[0:00]جی ہاں آپ صرف چار روپے فی گھنٹہ پر اے سی چلا سکتے ہیں اور ہم آج اس ویڈیو میں تمام تر ثبوتوں کے ساتھ اس راز کا پردہ فاش کرنے جا رہے ہیں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور گرمی میں بجلی کے بل کی فکر کیے بغیر باآسانی اے سی چلائیں جی یہ بالکل ممکن ہے۔لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ تسلی سے پوری ویڈیو آخر تک دیکھیں۔ اور کوئی بھی پوائنٹ سمجھ نہ آنے کی صورت میں نیچے کمنٹ سیکشن میں اپنا سوال ضرور پوسٹ کریں۔ سب سے پہلے آپ زیم ٹی وی کو سبسکرائب کر لیں گھنٹی کے بٹن کو پریس کریں اور اس ویڈیو کو ضرور لائیک کر لیں۔ پاکستان میں واپڈا کا خستہ نظام اور ان کے آفسز میں دھکے کھانے کے ڈر سے آج تک زیادہ تر پاکستانی اپنے بجلی کے بل میں موجود پیچیدہ حساب کتاب دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں اور ایک شریف مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے والا انسان اسی گھبراہٹ میں آج تک ان اہم باتوں سے لا علم رہا ہے جو آج ہم آپ کو بتانے جا رہے ہیں۔ سب سے پہلے آپ یہ جان لیں کہ اے سی کی بہت سی اقسام مارکیٹ میں موجود ہیں۔ لیکن ہم میں سے کئی لوگوں کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ کون سا اے سی خریدا جائے۔ لہذا ہمارے پاس اے سی بیچنے والے سیلزمین کی باتوں پر یقین کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچتا۔ اور ہم سیلزمین کے جال میں پھنس کر ایک ایسا اے سی خرید بیٹھتے ہیں جو شاید ہماری ضروریات کے حساب سے اکنامیکل نہیں ہوتا۔ آج ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ آپ کو اپنے کمرے کے سائز کے حساب سے کون سا اے سی لگوانا چاہیے۔ جو کولنگ بھی اچھی کر سکے اور بجلی بھی کم سے کم خرچ کرے۔ ہم اسٹارٹ کرتے ہیں ایک نارمل سائز کے روم سے جس کا سائز پندرہ بائے پندرہ ہوتا ہے۔ اس روم کے سائز کے حساب سے ایک ٹن کا انورٹر اے سی بالکل پرفیکٹ رہتا ہے۔ لیکن آپ اس بات کا اچھی طرح سے خیال رکھ لیں کہ کمرے میں گرمائش چھوڑنے والی کوئی بھی مشین مثلاً فریج فریزر وغیرہ موجود نہ ہو۔ اور دھوپ کو روکنے کے لیے باقاعدہ پردے بھی لگے ہوں۔ پیچیدہ کیلکولیشنز ہٹا کر اگر سادہ الفاظ میں بات کی جائے تو ایک ٹن کا انورٹر اے سی پورے ایک گھنٹے میں گیارہ سو ساٹھ واٹس پاور کنزیوم کرتا ہے۔ وہ بھی صرف اس صورت میں جب اے سی پورا گھنٹہ اپنے پیک پاور پر چل رہا ہو لیکن اگر آپ کا انورٹر اے سی چھبیس ڈگری کے ٹمپریچر پر چل رہا ہو گا تو اندازاً بیس منٹ کے بعد انورٹر اپنا اصل کمال دکھانا شروع کر دیتا ہے۔ اور آہستہ آہستہ کم پاور کنزیوم کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اگلے بیس منٹ میں ایک ٹن کا انورٹر اے سی صرف چار سو واٹس پہ آپریٹ ہوتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک گھنٹے میں چار سو واٹس الیکٹریسٹی کنزیوم ہو گی۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایک گھنٹے میں آپ کے گھر کے الیکٹریسٹی میٹر کے کتنے یونٹس کنزیوم ہوں گے؟ اس کا بھی سیدھا سیدھا اور سمپل میتھڈ میں آپ کو بتاتا ہوں۔ اور یہ پورا اسٹیپ بائے اسٹیپ پروسیجر اسی ویڈیو میں ڈیمونسٹریشن کے ساتھ بھی آپ دیکھ سکیں گے۔ واپڈا کے الیکٹریسٹی میٹر کا ایک یونٹ برابر ہوتا ہے ون تھاؤزنڈ واٹ آور کے۔ مطلب اگر ایک ہزار واٹ ایک گھنٹے تک چلتے رہیں تو ایک یونٹ کاؤنٹ ہوتا ہے۔ لہذا اگر آپ کا اے سی چار سو واٹ پاور کنزیوم کر رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ایک گھنٹے میں آپ کے زیرو پوائنٹ فور صفر اعشاریہ چار یونٹ خرچ ہوں گے۔ واپڈا کے گھریلو صارفین کے ٹیریف کے حساب سے تین سو یونٹ تک استعمال کرنے والوں کے لیے ٹین پوائنٹ ٹو روپیز یعنی کہ دس اعشاریہ دو روپے ایک یونٹ کا ریٹ ہے۔ مطلب صفر اعشاریہ چار یونٹ کے تقریباً چار روپے آٹھ پیسے بنتے ہیں۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ جیسے جیسے آپ مہینے کے کم یونٹس کنزیوم کریں گے، ویسے ویسے یہ ریٹ بھی کم ہوتا جائے گا۔ مثلاً جن صارفین کی کنزمپشن مہینے میں سو سے دو سو یونٹس تک ہے۔ ان کو ایک یونٹ آٹھ روپے گیارہ پیسے کا پڑے گا۔ اور یہی ایسی پورے ایک گھنٹے میں صرف سوا تین روپے کی بجلی کھائے گا۔
[4:40]ناظرین لمحہ فکریہ یہ ہے کہ پاکستان میں کئی میرے اور آپ کے جیسے لوگ انورٹر اے سی خرید تو لیتے ہیں۔ لیکن اس کا اصل مقصد استعمال کرنا نہیں جانتے۔ انورٹر اے سی کم بجلی صرف اور صرف اس صورت میں کھاتا ہے۔ جب کمرہ آپ کے رکھے گئے ٹمپریچر پر ٹھنڈا ہو چکا ہوتا ہے۔ جب کمرہ آپ کے رکھے گئے ٹمپریچر پر ٹھنڈا ہو جاتا ہے تو انورٹر کو یہی ٹمپریچر مینٹین رکھنے میں بہت کم طاقت لگانی پڑتی ہے۔ جس کے نتیجے میں انورٹر کم بجلی استعمال کرتا ہے۔ لیکن اگر کمرہ اے سی کی سائز کے حساب سے بڑا ہو گا۔یا اس کا دروازہ یا کھڑکی کھلی ہو گی یا پھر ایسا غیر حقیقی ٹمپریچر رکھا ہو گا جو کبھی بھی اے سی مینٹین نہیں کر پاتا۔ تو انورٹر اے سی کم بجلی نہیں کھائے گا اور اپنی پوری پاور سے چلتا رہے گا۔ گویا انورٹر اے سی اتنی ہی بجلی کھائے گا جتنا نارمل اسپلٹ اے سی کھاتا ہے۔ آئیے اب میں آپ کو یہی ساری باتیں پریکٹیکل کر کے بھی دکھاتا ہوں۔ یہ ایک پندرہ بائے پندرہ کا کمرہ ہے جس میں گری کمپنی کا ایک ٹن انورٹر اے سی لگایا گیا ہے۔ اے سی کو چھبیس ڈگری سینٹی گریڈ پہ رکھ کے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ کتنی پاور کنزیوم کرتا ہے۔ چیک کرنے کے لیے ہم ایمپیئر میٹر کا استعمال کریں گے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں ابھی اے سی اپنی فل پاور پہ چل رہا ہے کیونکہ ہم نے ابھی ابھی اے سی آن کیا ہے اور کمرہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا۔ اے سی اپنی پوری پاور پہ چل رہا ہے یہ ہمیں اس فارمولے کے تحت پتہ چلا ہے۔ واٹس از ایکولز ٹو ایمپیئر ملٹی پلائے بائے وولٹس۔ ہمیں وولٹس کا پتہ ہے جو کہ پاکستان میں دو سو بیس ہوتے ہیں۔ اور ایمپیئر ہم نے ایمپیئر میٹر سے نکالے۔ ان دونوں کو جب ملٹی پلائی کریں گے تو واٹس کا پتہ چل جاتا ہے۔ اس وقت یہ اے سی فائیو پوائنٹ ون فور ایمپیئر یوز کر رہا ہے۔
[6:42]اب ہم ایمپیئر کو وولٹیج سے ملٹی پلائے کریں گے تو واٹس کا پتہ چل جائے گا۔ فائیو پوائنٹ ون فور ایمپیئر ملٹی پلائے بائے ٹو ٹونٹی وولٹس یہ ہوتے ہیں گیارہ سو تیس واٹس۔ جیسا کہ میں آپ کو پہلے بھی بتا چکا ہوں ایک ٹن کے اے سی کا پیک پاور ہوتا ہے گیارہ سو ساٹھ واٹ اور یہ ویلیو بھی تقریباً اس کے آس پاس ہی ہے۔ لہذا ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ اے سی فی الحال کوئی بچت نہیں کر رہا بلکہ اپنی پیک پاور پہ چل رہا ہے۔ اب ہم روم کے ٹھنڈا ہونے کا ویٹ کرتے ہیں۔ بیس منٹ گزر چکے ہیں اور روم ٹھنڈا بھی ہو چکا ہے۔ اب ایمپیئر میٹر ون پوائنٹ ایٹ ایمپیئرز کی ریڈنگ دے رہا ہے۔ کیلکولیشن کے مطابق ون پوائنٹ ایٹ ایمپیئر ملٹی پلائے بائے ٹو ٹونٹی وولٹس از ایکولز ٹو تھری نائنٹی سکس واٹس۔ لہذا پریکٹیکل سے ہماری وہ کیلکولیشن ثابت ہو گئی جو ہم نے پریکٹیکل سے پہلے آپ کو نکال کے دکھائی تھی۔ اب ہم اس کو کمپیئر کرتے ہیں ایک ٹن کے نان انورٹر اے سی کے ساتھ۔ ایک ٹن کا اسپلٹ اے سی بھی ایک گھنٹے کا گیارہ سو ساٹھ واٹ ہی کنزیوم کرتا ہے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ وہ چلتا ہے تو اپنی فل پاور پہ چلتا ہے۔ جب آپ کے رکھے گئے ٹمپریچر پہ روم ٹھنڈا ہو جاتا ہے تو اے سی ٹرپ ہو جاتا ہے۔ ٹیسٹنگ کرنے کے بعد یہ نتیجہ نکلا کہ چھبیس کے ٹمپریچر پہ نان انورٹر اے سی ہر پندرہ منٹ کے بعد سات منٹ کے لیے ٹرپ ہو رہا تھا۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک گھنٹے میں تقریباً پینتالیس منٹ تک اے سی چل رہا تھا اور پندرہ منٹ کے لیے ٹرپ تھا۔ کیلکولیشن کے حساب سے ایک منٹ کے نائنٹین پوائنٹ تھری واٹس کنزیوم ہوتے ہیں۔ اور پینتالیس منٹ کے آٹھ سو ستر واٹ یعنی جہاں انورٹر اے سی ایک گھنٹے میں چار سو واٹ کنزیوم کر رہا تھا، وہیں نان انورٹر اے سی آٹھ سو ستر واٹ کنزیوم کر رہا ہے۔ جو تقریباً پونے نو روپے فی گھنٹہ پڑے گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہوا کہ آپ کو صرف اور صرف انورٹر اے سی ہی خریدنا ہے۔ کئی لوگوں کو اپنے گھر یا آفس کے ایسے حصے میں اے سی لگانا پڑتا ہے۔ جو پوری طرح سے کلوز نہیں ہوتی یا روم میں گرمائش پیدا کرنے والی کوئی چیز موجود ہوتی ہے۔ اس صورت میں آپ نارمل اسپلٹ اے سی ہی لگوا لیں گے تو زیادہ اکنامیکل پڑے گا۔ ویڈیو کے اس حصے تک آپ کو یہ اچھی طرح سے اندازہ ہو چکا ہو گا کہ آپ کے روم میں کون سا اے سی سوئیٹیبل ہے۔ اور کیسے اے سی کے ٹمپریچر سے آپ اس کی آپریٹنگ کاسٹ آپٹیمائز کر سکتے ہیں۔ لیکن چند اور بھی وجوہات ہو سکتی ہیں جس کی وجہ سے آپ کا اے سی زیادہ پاور کنزیوم کر رہا ہوتا ہے۔ نمبر ایک: آپ کے اسپلٹ اے سی کا ایئر پیوریفائر اگر صاف نہیں ہو گا تو اس میں پھنسی مٹی کی وجہ سے اس میں سے ہوا گزرنے میں مشکل ہو گی۔ جس کی وجہ سے اے سی کی تھرو کم ہو جائے گی اور اس کو روم ٹھنڈا کرنے میں زیادہ جان لگانی پڑے گی۔ اور زیادہ جان لگانے کے نتیجے میں وہ زیادہ بجلی خرچ کرے گا۔ نمبر دو: اگر آپ کے اے سی کی گیس لیک ہو چکی ہو گی یا گیس کی مقدار کم ہو گی تو اے سی اس صورت میں بھی زیادہ پاور کنزیوم کرے گا۔ نمبر تین: اے سی کے آؤٹر فین میں مٹی اور کچرا پھنس جانے کی وجہ سے آؤٹر یونٹ کا فین سلو چلتا ہے اور وہ کمپریسر کو صحیح سے ٹھنڈا نہیں کر پاتا جو کہ زیادہ بجلی کھانے اور روم ٹھنڈا نہ کرنے کا بھی سبب بنتا ہے۔ اب لاسٹ میں میں آپ کو ایسی بات بتانے جا رہا ہوں جو شاید آج کل ہر گھر کا مسئلہ ہے۔ آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ بل زیادہ آ گیا ہے۔یا پھر استعمال اتنا نہیں ہوتا جتنا بل آ جاتا ہے۔ جس کی وجہ ہوتی ہے واپڈا کی اپنی دو نمبری۔ جب واپڈا کو زیادہ پیسوں کی کلیکشن کا ٹارگیٹ ملا ہوتا ہے تو وہ ایک مہینے کی ریڈنگ کے بجائے ڈیڑھ مہینے کی ریڈنگ لیتے ہیں۔ مثلاً اگر آپ کے ایک مہینے کی کنزمپشن ہے تین سو یونٹ جس کا بل بنتا ہے تین ہزار ساٹھ روپے لیکن اگر واپڈا کا میٹر ریڈر مقررہ وقت پر ریڈنگ لینے کے بجائے پندرہ دن یا دس دن کے بعد ریڈنگ لینے آئے گا تو آپ کی مہینے کی ریڈنگ جو کہ تین سو ہوتی ہے وہ چار سو یونٹ ہو گی اور ایک سو یونٹ بڑھنے کی وجہ سے آپ کو اپر سلیب کا ریٹ پے کرنا پڑے گا۔ جو کہ سترہ روپے ساٹھ پیسے ہے۔ گویا واپڈا یہ چالاکی کر کے آپ سے بلا وجہ کے سات سو چالیس روپے لے گیا۔ اور اس چالاکی کا پاکستان کی معصوم عوام کو ذرہ برابر بھی علم نہیں ہوتا۔ اس طرح سے واپڈا دن دہاڑے عوام کو چونا لگا کر ہر سال کھربوں روپے اکٹھے کر لیتی ہے۔ اور یہ وہ پیسے تھے جس کی بجلی نہ آپ نے کبھی استعمال کی تھی اور نہ واپڈا نے کبھی بیچی تھی۔ اگر آپ کو اس ویڈیو میں بتائی گئی معلومات فائدہ مند لگی ہیں تو ویڈیو کو ضرور لائک کریں۔ اور نیچے کمنٹ سیکشن میں اس ویڈیو سے متعلق کوئی بھی سوال پوسٹ کر سکتے ہیں۔



