[0:01]اللہ رب العزت کا شکر ہے۔
[0:09]امت مسلمہ کہ لاکھوں افراد آج فریضہ حج ادا کر رہے ہیں۔ میں نے چاہا کہ آج کعبۃ اللہ کی تعمیر اور اس میں سلسلہ حج کے آغاز کے موضوع پر تھوڑی سی گفتگو کر لی جائے کہ حج کا سلسلہ کب شروع ہوا واقعہ یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالی نے عرش کے نیچے کا کعبہ فرشتوں کے لیے بنایا جیسے زمین پر کعبہ بنو نوع انسان کے لیے حضرت آدم اور نسل بنی آدم کے لیے زمین پر کعبہ بنایا اسی طرح ملائکہ کے لیے اللہ رب العزت نے عرش کے نیچے ساتوں آسمان سے اوپر عرش کے نیچے ایک کعبہ بنایا اس کا نام بیت المعمور ہے ملائکہ اس کعبے کا طواف کرتے ہیں
[1:38]اور بعض احادیث اور روایات میں منقول ہے کہ ستر ستر ہزار ملائکہ ایک بار بیت المعمور میں داخل ہوتے ہیں امر اس طرح ہے حکم اس طرح ہے کہ ستر ہزار فرشتوں کی جماعت اکٹھی ایک بار بیت المعمور میں داخل ہوتی اس کا طواف کرتی ہے اللہ کی عبادت کرتی ہے اللہ کی تسبیح بلند کرتی ہے تحلیل کرتی ہے اور آگے بعض روایات میں آیا ہے جیسے امام ازرقی نے اخبار مکہ اور اس طرح بعض دیگر کتب بھی بیان کیا ہے کہ وہ ستر ہزار فرشتوں کی جماعت جب بیت المعمور میں طواف کر لیتی ہے اور اللہ رب العزت کی تسبیح و تحلیل اور ذکر عبادت انجام دے لیتی ہے تو پھر انہیں حکم ہوتا ہے کہ وہ زمین پر اس کعبہ کے طواف کے لیے اترے پھر وہ زمین پر آتے ہیں وہ ستر ہزار فرشتوں کی جماعت اور آ کے کعبتہ اللہ کا طواف کرتے ہیں صبح اترتے ہیں اور کعبۃ اللہ کا طواف کرتے ہیں دن بھر کعبۃ اللہ کا طواف کرتے رہتے ہیں پھر وہی ستر ہزار فرشتوں کی جماعت جو بیت المعمور سے چلتی ہے پھر بیت اللہ آتی ہے پھر یہاں کے طواف سے فارغ ہو کر روزہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر مدینہ طیبہ میں حاضری دیتی ہے
[3:34]اور وہ ستر ہزار فرشتوں کی جماعت حضور علیہ السلام کی بارگاہ میں حاضری دے جاتے ہیں قیامت تک دوبارہ ان کی باری نہیں آتی یعنی مختلف روایات ہیں ان ساروں کو ملا کر ان کا یہ سفر حج میں تو کہوں گا کہ یہ فرشتوں کا سفر حج ہے بیت المعمور سے شروع ہوتا ہے اور بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ وہ جب وہاں سے چلتے ہیں تو وہ بھی اپنی شان کے لائق احرام باندھ کے چلتے ہیں ملائکہ وہ محدثین میں اور بعض ناقدین نے ان احادیث کے بارے میں ضعف کا قول کیا مگر کوئی ایسا حکم یا کوئی ایسی بات اور امر ان روایات اور احادیث میں نہیں ہے جو دین کے کوئی اصولی اور اساسی تعلیمات اور امور کے ساتھ متصادم ہو فضائل سے متعلق ہیں اور فضائل کی طرف اشارہ کرتی ہیں کعبتہ اللہ کے فضائل اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے روضہ اقدس کی زیارت کے فضائل تو انہیں قبول کرنے میں حرج نہیں ہے باوجود ان کے ضعف کے قول ہونے کے سو میں یہ کہوں گا کہ یہ ان فرشتوں کا سفر حج ہے جو بیت المعمور سے شروع ہوتا ہے وہ پہلا گھر ہے فرشتوں کا آسمانوں کے اوپر اور بعد ازاں وہ بیت اللہ آتے ہیں حالت احرام میں اور جس طرح ہم لوگ یہاں سے چل کے بیت اللہ کا طواف کرتے اور حج کا فریضہ انجام دیتے ہیں اور اس کے بعد پھر روضہ اقدس پہ حاضری کے لیے جاتے ہیں اور اعلی حضرت نے ایک شعر کہا ہے اس موقع پر کہ گویا کعبۃ اللہ اپنی زبان حال سے کہتا ہے حاجیوں آؤ شہنشاہ کا روزہ دیکھو کعبہ تو دیکھ چکے کعبے کا کعبہ دیکھو یعنی جب حاجی لوگ حج سے فارغ ہو جاتے ہیں تو کعبہ زبان حال سے اب انہیں کہتا ہے کہ حاجیوں اب تم میرے مناسک سے فارغ ہو گئے ہو اب مناسک یار کی ادائیگی کے لیے چل پڑو تو کعبہ تو دیکھ چکے میرا منظر تو دیکھ لیا ہے اب تم روزہ یار کی طرف روزہ حبیب کی طرف جاؤ وہ منظر بھی جا کے دیکھو اور بعض عاشقوں نے عاشقوں نے اس مقام پر ایک ذوق کی بات کہتے ہوئے کہا کہ میزاب رحمت جو کعبۃ اللہ کا ہے وہ اسی رخ ہے جدھر مدینہ طیبہ ہے تو عاشق لوگ اپنے ذوق کے اشارے کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ وہ میزاب رحمت جو ہے وہ اسی رخ اسی لیے لگایا گیا کہ حاجیوں کو راستہ دکھا رہا ہے کہ اب اس سمت چل پڑو ادھر یار کا وطن ہے یار کا دیس ہے تو حج کے سفر کی تکمیل وہاں جا کر ہو گی اللہ رب العزت کا شکر ہے جب سیدنا آدم علیہ السلام کو زمین پہ اتارا ویسے تو قرآن مجید کی جو آیت کریمہ میں نے تلاوت کی اس میں بیان کعبۃ اللہ کی تعمیر کے سلسلے میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا ملتا ہے اور صراحتا قرآن مجید کا جو بیان ہے وہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہی کی نسبت ہے کہ انہوں نے کعبہ کی بنیاد رکھی کعبہ کو تعمیر کیا اور وہ کعبہ کی عمارت کے بانی اور مؤسس ہیں عمارت کے بانی اور مؤسس ہیں مگر خود قرآن مجید سے اس امر کے واضح اشارے ملتے ہیں کہ جو کعبۃ اللہ کی عمارت سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر کی یہ کعبۃ اللہ کی پہلی تعمیر نہیں تھی اس مقام پر کعبۃ اللہ پہلے سے تعمیر شدہ تھا وہ مسمار ہو گیا تھا منہدم ہو گیا تھا سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے تو درحقیقت زمین کے نیچے سے زمین کو کھود کر انہیں بنیادوں کو دوبارہ اٹھا دیا
[8:32]اب پھر اس سے زیادہ صراحت قرآن مجید میں سورہ حج میں زیادہ تشریح اس میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں جب ہم نے ابراہیم کو اپنے گھر کی جگہ کی نشاندہی کی رہنمائی کی کہ اے ابراہیم میرے گھر کا مقام میرے گھر کی جگہ یہ ہے
[9:05]قرآن مجید نے صراحتا یہ بات بتا دی کہ اس بیت اللہ کا کعبۃ اللہ کا اللہ کے گھر کا ایک مقام ایک جگہ پہلے سے متعین تھی جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو کعبۃ اللہ کی تعمیر کا حکم ہوا تو وہ حکم یوں نہ تھا کہ اس مقام پر جہاں چاہیں تعمیر کر لیں نہیں حکم تھا کہ جہاں میرا گھر پہلے تعمیر تھا گھر کی جگہ نہیں بدلے گی اسی گھر کو دوبارہ تعمیر کرو
[9:40]تو قرآن مجید نے فرمایا کہ ہم نے ابراہیم کو نشاندہی کی بتلایا اور دکھایا نشاندہی کے ذریعے کہ یہ جگہ ہے میرے گھر کی وہ نشاندہی کیسی کی جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو تعمیر پر مامور کیا تو اس وقت بادل کا ٹکڑا بھیج دیا گیا بادل کا ٹکڑا ایک مقام پر آ کے کھڑا ہو گیا اور اس کا جو سایہ تھا بعض روایات میں یہ آتا ایک تو یہ ہے کہ بادل کے ٹکڑے کا سایہ جس جس مقام پر پڑا سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اس اس مقام پر کھدائی کی اور کھدائی کرتے چلے گئے تو نیچے اول جو بنا کعبہ تھی اس کی بنیاد نکل آئی پہلے سے کعبہ کی جو بنیادیں موجود تھیں اور بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ بادل کا جو ٹکڑا اوپر کھڑا کیا گیا اس کے سائے میں بیت المعمور کی جھلک تھی بیت المعمور کی جھلک تھی اور یہ مقام خاص اس کی اہمیت بھی بعض احادیث اور روایات میں یوں درج ہے کہ یہ مقام روئے زمین پر کعبۃ اللہ کا وادی مکہ میں اس جگہ تھا عین اس مقام کے اوپر عرش کے نیچے بیت المعمور ہے تو بیت المعمور کا جو مقام ہے اس کا اگر خط زمین کی طرف کھینچا جائے تو وہ وہ جگہ ہے اور وہ مقام ہے جہاں زمین پر بیت اللہ کی تعمیر کی گئی تو گویا سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جو کعبۃ اللہ کی تعمیر کی یہ پہلی تعمیر نہیں ہے اور ویسے تاریخی اعتبار سے صرف آپ کی اطلاع کے لیے کعبۃ اللہ کی 10 بار تعمیر ہوئی کتنی بار 10 بار کعبۃ اللہ کی تعمیر ہوئی اور ہم صرف پہلی دو تین تعمیرات کا ذکر کرتے ہیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام تک اس کے بعد تو پھر دنیا جانتی ہے تاریخ میں سب کچھ موجود ہے پہلا بھی کتابوں میں احادیث میں تاریخ مکہ اور بناے بیت عتیق کی تاریخ میں درج ہیں حقائق میں اب اپنی پہلی بات کی طرف لوٹتا ہوں کہ قرآن مجید کی ان آیات کا ترجمہ تو یہ ہے کہ فرمایا ان اول بیت وضع للناس کہ سب سے پہلا گھر بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا وہ وہی ہے جو شہر مکہ میں ہے اس پر مفسرین نے مختلف قول بیان کیے ہیں کہ سب سے پہلا گھر ہونے کا معنی کیا ہے بعض تو اس کو یہ کہتے ہیں کہ سب سے پہلا گھر جو عبادت کے لیے بنایا گیا اللہ کی عبادت کے لیے وہ کعبہ ہے بعض کہتے ہیں کہ شہر مکہ کے گھروں میں سب سے پہلا گھر کعبہ کا بنا اور بعض مفسرین نے یہ قول کیا ہے کہ پوری روئے زمین پر سب سے پہلا گھر اور سب سے پہلی چار دیواری اور سب سے پہلا کمرہ دیواروں کا جو تعمیر کیا گیا روئے زمین پر وہ بیت اللہ ہے کعبۃ اللہ ہے آیت کریمہ میں ہر بات کا اشارہ موجود ہے یہ قران مجید کا یہ ایت کریمہ کا ترجمہ اور مفہوم
[14:03]دوسرے مقام پر یہ حکم آ گیا اس میں ارشاد فرمایا اور جب ہم نے ابراہیم کو اپنے گھر کی جگہ کی نشاندہی کی اور ان کے لیے انہیں رہنمائی کی اور ان کو بتلا دیا کہ اللہ کے گھر کی یہ جگہ ہے جہاں تعمیر کرنا ہے
[14:41]اور میرا جو گھر ہے اسے پاک کر دیا جائے صاف ستھرا کیا جائے تا کہ لوگ میرے صاف ستھرے پاک گھر میں آ کے طواف کریں
[16:17]کعبۃ اللہ کے صحن میں جا کر اس کے حضور قیام کرنے والے رکوع کرنے والے سجدہ کرنے والے اور اللہ کے گھر میں بیٹھنے والے اللہ کے گھر کے مہمان گردانے جا رہے ہیں اور فرمایا جا رہا ہے میرے ابراہیم اور میرے اسماعیل آواز دی جا رہی ہے کہ لوگوں آؤ میرے گھر کا دیدار کرو میرے گھر کا طواف کرو میرے گھر میں آ کے میری عبادت کرو قیام کرو رکوع کرو سجدہ کرو اعتکاف بیٹھو
[18:01]لوگوں آؤ اللہ کے گھر کا حج کرو آواز دے پھر کیا ہو گا اے ابراہیم علیہ السلام جب تو آواز دے گا اس میرے گھر کے حج کے لیے لوگوں کو تو دیکھے گا لوگ پیدل بھی چل کے آئیں گے اور دبلی پتلی اونٹنیوں پر بھی چل کے آئیں گے پیدل آنے والے پیدل بھی آئیں گے سواریوں پر آنے والے سواریوں پر بھی آئیں گے
[18:57]اور اشارہ آج کے دور کی سواریوں کی طرف بھی آ گیا کہ پیدل بھی آئیں گے سواریوں پر بھی آئیں گے دور دراز کے راستوں سے مسافتیں طے کر کے میرے گھر آئیں گے
[19:12]تو ارشاد فرمایا کہ یہ جو مقام ہے یہ تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی تعمیر کعبہ کا مقام کا بیان ہے مگر اس کعبہ کی تاریخ کا آغاز اور حج کی تاریخ کا آغاز سیدنا آدم علیہ السلام کی حیات مبارکہ سے ہی ہو جاتا ہے امام ازرقی اخبار مکہ میں بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا آدم علیہ السلام زمین پہ اتارے گئے جنت سے تو صدیوں تک روتے رہے کئی سو سال سیدنا آدم علیہ السلام ندامت کے آنسو گراتے رہے اور اپنے ندامت کے آنسوؤں سے اپنی بندگی اور عبدیت کو پکاتے رہے پختہ کرتے رہے اور عبدیت کے درجے بلند کرتے رہے ساڑھے آٹھ سو سال روتے تھے اور اتنی آہ و زاری کرتے تھے اور آہ و بقا کرتے تھے کہ فرشتوں کے دل بھی دہل جاتے تھے



