گئے ہیں تم خود فیصلہ نہیں کر سکتے تھے کہ ان کی بنیاد کیا ہے۔ ہم نے یہ فیصلہ جس بنیاد پر کیا ہے وہ قرب منفعت ہے۔ تو گویا مقصد یہ ہے کہ لوگوں پر یہ بات واضح کر دی جائے کہ جن رشتہ داروں کو اللہ تعالی نے کسی میت کے وارث قرار دیا ہے۔ ان کے بارے میں مبنی پر انصاف قانون وہی ہے جو اس نے خود بیان فرما دیا۔ پہلی بات تو یہ بیان ہوئی۔ چنانچہ اس کی طرف سے اس قانون کے نازل ہو جانے کے بعد اب کسی مرنے والے کو محض رشتہ داری کی بنیاد پر اللہ کے ٹھہرائے ہوئے ان وارثوں کے حق میں وصیت کا حق باقی نہیں رہا۔ یہ بات تو اس ایت سے واضح ہو گئی۔ لیکن رشتہ داری کی بنیاد پر اب اگر کسی رشتہ دار کے لیے کوئی وصیت وہ کرے گا تو صرف اس صورت میں کرے گا جب ان میں سے کسی کی کوئی ضرورت یا اس کی کوئی خدمت یا اس طرح کی کوئی دوسری چیز اس کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ حق حاصل ہے۔ میں نے اس کے دلائل بھی بیان کر دیے تھے۔ کہ یہ حق اب بھی حاصل ہے۔ کہ کسی بچے کی خدمت، ضرورت یا کسی اور پہلو سے یا والدین کی مثال کے طور پر یا کسی اور وارث کی۔ اس نوعیت کی کوئی چیز اگر تقاضا کر رہی ہے تو اپ وصیت کر سکتے ہیں۔ کیونکہ جس منفعت کے کم یا زیادہ ہونے کا علم ہمارے پاس نہیں ہے۔ وہ کون سی منفعت ہے وہ رشتہ داری کی منفعت ہے۔ اس کو ہم نہیں جان سکتے اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس تھا۔ کہ ہمارے والدین زیادہ قریب ہیں منفعت کے لحاظ سے یا اولاد۔ اچھا اور زیادہ قریب ہو تو کتنے قریب ہے کہ اس کے لیے ان کا حصہ مقرر کر دیا جائے۔ رشتہ داری کی منفعت تو اللہ نے طے کر دی۔ لیکن جو ضرورتیں جو منفعتیں ہم جان لیتے ہیں معلوم متعین ہوتے ہیں کہ اس بچے کی تعلیم مکمل ہونی ہے۔ اس کی شادی کا معاملہ زیر بحث انا ہے۔ اس کو کہیں اور کوئی معاملہ اس نوعیت کا کرنا ہے اس کو کاروبار کے لیے کچھ ضرورت ہو گی۔ یہ وہ منفعتیں ہیں یہ وہ ضرورتیں جس کو ہم جانتے ہیں۔ یہ لا تدرون کے ذیل میں اتی ہی نہیں ہیں۔ اس لیے ان کی بنیاد پر وصیت کریں گے۔ اچھا اسی طریقے سے یہ بات بھی بڑے لطیف طریقے سے اللہ تعالی نے واضح کر دی۔ کہ وراثت کا حق جس بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ وہ کیا چیز ہے وہ قرابت نافعہ ہے۔ اور حصوں میں جو فرق کی وجہ ہے۔ وہ بھی اصل میں ان کے پانے والوں کی طرف سے مرنے والے کے لیے ان کی منفعت کا کم یا زیادہ ہونا ہے۔ یعنی جو بنیاد واضح کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اگر منفعت جو ہے وہ دنیاوی منفعت ظاہر ہے مراد ہے یہاں پر دنیاوی منفعت اور منفعت ایک جامع تعبیر ہے۔ وہ معاشی بھی ہوتی ہے۔ وہ سپورٹ کی بھی ہوتی ہے۔ وہ اور دوسری چیزوں کی بھی ہوتی ہے۔ تو وہ منفعت جس کی جتنی ہے اس کے لحاظ سے حصہ مقرر کیا گیا ہے۔ ہم جذبات میں ہوتے ہیں۔ یعنی ہم اگر کوئی اس طرح کا معاملہ کرتے رشتہ داری کی بنیاد پر تو جذبات کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ نہیں۔ اس کی بنیاد اصل میں منفعت ہونی چاہیے۔ چنانچہ اسی اصول کے اوپر اپ دیکھیے کہ لڑکوں کا حصہ لڑکیوں سے زیادہ رکھا گیا ہے۔ وجہ کیا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ لڑکی کی منفعت خاندانی معاشرت میں جیسے ہی وہ بالغ ہوتی ہے اس کے سسرال کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ یہ نہیں کہ اس کی منفعت لڑکے سے کم ہے۔ وہ والدین کے لیے کم تر ہو جاتی ہے۔ اپ اپنی معاشرت پر بھی غور کر کے دیکھ لیں۔ جیسے ہی یہ معاملہ ہوتا ہے۔ اس خاندانی نظام میں کوئی جوہری تبدیلی ا جائے۔ کوئی اور اس طرح کی چیز واقع ہو جائے۔ تو وہ استثناء ہو گا جس کی بنیاد پر پھر اپ کو حق وصیت اخر ہو جائے گا۔ لیکن عام حالات میں تو بالکل یہی صورتحال ہوتی ہے۔ یعنی جیسے ہی لڑکی جوان ہوتی ہے اپ نے فورا اس کی شادی کرنی ہے۔ جیسے ہی اس کی شادی اپ کریں گے تو اب اس کی منفعت جو ہے وہ سسرال کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ میں جب اپنی زندگی پر غور کرتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت مثال کے طور پر میری خوش دامن صاحبہ جو ہیں بہت بزرگ ہیں بوڑھی ہیں۔ اور وہ کچھ بیمار بھی ہو گئی ہیں۔ میری بیگم صاحبہ اب میری ترغیب کے باوجود اور اپنی خواہش کے باوجود ان کو وہ سہارا اور وہ خدمت فراہم نہیں کر سکتی جو انہوں نے میری ماں کو فراہم کیا تھا۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اب اپنے گھر میں ہے۔ اور اس گھر کی ذمہ داریاں انہوں نے ادا کرنی ہیں۔ اس کو دیکھنا ہے۔ تو یہ ممکن نہیں۔ میری والدہ یہاں ان کو میسر تھی۔ اپ یہ دیکھیے کہ جو ان کی حقیقی والدہ نہیں تھی۔ ان کے لیے ان کی منفعت زیادہ تھی۔ وہ بھی بیمار ہوئیں ان کو بھی بڑھاپا گزارنا پڑا۔ 16 سال کم و بیش میرے گھر میں رہیں۔ تو یہ سب کچھ میں جو میری والدہ کو منفعت میری بیوی سے حاصل ہوئی۔ حالانکہ ان کی والدہ نہیں تھی۔ وہ ان کی اپنی والدہ کو ائی ان کی اپنی والدہ کو اج اس طرح حاصل نہیں ہو پا رہی۔ اصل میں یہ بنیادیں میں نے ایک مثال دی۔ اپ اس مثال سے روشنی پائیں گے تو پھر غور کریں گے تو سمجھ میں ا جائے گی بات۔ تو لڑکوں کا حصہ لڑکیوں سے اس لیے دو گنا رکھا گیا۔ کیونکہ ان کی منفعت ان کے سسرال ان کے شوہر کی طرف منتقل ہو جاتی ہے جیسے ہی ان کی شادی ہوتی ہے۔ اچھا یہی معاملہ جو ہے اپ دیکھیں بیوی کے معاملے میں بھی ہوتا ہے۔ یعنی بیوی شوہر کو رفاقت فراہم کرتی ہے شوہر بیوی کو رفاقت فراہم کرتا ہے۔ لیکن ایک زائد ذمہ داری ڈالی گئی ہے منفعت کی وہ یہ ہے کہ شوہر صرف رفاقت میسر نہیں کرتا ماش کی ذمہ داری بھی اٹھاتا ہے۔ تو اس وجہ سے اپ اگے دیکھیں گے کہ اس میں بھی یہ فرق کیا گیا ہے۔ کہ چونکہ منفعت شوہر سے جو پہنچتی ہے بحثیت مجموعی وہ معیشت کی ذمہ داری کی وجہ سے زیادہ ہو جاتی ہے تو اس وجہ سے اس کا حصہ بھی اس کو زیادہ ملنا چاہیے۔ ایک ہی بنیاد ہے جس کو قائم کر کے یہ سارا معاملہ کیا۔ اولاد نہیں ہے ادمی کی ہے ہی نہیں۔ اولاد۔ تو اپ دیکھیے کہ اس صورت میں اس کے بہت سے معاملات اگر والدین زندہ ہیں۔ تو باپ کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ اچھا اولاد نہ ہو اور بہن بھائی ہوں۔ تو جب بھی تب بھی یہی نوعیت واقع ہوتی ہے۔ یہ میں نے صرف اشارے کر دیے۔ اپ اس ساری بات کو اگر سمجھ لیں گے تو بنیاد واضح ہو گئی اب اس بنیاد کو قائم کر کے اللہ تعالی نے حصے مقرر کر دیے ہیں۔ کہ یہ حصے اس اصول پر مقرر کیے گئے ہیں کہ اپ کو اس دنیا کی زندگی میں عام حالات میں کس سے کتنی زیادہ منفعت حاصل ہوتی ہے۔ اور کس کی عدم موجودگی میں کس کی منفعت بڑھ جاتی ہے۔ یہ اصول ہے جس کے اوپر اللہ نے حصہ مقرر کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ کوئی ریاضی میں تولنے کی چیز نہیں ہے۔ اگر تولنے کی ہوتی تو ہم بھی تول لیتے ہیں۔ اللہ نے اپنے علم کی بنیاد پر اسی لیے تنبیہ کی ہے کہ ان اللہ کان علیما حکیم۔ اللہ علیم و حکیم ہے۔ اس نے یہ فریضہ مقرر کر دیا ہے یہ اس سے مقرر کر دیے ہیں بنیاد بتا دی کہ یہ ہے اور فرمایا کہ اس میں دخل اندازی کی کوشش نہ کرو اس لیے کہ تمہارے پاس اس میں دخل اندازی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ تو لوگ بڑے جذبات میں اج کل گفتگو کرتے ہیں میں اپنی بیٹی کو کیسے کم دے سکتا ہوں۔ لیکن اللہ تعالی کہتے ہیں کہ میرے علم و حکمت کی بنیاد یہ ہے اس اصول پر میں نے یہ مقرر کیے ہیں اور اس اصول کے اوپر ہی ان کو سمجھنا چاہیے تم کو اور غیر جذباتی طریقے سے اس کو سمجھنا چاہیے۔ اس میں جب اپ اس اصول کو سامنے رکھ کے غور کریں گے تو پھر وہ ساری سکیم سمجھ میں ا جائے گی جس کی بنیاد پر میراث کا یہ قانون مبنی ہے اس پر اور پھر عرض کر دوں کہ شریعت صرف ان معاملات میں مداخلت کرتی ہے جن معاملات میں انسان کے پاس کوئی بنیاد نہیں ہوتی کہ وہ کوئی فیصلہ کر سکے۔ اب اگر اپ غور کریں تو یہ جو قرب و نفع کی بنیاد بیان کی ہے۔ جس کی بنیاد پر یہ سارے حصے ہیں۔ یہ والدین میں اولاد میں بھائی بہن میں میاں بیوی میں اور جو دوسرے اپ کے اقربا ہوتے ہیں ان میں بتبا موجود ہے۔ عام حالات میں اللہ کا یہی قانون ہے جو کام کرے گا۔ لیکن اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی کسی مرنے والے کے ساتھ جو ان رشتہ داروں میں سے کسی کا تعلق ہے۔ وہ منفعت کی بجائے مضرت بن جائے۔ ہو سکتا ہے نا ایسا۔ بھئی اپ کا بیٹا ہی مقابلے میں کھڑا ہو گیا۔ بدماشی شروع کر دی۔ ماں باپ کی کوئی عزت ہی نہیں ہے کوئی اس طرح کی چیز نہیں ہے۔ تو یہ جو علت حکم قران نے بیان کر دی ہے۔ اس کا تقاضا ہے۔ کہ اسے محروم کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے کہ جو بنیاد تھی وہ بنیاد اس نے ڈال دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جو فیصلہ ہے۔ کہ باپ کا قاتل میراث نہیں پائے گا۔ یعنی میں یہ حدیث سمجھا رہا ہوں۔ اب بہت سے لوگ جو اس طریقے سے قران مجید کو اور اس کی قانونی جو چیزیں ہوتی ہیں ان کی بنیادوں کو نہیں جانتے۔ تو وہ خیال کرتے ہیں دیکھیے جی قران نے تو اس سے مقرر کر دیے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منسوخ کر دیا۔ وہ جو وجہ ہے بنیاد ہے۔ اس بنیاد پر مبنی ہدایت ہے۔ قاتل وارث نہیں میراث نہیں پائے گا۔ کیوں وجہ کیا ہے؟ اس لیے کہ وراثت کے پانے کا تو استحکاک ہی منفعت پر تھا۔ تو جس نے باپ کو قتل تک کر ڈالا اس نے منفعت کی بنیاد ہی ڈالی۔ تو اسی اصول کے اوپر اپ باقی چیزوں کو بھی دیکھ سکتے ہیں اب ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا بھی تو ہوتا ہے بعض اوقات کہ ایک ادمی غصے میں ا گیا اور کسی کو محروم کر دیا کر دیتے ہیں نا عاق کر دیا باپ نے۔ اس کو قران نے سورہ بقرہ میں واضح کر دیا ہے کہ اگر اس نوعیت کا کوئی فیصلہ کسی نے کیا ہے۔ کیا ہے اللہ کی دی ہوئی ہدایت ہی پر۔ لیکن فیصلہ صحیح نہیں کیا جذبات میں ا کے کر دیا اس طرح کا معاملہ ہے۔ تو سوسائٹی کو حق حاصل ہے کہ بعد میں اس فیصلے کی اصلاح کرے۔ تو ہم اس میں قانون سازی کر سکتے ہیں اور عدالتوں کو بھی اختیار دے سکتے ہیں کہ وہ ایسے معاملے کا جائزہ لے لے۔ لیکن یہ بات بالکل واضح ہے۔ کہ منفعت کا جو قرب ہے جس کو بنیاد بنایا ہے۔ اگر وہ قتل میں تو بالکل واضح ہو گیا نا۔ کسی اور معاملے میں بھی اگر منقطع ہوتا ہے۔ تو ہم اس قانون کی رو سے یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اب یہ میراث اس کو نہیں ملے گی اللہ کے قانون کی خلاف ورزی نہیں ہو گی کیونکہ اللہ تعالی نے یہ بات درمیان میں خود بتا دی ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی اس سے معلوم ہو گئی دیکھیں ایک بات کہی ہے اللہ تعالی نے۔ ایت دیکھیے اس کا انداز ہے تم نہیں جانتے کہ منفعت کے لحاظ سے کون تم سے قریب تر ہے فریضۃ من اللہ اس لیے اللہ نے ہی اس سے مقرر کر دیے ہیں ان اللہ کان علیما حکیم اللہ علیم و حکیم ہے۔ بات تو اتنی ہے لیکن اس سے یہ سب باتیں نکلتی ہیں۔ اب ایک اور بات بھی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے جو حصے مقرر کیے ہیں ان میں ہو سکتا ہے نا کہ کوئی نہ ہو۔ یا کچھ بچا ہوا رہ جائے یہ سارا ہی بچ جائے۔ تو ہمیں بھی یہ بتا دیا کہ اگر میرے مقرر کردہ وارث ختم ہو گئے ہیں۔ تو تمہیں ایک میں نے بنیاد بتا دی ہے قرب منفعت کی۔ اب پھر تم اس کی بنیاد پر خود فیصلہ کر لینا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جتنی ہدایات اس معاملے میں اپ کو حدیثوں میں ملیں گی وہ سب کی سب اسی اصول پر مبنی ہیں جیسے میں نے ایک کا ذکر کر دیا باقی کی بھی اگر اپ دیکھنا چاہیں تو میری کتاب میزان میں زیر بحث ا گئے ان کو اپ دیکھ سکتے ہیں۔ یہ جو اخر میں فرمایا کہ اللہ علیم و حکیم ہے۔ تو اس کے بارے میں بھی جان لینا چاہیے کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ اشارہ کر دیا میں نے مزید اس کو جان لینا چاہیے کیونکہ یہ وہ قران کے مقامات ہوتے ہیں جن میں اخر میں وہ تنبیہ کرتا ہے جو اس میں اصل میسج ہوتا ہے اس میں اس کا۔ ایک تو قانون ہے نا بیان کر دے اس سے یہ ہے۔ اس کا میسج یہ ہے کہ یہ تقسیم اللہ تعالی کے علم اور اس کی حکمت پر مبنی ہے۔ اللہ تعالی کا علم پیش و عقب ہر چیز پر حاوی حاضر و غائب سب پر محیط ہے۔ کسی کا علم بھی اس کے علم کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ اسی طرح اس کی ہر بات اور اس کے ہر کام میں نہایت گہری حکمت ہوتی ہے اور کسی کا بھی یہ مرتبہ نہیں ہے کہ اس کی حکمت کی تمام باریکیوں کو سمجھ سکے۔ اس وجہ سے خدا کی اس تقسیم پر نہ تو اپنے علم و فلسفہ کے غر رے میں کسی کو معترض ہونا چاہیے۔ نہ جذباتی جنب داری کے جوش میں کسی کو قدم اس کے خلاف اٹھانا چاہیے۔ انسان جذباتی ہو جاتا ہے۔ تو تنبیہ کی ہے اللہ تعالی نے کہ یہ تقسیم میں نے اپنے علم و حکمت کی بنیاد پر کی ہے۔ بسا اوقات ادمی اپنے ذاتی میلان کی بنیاد پر ایک کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے۔ لیکن یہ تجربے سے اپ دیکھیں گے کہ یہ ترجیح دنیا اور اخرت دونوں اعتبارات سے غلط ہوتی ہے۔ انسان کرتا ہے بعض اوقات خدا کے قانون سے ہٹ کر۔ اسی طرح کسی کو اپنے ذاتی میلان کی بنیاد پر نظر انداز کرتا ہے۔ حالانکہ بعد کے حالات ثابت کر دیتے ہیں کہ دنیا اور اخرت دونوں کے اعتبار سے اس کا رویہ زیادہ صحیح تھا۔ جس کو اس نے نظر انداز کیا اس کے ساتھ زیادتی ہو گئی ہے۔ اس لیے صحیح روش یہ ہے کہ ادمی جو قدم بھی اٹھائے اپنے ذاتی میلانات کی بجائے شریعت کی ہدایت کے مطابق اٹھائے۔ اسی میں خیر ہے۔ اسی میں برکت ہے۔ جو لوگ شریعت کے خلاف قدم اٹھاتے ہیں وہ خدا کے علم و حکمت کی تحقیر کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ دنیا بھی ملتی ہے اخرت بھی ملتی ہے۔ تو یہ سمجھ لینا چاہیے۔ اسی سے یہ بات بھی جان لینی چاہیے۔ کہ جو اللہ کا قانون جس معاملے میں اس نے دیا ہے۔ وہ قانون ہمارے لیے ہر حال میں واجب الاطاعت ہے۔ چنانچہ سورہ مائدہ جب اس کے بعد والی سورہ ائے گی تو وہاں یہود کے رویے پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ ومن لم يحكم بما انزل الله فاولئك هم الظالمون فاولئك هم الفاسقون فاولئك هم الكافرون جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہ فسق کا ارتکاب کرتے ہیں ظلم کا ارتکاب کرتے ہیں کفر کا ارتکاب کرتے ہیں۔

[14:15]کیونکہ اللہ کا قانون معلوم ہو گیا۔ پھر حکمت کیا اس کے اندر ہوتی ہے وہ یہ سمجھ لیں۔ یعنی اس میں اس کو واضح کیا یہ بتایا ہے۔ کہ اللہ تعالی نے جو قانون دیا ہے وہ اس بنیاد پر مبنی ہے اپنے جذبات کی بنیاد پر فیصلے نہ کرو بلکہ اس علم و حکمت کی بنیاد پر فیصلے کرو جو انصاف کے تقاضے پورے کر رہی ہے۔ اور وہ کیا ہے؟ قرب منفعت۔ منفعت کا کم یا زیادہ ہونا۔ یہی حصوں میں کمی یا زیادتی کا باعث بنتا ہے۔ پھر تنبیہ کر دوں کہ میں نے چند چیزوں کے بارے میں واضح کیا ہے۔ نمبر ایک اپ کو وصیت کا حق پہلے حاصل ہے۔ یہ حصے اللہ تعالی نے اپ کی میری وصیت کے بعد مقرر کیے ہیں۔ اپ کو حق حاصل ہے کہ اپ وصیت کریں اس کے اوپر جو ایک تہائی کی تحریر ہمارے فقہاء نے ائد کی ہے وہ جس حدیث کی بنیاد پر کی ہے اس کی میں نے وضاحت کر دی۔ اس سے یہ بات بالکل نہیں نکلتی۔ اس وجہ سے انصاف کے ساتھ کوئی ظلم کیے بغیر جتنی وصیت کرنی ہو کرنے کا حق ہے اپ کو پہلے تو اپ کا حق ہے اپ استعمال کریں۔ یہ وصیت وارثوں کے حق میں بھی ہو سکتی ہے لیکن رشتہ داری کی بنیاد پر نہیں۔ وہ تو اللہ کا فیصلہ ہے اس کو ماننا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ اور اس معاملے میں اللہ کے فیصلے کے خلاف بات کرنے کے لیے ہمارے پاس بنیاد بھی کوئی نہیں ہے۔ لیکن کوئی ضرورت کوئی خدمت کوئی باعث بنی ہے تو اپ بیٹے کے حق میں بھی وصیت الگ سے کر سکتے ہیں وہ پہلے وہ وصیت اس کو مل جائے گی پھر اس کا حق موجود ہے اس کو ملے گا۔ یعنی وہ جو اس کا حق ہے اللہ کا مقرر کردہ وہ تو اس کو ملنا ہی ہے۔ اس سے پہلے اپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ 400 روپیہ تو اس کو زیادہ دے ہی دیا جائے۔ تو یہ وصیت بھی اپ کو کرنے کا حق ہے۔ اس معاملے میں بھی ہمارے فقہاء نے جو بات کہی ہے۔ کہ کسی وارث کے حق میں وصیت نہیں ہو سکتی وہ بات اصول میں ٹھیک ہے۔ لیکن اس کی یہ تفسیر ہے جو میں نے اپ کی خدمت میں وہ قران پر مبنی ہے بات لیکن اس کی تفسیر یہ ہے کہ کوئی ضرورت کوئی خدمت اس کا باعث بن سکتی ہے۔ اسی طریقے سے چونکہ اللہ نے واضح کر دیا ہے کہ قرب منفعت بنیاد ہے۔ تو اگر منفعت ختم ہو گئی ہے۔ کسی معاملے میں تو اپ کو حق حاصل ہو جاتا ہے اسے محروم کرنے کا بھی جس کو عاق کرنا کہتے ہیں۔ لیکن اس میں کوئی بے انصافی نہ ہونے پائے اس میں اسٹیٹ کوئی قانون سازی کر سکتی ہے۔ اور یہ معاملات عدالتی ریویو میں بھی جا سکتے ہیں۔ تاکہ یہ بات بتا دیا جائے کہ باعث کیا بنا ہے۔ اور اگر کوئی ادمی ایسا کرتا ہے تو چونکہ اللہ کے قانون کے مقابلے میں کھڑا ہے تو اس کو اس طرح کے معاملے میں جذباتی طور پر ایک اعلان کر دینا کافی نہیں اسے اسٹیٹ کرنا چاہیے کہ اس کے وجوہ و اسباب کیا ہے۔ وہ کیوں ایسا کر رہا ہے۔ ایک حق دار جس کو اللہ نے حق دار قرار دیا ہے۔ اس کو محروم کرنے کی کیا وجہ ہے یہ اسے بتانا چاہیے۔ اسی طریقے سے ان ایت پر ایک نگاہ ڈال کے دیکھ لیجئے۔ میں نے اس کا اشارہ کیا تھا پچھلی گفتگو میں پھر تنبیہ کر رہا ہوں کہ اس میں حذف کے بعد اسلوب ہے۔ ان کو ہر حال میں ملحوظ رکھنا چاہیے۔ یعنی بعض موقعوں کے اوپر ایک حصہ ایسا ہے جس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا اس لیے کہ وہ خود بخود نکلا پڑ رہا ہے۔ اس وجہ سے میں نے ترجمے میں ان تمام چیزوں کو نکال دیا ہے۔ یعنی ان کو ترجمے میں بیان کر دیا ہے چونکہ ہمارا جو عام قاری ہے وہ اس اسلوب سے واقف نہیں ہوتا تو اس وجہ سے ان کو میں نے بیان کر دیا اور یہ بتا دیا ہے کہ اس کی نوعیت یہ ہے۔ اس کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ اسی طریقے سے اگر اپ دیکھیں گے تو اگے قران مجید نے وصیت کے حق کو جب بار بار بیان کیا ہے تو اس میں یہ کہا ہے کہ غیر مزار ہونی چاہیے۔ یعنی وصیت اتنی ہونی چاہیے جس سے وارثوں کے حق تلفی نہ ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بنیاد پر وہ بات کہی تھی۔ تو یہ ہمیں بھی اب ملحوظ رکھنی چاہیے۔ ایک تہائی کی حد نہ سہی لیکن حق تلفی کسی حال میں نہیں کرنی چاہیے۔ یعنی ظلم اور حق تلفی یہ نہیں کرنی چاہیے اور اگر اپ کے اوپر نیکی کا کوئی غلبہ ہو گیا ہے تو اس میں بھی اپ کو یہ حق نہیں ہے کہ اپنے وارثوں کو اپ محروم کر دیں اس نیکی کو بھی ایک حد کے اندر رہنا چاہیے۔ اپنے ترکے سے اپ ان کو محروم نہ کریں۔ یہ چند تنبیہات ہیں لیکن ظاہر ہے کہ اس میں جو پہلو موجود ہیں ان کی مزید تفصیلات اگر اپ دیکھنا چاہیں تو اس کے لیے پھر میری کتاب میزان میں قانون معاشرت کو پڑھ لیں۔ اس میں میں نے تفصیل سے اس قانون پر گفتگو کی۔ اس کے بعد اب ارشاد فرمایا کہ وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ یہ اب ایت 12 شروع ہو رہی ہے۔ اور تمہاری بیویوں نے جو کچھ چھوڑا ہے اس کا ادھا حصہ تمہیں ملے گا اگر ان کے اولاد نہیں ہے۔ پہلے بیان کیے تھے اولاد کے اس سے پھر بیان کیے۔ والدین کے اس سے اب بیان کیے ہیں ازواج کے اس سے۔ تمہاری بیویوں نے جو کچھ چھوڑا ہے اس کا ادھا حصہ تمہیں ملے گا ان لم یکن لہن ولد اگر ان کی اولاد نہیں ہے۔ اولاد بیوی کی اس شوہر سے بھی ہو سکتی ہے اور پچھلے شوہر سے بھی ہو سکتی ہے۔ اگر ان کی اولاد نہیں ہے تو شوہر کا حصہ ایک بٹا دو ادھا۔ اور اگر ان کی اولاد ہے تو ان کے ترکے کا ایک چوتھائی ملے گا۔ اب دیکھیے وہ قرب منفعت ہے نا تو یہ کم ہو رہا ہے زیادہ ہو رہا ہے کیونکہ پھر وہ اولاد کی منفعت کو ملحوظ رکھ کے ادھر جانا چاہیے۔

[19:10]فرمایا یہ حصے بھی انہوں نے اگر کوئی وصیت کی ہے تو پہلے اس کو پورا کیا جائے گا قرض ہے تو وہ ادا کیا جائے گا اس کے بعد۔

[34:03]اور انہیں ایک چوتھائی ملے گا جو تم نے چھوڑا ہے۔ یہ حکم ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ جانے والا ہے وہ بڑا رحم خو ہے۔ یہ اللہ کی ٹھہرائی ہوئی حدیں ہیں ان سے اگے نہ بڑھو اور یاد رکھو جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمابرداری کریں گے انہیں وہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے پیچھے نہریں بہتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی بڑی کامیابی ہے اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کریں گے اور اس کی ٹھہرائی ہوئی حدوں سے اگے بڑھیں گے انہیں ایسی اگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور ان کے لیے رسوا کر دینے والی سزا ہے۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript