[0:04]سلام دوستوں، امید ہے آپ سب لوگ بہت خیریت سے ہوں گے تو مجھے یہ شرف حاصل ہوا کہ جناب قیصر احمد راجہ صاحب نے میری ایک ویڈیو پہ اپنے کچھ
[0:15]کہنا چاہیے گزارشات پیش کی۔ پہلے تو ان کا بہت شکریہ کہ انہوں نے مجھے دانش گرد کہا بلکہ ان کے جو ویڈیو کا ٹائٹل تھا وہ بھی دانش گردی تھا
[0:25]مسئلہ یہی ہوتا ہے کہ انسان اگر کم پڑھا لکھا ہو تو پھر وہ ایسے ہی باتیں کرتا ہے۔ دہشت گرد جیسے ہوتا ہے دہشت پھیلانے والا تو دانش گرد کا مطلب ہوتا ہے دانش پھیلانے والا
[0:36]گرد جو ہے جس کو ہم ڈسٹ کہتے ہیں وہ ہر جگہ پھیلتی ہے اس کا میٹافورکل میننگ ہے کوئی چیز پھیلائی جائے۔ تو اسی سے دہشت گردی بنتا ہے اسی سے جہاں گرد بنتا ہے جو دنیا گھومتا ہے۔
[0:49]اسی سے انہوں نے مجھے دانش گرد کر دیا۔ مذاق اڑانے کی کوشش تھی لیکن اب کیا کریں جب علم کی کمی ہوتی ہے تو اس طرح کی احمقانہ چیزیں سرزد ہو ہی جاتی ہیں کہ اپ مذاق اڑانے چلے تھے اور تعریف کر دی۔
[1:01]تو بہت بہت شکریہ مجھے دانش گرد کہنے کے لیے یعنی کہ دانش پھیلانے والا لیکن اپ فکر مت کیجیے گا راجہ صاحب کیونکہ جو میں دانش پھیلا رہا ہوں اس کے لیے اپ کو بہت زیادہ پہلے محنت کرنی ہوگی اپ کے لیول سے کافی اونچی باتیں ہیں۔
[1:17]تو راجہ صاحب نے وہی کیا جو اکثر مومنین کرتے ہیں لو لیول مولوی کرتے ہیں۔ کہ ذاتیات پہ باتیں تمسخر اڑانا ججت بازی کرنا
[1:29]اور اس کے بعد سٹرا مین کرنا یعنی کہ انہوں نے نہ میری ویڈیو دکھائی نہ میری آواز سنائی نہ میری سلائیڈز دکھائی ایک سیکنڈ کے لیے بھی کوئی سلائیڈ نہیں دکھائی بس اپنی طرف سے میرے ارگیومنٹ بتا کر اس کا رد کر دیا۔
[1:41]یہ کس کی بڑی واضح مثال میں اپ کو دیتا ہوں۔ کہ وہ ذکر کرتے ہیں۔ کلیئر ٹرسٹیل کی کتاب کا جس کا میں نے اپنی ویڈیو میں ریفرنس دیا تھا۔
[1:50]کہ اس میں ایک روایت ہوتی ہے کہ عمر القیس کی شاعری کی بیٹی جو ہے وہ سنتی ہے حضرت فاطمہ کو قران مجید کی آیات پڑھتے ہوئے اور وہ کہتی ہے کہ یہ تو میرے باپ کا کلام ہے۔
[2:00]میں نے یہ روایت ذکر نہیں کی میں جانتا ہوں کہ روایت تاریخی طور پہ بہت کمزور ہے۔ لیکن جو ہیں وہ ہمارے راجہ صاحب جو ہیں کیونکہ ان کے پاس کہنے کو کچھ تھا نہیں تو انہوں نے یہ بات بتا دی۔
[2:14]اپنے اودینز کو اصلی ویڈیو انہوں نے دکھائی نہیں نہ میرا نام بتایا نہ لنک دیا کہ کوئی جا کے چیک کر لے گا تو بھانڈا پھوٹ جائے گا چوراہے پہ تو ایسے ہی بس بتا دو چلیے خیر تو میں باری باری کوشش کرتا ہوں کہ ان کی ذرا دھول صاف کروں۔
[2:29]میں نے ویڈیو ایک دفعہ ہی دیکھی ہے تو اگر کوئی بات میں مس کر دوں تو گزارش ہے کہ کمنٹس میں مجھ سے پوچھ لیجیے گا ایک اور گزارش یہ ہے کہ یہ ویڈیو اگر اپ دیکھیں تو ضرور بالضرور اس کو راجہ صاحب کے فالورز تک ضرور پہنچائیے گا۔
[2:44]تاکہ ان کو بھی اندازہ ہو۔ کہ علم کی دنیا میں دلیل فیصلہ کرتی ہے نہ کہ جگت بازی نہ کہ فیک برٹش ایکسنٹ اور نہ ہی بار بار پہ بار بار پہ مذاق اڑانا۔
