[0:00]کیا اپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ کچھ خواتین عمر کے ایک حصے میں پہنچ کر اچانک بہت تنہا ہو جاتی ہیں یا پھر ان کی وہ عزت و مقام نہیں رہتا جو پہلے ہوا کرتا تھا۔
[0:10]ہمیں لگتا ہے کہ شاید ہماری قسمت خراب ہے یا شاید وقت بدل گیا ہے۔ لیکن حقیقت میں اکثر خاموشی سے ایک ایسی غلطی ہو رہی ہوتی ہے جس کا احساس ہمیں تب ہوتا ہے جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے۔
[0:23]35 سے 40 سال کی عمر زندگی کا وہ مقام ہے جہاں اپ کی زبان اپ کی سب سے بڑی دشمن بن سکتی ہے۔
[0:28]اب اج میں اپ کو وہ پانچ پردے بتاؤں گی جو اپ کو اپنی زندگی پر ڈال لینے چاہیے چاہے سامنے اپ کی سگی بہن یا بہترین سہیلی ہی کیوں نہ ہو۔
[0:36]اگر اپ اپنی باقی زندگی ایک ملکہ کی طرح پر وقار اور پرسکون گزارنا چاہتی ہیں تو اج کی یہ گفتگو اپ کے لیے سننا بہت ضروری ہے۔
[0:44]السلام علیکم ایوری ون ائی ہوپ یو ار ڈوئنگ گریٹ ویل ائی ایم ہپی ٹوڈیز ٹاپک اباؤٹ دا فائیو تھنگز یوشوڈ الویز کیپ پرائیویٹ۔
[0:52]ویڈیو کے تمام پوائنٹس بہت اہم ہیں اور اپ کی زندگی پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔
[0:56]بٹ پوائنٹ نمبر تھری از ویری امپورٹنٹ ڈونٹ مس اٹ کیونکہ اگر اپ نے یہ نقطہ سمجھ لیا تو اپ اپنی زندگی سے ادھے سے زیادہ ذہنی تناؤ اور لوگوں کے طعنوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں گی۔
[1:06]تو چلیے بغیر وقت ضائع کیے شروع کرتے ہیں۔
[1:09]میری پیاری بہنوں سب سے پہلی بات جو اپ کو پتھر پر لکیر کی طرح لکھ لینی ہے وہ یہ ہے کہ اپنے گھر کی چار دیواری کے اندر ہونے والے واقعات کو کبھی بھی دہلیز سے باہر نہ جانے دیں۔
[1:20]35 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے ہم خواتین اکثر تھک جاتی ہیں۔ کبھی شوہر کا سخت رویہ، کبھی سسرال کی تلخ باتیں یا کبھی بچوں کی نافرمانیاں۔
[1:29]ہمارا دل چاہتا ہے کہ کوئی کندھا ملے جس پر سارا رکھ کے ہم رو دیں۔ کوئی ایسی سہیلی یا رشتہ دار ہو جسے ہم اپنے دل کا حال سنا کر بوجھ ہلکا کر سکیں۔
[1:38]لیکن یہاں ایک بہت بڑا مگر ہے۔ اپ جس انسان کو اپنا ہمدرد سمجھ کر اپنے گھر کے حالات سنا رہی ہوتی ہیں وہ دراصل اپ کے گھر میں لگی اگ کو بجھانے نہیں بلکہ اسے دیکھنے اتا ہے۔
[1:49]لوگ اپ کی باتیں سن کر وقتی طور پر اپ کے ہمدرد ضرور بنیں گے۔ لیکن جیسے ہی اپ کی پیٹھ مڑے گی وہ باتیں دوسروں کے سامنے ایک تماشہ بن کر سنائی جائیں گی۔ اس کا نقصان کیا ہوتا ہے۔
[2:00]جب اپ اپنے شوہر کی برائی کسی تیسرے کے سامنے کرتی ہیں تو اپ خود اپنے ہاتھوں سے اپنے شوہر کی عزت کم کر رہی ہوتی ہیں۔ یاد رکھیے کل کو اپ کا اپنے شوہر سے صلح تو ہو جائے گی۔
[2:10]اپ کے دل میں ان کے لیے محبت پھر سے جاگ جائے گی۔ لیکن جس تیسرے بندے کو اپ نے وہ کڑوی باتیں بتائی تھی اس کی نظر میں اپ کا شور ہمیشہ کے لیے برا ہی رہے گا۔
[2:22]وہ کبھی بھی انہیں وہ عزت نہیں دے پائے گا جو پہلے تھی۔ اگر اپ کا دل بہت بوجھل ہے۔ اگر اپ کو لگ رہا ہے کہ اپ ٹوٹ رہی ہیں تو کسی انسان کے پاس جانے کی بجائے مصلے کا انتہاب کریں۔
[2:30]اپنے رب سے باتیں کریں اس کے سامنے روئیں۔ وہ ذات اپ کے انسوؤں کی لاج بھی رکھے گی اور اپ کو۔
[2:35]اگر اپ کا مسئلہ بہت سنگین ہے۔ تو صرف اس انسان سے مشورہ کریں جو واقعی اپ کا خیر خواہ ہو۔ جس کے پاس اس مسئلے کا کوئی حل ہو۔
[2:46]محض دل ہلکا کرنے کے لیے اپنے گھر کی عزت کو سر بازار نہ لائیں۔ خاموشی میں جو وقار ہے وہ شکائتوں میں کبھی نہیں۔
[2:50]اب ہم اتے ہیں اس دوسرے نقطے کی طرف جسے اکثر خواتین بہت معمولی سمجھتی ہیں لیکن یقین جانیے یہ اپ کے سکون کی چابی ہے۔
[2:57]وہ ہے اپ کی مالی حیثیت اور اپ کی چھپی ہوئی سیونگ ہم خواتین کی ایک عادت ہوتی ہے کہ جب ہمارے پاس تھوڑا سا پیسہ جمع ہو جائے یا شوہر کی ترقی ہو جائے یا ہمیں کہیں سے کوئی مالی فائدہ پہنچے۔
[3:10]تو ہم خوشی میں ا کر اپنی سہیلیوں یا قریبی رشتہ داروں کو سب بتا دیتی ہیں۔ ہمیں لگتا ہے ہم اپنی خوشی بانٹ رہی ہیں۔
[3:17]لیکن کیا اپ جانتے ہیں کہ اپ کی یہ خوشی دوسروں کے دل میں کیا پیدا کر رہی ہے۔ کبھی غور کیجئے گا جب اپ کسی کو اپنی مالی اسودگی بتاتی ہیں تو سامنے والا یا تو اپ سے حسد کرنے لگتا ہے یا پھر وہ اپ سے ایسی امیدیں لگا لیتا ہے جو شاید اپ پوری نہ کر سکیں۔
[3:33]اور دوسری طرف اگر اپ اپنی تنگی کا ذکر کرتی ہیں تو لوگ ہمدردی تو دکھائیں گے مگر اہستہ اہستہ اپ سے کنارہ کشی تیار کر لیں گے۔
[3:40]کیونکہ کوئی بھی ڈوبتی ہوئی کشتی کا مسافر نہیں بننا چاہتا۔ 35 سال کی عمر کے بعد اپ کا مالی راز اپ کی سب سے بڑی ڈھال ہوتا ہے۔
[3:48]جب اپ سب کچھ ظاہر کر دیتی ہیں تو اپ اپنی وہ پر اسرار طاقت کھو دیتی ہیں جو لوگوں کو اپ کا احترام کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
[3:58]لوگ اپ کے پیسوں کا حساب لگانے لگتے ہیں اپ کے ہچوں پر نظر رکھنے لگتے ہیں اور اپ کی زندگی کا سکون برباد ہو جاتا ہے۔
[4:04]اس کا سب سے بہترین حل یہ ہے کہ اپنی مٹھی باندھ رکھیں اپ کے پاس کتنا ہے۔ یا اپ کتنی تنگی میں ہے یہ صرف اپ کے اللہ کو معلوم ہونا چاہیے۔
[4:12]اپنی بچت کا ایک راز رکھیں تاکہ ضرورت کے وقت وہ اپ کے کام ائے۔ نہ کہ دوسروں کی نظروں کا نشانہ بن سکے۔
[4:20]یاد رکھیں ہاتھ کی مٹھی تب تک قیمتی ہوتی ہے جب تک وہ بند ہو۔ کھل جائے تو اس کی قیمت ختم ہو جاتی ہے۔
[4:26]اپنی مالی زندگی کو خاموشی سے گزاریں کیونکہ برکت ہمیشہ ان چیزوں میں ہوتی ہے جو چھپا کر رکھی جائے۔
[4:32]اب میں اس پوائنٹ کی بات کرنے لگی ہوں جو اپ کی مینٹل پیس کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے۔ وہ ہے اپ کا ماضی۔ اپ کے وہ پچھتاوے جنہیں ہم پاسٹ شیڈوز کہتے ہیں۔
[4:41]اکثر ہم کسی پر بہت زیادہ ٹرسٹ کر کے اپنے دل کے وہ راز کھول دیتے ہیں جو برسوں سے دفن ہوتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ دل ہلکا ہو رہا ہے لیکن سائیکالوجی کہتی ہے کہ جب اپ اپنی پرانی غلطیاں یا ناکامیاں کسی کو بتاتی ہیں تو اپ کے سامنے والے کو اپنے خلاف ویپن فراہم کر رہی ہوتی ہیں۔
[4:58]کیا اپ نے کبھی غور کیا ہے کہ لوگ اپ کی ان باتوں کا کیا کرتے ہیں۔ دنیا بہت ججمنٹل ہے۔
[5:04]اج جو اپ کی باتیں سن کر ہمدردی دکھا رہا ہے کل وہی انسان کسی بھی معمولی بحث میں اپ کو انہی باتوں کا ٹانٹ طعنہ دے کر اپ کی سیلف ریسپیکٹ کو خاک میں ملا سکتا ہے۔
[5:15]اگر اپ چاہتی ہیں کہ اپ کی اگلی زندگی پر وقار ہو تو اپنے ماضی کو کلاسیفائیڈ رکھیں۔ خفیہ رکھیں۔
[5:22]جب اپ بار بار اپنے پچھتاوؤں کا ذکر کرتی ہیں تو اپ کی پرسنلٹی سے وہ روب اور کشش ختم ہو جاتی ہے۔ اپ دوسروں کی نظر میں کمزور عورت بن جاتی ہیں۔ دنیا کبھی کمزور کی عزت نہیں کرتی۔
[5:33]اس کا حل بہت سادہ ہے۔ اگر اپ سے کوئی غلطی ہوئی تھی تو اس کا معاملہ اللہ پر چھوڑیں۔ اس پاک ذات نے اپ کے عیبوں پر پردہ ڈالا ہے تو اپ اسے پبلک کیوں کر رہے ہیں؟
[5:42]اپنے ماضی کو ایک ایسی کلوز چیپٹر بنا دیں جسے دوبارہ کھولنے کی اجازت کسی کو نہ ہو۔
[5:48]یاد رکھیے اپ کا ماضی اپ کی پہچان نہیں۔ اپ کا اج اپ کی پہچان ہے۔ اپنے کل کو ایسی قبر بنا دے جس کا نشان بھی کسی کو معلوم نہ ہو تاکہ اپ کا اج اور اپ کا مستقبل محفوظ رہ سکے۔
[6:00]پوائنٹ نمبر فور جو اپ کی زندگی کا رخ بدل سکتا ہے وہ اپ کے فیوچر پلانز اور وہ خواب جنہیں اپ پورا کرنا چاہتی ہیں۔
