[0:01]قوموں کی ترقی اور زوال کا دارومدار اس قوم کے تعلیمی نصاب پر ہوتا ہے۔ تعلیمی نصاب اگر مضبوط ہے تو قومیں ترقی کرتی ہیں اور اگر تعلیمی نصاب کمزور ہے تو قومیں زوال کا شکار ہوتی ہیں۔ جو نوجوان کالج یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں، تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ وہی مستقبل کے قوم کے معمار ہوتے ہیں۔ انہی میں سے کوئی وزیراعظم بنتا ہے، کوئی صدر بنتا ہے، کوئی وفاقی وزیر بنتا ہے، کوئی وزیر مملکت بنتا ہے۔ کوئی کمشنر بنتا ہے، کوئی ڈپٹی کمشنر بنتا ہے، کوئی آئی جی بنتا ہے، کوئی ڈی آئی جی بنتا ہے۔ جتنے انتظامی عہدے ہیں اور جتنی بیوروکریسی ہے۔ وہ سارے لوگ کہاں سے نکل کر اتے ہیں۔ تعلیمی اداروں سے نکل کر اتے ہیں۔ تو کسی ملک کے نظام کو صحیح نہج پر چلانے کے لیے بھی ضروری ہے
[1:14]کہ آپ کا تعلیمی نظام مضبوط ہو۔ تعلیمی نصاب مضبوط ہو تو اس لیے آج اس موضوع کا انتخاب کیا ہے میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالی حق بات کہلوائے اور سب کو توجہ سے سننے کی۔ اور اس تحریک کا حصہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔
[1:42]صدیوں تک ہمارا جو تعلیمی نصاب رہا ہے وہ یکساں رہا ہے۔ اس میں یہ تفریق نہیں تھی کہ یہ مدرسہ ہے یا دینی علوم پڑھائے جاتے ہیں۔ اور یہ اسکول کالج ہے یہاں دنیاوی علوم پڑھائے جاتے ہیں اس طرح کا امتیاز تعلیمی اداروں میں نہیں تھا اور صدیوں تک نہیں تھا۔ ہمارے شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے چند سال پہلے مجھے جہاں تک یاد پڑتا ہے 2016 کی بات ہے۔ حیرا فاؤنڈیشن جو ان کے ہاں ایک انگلش میڈیم اسکول ہے۔ اس کی سالانہ تقریب تھی اور ہم بھی وہاں موجود تھے۔ تو حضرت نے کوئی گھنٹے بھر کا خطاب فرمایا۔ اور اس میں تعلیمی نصاب پر بات کی۔ اور اس میں جو بات ارشاد فرمائی۔ دو تین باتیں میں اس میں سے عرض کروں گا۔ ایک بات تو یہ ارشاد فرمائی کہ صدیوں تک ہمارا تعلیمی نصاب اور نظام یکساں رہا ہے۔ مدرسے اور اسکول کالج کی تفریق نہیں تھی۔ ایک ہی چھت کے نیچے لوگ دینی علوم بھی پڑھتے تھے دنیاوی علوم بھی پڑھتے تھے۔ اور یہ سلسلہ ایک مرحلے تک مثال کے طور پر اف اے تک رہتا تھا۔ اور اس کے بعد پھر اسپیشلائزیشن کے لیے لوگ اپنا اپنا میدان منتخب کرتے تھے۔ کوئی فقہ کی طرف چلا جاتا تھا کوئی حدیث کی طرف چلا جاتا تھا کوئی تفسیر کی طرف چلا جاتا تھا کوئی طب کی طرف چلا جاتا تھا کوئی انجینئرنگ کی طرف چلا جاتا تھا۔ کوئی دوسرے کسی معاشرتی مضمون کی طرف چلا جاتا تھا۔ تو یہ سلسلہ رہا ہے اور اسی یکسانیت کی بنا پر وہاں کے کسی انجینئر اور سائنسدان کو دیکھیں تو وہ بھی دینی وضع قطع رکھنے والا اپ کو نظر ائے گا داڑھی والا نظر ائے گا اس کا لباس دین کے مطابق ہوگا اور اپ اس میں جو بہت بڑی سطح پر انجینئرنگ کے میدان میں اگے بڑھا ہے یا میڈیکل سائنس کے شعبے میں اگے بڑھا ہے یا وہ موجب بنا ہے اور اس نے طرح طرح کی اجادات کی ہیں اس کے حلیے میں اس کی وضہ قطہ میں اور جو مسند پر بیٹھ کر تفسیر کا درس دے رہا ہے حدیث کا درس دے رہا ہے فقہ کا درس دے رہا ہے ان میں کوئی فرق نہیں تھا۔ سب متشرع تھے اسلامی تہذیب اور اقدار میں گندھے ہوئے تھے اور ان کو دیکھ کر فرق کرنا مشکل ہوتا تھا کہ یہ دینی علوم کے مدرس ہیں یا دنیاوی علوم کے مدرس ہیں۔ یہ سلسلہ رہا اور یہ حضرت نے فرمایا دوسری بات جو میں کہنا چاہتا ہوں اس کی مثال کے طور پر حضرت نے فرمایا کہ دنیا کی صرف عالم اسلام کی نہیں دنیا کی سب سے پہلی یونیورسٹی مراکش کے شہر فاس میں قائم ہوئی جس کا نام ہے جامعتہ القروئین سب سے پہلی یونیورسٹی شہر فاس میں جامعۃ القروین کے نام سے قائم ہوئی۔ اور فرمایا کہ میں دو دفعہ وہاں جا چکا ہوں۔
[5:25]اور اس میں بڑے بڑے مفسرین بھی بیٹھ کر درس دیتے رہے بڑے بڑے فلسفے کے ماہر بھی وہاں درس دیتے رہے اور بڑے بڑے تصوف کے امام بھی فقہ کے امام بھی وہاں پڑھاتے رہے اور بڑے بڑے انجینئر اور طب کے میدان کے ماہرین بھی وہاں سے پیدا ہوئے اور وہاں درس و تدریس کا سلسلہ انہوں نے جاری رکھا اور فرمایا کہ میں نے وہاں اس دور کے یعنی جب عروج پر تھا عالم اسلام اور یونیورسٹیاں عالم اسلامی کے پاس ہوتی تھیں۔ اس جامعہ کے ماہرین اور موجدین کے ایجاد کردہ کچھ چیزیں وہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہیں اس کے نمونے انہوں نے اب تک محفوظ کر رکھے ہیں۔ اور دوسری بات یہ فرمائی کہ بڑے بڑے جو علماء، مفسرین، محدثین، فقہا، فلسفی وہاں گزرے ہیں ان کی مسند تدریس کو بھی انہوں نے محفوظ رکھا ہے۔ اور اب تک وہ وہاں موجود ہیں یہ قاضی ایاز رحمہ اللہ تعالی کی مسند ہے۔ یہ ابن رشد کی مسند ہے۔ یہ فلاں امام کی مسند ہے۔ یہ فلاں فقہ کی مسند ہے۔ یہ سلسلہ وہاں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کس کا ارشاد ہے؟ صدر وفاق المدارس حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب اللہ تعالی ان کی زندگی میں ان کے علوم و اعمال میں ان کی خدمات میں اور زیادہ برکتیں عطا فرمائے۔ عالم اسلام کی انتہائی اعلی درجہ کی فقیہ، اعلی درجہ کے محدث، اعلی درجہ کے مدرس، اعلی درجہ کے مصنف اور اعلی درجہ کے متواضع اور اخلاق حسنہ کا پیکر اللہ تعالی نے ان کی شخصیت کو ایسی جامعیت عطا فرمائی ہے۔
[7:19]اللہ کرے کہ ہمارے ملک کے لوگ ان کی قدر کریں اور ان کی زندگی میں ان سے فائدہ اٹھائیں۔ تو یہ فرمایا کہ ایک ہی چھت کے نیچے دونوں تعلیمیں دی جاتی تھیں اور ایک مرحلے کے بعد پھر اسپیشلائزیشن کی طرف لوگ جاتے تھے۔ دوسری بات کیا ارشاد فرمائی؟ وہ تھوڑا آگے چل کر میں بتاؤں گا۔ تو حضرت نے فرمایا دوسری بات یہاں اور ایڈ کر دیتا ہوں حضرت نے فرمایا کہ دنیا میں دو قسم کے نظام تعلیم چل رہے ہیں۔ چلے آ رہے ہیں قدیم نظام تعلیم جن کو کہا جا سکتا ہے ایک تو جامع ازہر مصر کا نظام تعلیم جو بہت اعلی مقاصد کے لیے شروع کیا گیا تھا لیکن وہ پھر ان مقاصد سے دور اٹھتے چلے گئے اور وہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکے جو ہونے چاہیے تھے۔
[8:21]اور دوسرا بلکہ تین نظام تعلیم۔ دوسرا نظام تعلیم دارالعلوم دیوبند کا۔ اور تیسرا نظام تعلیم علی گڑھ کا۔ تو یہ شروع کی صدیوں میں بلکہ بہت صدیوں تک تو ایک ہی نظام تعلیم رہا اور ایک ہی چھت کے نیچے دونوں قسم کے علوم لوگ حاصل کرتے رہے اس وقت پھر یہ مسٹر ملا کا جھگڑا نہیں تھا۔ ان میں دوریاں نہیں تھیں۔ ان کے اپس کی نفسیات میں بہت زیادہ فرق نہیں تھا اور مشترکہ طور پر جدوجہد ہوتی تھی عالم اسلام کے لیے اور ترویج اسلام کے لیے اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے۔ یہ مدرسہ ہے، یہ اسکول ہے، یہ مسٹر ہے، یہ ملا ہے اس طرح کی تفریق نہیں تھی۔ پھر اگے بڑھتے بڑھتے پھر جب انگریز نے استعمار نے قبضہ کیا عالم اسلام پر پورا عالم اسلام اس کے قبضے میں چلا گیا تو جہاں استعمار نے بہت ساری تہذیبی چیزوں کو ختم کیا ہمارے کلچر کو ختم کر کے اپنا کلچر وہاں راج کرنے کی کوشش کی وہیں انہوں نے جو علوم ہمارے پڑھائے جاتے تھے دینی علوم خاص طور سے ان کو بالکلیہ ختم کرنے کا پلان بنایا اور لارڈ میکالے نے ایک نیا نصاب تجویز کیا اور فرمایا کہ ہم اس نصاب کے ذریعے سے فرمایا نہیں بکواس کی کہ ہم اس نصاب تعلیم کے ذریعے سے ایسی جماعت تیار کرنا چاہتے ہیں۔ کے جو خون اور رنگ کے اعتبار سے ان بلڈ اینڈ کلر وہ انڈینز ہوں ہندوستانی ہوں لیکن وہ اپنی رائے کے اعتبار سے اپنے رجحانات کے اعتبار سے اپنی سوچ اور فکر کے اعتبار سے انگریز ہوں۔
[10:22]ایسی جماعت ہمیں چاہیے جو کروڑوں رعایا کے درمیان اور ہمارے درمیان پل کا کردار ادا کرے اور اس کے ذریعے سے ہم یہاں کی رعایا کو غلام بنا کر رکھیں اور یہ کبھی سر اٹھانے کے قابل نہ رہیں۔ غلام بنانے والا نصاب اور وہ بھی ان کی اپنی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ اس لیے وہ نصاب پڑھانا ضروری تھا کہ اتنے بڑے ملک میں نظام چلانے کے لیے ہمیں دفاتر میں کلرک کی بھی ضرورت ہے دوسرے افسروں کی بھی ضرورت ہے بیورکریسی کی ضرورت ہے۔ تو اس نصاب سے نکل کر وہ لوگ ہمارے دفاتر کا نظام چلائیں گے یہ نہیں کہ وہ کوئی سائنس اور ٹیکنالوجی میں بہت اگے ترقی کر جائیں گے ایسا مضبوط نصاب ہم بنا کر ان کو دے رہے ہیں نہیں ہمارے دفاتر کا نظام چلانے کے لیے جو نصاب ضروری ہے وہ ہم ان کو پڑھا رہے ہیں۔
[11:22]لیکن مدارس کا سلسلہ بالکل ختم کر دیا گیا نصاب پر پابندی اور عمرا اور سلاطین نے جو اپنے اوقات اور جائیدادیں وقف کر رکھی تھیں
[12:59]مدارس کے لیے جن سے وہ مدارس چلتے تھے ان اوقات پر قبضہ کر لیا اور اس طریقے سے مدارس کا سلسلہ بالکل منقطع ہو گیا۔ ان حضرات نے غور و فکر کیا جو علماء تھے وہاں کے کہ اس طریقے سے تو ہمارے دینی تعلیم کا سلسلہ بالکل منقطع ہو جائے گا تو انے والی نسلیں ایمان بھی بچا نہیں سکیں گی۔ انہیں نماز روزے کا بھی پتہ نہیں ہوگا۔ بلکہ اپ یوں کہیے کہ 17 سال کے بعد یا 18 سال کے بعد دارالعلوم دیوبند قائم ہونے کے 17 18 سال کے بعد جو جلسہ ہوا دستار بندی کا اس جلسے میں جتنے فضلہ اب تک فارغ ہو چکے تھے ان کی تعداد 56 تھی۔ ان کی تعداد کتنی تھی 17 سال میں 56 لوگ فارغ ہوئے۔ اپ اس سے اندازہ لگائیں کہ ہمارے اکابر نے کن مشکلات میں کام کیا۔ کتابیں نہیں ہیں چندہ کر کے جگہ جگہ سے کتابیں جمع کر کے درس و تدریس کا سلسلہ کیا جا رہا ہے۔ اور پھر اس جلسے میں 56 لوگ جو فارغ ہوئے تھے ان کو بلایا گیا لیکن ان 56 میں سے 28 ائے اور 28 نہیں ا سکے۔ کچھ فوت ہو گئے ہوں گے کچھ دور دراز کہیں ہوں گے وہاں سے انا ان کے لیے مشکل ہوگا۔ کسی کا کوئی عذر ہوگا بیمار ہوگا 28 لوگ ائے۔
[14:38]اور حضرت مولانا یعقوب نونوتوی رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا بہت فخر سے بڑی مسرت سے الحمدللہ الحمدللہ اج 28 علماء فارغ اور یعنی ان کی دستار بندی ہو رہی ہے اور اتنے عرصے میں اتنے علماء تیار ہو گئے ورنہ تو یہ خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ وضو کے چار فرض جاننے والا بھی کوئی باقی نہیں رہے گا۔ ان مشکل حالات میں ہمارے علماء نے ضروری سمجھا کہ صرف دینی علوم پر فوکس کیا جائے۔ دوسری تعلیم تو اسکول کالج میں یونیورسٹی میں جاری ہے اور قوم کے زیادہ تر بچے وہیں پڑھ رہے ہیں اس لیے وہاں اس تعلیم کا تو کوئی نقصان ہو نہیں رہا۔ ہماری تعلیم جو دینی تعلیم ہے جو ہر مسلمان پر حاصل کرنا فرض عین ہے ایک ہاتھ تک اور تفصیل سے علوم پڑھنا قران و سنت کے فقہ اور اصول فقہ کے یہ فرض کفایہ ہے۔ اگر ایک اتنی بڑی جماعت اس کو حاصل کر رہی ہے کہ جب بھی ضرورت پیش ائے گی کسی بھی پیچیدہ سے پیچیدہ مسئلے کی تو رہنمائی کرنے والے لوگ اس جماعت میں موجود ہوں گے تو باقی لوگ گناہگار نہیں ہوں گے۔ لیکن ایسی جماعت اگر نہیں ہوگی سارے گناہگار ہوں گے۔ فرض کفایہ کا یہی مطلب ہوتا ہے۔ تو اپ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کن مشکلات میں ان حضرات نے دینی علوم کو محفوظ کیا اور ان کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔ پھر دارالعلوم دیوبند اور دوسرے تعلیمی اداروں کی شاخیں بنی اور مدارس کا ایک سلسلہ پاکستان ہندوستان میں بنگلہ دیش میں پھیلا اور اس کی وجہ سے عامۃ المسلمین کا ایمان محفوظ ہوا ان کا کلچر محفوظ رہا ان کی تہذیب محفوظ رہی دین سے ان کی وابستگی رہی اور بڑی مضبوط وابستگی رہی یہ اللہ تعالی کا کرم ہے اور ان اکابر علماء کا صدقہ جاریہ ہے۔
[16:38]ایک حصہ تو یہ ہے۔ لیکن ضرورت اس بات کی محسوس کی گئی اور بہت جلد محسوس کی گئی 1800 90 میں 1892 میں اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی 1892 میں دارالعلوم دیوبند کو قائم ہوئے کوئی بہت عرصہ نہیں گزرا تھا۔ میرے خیال میں 1857 جنگ ازادی ناکام ہوئی اور انگریز کا مکمل تسلط ہو گیا پورے ہندوستان پر تو 1866 67 10 سال کے بعد دارالعلوم دیوبند قائم ہوا۔ اور 1892 کی بات میں اپ کو بتا رہا ہوں۔ تو یہ 20 اور چار 24 اور دو 26 سال بعد کی بات بتا رہا ہوں اپ کو۔ ان 26 سالوں میں یہ احساس پیدا ہو گیا کہ ہمارے مدارس میں جو نصاب تعلیم ہے جسے درس نظامی سے یاد کیا جاتا ہے۔ تو اس درس نظامی میں مزید کچھ اضافات کی اور کچھ ترمیمات کی ضرورت ہے۔ یہ معاشرے کی ضرورت کو پورا نہیں کر رہا۔
[17:53]اور جو مدرسہ کانپور کا تھا فیض عام اس میں تین روزہ ایک کانفرنس ہوئی اور ہمارے اکابر نے تمام مکاتب فکر کے اس وقت کے جید علماء کو جمع کیا۔ جس میں حکیم الامہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالی جس میں حضرت مولانا سلمان سید سلمان ندوی رحمہ اللہ تعالی جس میں حضرت مولانا شبلی نعمانی رحمہ اللہ تعالی بڑے بڑے علماء اس میں شریک تھے۔ اور اس کے علاوہ بریلوی مکتب فکر کے بھی اس وقت کے چوتے کے عالم امام احمد رضا خان صاحب بریلو وہ اس میں شریک تھے۔ غیر مقلدین کے بڑے علماء میں سے مولانا محمد حسین بھٹالوی اور بعض مجلسوں میں مولانا سید نذیر حسین شاہ صاحب یہ سارے اس میں شریک تھے۔ اور انہوں نے مقالے پیش کیے انہوں نے تقریریں کی انہوں نے بیانات کیے اور اس بات کی اہمیت بیان کی کہ ہمارا نصاب تعلیم جامع ہونا چاہیے۔ اس میں دینی علوم کے ساتھ عصری علوم بھی اتنی مقدار میں ہونے چاہیے کہ ہمارے علماء فارغ ہونے کے بعد معاشرے کے لیے اجنبی نہ ہوں۔ معاشرہ ان کے لیے اجنبی نہ ہو اور یہ دین کے ان تقاضوں کو پورا کر سکیں جو معاشرے میں پائے جاتے ہیں اور ہماری تعلیم میں نصاب میں کمی کی وجہ سے ان تقاضوں کو یہ علماء پورا نہیں کر پاتے ان کو کرنا لازم ہے۔ تو یہ تین روزہ کانفرنس ہوئی اور پھر 1892 میں ایک جماعت بلکہ 1894 میں پھر دوبارہ جلسہ ہوا اور اس میں ایک جماعت تشکیل دی گئی 12 ادمیوں کی کمیٹی بنائی گئی اس میں بھی تمام مکاتب فکر کے علماء یکساں شریک تھے۔ اور اس کمیٹی کے ذمے دو کام لگائے گئے ایک کام تو یہ لگایا گیا کہ یہ پورے ملک میں دورہ کر کے اس نئے نصاب کے بارے میں ذہن سازی کرے گی لوگوں کو اگاہی فراہم کرے گی کہ ہم اس نصاب میں تبدیلی اور اس میں اضافات کیوں کرنا چاہتے ہیں اور دوسرا وہ نصاب مرتب کرے گی۔ یہاں پورے ملک میں انہوں نے دورہ کیا کچھ لوگوں نے بہت حمایت کی کچھ لوگوں نے مخالفت کی جیسے کہ دستور ہے اس طرح کی چیزوں میں کہ جب بھی اپ کسی تبدیلی کی بات کریں گے تو کچھ لوگ سمجھیں گے کچھ لوگ نہیں سمجھیں گے۔ یہاں سے فارغ ہو کر لیکن بہرحال عمومی طور پر اس کو قبولیت حاصل ہوئی۔ یہاں سے فارغ ہو کر ان 12 ادمیوں کی کمیٹی نے یا ان میں سے کچھ حضرات نے حجاز کا سفر کیا اور وہاں کے عرب علماء کے سامنے ان تجاویز کو رکھا۔ انہوں نے بھی اس کو پسند کیا اور اخر میں حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ تعالی جو شیخ ہیں حضرت مولانا قاسم نونوتوی اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوی رحمہ اللہ تعالی کے ان کی خدمت میں اسے پیش کیا انہوں نے ملاحظہ کیا مسرت کا اظہار کیا اپنے دستخط اس پر سبط کر کے اس کی تصب کی
[21:07]یہ سب سے پہلا ایک گویا اپ یوں سمجھیں کہ اقدام تھا جو ہمارے علماء کی طرف سے نصاب کو جامع بنانے کے لیے کیا گیا۔ اس کے بعد پھر وقتا فوقتا یہ کوششیں ہوتی رہی ہوتی رہی ہوتی رہی حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ تعالی جب دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہوئے تو کچھ عرصہ یہاں رہے اور پھر وہ بنگلہ دیش منتقل ہو گئے۔ اور بنگلہ دیش میں سلھٹ میں انہوں نے قیام فرمایا اور تعلیم و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ یہ 1900 25 30 کے درمیان کی بات ہے۔
[21:49]اور اس میں انہوں نے ایک 16 سالہ نصاب تجویز کیا۔ جس میں دینی علوم بھی شامل کیے۔ اور دنیاوی علوم بھی شامل کیے۔
[22:02]نساب مدنی کے نام سے یہ رسالے کی شکل میں چھپا ہوا ملتا ہے ہر کوئی دیکھ سکتا ہے کہ اس میں دینی علوم بھی ہیں اور دنیاوی علوم بھی ہیں۔
[22:21]اسی طریقے سے مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ تعالی نے کلکتہ میں ایک ادارہ قائم کیا اور شیخ الحدیث حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی رحمہ اللہ تعالی سے یہ درخواست کی کہ مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ تعالی کو کچھ عرصے کے لیے ہمیں دے دیا جائے تاکہ یہ اس نئے نصاب تعلیم اور نظام تعلیم کو منظم کر سکیں جس میں دینی علوم بھی ہیں دنیاوی علوم بھی ہیں۔
[23:51]چنانچہ حضرت مدنی رحمہ اللہ تعالی کو ایک سال کے لیے وہاں باقاعدہ تشکیل کی گئی اور حضرت شیخ الاسلام رحمہ اللہ تعالی نے انہیں وہاں بھیجا۔ دو تین مثالیں میں اپ کو دے چکا ہوں۔ چوتھی مثال حضرت مولانا حافظ محمد احمد صاحب حضرت مولانا قاسم نووی رحمہ اللہ تعالی کے صاحبزادے ہیں۔ اور دارالعلوم دیوبند کے محتمم ہیں۔ حیدر اباد دکن کے جو ریاست کے والی تھے۔ انہوں نے ا کر درخواست کی کہ مجھے ایک مضبوط شخصیت کی ضرورت ہے۔ میں اپنی ریاست کے تعلیمی نظام اور عدالتی نظام کی اصلاح کرنا چاہتا ہوں۔ اور ایک جامع تعلیمی نظام اور نصاب بنانا چاہتا ہوں۔ چنانچہ وہاں سے باقاعدہ مشورہ میں طے ہوا اور مولانا محمد احمد صاحب دارالعلوم دیوبند کا اہتمام چھوڑ کر تین سال کے لیے وہ حیدراباد منتقل ہوئے۔ تاکہ اس نئے نصاب اور نظام کو دیکھ سکیں اور اس کو منظم کر سکیں۔ حضرت مولانا احمد صاحب کا جلدی انتقال ہو گیا ایک سال کے اندر اندر شاید یا ایک سال سے کچھ اوپر تو وہ منصوبہ پھر اگے بڑھ نہیں سکا۔ حضرت مدنی رحمہ اللہ تعالی کو دارالعلوم دیوبند کے ایک بحران کے نتیجے میں واپس انا پڑا اور ان کا وہ نصاب بھی اگے بڑھ نہیں سکا۔ پھر پاکستان بنا تو اس کے بعد بھی کوششیں ہوتی رہیں اور سب سے پہلی کوشش اور سب سے پہلا جلسہ ٹنڈوالہ یار کا مدرسہ جس میں بڑے بڑے اکابر نے پڑھانا شروع کیا تھا۔ حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی حضرت مولانا احتشام اللہ خان تھانوی حضرت مولانا ادریس کاندلوی حضرت مولانا رسول خان صاحب حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب اور اس طرح کے جید علماء نے وہاں بڑی جگہ لے کر ایک ادارہ قائم کیا تھا اور مقصد یہ تھا کہ اس ادارے میں ہم دینی دنیاوی دونوں قسم کے علوم پڑھائیں اور رجال کار تیار کریں جو اگے نظام کو چلا سکیں اور اس کو اسلامی خطوط پر ایک اسلامی فلاحی ریاست بنا سکیں۔
[26:08]سردار عبدالرب نشتر سالانہ جلسے میں ائے اور اس میں بھی بیانات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ہم ایک جامع تعلیمی نصاب کی ضرورت ہے جو درسوں کے نام سے جو ادارے بنے ہوئے ہیں ان میں بھی پڑھایا جائے اور جو کالج یونیورسٹی ہے ان میں بھی پڑھایا جائے ایک جامع تعلیمی نصاب ہونا چاہیے۔ لیکن بات زیادہ اگے بڑھ نہیں سکی۔ پھر حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ تعالی نے جب اسمبلی میں دیکھا کہ یہاں تو ایسے لوگ ہیں کہ جن کو دین کی الف با کا پتہ نہیں ہے یہ یہاں اسلام کیسے نافذ کریں گے۔ تو حضرت نے فرمایا کہ مجھے اسمبلی کی رکنیت نہیں چاہیے بلکہ مجھے اپ کوئی تعلیمی ادارہ بنا کر دے دیں تاکہ میں وہاں ایک ایسا نصاب پڑھا سکوں جو دونوں علوم کا جامع ہو اور اس سے نکلنے والے رجال کار ملک نظام میں جائیں اور اس نظام کو سیدھا کر سکیں اور اس کو اسلامی خطوط پر چلا سکیں اس وقت اسمبلیوں میں جو مخلوق ہے وہ اس کی اہل نہیں ہے۔ وہ نہیں چلا سکے گی۔ چنانچہ اسلامیہ کالج جمشید روڈ جہاں بنا ہوا ہے یہ پلاٹ حضرت کو دیا گیا۔ حضرت نے سوچا کہ اب یہ پلاٹ ہے کب اس کی تعمیر ہوگی کب پھر داخلے ہوں گے بچے پھر جوان ہوں گے پھر رجال کار کی تیاری کا مرحلہ ہے تو بہت لمبا پروسیجر ہے۔ تو ہمیں تو سرے دس جلدی ضرورت ہے کہ رجال کار کی تربیت کر کے اور صحیح تعلیم دے کر ان کو ہم اگے بھیجیں۔ تو حضرت نے فرمایا مجھے کوئی بنی بنائی یونیورسٹی دے دو۔ چنانچہ جامعہ عباسیہ جامعہ اسلامیہ عباسیہ باہول پور حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ تعالی کے حوالے کی گئی۔ اپ نے وہاں دینی اور دنیاوی علوم کا جامع نصاب شروع کیا وہ اب بھی اپ کو اس یونیورسٹی کے ریکارڈ میں مل جائے گا۔ اور بڑے بڑے جبال علم نے وہاں بھی پڑھانا شروع کیا مولانا رسول خان صاحب مولانا ادریس کاندھلوی صاحب بڑے بڑے جید علماء نے وہاں پڑھایا۔ لیکن ایک سال کے اندر اندر ہی حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ تعالی کا انتقال ہو گیا اور وہیں سے ان کی میت کراچی منتقل ہوئی اور اج بھی اسلامیہ کالج کے احاطے میں ان کی قبر اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ وہ تعلیمی نظام کو کس طرف لے جانا چاہتے تھے۔
[28:31]حضرت مولانا شمس الحق افغانی رحمہ اللہ تعالی اور مولانا حامد انصاری رحمہ اللہ تعالی ریاسات قلات کے نواب نے دارالعلوم دیوبند کے اکابر سے درخواست کر کے ان کو لیا اور کہا کہ اپ یہاں کا تعلیمی نظام ٹھیک کریں۔ مولانا شمس الحق افغانی رحمہ اللہ تعالی کو وزیر معارف یعنی وزیر تعلیم بنایا گیا اور دوسرے صاحب کو وزیر اطلاعات و نشریات بنایا گیا۔
[29:00]تو ان حضرات نے علمائے ہند کا شاندار ماضی میں یہ لکھا ہوا ہے کہ ایک جامع نصاب تعلیم تیار کر لیا تھا۔ لیکن یہ 1940 45 کے درمیان کی بات ہے اس وقت جنگ عظیم دھوم بھی ہو رہی تھی اور پاکستان کی تحریک بھی چل رہی تھی۔ اور برطانیہ نے ریاست قلات کو اپنے انتظام میں لے لیا تو وہ نظام بھی دھرا کا دھرا رہ گیا اور اگے نہیں بڑھ سکا۔ تو یہ چند مثالیں میں نے اپ کے سامنے پیش کی ہیں کہ ہمیں جامع تعلیمی نصاب کی ضرورت ہے۔ جہاں سے نکلنے والے دینی علوم سے بھی اراستہ ہوں اور دنیاوی ضروری علوم سے بھی بقدر ضرورت تک واقف ہوں ان کا اداروں میں جانا یہی تبدیلی کا واحد ذریعہ ہے چاہے اس میں جتنا وقت لگے۔
[30:05]اگر 40 سال پہلے ہمارے علماء اس کو سمجھ جاتے اور رجال کار تیار کر کے بھیجنا شروع کر دیتے تو اج فضا بالکل مختلف ہوتی۔ بالکل مختلف ہوتی۔ مولانا زاہد الراشدی صاحب ایک ہمارے دانشور ہیں۔ ایک جید عالم ہیں۔ اللہ تعالی نے ان کو بڑا سلیقہ دیا ہے بات کرنے کا لکھنے کا تو وہ یہاں تشریف لائے تو انہوں نے ایک واقعہ بتایا انہوں نے کہا کہ ہم نے گوجرانوالہ ڈویژن کی سطح پر ایک جلسہ کیا۔ تو دوائیتی جلسے جیسے ہوتے ہیں اور علمائے کرام جیسے سخت سخت حکومتوں کو کہتے ہیں اور اسلام نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں اسی طرح وہاں بھی ہوا۔ جلسہ ختم ہوا تو کمشنر صاحب نے یا ڈپٹی کمشنر صاحب تھے انہوں نے مجھے بازو سے پکڑا اور کہا کہ اپ واقعی اسلام چاہتے ہیں اپ واقعی اسلام چاہتے ہیں۔ بار بار انہوں نے پوچھا میں نے کہا بھئی اپ کو شک کیا ہے اپ کہنا کیا چاہتے ہیں وہ کہنے لگے کہ اس کرسی پر تو میں بیٹھا ہوں۔ پورا ضلع یا پورا ڈویژن میرے قبضے میں ہے اور مجھے دین کی الف با کا پتہ نہیں ہے اسلام کے الف با کا پتہ نہیں ہے میں کیسے اسلام نافذ کروں گا۔ یا تو اس کرسی کے لیے ادمی تیار کر کے بھیجو اور یا اسلام کے نعرے لگانا چھوڑ دو تم اسلام چاہتے ہی نہیں ہو۔