[2:57]خیر شروع کرتے ہیں۔ پہلی بات انہوں نے کی رحمان یا رحمان ان کی۔ عرض میں نے یہ کیا تھا کہ کفار مکہ جو تھے وہ واقف تھے رحمان اور رحمان ان سے کیونکہ اس سے پہلے دو صدیوں تک وہاں پہ
[3:07]یہودی ایک سلطنت موجود تھی جس کو عیسائیوں نے فتح کر لیا ان کی پھر ایک سلطنت موجود تھی ان کے عقائد موجود تھے۔ تو وہ واقف تھے کہ رحمان دونوں مذاہب اپنے اپنے خدا کو کہتے ہیں رحمان بھی اور رحمان ان بھی۔
[3:22]تو یہی پوچھتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپ جس کو رحمان کہہ رہے ہیں وہ کون ہے؟ اس کا جواب قران مجید نے نہیں دیا۔ میں یہ بات کر رہا تھا۔
[3:32]اس کو وہ لے گئے کہیں اور رد انہوں نے کچھ نہیں کیا انہوں نے بس یہ کہا کہ نہیں یہ تو رحمان تھا اور رحمان ان تھا وہ تکبر سے کہہ رہے تھے۔
[3:40]تو حضرت اپ کو کیسے معلوم تکبر سے کہہ رہے تھے؟ یہ تو مسلمان مفسرین اور اپولوجیٹکس کہتے ہیں کہ وہ تکبر سے کہہ رہے تھے یہ اپ کیسے جانتے ہیں؟
[3:48]کوئی اپ کے پاس الٹرنیٹ روایت موجود ہے کوئی کتاب موجود ہے کوئی زبانی روایت موجود ہے تو اپ بتائیے۔
[3:57]لیکن اپ کے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے اپ کے پاس تو صرف دعوے ہیں یعنی نل بٹا سناٹا جس کو کہتے ہیں یعنی صفر بٹا صفر وہ ہے۔ تو دلیل کی کا رد جو ہے وہ دلیل سے کیا جاتا ہے دعوے سے جگت بازی سے نہیں کیا جاتا۔
[4:10]پھر اگے چلتے ہیں پھر انہوں نے باتیں کیں عمر القیس کی اس پہ تو بڑا بھنا ہے۔ تو عمر القیس کی شاعری موجود نہیں ہے سوائے تعلقات میں موجود نہیں ہے جناب سوائے تعلقات میں ایک یا دو پوئمز لکھی جاتی تھیں جو واقعی اس میں موجود نہیں ہیں۔
[4:24]پھر انہوں نے امام سیوطی کا ذکر کیا کہ انہوں نے بھی لکھا ہے کہ اس کو یہ قران مجید کے بارے میں اعتراض کرتے تھے لوگ جبکہ یہ باتیں بعد میں شامل کی گئی ہیں۔
[4:33]سوال وہی پیدا ہوتا ہے اپ کو کیسے معلوم کہ بعد میں ثابت کی گئی ہیں میرا چیلنج ہے راجہ صاحب کو اور ان کے محبین کو کہ امام سیوطی کی اصل کتاب سے نکال کے دکھائیے۔
[4:44]میرا دعوی ہے یہ کبھی نہیں کر پائیں گے۔ اور امام سیوطی جو ہیں یہ پندرہویں صدی کے سکالر ہیں۔
[4:49]اندازہ کیجئے کہ اسلام اتا ہے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوتا ہے 632 میں پندرہویں صدی تک یہ شعر موجود ہے کیسے موجود ہے کیوں موجود ہے؟
[5:00]بعد میں شامل کر دیے گئے اچھا کس نے شامل کیا؟ کہاں شامل کیے؟ اور کیوں شامل کیے؟ یہ نہیں معلوم بس ایک بات پھینک دو مومنین جو ہے وہ اٹھا لیں گے کہ وہ تحقیق تو مسلمان پہ حرام ہوتی ہے۔
[5:11]تو وہ بس مان لیں گے میں اپ کو ایک اور نام دیتا ہوں سکالر کا یہ دسویں صدی کے ایجیپشین سکالر ہیں جنہوں نے جن کا نام تھا امام عبدالروف مانوی یا منوی میں انگلش میں پڑھا ہے تو ہو سکتا ہے عربی سے
[5:22]عربی میں غلط کہہ رہا ہوں لیکن گزارش ہے کہ ان کی جو شرح جامع الصغیر ہے اس کو ضرور پڑھیے گا میرا خیال ہے جامع صغیر میں میں دوبارہ چیک کروں گا ریفرنس اگر یہ بات کوئی اور کتاب ہوئی تو میں اس کو پنڈ کمنٹ میں مینشن کر دوں گا۔
[5:38]تو انہوں نے بھی یہ اشعار نقل کیے ہیں اور یہ دعوی نقل کیا ہے۔ یعنی اپ ہیں دسویں صدی کے امام سیوطی ہیں پندرہویں صدی کے 500 برس تک یہ اشعار موجود ہیں یہ بات موجود ہے۔
[5:50]کیوں یہ بعد میں شامل کی گئی تھی تو بھائی پھر کیوں موجود ہے یہ بات بھی شامل کی گئی اپ کہہ رہے ہیں نہ امام سیوطی نے یہ کہا جہاں تک میرا علم ہے اور نہ ہی عبدالروف مناوی نے کہا ہے۔
[6:01]جہاں تک میرا علم ہے ان دونوں نے یہ بات نہیں کہی ہے یہ اپ کہہ رہے ہیں اور یہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ اگر اپ سچے ہیں تو اصل کتاب دکھائیے یہ حوالہ اگر میرا علم کم ہوا تو میں ویسے ہی اپ سے کھلے عام معذرت کروں گا۔
[6:14]کیونکہ ظاہر سی بات ہے علم کی دنیا ہے انسان غلطی کر سکتا ہے غلط ریفرنس دے سکتا ہے لیکن اپ بہرحال دعوے نہیں کر سکتے بغیر ثبوتوں کے۔
[6:24]پھر اگے چلتے ہیں پھر انہوں نے بات کی کہ جی وہ جی ان کو تو عربی نہیں اتی اور عمرو بن نفیل یا نفیل کو انہوں نے جو ہے عمرو کہہ دیا جبکہ یہ تو عمر ہے تو جناب اپ بھی نفیل نفیل نہیں جانتے۔
[6:37]تو مذاق تو مجھے بھی اپ کو اڑانا چاہیے کہ بھائی مدرسے کے بڑے یہ کسٹوڈین بنتے ہیں اور اسلام کے سپاہی بنتے ہیں ان کو یہ بھی نہیں معلوم لیکن چونکہ میرا لیول اپ جتنا کم نہیں ہے تو میں ایسی بات نہیں کروں گا۔
[6:49]تو گزارش یہ ہے کہ ان سے ملے تھے یہ میں نے ریفرنس بھی دیا تھا کہ یہ مفسرین ہمارے جانتے تھے کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملے تھے غار حرا میں بھی شاید ملے تھے۔ ان کے عقائد وہی پھر اسلام کے عقائد بن گئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا ہوا کیوں۔
[7:04]یہ ماوحد جو تھے ان کے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے عقائد لینے کی ضرورت کیوں پڑی؟ اپ تو عامل وحی تھے تو اپ کو پھر ایسا ہی ہونا چاہیے تھا تو یہ سوال ہے اور یہ علمی سوال ہے جس کی ریفرنس
[7:16]جن مفسر کا میں نے ریفرنس اپ کو دیا تھا ان کی اپ تفسیر جا کے پڑھیے اور پھر میرے سامنے ائیے کہ یہ غلط ہے یا صحیح ایسی بھونگیاں مت ماریے اور مذاق اڑانے سے کوئی دلیل ثابت نہیں ہوتی۔
[7:30]کچھ بھی ثابت نہیں ہوتا خیر اگے چلتے ہیں پھر انہوں نے ایک بات کی ورقہ بن نوفل کی یہاں جو میں نے کہا تھا کہ ورقہ بن نوفل کے بعد کے وصال کے تین سال بعد وحی بن درہ اس پہ راجہ صاحب بالکل پتلی گلی سے کٹ لیے۔
[7:43]کیوں کیونکہ یہاں پہ ان کے پر جلتے ہیں۔ یہ روایت تین سال کی تھی پھر اس کو غلط ثابت کرنے کے لیے بعد میں مزید روایتیں گڑھی گئیں ابن عباس سے اور باقیوں سے کہ کوئی کسی نے کہا چھ ماہ کسی نے کہا تین ماہ کسی نے کہا 40 دن۔
[7:58]یہ سب بکواس باتیں ہیں اصل بات وہ یہ ہے کہ کم از کم تین سال تک وحی رکی رہی پرانی کتابوں میں یہی لکھا ہوا ہے لیکن اس کو راجہ صاحب کبھی بھی رد نہیں کر کر پائیں گے۔
[8:08]اگر واقعی کوئی بات ہوتی تو میری آواز سناتے کم از کم ویڈیو نہیں دکھاتے تو آواز تو سناتے اور پھر بتاتے کہ میں نے یہ روایت جو لی ہے یہ کیوں غلط ہے؟ اس کی تخریج میں کیا کیا غلطیاں موجود ہیں لیکن راجہ صاحب کے پاس اتنا علم کہاں کہ وہ ایسی باتیں کر رہے ہیں انہوں نے بس ایک بات کہہ دی کہ نہیں نہیں یہ تو اس کو ہم چھوڑ دیتے ہیں۔
[8:31]بھائی کیوں چھوڑ دیتے ہیں؟ اصل بات ہی یہ ہے کہ تین سال تک جو ہے وہ وحی بن در رہی۔ پھر اس کے بعد انہوں نے کہا کہ نہیں قران مجید اگر اس سے لیا تھا تو اس کے علاوہ اس میں کتنی باتیں ہیں حضرت قران مجید میں اور کچھ بھی کوئی بات بھی نہیں ہے۔
[8:40]قران مجید میں صرف بورڈ قصے ہیں کہیں اور سے کاپی کیے ہوئے قصے ہیں۔ قران مجید کی سورسز میں چار کتابیں ہیں ایک تو بائبل جس کو اج ہم بائبل مانتے ہیں۔
[8:50]پھر اپوکرفل بائبلز یہ وہ بائبلز ہیں جو کنونیکل نہیں ہوئی۔ اس کے علاوہ مدراج جو یہودیوں کی کتاب ہے اور اس کے علاوہ گریک لیجنڈ میں ایک ایک کی مثال اپ کو دیتا ہوں۔
[9:00]تو جو ہے یہ کون سی چیزیں کاپیڈ ہیں؟ مثال کے طور پہ حضرت ابراہیم کا قصہ جو ہے کہ نمرود کی آگ میں ڈالا گیا اور اپ نے جو بت توڑ دیے تھے یہ
[9:12]کنونیکل بائبلز میں نہیں ہے۔ یہ اصل میں ہے جینیسز کی ایک کمنٹری میں جو چوتھی اور پانچویں صدی میں ایک جوئش ریبائے نے لکھی تھی۔
[9:20]یہ سینا بسینہ چلنے والی روایات تھیں جو انہوں نے لکھیں وہ وہی پھر قران مجید میں ڈالی گئیں۔ میں سوئے ادب کے لیے نہیں کہوں گا کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈالی یہ جو ہے مجھے کہنا بالکل مناسب نہیں لگے گا
[9:35]لیکن یہ یہ بات قران مجید میں یہاں سے لے کے ڈالی گئی۔ ذوالقرنین کا قصہ یہ کرسچن میتھ تھی جو الیگزینڈر کو انہوں نے
[9:42]مسیحی بنا لیا تھا۔ اور اس کے دو ہورنز بنا لیے تھے وہ سکے دریافت ہو چکے ہیں جس میں الیگزینڈر کے دو ہورنز دکھا ہے جس کو ذوالقرنین دو سنگھوں والا کہا جاتا ہے سائرس نہیں تھا یہ یہ جھوٹ بات ہے۔
[9:54]وہ سکے قران مجید سے پہلے دریافت کے پہلے کے ہیں وہ جس میں الیگزینڈر کو جو ہے وہ دو سنگھوں والا لکھا ہے تو یہ بھی کاپیڈ ہے۔ پھر حضرت مریم کا
[10:05]جانا جو ہے وہ زچی کے وقت ایک کھجور کے درخت پہ کھجور کے درخت کا کھجوریں گرا دینا یہ بھی کاپیڈ ہے۔
[10:16]یہ کس سے کاپیڈ ہے؟ یہ کاپیڈ ہے سوڈو میتھیو سوڈو میتھیو یعنی کہ نقلی میتھیو کی انجیل تھی اس سے یہ بات کاپیڈ ہے۔ پھر حضرت عیسی کا بچپن میں کلام کرنا یہ گوس انفنس گوسپل اف تھامس
[10:29]یہ دوسری صدی کی گوسپل ہے اور اس سے یہ باتیں کاپیڈ ہے۔ اصل میں ہوا یہ تھا کہ کرسچینیٹی کینونائزڈ ہوئی ہے یعنی جس فارم میں وہ اج ہم جانتے ہیں اسے چوتھی صدی میں۔
[10:39]پہلی تین صدیوں میں اس میں بہت سارے فرقے پیدا ہو گئے تھے بالکل ویسے ہی کہ جیسے ہی قران مجید نازل ہوا اور خلافت راشدہ ختم ہوئی تو اس کے بعد بہت سارے فرقے پیدا ہو گئے تھے جن میں عقائد کا بہت زیادہ فرق تھا جہیمیہ قدریہ جبریہ معتزلہ مشہور ہیں یہ۔
[10:57]تو یہ پھر بہت سارے عقیدوں والے فرقے پیدا ہو گئے تھے اور اہستہ اہستہ وہ ختم ہو گئے اور ایک طاقتور فرقہ جو بعد میں سنی کہلایا وہ سامنے ایا اور دوسرا طاقتور فرقہ جو شیعہ کہلایا وہ سامنے ایا۔
[11:10]تو بالکل ایسے ہی کرسچینیٹی میں بھی بہت ساری ہریٹک کرسچینیٹیز تھیں۔ اس کی ایک مزے کی میں اپ کو مثال دوں کہ ایبرنائٹس کرسچنز جو تھے یہ تاریخ میں معلوم ہے کہ عرب میں ا کر سیٹل ہوئے۔
[11:21]اور ان کے عقائد تھے کہ حضرت عیسی جو ہیں وہ نبی ہیں خدا نہیں ہے نہ خدا کے بیٹے ہیں۔ اور جوئش لا جو ہے وہ ختم نہیں ہو سکتا جو پول نے ختم کر دیا تھا جوئش لا یہ ختم نہیں ہو سکتا۔
[11:34]تو یہ ابننائٹس کرسچنز جو تھے نہ یہ شراب پیتے تھے اور نہ یہ سوور کھاتے تھے۔ اور یہی باتیں اور یہ مزے کی بات کہ ان کے عقائد جو تھے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیسز سے پہلے عرب میں عام معلوم تھے۔
[11:47]ابننائٹس کرسچنز ختم ہو گئے تھے ان کو پرسییکیوٹ کیا اور پھر وہ کہیں اور تھتر بتر ہو گئے تو وہ ختم ہو گئے تھے لیکن ان کے قصے موجود تھے۔ بالکل ویسے ہی جیسے
[11:55]قوم عاد ختم ہو گئی لیکن ان کے قصے موجود تھے۔ قوم ثمود ختم ہو گئی لیکن ان کے قصے موجود تھے اور ان میں بہت سارے ایڈیشنز ہو گئے تھے تو یہ ابننائٹس کرسچنز ہی موجود تھے اور یہ تمام قصے جو میں اپ کو میں نے اپ کو چار پانچ موٹے موٹے قصے اپ کو بتائے ہیں یہ تمام کے تمام کاپیڈ ہیں۔
[12:12]تو حضرت راجہ صاحب یہ جو قران مجید میں اپ باتیں کریں گے اور کتنی ساری ایات ہیں اور کوئی ایات نہیں ہیں۔ 80 پرسنٹ اف قران از بورڈ اینڈ کاپیڈ پرافٹ سٹوریز یا لیجنڈ سٹوریز فرام ادر ریلیجنز۔
[12:28]یہ وہاں سے لے کے لکھی گئی ہیں۔ قران مجید میں فقہ تو ہے نہیں اپ نے کہا جی عبادات بیان ہوئی ہیں بھائی جان کون سی عبادات بیان ہوئی ہیں؟ حج کا طریقہ بیان ہوا ہے؟ نہیں بتا دیا ہے کہ دبلی اونٹوں اونٹنیوں پہ اؤ اور اس کا حج کرو اور عمرہ کرو۔
[12:40]کیا نماز کا طریقہ بیان ہوا ہے؟ کیا زکوۃ کا نصاب بیان ہوا ہے؟ کیا صدقے کا نصاب بیان بیان ہوا ہے؟ کیا صدقہ فطر کا نصاب بیان ہوا ہے؟ کچھ بھی بیان نہیں ہوا۔
[12:50]صرف ذکر کر دیا اور ان ایات کو اپ حدیثوں کے طمار کے بغیر سمجھ بھی نہیں سکتے تو قران مجید کا 80 سے 85 فیصد حصہ صرف انہی قصوں پہ موجود ہے۔
[13:04]یا ان سائز پہ موجود ہے جو اس وقت کے لوگ جانتے تھے کہ لوہا قران میں ایا ہے کہ جی اسمان سے نازل ہوا ہے ارے بھائی میسوپوٹیمیہ کے لوگ جانتے تھے کہ یہ
[13:10]لوہا اسمان سے اتا ہے ایجیپشنز یہ جانتے تھے ان کی زبانوں میں اس لوہے کے لیے الگ الفاظ موجود تھے۔ قران نے کوئی نئی بات نہیں بتائی اپ کو تو قران مجید میں صرف کاپیڈ قصے موجود ہیں اگر اپ اتنے بڑے سکالر ہیں تو ذرا ان باتوں کا رد تو کر کے دکھائیے۔
[13:26]اور پھر بات کیجئے۔ پھر وہ ایک اور اعتراض اچھا میں ذرا ڈائیگریس کرا ہوں ایک اور وہ اعتراض کرتے رہتے ہیں کہ جی ملحدین جو ہیں یہ باقی لوگوں کا تھوکا چاٹتے ہیں۔
[13:35]تو حضرت اپ کیا کرتے ہیں؟ اپ کے جو بائیولوجی کے لیکچرز میں نے سنے ہیں اول تو کلاس ٹو کے بچے سے بھی لیول سے کم کے ہیں وہ ایپی جینٹکس پہ تو اپ کا علم جو ہے وہ صفر بٹا صفر سے بھی اگر کوئی نیگیٹو کوئی ہوگا تو وہ ہے۔
[13:48]تو اپ نے کہا اپ کن کا تھوکا چاٹ رہے ہیں؟ اپ کی ایولوشن کے اگینسٹ ساری باتیں جو ہیں وہ ٹیمپٹن فاؤنڈیشن انٹیلیجنٹ ڈیزائن یہاں سے ماخوذ ہیں۔
[13:58]تو اگر ہم اورینٹلس سے لے رہے ہیں تو اس کو بتا بھی تو رہے ہیں۔ اپ تو اپنی تحقیق بتاتے ہیں جو اپ کو ان سے اپ نے لی ہوئی ہوتی ہے اور اپ کی تو حالت یہ ہے کہ ان کا تھوکا چاٹتے ہیں لیکن جب اگلتے ہیں تو اس میں بھی غلطیاں کرتے ہیں۔
[14:15]اپ کا علمی لیول تو یہ ہے۔ میں اپ کا میں تو یہ بات تو میں جانتا ہوں کہ اپ کے پاس کوئی سائنس کی ڈگری نہیں ہے۔ لیکن اپ اب ایک بائیولوجسٹ بن کے جاتے ہیں مدرسوں میں
[14:25]لیکچرز دینے کے لیے کبھی وہ لیکچرز پبلک تو کیجئے۔ تو پھر پتہ چلے ویسے تو اپ کی عزت افزائی کئی دفعہ ہو چکی ہے۔ فلسفے میں اپ کی عزت افزائی کی تھی بردن اف یونٹی نے
[14:36]جس میں اپ کے پاس بھاگنے کو جگہ نہیں تھی پھر ایولوشن کے بارے میں غالب کمال نے جو ہے اپ کی عزت افزائی فرمائی تھی اور ابھی ریسنٹلی جو احمدی کے ساتھ اپ کا مناظرہ ہوا تھا اس میں تو اپ کو ختم نبوت پہ وہ رگڑا دیا تھا کہ بس دیکھنے والی بات ہے۔
[14:52]اپ سوائے ماڈریٹر سے شکایتیں کرنے کے کچھ کر نہیں پائے تھے۔ تو جناب جگتوں کے بجائے اگر اپ علمی رد کرتے تو میں بھی اس طرح اپ کا مذاق نہیں اڑاتا۔
[15:00]لیکن چونکہ اپ کا لیول وہی ہے کہ اپ بس مذاق اڑا سکتے ہیں ہنس سکتے ہیں فیک برٹش ایکسنٹ میں بات کر سکتے ہیں۔ تو بس اپ کا یہی لیول ہے تو بس میں بھی پھر اپ کی عزت افزائی اپ کے ہی اوقات کے مطابق ہی کر رہا ہوں۔
[15:13]تو اگے چلتے ہیں اس کے انہوں نے اس کے علاوہ انہوں نے بات کی ورقہ بن نوفل کے بعد انہوں نے بات کی عربی زبان کی کہ جی میں نے یہ کہا میں نے وہ کہا حضرت صاحب میں نے اپ کو یہ بتایا تھا
[15:24]کہ عربی زبان میں 80 فیصد الفاظ عربی نہیں ہیں۔ یہ باہر سے ائے ہیں یہ کوئی غلط بات نہیں ہے۔
[15:33]اپنی ویڈیو میں بھی اگر اپ نے کبھی ہمت ہو اس کو دکھانے کی تو اس میں بھی میں نے یہی عرض کیا تھا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ عربی زبان میں الفاظ باہر سے اگئی ہیں تو یہ غلط بات ہے میں یہ کہہ رہا ہوں کہ یہ کسی کتاب کا اعجاز یا معجزہ نہیں ہو سکتا۔
[15:47]اس کی مثال ایسے ہے کہ اگر میں اج بیٹھ کے غالب کے خطوط کی اردو لوں غالب کی شاعری کی اردو لوں پھر ایک کتاب یا مضمون لکھوں بتاؤں کہ اس کی حقانیت کی دلیل یہ ہے کہ یہ دلی کی خالص اردو میں لکھا گیا ہے تو اپ اسے کیا کہیں گے۔
[16:04]تو قران مجید کا معجزہ فصیع عربی اور فصیع عربی اور خالص عربی یہ فضول باتیں ہیں۔ جو بھی مکہ ایک ٹریڈ سینٹر تھا ٹریڈ سینٹر میں تجارتی مرکز میں زبان کبھی بھی خالص نہیں ہوتی۔
[16:18]فائلوجی یعنی زبان کے علم کا اگر اپ اس کو گوگل کیجیے گا اپ کو معلوم تو نہیں ہوگا۔ تو اپ کو معلوم ہوگا کہ فائلوجی میں زبانیں کس طرح بنتی ہیں۔
[16:29]ان کی خالصیت کا فیصلہ کس طرح کیا جاتا ہے؟ پھر انہوں نے کتاب کا ریفرنس دیا مہر علی صاحب کی کتاب یہ مہر علی کون ہے؟ یہ کوئی سکالر نہیں ہے۔
[16:37]نہ یہ زبانوں کے ایکسپرٹ ہیں انہوں نے کیا یہ ہے کہ جو کرسچینیٹی کے جو اعتراضات تھے جو کروسیڈز کے بعد لکھے گئے اس کا جواب جو دیا ہے امام سیوطی نے اور باقی علماء نے ان کی کتابوں سے کاپی کر دیا یعنی وہ فرماتے ہی یہ ہیں
[16:51]کہ سییمیٹک لینگویج وہ تھی کہ جب سامنے ا کے یہ باتیں کی۔ حالانکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ سییمیٹک لینگویجز کی جو تقسیم ہے یہ زبانوں کی جینیولوجی پہ تقسیم کی گئی اٹھارویں اور انیسویں صدی میں۔
[17:08]یہ سییمیٹک لینگویج اس سے پہلے نہیں کہی جاتی تھیں۔ پہلے جو کرسچنز عربی پڑھتے تھے اعترازات کرتے تھے وہ اس کو سامنے کی زبان نہیں کہتے تھے مورل علی صاحب کو یہ بھی نہیں معلوم انہوں نے بس سن کے یہ بات لکھ دی اور سامنے کی کہانی لکھ دی۔
[17:21]حالانکہ سام حام یافس یہ ببلیکل باتیں ہیں۔ یہ نہ کبھی کوئی نوح ہوئے نہ ان کی تین اولادیں تھیں نہ تین اولادوں سے اتنی زیادہ جینیٹک ویری ایشن ہو سکتی ہے یہ صرف سمجھانے کے لیے ایک بات کہہ دی گئی۔
[17:34]اس لیے کہ بائبل کی جو لینگویج ہے وہ تقریبا ڈھائی تین ہزار سال سے موجود ہے تو وہی لوگ جانتے ہیں تو اس کو زبانوں کی جینیولوجی کو سمجھانے کے لیے اس کو ان کو سیمیٹک لینگویجز کہا کہا جانے لگا اور یہ اٹھارویں انیسویں صدی کے بعد ہوا یہ پہلے نہیں ہوا۔
[17:54]تو جن لوگوں کو پڑھنے کا شوق ہے یہ کتاب اویلیبل ہے اپ پڑھ لیجیے جو راجہ صاحب نے بتایا ہے صفحہ نمبر 300 کچھ کے بعد تو اپ کو خود ہی ایام ہو جائے گا اگر اپ اس پہ مزید تحقیق کریں گے اگر اپ پڑھ کے ماننے والوں میں سے ہیں تو اپ مان لیجیے مدعہ اصل میں یہ ہے۔
[18:06]کہ جو بھی قران میں الفاظ ائے ہیں وہ بورڈ ہیں۔ عربی زبان اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال تک بھی عربوں کی مشترکہ زبان نہیں تھی۔
[18:16]یہ اس ابھی بھی مکہ مدینہ کی زبان تھی۔ طائف میں کچھ قبیلے بولتے تھے یہ زبان بنی ہے عرب کی 685 کے بعد جب عبدالملک بن مروان نے جو کہ ایک اموی خلیفہ تھا اس نے عربی زبان کو افیشل لینگویج بنا دیا عربوں کا۔
[18:32]عربوں کی افیشل لینگویج اس کو بنا دی اس کو لکھنے کے لیے اور پڑھنے کے لیے اور قوانین لکھنے کے لیے فرامین لکھنے کے لیے اس کو عربی کو لازمی قرار دیا گیا تب عربی جو ہے وہ ایک مکمل پورے عرب کی زبان بنی ہے اس سے پہلے عرب کی زبان نہیں تھی۔
[18:52]تو ان معنوں میں اس کو معجزہ قرار دینا ایک احمقانہ بات ہے۔ میں نے پوری بات یہ کہی تھی جو اپ نے سٹرا مین کر کے کہیں اور پہنچا دی۔
[19:04]پھر اس کے بعد جو ہے انہوں نے مزید چند باتیں کی لیکن میرے خیال سے اب 20 منٹ ہونے والے ہیں تو میں یہاں ویڈیو روکتا ہوں گزارش دوبارہ سے یہی ہے کہ راجہ صاحب تک یہ ویڈیو پہنچائیے گا ان کے محبین تک اور راجہ صاحب اپ سے میری گزارش یہ ہے کہ ذرا ہمت پیدا کیجئے۔
[19:20]نہ اپ اتنے بڑے پبلک فگر ہیں۔ اپ کو مدرسے کے چار لوگوں کے علاوہ کوئی نہیں جانتا بلیس فیمی وغیرہ کی باتیں کر کے اپ مشہور ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔
[19:28]نہ جو ہے وہ اپ کا علمی لیول یہ ہے کہ اپ علمی رد کیجئے تو گزارش یہ ہے کہ ائندہ ایسی زحمت نہ کیجیے گا اور اگر کیجیے گا تو اپنے مخصوص حلقے میں کیجیے گا کیونکہ میں مزید اپ کی باتوں پہ وقت ضائع کرنا نہیں چاہوں گا۔
[19:41]لیکن اگر اپ کا شوق ہے تو قران مجید پہ میری ویڈیوز موجود ہیں قراتوں پہ میری ویڈیوز موجود ہیں جو ہے وہ قران مجید میں جو ہے کس طرح دلائل میں اور اس میں اختلاف ہے وہ دلائل کتنے غلط ہیں۔
[19:57]قران فالسفیکیشن کے نام سے فرعون کا قصہ کتنا جھوٹا ہے وہ سب موجود ہے وہ سب پہ میری ویڈیوز موجود ہیں ائیے ذرا ان کا رد کیجیے تو پھر اٹے دال کا بھاؤ پتہ چل جائے گا۔
[20:07]اپنے اگر اپ اتنے بڑے سکالر ہیں اور اپ اتنے بڑے اسلام کے دفاع کا اپ کو شوق ہے تو ذرا میدان میں ائیے تو ذرا مزہ بھی ائے سفیان صاحب کی مثال اپ کے سامنے ہے بہت ہی باعث طریقے سے انہوں نے اپنی بات رکھی میں نے بھی اسی احترام کے ساتھ ان کا رد کیا علمی گفتگو ایسے ہوتی ہے
[20:23]ہنسی ٹھٹے کرنا لو لیول مذاق اڑانا یہ کیا بچوں والی باتیں ہیں اپ مدر اگر اپ کو اسی لیول پہ گرنا ہے تو پھر مجھے معاف رکھیے اپ باقیوں کے ساتھ ایسے ہی معاملات کیجئے مجھے معاف رکھیے کیونکہ ابھی تو میں نے ہاتھ ہلکا رکھا ہے۔
[20:39]اگر اپ نے دوبارہ یہ اپنی جو ہے وہ کہنا چاہیے حرکت کی تو پھر میں پھر اپ کی کلپ لگا لگا کے اپ کی طبیعت صاف کروں گا۔ چلیے امید ہے کہ اپ سے دوبارہ ملاقات کا شرف حاصل نہیں ہوگا اپنا خیال رکھیے گا یہ سننے والے بھی اپنا خیال رکھیے ملیں گے کچھ دنوں میں نئی ویڈیو کے ساتھ اللہ حافظ۔