[6:07]ہم اکثر جوش میں ا کر اپنے نئے ائیڈیاز اپنے گھر کے بڑے فیصلے سب کو بتا دیتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے لوگ ہمیں انکریج کریں گے۔
[6:15]سائیکالوجی کہتی ہے جب اپ کسی کام کو کرنے سے پہلے ہی اس کا چرچہ کر دیتی ہیں تو اپ کا دماغ وہ سیٹسفیکشن پہلے ہی سے حاصل کر لیتا ہے جو کام مکمل ہونے کے بعد ملنا چاہیے تھا اور نتیجے میں اپ کی موٹیویشن ختم ہو جاتی ہے۔
[6:29]کیا اپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ جب بھی اپ نے کسی بڑے کام کا ارادہ ظاہر کیا وہ کام مکمل ہونے سے پہلے ہی کسی نہ کسی رکاوٹ کا شکار ہو گیا۔
[6:37]اسے ہم اپنی زبان میں نظر بد کہتے ہیں اور جدید دنیا میں اسے نیگیٹو انرجی کہتے ہیں۔ ہر انسان اپ کی ترقی پر دل سے خوش نہیں ہوتا۔
[6:46]اپ کا ایک سیکرٹ کلین جب پبلک ہو جاتا ہے تو وہ ان لوگوں کے لیے ایک ٹارگٹ بن جاتا ہے جو نہیں چاہتے کہ اپ ان سے اگے نکلیں۔
[6:54]35 سال کی عمر کے بعد اپ کے پاس غلطی کی گنجائش کم ہوتی ہے۔ جب اپ اپنے ادھورے منصوبے بتاتی ہیں اور وہ کسی وجہ سے پورے نہیں ہو پاتے تو لوگ اپ کو صرف باتیں کرنے والے سمجھنے لگتے ہیں۔
[7:05]اس سے اپ کی امیج اپ کی باتوں کا اثر ختم ہو جاتا ہے۔ اس کا بہترین حل ہے خاموشی سے محنت کریں۔ اپ کی کامیابی کا شور تب مچنا چاہیے جب کام مکمل ہو جائے۔
[7:14]اپنے ائیڈیاز کو کلاسیفائیڈ ڈاکومنٹ کی طرح چھپا کر رکھیں۔ جب تک بھی زمین کے اندر چھپا رہتا ہے وہ محفوظ رہتا ہے جیسے ہی وہ باہر نکلتا ہے اسے دنیا کے اعتراف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
[7:24]یاد رکھیے اپنی منزل کا پتہ کسی کو نہ دیں تاکہ کوئی اپ کا راستہ نہ روک سکے۔ اپنی کامیابی کو ایک سرپرائز رہنے دیں کیونکہ خاموشی سے کی گئی محنت کا پھل ہمیشہ سب سے میٹھا اور پر وقار ہوتا ہے۔
[7:37]پانچواں اور اخری پوائنٹ جو اپ کے سوشل سٹیٹس کو برقرار رکھنے کے لیے بہت ضروری ہے وہ ہے اپ کی جسمانی کمزوریاں اور اپ کی صحت سے جڑے مسائل۔
[7:45]35 کی عمر کے بعد ہمارے جسم میں کچھ تبدیلیاں انا شروع ہوتی ہیں۔ کبھی تھکن کبھی جوڑوں کا درد کبھی ذہنی تناؤ۔
[7:51]اکثر خواتین کی عادت ہوتی ہے کہ وہ ہر محفل میں ہر رشتہ دار کے سامنے اپنی بیماریوں کا اشتہار لگا دیتی ہیں۔
[7:58]ہمیں لگتا ہے کہ ہمیں ہمدردی ملے گی لیکن سائیکالوجیکلی دیکھا جائے تو اپ دوسروں کو یہ سگنل دے رہی ہوتی ہیں کہ اب اپ کمزور اور نکارہ ہو رہی ہیں۔
[8:08]کیا اپ نے کبھی غور کیا ہے کہ جب اپ بار بار کہتی ہیں کہ مجھ سے اب کام نہیں ہوتا یا میری طبیعت ہر وقت خراب رہتی ہے۔ تو سامنے والے کے دماغ میں اپ کی امیج ایک وکٹم مظلوم کی بن جاتی ہے۔
[8:18]دنیا ہمیشہ طاقتور اور متحرک لوگوں کے ساتھ جڑنا چاہتی ہے۔ جیسے ہی اپ اپنی بیماریوں کو پبلک کرتی ہیں لوگ اپ کو اہم ذمہ داریوں سے نکالنا شروع کر دیتے ہیں۔ اپ کی باتوں کا وزن ختم ہو جاتا ہے۔
[8:30]یہ عمر اپ کے گلاو اور اپ کے گریس کی ہے۔ جب اپ ہر وقت اپنی تکلیف کا ذکر کرتی ہیں تو اپ کا اپنا دماغ بھی ان بیماریوں کو قبول کر لیتا ہے۔
[8:38]اپ کی پرسنلٹی میں وہ کشش نہیں رہتی جو ایک پر اعتماد خاتون کا حصہ ہے۔ لوگ اپ سے ملنے کی بجائے اپ سے کترانے لگتے ہیں کیونکہ کوئی بھی ہر وقت رونا رونے والی انسان کے پاس بیٹھنا پسند نہیں کرتا۔
[8:50]اس کا حل یہ ہے کہ اپنی صحت کا معاملہ پرائیویٹ رکھیں اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ اچھی ڈائٹ لیں۔ اپنی صحت پر خاموشی سے کام کریں۔
[8:57]لیکن دنیا کے سامنے ہمیشہ انرجیٹک اور پوزیٹو نظر ائیں۔ اپنی تکلیف کا ذکر صرف ان سے کریں جو واقعی اپ کا علاج یا خدمت کر سکتے ہیں۔
[9:05]یاد رکھیے اپ کا جسم اپ کے روح کا گھر ہے۔ اسے دوسروں کے لیے بحث کا موضوع نہ بنائیں۔ اپنی تکلیف کو اپنی خاموشی میں چھپائیں۔ اپنی مسکراہٹ کو اپنا زیور بنائیں۔
[9:15]جب اپ خود کو جوان اور توانہ ظاہر کریں گی تو دنیا بھی اپ کو اسی احترام کی نظر سے دیکھے گی۔ تو میری پیاری بہنوں یہ تھی وہ پانچ باتیں جو اپ کی زندگی کو پرسکون اور پروقار بنا سکتی ہیں۔
[9:25]یاد رکھیے پرائیویسی از پاور راز داری ہی طاقت ہے۔ اگر اپ کو اج کی یہ ویڈیو پسند ائی ہے اور اپ کو لگتا ہے کہ یہ باتیں اپ کی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہیں۔
[9:36]تو ویڈیو کو لائک ضرور کیجئے گا اپنی رائے کا اظہار کمنٹ سیکشن میں ضرور کریں۔ میں اپ کے کمنٹس کا انتظار کروں گی۔
[9:42]اپ کو ان پانچوں میں سے سب سے اہم بات کون سی لگی ہے اور ہاں اس ویڈیو کو اپنی فرینڈز اینڈ فیملی میں ضرور شیئر کیجئے گا۔
[9:47]تاکہ وہ بھی اپنی زندگی کو بہتر بنا سکیں۔ اگر اپ میرے چینل زون شبیرہ پر نئے ہیں تو مزید ایسی ویڈیوز کے لیے سبسکرائب کرنا مت بھولیے سٹے ہیپی ٹیک کیئر اف یور لو اینڈ کیپ ان یور پلیز سی یو ان دا نیکسٹ ویڈیو اللہ حافظ۔



