Thumbnail for Life Of Prophet Muhammad | Episode 1 | Ashab-e-Feel  by Light Of Islam

Life Of Prophet Muhammad | Episode 1 | Ashab-e-Feel

Light Of Islam

12m 42s1,982 words~10 min read
YouTube auto captions
Transcript source

YouTube auto captions

This transcript was extracted from YouTube's auto-generated caption track. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Timestamped outline
Use this transcript
Related transcript hubs

[0:00]ایک بادشاہ جو غرور اور طاقت کے نشے میں کعبہ کو گرانے کے ارادے سے ہاتھیوں کا فوج لے کر مکہ کی طرف چل پڑا تھا میں اس پرانی عمارت کو مٹی میں ملا دوں گا پھر دیکھتا ہوں لوگ عبادت کے لیے کہاں جاتے ہیں یہ واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت سے صرف 55 دن پہلے کا ہے۔ یمن کا بادشاہ ابراہا جس نے ایک عظیم الشان گرجا گھر تعمیر کیا تھا اور یہ کوشش کرنے لگا کہ عرب کے لوگ بجائے خانہ کعبہ کے یمن آکر اس گرجا گھر کا حج کیا کریں۔ جب مکہ والوں کو یہ معلوم ہوا تو قبیلہ کنانہ کا ایک شخص غیض و غضب میں جل بھون کر یمن گیا اور وہاں کے گرجا گھر کی سخت توہین کی اسے ناپاکی سے آلودہ کردیا۔ جب ابراہا نے یہ واقعہ سنا تو وہ تیش میں آپے سے باہر ہو گیا اس پرانی عمارت کا اتنا احترام میرے اس شاندار محل سے زیادہ آج ہم اس دیوار کو مٹا دیں گے جس پر عرب ناز کرتے ہیں۔ جاؤ۔ لشکر کو تیار کرو

[1:07]ایک خوفناک لشکر مکہ کی طرف بڑھا۔ ہر قدم کے ساتھ زمین کانپ رہی تھی۔ اور خانہ کعبہ کو ڈھانے کے لیے ہاتھیوں کی فوج لے کر مکہ پر حملہ کردیا۔ بچاؤ ہمیں بچاؤ اس قہر سے بچاؤ اور اس کی فوج کے اگلے دستہ نے مکہ والوں کے تمام اونٹوں اور دوسرے مویشیوں کو چھین لیا۔ اس میں 200 یا 400 اونٹ عبدالمطلب کے تھے۔ آقا اب ہم کیسے اونٹ واپس لائیں گے آپ فکر مت کرو۔ عبدالمطلب کو اس واقعہ سے بڑا رنج پہنچا۔ حضرت عبدالمطلب نے فیصلہ کیا کہ وہ خود اس ظالم بادشاہ سے ملاقات کریں گے۔ اب مجھے خود وہاں جانا ہو گا اور اپنے اونٹ واپس چھڑانے ہوں گے۔ چنانچہ آپ اس معاملے میں گفتگو کرنے کے لیے اس کے لشکر میں تشریف لے گئے۔ جب ابراہا کو معلوم ہوا کہ قریش کا سردار اس سے ملاقات کرنے کے لیے آیا ہے تو اس نے آپ کو اپنے خیمہ میں بلا لیا۔ اسے خیمہ میں بلاؤ اور جب عبدالمطلب کو دیکھا کہ ایک بلند قامت رعب دار اور نہایت ہی حسین و جمیل آدمی ہیں جن کی پیشانی پر نور نبوت کا چاہ و جلال چمک رہا ہے تو صورت دیکھتے ہی ابراہا مرعوب ہو گیا اور بے اختیار تخت شاہی سے اتر کر آپ کی تعظیم و تکریم کے لیے کھڑا ہو گیا اور اپنے برابر بٹھا کر دریافت کیا کہ کیسے سردار قریش یہاں آپ کی تشریف آوری کا کیا مقصد ہے۔ عبدالمطلب نے جواب دیا میں یہاں آپ سے جنگ کرنے نہیں آیا ہوں ہمارے اونٹ اور بکریاں جو آپ کے لشکر کے سپاہی ہانک لائے ہیں اور آپ ان سب مویشیوں کو ہمارے حوالے کر دیجیے۔ اے سردار قریش میں تو یہ سمجھتا تھا کہ آپ بہت ہی حوصلہ مند اور شاندار آدمی ہیں۔ مگر آپ نے مجھ سے اپنے اونٹوں کا سوال کر کے میری نظروں میں اپنا وقار کم کر دیا اونٹ اور بکری کی حقیقت ہی کیا ہے میں تو آپ کے کعبہ کو توڑ پھوڑ کر برباد کرنے کے لیے آیا ہوں آپ نے اس کے بارے میں کوئی گفتگو ہی نہیں کی۔ مجھے تو اپنے اونٹوں سے مطلب ہے۔ کعبہ میرا گھر نہیں ہے بلکہ وہ خدا کا گھر ہے۔ وہ خود اپنے گھر کو بچا لے گا۔ مجھے کعبہ کی ذرا بھی فکر نہیں ہے۔ یہ سن کر ابراہا اپنے فرعونی لہجے میں کہنے لگا اے سردار مکہ سن لیجئے میں کعبہ کو ڈھاکر اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا اور روئے زمین سے اس کا نام و نشان مٹا دوں گا کیونکہ مکہ والوں نے میرے گرجا کی بڑی بے حرمتی کی ہے اس لیے میں اس کا انتقام لینے کے لیے کعبہ کو مسمار کر دینا ضروری سمجھتا ہوں پھر آپ جانیں اور خدا جانے میں آپ سے سفارش کرنے والا کون

[4:20]اس گفتگو کے بعد ابراہا نے تمام جانوروں کو واپس کر دینے کا حکم دیا اور عبدالمطلب تمام اونٹوں اور بکریوں کو ساتھ لے کر اپنے گھر چلے آئے اور مکہ والوں سے فرمایا مکہ والوں اپنے اپنے مال مویشی لو اور فورا شہر خالی کر دو اس ظالم کا لشکر کسی بھی وقت پہنچنے والا ہے۔ میرے ساتھ پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ جاؤ ہم اس کے ہاتھیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے مگر یاد رکھو ہمارا رب سب دیکھ رہا ہے مکہ جو ہر وقت رونقوں سے بھرا رہتا تھا آج وہاں ایک عجیب سا سناٹا چھا گیا تھا ہر طرف خاموشی تھی مگر دلوں میں ایک طوفان پل رہا تھا حضرت عبدالمطلب کے کہنے پر ہر شخص اپنے گھر کو خدا کے حوالے کر کے نکل رہا تھا مکہ والوں نے پہاڑوں کی اوٹ سے نیچے جھانک کر دیکھا وہاں ان کا شہر خالی پڑا تھا اور سامنے سے موت کا ایک لشکر بڑھتا چلا آرہا تھا ماؤں نے اپنے بچوں کے منہ پر ہاتھ رکھ دیے تاکہ ان کے رونے کی آواز دشمن تک نہ پہنچے۔ بیٹا خاموش رہو ہم بے بس ہیں مگر وہ اوپر والا سب دیکھ رہا ہے

[5:39]انسان جا چکے تھے اب صرف خدا باقی تھا ابراہا کو لگا کہ راستہ صاف ہے مگر اسے یہ معلوم نہ تھا کہ آج مکہ کی دیواریں نہیں آسمان کا نظام مقابلہ کرے گا شہر خالی ہو چکا تھا لوگ جا چکے تھے مگر قریش کا سردار اپنے مالک کو تنہا کیسے چھوڑ دیتا وہ جا رہا تھا اس در کی طرف جہاں سے کبھی کوئی خالی نہیں لوٹا عبدالمطلب پھر خود اپنے خاندان کے چند آدمیوں کو ساتھ لے کر خانہ کعبہ میں گئے اور دروازے کا حلقہ پکڑ کر انتہائی بے قراری اور گریہ و زاری کے ساتھ دربار باری میں اس طرح دعا مانگنے لگے کہ اے اللہ بے شک ہر شخص اپنے اپنے گھر کی حفاظت کرتا ہے۔ لہذا تو ابھی اپنے گھر کی حفاظت فرما۔ عبدالمطلب نے یہ دعا مانگی اور اپنے خاندان والوں کو ساتھ لے کر پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے اور خدا کی قدرت کا جلوہ دیکھنے لگے ابراہا جب صبح کو کعبہ ڈھانے کے لیے اپنے لشکر جرار اور ہاتھیوں کی قطار کے ساتھ آگے بڑھا صبح کا سورج ابھی پوری طرح نکلا بھی نہ تھا کہ ابراہا کا غرور زمین بوس ہونے لگا مقام مغمس پر پہنچتے ہی وہ ہاتھی جس پر اسے ناز تھا خدا کے حکم سے مٹی پر بیٹھ گیا اٹھ محمود آگے بڑھ یہ کیا بدمی ہے اس جانور کو لوہے کی سلاخوں سے مارو ہر بار اسے مارا گیا ہر بار للکارا گیا مگر وہ بے زبان جانور اپنے خالق کی حد پہچان گیا تھا جب اسے یمن کی طرف موڑا جاتا تو وہ دوڑنے لگتا مگر جیسے ہی رخ مکہ کی طرف ہوتا وہ پھر بیٹھ جاتا اور پھر آسمان کا رنگ بدلنے لگا سمندر کی جانب سے ننھے ننھے پرندوں کے جھنڈ نمودار ہوئے۔ ان کی چونچوں اور پنجوں میں تین تین ننھی کنکریاں تھیں جو دیکھنے میں معمولی تھیں۔ مگر ان پر قہر الہی کی مہر لگی تھی۔ سمندر کی جانب سے حرم کعبہ کی طرف آنے لگے ابابیلوں کے ان دل بادل لشکروں نے ابراہا کی فوجوں پر اس زور شور سے سنگباری شروع کر دی کہ آن کی آن میں ابراہا کے لشکر اور اس کے ہاتھیوں کے پرخچے اڑ گئے ابابیلوں کی سنگ بازی خداوند قہار جبار کے قہر و غضب کی ایسی مار تھی کہ جب کوئی کنکری کسی فیل سوار کے سر پر پڑتی تھی تو وہ اس آدمی کے بدن کو چھیدتی ہوئی ہاتھی کے بدن سے پار ہو جاتی تھی۔ کیا ہو رہا ہے میرے ہاتھ پگل رہے ہیں بھاگو خدا کا عذاب اگیا ابراہا کی فوج کا ایک آدمی بھی زندہ نہیں بچا۔ اور سب کے سب ابراہا اور اس کے ہاتھیوں سمیت اس طرح ہلاک و برباد ہو گئے کہ ان کے جسموں کی بوٹیاں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر زمین پر بکھر گئیں۔

[8:32]چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ

[8:52]یعنی اے محبوب کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا کیا اس نے ان کی چال کو ناکام نہیں بنا دیا اور ان پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے بھیجے جو ان پر پکی ہوئی مٹی کے کنکر پھینک رہے تھے پس اللہ نے انہیں چبائے ہوئے بھوسے کی طرح کر دیا ظلم کا سورج ڈوب چکا تھا اور تکبر مٹی میں مل گیا تھا وہ گھر جسے دنیا تنہا سمجھ رہی تھی آج اس کے مالک نے اسے قیامت تک کے لیے سر بلند کر دیا تھا اب وقت تھا پہاڑوں سے نیچے اترنے کا خدا کی قدرت کا نشان اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا سردار قریش جب نیچے تشریف لائے تو ان کی آنکھوں میں آنسو تھے اور دل میں شکر کا ایک سمندر موجزن تھا۔ انہوں نے کعبہ کی دیواروں کو چوما اور اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو گئے۔ یہ کرامت حضرت عبدالمطلب کو صرف قریش کا سردار ہی نہیں بلکہ پورے عرب کا مستجاب الدعوات جن کی دعا قبول ہوتی ہو بزرگ بنا گئی لوگ دور دور سے ان کے دیدار کے لیے آنے لگے ہر شخص جان گیا تھا کہ یہ وہ عظیم ہستی ہے جس پر آسمان کی خاص نظر کرم ہے۔ ابراہا کا لشکر مٹی میں مل چکا تھا عرب کے ریگستان میں اب ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی تھی مگر یہ خاموشی کسی طوفان کی نہیں تھی بلکہ اس سحر کے انتظار کی تھی جو قیامت تک کے لیے انسانیت کی تقدیر بدلنے والی تھی اس نور کی امانت حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھی وہ عبداللہ جو قریش کے سب سے لاڈلے اور حسین نوجوان تھے کیونکہ ان کی پیشانی میں نور محمدی اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ جلوہ گر تھا۔ قبیلہ قریش کی تمام حسین عورتیں ان کے حسن و جمال پر فریفتہ اور ان سے شادی کی خواستگار تھیں۔ مگر عبدالمطلب ان کے لیے ایک ایسی عورت کی تلاش میں تھے جو حسن و جمال کے ساتھ ساتھ حسب و نسب کی شرافت اور عفت و پارسائی میں بھی ممتاز ہو۔ عجیب اتفاق کہ ایک دن عبداللہ شکار کے لیے جنگل میں تشریف لے گئے ملک شام کے یہودی چند علامتوں سے پہچان گئے تھے کہ نبی آخر الزماں کے والد ماجد یہیں ہیں۔ چنانچہ ان یہودیوں نے حضرت عبداللہ کو بارہا قتل کر ڈالنے کی کوشش کی۔ اس مرتبہ بھی یہودیوں کی ایک بہت بڑی جماعت تیار ہو کر اس نیت سے جنگل میں گئی کہ عبداللہ کو تنہائی میں دھوکے سے قتل کر دیا جائے مگر اللہ تعالی کی حفاظت نے اس مرتبہ بھی اپنے فضل و کرم سے بچا لیا۔ عالم غیب سے چند ایسے سوار ناگہاں نمودار ہوئے جو اس دنیا کے لوگوں سے کوئی مشابہت ہی نہیں رکھتے تھے۔ ان سواروں نے آکر یہودیوں کو مار بھگایا اور عبداللہ کو باحفاظت ان کے مکان تک پہنچا دیا وہب بن مناف بھی اس دن جنگل میں تھے اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھا اس لیے ان کو عبداللہ سے بے انتہا محبت و عقیدت پیدا ہو گئی اور گھر آکر یہ عزم کر لیا کہ میں اپنی نور نظر آمنہ کی شادی عبداللہ ہی سے کروں چنانچہ اپنی اس دلی تمنا کو اپنے چند دوستوں کے ذریعے انہوں نے عبدالمطلب تک پہنچا دیا خدا کی شان کہ عبدالمطلب اپنے نور نظر عبداللہ کے لیے جیسی دلہن کی تلاش میں تھے وہ ساری خوبیاں حضرت آمنہ بنت وہب میں موجود تھیں عبدالمطلب نے اس رشتے کو خوشی خوشی منظور کر لیا چنانچہ 24 سال کی عمر میں حضرت عبداللہ کا حضرت بی بی آمنہ سے نکاح ہو گیا اور نور محمد حضرت عبداللہ سے منتقل ہو کر حضرت بی بی آمنہ کے شکم اطہر میں جلوہ گر ہو گیا ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر ایک سلسلہ شروع کیا ہے اس کے اگلے حصے میں ایپیسوڈ نمبر دو میں ہم حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے بعد حضور علیہ السلام کی ولادت کا پرنور واقعہ

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript