Thumbnail for "Story near death experience - Part 2" | 2nd Night Mahe Ramadhan 1441 A.H - 25th April 2020 by KSIJ Bujumbura Media

"Story near death experience - Part 2" | 2nd Night Mahe Ramadhan 1441 A.H - 25th April 2020

KSIJ Bujumbura Media

12m 35s944 words~5 min read
Auto-Generated

[0:07]اس بیابان میں جو شخص کرسی پر بیٹھا ہوا تھا اس کے سامنے ٹیبل پر ایک بڑی کتاب رکھی تھی اور جیسے ہی میں اس کے قریب آیا اس نے کہا کہ یہ کتاب کھولو اپنا نامہ اعمال کھولو تو فوری سے میرے ذہن میں قرآن کی وہ آیت آنے لگی کہ اقرا کتاب کفاہ نفسی علی حسیب جس کا ترجمہ یہ تھا کہ اپنا نامہ اعمال کو کھولو اور پڑھو اور آج حساب کے لیے تم خود ہی کافی ہو۔ وہ کہتا ہے کہ میں نے ڈرتے ڈرتے اپنا نامہ اعمال کھولا وہ کتاب کھولی جیسے ہی کتاب کھولی تو کتاب کے فرسٹ پیج پر لیفٹ سائیڈ پر ایک فگر لکھا ہوا تھا یہ لکھا ہوا تھا کہ 13 سال چھ ماہ اور چار دن میں پریشان ہو گیا کہ یہ فگر کون سا فگر ہے مجھے سمجھ نہیں آیا کہ 13 سال چھ ماہ اور چار دن سے کیا مراد ہے میں نے فورا اس شخص سے جو کرسی پر بیٹھا ہوا تھا اس سے پوچھا کہ یہ فگر کون سا فگر ہے اس نے مجھے جواب دیا کہ یہ اس وقت سے شروع ہو رہا ہے یہ فگر کہ جب سے تم بالغ ہوئے تھے تمہارے بالغ ہونے سے لے کر آج تک کے یہ دن ہیں 13 سال چھ ماہ اور چار دن تم بالغ ہونے کے بعد زندہ رہے ہو اس دنیا میں رہے ہو یہ والی اور جب میں نے اپنے نامہ اعمال کو غور سے دیکھا تو مجھے تین چیزیں محسوس ہوئیں اپنے نامہ اعمال میں پہلی چیز یہ محسوس ہوئی کہ جو نامہ اعمال تھا اس کے بیچ میں ایک مانیٹر کی طرح ایک فلم چلی ہوئی تھی مجھے پتہ چل گیا کہ یہ میری ساری زندگی کی فلم ہے۔ پہلی چیز یہ تھی دوسری چیز میں نے محسوس کیا کہ ایک ایک لمحے کو اس میں لکھا گیا ہے ایک ایک سیکنڈ کی بات اس میں درج ہے۔ اور تیسری چیز جو میں نے فیل کی وہ یہ تھی کہ جتنے بھی اعمال لکھے ہوئے تھے جو بھی میں نے انجام دیے تھے اس کے ساتھ ساتھ میری نیت بھی لکھی ہوئی تھی کہ اس عمل کے پیچھے میری نیت کیسی تھی تو یہ جب میں نے دیکھا تو میں تھوڑا سا گھبرا گیا۔ لیکن اس وقت مجھے یہ خوشی ہوئی جب میں نے پہلے پیج پر دیکھا کہ رائٹ سائیڈ پر جب میں بالغ ہوا تھا پہلے دن کے اعمال لکھے ہوئے تھے کہ میں نے اس دن کیا کیا اچھے کام انجام دیے۔ رائٹ سائیڈ پر لکھا ہوا تھا کہ میں نے نماز پڑھی، رائٹ سائیڈ پر لکھا ہوا تھا کہ میں مسجد میں گیا۔ لکھا ہوا تھا کہ میں نے والدین کا احترام کیا، صدقہ دیا اس دن جب میں بالغ ہوا۔ اور اور بھی بہت سی ڈیٹیل لکھی ہوئی تھیں اگلے دن کے نامہ اعمال میں۔ یہ کہتا ہے کہ میں بہت خوش ہوا کہ خدا کا شکر ہے کہ کل جو پہلا دن گزرا تھا اس میں مشکل تھی غیبت لیکن آج غیبت کی کوئی مشکل نہیں۔ میں نے دیکھا کہ اچانک سے دوسرے دن کے نامہ اعمال میں جو اچھے اعمال لکھے ہوئے تھے وہ بھی آہستہ آہستہ ڈیلیٹ ہونا شروع ہو گئے۔

[6:44]تو مجھے غصہ آ گیا میں نے اس شخص سے پوچھا کہ آج تو میں نے کوئی غیبت نہیں کی۔ پھر کیوں میرے یہ نیک اعمال سارے ضائع ہو گئے ہیں ڈیلیٹ ہو گئے ہیں۔ اس نے کہا یقینا تم نے یہ کام انجام دیے تھے، لیکن اس کے ساتھ تم نے اپنے بالغ ہونے کے پہلے دن اپنے ایک دوست کی غیبت کی تھی۔ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے باتیں کی تھیں۔

[7:33]اس لیے جتنے بھی اعمال اس دن کے تھے انہیں ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے اور انہیں تمہارے اچھے اعمال کو ٹرانسفر کر دیا گیا ہے تمہارے دوست کے اعمال میں۔

[7:54]یہ کہتا ہے کہ میں غصے سے جل اٹھا میں نے کہا ایک غیبت کی وجہ سے میرے اتنے اعمال ٹرانسفر ہو گئے ہیں۔

[8:14]تو جو شخص بیٹھا تھا اس نے مجھے جواب دیا جی کیونکہ آپ نے رسول اللہ کی یہ حدیث سنی ہوئی تھی۔

[8:33]کہ اتنی سپیڈ سے آگ خشک لکڑی کو نہیں جلاتی جتنی سپیڈ سے غیبت نیک اعمال کو جلا دیتی ہے۔ آپ نے یہ سب سنا ہوا تھا۔ یہ کہتا ہے کہ میں پریشان ہو گیا۔ میں نے کہا اب کیا کروں۔ تو یہ شخص جو کرسی پر بیٹھا تھا اس نے کہا کہ اگلا پیج الٹاؤ ورق پلٹو۔

[9:20]اگلے دن دیکھو کہ تمہاری ایکٹیویٹیز کیا تھیں۔ یہ کہتا ہے کہ میں نے دیکھا کہ اگلے دن میرے نامہ اعمال میں اچھے اچھے کام لکھے ہوئے تھے۔ کہ میں نے نماز پڑھی، قرآن پڑھا، نماز شب پڑھی، فقیروں کو کھانا کھلایا، والدین کی رسپیکٹ کی، لوگوں کا خیال رکھا، ہمسایوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا۔

[10:14]اور اور بھی بہت سی ڈیٹیل لکھی ہوئی تھیں۔ اگلے دن کے نامہ اعمال میں۔

[10:27]یہ کہتا ہے کہ میں بہت خوش ہوا کہ خدا کا شکر ہے کہ کل جو پہلا دن گزرا تھا اس میں مشکل تھی غیبت لیکن آج غیبت کی کوئی مشکل نہیں۔ میں نے دیکھا کہ اچانک سے دوسرے دن کے نامہ اعمال میں جو اچھے اعمال لکھے ہوئے تھے وہ بھی آہستہ آہستہ ڈیلیٹ ہونا شروع ہو گئے۔

[11:42]تو مجھے غصہ آ گیا میں نے اس شخص سے پوچھا کہ آج تو میں نے کوئی غیبت نہیں کی۔ پھر کیوں میرے یہ نیک اعمال سارے ضائع ہو گئے ہیں ڈیلیٹ ہو گئے ہیں۔ تو جو شخص بیٹھا تھا اس نے مجھے جواب دیا جی کیونکہ آپ نے رسول اللہ کی یہ حدیث سنی ہوئی تھی۔

[12:18]کہ اتنی سپیڈ سے آگ خشک لکڑی کو نہیں جلاتی جتنی سپیڈ سے غیبت نیک اعمال کو جلا دیتی ہے۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript