[0:00]گلے رانا ہو کہ تعبیر ہو یا شہر ناز جھک کے افلاک کہیں خوب ہیں تیرے انداز واہ واہ میں بس اتنا کہوں گی کہ محبت اگ سی ہے جسے تم عشق ہو سمجھے محض ایک دل لگی ہے۔
[0:13]اچھا الف اللہ میں رانی سے جو شام نہ ملے کہیں سسکیاں سنے اور کہیں دیپ جل
[0:20]کیا کہنے اور تیرے نام سے جلتی رہے شمع دل لوگ صحراؤں میں کرتے پھرے رقص بسم اللہ
[0:27]اور کردار وہ ٹیپو کا نبھایا تو نے کیسے بنتا ہے اداکار بتایا تو نے دل ویران میں کیسی تو نے حدت بر دی ہو کے شہدائی پھروں رانجھا رانجھا کر دی بدگمانی سے تیری دل کا برا حال بنا
[0:41]کیا بات ہے وصل میں بنتی رہی اور ہجر جال بنا کیا بات ہے تیری چاہت میں ہم بدنام بنے عام ہوئے اگ بدلے کی لگی اور نمک حرام ہوئے



