Thumbnail for Gilgit-Baltistan election | Special Transmission | 7th June 2026 Part - 2 by ARY News

Gilgit-Baltistan election | Special Transmission | 7th June 2026 Part - 2

ARY News

59m 32s9,404 words~48 min read
AI audio transcription
Transcript source

AI audio transcription

This transcript was generated from the video's audio because no usable YouTube caption track was available. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Timestamped outline
Pull quotes
[29:34]جی منسٹر صاحب میرے خیال میں ان کا رابطہ منقطع ہو گیا ہے اور ظاہر ہے کہ سیف فارم 45 47 والی جو بات پیپلز پارٹی کر رہی ہے ان سے ہم یہ اگر رابطہ دوبارہ ہمارا بحال ہوتا ہے تو پوچھیں گے ان کا
[32:25]اچھا مین وائل مین وائل ہمیں گوہر صاحب ایک دفعہ پھر سے جوائن کر چکے ہیں۔ بیریسٹر گوہر صاحب یہ سوال یہاں پر ہم اچھا چلیں کال ڈراپ ہو رہی ہے۔
Use this transcript
Related transcript hubs

[0:09]جی ایک بار پھر سے اے آر وائی نیوز کی خصوصی نشریات میں اپ سب کا خیر مقدم ہے۔ گلگت بلتستان میں انتخابات ہو چکے ہیں چوتھے اور نتائج کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ ظاہر ہے کہ اس وقت غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج ا رہے ہیں۔ ہمیں سٹوڈیوز میں خاوریگمن صاحب کے ساتھ ماریہ میمن بھی جوائن کر چکی ہیں وسیم بادامی ال ریڈی ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ لیکن کچھ نتائج بھی ظاہر ہے ا رہے ہیں۔ تو نتائج پہنچانا بہت ضروری ہے۔ تو ہمارے پاس جو پہلا نتیجہ ہے غیر سرکاری غیر حتمی وہ یہ ہے جی بی 16 دیامیر دو کے تین پولنگ سٹیشنز کا اور استحکام پاکستان پارٹی کے ایڈوکیٹ عتیق اللہ 490 ووٹ لے کر اگے ہیں۔ اور پھر اس کے اندر ازاد امیدوار ہیں امام ملک 464 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں یعنی کہ اپ دیکھیں کہ مقابلہ یہاں پر خاصا سخت ہے۔ تو یہ جی بی 16 دیامیر دو کے تین پولنگ سٹیشنز کا غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجہ ہے جو ہم اپ تک پہنچا رہے ہیں جس میں استحکام پاکستان پارٹی کے ایڈوکیٹ عتیق اللہ صاحب اگے ہیں۔ اچھا جی دوسرا نتیجہ جو ہم اپ تک پہنچا رہے ہیں غیر سرکاری غیر حتمی ظاہر ہے جی بی 22 گھانچے کا اور یہاں پر 30 پولنگ اسٹیشنز کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج ہیں۔ اپ ٹی وی سکرینز پر دیکھ سکیں گے جہاں پر نون لیگ کے ابراہیم ثنائی 6900 ووٹ لے کر اگے ہیں۔ اور پیپلز پارٹی کے عاشق حسین صاحب 4120 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔ غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجے کے مطابق یہ جی بی 22 گھانچے کے 30 پولنگ اسٹیشنز کا غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجہ ہے۔ اور اب ذرا ساتھ ہی ساتھ اپ کو بتائیں جی بی 23 گھانچے کے گھانچے دو کے 27 پولنگ اسٹیشنز کا غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجہ جس کے مطابق ازاد امیدوار انور علی 8237 ووٹ لے کر اگے ہیں۔ اور یہاں سے ازاد امیدوار حاجی عبدالحمید صاحب 1507 ووٹ لے کر پیچھے ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ بھی اپ کے سامنے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجہ ہے ٹوٹل 24 نشستیں تھیں ان کے اوپر اب نتائج ا رہے ہیں۔

[2:11]فی الحال غیر سرکاری اور غیر حتمی ہیں لیکن پھر اہستہ اہستہ فارم 45 بھی جاری کیے جائیں گے تو پھر صورتحال مزید واضح ہوتی رہے گی۔ تو یہ اپ کے سامنے اب تک کے نتائج ہیں اور اگے بھی جونہی ائیں گے تو ہم اپ تک پہنچاتے رہیں گے۔ ٹھیک ہے جی اب ذرا ماریہ تو ہمیں جوائن کر چکے ہیں لیکن وسیم سے وہاں پر پہنچ پوچھتے ہیں کہ وہ کیا صورتحال دیکھ رہے ہیں کچھ حلقوں میں ہم نے یہ دیکھا اور یہاں پر ظاہر ہے جشن منانے کے اپنے طریقے ہیں۔ تو اپ کے اس پاس جو لوگ کھڑے ہیں وہ کس انداز میں کیا ان کی رائے ہے انتخابی عمل کے حوالے سے اور اب تو تھوڑا سا کلیرٹی بھی انا شروع ہو گئی ہوگی ائی بیلیو۔ جی جی بالکل بلکہ تھوڑی دیر پہلے دراصل کچھ اواز ائی تو میں نے کہا بھائی کیا یہ فائرنگ انہوں نے کہا نہیں نہیں سر یہاں فائرنگ نہیں ہوتی یہاں پر پٹاخا وٹاخا چلا ہوگا۔ لیکن یہ کہ اپ کراچی سے ہیں ہم کراچی سے ہیں تو ہمارا ڈر الگ ہی ہوتا ہے وہ ایسے ہی ایسے ہی ہم ہم ہمارے ٹراما ذرا الگ ہیں۔ تو لیکن یہ کہ یہاں پر بالکل وہ ماحول جس طرح ہر الیکشن میں ہوتا ہے۔ اپ کو بھی نظر اتا ہے الیکشن میں اس اوقات میں یہی ہو رہا ہوتا ہے کہ الگ الگ پارٹیز کے لوگ ایک ہی حلقے پر دعوی کر رہے ہوتے ہیں او جی وہ ہو گیا کام او سر جی جیت گئے او کمال ہو گیا چھا گئے حالانکہ ظاہر ہے وہ کچھ حلقوں کی تشکیل اس طرح بھی ہوتی ہے کہ مثال کے طور پر اگر 200 پولنگ اسٹیشنز ہیں تو اس میں سے 40 کا نتیجہ اگیا ہے تو ہو سکتا ہے کہ اخری کے جو 30 ہوں اس میں بھی نتیجہ بدل جائے۔ چونکہ وہ تیسری ایسے علاقے سے ائیں جہاں پر ایک مخصوص پارٹی کا پلڑا بھاری ہو۔ تو ابھی جب میں اپ سے بات کر رہا ہوں تب یہ ماحول چل رہا ہے ٹولیوں کی شکل میں لوگ اتے ہیں نعرے بلند کرتے ہیں چلے جاتے ہیں۔ او سر جی ہمارا والا جیت گیا ہے میں اپ کو پکی بات بتا رہا ہوں جیت گیا ہے وہ۔ لیکن یہ میں اپ سے ضرور عرض کروں یہاں کے انتخابی نتائج کی ہسٹری دیکھ کر ہم یہ دیکھ سکتے ہیں کہ اگر کوئی بندہ ہم حتمی نہیں کہہ رہے لیکن اندازا سات اٹھ ہزار ووٹ تک پہنچ گیا ہے چونکہ اپ نے ابھی کچھ اناؤنس کیے۔ اور اس کی لیڈ اچھی ہے۔ وی ہیو انف ریزنس ٹو بیلیو کہ یہ بندے کے جیتنے کے چانسز بہت ہیں۔ اس لیے کہ یہاں تو 1919 سو ووٹ پہ بھی بندہ بندہ جیتتا ہے 10 ہزار ووٹ تو بہت ہوتا ہے۔ ظاہر ہے ٹوٹل ابادی 23 لاکھ ٹوٹل ووٹر 10 لاکھ ساڑھے نو لاکھ۔ تو اگر کوئی سات اٹھ ہزار پہ پہنچ گیا اور ڈھائی ہزار کی لیڈ سے پہنچ گیا ہے تو یہ والا بندہ بہت تگڑا ہے اس کا مطلب یہ ماضی کے نتائج ہی بتاتے ہیں۔ ہاں ہاں اچھا ماریہ اپ کی انڈرسٹینڈنگ ظاہر ہے یہ انتخابات چوتھے ہو رہے ہیں وہاں پر اور جس طریقے سے ہم نے وہ دیکھا اور یہی ایک فیکٹر ہم ڈسکس کرتے رہے کہ اس دفعہ کیا کچھ مختلف ہوگا کیا کوئی سرپرائز ہوگا یا ازاد امیدوار کچھ کر پائیں گے یا شخصی بنیاد پر زیادہ ووٹ پڑیں گے اور اگر ووٹ پڑیں گے تو کیا وفاق سے کچھ حاصل کر پائیں گے اپ کی انڈرسٹینڈنگ کیا ہے دیکھیں 2020 میں جو یہ الیکشنز تھے وہ کور کرنے کے لیے میں خود گلگت بلتستان گئی اور اسکردو اور پورے علاقے میں مجھے مختلف حلقوں میں جانے کا تب اتفاق بھی ہوا۔ ان جو تقاریر میں سن رہی تھی کیمپیننگ میں وہ لگ رہا تھا کہ ہو بہو وہی الفاظ ہیں جو 2020 کے اندر یہ امیدوار ادا کر رہے تھے کہ حقوق دلائیں گے اپ کے جو لیجسلیٹو مسائل ہیں ان کو ٹھیک کریں گے بجلی کے مسائل ٹھیک کریں گے چھ سال ہو گئے یہی تو دو تین پارٹیز ہیں نا جو گھما پھرا کے جو اس اقتدار کی سٹیک ہولڈر ہیں۔ پی ٹی ائی ہے پیپلز پارٹی ہے پی ایم ایل این ہے۔ پیپلز پارٹی کی 2020 کی تقاریر نکالیں اور 2026 کی تقاریر نکالیں۔ چند الفاظ کے ہیر پھیر کے علاوہ مجھے کوئی اس میں کوئی واضح ڈفرنس محسوس نہیں ہوا۔ سیم وے پی ایم ایل این پی ایم ایل این میں میاں صاحب ا کر جو بات کر رہے تھے کہ دیکھیں سڑکیں نہیں ہیں بجلی نہیں ہے۔ یہ کوئی راتوں رات تو انکشاف نہیں ہوا وہاں پر ان کی قیادت موجود ہے وہاں پہ ان کے ریپریزنٹیٹوز موجود ہیں۔ میں خود گلگت بلتستان بہت فریکونٹلی جاتی ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ وہاں تو 2020 گھنٹے بجلی نہیں اتی۔ جو ان کے ٹورسٹ سپاٹس ہیں وہاں پر جنریٹر کے اوپر پورے کے پورے بزنسز چل رہے ہیں۔ میرے کچھ ایسے جاننے والے ہیں دوست ہیں جو وہاں پہ ٹورزم کی انڈسٹری سے منسلک ہے تو وہ جنریٹر کے اوپر ہی ان کا پورا ٹورزم گزرتا ہے اور وہ 2020 گھنٹے اس علاقے میں بند بجلی نہیں اتی ہے۔ اور اب ا کے اگر یہ تمام مین سٹریم قیادت کہے کہ جی ہمیں احساس ہوا کہ اپ کے تو بڑے مسائل ہیں۔ یہ صرف ووٹ لینے کے لیے ا کر یہ بڑی خوبصورت باتیں کرتے ہیں۔ دوسری جو میں دیکھ رہی تھی کہ پلے اؤٹ کر رہی ہے پی ایم ایل این اور پیپلز پارٹی کی جو جو فیڈرل میں سیاست ہے نا اس وقت ایک اپ دیکھ رہے ہیں نا بیک ڈراپ میں ایک ٹینشن چل رہی ہے ایک ترمیم انی ہے ایک بجٹ انا ہے نیگوشیشن ہو رہی ہے پیپلز پارٹی اپنے جو صوبے کے اوپر اپنا حق ہے اس کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اوپر ہمیشہ ان کا پی ایم ایل این سے نظر ذاتی اختلاف رہا ہے۔ اس کو سیٹل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو مجھے وہاں کے لوکل مسائل کا ذکر ہوا لیکن جو فیڈرل لیول پہ پی ایم ایل این پیپلز پارٹی کی ٹینشن ہے نا وہ ان کے بیانات کے اندر مجھے زیادہ نظر ا رہی ہے۔

[7:12]یہ جتنے بھی اس وقت اپ دیکھیں حلقے اس میں جو لوکلائزڈ ایشو کے اوپر سیاست ہوتی ہے اگر اپ ایک ہی حلقے میں ایک جگہ سے دوسرے کا ٹران چلے جائیں تو ادھر بھی بڑی لوکل اور بہت ہی بیسک مسائل ہیں جن کے اوپر ہو رہی ہے۔ جو سارا ایشو ہے وہ ہے الیکشن سے پہلے کس جماعت نے کس کینڈیڈیٹ کو ٹکٹ دینا ہے وہ جس جماعت نے مینج کر لیا ہے۔ اس کی جو پولیٹیکل اس کی پولیٹیکل سٹریٹیجی کامیاب ہوگی پی ٹی ائی میں نظر اتی ہے تتر بتر ہے جی ان کی اپنی جو وفاق کے اندر سیاست ہے ان کی پنجاب میں سیاست ہے کے پی کے اندر سیاست ہے وہاں کوئی یگانگت نہیں ہے وہی ہمیں نظر ا رہی ہے اس وقت جی بی کے اندر بھی کہ جو کینڈیڈیٹس کی سلیکشن کرنی ہے۔ کون ہوگا کون تگڑا کینڈیڈیٹ ہے خان صاحب سے ان کا رابطہ ہو نہیں پا رہا جو جماعت ہے اپ دیکھ رہے ہیں کہ ان کی اس وقت پولیٹیکلی اپس میں تو وہ ہمیں ان کی سیاست میں نظر ا رہا ہے۔ تو لوگوں نے اپنی ایک ایک ایک سیاست ایک پریگمیٹک سیاست بھی تو کرنی ہے نا۔ سو ائیڈیلسٹ تو دنیا میں تو نہیں رہتے وہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ اس وقت جو طاقت ہے اس کا ممنبا کون ہے تو انہوں نے اگر اپنے لوکل لیول پہ مسائل سولو کرنے ہیں تو وہ گریویٹیٹ کریں گے جی انہی جماعتوں کی طرف۔ خصوصا وہ ازاد ہیں جو اپنا وزن کسی بھی پلڑے میں تو لوگوں نے اپنی ایک ایک ایک سیاست ایک پریگمیٹک سیاست بھی تو کرنی ہے نا۔

[9:02]سو یہ کہنا بڑا اسان ہے کہ جی یہ جماعتوں کے اپنے بیانیے کے اوپر نہیں بہت مختلف سیاست ہے وہاں کی۔ جو وہاں پہ جا کے اپ فرسٹ ہینڈ دیکھتے ہیں لوگوں سے بات کرتے ہیں وہ بالکل کٹ اف ہے اپ کی جو سیاسی ہے۔ ٹھیک ہے ہمیں ظاہر ہے کہ میرے لیے جہاں پر یہ بات اتنی حیران کن تھی کہ میاں صاحب اتنے عرصے بعد وہاں پر جا کے وہی بات کر رہے ہیں اور خاص طور پر بھلا دیا اور مجھے کیوں نکالا دیس نکالا۔ وہی میرے لیے یہ بات بھی بڑی حیران کن تھی کہ بلاول بھٹو زرداری صاحب وہاں پر جا کر زرداری صاحب کی جیل قید اور قید کا تذکرہ کر رہے ہیں حالانکہ اس کے بعد وہ دو دفعہ صدر پاکستان بن چکے ہیں۔ تو خیر میاں جاوید لطیف صاحب ہمیں مین وائل جوائن کر رہے ہیں نون لیگ کے رہنما ہیں ان سے ذرا بات کرتے ہیں۔

[9:56]جاوید لطیف صاحب تھینک یو سو مچ فار یور ٹائم یہ ذرا فرمائیے گا کہ کافی جس طرح سے ماریہ بھی ابھی تذکرہ کر رہی تھیں کہ مریم صاحبہ وہاں پر نہیں جا سکیں میاں نواز شریف صاحب گئے لیکن مختصر ان کا دورہ تھا وہاں پہ۔ شہباز شریف صاحب نہیں جا سکے حمزہ صاحب گئے نہیں تو اس چیز کا باوجود اس کے کہ مرکز میں اپ کی حکومت ہے کیا اپ لوگوں کی جو کیمپین تھی اور اس کے بعد جو ووٹنگ ہوئی اس پر کچھ اثر پڑتا دکھائی دے رہا ہے اپ کو اس کا۔ شکریہ میں جو ابھی ماریہ بات کر رہی تھی نا میں اس سے کافی حد تک ان کی گفتگو سے اتفاق کرتا ہوں کہ میرا خیال ہے شاید اپ نے بھی یہ بات کہی کہ یہ چوتھا الیکشن ہے۔ وہاں اور ماریہ ایک دو الیکشن وہاں انہوں نے دیکھے بھی اور اس کو کور کیا بات یہ ہے کہ یہ الیکشن ان الیکشنوں سے بہت مختلف الیکشن ہوگا۔ اور ہے۔ اس کی دو ریزن ہیں۔ پہلی ریزن تو یہ ہے کہ اپ دیکھتے ہیں کہ مرکز میں جس کی حکومت ہوتی ہے۔ اس کا جو ہے گلگت میں یا ازاد کشمیر کے انتخابات میں بڑا اثر ہوتا ہے اور نارملی یہی ہوتا ہے کہ جس کی مرکز میں حکومت ہوتی ہے اسی کی ان جگہوں پہ حکومت بنتی ہے۔ ماضی میں ایسا ہوتا ہے۔ لیکن اس دفعہ کیوں مختلف ہے اس دفعہ اس لیے مختلف ہے کہ اتحادی جماعتیں جو حکومت کی ہیں۔ وہ بھی وہاں الیکشن لڑ رہی ہیں اور یہ چانس کم ہے یا یہ شکوہ کم ہو جائے گا کہ ہمارے ساتھ دھاندلی ہوئی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مسلم لیگ نون نے جو جب وہاں حکومت بنائی اور اس کے بعد فیض حمید صاحب کا فیض عام ہوا تو بہت سے ہمارے لوگ جو الیکٹیبل تھے ان کو ٹریپ کر لیا گیا یا ان کو وفاداریاں چینج کرنے پہ مجبور کر لیا گیا۔ اس دفعہ مسلم لیگ نون نے جو ٹکٹ دیے ہیں وہاں الیکٹیبل کی بجائے انہوں نے اپنے ورکر کو ترجیح دی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہاں الیکٹیبل کا اپنا ایک رول ہے۔ اور جس طرح اپ نے ائی پی پی کا ذکر کیا استحکام جماعت کا حالانکہ استحکام جماعت کا کوئی کونسلر کھڑا کر لیں پورے پنجاب میں تو شاید وہ کامیاب نہ ہو سکے وہاں لیکن وہ مقابلے میں اپ کو نظر ا رہے ہیں۔ کچھ جگہوں پہ وہ اسی وجہ سے کہ انہوں نے الیکٹیبل جو مسلم لیگ نون نے نہیں لیے وہ الیکٹیبل انہوں نے لیے اور وہ وہاں اپنا رنگ دکھا بھی رہے ہیں۔ وہ استحکام جماعت کا ووٹ نہیں ہے بلکہ وہ الیکٹیبل کا ووٹ ہے جو نظر ا رہا ہے۔ اب جو بات وہاں خاص طور پہ جو ماریہ نے بات کی کہ جو چھ سال پہلے وہاں ذکر تھا انتخابی کیمپین وہی اج رنگ نظر اتا ہے یا وہی تقریروں میں چیزیں نظر اتے ہیں۔ یہ تو ایک حقیقت ہے کہ جو جب کبھی جہاں کہیں بھی الیکشن ہوتے ہیں تو وہاں کے مسائل کا ذکر کیا جاتا ہے۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ پاکستان میں جو انتخابات ہوتے ہیں یا ازاد کشمیر کے انتخابات میں ماضی میں ایسے ہی ہوتا ہے اور گلگت میں جو پچھلے انتخابات تھے میں بھی گیا تھا وہاں الیکشن کیمپین میں تو ہم ایک بیانیے کی یا ایک سوچ فکر ایک نظریے کی بھی بات کرتے تھے۔ اس دفعہ اپ کو وہ چیز نہیں ملی جو اپ نے ذکر کیا کہ نواز شریف صاحب وہاں گئے اور انہوں نے پھر وہی بات کی کہ مجھے کیوں نکالا یہ بات ہمیں بار بار اس لیے کرنا پڑتی ہے اور لوگ سنتے ہیں۔

[14:10]لوگ اس سے فکرمند ہیں کہ بھئی اپ جب ایک منتخب وزیراعظم کو سرف کرنے والے وزیراعظم کو ریاست کے لیے ایک دفاع کو استحکام دینے والے کو یا معیشت کو استحکام دینے والے کو بغیر کسی وجہ کے نکال دیتے ہیں تو پھر ریاست سفر کرتی ہے جس طرح گلگت بلتستان میں اج نواز شریف بات کرتے ہیں کہ وہ اسی طرح ٹوٹی سڑکیں ہیں یا ماریہ ذکر کر رہی ہیں کہ اس طرح جنریٹر کے سہارے ٹورسٹ جو جاتے ہیں وہ دیکھتے ہیں تو یہ مسائل اگر بار بار حکومتیں ختم نہ کی جائیں ووٹ نہ احترام کیا جائے تو میرا خیال ہے یہ مسائل کم ہو سکتے ہیں۔ ٹھیک ہے۔ تھینک یو سو مچ جی ا میاں جاوید لطیف صاحب فار یور ٹائم خا اور گمن صاحب یہ بات جو کر رہے تھے اور خاص طور پر ماریہ نے جو بات کی یہ لوگ یہ چیز یاد رکھتے ہیں اور خاص طور پر ان خطوں کے جہاں پر ٹرن اؤٹ اپ نے دیکھا کہ پورے پاکستان کی نسبت کمپیریٹولی زیادہ رہتا ہے۔ لیکن وہ ریفلیکٹ اپ کو لگتا ہے کہ ہو پائے گا اس بار الیکشنز میں کیونکہ اچھا ایک تو جو چھوٹا سا اختلاف ماریہ کے ساتھ وہ پاکستان تحریک انصاف بیچاری تو بیچاری ہے نا کیونکہ ان کے پاس کوئی نشان نہیں ہے کوئی ان کے پاس پارٹی قانونی طور پر ائینی طور پر ان کا نام کہیں پہ ہے کوئی نہیں ہے۔ تو وہ واقعی تتر بتر ہیں وہ کوشش کی انہوں نے ان کو نشان نہیں ملا۔ جو میں میرے لیے ایک جو ایک پوائنٹ اف انٹرسٹ ہے جو میں اس پہ وسیم بادامی صاحب کا بھی تجزیہ جاننا چاہوں گا وہ یہ ہے۔ کہ 2009 میں جب پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت وہاں پہ بنی تھی تو انہوں نے ایک لوکل گورنمنٹ جو ہے امپاورمنٹ ایک ارڈر ارڈر نکالا تھا۔ اس کے بعد وہ کچھ چلتا رہا اس کے اوپر کچھ عمل درامد ہوا۔ پھر 2018 کے اندر پاکستان مسلم لیگ نون کی حکومت بنی تو وہ ایک ارڈر لے کے ائے اس نے اس کے اندر انہوں نے مزید کچھ تبدیلیاں کیں۔ پھر مجھے اچھی طرح یاد ہے 2019 میں سرتاج عزیز کی ایک سپیشل کمیٹی بنی تھی ان کی طرف سے یہ وہاں پہ ریکمینڈ کیا گیا تھا کہ جو ایک کانسٹیٹیشنل سٹیٹس ہے جی بی کا اس کو بہتر کیا جائے ان کا جو ان کی جو ڈیمانڈ ہے شروع دن سے ان کو پاکستان کا ایک پانچواں صوبہ بنایا جائے۔ تو وسیم مجھے یہ بتائیے گا اس ایشو کے اوپر میں نے دیکھا ہے کہ اس کیمپین کے دوران کسی پولیٹیکل پارٹی کے بڑے لیڈر نے کوئی بات نہیں کی کہ اگر ہم الیکشن جیت گئے تو ہم اپ کو یہ پروونشل اٹونومی دیں گے اپ کا جو ایک ائینی حق اپ کا شروع سے شروع دن سے ڈیمانڈ ہے اس کے اوپر کام کریں گے اور اپ کو پاکستان کے ائین کے تابع لے کے ائیں گے اور وہی سارے حقوق جو پاکستان کے باقی پاکستانیوں کو وہ اویلیبل ہیں۔ وہ اپ کو بھی ملیں گے کیا وجہ ہے کہ بات نہیں ہوئی اس دفعہ مطلب لوگ لوگ ان کی ڈیمانڈ یا خواہش ختم ہو گئی ہے وہ نہیں چاہ رہے کہ ہمیں علیحدہ ایک صوبے کا اختیار ملے یا پھر وہ وفاق کا حصہ رہنا چاہتے ہیں موجودہ سٹیٹس کو کوئی ہی قائم رکھنا چاہتے ہیں وسیم جی اچھا فار بھائی ایک دو خالی میں کوئیکلی 30 سیکنڈ لیتے ہوئے بتا دوں کہ ایک نتیجہ جو اپ لوگوں نے اناؤنس کیا ہے جس کے تفصیلات میرے پاس بھی اس کی بنیاد پر ماخذ کر سکتے ہیں کہ مہدی شاہ صاحب کے بیٹے اگین جو بھی بتا رہے ہیں ظاہر ہے غیر سرکاری غیر حتمی ہے بٹ اگین انف ریزنس ٹو بیلیو کہ یہ نتیجہ فائنل بھی یہی ہوگا۔ جہاں میں کھڑا ہوں نا یہ بہت چھوٹا حلقہ ہے 31 پولنگ سٹیشنز ہیں اس میں سے 24 کا نتیجہ اگیا ہے اور یہ امپورٹنٹ پولنگ یہ امپورٹنٹ حلقہ ہے چونکہ پیپلز پارٹی کے مہدی شاہ صاحب کے بیٹے توقیر شاہ صاحب یہاں سے لڑ رہے ہیں ہو نوز کہ وہ کل کو وزارت اعلی کے امیدوار ہوں۔ وہ ایک بات کی بات ہے 31 میں سے 24 کا نتیجہ اگیا ہے اور توقیر شاہ صاحب کے 3050 ووٹ ہیں۔ دوسرے نمبر والے راجہ جلال صاحب استحکام پارٹی کے ان کے 1930 ووٹ ہیں تو یہ اپ سمجھ لیجئے کہ یہ حلقہ پیپلز پارٹی وسیم تھوڑا سا اس کا اپڈیٹڈ ورژن میں اپ کو دینا چاہوں کہ یہ بیسکلی جی بی سیون اسکردو ون کے 30 پولنگ سٹیشنز کا نتیجہ سامنے اگیا ہے۔

[18:49]یہ ظاہر ہے غیر سرکاری غیر حتمی ہے جیسے کہ وسیم بھی فرما رہے ہیں۔ تو پیپلز پارٹی کے توقیر مہدی شاہ جو کہ مہدی شاہ صاحب کے صاحبزادے ہیں ان کے 4295 ووٹ ہیں یعنی کہ 4295 ووٹ کے ساتھ وہ پہلے نمبر پہ ہیں۔ ائی پی پی کے راجہ جلال صاحب ہیں 3845 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔ اور نون لیگ کے حاجی اکبر تابان 2664 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر ہے۔ غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ ہے لیکن اپ یہ دیکھیں کہ ووٹوں کا ڈفرنس کافی کمپیریٹولی کم ہے لیکن اس وقت جو لیڈ ہے وہ 30 پولنگ سٹیشنز پر اب ایک پولنگ سٹیشن رہ گیا ہے۔ تو یہ توقیر مہدی شاہ 4295 ووٹ لے کر اس میں پہلے نمبر پر ہیں۔ جی وسیم اپ ان کو کامیابی سمجھیں اور یہ اچھی سیٹ پیپلز پارٹی نے اس لیے نکالی ہے کہ راجہ جلال صاحب ائی پی پی کے ان کچھ امیدواروں میں سے تھے جن کے بارے میں کہا جا رہا تھا یار تگڑا کینڈیڈیٹ ہے۔ یہ والی سیٹ نکال سکتا ہے ائی پی پی بندے کی بنیاد پہ پرسنلٹی کی بنیاد پہ تو یہ نہیں ہوا ہے کیونکہ پیپلز پارٹی نے ایک اچھی سیٹ یہ نکالی ہے۔ اب جو خاور صاحب جو بات کر رہے تھے ایک تو یہ بات ٹھیک ہے خاور بھائی کہ وہ تھوڑا بہت بلاول صاحب نے کہا کہ اپ اپ ووٹ دیں تاکہ میں اسلام اباد جا کے بات کروں پانچواں صوبہ بناؤں حق حاکمیت بھی دلاؤں یہ بھی کروں وہ کروں۔ لیکن مجھے لگتا ہے دو وجوہات کی بنا پر یہ موضوع لوکل الیکشنز کا اس انداز سے زیر بحث ہی نہیں ایا۔ ایک تو اگین مسائل اتنے بڑے بڑے ہیں۔ جس طرح ہم بات کر رہے ہیں کہ روڈ سٹرکچر نہیں ہے۔ بجلی مطلب ہم وہاں تو محاورتا کہتے ہیں یہاں جو محاورہ ہے وہ اصل میں سچ ثابت ہو جاتا ہے کہ بجلی اتی کم ہے۔ جاتی زیادہ ہے ہم وہاں مذاق میں بات کرتے ہیں۔ یہاں واقعی اتی کم ہے جاتی زیادہ ہے وہاں اج بھی میرے لوگوں سے بات ہوئی تو وہ کہتے ہیں کہ اتنا تو ہو کہ چار گھنٹے تو ا جائیں جن میں پانچ گھنٹے تو ا جائیں۔ تو وہ ایک الگ طرح بھی لوگوں کی وجوہات رہتی ہیں اور مجھے یہ بھی لگتا ہے کہ شاید اگرچہ ہمارا ماننا یہی ہے ظاہر ہے کہ جو اصل نظام ہے ڈیموکریسی ہوتا ہے اس میں تو لوکل گورنمنٹ یا سر امپاورڈ گورنمنٹ ہوتی ہے لیکن ہم جانتے ہیں پاکستان میں کس طریقے سے سارے معاملات ہوتے ہیں۔ تو شاید چونکہ یہ اسمبلی اٹ سیلف ہی ایک حد تک ہی اس سب کے بعد بھی ایک حد تک ہی قابل اختیار بنی ہے ابھی بھی وزیراعظم کے ایک قلم کی مار ہے اس کے بہت سارے اختیار۔ تو شاید وہاں یہ تاثر یہ بھی ہو کہ یہاں تو لوکل گورنمنٹ کیا ہی اب کر لے گی۔ چلیں ٹھیک ہے۔ یہاں پر ہمیں ایک بریک لیں گے بریک کے بعد حاضر ہوں گے اسٹے ود اس

[22:07]بریک کے بعد خصوصی نشریات میں ایک بار پھر سے خیر مقدم اور یہاں پر ہم اپ کو کچھ نتائج ہم تک مزید موصول ہوئے ہیں۔ غیر سرکاری غیر حتمی اپ تک پہنچا رہے ہیں سب سے پہلا جو نتیجہ ہے وہ جی بی 22 گھانچے کا جہاں پر 30 پولنگ اسٹیشنز کا غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ اپ اپنی سکرینز پر ابھی دیکھ پائیں گے جہاں سے نون لیگ کے ابراہیم ثنائی 6900 ووٹ لے کر اگے ہیں۔ اور یہاں پر پیپلز پارٹی کے عاشق حسین صاحب 4120 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں اور ابراہیم ثنائی صاحب جن کا تعلق نون لیگ سے ہے یہ اس وقت اگے ہیں یہاں پر۔ اس کے ساتھ ہی دوسرا نتیجہ جو ہم اپ تک پہنچا رہے ہیں وہ ہے جناب جی بی 23 گھانچے دو کے 27 پولنگ سٹیشنز کا غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجہ اور یہاں پر جی ازاد امیدوار انور علی 8237 ووٹ لے کر اگے ہیں اور یہاں سے دوسرے ازاد امیدوار حاجی عبدالحمید صاحب 1507 ووٹ لے کر پیچھے ہیں۔ یعنی کہ اپ انڈرسٹینڈ کر سکتے ہیں کہ جو یہاں پر ووٹوں کا ڈفرنس ہے تو لگتا یہی ہے کہ یہاں سے ممکنہ طور پر انور علی کامیاب ہو جائیں گے لیکن ابھی باقی رزلٹس انا باقی ہیں۔ تیسرا نتیجہ جو ہمارے پاس ہے وہ ہے جی بی سات اسکردو ون اور یہاں کا جو نتیجہ ہے وہ ظاہر ہے کہ جی بی سات اسکردو ون کا اس میں سے 31 میں سے 24 پولنگ اسٹیشنز کا غیر سرکاری اور غیر حتمی نتیجہ ہمارے پاس موجود ہے۔ اور یہاں پر اپ دیکھ لیں بلکہ یہاں سے جو 30 پولنگ اسٹیشنز کا نتیجہ ہے اس کے مطابق 4295 ووٹ لے کر توقیر مہدی شاہ صاحب سرفہرست ہیں بلکہ اور استحکام پاکستان پارٹی کے راجہ جلال صاحب جو ہیں یہاں پر دوسرے نمبر پر ہیں۔ تو یہاں پر جو سبقت نظر ا رہی ہے یہاں پر سید توقیر مہدی صاحب کو اور سید مہدی شاہ صاحب اس وقت گورنر ہیں اور اس سے پہلے اپ کو یاد ہے کہ 2009 کے پہلے جو الیکشنز ہوئے تھے اس کے اندر وہ وزیراعلی منتخب ہوئے تھے۔ اچھا یہ بات اپنی جگہ اس کے ساتھ ساتھ ایک جو ظاہر ہے کہ ایک بیان یہاں پر اپ سے شیئر کر لیں جو کہ پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ندیم افضل چن صاحب کا ہے۔ وہ یہ فرماتے ہیں کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان کے انتخابات میں انجینئرنگ سے باز ائے۔ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے گلگت بلتستان کے عوام کا مینڈیٹ چرایا نہیں جا سکتا۔ یہ وہ فرماتے ہیں اگے لکھتے ہیں کہ اس وقت دو وفاقی وزرا گلگت بلتستان میں موجود ہیں جو سرکاری مشینری اور انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر انتخابی نتائج کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی کہتے ہیں کہ اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ پریزائیڈنگ افسرز کو فارم 45 جاری نہ کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔ جو انتخاب کی شفافیت پر سنگین سوالیہ نشان ہے حالانکہ اس حوالے سے ابھی الیکشن کمیشن کا وہاں پر گلگت بلتستان میں بیان بھی سامنے ایا ہے کہ فارم 45 دے دیا جائے لیکن ندیم افضل چن صاحب یہ فرماتے ہیں۔

[25:32]پھر دو وفاقی وزرا امیر مقام اور علیم خان کی گلگت بلتستان میں موجودگی اور ان کی سرگرمیاں غیر جانبدار انتخابات کے تقاضوں کے منافی ہیں اور کہتے ہیں کہ عوامی رائے کو تسلیم کرنے کی بجائے نتائج کو انتظامی دباؤ اور سرکاری اثر و رسوخ کے ذریعے تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی کہتے ہیں کہ اگر فارم 45 روکے گئے یا نتائج میں کسی قسم کی رد و بدل کی گئی تو یہ صرف گلگت بلتستان کے عوام کے مینڈیٹ پر حملہ نہیں ہوگا بلکہ پورے انتخابی نظام کی ساخ کو نقصان پہنچے گا۔ اور اگے کہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن سے ان کا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے پریزائیڈنگ افسرز کو تحفظ فراہم فارم 45 کی بروقت فراہمی یقینی بنائے اور انتخابی عمل میں مداخلت کرنے والے تمام عناصر کے خلاف بلا امتیاز کاروائی کرے۔ تو یہ جناب ان کا ایک سٹیٹمنٹ تھا ان بھائی نہیں ایک کمنٹ کر دوں جی جی بیریسٹر غور صاحب ہمیں جوائن کر رہے ہیں تو ذرا ان سے جان لیتے ہیں۔ بیریسٹر غور صاحب تھینک یو سو مچ فار یور ٹائم اپ وہاں پر رہے اور ظاہر ہے کہ اس وقت انتخابی عمل مکمل ہو چکا ہے اب اس حد تک رہ گیا ہے کہ نتائج ابھی غیر سرکاری غیر حتمی ا رہے ہیں۔ تو باحیثیت مجموعی اپ کی جماعت کسی نام سے تو موجود نہیں تھی لیکن کیا صورتحال رہی اپ مطمئن ہیں جو ابھی جو پروسیس ہوا اس سے دیکھیں تھینک یو اور دیکھو الیکشن پروسیس جو ہے وہ صرف ووٹنگ والے دن وہ لوگوں کا الیکشن ووٹ کاسٹ کرنا والے دن تک ختم نہیں ہوتا۔ الیکشن قانونی طور پر جب الیکشن پرفارمنس ایشو ہو جاتا ہے اس وقت سے لے کر جب تک ریٹرن کینڈیڈیٹ کا نوٹیفیکیشن نہیں نہیں ایشو ہوتا یہ سارا جو پروسیس ہے یہ سب کہلاتا ہے کہ الیکشن پروسیس ہے اور اس کے ہر ہر اس میں اپ نے ہر پولیٹیکل پارٹی کو ہر ورکر کو اور ہر کنٹیسٹنگ کینڈیڈیٹ کو یکسام موقع پرووائڈ کرنا ہوتا ہے۔ اپ نے ہمیں کچھ نہیں دیا یہ انٹائر پہلے دن سے غلط ہوا تھا۔ ہمارے کینڈیڈیٹ جو ہے وہ تھرڈ ٹائر کینڈیڈیٹ الیکشن پروسیس کر سکت فرسٹ اور سیکنڈ ٹائر کی کینڈیڈیٹ ہی الیکشن میں پارٹیسیپیٹ نہیں کر سکتے پھر اپ نے ہمارے الاٹ شدہ جو نشانات تھے وہ واپس لے لیے اس سے پہلے دن ہمارا نقصان ہوا کہ ہم 14 24 حلقوں پہ الیکشن لڑ رہے تھے 24واں سیٹ ہم نے وومن کو دیا تھا کیونکہ 5 پرسنٹ میں سے ایک وومن کو دینا ہوتا ہے وہ سیٹ ہماری چلی گئی پھر اپ نے ہمارا گانچے میں ایک سیٹ جی بی تھری تھا اس میں ہمارا ایک سیٹ الیکشن میں وہاں سے کینڈیڈیٹ کو بٹھوا دیا پھر اپ نے ہمارے 28 پارلیمنٹیرین کے نام ہم نے سلیکٹ کر دیے تھے ان میں سے صرف دو جا سکے باقی بیچارے نہیں جا سکے دو کو جو جا چکے تھے ان کو اپ نے وہاں سے واپس بھیج دیا اس سارے پروسیس کو صرف گورنمنٹل پارٹیز اکٹھی جو تھیں گورنمنٹ میں شامل پارٹیاں کو پارٹیسیپیٹ کر رہی تھی اس وقت پاکستان کے 175 پولیٹیکل پارٹیز میں سے جی بیریسٹر صاحب

[29:34]جی منسٹر صاحب میرے خیال میں ان کا رابطہ منقطع ہو گیا ہے اور ظاہر ہے کہ سیف فارم 45 47 والی جو بات پیپلز پارٹی کر رہی ہے ان سے ہم یہ اگر رابطہ دوبارہ ہمارا بحال ہوتا ہے تو پوچھیں گے ان کا

[29:55]ان کا کیا سٹیٹس ہے پیپلز پارٹی تو کہہ رہی ہے کہ ہمیں 45 47 بیریسٹر صاحب کو دوبارہ لائن اپ کرنے کی کوشش کریں چلیں ٹھیک ہے جو چن صاحب کا بیان ایا ہے نا میں اس طرح کے بیانات بلاول بھٹو زرداری صاحب کی زبان سے سننا چاہوں گا میں پارٹی کی جو میں بھی کسی موقع کے اوپر اگر اصف زرداری صاحب یا ان کے کوئی نمائندے جو بیان کرتے اچھا جی یہاں پر میں ذرا اپ کو روکنا چاہوں گا گلگت بلتستان انتخابات کا جی پہلا مکمل غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ ار وائی نیوز پر ابھی اپ دیکھ سکیں گے جی بی سیون اسکردو ون کے تمام 31 پولنگ سٹیشنز کا غیر سرکاری غیر حتمی نتیجہ یہ وہی حلقہ ہے جہاں پر سابق وزیراعلی گلگت بلتستان مہدی شاہ صاحب جو گورنر بھی ہیں ان کے صاحبزادے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں یہیں پر وسیم بادامی صاحب بھی موجود تھے اور یہاں کے حوالے سے بتا رہے تھے کہ یہاں پر کیا صورتحال ہے اور اس دفعہ جو انتخابی نتائج ہیں سب سے پہلے اسی حلقے کے مکمل طور پر کمپائل ہو چکے ہیں اور غیر سرکاری اور غیر حتمی طور پر ہم اپ تک پہنچا بھی رہے ہیں تو یہاں سے خبر سامنے ا چکی ہے کہ تمام 31 پولنگ سٹیشنز سے پیپلز پارٹی کے توقیر مہدی شاہ 4337 ووٹ لے کر کامیاب ہو چکے ہیں اور استحکام پاکستان پارٹی کے راجہ جلال جو کہ بڑے سٹرانگ کینڈیڈیٹ تصور کیے جا رہے تھے۔ وہ 3891 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے ہیں۔

[31:54]تو جناب خاور گمن صاحب میں یہ عرض کر رہا تھا کہ اگر اپینٹلی دیکھیں ان دا فیس اف اٹ جو بیان دیا ہے محترم چند صاحب ہمارے دوست ہیں۔ وہ بڑا سخت بیان ہے۔ سخت قسم کا الزام لگایا انہوں نے دو سیٹنگ فیڈرل منسٹر کے اوپر نام لگے کہ نام لے کے۔

[32:25]اچھا مین وائل مین وائل ہمیں گوہر صاحب ایک دفعہ پھر سے جوائن کر چکے ہیں۔ بیریسٹر گوہر صاحب یہ سوال یہاں پر ہم اچھا چلیں کال ڈراپ ہو رہی ہے۔

[32:41]انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس طرح کے بیانات کے لیے انہوں نے اگے رکھا ہوا ہے نا مطلب جب پیپلز پارٹی پی ایس کے حوالے سے بھی انہوں نے کہا پیپلز پارٹی نے جب اٹیک خبر پر یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری صاحب کی ون ان ون میٹنگ ہونے جا رہی ہے پرائم منسٹر صاحب سے سر وہ گڈ کاپ بیڈ کاپ ہے تو چن صاحب جب بھی بیان دیں گے ہمیں معلوم ہوگا کہ چن صاحب ایک یو نو ایک سیاسی طور پہ اٹیک کرنے کے لیے وہ بیانات دیتے ہیں لیکن مجھے ابھی جاوید لطیف صاحب کی جو نائیونس ہے اس پہ بڑی ہی رشک ہوا جس میں انہوں نے کہا کہ ہم تمام اتحادی ہیں۔ ہم سب حصہ لے رہے ہیں۔ اس میں جو باقی جماعتیں ہوں گی وہ دھاندلی کا ذکر نہیں کریں گی اور بالکل دھاندلی کا نیریٹو نہیں بنا پائیں گی۔ پیپلز پارٹی نے حالانکہ بہت سارے حلقوں میں اگے ہونے کے باوجود بڑی بڑی ہی کرافٹلی ایک دھاندلی کا نیریٹو ال ریڈی بنانا شروع کر دیا ہے۔ اپ دیکھیں پہلے ان کو امیدوار مکمل طور پر غیر سرکاری ائے ہیں اس میں دھاندلی نہیں ہے اور اخری جب ٹرینڈز تھے تو 15 حلقوں میں تقریبا سات میں پیپلز پارٹی کی ٹھیک ٹھاک لیڈ تھی۔ چلیں جی پیپلز پارٹی کے چوہدری منظور صاحب ہمیں جوائن کر چکے ہیں۔ چوہدری صاحب اپ بھی موجود ہیں اور مبارک ہو ویسے اپ کو غیر سرکاری غیر حتمی نتیجے کے مطابق توقیر مہدی صاحب یہاں سے کامیاب ہو چکے ہیں اسکردو سے تو یور تھوٹس ان دا الیکٹورل پروسیس سر۔ نہیں بہت شکریہ یہ ابھی ہم دیکھیے اج صبح میں اور ہمایوں خان صاحب گلگت میں تھے اور وہاں پہ نیر بخاری صاحب اور قائرہ صاحب پہنچے اور ہم امیجٹلی ہم نے سوئچ کیا ہم اسکردو اگئے میں اور ہمایوں خان صاحب۔ ابھی ہم اسکردو میں ہیں۔ اسکردو کی اس وقت نو سیٹیں ہیں۔ نو میں سے پانچ اس وقت تو پاکستان پیپلز پارٹی لیڈ کر رہی ہے اسکردو ون اسکردو ٹو شہر کی تینوں پھر خرمنگ کے اندر پھر شگر کے اندر۔ دو پہ ہمارا مقابلہ چل رہا ہے۔ دو پہ نون لیگ کے ساتھ مقابلہ چل رہا ہے اور دو پہ ازاد لیڈ کر رہے ہیں تو یہ نو کی نو سیٹوں کا اس وقت صورتحال ہے۔ یہ ہمیں بھی یہاں پہ شکایت تھی۔ اسکردو میں کچھ تھوڑی انریسٹ بھی ہوئی ہے۔ یہاں پہ ہمارے جو نشاد اسکردو تھری پہ ہیں اور ہمارا جو کوارڈینیٹر ہے وقار وزیر وقار ان پہ پتھراؤ بھی کیا گیا ان کی گاڑیوں پہ لیکن بہرحال وہ جو مجھے اخری اطلاع ہے وہ سیف ہیں اور اپنے دفتر میں وہ ابھی ابھی راستے میں ہیں پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ابھی بہتر صورتحال ہے۔ سو میں نے اپ کو جو یہاں کی نو سیٹیں ہیں ان کے متعلق بتایا ہے۔ اگر اپ نے مہدی شاہ صاحب توقیر مہدی شاہ کا کیا ہے تو میرے پاس جو خبر ہے وہ تقریبا جو شگر والی سیٹ ہے اس پہ بھی ہم تقریبا کوئی 15 20 پولنگ اسٹیشن کا رزلٹ رہتا ہے۔ اور اس میں ہماری کوئی ڈھائی ڈھائی ہزار کی لیڈ ہے جو کہ ان 15 20 پولنگ سٹیشن جو رہتے ہیں وہ بھی عمران ندیم کے ہیں جو اس کے ایریا کے ہیں دور دراز پولنگ سٹیشنز ہیں۔ تو وہ بھی تقریبا ہماری کلیئر ہو چکے ہیں۔ اچھا چلیں محمد علی شاہ جو اسکردو ٹو پہ ہیں وہ بھی اگے ہیں اور یہ صورتحال ہے۔

[36:18]اچھا چلیں جی مین وائل ہمیں بیریسٹر گوہر صاحب بھی جوائن کر چکے ہیں تو بیریسٹر صاحب ایک تو اپ نے یہ پہلے کا بتایا ہے کہ کیا کیا رکاوٹیں رہیں کیا کیا مشکلات رہیں لیکن اب یہ ہے کہ یہ فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق ابھی ظاہر ہے انیشیلی فارم 45 کی بات کی گئی ہے۔ اس حوالے سے اپ کی کیا گزارشات ہوں گی ظاہر ہے کہ الیکشن کمیشن سے یا ادروائز یہ اپ نے کیا صورتحال دیکھی اب تک دیکھو یہ الیکشن کا فری فیئر ٹرانسپیرنٹ کرانا تو الیکشن کمیشن کی ائینی ذمہ داری ہے اور الیکشن کمیشن کو اس بات کی ضرورت کیوں کر پیش ائی کہ وہ الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے کہ جی اپ لوگوں کو فارم 45 دے دے کیا یہ اس کا ٹریننگ کا حصہ نہیں ہے کیا پریزائیڈنگ افسران کو پہلے نہیں بتایا جاتا کہ اپ فارم 45 دے دیا کریں وقت سے ا جائے یہ صرف فارم 45 نہیں ہے کہ اپ ان کو فارم 45 پرووائڈ کریں۔ اپ میک شور کریں کہ کاؤنٹنگ لوگوں کے سامنے ہو۔ کاؤنٹنگ ریٹرننگ افسران جو پریزائیڈنگ افسران جس وقت کر رہے ہیں تو الیکشن ایجنٹ جو لوگوں کے موجود ہو وہ وہاں پر بیٹھے ہوں۔ تو اس لیے یہ سارا پروسیس ہوتا ہے صرف پی ٹی ائی ایم سوری ٹو سے پی پی پیپل پارٹی نے ابھی یہ کہا کہ جی ہمیں فارم 45 کا دیکھ لیں لیکن انٹائر پروسیس وہ ہے جو ہے وہ ٹمپڈ ہے۔ انٹائر پروسیس میں جس طریقے سے انٹرفیرنس ہوئی ہے کسی کا گورنر وہاں موجود ہے کوئی دوسرے طرف سے موجود ہے کوئی اپ وہاں اعلانات کر رہے ہیں کون سے پارٹی ہے اگر اپ حکومتی نمائندے کو انے دیں تو حکومتی نمائندہ وہاں اعلان کر سکتا ہے کہ میں گلگت بلتستان کو یہ کچھ کر دوں گا اپ ہمارے سپورٹ کر لیں۔ کیا الیکشن کوڈ میں اس بات کی اجازت ہے کیا الیکشن کوڈ اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وزرا مشارہ سارے وہاں چلے جائیں اور وہ لوگوں کے گھروں میں چلے جائیں کیا اس سے انفلوئنس نہیں ہوتا کیا ہم نے درخواستیں دے کر کے اس پہ پتہ نہیں چلا دیکھ کے الیکشن اگر یہ لوگ چاہتے ہیں تو ہمیں یہ پروسیس روکنا ہوگا۔ ہمیں ایک بات کا برابر کرانا ہوگا کہ عوام کا مینڈیٹ ان لوگوں کے پاس ہو جو عوام خود اپنی مرضی سے ان کے منشور کے مطابق ان کو منتخب کرے۔ میں جو اپ کو کہہ رہا ہوں کہ یکسا موقع کیوں کر ضروری ہے سارے لوگ جاتے ہیں عوام میں اپنا مینڈیٹ منشور پیش کرتے ہیں لوگ ڈیسائیڈ کرتے ہیں اس پہ سوچتے ہیں اور پھر جو الیکشن میں کے والے دن جس کو سپورٹ کرے اس کو کھلے دل سے اپ ایکسیپٹ کریں۔ اینڈ دس از وٹ وی وانٹ اور ہمارا تو منشوری یہی تھا کہ ہم اس دفعہ بیریسٹر صاحب 2024 کے انتخابات میں بہت سارے لوگ جو ہیں اپ کی پارٹی کے نام کے اوپر انہوں نے ووٹ لیا۔ بعد میں پھر انہوں نے ظاہر ہے دوسری جماعتوں کو جوائن کر لیا تو اس دفعہ اپ نے کوئی ایفی ڈیوٹس لیے ہیں کیونکہ بعد میں ابھی اج کل بھی ایک اد جو ایم ایل اے عثمان ساہیوال سے وہ کہہ رہے ہیں کہ جی ہم نے تو میں نے تو ایفی ڈیوٹ دیا ہی نہیں تھا تو یہ ایشو یہ جو کنسرن اپ کو یہ اپ نے ایڈریس کیا ہوا ہے مطلب اپ نے لوگوں سے جن کو اپ نے اتارا ہے میدان میں اس دفعہ۔ دیکھیں انشاء اللہ تعالی اس مرتبہ ہمارے جتنے بھی کینڈیڈیٹ ہیں پہلے بھی نہیں جا چکے تھے کچھ لوگ ایسے تھے کہ وہ جا چکے تھے۔ وہ بات اپ کی درست ہے جو 2024 میں ہوا ہے لیکن اس مرتبہ انشاء اللہ تعالی جہاں تک گلگت بلتستان میں اگر ہم جیتیں تو انشاء اللہ تعالی وہاں کے کینڈیڈیٹ کہیں بھی نہیں جائیں گے۔ ہمارے ا دو تھرڈ ٹائر کے کینڈیڈیٹ جو ہیں وہ بڑے لائل ہیں اور بڑے سٹرانگ ہیں اور وہ لوگ رکھ رہے ہیں اور وہ پاور پولیٹکس نہیں کر رہے وہ عوامی پولیٹکس کر رہے ہیں ان کو اس بات سے کوئی قطعا پرواہ نہیں ہے کہ ہم پارلیمنٹ کے اندر رہے پر وہ کہتے ہیں نہیں۔ ہم خان کے ووٹ لیے ہیں تو ہم خان کے نظریے کے ساتھ صحیح گوہر صاحب ابھی ہم لوگ پیپلز پارٹی سے جو پوچھ رہے تھے کہ ان کے پاس چونکہ حلقوں کا بریک ڈاؤن اگیا ہے وہ کلیم کر رہے ہیں جی کہ ہم فلانے حلقے کے اندر ہماری لیڈ ہے تو تقریبا پانچ سے سات کے قریب وہ کلیم کر رہے ہیں کہ ان کی لیڈ ہے۔ پی ٹی ائی نے ابھی تک جو اپنا گراؤنڈ ورک کیا ہے اس میں کتنے حلقے ہیں جس میں اپ سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف کا جو کینڈیڈیٹ ہے وہ کمفرٹیبل ہے ہم نے 24 کینڈیڈیٹ پہ نامینیٹ فائل کر دیے تھے ایک سیٹ وومن والی ہم سے چلی گئی دوسری ہمارا بیٹھ گیا۔ 22 سیٹوں پہ ہماری کنٹیسٹ کر رہے ہیں تین پہ ہمارے اس وقت ہمارے اتحادی جو ایم ڈبلیو ایم وہ الیکشن کنٹیسٹ کر رہے ہیں باقی ہمارے پاس ہے اور جس سیٹوں پہ ہم کنٹیسٹ کر رہے ہیں میں اپ کو وسوق کے ساتھ کہتا ہوں میں جہاں گیا ہوں۔ اور جہاں لوگوں کو میں نے دیکھا ہمیں حالانکہ اجازت نہیں تھی ریلی کی اجازت نہیں دی گئی جلسے کی اجازت نہیں تھی کمپین کی اجازت نہیں ہے۔ لوگ بڑے چورے چھپے اندر جا کر کہ الیکشن کمپین پارٹیسیپیٹ کرتے رہے وہ کرتے رہے ہمارے اگر ایسا نہ ہوتا تو ہمارے پارلیمنٹیرین جس کی اجازت ہے وہ نہ اتے اور انہوں نے کیوں روکا لیکن اگر عوام کو اجازت ملتی اور عوام سیدھا اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے تو یہ میں اپ کو 100 پرسنٹ کہہ سکتا ہوں وثوق کے ساتھ کہ ہمارا ٹو تھرڈ میجارٹی ہے جی بی میں۔ وہاں اور لفظ اپ کو نہیں ملے گا سوائے خان کے اور خان کو کیسے وہ سارے ارڈنری لوگ ا کر کے کہہ رہے ہیں ایک طرف اپ دیکھتے ہیں یہ امرت کے ادارے وہ پارٹیسیپیٹ کر رہے ہیں لوگ ا رہے ہیں اور ان کو مختلف قسم کے حربے استعمال کر رہے ہیں اپ کو یہ کر کے دیں گے دوسرے کر کے دیں گے اپ ان کو صرف ایک چیز کرو اپ اپنے لوگوں کو کہو کہ ان کے لوگ وہاں جو بیٹھے ہوئے کوئی جھنڈا وہ اٹھا رہے ہیں

[43:24]صحیح گوہر صاحب میں بائیس کے لیے سے قریب اپ نے کہا کہ اپ کمپیٹ کر رہے ہیں ان نشستوں پہ اس میں سے اپ کے لیے وہ جو نمبر ہے جو اپ کے ذہن میں اپ کی جماعت کے ہے کہ بھئی اس یہ یہ ہمارا خیال ہے کہ ہمارے لیے اچیویبل ہے۔ الیکٹورلی وہ کیا ہے اپ کا۔ دیکھیں ہم نے تو اپنا حساب جتنا لگایا ہوا تھا سارے سیٹوں پہ میں اپ کو کہتا ہوں ٹو تھرڈ والے لیکن ہمارے تو اپنے 100 پرسنٹ یہ ایسے تھے کہ 15 سیٹوں پہ ہم کلین سویپ کرنے والے تھے۔ 15 سیٹوں تو ہمارے ایسے ہیں کہ رائٹ اوے ہیں۔ ہمارے ساتھ مقابلے میں کے قریب بھی یہ نہیں تھے۔ اگر ہم ان کو دیکھیں تو وہ مقابلے میں تو 15 سیٹ اگر ہمارے ہو جاتے ہیں اور چار تین ہمارے مولانا صاحب کے ساتھ ہو جاتے ہیں تو یہ 18 سیٹیں۔ ان کے پاس اپ جا کے کہیں ان کے تو کوئی ایک ادھ بندے کا کہ وہ گئے ہوئے تھے میرا خیال ہے چوہدری منظور صاحب وہاں موجود تھے اور اس کے باقی سارے لیڈران صاحبان ائے تھے پارلیمنٹیرین بھی ائے تھے گورنر صاحب بھی ائے تھے۔ بلاول صاحب بھی تھے سارے لوگ انہوں نے کھل کر کے کمپین کر دی پر ان کو کہو اپ جہاں گئے تھے پبلک رسپانس کیا تھا چلیں چوہدری صاحب مسکرا رہے ہیں لیکن وسیم اپ بھی کچھ اس کے اندر اپنی ویلیو ایڈیشن کرنا چاہیں۔ اپ نے جو صورتحال دیکھی ظاہر ہے وہاں پر کیا رہی اور اپ کوئی سوال اگر تھرو کرنا چاہیں بیریسٹر صاحب کی طرف تو گو ہیڈ۔ جی ایک تو رائے ہے وہ چلیں میں بعد میں دیتا ہوں نہیں بیریسٹر صاحب سے ایک سوال ہی کر سکوں کہ بیریسٹر ہم نے کچھ حلقے یہ بھی دیکھے کہ جہاں پر ایسے زیادہ حلقے نہیں ہیں لیکن ایک ادھ ایا کہ جہاں پہ ایم ڈبلیو ایم کا بھی کینڈیڈیٹ کھڑا ہے اور پی ٹی ائی کا بھی کھڑا ہے حالانکہ یہاں ایک بیٹر سٹریٹیجی ہوتی ہے تاکہ وہ ڈیوائیڈ نہ ہو۔ لیکن اس سے بڑا سوال میرا یہ بیریسٹر غور صاحب کہ یہ تو اندازہ تھا پی ٹی ائی کو کہ میں نہیں یہ راہ ٹھیک ہو رہا ہے لیکن ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونا ہے۔ یہ اس بارے میں کیوں غور نہیں کیا پی ٹی ائی نے کہ ایم ڈبلیو ایم یہ نشان پہ اپنے ٹکٹ ہولڈرز کو نشان دیا جائے تو سب کو معلوم ہو کہ یہ خیمہ یعنی کہ پی ٹی ائی اور اس کی بنیاد پر اپ پھر بعد میں نشستیں بھی کلیم کر سکیں۔ پی ٹی ائی نے ایک الگ جماعتی جماعت بنانے کی کوشش کی انہوں نے اس کو ہی بین کر دیا۔ اس پر ایم ڈبلیو ایم کے لوگ بھی اف دا ریکارڈ حیران ہیں کہ پی ٹی ائی نے ایسا کیوں نہیں کیا۔ یہ ذرا بتائیں گے سمجھائیں گے غور صاحب نہیں اپ کے بادامی صاحب اپ کے سوال بڑے اچھے ہیں پہلی بات تو یہ ہے کہ جہاں تک اپ نے ذکر کیا ہے کہ ہمارے اپس میں کنٹیسٹ ہے یہ بات اپ کی درست ہے۔ ہم نے جو فگر اؤٹ کیا تھا اپس میں کہ یہ چار سیٹیں اپ کی ہوگی باقی سیٹیں ہماری ہے وہ تو ہے لیکن اپ صحیح فرما رہے ہیں خرم میں جس میں خرم ڈسٹرکٹ سے ہم بھی ہمیں مشکل ا رہا ہے کہ وہ ان کے ایم ڈبلیو ایم کی کینڈیڈیٹ نے فل کھل کے سپورٹ نہیں کی۔ یا گانچے میں جو ہمارا تھا اس میں انہوں نے سپورٹ نہیں کی یا شگر پہ جو ہمارا کینڈیڈیٹ ہے دو اپ کو میں صرف یہ بتا دوں شگر میں ہمارا کینڈیڈیٹ بھی کنٹیسٹ کر رہا ہے اور ایم ڈبلیو ایم کا کینڈیڈیٹ جو ہے وہ بھی کنٹیسٹ کر رہا ہے اسی طریقے سے ہمارا ڈاکٹر شریف صاحب جو سکر دو میں وہ بھی الیکشن کنٹیسٹ کر رہے ہیں اور مشتاق حلیمی صاحب ایم ڈبلیو ایم سے ہیں۔ یہ دو حلقے ایسے ہیں کہ وہ کر رہے ہیں۔ یہ ہم نے ان کو کہہ دیا تھا کہ نہیں جی ایسا ہوگا لیکن اپ کو معلوم ہے سم ٹائم لوگ نہیں ڈرا کرتے کمپینٹ کنٹیسٹ لے لیتے تو اس سلسلے میں یہ رہ گیا تھا۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ہم ایم ڈبلیو ایم کی سیٹ پہ ہم نے کنٹیسٹ نہیں کیا اپ کو معلوم ہے کہ اس چیز پہ ہم نے گلگت کوئٹہ میں جب ہمارے الیکشن ہو رہے تھے لوکل گورنمنٹ اس وقت بھی ہم نے ایک نہیں تین پارٹیوں کا انتخاب کیا تھا۔ یہاں ایک مذہبی رجحان بہت زیادہ ہے اور میرا تو اپنا خیال یہی ہے کہ دیکھو الیکشنوں میں کوئی مذہبی رجحان نہیں ہونے چاہیے لیکن وہاں کچھ ایسے ہیں کہ اہل تشیع حضرات زیادہ ہیں وہ لوگ اہل تشیع اور کچھ سنی ہیں تو سنی اور اہل تشیع اکثر اس بات پہ سٹک ہو جاتے ہیں جی میں نے اس پہ ووٹ نہیں دینا میں نے اس پہ ووٹ نہیں دینا جس طریقے سے کوئٹہ میں ہم نے یہ کیا کہ ہم اہل تشیع کے نشان پہ بھی لڑ رہے تھے۔ پھر ہم نے سنی اتحاد کے بھی نشان پہ لڑے پھر وہاں ہمیں یہ بھی ملا کہ وہاں ہزاروں لوگ تھے انہوں نے کہا جی ہم دونوں کے نشان پہ نہیں لڑیں گے۔ ہم نے ان کے لیے تیسرے کا ایک ارینج کر لیا ہم تو لبرل پارٹی ہے پاکستان تحریک انصاف تو جنرل پولیٹکس پہ بیلیو کرتی ہے تو اس لیے وہ ہوا تھا لیکن ایک بات ضرور میں کہوں گا۔ کہ دیکھیں پارٹی کا نشان کوئی بھی تھا ووٹ تو خان نے لوگ لوگوں نے پاکستان کے 85659 859 کانسٹیٹیونسی اس پہ لوگوں نے ہمارے اور کانسٹیٹیونسی پہ ووٹ نشانات معلوم کر کے ووٹ دیے لیکن ہم سے جی بی میں یہ الٹ شدہ نشان لینا۔ یہ میں سمجھتا ہوں پہلے درجے کی ڈسکرینیشن ہے۔ یہ اللیگل ہے یہ انلافل تھا ہمارا سیٹ نقصان ہوا یہ عوام کے حقوق پہ مینڈیٹ ہے یہ عوام کے سپورٹ اور اس کے لیے ہوتا ہے اس وقت میں میں ہمیشہ یہ کہہ رہا ہوں۔ اس وقت پیپلز پارٹی کو بھی یاد ہونی چاہیے تھی۔ اس وقت جو مسلم لیگ کو بھی ہونے چاہیے تھے ہر پولیٹیکل پارٹی جو کلیم کرتی ہے ڈیموکریسی پہ اور ائین کے مطابق ان کو بھی اواز اٹھانا چاہیے تھا کیوں کر اپ نے ہم سے نشان لیا۔ کیوں کر ہمارے لوگوں کو اپ نے واپس بلا لیا کہ ا جاؤ اسی سے ہمارے ریزرو سیٹیں چلی جائے گی نا دیکھو یہ ریزرو سیٹیں اسی طریقے سے لیتے پہلے بھی اپ نے لیا اور اگر ہم ریزرو سیٹیں نہیں لیتے اور اپ لیتے تو یہ دیکھو کس منہ سے اپ ان لوگوں کو دے رہے ہوں جو الیکٹ ہو کر کے نہیں اتے اور ہماری سیٹیں لے لیتے یہ جتنا پروسیس ہوا۔ یہ ایکسٹریملی ٹمپڈ ہے اینڈ دس از پروسیس ہمیں مجبور کرتا ہے اس بات پہ کہ ہم سوچیں کہ کیوں کر ہم اس کا مزید حصہ رہے۔ کیا پھر ہم بائیکاٹ پہ جائیں ازاد کشمیر میں کیا ہم پھر لوکل گورنمنٹ بھی بائیکاٹ پہ جائیں ہم چاہ رہے ہیں کہ ہم کھڑے رہو ہم چاہ رہے ہیں کہ جی کہ جمہوریت چھلے مضبوط ہو۔ لیکن اگر اپ ہم سب کچھ پہ پانی پھیر کر کے ڈال رہے ہوں تو اس کا مطلب ہے ایسی باتیں اگر اپ چلا رہے ہو ٹھیک ہے۔ میں ذرا جواب لے لیتا ہوں بیریسٹر صاحب چوہدری منظور صاحب۔

[50:56]چوہدری منظور صاحب اپ اس پہ کیا ایڈ کرنا چاہیں گے غور صاحب ذرا مین وائل اپ کا بہت شکریہ اپ ہمارے ساتھ موجود ہیں چوہدری صاحب مسکرا رہے ہیں لیکن وسیم اپ بھی کچھ اس کے اندر اپنی ویلیو ایڈیشن کرنا چاہیں۔ اپ نے جو صورتحال دیکھی ظاہر ہے وہاں پر کیا رہی اور اپ کوئی سوال اگر تھرو کرنا چاہیں بیریسٹر صاحب کی طرف تو گو ہیڈ۔

[51:29]جی ایک تو رائے ہے وہ چلیں میں بعد میں دیتا ہوں نہیں بیریسٹر صاحب سے ایک سوال ہی کر سکوں کیونکہ بیریسٹر ہم نے کچھ حلقے یہ بھی دیکھے کہ جہاں پر ایسے زیادہ حلقے نہیں ہیں لیکن ایک ادھ ایا کہ جہاں پہ ایم ڈبلیو ایم کا بھی کینڈیڈیٹ کھڑا ہے اور پی ٹی ائی کا بھی کھڑا ہے حالانکہ یہاں ایک بیٹر سٹریٹیجی ہوتی ہے تاکہ وہ ڈیوائیڈ نہ ہو۔ لیکن اس سے بڑا سوال میرا یہ بیریسٹر غور صاحب کہ یہ تو اندازہ تھا پی ٹی ائی کو کہ میں نہیں یہ ٹھیک ہو رہا ہے لیکن ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونا ہے۔ یہ اس بارے میں کیوں غور نہیں کیا پی ٹی ائی نے کہ ایم ڈبلیو ایم یہ نشان پہ اپنے ٹکٹ ہولڈرز کو نشان دیا جائے تو سب کو معلوم ہو کہ یہ خیمہ یعنی کہ پی ٹی ائی اور اس کی بنیاد پر اپ پھر بعد میں رشستیں بھی کلیم کر سکیں۔ پی ٹی ائی نے ایک الگ جماعتی جماعت بنانے کی کوشش کی انہوں نے اس کو ہی بین کر دیا۔ اس پر ایم ڈبلیو ایم کے لوگ بھی اف دا ریکارڈ حیران ہیں کہ پی ٹی ائی نے ایسا کیوں نہیں کیا۔ یہ ذرا بتائیں گے سمجھائیں گے غور صاحب نہیں اپ کے بادامی صاحب اپ کے سوال بڑے اچھے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جہاں تک اپ نے ذکر کیا ہے کہ ہمارے اپس میں کنٹیسٹ ہے یہ بات اپ کی درست ہے۔ ہم نے جو فگر اؤٹ کیا تھا اپس میں کہ یہ چار سیٹیں اپ کی ہوگی باقی سیٹیں ہماری ہے وہ تو ہے لیکن اپ صحیح فرما رہے ہیں کرمنگ میں جس میں کرمنگ ڈسٹرکٹ سے ہم بھی ہمیں مشکل ا رہا ہے کہ وہ ان کے ایم ڈبلیو ایم کے کینڈیڈیٹس نے فل کھل کے سپورٹ نہیں کی۔ یا گانچے میں جو ہمارا تھا اس میں انہوں نے سپورٹ نہیں کی یا شگر پہ جو ہمارا کینڈیڈیٹ ہے دو اپ کو میں صرف یہ بتا دوں شگر میں ہمارا کینڈیڈیٹ بھی کنٹیسٹ کر رہا ہے اور ایم ڈبلیو ایم کا کینڈیڈیٹ جو ہے وہ بھی کنٹیسٹ کر رہا ہے اسی طریقے سے ہمارا ڈاکٹر شریف صاحب جو سکر دو میں وہ بھی الیکشن کنٹیسٹ کر رہے ہیں اور مشتاق حکیمی صاحب ایم ڈبلیو ایم سے ہیں یہ دو حلقے ایسے ہیں کہ وہ کر رہے ہیں۔ یہ ہم نے ان کو کہہ دیا تھا کہ نہیں جی ایسا ہوگا لیکن اپ کو معلوم ہے سم ٹائم لوگ نہیں ود ڈرا کرتے یا کنٹیسٹ لے لیتے تو اس سلسلے میں یہ رہ گیا تھا۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ہم ایم ڈبلیو ایم کے سیٹ پہ ہم نے کنٹیسٹ نہیں کیا اپ کو معلوم ہے کہ اس چیز پہ ہم نے گلگت کوئٹہ میں جب ہمارے الیکشن ہو رہے تھے لوکل گورنمنٹ اس وقت بھی ہم نے ایک نہیں تین پارٹیوں کا انتخاب کیا تھا۔ یہاں ایک مذہبی رجحان بہت زیادہ ہے اور میرا تو اپنا خیال یہی ہے کہ دیکھو الیکشنوں میں کوئی مذہبی رجحانات نہیں ہونے چاہیے لیکن وہاں کچھ ایسے ہیں کہ اہل تشیع حضرات زیادہ ہے وہ لوگ اہل تشیع اور کچھ سنی ہے تو سنی اور اہل تشیع اکثر اس بات پہ سٹک ہو جاتے ہیں جی میں نے اس پہ ووٹ نہیں دینا میں نے اس پہ ووٹ نہیں دینا جس طریقے سے کوئٹہ میں ہم نے یہ کیا کہ ہم اہل تشیع کے نشان پہ بھی لڑ رہے تھے۔ پھر ہم نے سنی اتحاد کے بھی نشان پہ لڑے پھر وہاں ہمیں یہ بھی ملا کہ وہاں ہزاروں لوگ تھے انہوں نے کہا جی ہم دونوں کے نشان پہ نہیں لڑیں گے ہم نے ان کے لیے تیسرے کا ایک ارینج کر لیا ہم تو لبرل پارٹی ہے پاکستان تحریک انصاف تو جنرل پولیٹکس پہ بیلیو کرتی ہے تو اس لیے وہ ہوا تھا لیکن ایک بات ضرور میں کہوں گا۔ کہ دیکھیں پارٹی کا نشان کوئی بھی تھا ووٹ تو خان نے لوگ لوگوں نے پاکستان کے 85659 859 کانسٹیٹیونسی اس پہ لوگوں نے ہمارے اور کانسٹیٹیونسی پہ ووٹ نشانات معلوم کر کے ووٹ دیے لیکن ہم سے جی بی میں یہ الٹ شدہ نشان لینا۔ یہ میں سمجھتا ہوں پہلے درجے کی ڈسکرینیشن ہے۔ یہ اللیگل ہے یہ انلافل تھا ہمارا سیٹ نقصان ہوا یہ عوام کے حقوق پہ مینڈیٹ ہے یہ عوام کے سپورٹ اور اس کے لیے ہوتا ہے اس وقت میں میں ہمیشہ یہ کہہ رہا ہوں۔ اس وقت پیپلز پارٹی کو بھی یاد ہونی چاہیے تھی۔ اس وقت جو مسلم لیگ کو بھی ہونے چاہیے تھے ہر پولیٹیکل پارٹی جو کلیم کرتی ہے ڈیموکریسی پہ اور ائین کے مطابق ان کو بھی اواز اٹھانا چاہیے تھا کیوں کر اپ نے ہم سے نشان لیا۔ کیوں کر ہمارے لوگوں کو اپ نے واپس بلا لیا کہ ا جاؤ اس سے ہمارے ریزرو سیٹیں چلی جائے گی نا دیکھو یہ ریزرو سیٹیں اسی طریقے سے لیتے پہلے بھی اپ نے لیا اور اگر ہم ریزرو سیٹیں نہیں لیتے اور اپ لیتے تو یہ دیکھو کس منہ سے اپ ان لوگوں کو دے رہے ہوں جو الیکٹ ہو کر کے نہیں اتے اور ہماری سیٹیں لیتے یہ جتنا پروسیس ہوا۔ یہ ایکسٹریملی ٹمپڈ ہے۔ اینڈ دس از پروسیس ہمیں مجبور کرتا ہے اس بات پہ کہ ہم سوچیں کہ کیوں کر ہم اس کا مزید حصہ رہے۔ کیا پھر ہم بائیکاٹ پہ جائیں ازاد کشمیر میں کیا ہم پھر لوکل گورنمنٹ بھی بائیکاٹ پہ جائیں ہم چاہ رہے ہیں کہ ہم کھڑے رہو ہم چاہ رہے ہیں کہ جی کہ جمہوریت چلے مضبوط ہو۔ لیکن اگر اپ ہم سب کچھ پہ پانی پھیر کر کے ڈال رہے ہوں تو اس کا مطلب ہے ایسی باتیں اگر اپ چلا رہے ہو ٹھیک ہے۔ میں ذرا جواب لے لیتا ہوں بیریسٹر صاحب چوہدری منظور صاحب۔ چوہدری منظور صاحب اپ اس پہ کیا ایڈ کرنا چاہیں گے غور صاحب ذرا مین وائل اپ کا بہت شکریہ اپ ہمارے ساتھ موجود ہیں۔

[57:28]اچھا دیکھیں میں جہاں تک جہاں تک یہ سوال ہے مجھے یہ سوال بھی ہوا تھا گلگت کے اندر اور کہ کیوں بھیجا گیا ہے میں نے ہم نے پاکستان پیپلز پارٹی نے اس بات کو کنڈیم بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ سب کو اجازت ہونی چاہیے لیکن ذرا پچھلے الیکشن پہ چلتے ہیں۔ پچھلے الیکشن میں کیا کیا تھا علی امین گنڈا پور نے یہاں پہ جمیل والا حلقہ جو گلگت ٹو ہے۔ اس میں جو ٹوٹل پوسٹل بیلٹ تھے اس سے زیادہ نکال کر تو جمیل کو ہرا دیا اور فتح اللہ کو جتا دیا۔ چار سال وہ اسمبلی کے ممبر رہے منسٹر رہے چار سال بعد جمیل کے حق میں فیصلہ اگیا جب وہ پتہ چلا کہ یہ تو ٹوٹل پوسٹل بیلٹ جو جاری ہوئے تھے اس سے زیادہ انہوں نے نکال دیے۔ علی امین گنڈا پور صاحب نے پچھلی بار پیپلز پارٹی کے جو پاپولر ووٹ تھے وہ زیادہ تھے سیٹیں انہوں نے مینج کر لی اور گورنمنٹ بنا لی اس سے پچھلے پہ چلتے ہیں نون لیگ نے کیا کیا سو ہر بار ہمارے سامنے ایک پارٹی بدل جاتی ہے۔ ہم موجود ہوتے ہیں۔ یا کوئی انڈیپینڈنٹ ا جاتا ہے یا کوئی کوئی اور ا جاتا ہے۔ سو اس لیے یہ نہ کہیں پیپلز پارٹی نے منظم مہم چلائی ہے پیپلز پارٹی نے محنت کی ہے۔ یہاں پہ چیئرمین بلاول رہے ہیں اصفہ بھٹو رہے میں عید سے اگلے دن سے یہاں پر چیئرمین صاحب بہت شکریہ وقت ہمارے پاس مختصر تھا تو ٹرانسمیشن ہماری خصوصی چلتی رہی اور اج پورا دن یہ اپ دیکھتے رہے کہ ہماری خصوصی نشریات رہیں۔ تو اسلام اباد سٹوڈیوز سے فی الحال اتنی اشفاق صدیقی اجازت دیجئے اللہ حافظ و ناصر

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript