[0:00]اللہ تعالی نے اس دنیا میں ایک ایسے حکمران کو بھی بھیجا تھا جس نے صرف ڈھائی سال حکومت کی اور اس نے ایک ایسا کام کیا جس نے آج کے حکمرانوں کی کرپشن اور عیاشیوں کے جنازے نکال کر رکھ دیے۔
[0:11]یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ بنو امیہ کے دور خلافت کے حکمران تھے۔
[0:18]بنو امیہ مسلمانوں کا وہ پہلا خاندان تھا جس نے ایک عظیم سلطنت قائم کی اور تقریبا 90 سال تک آدھی دنیا پر حکومت کی۔
[0:25]حضرت عمر بن عبدالعزیز ایک جلیل القدر تابعی تھے۔ آپ کی والدہ حضرت عمر فاروق کی پوتی تھی۔
[0:31]جب ایک رات دنیا میٹھی نیند کے مزے لے رہی تھی تو اس وقت عمر بن عبدالعزیز خلافت کی بھاری ذمہ داریاں سنبھال رہے تھے۔
[0:38]رات کا وقت تھا اور اپ اپنے سرکاری دفتر میں بیٹھے سلطنت کے اہم امور جیسے ٹیکس، سرحدوں کی حفاظت وغیرہ نمٹا رہے تھے۔
[0:45]اس زمانے میں روشنی کے لیے تیل کے چراغ استعمال ہوتے تھے۔
[0:48]چونکہ آپ سرکاری کام کر رہے تھے اس لیے اس چراغ کا تیل بیت المال یعنی عوام کے ٹیکس سے جمع ہونے والے سرکاری خزانے سے لیا گیا تھا۔
[0:56]اسی دوران آپ کا ایک قریبی دوست یا رشتہ دار آپ سے ملنے ایا۔
[1:00]جیسے ہی وہ شخص بیٹھا اس نے رسمی حال احوال کے بعد اپ کے گھر والوں، بچوں کی صحت اور ذاتی زندگی کے بارے میں باتیں شروع کر دی۔
[1:08]جونہی گفتگو سرکاری معاملات سے ذاتی باتوں کی طرف ہوئی اپ خاموشی سے اٹھے سرکاری چراغ بجھا دیا اور اندھیرے میں بیٹھ گئے۔
[1:15]پھر اپنا ذاتی چراغ منگوا کر جلایا اور بات چیت دوبارہ شروع کی۔
[1:19]جب مہمان نے حیرت سے پوچھا کہ اے امیرالمومنین اپ نے ایسا کیوں کیا؟
[1:24]تو آپ نے جواب دیا جب تک تم مجھ سے مسلمانوں کے اجتماعی معاملات پر بات کر رہے تھے میں سرکاری چراغ استعمال کر رہا تھا۔
[1:30]لیکن جب بات میری اور تمہاری ذاتی زندگی پر ائی تو میرے لیے جائز نہ رہا کہ میں عوام کے پیسے سے خریدا ہوا تیل اپنی ذاتی گفتگو کے لیے جلاؤں۔
[1:39]حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے ثابت کر دیا کہ تخت پر بیٹھ کر خدا سے ڈرنے والا ہی اصل میں عمر ثانی کہلانے کا حقدار ہے۔



