Thumbnail for  علوم نبوت کی ہمہ گیری | مولانا بلال عبد الحی حسنی… | بتاریخ ۵ جون  ۲۰۲٦ ء|مدرسہ معھد الایمان(ممبرا) by Syed Bilal Abdulhai hasani Nadwi

علوم نبوت کی ہمہ گیری | مولانا بلال عبد الحی حسنی… | بتاریخ ۵ جون ۲۰۲٦ ء|مدرسہ معھد الایمان(ممبرا)

Syed Bilal Abdulhai hasani Nadwi

48m 28s5,225 words~27 min read
AI audio transcription
Transcript source

AI audio transcription

This transcript was generated from the video's audio because no usable YouTube caption track was available. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Use this transcript
Related transcript hubs

[0:00]سامعین کو محسو کروں بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین و خاتم النبیین سیدنا و نبینا و مولانا محمد وعلی الہ وصحبہ اجمعین و علی من تبعہم باحسان ودعا بدعوتہ الا یوم الدین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم وعلمک ما لم تکن تعلم وکان فضل اللہ علیک عظیما صدق اللہ العظیم حضرات العلماء الکرام اور میرے دینی اور ایمانی بھائیوں بزرگوں اور دوستوں یہ ایک مبارک مجلس ہے اس کا تذکرہ ہے علم کا دین کا اللہ کے اخری نبی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات و ارشادات کا اور یہ مدرسہ حقیقت میں اسی لیے قائم کیا گیا ہے کہ اس کے ذریعے سے وہ نور نبوت جو اللہ تبارک و تعالی ان علماء کے سینوں میں رکھتا ہے جو نیابت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب پر فائز ہوتے ہیں جن کو اللہ تبارک و تعالی اپنی خشیت عطا فرماتا ہے اللہ تعالی اس نور نبوت کو عام فرمائے ان حضرات علماء کے ذریعے سے اور اس کی روشنی اللہ تعالی ان ظلمت کدوں تک پہنچائے جہاں اس کی بڑی ضرورت ہے یہ مدارس حقیقت میں دین کے قلعے ہیں اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تبارک و تعالی نے جو امانت عطا فرمائی اور جو علم عطا فرمایا حقیقت میں یہ مدارس اسی امانت کو لے کر اپنا سفر کرتے ہیں اور یہاں اس کی کوشش کی جاتی ہے کہ ہمارے یہ بچے اور بچیاں اس نور نبوت سے فیض حاصل کریں اور وہ علم نبوت حاصل کریں سب سے بڑا علم حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو وحی الہی ہے اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ارشادات ہیں اور حقیقت میں یہ ارشادات بھی وحی الہی کا درجہ رکھتے ہیں ایک وحی مطلوع ہے ایک وحی غیر مطلوع ہے ہم قران مجید پڑھتے ہیں جس کو وحی مطلوع کہا جاتا ہے اس کا ایک ایک حرف کا پڑھنا اور اس کی تلاوت کرنا باعث اجر و ثواب ہے حدیث میں اتا ہے کہ ایک ایک حرف پر اللہ کی طرف سے 10 10 نیکیاں ملتی ہیں لیکن احادیث کی ادمی اگر تلاوت کرتا ہے احادیث پڑھتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس کا وہ اجر نہیں ہے جو اجر قران مجید کی تلاوت کا ہے لیکن یقینا احادیث سے اشتغال کرنا اللہ تبارک و تعالی کے قرب کا ایک بڑا بہت بڑا ذریعہ ہے اور یہ دین جو اللہ تبارک و تعالی نے ہمیں عطا فرمایا ہے یہ دین حقیقت میں انہی دونوں ستونوں پر قائم ہے قران مجید ہے اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ارشادات ہیں قران اور احادیث مبارکہ کو سامنے رکھ کر ہمارے سامنے جو شریعت کا پورا ایک نظام ہے ہمارے علماء نے ائمہ کرام نے اور سب سے بڑھ کر حضرات صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین نے ایک مغز پیش کیا ہے اس کو سمجھ کر انہوں نے ہمارے سامنے راستے کھولے ہیں میں اکثر عرض کرتا ہوں کہ یہ دلائل ایک طرف ہیں لیکن جب تک دلائل کا صحیح فہم ہم کو حاصل نہ ہو ہم اس وقت تک صحیح راستے پر باقی نہیں رہ سکتے اگر کوئی 13 سو سال کے بعد اور 14 سو سال کے بعد دعوی کرے کہ اس کو کوئی نئی بات سمجھ میں ا گئی جو صحابہ نے نہیں سمجھی جو سلف نے نہیں سمجھی تو اس بات کا ڈر ہے کہ وہ بات شیطان نے اس کے دل میں ڈالی وہ بات حقیقت میں صحیح نسبت نہیں رکھتی نہ اللہ سے اس کی نسبت ہے نہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی نسبت ہے تو یہ علم جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیں حاصل ہوا ہے اگر غور کیا جائے تو اس علم کے جو سوتے جاری ہوئے وہ ایسے ہیں کہ دنیا جو پہلے جہالت میں ڈوبی ہوئی تھی جو زمانہ جاہلیت کا کہلاتا ہے اگر اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعث نہ ہوتی تو نہ جانے دنیا کہاں ہوتی اور کن تاریکیوں میں بھٹک رہی ہوتی اللہ کا تو فیصلہ ہو رہا تھا اللہ نے نگاہ ڈالی عربوں کو دیکھا عجمیوں کو دیکھا اللہ چاہتا دنیا کو تمام کر دیتا قیامت ا جاتی سب مٹ کر رہ جاتا لیکن اللہ کا فیصلہ تھا کہ دنیا رہنی تھی اللہ نے اپنے اخری نبی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور یہ فیصلہ الہی پہلا ایسا نہیں تھا کہ اسی وقت فیصلہ ہوا یہ تو حضرت ادم علیہ السلام جب پیدا ہوئے اور اس سے پہلے سے اللہ کا ازلی فیصلہ تھا لوح محفوظ میں اللہ نے لکھا تھا کہ اخری نبی پیدا ہوگا جو ساری دنیا کی رہنمائی کرے گا اور قیامت تک کے لیے اللہ تبارک و تعالی ان کو نبی بنائیں گے جو ساری دنیا کو صحیح راستے پر لائے گا اور دنیا کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی عطا فرمائے گا حقیقت میں یہ مدارس اسی روشنی کو عام کرنے کے لیے میں اپ سے صاف کہتا ہوں کہ یہ وہ رسمی اسکول نہیں ہیں یا کالجوں کی طرح نہیں ہیں کہ جہاں کچھ پڑھا دیا جائے اور وہاں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ فن ہو یا علم کہلایا جائے حقیقت میں وہ اس لیے ہوتا ہے کہا کہ دنیا بن جائے ادمی دنیا میں ایک اچھی زندگی گزار لے اس کے معاش کا انتظام ہو جائے لیکن یہ جو اخرت کا علم ہے جو اللہ کے اخری نبی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم کو ملا یہ کامیابی کا علم ہے جو اخرت کی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے اگر یہ علم ہمارے سامنے نہ ہو تو ہم اخرت کی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے ہمیں جو راستہ ملا ہے کامیابی کا اور جو ہمیں جنت کی طرف لے جاتا ہے جنت کا راستہ بتاتا ہے اس کی باریکیاں دکھاتا ہے اور اس کی ناہواریاں بھی ہم کو بتاتا ہے کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے کون سا راستہ ہے صحیح رخ کی طرف لے جائے گا اور کون سا راستہ ہمیں غلط سمت کی طرف لے جائے گا ہمیں یہ ساری باتیں حضور پاک علیہ الصلوۃ والسلام سے معلوم ہوئی ہیں اور اپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرات صحابہ نے سیکھیں ان سے تابعین نے سیکھیں ان سے سلف نے سیکھیں اور انہی بزرگوں سے اللہ تبارک و تعالی نے ہمیں یہ دین دیا یہ نظام شریعت کا عطا فرمایا اس پر مضبوطی کے ساتھ جمنا حقیقت میں یہ علم سے صحیح وابستگی ہے یہ دنیا میں اس وقت جو اپ کو بگاڑ نظر اتا ہے مسلمانوں کے اندر جو اپ کو اس وقت ایک زوال کی کیفیت نظر اتی ہے ہر جگہ مسلمان رسوا ہیں پریشان ہیں اور ساری دنیا ان پر مسلط ہے میں اپ سے صاف کہتا ہوں لوگ کہتے ہیں کہ علم سے دوری کا اس کا نتیجہ ہے معاشی کمزوری اس کا کہ نتیجے میں ایسا ہو رہا ہے میں اپ سے صاف کہتا ہوں کہ ساری چیزیں ایک طرف اس کا سب سے بڑا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ ہم نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جو مبارک نظام ہے اپ کا دیا ہوا جو راستہ ہے ہم نے اس سے انحراف کیا اج ہماری زندگی میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جو جھلک نظر انی چاہیے اپ کی سنتوں کا جو اثر نظر انا چاہیے اور جو علم ہم حاصل کرتے ہیں اس علم کے اندر اللہ نے جو ایک نور رکھا ہے ایک روشنی رکھی ہے وہ روشنی جو ہماری زندگی میں چمکنی چاہیے ہماری پیشانیوں سے چمکنی چاہیے ہمارے اخلاق سے نظر انی چاہیے ہمارے معاملات سے لوگوں کے سامنے وہ ایسی واضح طریقے پر انی چاہیے کہ لوگ سمجھ سکیں کہ اسلام کیا ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے اپ مسلمان علاقوں میں جائیے اپ کو کہیں ہاں صحیح اسلام کی مکمل تصویر اسانی سے نظر نہیں ائے گی اجتماعی جو نظام زندگی ہمیں ملا ہے اج مسلمان علاقوں میں اپ کو وہ نظام زندگی نظر نہیں ائے گا میں اپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے زوال کا جو سب سے بڑا سبب ہے وہ اس علم نبوت سے دوری ہے حقیقت میں جس کو دنیا سمجھتی ہے کس کو دنیا علم کہتی ہے میں اس کی ناقذی نہیں کرتا وہ سائنس کا علم ہو وہ ٹیکنالوجی کا علم ہو وہ میڈیکل کا علم ہو یا دنیا کے وہ سارے علوم ہیں جو وقت کی ضرورت ہے میں ان کو وقتی علوم کہتا ہوں ان کی میں یہ نہیں کہتا ان کی ضرورت نہیں ہے ان کی ضرورت اپنی جگہ پر ہے لیکن یاد رکھیے ان علوم میں اپ اسمانوں پر چلے جائیے اخری درجے کی بلندیوں تک چلے جائیے لیکن اگر خدانخواستہ اپ کا تعلق علم نبوت سے نہیں ہے اپ کے اندر وہ اخلاقی زندگی نہیں جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمائی تھی تو اپ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے ہمارے سامنے دنیا کے نمونے ہیں حضور پاک علیہ الصلوۃ والسلام سے پہلے کیسے دنیا میں ایسے ایسے زمانے گزرے کہ علم کے میدان میں ادمی کہاں سے کہاں پہنچا یہ اہرام مصر اپ دیکھ لیجئے اتنے بڑے بڑے پتھر کس طرح وہ اونچی اونچی جگہ پر چڑھائے گئے لے جائے گئے دنیا نے نہ جانے کہاں تک ترقی کی اور پھر زوال پذیر ہوئی اور کیوں زوال پذیر ہوئی جب جب اس نے اپنا تعلق اسمان سے کمزور کیا وحی الہی سے کمزور کیا وہ دنیا گوال کے اخری حد تک پہنچ گئی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت تشریف لائے دنیا گویا کہ سسک رہی تھی علم تھے اپنی جگہ پر لیکن وہ علم بھی تباہی کے راستے پر تھے انسان کیا تھا جانور تھا ایسے واقعات تاریخ میں موجود ہیں کہ ادمی کھانا کھا رہا ہے اور ایک غلام کو ایک ستون میں باندھ دیا گیا اس کے کپڑوں میں اگ لگا دی گئی اس کی روشنی میں انسان بیٹھ کر کھانا کھائے اس وقت کے بڑے بڑے وزرا اور بڑے بڑے جو اونچے طبقے کے تعلق رکھنے والے لوگ سمجھے جاتے تھے وہ بیٹھ کے کھانا کھائیں اور جب وہ دم توڑنے لگتا تھا تو پک ٹائم ہوتا تھا اس کو دیکھنے کے لیے ٹوٹے پڑتے تھے یہ درندگی تھی انسانوں کی جو ادمی گویا کہ دلدل میں دھنستا چلا جا رہا تھا لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے وما ارسلناک الا رحمت اللعالمین ہم نے اپ کو جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا اپ کی رحمت کا دائرہ دیکھیے جانوروں کو فائدہ پہنچا نباتات کو فائدہ پہنچا دنیا کے گوشے گوشے کو فائدہ پہنچا اور اپ کی اس رحمت کا صدقہ تھا اج جو اپ کو دنیا میں بہار نظر ارہی ہے جو ترقیات نظر ارہی ہیں کہ اپ کو جو بجلی کی روشنی نظر ارہی ہے سچی بات یہ ہے اگر غور کیا جائے اور ان کی بنیادوں کو تلاش کیا جائے تو یہ بنیادیں وہ ہیں جو مسلمانوں نے فراہم کی تھیں اور یہ ان کو ترقیات کہاں سے حاصل ہوئیں یہ ان کے اندر ذوق کہاں سے پیدا ہوا یہ وعلمک ما لم تکن تعلم کا نتیجہ تھا یہ اقرا بسم ربک کا نتیجہ تھا کہ پہلی وحی جو اللہ تبارک و تعالی نے اتاری اس میں فرمایا پڑھیے اپنے پروردگار کے نام کے ساتھ پڑھیے اللہ کا نام جب وابستہ ہوگا علم کے ساتھ تو وہاں سے نور نبوت ائے گا وہاں سے اللہ تبارک و تعالی کی ان تجلیات کا مظہر نظر ائے گا جس کے نتیجے میں انسان انسان بنے گا میں اپ سے صاف کہتا ہوں اگر ہم ترقی چاہتے ہیں اگر ہم دنیا میں ایک ایسی زندگی چاہتے ہیں جس کی دنیا پیاسی ہے میں اپ سے کیا کہوں اپ یورپ جائیے امریکہ جائیے اپ ان لوگوں کو دیکھیے جن کے پاس سب کچھ ہے جن کی جنہوں نے ستاروں پر کمندیں ڈالی جو سمندروں کی گہرائیوں تک چلے گئے اور کیسے کیسے لالو گہر انہوں نے دریافت کیے اور کیسی کیسی ترقی کی لیکن اج واقعہ یہ ہے جو اپنی زندگی سے عاجز ہیں اس لیے ان کے پاس زندگی کا سہرا نہیں ان کے پاس سکون نہیں وہ سکون کی تلاش میں در بدر ٹھوکریں کھاتے ہیں اگر کوئی سکون ان کو دے سکتا تھا تو یہ نور نبوت ہے جو اللہ نے اپ کے دلوں میں رکھا جو اللہ نے کتابوں کے اندر رکھا افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ کتابیں بعض مرتبہ الماریوں میں بند کر دی جاتی ہیں ہم نہ اس نور نبوت سے خود فائدہ اٹھاتے ہیں اور نہ دنیا کو فائدہ ہم پہنچانے کی اپنے اندر صلاحیت پیدا کرتے ہیں میں یہ پیغام دینا چاہتا ہوں جو حضرات یہاں پر ائے ہیں وہ سمجھیں کہ ہم نمائندہ رسول ہیں ہم اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں ہم پر کیا ذمہ داری ہے یہ دنیا جو بھٹک رہی ہے جو ہاتھ پاؤں مار رہی ہے جس کو اپنے اپنی منزل کی خبر نہیں اخرت کی وہ کامیابی جو ہماری اصل ہماری بنیاد ہے اور جس کے بغیر یہ دنیا کیا ہے اور کتنے دن کی ہے کون کتنے دن جیتا ہے یہ دنیا کی کامیابی حقیقت میں اخرت کی کامیابی پر محاصل ہے اور واقعی یہ ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ہمارے سامنے راستہ کھولا ہے اگر اسی راستے پر اپنی زندگی کو ہم لے ائیں اور اس علم سے ہماری صحیح وابستگی ہو تو ہم لوگوں کو وہ پیغام دے سکتے ہیں ہم لوگوں کے سامنے انسانیت کے وہ راستے کھول سکتے ہیں اور درد و محبت کا ہم ان کو وہ پیغام دے سکتے ہیں جس کی دنیا کو ضرورت ہے یہ اس وقت کی سب سے بڑا سب سے بڑا ہمارا کام ہے اگر ہم یہ طے کر لیں ہمارے ان مدارس میں جو پیغام دیا جاتا ہے جو علم نبوت یہاں پڑھایا جاتا ہے جو تعلیم اس کی دی جاتی ہے وہ بنیادی ہے بہت سے لوگ نہیں سمجھتے اور یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے جو علوم ہیں اس کے بغیر اج کے نہیں بڑھ سکتے میں کہتا ہوں کہ اپ ان دوسرے علوم میں مہارت پیدا کریں لیکن اگر اپ علم نبوت سے تعلق نہیں رکھتے اپ کے اندر وہ صحیح انسانیت نہیں اپ کے اندر وہ صحیح اسلام کے تقاضوں پر اس کا نہ فہم ہے اور نہ اس پر عمل ہے تو اپ کامیاب نہیں ہو سکتے اپ دنیا کی تاریخ دیکھیے جو شروع کی صدیاں گزری ہیں تقریبا 700 سال تک مسلمان کیا تھے انہی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے اور یہیں پر وہ جانوے تلمس علماء کے سامنے طے کرنے والے اللہ نے ان کو کہاں سے کہاں پہنچایا انہی میں شاہ ولی اللہ پیدا ہوتے ہیں انہی میں سید احمد شہید پیدا ہوتے ہیں انہی میں مولانا قاسم نانوتوی اور مولانا رشید احمد گنگوہی پیدا ہوتے ہیں حکیم الامت تھانوی پیدا ہوتے ہیں علامہ سید سلمان نذوی اور مولانا علی میاں پیدا ہوتے ہیں مولانا الیاس اور مولانا یوسف پیدا ہوتے ہیں لیکن کب پیدا ہوتے ہیں جب ان کے اندر وہ جذبہ قربانی ہوتا ہے اگر خدانخواستہ ہمارے مدارس سے پڑھنے والے طلباء یہ سوچتے لگ جائیں ہمارے معاش کا انتظام کیا ہوگا یاد رکھیے یہ مدرسوں کے لیے عدالے حیثیت عرفی کے متضاد ہے میں صاف کہتا ہوں یہ مدرسے معاش کا انتظام کرنے کے لیے نہیں قائم ہوتے یہ فکر معاش پیدا کرنے کے لیے قائم ہوتے ہیں ہمیں صحیح زندگی دینے کے لیے قائم ہوتے ہیں ان قربانیوں کے ساتھ اگر ہم تیار ہو کر میدان میں ا گئے اپ اپنی قیمت کو نہیں سمجھتے اللہ نے اپ کے اندر ہمارے مدرس میں پڑھنے والے جو طلباء ہیں میں ان سے کہتا ہوں اللہ نے جو جوہر چھپایا ہے ان کے سینوں میں جو نور نبوت اللہ نے رکھا ہے اگر اس کی صحیح قدر کے ساتھ وہ اگے بڑھیں گے اللہ ان کو مقام عطا کرے گا جو نہ پہلے کسی کو ملا ہے انہی حضرات کو ملا جو اس راستے پر چلے اور اس کے نتیجے میں اللہ تبارک و تعالی نے ان سے حفاظت دین کا کام لیا اپ جانتے ہیں 1947 میں جب ملک تقسیم ہوا حال کیا تھا ملک کا نہیں لگتا تھا کہ مسلمان یہاں رہ جائیں گے وہ ختم کر دیے جائیں گے مٹا دیے جائیں گے لیکن کیا ہوا اللہ تبارک و تعالی نے ہماری ان علماء کو کھڑا کیا انہوں نے مکاتب کے ذریعے سے مدارس کے ذریعے سے تبلیغ کے ذریعے سے دعوت کے ذریعے سے ایسے انتظام کیا کہ الحمدللہ یہ مدرسے ہیں یہ مسجدیں ہیں یہ داڑیاں اور ٹوپیاں ہیں اگر خدانخواستہ ان کی محنت نہ ہوتی اور وہ قربانیاں اور وہ جفاکشی نہ ہوتی اور ان کے وفاق نہ ہوتے تو اج شاید ہم مسلمان نہ ہوتے میرے دوستوں اور بھائیوں دوبارہ ضرورت اسی بات کی کہ ہمیں علم دین کی حقیقت کو سمجھیں اس کی قیمت کو سمجھیں ہم نے اس کو معمولی سمجھا ہے ہم سمجھتے ہیں یہ مدرسے میں بچے پڑھتے ہیں کیا کریں گے ارے کیا کریں گے یہ تمہارا دین بچائیں گے یہ تمہاری حفاظت کریں گے یہ اسلام کے قلعے ہیں انہی قلعوں سے دین کی حفاظت ہوگی اور قیامت تک ہوگی انشاءاللہ انہی مدارس سے لیکن ان مدارس کا قیام اور پھر ان کا استحکام یہ ہماری ذمہ داری ہے ہم ان کو اگے بڑھائیں ہم ان کو ترقی دیں یہ سمجھ کر کہ یہاں کے پڑھنے والے بچے یہ معمولی نہیں ہیں اللہ ان کے ذریعے سے دین کی حفاظت کا کام کرے گا یہ ہے علم نبوت اور اللہ تبارک و تعالی نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو جو فرمایا وعلمک ما لم تکن تعلم وکان فضل اللہ علیک عظیما اپ کو اللہ نے وہ سکھایا جو اپ جانتے نہ تھے اور اللہ کا اپ پر فضل عظیم ہے اپ کو اللہ نے کیا سکھایا جو علم دیا جو وحی الہی اپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری اور پھر وحی الہی کی اپ نے جو تشریف فرمائی قران کی تشریح کون سی معتبر ہے جو تشریح اپ نے فرمائی جو تفسیر اپ نے فرمائی جو تفسیر صحابہ نے فرمائی وہ تفسیر معتبر ہے اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قران کا جو علم ہمیں عطا فرمایا قران اپ پر اتارا گیا اس کے الفاظ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک نکتے کی حفاظت کے ساتھ امت تک منتقل فرمائے اور پھر اس کی وضاحت فرمائی جیسے ذکر اللہ نے قران مجید میں فرمایا ثم ان علینا بیان ہمارے ذمے قران مجید کی حفاظت بھی ہے اور ہمارے ذمے اس کا بیان بھی ہے یہ بیان کس نے کیا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا یہ وہ علم ہے جس کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ وعلمک ما لم تکن تعلم وکان فضل اللہ علیک عظیما اپ پر تو اللہ کا بڑا فضل ہے اللہ نے اپ کو کیسے کیسے علوم سے سرفراز فرمایا اللہ نے اپ کو جنت دکھائی دوزخ دکھائی اپ کو معراج پر لے جایا گیا اللہ اپ سے ہم کلام ہوا کیسی کیسی نعمتیں ملیں کیسے کیسے علوم ملے اللہ تبارک و تعالی کا فضل ہے کہ اپ کے ذریعے سے وہ علوم امت تک منتقل ہوئے اور اللہ نے نجات کے سامان کے طور پر اور نجات کی ضمانت کے طور پر امت کو دیے کہ امت ان کی حفاظت کرے اور یہ وہ امانت ہے جو الحمدللہ باقی ہے اور اس امانت سے جو اپنے اپ کو مربوط کرے گا انشاءاللہ وہ فضل عظیم کسی نہ کسی درجے میں حاصل کرے گا جو فضل عظیم اللہ تبارک و تعالی نے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا اور یقینا اپ کو جو مقام ملا نہ کسی کو ملا ہے نہ ملے گا نہ انبیاء کو ملا نہ اولیاء کو ملا نہ فرشتوں کو ملا کوئی اس کے معمولی سے معمولی درجے تک شاید نہیں پہنچ سکتا جو مقام سرکار دو عالم حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے دیا اور اللہ نے امت کی نجات کو اپ کی وابستگی اور اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے ساتھ مربوط فرمایا اور یہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اعلان کرایا گیا اپ یہ فرما دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو کون کہہ رہا ہے حضور سے کہلوایا جا رہا ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپ اعلان کر دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو میری پیروی کرو اللہ تمہیں اپنا محبوب بنا لے گا اس سے بڑھ کر کیا مقام ہو سکتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی نے اپنی محبوبیت کی شرط یہ لگائی کہ نبی کے راستے پر ا جاؤ نبی کے راستے پر چلو یہ تمہارے لیے اخری درجے کی فضیلت ہے کہ اللہ تمہیں اپنا محبوب بنا لے گا میرے دوستوں میرے بھائیوں یہی وہ علم ہے جس سے اج وابستگی کی ضرورت ہے اور اج کے اس دور میں جب کہ ہمارے نوجوان خطرے میں ہیں ہماری بچیاں خطرے میں ہیں انے والی نسلیں خطرے میں ہیں میں صاف کہتا ہوں ان مدارس کی قیمت کو پہچانیے اور اسی طرح جگہ جگہ مکاتب قائم کیجئے کوئی محلہ خالی نہ ہو کوئی مسجد خالی نہ ہو جس سے مکاتب قائم نہ کیے جائیں اور کوئی بچہ ایسا نہ ہو اور کوئی بچی ایسی نہ ہو جو دین کی ضروری تعلیم حاصل نہ کرے اپ بھیج رہے ہیں اسکول میں کالجوں میں اپ بھیجئے میں نہیں روکتا لیکن اگر اپ نے ان کے ایمان کا انتظام نہ کیا تو یاد رکھیے اپ نے خیانت کی اپنے بچوں کے ساتھ اور کل یہیں بچے فریاد کریں گے قیامت میں اللہ کی بارگاہ میں یا اللہ ہمارے یہ بڑے ہیں ہمارے سرپرست انہوں نے ہمیں گمراہ کیا اے اللہ ان کو دوہرا عذاب دے اللہ کہے گا ضعف سب کو دوہرا عذاب ملے گا اللہ ہماری اپ کی حفاظت کرے ہمیں اپنے بچوں کو بھی بچانے کی ضرورت ہے ہم اسکولوں میں بھیجتے ہیں

[32:41]اپ فرض سمجھیے کہ اپ مسجدوں میں مکتب میں بھیجئے اور ان کی انتظام کیجئے ان کے دینی تعلیم کا نماز درست ہو جائے کلمہ درست ہو جائے عقیدہ درست ہو جائے دین پر اعتماد ان کا بحال ہو جائے اور اس کے ساتھ ساتھ میں یہاں تک کہتا ہوں اپ اسلامک اسکول جا بجا قائم کیجئے کہا کہ اپ کے بچے صحیح اسلامک اسکولوں میں تعلیم حاصل کریں مسلمانوں کے اسکول نہیں مسلمانوں کا حال اس قدر خراب ہے اسکول قائم کرتے ہیں اور وہاں وندے ماترم پڑھواتے ہیں اور شرکیہ کلمات کہلواتے ہیں اور جا کے خدا جانے کیا کیا خرافات کرواتے ہیں اللہ تبارک و تعالی حفاظت کرے خدا جانے اسلام بھی باقی رہا ہے ختم ہو گیا ایسے اسکولوں کا کوئی بھروسہ نہیں مسلمان جو اسکول قائم کرتے ہیں خالص معاش کے لیے تجارت و بزنس کے لیے ذرا پروا نہیں ہوتی اللہ نے مسلمان بنایا تھوڑی فکر ہوتی اسکول کو تھوڑا سا صحیح رخ دے دیتے تو ہم کہتے ہیں اسلامک اسکول ایسے قائم کیجئے کہ 100 فیصد مسلمان بچے اور بچیاں ہمارے اسکولوں میں تعلیم حاصل کریں اور اسی کے ساتھ ساتھ اپ نوجوانوں کے لیے جمع جمع میں خطاب ہوتا ہے تمام لوگوں کے لیے بوڑھوں کے لیے عام لوگوں کے لیے اس خطاب میں ایسی باتیں کہیے کہ جس سے ان کی زندگی تو سدھر جائے اور زندگی کا رخ درست ہو جائے اور جو معاشی جو جو سماجی خرابیاں ہیں ان خرابیوں کو اپ دور کریں ان خطابات کے ذریعے سے اور اسی طرح اپ در تفسیر کا انتظام کیجئے قران مجید کی تفسیر کا علماء درس دیں دوسرے نہیں دوسروں کے لیے درست نہیں علماء درس قران دیں ہمارا نوجوان اس میں شریک ہوں قران کا جو پیغام توحید کا ہے اس سے عقیدہ درست ہوتا ہے سماج کی اصلاح ہوتی ہے اس کے ذریعے سے ہم ان تک پہنچنے کی کوشش کریں اپنی بچوں کے لیے بڑی بچیوں کے لیے اور خواتین کے لیے ہم ہفتے والی نظام قائم کریں کہ دو تین محلوں کو جوڑ کر ہم ان کا انتظام کر دیں وہاں ان کا ان کو دین پر اعتماد ان کا بحال کرایا جائے دین کی ضروری باتیں ان کو بتائی جائیں یہ سب ضروری کام ہیں اگر انشاءاللہ ہم یہ کام کریں گے تو نور نبوت سے ہمارا تعلق قائم رہے گا علم نبوت سے ہمارا تعلق قائم رہے گا اور اللہ تبارک و تعالی کا ہمارے ساتھ فضل ہوگا اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جو فضل عظیم فرمایا ہے یقینا اپ کے سائے میں ائے گا اپ کے دین کو اختیار کرے گا اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو اختیار کرے گا وہ سنت نماز کی وہ سنت روزے کی وہ سنت عبادتوں کی وہ سنت معاملات کی وہ سنت معاشرت کی اپس کے تعلقات کی ہمارا عجیب حال ہے ہم نے دین کو خانوں میں بانٹ رکھا ہے نماز کا اہتمام کرتے ہیں وراثت کی تقسیم شریعت کے مطابق نہیں کرتے اور اس کے ساتھ بہت سے غلط کام کرتے ہیں لاماری کرتے ہیں میرے بھائیوں میرے دوستوں یہ کون سا دین ہے دین پورا نظام حیات ہے اس میں ساری باتیں بتائی گئیں ہمارا عقیدہ مضبوط ہو یہ بنیادی بات ہے الا الخلق والامر کان کھول کر سن لو اسی کا کام ہے پیدا کرنا اور اسی کا کام ہے دنیا کا نظام چلانا جب اللہ کے اختیار میں ہے اپنے عقیدے کو مضبوط کیجئے سارے اولیاء انبیاء سب اللہ کے بندے ہیں اللہ کے محتاج ہیں اللہ کی قدرت اور اس کا تصرف ہے جو دنیا جس سے چل رہی ہے اپ یہ عقیدہ ہمارا مضبوط ہو اور اس کے ساتھ ساتھ شریعت پر پورا عمل کیا جائے عبادتوں کا اہتمام نمازوں کا اہتمام جماعت کا اہتمام اگر زکوۃ فرض ہے تو اس کی ادائیگی کی فقر اور جو فرائض ہیں ان کا اہتمام اور پھر جو حقوق العباد ہیں ان کا خیال ان کی فکر ماں باپ کا حق پڑوسیوں کا حق کیا ہے اور اخلاقی زندگی کو صحیح رخ پر لانے کی کوشش کہ دوسروں کی مدد کی جائے ضرورت مندوں کے ادمی کام ائے کوئی بھوکا ہے اس کو اپ کھانا کھلائیے حدیث میں کیا اتا ہے شروع میں جب پوچھا جاتا تھا اسلام کیا ہے تو اپ فرماتے تھے طعام لوگوں کو کھانا کھلانا اسلام کا بنیادی حصہ ہے ہم نے ان چیزوں کو بالکل فراموش کر دیا جو اسلام کی اخلاقی زندگی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اسلام کسی تصویر لوگوں کے سامنے نہیں جاتی ہم طے کریں کہ ہم اپنے اپنے عمل سے دکھائیں گے کہ اسلام کیا ہے کس کو دکھائیں گے اللہ کو دکھانا ہے اللہ کے لیے جانا کے لیے کرنا ہے لیکن جو لوگ دین کے دشمن ہیں دین کو نہیں جانتے ہم ان کو بھی دکھائیں اسلام کیا ہے اور ان کی غلط فہمیاں دور کریں اس کے لیے ایسے کام کریں جس کے ذریعے سے وہ اسلام سے قریب ہوں یہ بھی ہماری بڑی بنیادی ذمہ داری ہے اگر ان باتوں کا انشاءاللہ ہم نے اہتمام کیا تو یہ اپ کا جمع ہونا مبارک ہوگا اپ یہ پیغام لے کر کے جائیے اور یہ مدرسہ الحمدللہ ایک تحفہ ہے اپ کے لیے اس کی اپ قدر کیجئے اس کو ترقی دیجئے اپنے بچوں کو تعلیم دیجئے یہاں کہ وہ اچھی اچھی انسان کی حیثیت سے اور سب سے بڑھ کر ایک عالم ربانی کی حیثیت سے وہ میدان میں ائیں اور لوگوں کی رہنمائی کریں انشاءاللہ اگر اپ میدان عمل میں ائیں گے اور اس کے لیے قربانی دیں گے اور فکر کریں گے اللہ تبارک و تعالی کی مدد شامل حال ہوگی اللہ تبارک و تعالی کبھی محنت کرنے والوں کی محنت کو ضائع نہیں کرتا

[41:38]فی سبیل اللہ جو ہمارے لیے اپنی جانیں کھپاتے ہیں ہم ان کے لیے اپنے راستے کھولتے ہیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں حالات کتنے ہی خراب ہو جائیں ہو چکے ہیں پہلے بھی لیکن اگر انشاءاللہ ہم میدان میں ائے ہم نے کوشش کی ہم نے برادران وطن کے ذہنوں کو صاف کیا خدمت کے ذریعے سے ذہن سازی کر کے صحیح لٹریچر پہنچا کر اور پھر اپنی اخلاقی زندگی کو بلند کر کے میں بھی ماشاءاللہ گزرا اچھے علاقے سے گزرا مجھے اچھا لگا کہ مسلمانوں کا علاقے میں جاتا ہوں میں اکثر کہتا بھی ہوں کہ وہاں جائیں گندگی جابجا نظر اتی ہے کوڑے کے ڈھیر نظر اتے ہیں کیا جوڑ ہے اسلام کا مسلمانوں کا ان گندگیوں سے ہمارے دل صاف ہوں ہمارے دماغ صاف ہوں ہمارے محلے بھی صاف ہوں ہمارے لباس بھی صاف ہوں دیکھنے والا ائے تو دیکھے ماشاءاللہ مسلمان یہاں رہتے ہیں یہاں ائے تو ادمی کا جی چاہے کہ ہم یہاں کوئی کارٹر لے لیں ہم یہاں کوئی مکان لے لیں یہاں تو فضا میں خوشبو نظر اتی ہے اپس میں محبتیں نظر اتی ہیں کہیں لڑائی جھگڑے نہیں کہیں کہیں گالی گلوچ نہیں یہ اسلامی زندگی ہے ہم اس کا بھی نمونہ پیش کریں انشاءاللہ برادران وطن جو شکوہ کرتے ہیں انشاءاللہ وہ شکوہ دور ہوگا اور ایک اچھی تصویر انشاءاللہ ہماری سامنے جائے گی ان کے اور کیا بعید ہے کہ اللہ تعالی اس کو ان کی ہدایت کا ذریعہ بنائے لیکن سب سے بڑھ کر ہماری ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کو جب جب علماء امت نے اور سب سے بڑھ کر حضرات صحابہ نے پورا کیا اللہ نے دنیا ان کے قدموں پر لے کر ڈال دی اور جس کا پہلے تصور نہیں ہو سکتا تھا وہ سب کچھ ہوا کہ وہ حضرات صحابہ مکہ مکرمہ میں ایک ادمی مسلمان ہوا دو چار مسلمان ہوئے دس مسلمان ہوئے اور وہ کیا تھے اونٹوں کے چرانے والے لیکن اللہ نے ان کو سارے عالم کا گلے بان بنایا جو کسی شاعر نے کہا کہ جن کو کافور پہ ہوتا تھا نہ مکہ دھوکہ جن کو کافور پہ ہوتا تھا نہ مکہ دھوکہ بن گئے خاک کو اکسیر بنانے والے یہ ان کے اخلاق و ایمان کا نتیجہ تھا اج ضرورت اسی بات کی ہے ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں اللہ پر یقین ہو اور پھر اپنے اخلاق کو ہم بلند کریں اللہ اس کے ذریعے سے ہمارے اندر بہتر تبدیلی پیدا کرے گا ایک اچھا سماج وجود میں ائے گا اور انشاءاللہ یہ نور نبوت اور یہ علم نبوت ایک وراثت ہے اللہ ہم کو انشاءاللہ اس کا صحیح امین بنائے گا اور ہمارے ذریعے سے اللہ تبارک و تعالی ساری دنیا میں اللہ تعالی اس پیغام کو عام کرے گا اور اس روشنی کو پھیلائے گا اللہ تعالی تمام لوگوں کو جزائے خیر دے اپ دیر سے بیٹھے ہیں ہم اپ کو مبارکباد دیتے ہیں اس مدرسے میں پہلی مرتبہ میں حاضر ہوا اور الحمدللہ ہماری عزیزو نے یہ مدرسہ قائم کیا اور میرے کہنے ہی پر الحمدللہ ان لوگوں نے محنت کی مجھے امید ہے کہ انشاءاللہ اس سے پورے علاقے کو کیا انشاءاللہ دور دور فائدہ پہنچے گا اور انشاءاللہ یہ ایک روشنی کا مینار ثابت ہوگا اللہ تبارک و تعالی اس کی حفاظت کرے اس میں برکت عطا فرمائے اور ترقی عطا فرمائے میں ان کے لیے بھی دعا کرتا ہوں جو حضرات اس کام میں لگے ہوئے ہیں اور اپ حضرات کے لیے بھی دعا کرتا ہوں اپ محبت سے ائے اور دین کو محبت کی نگاہ سے دیکھنا اور دین کے کاموں کو محبت کی نگاہ سے دیکھنا اور ان کی قدر کرنا اللہ کی رضا کا بہت بڑا ذریعہ ہے اللہ تعالی اس کو قبول کرے اپ کے انے کو قبول کرے واللہ تعالی اس پورے علاقے کے لیے اس کو خیر کا ذریعہ بنائے واخر دعوانا الحمدللہ رب العالمین

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript