Thumbnail for Rs10,000 Per Worker! Major Relief for Suthra Punjab Employees | Marriyum Aurangzeb Press Conference by Express News

Rs10,000 Per Worker! Major Relief for Suthra Punjab Employees | Marriyum Aurangzeb Press Conference

Express News

13m 16s2,791 words~14 min read
AI audio transcription
Transcript source

AI audio transcription

This transcript was generated from the video's audio because no usable YouTube caption track was available. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Timestamped outline
Pull quotes
[0:00]فٹرز ہیں جس میں لوڈر رکشے ہیں ڈمپرز ہیں ٹرالیز ہیں، ٹریکٹر ٹرالیز ہیں، ایکویٹرز ہیں، انہوں نے 40 ہزار پلس
[0:10]مشینری نے کام کیا جس میں 20 ہزار ایڈ کی گئی عید کے دنوں میں اور ٹوٹل 60 ہزار جو فلیٹ تھے ایکوپمنٹ اور مشینری نے اس نے اس پورے اپریشن میں حصہ لیا۔
[0:20]اسی طرح 290 پوائنٹس کے اوپر کیٹل مارکیٹس لگائی گئیں جو لوکل گورنمنٹ نے ایل ڈبلیو ایم سی نے اور کیٹل مارکیٹس کے جوائنٹ پوائنٹس تھے اور اس کی پوری طرح سے نگرانی اور صفائی جو ہے اس کو بھی شہریوں کی سہولت کے لیے
[0:35]یقینی بنایا گیا۔ اسی طرح تقریبا ٹوٹل تین لاکھ 76 ہزار جو ٹن ویسٹ ہے وہ کولیکٹ کیا گیا اور پچھلے سال تین لاکھ
Use this transcript
Related transcript hubs

[0:00]فٹرز ہیں جس میں لوڈر رکشے ہیں ڈمپرز ہیں ٹرالیز ہیں، ٹریکٹر ٹرالیز ہیں، ایکویٹرز ہیں، انہوں نے 40 ہزار پلس

[0:10]مشینری نے کام کیا جس میں 20 ہزار ایڈ کی گئی عید کے دنوں میں اور ٹوٹل 60 ہزار جو فلیٹ تھے ایکوپمنٹ اور مشینری نے اس نے اس پورے اپریشن میں حصہ لیا۔

[0:20]اسی طرح 290 پوائنٹس کے اوپر کیٹل مارکیٹس لگائی گئیں جو لوکل گورنمنٹ نے ایل ڈبلیو ایم سی نے اور کیٹل مارکیٹس کے جوائنٹ پوائنٹس تھے اور اس کی پوری طرح سے نگرانی اور صفائی جو ہے اس کو بھی شہریوں کی سہولت کے لیے

[0:35]یقینی بنایا گیا۔ اسی طرح تقریبا ٹوٹل تین لاکھ 76 ہزار جو ٹن ویسٹ ہے وہ کولیکٹ کیا گیا اور پچھلے سال تین لاکھ

[0:46]57 ہزار 372 تو ستھرا پنجاب نے اپنا ہی ریکارڈ پچھلے سال کا جو ہے اس کو بریک کیا۔

[0:54]اور یہ میڈیا رپورٹ بھی کرتا رہا تمام اور جیسے میں نے پہلے کہا کہ یہ جتنی چیزیں میں نے اپ کو گنوائی ہیں۔ جتنی چیزیں میں نے اپ کو بتائی ہیں وہ تمام ڈیجیٹل اگے والی اس پہ ائیں ڈیش بورڈ پہ۔

[1:06]وہ پوری طرح سے جب میں نے اگر اپ کو کہتی ہوں کہ 60 لاکھ کلومیٹر ٹریول کیا تو وہ پوری طرح ڈیجیٹلی مونیٹرڈ ہے۔

[1:14]ہر گاڑی کتنا سفر کر رہی ہے کتنے بجے کر رہی ہے اس کا ڈرائیور کیا ہے اس نے کتنا ویسٹ کلیکٹ کیا ہے یہ تمام ڈیجیٹلی مانیٹر ہوتا ہے۔ اور پھر وہ جو ٹوٹل تین لاکھ تقریبا 76 ہزار جو ویسٹ کلیکشن ہے اور جو 60

[1:30]لاکھ ٹریول کیا کلومیٹر وہ کیلکولیٹ ہوتا ہے تو یہ اپ کی سٹریمز کے اوپر تمام چیزیں اس وقت ڈیجیٹلی مانیٹرڈ ہیں اور ڈیجیٹلی سپروائزڈ ہیں۔

[1:40]اسی طرح 41 ہزار 582 لوگوں نے رابطہ کیا ستھرا پنجاب اتھارٹی سے اگر ان کی کوئی شکایت تھی یا ان کو کوئی ویسٹ کلیکشن بیگ چاہیے تھے ایک کروڑ 22 ہزار بیگز تقسیم کیے گئے قربانی سے پہلے عید سے پہلے لوگوں کو تاکہ وہ بائیو ڈیگریڈیبل پلاسٹک بیگز تھے

[1:58]اور وہ بائیو ڈیگریڈیبل جو بیگز تھے ان کو دیا گیا تاکہ جو اپنی الائشیں ہیں جو اپنا ویسٹ ہے لوگ جو ہیں اس کے اندر ڈالیں اور 41 ہزار 582 اس بات کو بھی ریفلیکٹ کرتا ہے کہ لوگوں کا تعاون لوگوں کا یقین وزیر اعلی پنجاب پر لوگوں کا یقین ان کے نظام پر ان کے پروگرام کے اوپر

[2:18]اور ان کے ویزن کے اوپر تھا تو لوگوں نے بار بار اپ کو پتہ ہے کون گورنمنٹ کو کال کرتا ہے کیونکہ پتہ ہوتا ہے اگے سے جواب ہی نہیں انا لیکن کیونکہ کانفیڈنس تھا وزیر اعلی پنجاب کے پورے سسٹم میں پورے نظام میں تو اسی لیے لوگوں نے رابطہ بھی کیا اور ڈیجیٹلی

[2:34]سپیشل برانچ اپنی رپورٹ دے رہا تھا کہ کہاں کہاں کمپلینٹس ہیں کہاں کہاں الائشیں پڑی ہیں کہاں کہاں ویسٹ پڑا ہے کہاں کہاں کمپلیشن نہیں ہوئی کلیکشن کی اسی وقت پورا نظام متحرک ہوتا تھا اس ڈیجیٹل مانیٹرنگ پہ اوپر اس کو اس کو کرابریٹ کیا جاتا تھا ستھرا پنجاب اتھارٹی کے اس ڈیش بورڈ کے ساتھ

[2:51]یہ اپ کو لیفٹ سائیڈ پہ دیکھ رہے ہیں کمپلینٹس لکھا ہوا ہے اور پھر اس کے ساتھ ہی ڈسٹرکٹ مانیٹر مانیٹرنگ یونٹس جو کہ تحصیل لیول اور یونین کونسل لیول کے اوپر ڈی سیز اور کمشنرز اس کو مانیٹر کر رہے تھے اسی طرح واسا ایریگیشن تاکہ نالوں کے اندر نالوں کی صفائی کو بیکوز ارلی مانسون ہے بارشوں کی پریڈکشن ہے تو نالوں کی صفائی کو یقینی بنانے کے لیے

[3:10]یہ انشور کیا گیا اور پھر ڈیجیٹلی مانیٹرنگ کے ساتھ ساتھ پورے شہروں میں سیف سٹی نے جو کردار ادا کیا تحصیل لیول کے اوپر اپ کو پتہ ہے کہ سیف سٹی اس وقت انسٹال ہو رہی ہے ڈسٹرکٹ لیول پہ ہو چکی ہے یہ بھی وزیر اعلی پنجاب نے

[3:26]ایک نظام جو ہے اس کو کمپلیٹ کیا ہے سیف سٹی کو تو اس کے ذریعے بھی یہ پورا سسٹم تھا جو کام کر رہا تھا اور پھر پہلی دفعہ ستھرا پنجاب اتھارٹی نے ڈرونز کے ذریعے یہ پوری سرولنس کی کہ کہاں کہاں

[3:40]ویسٹ کولیکٹ ہو رہا ہے کہاں کہاں ویسٹ پڑا ہوا ہے فوری طور پر اس کو ہٹایا جاتا تھا۔ تو ان ان سمری میں اپ لوگوں کو یہ بتانا چاہ رہی ہوں اور یہ تمام وہ پوائنٹس تھے جہاں منڈیاں لگی ہوئی ہیں وہ بھی سارے اپ دیکھ رہے ہیں کہ سپروائزڈ تھے سارے مانیٹرڈ تھے سارے سرولنس کے ساتھ اٹیچ تھے سیف اگر اپ وہ دوسری فٹیج لگائیں جو

[4:06]ویسٹ کلیکشن کی صفائی والی وہ اگر اپ لگا دیں تو اپ جس پہ بھی کلک کریں گے اس سائیڈ پہ کتنی کلیکشن ہوئی ہے اس سائیڈ پہ کتنی مشینری لگی ہے اس سائیڈ پہ کتنے ڈمپرز تھے کتنے ایکویٹرز تھے وہ سارا ڈیٹا اس کے ساتھ لنکڈ ہے مانیٹرنگ سسٹم کے ساتھ ساتھ اسی طرح خالی الائشیں نہیں اٹھائی گئیں جیسے میں نے اپ کو پہلے کہا کہ یہ پورا نظام ایک

[4:26]شہری سہولت حکومتی تیاری پوری فیلڈ کی جو فارمیشنز تھی اس کا متحرک ہونا ایک پوری گورنمنٹ کے نظام کا متحرک ہونا جو وزیر اعلی مریم نواز شریف صاحبہ کا ڈائریکشنز تھیں اور کنٹینیوسلی یہ ڈائریکشنز جاری رکھی انہوں نے کہ یہ پورا نظام جو ہے اس کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے ساتھ جو

[4:49]شہریوں نے تعاون کیا اس پر بھی میں ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں اور الائشوں کے ساتھ ساتھ عید کے دن پہلے دن سے پہلے تمام مساجد کو صفائی کی گئی تمام قربان گاہوں کو تین دن صاف رکھا گیا تمام جو ڈسپوزل سائٹس تھی جو ٹرینچز تھے جہاں ٹرینچ کھود کر اس کو ڈسپوز اف کرنا تھا ان تمام کی تیاری عید کے تین دن پہلے سے تھی

[5:10]تمام مساجد کو کلین کیا گیا جیسے میں نے اپ کو کہا کہ ایک کروڑ 20 ہزار سے زائد بیگز بائیو ڈیگریڈیبل بیگز کو ڈسٹریبیوٹ کیا گیا اسی طرح گلاب کے عرق کا چھڑکاؤ ہوا روز واٹر جو کہ تقریبا 40 ہزار لیٹر اف روز واٹر کا چھڑکاؤ ہوا جو لائن پاؤڈر ہے وہ تقریبا دو اعشاریہ ایک ملین کلوگرام کا لائن پاؤڈر جو ہے اس کو لگایا گیا

[5:32]اپ کو یاد ہوگا پچھلے ادوار میں تعفن، جراثیم، بدبو اج الحمدللہ ہم کانفیڈنس کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ جتنا یہ اپریشن وزیر اعلی پنجاب کی نگرانی میں ہوا کسی طرح کا کوئی تعفن کسی طرح کی کوئی بیماری کسی طرح کا کوئی جراثیم یہاں تک کہ سمیل میں اپ کو یہ بتاؤں کہ کتنی جگہ سے ہمیں یہ

[5:53]انفارمیشن ارہی تھی سٹیزن فیڈ بیک کے لیونگ میموری میں ان کی جو کرنٹ یادداشت ہے اس کے اندر اس طرح کی گاؤں محلوں سڑکوں، شہروں، مارکیٹس، مساجد، قربان گاہیں اس اس طرح کی لیونگ میموری میں دیہات اور شہر کا جو یکساں صفائی ہے انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔

[6:16]اور یہی وہ وجہ ہے کہ جو دو ڈھائی سال پہلے ستھرا پنجاب کا جو نظام لایا گیا تھا پہلے ان کو کہا گیا وزیر اعلی پنجاب کو کہ خالی لاہور میں پائلٹ کریں تو وزیر اعلی نے کہا کہ لاہور میں تو پائلٹ شہباز شریف صاحب جب وزیر اعلی تھے انہوں نے کر لیا ہے اور ایک کامیابی کے ساتھ اس کو مکمل کیا گیا جو کہ نالائق نا اہل جو اس صوبے پہ اور ملک پہ مسلط ہوئے انہوں نے جو لاہور صاف کرتی تھی کمپنی جو شہباز صاحب ترکی سے لے کر ائے تھے ان کو نیب کے حوالے کر کے جیل کر دیا

[6:44]یہ تھا ویژن اس وقت کہ کسی طرح بھی انتقام لو کہ کسی طرح کا کوئی اچھا کام ہے تو کیوں کیا ہے اچھا کام لیکن میں ان لوگوں کو یاد نہیں کرنا چاہتی اس کامیابی کے موقع پر تو انہوں نے کہا کہ میں ہر ڈسٹرکٹ میں ہر تحصیل میں اور ہر یونین کونسل میں ستھرا پنجاب کو شروع کروں گی اور اج اللہ تعالی کا شکر ہے کہ وزیر اعلی پنجاب کا جو ویژن تھا

[7:05]جو ان کی کمٹمنٹ تھی جو ان کا مشن تھا تو اج پنجاب کی ہر گلی ہر محلہ ہر شہر ہر بازار چاہے وہ شہری ہو چاہے وہ دیہاتی ہو چمک رہا ہے اور دمک رہا ہے اور اس پہ میں ایک دفعہ پھر

[7:20]سلوٹ پیش کرتی ہوں وزیر اعلی پنجاب کی طرف سے شاباش دیتی ہوں ستھرا پنجاب کے ان ہیروز کو جنہوں نے گرمی کے باوجود اور گرمی کی شدت کے باوجود 72 گھنٹے تین شفٹوں میں کام کیا

[7:32]اور اج ہم ایک صاف ستھرا پنجاب عید کے باوجود جو کہ مہینوں مہینوں یہ سڑکوں کے اوپر الائشیں رہتی تھیں اور بدبو اور تعفن پھیلتا تھا تو اج اس طرح کی کوئی چیز بھی ہمیں دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے شہریوں نے جو تعاون کیا ہے

[7:50]اس پہ میں ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں اور گریو یارڈز کیونکہ وزیر اعلی پنجاب نے خاص طور پر کہا تھا کہ لوگ عید کے دنوں میں جاتے ہیں دعا کرتے ہیں قبرستانوں میں جاتے ہیں دعائے مغفرتوں کے لیے اور اس یہ پورے جو گریو یارڈز تھے ایل ڈبلیو ایم سی نے اور لوکل گورنمنٹ نے ان کو صاف کیا

[8:08]تو جتنا کام ان ہیروز نے کیا ہے جتنا کام ان تین دنوں میں ہوا ہے تو وزیر اعلی پنجاب کی طرف سے انہوں نے ابھی جب میں ا بھی رہی تھی تو انہوں نے 10 ہزار روپے کا انعام جو ہے وہ سینیٹری ورکرز کو ادر دین دیر سیلری جو اناؤنس کیا ہے ان کی اور یہ بہت ہی کم وہ جب ارہی تھیں تو انہوں نے کہا مجھے ضرور کہنا

[8:28]کہ یہ بہت ہی کم رقم ہے جو ان کی خدمت ہے اس صوبے کے لیے جو ان کی لگن ہے اس کام کے اندر اور جس خوبصورتی کے ساتھ انہوں نے اپنی ذمہ داری اور فرائض نبھائے نبھائے ہیں یہ رقم بہت ہی تھوڑی ہے لیکن 10000 روپیز وزیر اعلی پنجاب 10 ہزار روپے کی ان کی طرف سے یہ دیا جا رہا ہے سینیٹری ورکرز جتنے جو ہیں

[8:52]ہیروز جو ہیں اس پورے اپریشن کے ستھرا پنجاب اتھارٹی کے جتنے ایمپلائز ہیں جو فیلڈ میں موجود تھے ان کو 10000 روپیز کا انعام دیا جائے گا وزیر اعلی پنجاب کی طرف سے تو میں نے جیسے پہلے ہی میڈیا کا شکریہ ادا کر دیا ہے اپ سب کا بھی بہت شکریہ اخر میں میں ضرور ایک بات کہنا چاہوں گی کہ چاہے وہ ستھرا پنجاب ہو

[9:14]چاہے وہ پنجاب کا لاء اینڈ ارڈر ہو چاہے وہ سی سی ڈی ہو چاہے وہ سی ٹی ڈی ہو چاہے وہ ہیلتھ کے پروگرامز ہوں چاہے وہ ایجوکیشن کے پروگرامز ہوں چاہے وہ سموگ اج اپ دیکھ رہے ہیں کہ لاہور کا الحمدللہ سموگ کا سیزن جو ہے وہ بھی پہلے

[9:30]چار پانچ سال کس طرح پنجاب پورا بند ہوتا تھا لاہور منجمد ہوتا تھا لیکن جس طرح کا وزیر اعلی پنجاب کا کلین ایئر پروگرام کا بھی ویزن ہے جس طرح پنجاب کے ایگریکلچر فارمرز کے لیے جو وزیر اعلی پنجاب کا جو ویزن ہے فلڈ ایا پنجاب کے اندر تو اپ کو یاد ہوگا بقتی صاحب نے کیا کہا تھا

[9:52]کہ یہ دو تین دن بعد پتہ چلے گا کہ پنجاب میں فلڈ ایا ہی نہیں جس طرح کی نظام جو ہے وہ متحرک ہے تو کہنے کا مطلب ہے کہ جب قیادت جاگری ہو جب قیادت کے دل میں عوام کا درد ہو عوام کے لیے خیال ہو اور جس طرح کا خیال وزیر اعلی پنجاب نے

[10:16]پچھلے دو ڈھائی سال میں پنجاب کی عوام کا کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ جس طرح کا نظام جس طرح کے پروجیکٹس جس طرح کا کام وہ کر رہی ہیں ڈھائی سال میں وہ کام ہے جو کہ دہائیوں میں گورنمنٹس نے کیا اور ڈلیور کیا اور جس طرح

[10:31]تفصیلی بجٹ انے والا ہے انشاءاللہ اور بجٹ کے اندر بھی جس طرح جس طرح قریب ائے گا اس پہ اپ کو اور مزید بریفنگ دے دی جائے گی نیکسٹ ایئر کے لیے وزیر اعلی پنجاب نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جو قربان گاہیں ہیں وہ ہر یو سی کی سطح پہ ایک قربان گاہ جو ہے انہوں نے ستھرا پنجاب کو بھی اور لوکل گورنمنٹ ایل ڈبلیو ایم سی کو یہ ڈائریکشن دی ہے کہ اگلی بڑی عید تک ہر یونین کونسل میں ایک کلیکٹو قربان گاہ جو ہے وہ موجود ہو۔ یونین کونسل میں اور ہم انسنٹوائز کریں گے سسٹم کے وہاں جو جتنا قصائی اور جو سارا معاملہ ہے فیسیلیٹیشن کا اس کو ہم عوام کے لیے انسنٹوائز کیا جائے گا اس کی تیاری کے لیے ایل ڈبلیو ایم سی اور ستھرا پنجاب کو اور لوکل گورنمنٹ کو ڈائریکشن جو ہے وہ دے دی گئی ہے اخر میں میں دوبارہ ذیشان کو بھی وزیر اعلی پنجاب کی طرف سے شاباش

[11:19]دیتی ہوں اور اسی طرح تمام فیلڈ افسران جو موجود تھے تمام پوری پنجاب گورنمنٹ متحرک تھی میں نے اپ کو ورڈن پرڈن ہر ادارے کا بتا دیا ہے کہ وہ فیلڈ میں وزیر اعلی پنجاب کی ڈائریکشن کے اوپر موجود تھے تو پورے پنجاب کو شاباش

[11:34]پورے پنجاب کو مبارکباد اور وزیر اعلی پنجاب کو شاباش کہ جس طرح انہوں نے اس پورے اپریشن اور ہر دفعہ وہ اپنے ہر پروجیکٹ کو خود مانیٹر کرتی ہے اس طرح کے ڈیجیٹل ڈیش بورڈز ان کے ہر پروجیکٹ کے ان کے ائی پیڈ کے اوپر ہوتے ہیں جس کی وہ ہر ڈیٹا ہر ٹارگٹ ہر ٹائم لائن کو خود مانیٹر کرتی ہیں اور اس کے اوپر ظاہر ہے پھر جو ڈیپارٹمنٹس ہیں وہ بھی متحرک رہتے ہیں تو جب اپ کی وزیر اعلی متحرک ہوتی ہیں اپ کی وزیر اعلی کے دل میں عوام کا خیال ہوتا ہے تو پھر نتائج جو ہیں وہ اسی طرح کے اتے ہیں جس طرح کے ہم نے تین دن عید کے دنوں میں دیکھے

[12:08]بہت زبردست انداز میں ساری چیزوں کو کیا گیا اور ایک بڑے ایونٹ پر پائلٹ پروجیکٹ بھی اپنے اختتام کو پہنچا ہے کہ اس نے کر دیا اس کا جو نیکسٹ لیول ہے ویسٹ ٹو ویلیو جس پر اپ نے تقریبا چھ سات ماہ سے میٹنگز تو کر رہی ہیں لیکن ابھی تک اس کے کوئی ثمرات سامنے نہیں ائے کوئی ویسٹ ٹو انرجی کے حوالے سے کوئی پروجیکٹ ابھی تک

[12:30]فزیکلی نظر نہیں اتا اس کی ایگزیکیوشن کب تک ہونے جا رہی ہے اور کب تک یہ ویسٹ ٹو ویلیو کے جو خواب ہے اس کو دیکھیں ویسٹ ٹو ویلیو کے اوپر میں اپ سے تھوڑا سا ڈس ایگری کروں گی کہ یہ وزیر اعلی کا ایک تھرڈ فیز جو کہ ستھرا پنجاب کا اخری فیز ہے اس کے اوپر پچھلے چھ ماہ نہیں بلکہ جب سے ستھرا پنجاب شروع ہوا تھا

[12:51]تو اس میں تین فیزز میں ڈیوائیڈ کیا گیا تھا پہلا فیز تھا ظاہر ہے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ تھی یہ تو وہ فیز مکمل کیا گیا دوسرے فیز میں ویسٹ کلیکشن اور اکراس پنجاب کا فیز تھا اور تیسرے فیز فیز میں ویسٹ ٹو کلیکشن کا فیز تھا اور ویسٹ ٹو کلیکشن کے فیز کے اندر محمود بوٹی اپ کے سامنے ایک مثال ہے جو کہ میں سمجھتی ہوں ایک ایسا منصوبہ اور ایسا پروجیکٹ ہے جس جو کہ مثال بنے گی دنیا میں ویسٹ ٹو

[13:16]انرجی کی اور بائیو گیس کا جو ان کا منصوبہ ہے وہ ہر یو سی کی سطح پہ ایک قربان گاہ جو ہے انہوں نے ستھرا پنجاب کو بھی اور لوکل گورنمنٹ ایل ڈبلیو ایم سی کو یہ ڈائریکشن دی ہے کہ اگلی بڑی عید تک ہر یونین کونسل میں ایک کلیکٹو قربان گاہ جو ہے وہ موجود ہو یونین کونسل میں اور ہم انسنٹوائز کریں گے سسٹم کے وہاں جو جتنا قصائی اور جو سارا معاملہ ہے فیسیلیٹیشن کا اس کو ہم عوام کے لیے انسنٹوائز کیا جائے گا اس کی تیاری کے لیے ایل ڈبلیو ایم سی اور ستھرا پنجاب کو اور لوکل گورنمنٹ کو ڈائریکشن جو ہے وہ دے دی گئی ہے۔ اخر میں میں دوبارہ ذیشان کو بھی وزیر اعلی پنجاب کی طرف سے شاباش دیتی ہوں اور اسی طرح تمام فیلڈ افسران جو موجود تھے تمام پوری پنجاب گورنمنٹ متحرک تھی میں نے اپ کو ورڈن پرڈن ہر ادارے کا بتا دیا ہے کہ وہ فیلڈ میں وزیر اعلی پنجاب کی ڈائریکشن کے اوپر موجود تھے تو پورے پنجاب کو شاباش پورے پنجاب کو مبارکباد اور وزیر اعلی پنجاب کو شاباش کہ جس طرح انہوں نے اس پورے اپریشن اور ہر دفعہ وہ اپنے ہر پروجیکٹ کو خود مانیٹر کرتی ہے اس طرح کے ڈیجیٹل ڈیش بورڈز ان کے ہر پروجیکٹ کے ان کے ائی پیڈ کے اوپر ہوتے ہیں جس کی وہ ہر ڈیٹا ہر ٹارگٹ ہر ٹائم لائن کو خود مانیٹر کرتی ہیں اور اس کے اوپر ظاہر ہے پھر جو ڈیپارٹمنٹس ہیں وہ بھی متحرک رہتے ہیں تو جب اپ کی وزیر اعلی متحرک ہوتی ہیں اپ کی وزیر اعلی کے دل میں عوام کا خیال ہوتا ہے تو پھر نتائج جو ہیں وہ اسی طرح کے اتے ہیں جس طرح کے ہم نے تین دن عید کے دنوں میں دیکھے

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript