Thumbnail for Do Behno Ki Taqdeer Ka Faisla | Islamic Hindi Urdu story #emotionalstory by Qadeem Qisse

Do Behno Ki Taqdeer Ka Faisla | Islamic Hindi Urdu story #emotionalstory

Qadeem Qisse

25m 36s4,326 words~22 min read
Auto-Generated

[0:00]پرانے وقتوں کی بات ہے ایک گاؤں میں اکرم خان نام کا ایک تاجر رہتا تھا۔ اکرم خان کی پہلی بیوی کا انتقال ہو چکا تھا۔ اور ان کے پیچھے دو معصوم بیٹیاں چھوٹ گئی تھیں۔ حالات کی مجبوری نے اکرم خان کو دوسری شادی پر آمادہ کیا۔ اور انہوں نے اپنی دونوں بیٹیوں کو سوتیلی ماں کی نگرانی میں چھوڑ کر تجارت کی خاطر شہر کا رخ کیا۔ آج تین برس بعد اکرم خان اپنے گاؤں واپس آ رہے تھے۔ گھر کے اندر سوتیلی ماں نے دونوں بچیوں کو اپنے سامنے بلایا اور سختی سے کہا۔ سنو تم دونوں ذرا کان کھول کر میری بات سن لو۔ آج تمہارے ابا جان گھر تشریف لا رہے ہیں۔ اور ان کی آمد سے پہلے پہلے گھر کے تمام کام مکمل ہو جانے چاہیے۔ سمجھ آئی بات اگر کوئی بھی کام ادھورا رہا نا تو پھر دیکھ لینا۔ بعد میں مجھ سے شکوہ نہ کرنا۔ جانتی ہو نا میری طبیعت جب مجھے غصہ آتا ہے تو کسی کی نہیں سنتی۔ دونوں بہنوں نے خوفزدہ ہو کر سر جھکا دیا۔ بڑی بیٹی نے ہمت کر کے کہا: جی ٹھیک ہے ہم دونوں مل کر سارے کام نپٹا دیں گی۔ بس ایک گزارش ہے آج ہمیں مت مارنا اور کھانے کو بھی کچھ دے دو۔ کل سے ہم دونوں نے بس سوکھی روٹی کھائی ہے سوتیلی ماں نے آنکھیں ترچھی کر کے کہا۔ آج شام کو مل جائے گا کھانا مگر یاد رکھنا۔ یہ ساری باتیں اپنے ابا جان کو مت بتانا ورنہ ایک دن بھی اس گھر میں نہیں رہنے دوں گی۔ اچھی طرح جانتی ہو تم دونوں مجھے اتنے میں باہر سے تانگے کی آواز آئی۔ سوتیلی ماں فورا باہر دوڑی اکرم خان تین برس بعد گھر واپس آئے تھے۔ ارے کیسی ہو تم اور میری بیٹیاں کیسی ہیں نظر نہیں آ رہی۔ سوتیلی ماں نے منہ بنا کر کہا توبہ ہے جی آتے ہی اپنی بیٹیوں کی یاد آ گئی اپ کو۔ میری تو ذرا بھی پرواہ نہیں ہوئی اپ کو۔ میں تو دن رات گھر کا کام کر کر کے اس گھر کی نوکرانی بن گئی ہوں۔ ایک شوہر تھا اس گھر میں میرا وہ بھی آتے ہی اپنی بیٹیوں کا حال پوچھنے لگا مجھ سے۔ میرا تو حال برا ہو گیا ہے آپ کی بیٹیوں کو کیا ہونا ہے بالکل ٹھیک ٹھاک ہے۔ اکرم خان نے تسلی دیتے ہوئے کہا: ارے نہیں نہیں ایسی باتیں کیوں سوچ رہی ہو۔ گھر میں وہ دونوں بھی ہیں تو ان کے بارے میں پوچھنا تو بنتا ہے نا۔ ہاں سب جانتی ہوں۔ اچھا رہنے دو اپ کی بیٹیاں تو سارا دن کھیلنے نکل جاتی ہے اور زبان تو توبہ توبہ۔ اپ کی بڑی بیٹی تو مجھے بات تک نہیں کرنے دیتی۔ توبہ توبہ اتنی لمبی زبان ہے اس کی اور اتنی بدتمیز کیا ہی بتاؤں۔ یہ سن کر اکرم خان کی پیشانی پر شکنیں پڑ گئی کیا تم نے میری بیٹیاں بدتمیز ہو رہی ہیں۔ کہاں سے سیکھ لیا یہ سب کس نے اتنا سر چڑھا دیا گھر میں کیا چل رہا ہے آج ہی پوچھوں گا میں ان سے۔ جو جواب دینا ہوگا دے کر ہی جائیں گی۔ میں ایسے چال چلن برداشت نہیں کروں گا۔ ہاں جی اپ خود پوچھ لینا ان سے میں تو کچھ بھی پوچھتی ہوں جھوٹ بول دیتی ہے نا جانے جھوٹ بولنے کی عادت کہاں سے لگ گئی ہے انہیں اور تو اور اب کیا چھپاؤں اپ سے گھر سے چوری بھی کرنے لگی ہے۔ اکرم خان کے قدم رک گئے کیا چوری یہ میں کیا سن رہا ہوں۔ تم نے میری بیٹیوں کی پرورش نہیں کی میں تو انہیں تمہارے پاس چھوڑ کر گیا تھا۔ ارے جی کہاں کی بات کر رہے ہیں اپ وہ تو مجھے ماں سمجھتی نہیں کچھ بھی پوچھو کہ کہاں جا رہی ہو تم دونوں تو جواب تک نہیں دیتی۔ اور اب دیکھنا جب اپ ان سے ان سب حرکتوں کے بارے میں پوچھیں گی تو دیکھنا مجھے ہی جھوٹا کہیں گی۔ اور گھر بھر کی باتوں سے میرا ہی منہ کالا ہو جائے گا۔ اور جب میں انہیں مار کر یا ڈانٹ کر یہ سب غلط کام چھوڑنے کو کہتی ہوں تو گاؤں والے کہتے ہیں کہ سوتیلی ماں ان پر ظلم کرتی ہے۔ اب اپ ہی بتائیے میں کروں تو کیا کروں اکرم خان نے غصے سے ہاتھ ہلایا بس بس۔ تمہیں اب کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں اب جو کرنا ہوگا میں خود ہی کروں گا۔ آنے دو انہیں ادھر دونوں بہنیں جنگل میں اپنی گائے کو چرا رہی تھی۔ تبھی بڑی بہن نے چھوٹی بہن سے کہا صفیا بہت شام ہو گئی ہے اب ہمیں گھر جانا چاہیے۔ ابا جان بھی پہنچ چکے ہوں گے۔ میں نے گھاس بھی کاٹ لی ہے۔ امی سے کہا بھی تھا کہ آج گائے کو چرانے ہمیں جنگل مت بھیجو۔ مگر وہ کب سنتی ہے ہماری چھوٹی بہن صفیا نے فکرمند اواز میں پوچھا۔ دی دی کیا ہمارے ابا جان بھی ہمارے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کریں گے جیسا ہماری سوتیلی امی کرتی ہے۔ ارے نہیں نہیں پاگل ایسا کیوں سوچ رہی ہو۔ ہماری امی تو سوتیلی ہے۔ مگر ہمارے ابا جان تو ہمارے اپنے ابا جان ہیں۔ ایسا مت سوچو ہاں دیدی یہ بات تو ہے۔ مگر میں نے سنا ہے کہ اگر امی مر جائے اور ابا جان دوسری شادی کر کے سوتیلی امی گھر لے ائے۔ تو سمجھو کہ ابا جان بھی سوتیلے ہو گئے۔ نہیں نہیں ہمارے ساتھ ایسا نہیں ہوگا۔ یقین کرو اج ہمارے ابا جان ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوں گے۔ تم دیکھ لینا۔ مگر سچ تو یہ تھا کہ چھوٹی بہن صفیا بڑی بہن سے زیادہ سمجھدار اور ذہین تھی۔ دونوں اپنی گائے کو لے کر اب گھر کی طرف نکل پڑی۔ گھر پر اکرم خان بے چینی سے چہل قدمی کر رہے تھے۔ ا جانے دو دونوں کو میں خود جا کر ان کے کان کھینچ کر لاتا ہوں۔ کہاں منہ کالا کر کے گھوم رہی ہیں۔ وہ دونوں اس وقت تک گھر نہیں پہنچی۔ حد ہو گئی بالکل۔ آنے دو آج میں ایک ایک بات صاف کر دوں گا۔ آج میرا اخری فیصلہ ہے۔ اب بس یہ تماشہ یہ یا لاپرواہی اس گھر میں ذرا بھی نہیں چلے گی۔ بالکل بھی نہیں۔ اتنے میں دونوں بہنیں گائے کو لے کر گھر پہنچ گئی۔ اکرم خان نے انہیں دیکھتے ہی غصے سے پوچھا۔ کہاں تھی تم دونوں تین برس بعد میں آج اس گھر میں قدم رکھتا ہوں۔ اور یہاں ا کر دیکھتا ہوں کہ تم دونوں گھر پر ہو ہی نہیں۔ یہی تہذیب سیکھ کر رکھی ہے۔ باپ لوٹا ہے اور تمہیں خبر تک نہیں۔ آج تو حد ہو گئی اب اتے ہی تمہاری ساری حرکتوں کا حساب لینا پڑے گا۔ بڑی بیٹی نے ڈرتے ڈرتے کہا ابا جان ہم تو امی کے کہنے پر ہی گائے کو چرانے جنگل گئے تھے۔ ورنہ ہم کبھی بھی گھر کے باہر نہیں جاتے۔ پھر امی نے اپ کو یہ بات کیوں نہیں بتائی۔ سوتیلی ماں فورا بولی توبہ توبہ کتنی جھوٹی ہیں یہ لڑکیاں۔ توبہ توبہ میں نے اپ کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ گھر کے پاس اتنا گھاس ہے۔ اور یہ بے وجہ گائے کو لے کر جنگل چلی گئی۔ آج کل تو میں ہر روز خود ہی گائے کو چرانے جاتی ہوں۔ مگر آج اپ کو دکھانے کے لیے یہ گائے کو لے کر جنگل چلی گئی۔ ابا جان امی جھوٹ کہہ رہی ہے۔ چھوٹی بیٹی صفیا نے منت کرتے ہوئے کہا امی اپ ایسے کیوں بول رہی ہیں۔ ابا جان کو سچ بتا دیجیے نا۔ ہم نے تو اج تک کبھی امی سے اجازت لیے بنا گھر سے باہر قدم تک نہیں رکھا۔ پھر اپ ایسے کیوں بول رہی ہیں امی اکرم خان نے سختی سے ہاتھ اٹھایا بس بس خاموش ہو جاؤ تم سب۔ اب جو فیصلہ کرنا ہوگا میں خود ہی کروں گا۔ تم دونوں ابھی اپنے کمرے میں چلی جاؤ اور صبح تیار رہنا۔ میں اپنی بیٹیوں کو گھمانے لے چلوں گا۔ اور کل ہم تمہاری کھوفی کے گھر چلیں گے۔ ٹھیک ہے۔ دونوں بہنوں کی آنکھیں چمک اٹھی کیا سچ میں ابا جان ابا جان اپ کتنے اچھے ہیں۔ یہ بات سن کر عائشہ اور صفیا دونوں بہنیں بہت خوش ہو گئی۔ اور پھر صبح کا انتظار کرنے لگی ادھر سوتیلی ماں فکر میں بیٹھی ہوئی خود سے ہی کچھ سرگوشی کرنے لگی۔ ارے لگتا ہے میرے شوہر کو مجھ پر شک ہو گیا ہے اور اوپر سے یہ مچھر کچھ سوچنے ہی نہیں دے رہے۔ ارے کچھ تو سوچو صبح اٹھنے سے پہلے کچھ تو سوچو اسے یہ خوف تھا کہ اس کا شوہر اب اس کی باتوں پر یقین نہیں کر رہا۔ تبھی تو وہ اپنی بیٹیوں کو سیر کرانے لے جا رہا ہے اسی فکر میں وہ پوری رات نہیں سوئی۔ جیسے ہی صبح ہوئی ادھر دونوں بہنیں تیار ہو کر اپنے والد کے پاس چلی گئی۔ اور دوسری طرف ساری رات نہ سو پانے کی وجہ سے صبح صبح سوتیلی ماں کی انکھ لگ گئی۔ جس کی وجہ سے اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ اس کا شوہر اپنی۔ بیٹیوں کو لے کر کب گھر سے نکل گیا۔ ابا جان ہم دونوں تیار ہیں کھوفی کے گھر جانے کے لیے ہم امی کو بتا کر نکلتے ہیں۔ نہیں نہیں تمہاری امی سو رہی ہے۔ انہیں ابھی جگانا مناسب نہیں۔ چلو میں تمہارے لیے شہر سے کچھ کپڑے لایا تھا۔ وہ بھی ساتھ لے چلتے ہیں تم لوگ کھوفی کے گھر کچھ دن رکو گے تو کام ائیں گے۔ ٹھیک ہے۔ ہاں ابا جان یہ ٹھیک رہے گا۔ چلیے اپ بھی ہمارے ساتھ فوفی کے گھر رکیں گے نا میں بھی تم لوگوں کے ساتھ فوفی کے گھر کچھ دن رکوں گا۔ چلو اب باتیں بہت ہو گئی دیر ہو جائے گی تو ہم وہاں پہنچ نہیں پائیں گے۔ اتنا کہہ کر اکرم خان اپنی بیٹیوں کو لے کر گھر سے نکل پڑا نا جانے اکرم خان کے دل میں کیا چل رہا تھا۔ چلتے چلتے وہ لوگ گھر سے بہت دور آ گئے۔ جنگل کی راہ عائشہ نے پریشانی سے پوچھا۔ ابا جان ہم کہاں جا رہے ہیں اس طرف تو کھوفی کا گھر بھی نہیں ہے۔ ہم تو گھر سے بہت دور آ گئے ہیں مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے اخر ہم جا کہاں رہے ہیں۔ ارے پاگل جب تمہارا باپ تمہارے ساتھ ہے تو ڈرنے کی کیا بات ہے۔ تم دونوں رکو اکرم خان نے ارد گرد نظر دوڑائی۔ اور ایک کام کرو یہاں ارد گرد دیکھو یہاں بیر کی کتنی جھاڑیاں ہیں اور دیکھو بیر کتنے زیادہ لگے ہیں ان جھاڑیوں پر۔ دیکھو میری بیٹیوں میں بہت تھک گیا ہوں۔ میں یہاں بیٹھتا ہوں تم دونوں میرے لیے چن کر لے اؤ۔ جب تک میں خود نہ بلاؤں۔ تم بیر چنتی رہنا۔ ٹھیک ہے۔ صفیا نے خدشے سے کہا پر ابا جان شام ہونے کو ہے۔ اگر ہم یہاں تھوڑی دیر اور رکیں گے تو رات ہو جائے گی۔ اور ہم جنگل میں بھٹک جائیں گے۔ ارے نہیں نہیں ہم بس پہنچنے والے ہیں تھوڑا وقت اور لگے گا۔ تم دونوں چلو جا کر چن کر لاؤ۔ میں اس درخت کے نیچے بیٹھ کر تمہارا انتظار کرتا ہوں۔ جب میں تمہیں بلاؤں گا تو پاس آ جانا۔ اپنے والد کی بات مان کر دونوں بیٹیاں بیر چنتے چنتے اگے بڑھ گئی۔ صفیا کو تھوڑا شک تو ہو رہا تھا۔ مگر پھر بھی ابا جان کے کہنے پر وہ خاموش رہی اور کچھ نہیں بولی۔ ادھر دوسری طرف ان کے والد نے بیٹیوں کے جاتے ہی ہاتھ میں پکڑی ہوئی لکڑی زمین میں گاڑ دی اور اپنی ٹوپی اتار کر اسی پر رکھ دی۔ پھر وہ ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ تبھی اس کی نظر ایک بندر پر پڑی ارے ارے یہ تو بڑا زبردست طریقہ ہے۔ اب یہ بندر ہی میرا کام کرے گا۔ مگر اسے تو تھوڑا لالچ دینا پڑے گا۔ کس چیز کا لالچ دوں اسے ہاں بندر کا پسندیدہ کھانا کیلا یہی کام ائے گا۔ اکرم خان نے اپنی ٹوپی پر بندر کو بٹھایا اور اسے کیلے دیتے ہوئے خود گھر کی طرف چل دیا۔ بندر ایک کیلا کھاتا ہوا آواز لگاتا رہا۔ چنو بیٹیوں باپ کھڑا ہے۔ چنو بیٹیوں باپ کھڑا ہے۔ عائشہ نے کہا دیکھو صفیا ابا جان کی آواز آ رہی ہے۔ وہ ہمیں اور بھی بیر چننے کو کہہ رہے ہیں۔ چلو جب تک ابا جان کہہ رہے ہیں۔ ہم تب تک چنتے رہتے ہیں دونوں بہنیں کافی دیر تک بیر چنتی رہی اور ادھر بندر بھی آواز لگاتا رہا۔ جب بندر نے اخری کیلا کھا لیا تو ایک کیلا نیچے گر گیا۔ بندر یکدم خاموش ہو گیا۔ اب بیٹیوں نے دھیان دیا کہ ابا جان کی اواز آنا بند ہو گئی ہے۔ لگتا ہے وہ ہمیں واپس بلانا چاہتے ہیں۔

[12:14]چلو اب چلتے ہیں ابا جان کے پاس۔ بہت دیر ہو گئی ہے۔ ہاں بہت دیر ہو گئی ہے۔ اب تو رات ہونے کو ہے۔ چلو چلو واپس چلتے ہیں۔ دونوں بہنیں دوڑتی ہوئی اس جگہ پہنچی جہاں درخت کے نیچے ان کے والد آرام کر رہے تھے۔ وہاں جا کر انہوں نے اپنے والد کی جگہ ایک بندر کو بیٹھے دیکھا۔ بندر کو بولتے دیکھ کر وہ سارا معاملہ سمجھ گئی۔ چنو بیٹیوں باپ کھڑا ہے۔ صفیا کی آنکھوں میں آنسو ا گئے۔ عائشہ آپا اپ سچ کہتی تھی۔ ہمارے ابا جان ہمیں اتنی دور جنگل میں صرف چھوڑنے ائے تھے اور وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔ اب ہم اس جنگل میں کیا کریں گے کہاں جائیں گے عائشہ نے ہمت باندھتے ہوئے کہا۔ صفیا مجھے تو پہلے سے ہی شک تھا مگر اب رو نہیں۔ رو کر ہم اس جنگل سے تھوڑے نہ نکل سکتے ہیں۔ اب ہمیں اپنی مدد اپ کرنی ہوگی۔ چلو یہاں سے اج رات گزارنے کا کوئی ٹھکانہ ڈھونڈتے ہیں۔ کوئی شہزادہ تو اب ائے گا نہیں ہمیں محل میں لے جانے کے لیے اب چلو خود ہی کچھ ڈھونڈتے ہیں۔ دونوں بہنیں چلتے چلتے ایک جھونپڑی کے پاس پہنچی جسے دیکھ کر وہ دونوں حیران رہ گئی۔ ارے صفیا یہاں چولہا بھی ہے لگتا ہے یہاں کوئی رہتا ہے۔ اندر چل کر دیکھ لیتے ہیں کیا کہتی ہو۔ صفیا نے خوف سے کہا ارے ایسے ہی اندر جانا ٹھیک نہیں۔ ایسا نہ ہو کہ کسی دوسری مصیبت میں نہ پڑ جائیں۔ مجھے تو بہت ڈر لگ رہا ہے۔ مگر کیا سچ میں ہم اس گھنے جنگل میں ساری رات باہر گزاریں گے صفیا مجھے تو بہت ڈر لگ رہا ہے۔ چلو نا اندر چل کر دیکھ لیتے ہیں شاید رہنے کے لیے ہمیں کوئی چھوٹی سی چھت مل جائے۔ کیا پتہ ہمارے لیے کوئی راستہ بھی نکل ائے۔ اگر ہمیں رہنے کے لیے کچھ نہ ملا تو یہ جنگل کے خوفناک جانور ہمیں پھاڑ کر کھا بھی سکتے ہیں۔ صفیا نے ہمت کرتے ہوئے کہا اپ ٹھیک کہہ رہی ہے ڈر تو بہت لگ رہا ہے پر تھوڑا سا خطرہ تو اٹھانا ہی پڑے گا۔ ورنہ ہم رات بھر اسی اندھیرے جنگل میں بھٹکتے رہ جائیں گے چلو اپا ہمت کر کے چل کر دیکھ ہی لیتے ہیں۔ شاید اندر ہمیں کوئی سہارا مل جائے۔ اتنا کہہ کر دونوں بہنیں ہمت کر کے اندر چلی گئی۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے دیکھا کہ جھونپڑی کے اندر کوئی نہیں ہے۔ یہ دیکھ کر وہ خوش ہو گئی اور پھر رات جھونپڑی میں ہی گزاری اور صبح کا انتظار کرنے لگی۔ ایسے ہی وقت گزرتا گیا۔ دونوں بہنیں جنگل سے پھل کھاتی اور وہی پھل لے کر بازار جاتی۔ اور بچی ہوئی کمائی سے اپنی ضرورت کی چیزیں خرید لاتی اور رات ہوتے ہی اپنی جھونپڑی میں واپس ا جاتی۔ ان کی زندگی اسی طرح چلتی رہی اور دیکھتے ہی دیکھتے کئی سال بیت گئے۔ اب دونوں بیٹیاں جوان ہو چکی تھی اور دیکھنے میں اتنی خوبصورت تھی کہ جو بھی انہیں دیکھتا بس دیکھتا ہی رہ جاتا۔ ایک دن صفیا نے کہا اپا آج میں جنگل تھوڑا دور تک جا رہی ہوں۔ کچھ تازہ پھل لاؤں گی تاکہ بازار میں اچھی قیمت مل جائے۔ میرے انے تک اپ کھانا بنا دینا۔ ٹھیک ہے نا اپا پر صفیا مجھے بھی اج بازار جانا تھا۔ اور واپسی پر گھر کا راشن بھی لانا تھا۔ میں نے کل ہی کچھ پھل توڑ لیے تھے وہ خراب ہو جائیں گے۔ اج بازار جانا ضروری ہے۔ صفیا کی آنکھوں میں پریشانی آ گئی۔ اپا میں کبھی کبھی ایک بات سوچتی ہوں۔ میرا تو اپ کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔ جب میں گھر اتی ہوں اور اپ گھر میں نہیں ہوتی ہیں تو میں بہت ڈر جاتی ہوں۔ میں اپ کو کھونے سے بہت ڈرتی ہوں۔ عائشہ نے پیار سے کہا ارے ایسا کیوں سوچتی ہو میرا بھی تو تمہارے علاوہ کوئی نہیں۔ میں تمہیں چھوڑ کر کہاں جاؤں گی بتاؤ تو اور اگر کبھی کہیں دور جانا بھی پڑ گیا تو تمہیں بتا کر ہی جاؤں گی نا۔ واہ عائشہ نے سوچتے ہوئے مزید کہا اور اگر کبھی بتا نہ سکی اور کہیں چلی گئی۔ تو پھر ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ مگر اگر کبھی ایسا ہو گیا تو میں کوئی نشانی چھوڑ کر جاؤں گی تمہارے لیے۔ مگر نشانی کیا چھوڑوں گی؟ کچھ ایسی نشانی جو مجھے تمہارے تک۔ پہنچا سکے ایسا کچھ سوچو تو ذرا عائشہ نے کہا ویسے اس پر پھر کبھی بات کریں گے۔ ٹھیک ہے۔ ابھی مجھے بہت دیر ہو رہی ہے۔ میں جاتی ہوں بازار تم کل کے لیے پھل توڑ کر لے انا۔ ٹھیک ہے۔ اتنا کہہ کر عائشہ بازار کی طرف نکل گئی اور صفیا گھر کا کام کاج کرنے لگ گئی۔ عائشہ اتنی خوبصورت تھی کہ جب وہ بازار جاتی تو راستے میں ایک چادر سے اپنا چہرہ ڈھک لیتی۔ تاکہ اس پر کسی کی نظر نہ پڑے۔ اتفاق سے اسی ریاست کا بادشاہ بھی جنگل میں شکار کے لیے نکلا ہوا تھا۔ بادشاہ صبح سے شام تک شکار کی تلاش میں جنگل میں بھٹک رہا تھا کہ تبھی بادشاہ کی نظر ایک خرگوش پر پڑی۔ وزیر صاحب صبح سے شکار کے لیے نکلے ہوئے ہیں۔ بھوک سے تو جان نکل رہی ہے۔ یہ شکار ہاتھ سے نہیں نکلنا چاہیے۔ میں اپ کو بتا رہا ہوں۔ جی جی حضور بے فکر رہیں۔ میں اج اس خرگوش کا شکار کر کے ہی رہوں گا۔ اپ بس دیکھتے جائیں۔ اتنا کہہ کر وزیر نے تیر چلانا شروع کر دیا۔ اور پھر بہت بار کوشش کرنے کے بعد اخر ایک تیر جا کر خرگوش کو لگ ہی گیا۔ واہ وزیر صاحب واہ اپ نے تو کمال کر دیا۔ اخر اپ نے اس خرگوش کا شکار کر ہی دیا۔ اب جلدی جائیں۔ اسے اٹھا کر لے ائیں۔ اور اسے پکانے کا انتظام کریں جلد از جلد۔ میں یہیں اس درخت کے نیچے اپ کا انتظار کرتا ہوں۔ جی جی حضور جو حکم اپ کا۔ میں ابھی اسے پکانے کا انتظام کرتا ہوں۔ وزیر نے نہ بائیں دیکھی نہ دائیں۔ خرگوش کو اٹھایا اور پھر جنگل میں اگ کی تلاش میں بھٹکنے لگا۔ ارے حضور بھی نا یہاں جنگل میں اگ کہاں سے ملے گی۔ کہاں سے پکاؤں میں اس خرگوش کو۔ یہ تو ناممکن ہے۔ تبھی وزیر دیکھتا ہے کہ ایک جھونپڑی کے پاس سے دھواں نکل رہا ہے۔ ارے اتنی خوبصورت لڑکی۔ اور جنگل میں لگ رہا ہے کھانا پکا رہی ہے۔ چلو خرگوش کو بھی یہیں پکا لیتا ہوں۔ مگر یہ جنگل میں یہاں اکیلی کیا کر رہی ہے کیا یہ یہیں رہتی ہے چلو چل کر اسی سے ہی پوچھ لیتا ہوں۔ صفیا نے تیزی سے مڑ کر کہا اپ کون ہو یہاں کیا کر رہے ہو اور مجھے چپ چاپ دیکھ رہے تھے کیا۔ اگے مت بڑھنا ورنہ میں اپ کے ٹکڑے کر دوں گی۔ اور یہ تنبیہ نہیں ہے۔ یاد رکھنا دیکھیے اپ مجھے غلط سمجھ رہی ہے۔ میں یہاں اپ کو نقصان پہنچانے نہیں ایا ہوں۔ دراصل بات یہ ہے کہ میں نے ایک خرگوش کا شکار کیا ہے۔ تو اسے پکانے کے لیے مجھے اگ چاہیے تھی۔ تو اسی لیے یہاں تک آ گیا ہوں۔ اچھا ٹھیک ہے۔ اپ پکا لے اور پکا کر جلدی یہاں سے چلے جائیں۔ صفیا اتنی خوبصورت تھی کہ جب وزیر نے خرگوش کو چولہے پر چڑھایا تو اس کی توجہ صفیا کی خوبصورتی پر بھٹک گئی۔ اتنا بھٹک گئی کہ خرگوش جل کر کوئلہ ہو گیا اور وزیر کو خبر تک نہیں ہوئی۔ صفیا نے غصے سے کہا ہاں یہ تو سارا جل گیا ہے۔ اپ کی توجہ کہاں ہے اب یہ جلا ہوا خرگوش اٹھائیے اور یہیں سے جائیے۔ وزیر گھبرا گیا۔ ہائے یہ کیا ہو گیا بادشاہ سلامت تو اج مجھے مار ہی ڈالیں گے۔ دیکھیے جائیں یہاں سے اپ نے جان بوجھ کر اپنا خرگوش جلایا ہوگا تاکہ میں اپ کو کھانے کو کچھ دے سکوں اور یہاں رکنے کو کہوں۔ مگر ایسا نہیں ہوگا۔ اپ یہاں سے جائیں ورنہ میں اپنی کلہاڑی لے اؤں گی۔ یہ سب دیکھ کر وزیر بادشاہ کے ڈر سے کانپنے لگا۔ ادھر بادشاہ سلامت بھی خرگوش کا انتظار کر رہے تھے۔ بادشاہ کو بہت بھوک لگی تھی۔ وزیر صاحب اپ ایک خرگوش پکانے گئے تھے یا دس پکا کر لے ائے اتنی دیر کیوں کر دی اپ نے۔ بہت بھوک لگ رہی ہے مجھے اب دیجیے کہاں ہے خرگوش وزیر نے گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہوئے کہا۔ حضور مجھے معاف کر دیجیے حضور میری غلطی نہیں تھی۔ جانے انجانے میں ہو گیا مجھ سے ایسا وہ اتنی خوبصورت تھی کہ میں انہیں دیکھ کر دنیا ہی بھول گیا۔ کون اتنی خوبصورت تھی کس کی بات کر رہے ہو مجھے کھل کر بتاؤ اور خرگوش کہاں ہے۔ حضور وہ یہاں رہتی ہیں ایک جھونپڑی میں حضور اپ انہیں دیکھ کر خرگوش کیا سب کچھ بھول جائیں گے چلیے حضور ائیے میں اپ کو اسی کی جھونپڑی میں لے چلتا ہوں۔ اپ کو دیکھتے ہی سمجھ ا جائے گا کہ میں کیوں دنیا بھول بیٹھا تھا اچھا تو ایسی بات ہے۔ ہماری ملکہ اس پورے عالم کی سب سے خوبصورت ملکہ ہے۔ اور تم کہہ رہے ہو کہ تم نے ایک خوبصورت کنیز دیکھی جسے دیکھ کر تم سب کچھ بھول بیٹھے چلو میں بھی چل کر دیکھتا ہوں کیسی خوبصورتی دیکھ لی تم نے۔ اب بادشاہ اور وزیر دونوں اس جھونپڑی کی طرف بڑھنے لگے۔ عائشہ وہیں بیٹھی کھانا بنا رہی تھی۔ بادشاہ کی نظر جب عائشہ پر پڑی تو بادشاہ اپنے ہوش کھو بیٹھا۔ اس نے اج تک ایسی خوبصورتی نہیں دیکھی تھی تبھی وزیر نے بادشاہ سے پوچھا۔ کیوں حضور میں نے کہا تھا نا اپ سے ایسی خوبصورتی اپ نے اج تک نہیں دیکھی ہوگی۔ تو کیا تیسری ملکہ کا بندوبست کیا جائے کیا کہتے ہیں۔ نہیں نہیں وزیر صاحب اپنی ملکہ کو ایسے لے جانا ٹھیک نہیں۔ ہم اپنی خوبصورت ملکہ کو پالکی میں لے جائیں گے۔ اب چلو یہاں سے کل ہم اپنی ملکہ کو لینے پالکی میں ائیں گے۔ اس طرح بادشاہ اور وزیر دونوں وہاں سے چلے گئے۔ عائشہ کو اتنا محسوس بھی نہیں ہوا کہ کوئی اسے چپ چاپ دیکھ رہا تھا۔ اگلی صبح اگلی صبح دونوں بہنیں اپس میں بات کرنے لگی۔ عائشہ نے صفیا کو بتایا صفیا سن تو کل ایک ادمی ایا تھا ایک خرگوش اٹھائے ہوئے۔ پاگل ایسا تھا کہ اس کی اتنی توجہ بھٹکی کہ پورا خرگوش ہی جل گیا بیچارہ۔ وہی جلا ہوا خرگوش کھایا ہوگا اس نے اپا اپ بھی نا اچھا سنو اپا۔ میں اج جنگل جا رہی ہوں پھل توڑنے شام تک ا جاؤں گی۔ جھونپڑی کا دروازہ اچھے سے بند رکھنا۔ ٹھیک ہے۔ کوئی بھی ائے دروازہ مت کھولنا اتنا کہہ کر صفیا وہاں سے چلی گئی۔ صفیا کے چلے جانے کے بعد اب عائشہ گھر میں اکیلی تھی۔ تبھی عائشہ نے گھوڑوں کے قدموں کی اواز سنی۔ دیکھنے کے لیے عائشہ جھونپڑی سے باہر ا گئی۔ تب عائشہ نے جو دیکھا وہ دیکھ کر حیران رہ گئی۔ عائشہ کی بارات اس کے دروازے تک آ گئی تھی۔ یہ دیکھ کر عائشہ سب سمجھ گئی۔ تبھی وزیر اس کے پاس ایا اور بولا۔ میں راج گڑھ کے بادشاہ اسد خان کا وزیر ہوں۔ ہماری سلطنت کے بادشاہ اپ سے نکاح کرنا چاہتے ہیں۔ کیا اپ اس نکاح کو قبول کرتی ہے۔ عائشہ نے جب یہ سنا تو اسے یقین ہی نہیں ایا۔ جسے اس کے والد نے کچرہ سمجھ کر جنگل میں چھوڑ دیا تھا اسی لڑکی کا نکاح بادشاہ سے ہونے والا ہے۔ یہ سوچ کر عائشہ کی انکھیں بھر ائی اور اس نے بغیر وقت گوائے فورا ہا کر دی۔ مجھے یہ نکاح منظور ہے میں ابھی اندر سے اپنی پوٹلی لے کر اتی ہوں۔ نشانی عائشہ جھونپڑی کے اندر گئی اور پھر ہاتھ بھر کر سرسوں کے بیج اٹھا لائی۔ اور جیسے جیسے راستے سے چلتی گئی بیج گرتے گئے۔ اب عائشہ اس جھونپڑی سے جا چکی تھی۔ کچھ دیر بعد صفیا بھی وہاں آ گئی۔ مگر جب صفیا جھونپڑی میں داخل ہوئی تو وہاں کوئی نہیں تھا۔ صفیا ہر جگہ اپنی بہن کو ڈھونڈنے لگی مگر اج اس کی بہن وہاں سے جا چکی تھی۔ ارے اپا کہاں چلی گئی مجھے ڈر تھا اور وہی ہوا۔ اپا اپ کہاں ہیں مجھے چھوڑ کر کہاں چلی گئی اپا کہاں ہو تم اپا اس طرح عائشہ کو گئے ہوئے دو دن بیت گئے۔ وہ محل کی چکا چوند میں اپنی بہن کو بھول گئی تھی۔ جبکہ دو دن تک صفیا اپنی بہن کا انتظار کرتی رہی۔ رات کو بہت تیز بارش ہوئی۔ مگر جب صبح ہوئی تو منظر ہی بدل گیا تھا۔ جب صفیا صبح اٹھی تو اس نے دیکھا کہ سرسوں کے پودوں کی ایک لمبی تار بنی ہوئی ہے۔ اسے دیکھ کر وہ سمجھ گئی۔ تم میری بہن مجھے یہاں چھوڑ کر نہیں گئی۔ بلکہ میرے لیے نشانی چھوڑ گئی ہے۔ تاکہ میں ان پھولوں کی وجہ سے اپ تک پہنچ سکوں۔ اے اوپر والے مجھے میری بہن سے ملوا دے۔ اتنا کہہ کر صفیا ان پھولوں سے بنے ہوئے راستے پر چلنے لگی۔ چلتے چلتے وہ بہت دور ا گئی۔ تبھی اس نے دیکھا کہ یہی راستہ کسی بادشاہ کے محل کی طرف جا رہا ہے۔ جیسے ہی صفیا محل کے باہر پہنچی اس کا خوب استقبال کیا گیا۔ کیونکہ اج کھول اگ چکے تھے۔ انہیں دیکھ کر عائشہ پہلے ہی سمجھ چکی تھی کہ اس کی بہن اج ضرور ائے گی۔ عائشہ اپنی بہن کو دیکھ کر بہت خوش ہو گئی۔ اور پھر اپنی بہن کی شادی وزیر کے ساتھ کروا دی۔ پھر دونوں بہنیں خوشی خوشی محل میں رہنے لگی۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript