[0:00]ہم بچوں کو ایک دفعہ بلاتے ہیں ان کا لیزر ایکوپنکچر فوٹو بائیو ماڈولیشن کا سیشن ہوتا ہے جس کے دماغ کے مختلف حصے بہتر کام کرتے ہیں۔
[0:10]اس کے ساتھ چھ ہفتے بعد ان کا پی ار پی اور ایگزوسومز کا سیشن ہوتا ہے وہ ائی وی بھی دیتے ہیں انٹرا مسکولر اکوپکچر پوائنٹس پہ بھی دیتے ہیں۔
[0:18]یہ گروتھ فیکٹرز برین میں جا کے برین کے جو ویک سیلز ہیں جو ڈفرنٹلی پروسیس کر رہے ہیں ان کو سٹیمولیٹ کرتے ہیں اور ان چھ ہفتوں میں بچوں میں بہت زیادہ چینجز اتی ہیں۔
[0:26]وہ بچے جو ہائپر ایکٹیو ہوتے ہیں وہ کام ڈاؤن ہو جاتے ہیں ان میں نئے ورڈز اتے ہیں یہ ساری چیزیں اتی ہیں۔
[0:32]پھر تیسری سٹیپ پہ ہم ان کا سٹیم سیل ٹریٹمنٹ کرتے ہیں تو سٹیم سیل کے ساتھ بھی ہم پی ار پی اور ایگزوم کو کمبائن کر کے ائی وی بھی دیتے ہیں انٹرا مسکولر بھی دیتے ہیں۔
[0:42]اور جس سے بچوں میں جو سٹیم سیلز ہیں یہ جو ویک سیلز ہیں ان کو ایکٹیویٹ کرتے ہیں ان کا فنکشن کو بہتر کرتے ہیں۔
[0:51]اور اوور دا پیریڈ اف نیکسٹ سکس منتھ اپنی پاپولیشن کو انکریز کر کے برین کے مختلف حصوں میں جا کے ہوم کرتے ہیں اور برین کی سیلز کا فنکشن بھی بہتر کرتے ہیں اور وہاں پہ نئے برین کے سیلز بھی بناتے ہیں۔
[1:03]جس سے ان بچوں میں جو تبدیلیاں اتی ہیں وہ صرف سمپٹومیٹک نہیں ہیں۔ وہ ہم روٹ کاز کو بھی ٹریٹ کر رہے ہیں اور جب روٹ کاز ٹریٹ ہوگی تو سمپٹمز بھی بہتر ہوں گے اور یہ بچے ساری عمر کے لیے بہتری اتی ہے ان میں یہ نہیں کہ اپ چھوڑیں گے تو واپس ہو جائیں گے۔
[1:19]تو ریجریٹو میڈیسن کا جو بہترین سینٹر ہے اس وقت الحمدللہ پاکستان میں بہترین ٹیم کے ساتھ وہ سینٹر فور پین اینڈ ریجریٹو میڈیسن فاروق ہاسپٹل ڈی ایچ



