[0:00]یہ ایک مسلمان کی اور کافر کی معاشرت میں زمین اسمان کا فرق ہونا چاہیے تو یہ پوری کی پوری زندگی انسان کی عبادت سے عبارت ہے صبح سے لے کر شام تک انسان اللہ کی فرمانبرداری میں ہر معاملہ کرے۔
[0:11]اب مسلمان ہونے کے باوجود اگر حرام حلال کی تمیز نہیں کرتا تو پھر کافر میں اور اس میں کوئی فرق نہیں ہے۔ تو اس وجہ سے عبادت کا معنی صرف یہ نہیں ہے کہ انسان جو ہے وہ ظاہری طور پر ان اعمال کو بچا لائے جو اللہ رب العزت کی عبادت سے تعلق رکھتے ہیں بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ پوری زندگی انسان کی اللہ تعالی کی فرمانبرداری سے عبارت ہو تو یہ اصل میں انسان کا مقصد تخلیق ہے اسی طرح سے دوسری بات جو ارشاد فرمائی کہ اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کل کی بات جانتے ہیں تو ارشاد فرمایا کہ یہ بھی سب سے بڑا جھوٹ ہے کیونکہ اللہ رب العزت نے قران میں یہ بات ارشاد فرما دی کہ جو بھی کل ہونے والا ہے اس کو کوئی نفس نہیں جانتا سوائے اللہ رب العزت کے جیسا کہ اللہ تعالی نے سورہ لقمان کی اخری ایت میں پانچ چیزوں کا ذکر کیا انہی میں سے ایک یہ ہے۔ اس وقت جب اس کی موت نرخرے تک ا چکی ہوتی ہے تمہارے ہاتھوں میں موجود ہوتا ہے تمہارا پیشنٹ ہوتا ہے تمہارا بیٹا، تمہارا باپ، تمہاری بہن، تمہاری بیوی، تمہارے بچے، تمہارا کوئی بھی تمہاری ماں وہ تمہارے ہاتھوں کے اندر موجود ہوتا ہے اور تم کچھ نہیں کر پا رہے ہوتے ہو اللہ فرماتے ہیں کہ اگر تم اللہ کی سلطنت کے علاوہ کسی اور سلطنت کے باسی ہو تو ذرا اس کو لوٹا کر دکھاؤ۔ یہ جو جان اس کی نکل رہی ہے اس کو واپس کر کے دکھاؤ اللہ رب العزت ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرمائے۔
[1:28]اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین وعلی الہ وصحبہ اجمعین ومن تبعہم بااحسان الی یوم الدین رمضان المبارک میں خلاصہ مضامین قران مجید کے حوالے سے اج ہماری انشاءاللہ ستائیسویں نشست ہے جس میں انشاءاللہ تعالی ہم اللہ رب العزت کی توفیق سے ستائیسویں پارے کے مضامین کا مختصر طور پر جائزہ اپ کے سامنے رکھیں گے اللہ سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت مجھے اور اپ سب کو تمام سننے والوں کو دیکھنے والوں کو قران مجید کے ساتھ اپنے تعلق کو بہت گہرا اور مضبوط بنانے کی توفیق عطا فرمائے اور رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں سے صحیح معنوں میں ہمیں استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ پارہ نمبر 27 کے ابتداء میں سورہ زاریات کا کچھ حصہ ہے جس میں اللہ رب العزت نے جیسا کہ ہم نے پچھلے پارے کے اخر میں ذکر کیا تھا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کا تذکرہ کیا ہے جو دو مقاصد لے کر ائے تھے پہلے ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو اسحاق علیہ السلام کی خوشخبری دی اور اسی طرح سے اس کے بعد جو ہے وہ دوسرا جو مقصد تھا وہ قوم لوط کی طرف ان کو بھیجا گیا تھا تو ایت نمبر 31 میں جو پہلی ایت ہے اس پارے کی ابراہیم علیہ السلام نے پوچھا کہ اے اللہ تعالی کی طرف سے بھیجے گئے فرشتوں جن کو پہلے اپ کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ فرشتے ہیں اسی وجہ سے اپ ان کے لیے بنا ہوا بچھڑا لے کر ائے تھے لیکن ان لوگوں نے کھانے سے انکار کیا تو پھر اپ کو ائندہ ہوا کہ یہ فرشتے ہیں۔ تو پھر پوچھا کہ اپ کا انے کی جو مقصد ہے وہ کیا ہے تو انہوں نے بتایا کہ ہم مجرم قوم یعنی قوم لوط علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف بھیجے گئے ہیں اور ان کو جو ہے وہ عذاب دینے کے لیے اللہ رب العزت نے ہمیں مبعوث کیا ہے ہمیں بھیجا ہے۔
[3:00]تو ان کو اللہ رب العزت نے بہرحال یہ ہے کہ ان کو اللہ تعالی نے قوم لوط کو عذاب دیا جس کا پہلے سورہ ہود میں بھی تذکرہ گزر چکا ہے دیگر سورتوں میں بھی اللہ کے حکم سے ان فرشتوں نے اس پوری بستی کو جو کہ عمورہ اور سدوم یہ دو بستیاں تھیں۔ ان کو نیچے سے اٹھایا اور اٹھا کر اوپر لے جا کر جو ہے وہ چھتوں کے بل ان کو نیچے زمین پر دے مارا اور پھر اوپر سے اللہ رب العزت نے ان پر پتھروں کی بارش نازل کر دی اور ان کے اندر جو ہے وہ خواتین کو چھوڑ کر یعنی جو حلال طریقہ اللہ رب العزت نے رکھا تھا شادیوں کا نکاح کا اس کو چھوڑ کر یہ مردوں کے ساتھ جو ہے وہ اپنی خواہشات پوری کرتے تھے اور بدکاری کرتے تھے
[3:34]تو اتنی خطرناک اور اتنی سخت سزا اللہ رب العزت نے اس قوم کو دی۔ اس کے بعد اللہ رب العزت نے اسی سورت میں ایت نمبر 47 میں فرمایا کہ اور اسمان کو ہم نے اپنے ہاتھوں کے ساتھ بنایا اور بے شک ہم اس کو وسعت دینے والے ہیں۔ بہت ساری چیزیں کائنات کے اندر ایسی موجود ہیں جو ابھی تک ان کے اندر وسعت ہو رہی ہے جیسے اللہ رب العزت اس کو چاہتے ہیں اس کو وسعت دیتے جاتے ہیں مثال کے طور پر سب سے پہلے جو اس کائنات کا سب سے بڑا حسن ہے انسانیت انسان جو ہے اللہ رب العزت اس کو توسع دیتے جا رہے ہیں یعنی ابادی بڑھتی چلی جا رہی ہے اسی طرح سے ابادی کے تناسب سے جیسا کہ ابھی ہم اگر 30 35 40 سال پیچھے چلے جائیں تو ایک زمین سے بڑی مشکل سال میں دو فصلیں حاصل کی جاتی تھی اور اس میں بھی ایسا ہوتا تھا کہ اگر کبھی گندم ہے تو وہ کبھی اٹھ من نکل رہی ہے کبھی دس من نکل رہی ہے اور اج ایسا جو ہے وہ صورتحال ہو گئی ہے کہ ابادی بڑی ہے تو اللہ رب العزت نے جو فصلوں کی مقدار تھی اس کو بھی بڑھا دیا اج ایک ایکڑ سے 50 50 من اور 60 60 من جو ہے وہ غلہ جات اٹھائے جا رہے ہیں اور ایک سال میں تین تین چار چار اور ہائیبرڈ کی صورت میں تو بے شمار فصلیں ایک سال میں ایک ہی ایکڑ سے جو ہے وہ ایک ہی کھیت سے اٹھائی جا رہی ہیں۔ تو یہ اللہ تعالی کی جو ہے وہ اس میں رضا اور حکمت ہے اللہ رب العزت کے حکم سے اللہ نے فرمایا کہ ہم ان کو وسعت دیتے جا رہے ہیں ایسے ہی جو ہے وہ کائنات کے اندر ابادی ہے اور زمین ہے جیسا کہ مطلب اگر ہم تھوڑا سا پیچھے چلے جائیں تو جیسے فار ایگزامپل ہم کراچی کو دیکھتے ہیں۔ تو یہاں پر جو جیسے فیز سیون وغیرہ ہے یہ پہلے سمندر تھا پھر فیز سیون بن گیا پھر اس کے بعد سمندر نے مزید جگہ چھوڑی تو فیز ایٹ بن گیا تو اسی طرح سے جو ہے وہ یہ زمین کے اندر بھی جو ایکس ایکسڈ ہوتی جا رہی ہے ایکسٹینشن ہو رہی ہے اللہ تعالی کے حکم سے۔ اس کے بعد ایت نمبر 56 میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کہ انسانوں اور جنوں کو پیدا کرنے کا صرف ایک مقصد اللہ رب العزت نے بیان کیا ہے اور وہ ہے اللہ رب العزت کی عبادت اللہ تعالی کی بندگی اللہ تعالی کی فرمانبرداری۔ اور اس کا مطلب یہ نہیں ہے جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ صرف نماز روزہ حج زکوۃ کر لیا یعنی جن چیزوں کا تعلق ہمارے جو ہے وہ مسجد اور جو مدرسہ کے ساتھ ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ شاید صرف اسی بات کا نام دین ہے یہ دین نہیں ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے ہم نے 26ویں پارے میں پڑھا۔ اعرابیوں نے کہا کہ ہم ایمان لائے اللہ نے کہا نہیں ان سے کہیے کہ تم ابھی ایمان نہیں لائے بلکہ تم کہو کہ ہم نے صرف اسلام قبول کیا تو ظاہری اعمال جو ہیں یہ اسلام ہے اور ایمان جو ہے ایمان اصل میں انسان کی پوری دلی کیفیت کا نام ہے۔
[6:00]اللہ تعالی کے لیے تنہائی میں اللہ تعالی سے ڈرنا ہر وقت اللہ رب العزت کے حکم کے مطابق ماہ تول میں جو ہے وہ پورا کرنا حرام و حلال کا خیال کرنا۔ اسی طرح سے لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہے خندہ پیشانی سے پیش انا ہے اخلاق کے ساتھ پیش انا ہے۔ اور دیگر جتنے بھی معاملات ہیں ہمیشہ سچ بولنا ہے جھوٹ سے بچنا ہے چیٹنگ سے بچنا ہے یہ ساری چیزیں جو اللہ رب العزت کی فرمانبرداری میں اور عبادت کے اندر شامل ہیں۔
[6:45]تو یہ اللہ رب العزت نے انسان کا مقصد تخلیق بیان کیا ہے اللہ رب العزت نے فرمایا ایت نمبر 58 میں کہ اللہ رب العزت جو کہ بڑی قوت والا ہے وہی اصل میں رازق ہے وہی تمہیں سب کچھ جو ہے وہ عطا فرماتا ہے تو حقیقی رزق دینے والی ذات اللہ تعالی کی ہے۔
[7:21]جیسے اللہ تعالی نے بارہویں پارے کے شروع میں فرمایا کہ اللہ رب العزت ہی ہے جس کے ذمے ہر جاندار کا رزق اللہ رب العزت نے رکھا ہے۔ اس کے بعد سورہ طور ہے سورہ طور میں اللہ رب العزت نے سب سے پہلے ارشاد فرمایا طور اور طور کی قسم و کتاب مستور اور اسی طرح سے ایک کتاب لکھی ہوئی کتاب کی قسم جو کہ جلی کی طرح جو ہے وہ صفحات کے اندر لکھی ہوئی کھلے ہوئے صفحات ہیں ان کے اندر لکھی ہوئی کتاب ہے اس کی قسم وال بیت المعمور اور اسی طرح سے بیت المعمور کی قسم والسقف المرفوع اور بلند اسمان کی قسم وال بحر المسجور جوش مارتے سمندر کی قسم کہ یقینا اپ کے رب کا عذاب جو ہے وہ واقع ہونے والا ہے۔
[7:59]اس میں کچھ باتیں جو ہے وہ تفصیل طلب ہیں طور جو ہے کوہ طور ہے جہاں اللہ رب العزت نے موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو بلایا تھا اس کے کئی نام قران مجید میں سے مذکور ہیں ایک تو طور کا لفظ ہے اسی طرح سے طور سینہ بھی اس کو کہا جاتا ہے مدین سے مصر جاتے ہوئے شام میں وادی طوا اسی طور کے پاس ہی پڑتی ہے تو یہ اس کی جو ہے وہ ایگزیکٹ لوکیشن اور اس کی جیوگرافک جو کنڈیشن ہے وہ یہ ہے اور اس کے بعد اللہ رب العزت نے اسی طرح سے بیت المعمور کے بارے میں ارشاد فرمایا بیت المعمور کس کو کہا جاتا ہے بنیادی طور پر بیت اللہ کو بھی بیت المعمور کہا جاتا ہے اور اسی طرح سے بیت اللہ کے عین اوپر اسمانوں میں فرشتوں کی عبادت گاہ جہاں فرشتے جو ہے وہ اللہ تعالی کے گھر کا طواف کرتے ہیں وہاں بیت المعمور ہے اس کا نام بیت المعمور ہے اور اس کے بارے میں صحیح حدیث میں موجود ہے کہ روزانہ 70 ہزار فرشتے اس بیت المعمور کا طواف کرتے ہیں اور جو فرشتہ ایک مرتبہ وہاں سے طواف کر کے گزر جاتا ہے قیامت تک اس کی دوبارہ باری نہیں ائے گی تو یہ ساری قسمیں اس کے علاوہ دیگر چیزوں کی قسمیں کھانے کے بعد اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ یقینا اللہ رب العزت کا عذاب جو ہے وہ واقع ہونے والا ہے جب وہ واقع ہو جائے گا تو اس کو کوئی روک نہیں سکے گا جس دن اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کہ وہ لوگ جو ہیں وہ پہاڑ اس دن اللہ فرماتے ہیں کہ وہ چلتے پھریں گے ہلاکت ہے اس دن ان لوگوں کے لیے جو اللہ رب العزت کے دین کو اور نبیوں کو جھٹلانے والے ہیں۔
[9:29]اللہ رب العزت ہمیں ایسے انجام سے محفوظ رکھے اس کے بعد اللہ رب العزت نے ایت نمبر 17 سے 28 تک جنت کا تذکرہ کیا ہے جنت میں رہنے والے لوگوں کو جو نعمتیں اللہ تعالی کی طرف سے ملیں گی اسی میں اللہ تعالی فرماتے ہیں ایت نمبر 21 میں وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور اسی طرح سے ان کی اولادیں بھی جو ان کے ساتھ ایمان لائی ہیں اور وہ بھی نیک ہیں تو اللہ تعالی ان کو اپس میں ملا دیں گے یعنی جو ہے وہ اگر والدین بھی نیک ہیں اولادیں بھی نیک ہیں تو اللہ ان کو جنت میں جمع فرمائیں گے تو یہ بڑا ہی اللہ تعالی کی طرف سے انعام ہو گا۔ اس سے ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اگر میں اور اپ بذات خود تو نیک بننے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اپنی اولاد کو جو ہے وہ اللہ تعالی کے عذابوں سے نہیں بچا پاتے ان کو دیندار نہیں بناتے ان کو دین نہیں سکھاتے تو یہ سمجھ لیجئے کہ اپ جنت میں جانا اپ کا مشکل ہو جائے گا لہذا اگر اپ جنت میں جانا چاہتے ہیں تو کوشش کریں کہ پھر اپنی اولاد کو بھی اسی طرح سے تربیت کریں سیکنڈ بات یہ ہے کہ اگر اپ جنت میں چلے جائیں اپ کی اولاد جنت میں نہ جائے تو یہ کتنا ہی مشکل اور تکلیف دہ مرحلہ ہو گا انسان کے لیے اس لیے ہمیشہ انسان کو اس بات کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ اس کے بعد اللہ رب العزت نے ایت نمبر 29 سے 31 تک اللہ رب العزت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپ لوگوں کو نصیحت کرتے رہیے اپ اپنا کام جاری رکھیے اپ اللہ تعالی کی نعمت کے ساتھ نہ تو کاہن ہیں نہ تو جادوگر ہیں اور نہ ہی اپ جو ہے وہ جنون زدہ ہیں نہ ہی اپ پر العیاذ باللہ من ذالک پاگل پن کا دورہ ہے جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں۔ یا پھر یہ کہتے ہیں کہ یہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو ہے تو کوئی شاعر ہے اور جو ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہتے ہیں کہ ہم ان کے اوپر کسی طرح کے کسی حوادث زمانہ کا یعنی موت کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے اوپر کوئی جو ہے وہ اس طرح کی افت واقع ہو جائے
[11:13]اللہ نے فرمایا ان سے کہیے ٹھیک ہے تم انتظار کرتے رہو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والے ہیں اللہ فرماتے ہیں کیا ان کی عقلیں ان کو اسی بات کا حکم دیتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اس طرح کی باتیں سوچیں اور رکھیں۔ یا پھر یہ سرکشی کرنے والے لوگ ہیں یا یہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قران کو اپنے پاس سے گھڑ لیا ہے ان سے کہیے کہ بات دراصل یہ ہے کہ یہ لوگ تو ایمان لانے والے نہیں ہیں اور اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑ لیا ہے تو پھر ان سے کہیے کہ تم بھی ایسا قران لا کے دکھا دو جو کہ نہیں لا سکتے اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ اپ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپ ان لوگوں کے اوپر نگہبان نہیں ہیں اللہ رب العزت خود ان کو دیکھ لے گا اس سورت کے اخر میں ایت نمبر 46 میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں قیامت والے دن یہ جتنی بھی چالیں دنیا کے اندر چلتے ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی چال ان لوگوں کی قیامت والے دن کام انے والی نہیں ہے اور نہ ہی اللہ تعالی کی طرف سے ان لوگوں کی کسی بھی طرح سے مدد کی جائے گی اور وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا ہے ان کو عذاب در عذاب دیا جائے گا یعنی اس کے علاوہ بھی عذاب ان کو دیا جائے گا لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے ہیں اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپ اپنے رب کے حکم سے صبر کیجئے اپ ہماری جو ہے نا وہ اس میں ہماری نگرانی میں ہے۔
[12:35]اور اپ اپنے رب کی تسبیح بیان کرتے رہیے جب بھی اپ کھڑے ہوں اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپ رات میں بھی اللہ کی تسبیح بیان کیجئے اور اسی طرح سے جب ستارے چھپ جائیں تو اس وقت بھی اپ اللہ رب العزت کی یعنی صبح شام اللہ تعالی کی تسبیح بیان کیا کیجئے۔
[12:52]اس کے بعد سورہ نجم ہے سورہ نجم میں اللہ رب العزت نے ستارے کی قسم کھائی ہے اور اس کے ساتھ ارشاد فرمایا تمہارے دوست یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو ہیں نہ تو یہ گمراہ ہوئے ہیں اور نہ ہی یہ رستے سے ہٹے ہیں اور بھٹکے ہیں۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت یہ ہے کہ وہ تو اپنی خواہش سے بولتے تک نہیں ہیں صرف وہی بات کرتے ہیں جو اللہ تعالی کی طرف سے ان کو وحی کی جاتی ہے اس میں بہت بڑا مسئلہ اللہ رب العزت نے ایک حل فرما دیا ہے وہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے متعلق بہت سارے لوگ انکار کرتے ہیں۔ ہم منکرین حدیث ہیں مستشرقین ہیں بے شمار ایسے لوگ ہیں جو اپنے اپ کو اہل قران کہتے ہیں اور اس طرح سے کئی انہوں نے خوبصورت نام رکھ کر حدیث کا انکار کرتے ہیں یا حدیث کو فتنہ عجم قرار دیتے ہیں یہاں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو کوئی ایک بات بھی اپنی مرضی سے نہیں بولتے۔ دوسرا اللہ نے فرمایا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں دے دیں اس کو لے لو جس سے تمہیں منع کر دیں اس سے رک جاؤ تو اس کا معنی یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کبھی بھی حق کے سوا کچھ نہیں لکھتا بعض صحابہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث لکھا کرتے تھے پھر وہ رک گئے تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تم کیوں نہیں لکھتے ہو؟ تو انہوں نے کہا اللہ کے رسول جیسے عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں موجود ہے۔ کہ اللہ کے رسول بعض ساتھیوں نے کہا کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی غصے میں ہوتے ہیں کبھی گھریلو بات چل رہی ہوتی ہے کبھی دیگر معاملات ہوتے ہیں تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس زبان سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا لہذا تم جو لکھ رہے تھے اس کو ہمیشہ لکھتے رہا کرو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث لکھوانے کا کام اپنی زندگی میں بھی کروایا۔ حدیث میں حجۃ الوداع کے موقع پر موجود ہے کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حجۃ الوداع کا خطبہ دیا تو ابو شاہ رضی اللہ تعالی عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے یہ باتیں لکھوا دیجئے۔ تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صحیح حدیث کے الفاظ ہیں کہ فرمایا کہ ابو شاہ کو یہ ساری باتیں یعنی جو خطبہ حجۃ الوداع کے مندرجات ہیں یہ ساری ان کو لکھ کے دے دیجئے اس کے بعد اللہ رب العزت نے ایت نمبر نائن کے حوالے سے بطور خاص اور اسی طرح سے پیچھے کچھ ایات ہیں جس میں اللہ رب العزت نے فرمایا کہ ان کو بڑی قوت والے نے سکھایا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اور عاجل امین علیہ السلام کی طرف اشارہ ہے جو صاحب قوت ہے پھر وہ سیدھا کھڑا ہو گیا اور وہ بالائی افق کے اوپر تھا پھر وہ قریب ہوا پھر وہ نیچے اترا پھر ان کے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان جو ہے وہ اراؤنڈ دو کمان کے برابر فاصلہ رہ گیا بریکٹس کو کہا جاتا ہے تو کمان جو کہ تیر کے ساتھ ہوتی ہے اس کمان کو بھی قوس کہا جاتا ہے
[15:22]اور اسی کی جمع جیسا کہ جو ہے وہ بارش میں ہم دیکھتے ہیں جو جو مطلب رین بو ہے اس کو اردو میں قوس قزہ کہا جاتا ہے قوس اسی وجہ سے کہ وہ بھی اسی طرح سے گول سٹائل میں ہوتی ہے۔ تو فرمایا کہ ان کے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان دو جو ہے وہ کمان کا فاصلہ رہ گیا یا اس سے بھی کم پھر اللہ رب العزت نے اپنے بندے کی طرف وحی فرمائی جو اللہ رب العزت نے وحی فرمائی تو یہاں سے بطور خاص یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کچھ لوگ یہاں سے کچھ لوگوں کو غلطی لگی اور انہوں نے کہا کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ رب العزت کے درمیان جو فاصلہ ہے یہ اس کی بات ہو رہی ہے جبکہ ایسا نہیں ہے اس کے اوپر سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت موجود ہے سیدہ عائشہ بطور خاص عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ہے وہ اللہ رب العزت کو اپنی اللہ رب العزت کو نہیں دیکھا بلکہ جبرائیل علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کی اصل شکل میں دیکھا تھا اور جب اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا تو جبرائیل علیہ الصلوۃ والسلام کے 600 پر تھے 600 پر اور ان کا ایک پر اتنا بڑا تھا کہ اسمان اور زمین اس کے اندر سما جائیں تو یہاں سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ رب العزت کی ذات کتنی بڑی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کہ تین باتیں ایسی ہیں جو کوئی شخص اگر کہتا ہے تو وہ سب سے بڑا جھوٹ ہے پہلی بات یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اگر کوئی سمجھتا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالی کو دیکھا تھا معراج کی رات تو اپ نے فرمایا کہ اللہ تعالی کا حکم ہے اللہ رب العزت کی ایت ہے قران مجید میں کہ اللہ تعالی کو کوئی نہیں دیکھ سکتا جیسے موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ رب العزت نے فرمایا کہ اے موسی اپ مجھے نہیں دیکھ سکتے اور اگر جو ہے نا وہ اپ اس کا نظارہ کرنا چاہتے ہیں تو اس پہاڑ کو دیکھیے اللہ تعالی نے جب اس پر تجلی ڈالی تو وہ پہاڑ جو ہے وہ ریزہ ریزہ ہو گیا۔ اسی طرح سے دوسری بات جو ارشاد فرمائی کہ اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کل کی بات جانتے ہیں تو ارشاد فرمایا کہ یہ بھی سب سے بڑا جھوٹ ہے کیونکہ اللہ رب العزت نے قران میں یہ بات ارشاد فرما دی جو بھی کل ہونے والا ہے اس کو کوئی نفس نہیں جانتا سوائے اللہ رب العزت کے جیسا کہ اللہ تعالی نے سورہ لقمان کی اخری ایت میں پانچ چیزوں کا ذکر کیا انہی میں سے ایک یہ ہے۔ پھر ارشاد فرمایا عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ نے تیسری بات یہ ہے کہ وحی سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر کچھ چھپایا ہے کوئی شخص یہ بات کہتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پورا دین ہم تک نہیں پہنچایا یا اج لوگ جو ہے وہ کسی بات کو دین ڈکلیئر کرتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ شریعت میں موجود نہیں ہے پھر بھی دین ہے تو گویا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر خیانت کا الزام لگاتا ہے تو فرمایا کہ یہ بھی سب سے بڑا جھوٹ ہے کیونکہ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو اللہ تعالی نے اپ کی طرف وحی کی ہے وہ سب اپ لوگوں کو پہنچا دیجئے۔ اس کے بعد ایت نمبر 26 ہے جس میں اللہ رب العزت نے اسمانوں کے فرشتوں سے متعلق بھی یہ بات ارشاد فرمائی اور کتنے ہی ملک ہیں اسمانوں میں ان کی شفاعت کچھ فائدہ نہیں دے گی مگر اللہ کی اجازت کے بعد جس کو اللہ تعالی چاہے اور جس سے راضی ہو
[18:07]پھر اللہ رب العزت کی تم کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ایت نمبر 32 میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں جو کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں بے حیائی کی باتوں سے بچتے ہیں مگر جو چھوٹی موٹی کمی کوتاہی ان سے ہو جاتی ہے یعنی صغیرہ گناہ اگر سرزد ہو جاتے ہیں تو اللہ معاف کرنے والے ہیں یقینا اپ کا رب بڑی مغفرت والا ہے وہ اللہ تمہیں زیادہ جانتا ہے جب اس نے تمہیں زمین سے مٹی سے پیدا کیا اور جب تم جنین تھے جینیٹک تھے تم اپنی مدرز کے پیٹ میں تو اللہ فرماتے ہیں اس وقت بھی وہ تمہیں جانتا ہے اپنے منہ خود میاں مٹھو نہ بنا کرو اپنے اپ کو زیادہ تزکیہ نہ کیا کرو اس کو پتہ ہے کہ تم میں سے کون کتنا متقی ہے۔ بطور خاص جیسے اللہ تعالی نے چوتھے پارے میں یہ بات ارشاد فرمائی کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو چاہتے ہیں وہ چاہتے ہیں ان کی تعریف ایسی باتوں پر کی جائے جو انہوں نے ایسی باتوں پہ تعریف کی جائے جو انہوں نے کام نہیں کیے ہوتے یعنی جھوٹی تعریفیں کروانے کے شو اف کے کچھ لوگ قائل ہوتے ہیں بہت سا جو ہے نا وہ لوگوں کے سامنے اپنا ایسا اسٹیٹس شو کرتے ہیں جو حقیقت میں نہیں ہوتا بذات خود جو ہے وہ بڑے دیندار بننے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ اندر سے نہیں ہوتے اس وجہ سے اللہ رب العزت نے فرمایا اللہ تمہیں زیادہ بہتر جانتا ہے تم بذات خود اپنے منہ میں مٹھو بننے کی کوشش نہ کیا کرو اس کے بعد اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ انسان کو صرف اسی کا پھل ملے گا جس کی اس نے کوشش کی ایت نمبر 39 ہے۔ اللہ فرماتے ہیں جو انسان جیسی کوشش کرتا ہے ویسا ہی اس کو نتیجہ ملتا ہے یعنی جیسی انسان کی نیت ہے جیسے صحیح حدیث میں موجود ہے کہ تمام کے تمام دار الاعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے ظاہری طور پر ایک اچھا عمل بھی اگر اس کی نیت ٹھیک نہیں ہے تو وہ انسان کے لیے گناہ کا سبب بن جاتا ہے اور ظاہری طور پر غلطی سے کیا جانے والا کوئی برا عمل بھی بعض مرتبہ انسان کی نیت ٹھیک ہو تو وہ نیکی بن جاتا ہے جیسے صحیح حدیث میں موجود ہے کہ ایک شخص کا سواری گم ہو گئی وہ جنگل کے اندر موجود ہے اچانک جو ہے وہ اس کی انکھ لگی اور پھر وہ اٹھ کے دیکھا تو سواری موجود نہیں ہے اب اس کو اندازہ ہو گیا کہ مرنے کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا لہذا دوبارہ پھر وہ بیچارہ تنگ جو ہے ا کر وہیں پر لیٹ گیا موت کے انتظار میں کہ اب کوئی جانور ائے گا مجھے کھا جائے گا تو اس جو ہے وہ اللہ رب العزت نے دوبارہ وہ شخص جب دوبارہ اٹھا تو اچانک اس نے دیکھا کہ اس کی سواری سامنے موجود ہے اچانک اس کی زبان سے ایسے الفاظ نکلے کہ یا اللہ تو میرا بندہ ہے میں تیرا رب ہوں۔ حالانکہ نیت اس کی ٹھیک ہے وہ کہنا یہ چاہتا ہے کہ اللہ رب العزت تو میرا اللہ اور میں تیرا بندہ ہوں لیکن وہ اس کے الٹ کہہ دیتا ہے تو اللہ رب العزت کو اپنے بندے کے توبہ کرنے سے اس بندے سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے حدیث میں مقصود یہ ہے لیکن یہاں پر اس بندے کی زبان سے نکلنے والے غلط الفاظ پر بھی اللہ رب العزت نے اس بندے کو نیکی عطا فرمائی ہے تو جیسی کوشش ہوتی ہے ویسا ہی نتیجہ اللہ دیتے ہیں دنیا میں انسان گناہ کی طرف اگے بڑھتا ہے وہ بڑھتا چلا جاتا ہے اللہ اس کو ڈھیل دیتے چلے جاتے ہیں اللہ نے اس کا رزق وہیں پر لکھ دیا ہے وہ وہیں سے حاصل کرتا رہے گا ایک بندہ نیکی کی طرف اپنے اپ کو اگے بڑھاتا ہے۔ اللہ وہیں سے اس کا رزق اسان فرما دیتے ہیں لہذا پرابلم یہ نہیں ہے کہ رزق اپ کو کہاں سے ملے گا پرابلم یہ ہے کہ اپ نے کس رستے کو چوز کیا ہے کس رستے کا انتخاب کیا ہے جس رستے کا انتخاب کریں گے وہیں سے اللہ رب العزت اپ کو رزق عطا فرما دیں گے اللہ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ اللہ رب العزت جو ہے وہی اللہ تعالی ہر طرح کی نعمتیں انسان کو دیتا ہے وہی ہنساتا ہے وہی رلاتا ہے وہی زندہ کرتا ہے وہی مارتا ہے وہی تمام کے تمام انسان کے جتنے بھی معاملات ہیں وہ سارے اللہ رب العزت ہی سرانجام دیتا ہے اس کا ذکر کیا اللہ رب العزت نے انسان کو اللہ رب العزت نے جہاں سے پیدا کیا جاتا ہے اس کا تذکرہ کیا ہے اسی طرح سے عاد اولی جو کہ قوم ہود کو کہا جاتا ہے اس کا اللہ رب العزت نے ذکر کیا ہے اس نے پہلی عاد اولی کو ہلاک کیا پھر عاد ثانیہ جو ہے وہ جیسے قوم صالح کو کہا جاتا ہے اس کا اللہ رب العزت نے تذکرہ کیا پھر فرمایا قیامت قریب ا چکی ہے اور چاند پھٹ چکا ہے چاند جو ہے وہ دو ٹکڑے ہو چکا ہے صحیح حدیث میں موجود ہے
[21:59]کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں تھے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفار بھی موجود تھے انہوں نے نشانی کا مطالبہ کیا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ہے وہ فرمایا کہ اس چاند کو دیکھو جب ان لوگوں نے چاند کو دیکھا تو چاند کا ایک ٹکڑا جو ہے وہ زمین پر پہاڑ سے نیچے ا گیا دوسرا ٹکڑا جو ہے وہ پہاڑ کے اس طرف ہو گیا تو اس طرح سے یہ منظر جو ہے وہ صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق یہ نشانی اور بے قیامت کی واقع ہو چکی ہے اگرچہ یہ علامات قدرہ میں سے ہے لیکن یہ نشانی واقع ہو چکی ہے جس کا اللہ رب العزت نے یہاں پر تذکرہ کیا ہے مراد یہ ہے کہ قیامت بہت قریب ا چکی ہے جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں خود اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ہوں اور یوں اللہ رب العزت نے مجھے اور قیامت کو بھیجا ہے اس کے بعد اللہ رب العزت نے اس ایت میں بار بار ایک ایت ذکر فرمائی ہے ارشاد فرمایا کہ ہم نے اس قران کو بہت اسان بنایا ہے نصیحت حاصل کرنے کے لیے تو کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرنے والا ہو یعنی اللہ رب العزت نے اس قران کے واقعات ہیں اس کے اندر دلائل ہیں اس کے اندر قصص ہیں اس کے اندر نصیحتیں ہیں اس کے اندر اللہ تعالی کی طرف سے بہت ساری مثالیں اور بہت سارے واقعات کا بیان کیا گیا ہے یہ صرف اسی لیے جس طرح کا انسان کا مائنڈ سیٹ ہے اسی طرح کی مثالیں دے کر اللہ نے سمجھایا دنیا کی مثالیں دی اسمان و زمین کی مثالیں دی بے شمار اس کے علاوہ کبھی غلاموں کی مثالیں دی کبھی باغ والوں کی مثالیں دی اللہ نے اس لیے مثالیں دی ہیں تاکہ لوگ اس کو اسانی سے سمجھ سکیں لیکن اس کے باوجود لوگ سمجھنے کو تیار نہیں ہیں اسی سورت میں اللہ رب العزت نے اگین قوم عاد کا ذکر کیا ہے قوم ثمود کا تذکرہ کیا ہے قوم لوط کا تذکرہ کیا ہے کس طرح سے ان کے اوپر اللہ رب العزت کی طرف سے جو ہے وہ ان کو سمجھایا گیا لیکن اس کے باوجود وہ لوگ ماننے کی طرف نہیں ائے اللہ تعالی کی طرف سے ان کو عذاب دیا گیا اس سورت کے اخر میں اللہ رب العزت نے جہنم کا تذکرہ کیا ہے اللہ فرماتے ہیں مجرم جرم کرنے والے قیامت والے دن دن جو ہے وہ بڑی دور کی گمراہی میں ہوں گے اور اسی طرح سے جو ہے وہ جلانے والی جہنم کے اندر ہوں گے اللہ فرماتے ہیں اس دن ان کو گھسیٹ کر جہنم میں پھینکا جائے گا جہنم جو ہے وہ ان کے چہروں کے اوپر اگ کو جو ہے وہ ان کے چہروں کے اوپر اگ کو مارا جائے گا اللہ فرماتے ہیں ان سے کہا جائے گا کہ اج دوزخ کے اس عذاب کو تم چکھو اس چکھنے یعنی اس جو ہے وہ مس کو اس ٹچ کو تم دیکھو کس طرح کا جو ہے وہ اللہ رب العزت نے تمہارے لیے عذاب تیار کر رکھا ہے العیاذ باللہ من ذالک اللہ فرماتے ہیں ہم نے ہر چیز کا ایک اندازہ اور اس کی ایک مقدار اور اس کی تقدیر مقرر کر رکھی ہے اور اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارا حکم کیسے پورا ہوتا ہے جب ہم کسی بات کا فیصلہ کرتے ہیں تو پلک جھپکنے میں ہمارا وہ حکم پورا ہو جاتا ہے تمہیں تو احساس ہی نہیں ہے کہ اللہ رب العزت کے معاملات کس طرح سے چلتے ہیں اس کے بعد اللہ رب العزت نے اخر میں اہل جنت کا تذکرہ کیا پھر سورہ رحمن ہے جو کہ قران مجید کی بڑی ہی عظیم سورہ ہے اور اس کے حوالے سے جو بھی مختلف قسم کی جو روایات اور جو مطلب ایسی ضعیف من گھڑت چیزیں لوگ بیان کرتے ہیں۔ یہ صورت جو ہے وہ قران مجید کی دلہن ہے اور اس طرح سے دیگر چیزیں یہ درست نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی کوئی بات ثابت نہیں ہے ہاں قران مجید کا ہر حصہ ہی شفا بھی ہے ہر حصہ رحمت ہے جیسے اللہ رب العزت نے قران مجید کی سورہ بنی اسرائیل کے اندر یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا رحمن یہ اللہ رب العزت کا بڑا ہی مبالغہ والا صیغہ ہے یعنی مبالغہ والا نام ہے جو بہت رحم فرمانے والی ذات ہے جیسے رحمن الرحیم کے بارے میں مفسرین فرماتے ہیں رحمن کا معنی اللہ تعالی دنیا میں مشرکین پر منافقین پر کافروں پر جو اللہ کو مانتے ہیں ان پر جو نہیں مانتے جو ایتھیسٹ ہے ہر ایک کے اوپر اللہ رب العزت رحم فرماتے ہیں جبکہ رحیم کا معنی اللہ تعالی کی صفت رحیم یہ محدود اس طرح سے نہیں ہے کہ اللہ تعالی کے لیے محدود ہے لیکن محدود ہو جائے گی صرف ایمان والوں کے لیے قیامت والے دن اللہ رب العزت کی صفت رحیم ہو گی دنیا کے اندر اللہ رب العزت جو ہے وہ صفت رحمن ہے یعنی ہر ایک کو اللہ رب العزت کی طرف سے فری ہینڈ دیا گیا ہے اللہ تعالی کی طرف سے ہر چیز وافر مقدار میں اس کے پاس موجود ہیں بلکہ ایمان والے ازمائشوں میں ہوتے ہیں اور جو کافر ہوتے ہیں وہ زیادہ فرانی کے اندر ہوتے ہیں اسے اللہ رب العزت نے قران سکھایا ہے اس نے انسان کو پیدا کیا اسے اللہ رب العزت نے بیان بولنے کی طاقت عطا فرمائی بیان سکھایا بولنے کی صلاحیت عطا فرمائی ایک دوسرے کو الفاظ سمجھنے سمجھانے کی صلاحیت عطا فرمائی زبانیں پیدا فرمائیں زبانیں سمجھنے کی صلاحیت عطا فرمائی یہ بہت وسیع معنی کے الفاظ ہیں جو اللہ رب العزت نے ارشاد فرمائے سورج اور چاند ہر چیز اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اپنے ایک مدار جو ان کا اللہ نے مقرر کیا اسی کے اندر وہ چل رہے ہیں اسی طرح سے ستارے ہیں اور درخت ہیں وہ ہر چیز اللہ رب العزت کو سجدہ کرتی ہے اسمانوں کو اللہ رب العزت نے بلند کیا ہے
[26:24]اور اس اللہ رب العزت نے میزان کو قائم کیا ہے یہ ساری یہاں پر اللہ رب العزت نے بے شمار نعمتیں ہیں جن کا اس جو سورت کے اندر تذکرہ کیا ہے اور اسی طرح سے اللہ رب العزت نے اس سورت میں بار بار ایک ایت جو اتی ہے تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے مجرموں کو سزا دیا جانا مظلوموں کے لیے نعمت ہے۔
[26:50]اج دنیا کے اندر جو افراط و تفریط ہے جو دنیا ایک اضطراب کی کیفیت میں ہے اس کا سب سے بڑا ایک سبب یہ ہے کہ یہاں پر مجرم ازاد ہیں جس کی وجہ سے مظلوموں کا جینا دوبر ہو چکا ہے غریب ادمی کا قسم پرسی کی زندگی گزارنے والے کا کمزور کا یہاں پر وقت گزارنا مشکل ہو چکا ہے
[27:26]وہ موت کو ترجیح دیتا ہے قیامت والے دن اللہ تعالی نے اسی چیز کو اگر یہی چیز دنیا کے اندر ان لوگوں کی جو ہے وہ پکڑ کا سلسلہ شروع ہو جائے تو یقینا ایسے بہت سارے لوگوں کے لیے یہ چیز نعمت بن جائے گی تو اس وجہ سے قیامت والا دن اللہ رب العزت نے مجرموں کو پکڑا جانا اس کو بطور نعمت کا تذکرہ کیا ہے
[29:07]اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور اس کے مقابلے میں جو اللہ تعالی سے ڈر جاتا ہے اللہ نے اس کے لیے دو دو جنتیں تیار کر رکھی ہیں اور حدیث کے مطابق کئی لوگوں کو دو سے بھی زیادہ باغات ملیں گے کئی کئی بے شمار باغات ہوں گے جو اللہ رب العزت ان کو عطا فرمائیں گے اس کے اندر چشموں والے باغات ان کو ملیں گے پھر اللہ رب العزت کی تم کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ایسے پھل ہیں جن کے جوڑے جوڑے اللہ نے پیدا کیے ہیں۔ بستروں کے اوپر جو ہے وہ بیٹھے ہوئے بیڈوں کے اوپر بیٹھے ہوئے ٹیک لگائے ایک دوسرے کو جنت والے دیکھ رہے ہوں گے اور اسی طرح سے اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ ایسی خوبصورت حوریں ہیں اللہ رب العزت نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں جو جن کو دنیا کے کسی جن و انسان نے اج تک ان کے بارے میں سوچا نہیں اج تک کسی نے چھوا نہیں اج تک کسی نے ان کو دیکھا نہیں ہے۔ پھر اللہ رب العزت کی تم کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے یاقوت اور مرجان ہیں جو اس طرح سے اللہ رب العزت نے نوروں کی مثالیں بیان فرمائی اللہ فرمائی یقینا نیکی کا بدلہ نیکی کی ہی صورت میں دیا جاتا ہے اس کے علاوہ اللہ فرماتے ہیں پھر اس کے اوپر مزید جو ہے وہ دو جنتیں اللہ رب العزت نے ان سے بھی اعلی لوگوں کے لیے تیار کر رکھی ہیں اللہ نے اس کا تذکرہ کیا ہے جس کے اندر اللہ فرماتے ہیں بڑی ہی خوبصورت اور خوبصورت جو ہے وہ نوریں وہاں پر اللہ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں ایسی نوریں جو خیموں کے اندر بند ہیں یعنی انہوں نے اپنے اپ کو صرف ان لوگوں کے لیے جو اللہ تعالی نے جن کا اہل ان کو قرار دیا ہے انہی کے لیے اپنے اپ کو جو ہے وہ محفوظ کر کے رکھا ہوا ہے
[30:35]اللہ فرماتے ہیں اج تک کسی جن ان سن نے ان کو چھو کر نہیں دیکھا ہے تو یہ سارے کے سارے مناظر اللہ بیان فرماتے ہیں پھر تم اللہ رب العزت کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے تیرا رب جو ہے وہ ستاروں کی قسم کھاتا ہے اور یقینا یہ بہت بڑی قسم ہے جو اللہ رب العزت نے اٹھائی ہے۔ کس بات پر کہ بے شک یہ قران مجید جس کو تم جھٹلاتے ہو یہ اللہ رب العزت کی طرف سے نازل کرتا ہے اور اس کی اصل جو کاپی ہے وہ اللہ رب العزت کے پاس لوح محفوظ میں موجود ہے وہاں پر اللہ رب العزت کے پاس اس کی ماسٹر کاپی موجود ہے۔
[31:13]اسی کو اللہ رب العزت نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر اتارا اسی کو اللہ رب العزت نے جو ہے وہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے جو ہے وہ پوری امت کو سکھایا اور جس کا معنی یہ ہے اللہ رب العزت کے پاس موجود ہونے کا حالانکہ اللہ رب العزت کسی بات میں بھولنے والا نہیں ہے۔
[31:48]لیکن اس کے باوجود اللہ رب العزت نے فرمایا کہ یہ سارا کام ہماری نگرانی میں ہوا ہم نے خود جو ہے وہ یہ کام کیا ہم نے اس کی حفاظت کا ذمہ خود لیا ہے تو تم کیسے اس کتاب کو کہتے ہو کہ اس کو جو ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود سے گھڑ لیا ہے۔
[34:36]اس لوح محفوظ کو فرشتے جو کہ بڑے ہی پاکیزہ ہیں جو طاہر اور مطاہر ہیں وہ فرشتے جو ہے وہ اس کو ہاتھ لگاتے ہیں وہی ٹچ کرتے ہیں یہ کتاب اللہ تعالی کی طرف سے نازل کردا ہے یہاں پر ایک مسئلے کے طور پر سمجھ لیجئے کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قران مجید کو بغیر وضو کے نہ پڑھا جا سکتا ہے نہ چھوا جا سکتا ہے یہ بات درست نہیں ہے صحیح احادیث کو اگر دیکھا جائے صحیح حدیث میں موجود ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ فجر میں بیدار ہوئے تو اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابھی وضو نہیں کیا تھا تو سورہ ال عمران کا اخری رکوع سے لے کر اخر تک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسمان کی طرف منہ کر کے اس کو تلاوت فرمایا اور ابھی تک اپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو نہیں تھا بہرحال جو حیض والی خاتون ہے نفاس والی ہے اسی طرح سے حالت جنابت میں مرد ہو یا عورت ہو وہ ان کو کسی بھی طرح سے ہاتھ نہیں لگا سکتے باقی لوگوں کو جو ہے وہ وضو کے بغیر قران مجید کو بہرحال ادب کا تقاضا یہی ہے کہ قران مجید کو وضو کر کے ہی تلاوت کیا جائے لیکن اگر کبھی انسان ایسی کیفیت میں ہو کبھی ٹریول کر رہا ہے کبھی سفر میں ہے کبھی دیگر ایسی جگہوں پر موجود ہے یا تلاوت کرتے ہو وضو انسان کا ٹوٹ جاتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ دس پندرہ منٹ مزید تلاوت کر کے پھر ہی فارغ ہو کر جائے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے وہ اپنی تلاوت کو کنٹینیو کر سکتا ہے ادب کا تقاضا یہی ہے کہ پہلے سے اگر تلاوت کرنے لگیں تو وضو کر کے بیٹھا جائے ایت نمبر 83 سے 87 میں اللہ رب العزت نے موت کا منظر بیان فرمایا ہے اللہ رب العزت ارشاد فرماتے ہیں کہ دیکھو جب وہ تمہارے حلقوم یعنی نرخرے تک وہ موت پہنچ چکی ہوتی ہے جان جو ہے وہ نکل کر یہاں تک حلق میں تک ا جاتی ہے اور اس وقت تم صرف دیکھ سکتے ہو کچھ نہیں کر سکتے تمہارے بس میں کچھ نہیں رہتا اور اللہ فرماتے ہیں اس وقت ہم اپنے اس بندے کے تم سے زیادہ قریب ہوتے ہیں کیونکہ ہم جان جو ہے وہ اس بندے کی نکال رہے ہوتے ہیں فرشتے ہمارے حکم سے نکال رہے ہوتے ہیں اللہ رب العزت نے فرمایا اگر تم اللہ کی سلطنت سے نکلنا چاہتے ہو تو پھر نکل جاؤ تمہیں تو احساس ہی نہیں ہے کہ اللہ رب العزت کے معاملات کس طرح سے چلتے ہیں اس کے بعد اللہ رب العزت نے اخر میں اہل جنت کا تذکرہ کیا پھر سورہ رحمن ہے جو کہ قران مجید کی بڑی ہی عظیم سورہ ہے اور اس کے حوالے سے جو بھی مختلف قسم کی جو روایات اور جو مطلب ایسی ضعیف من گھڑت چیزیں لوگ بیان کرتے ہیں۔ یہ صورت جو ہے وہ قران مجید کی دلہن ہے اور اس طرح سے دیگر چیزیں یہ درست نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی کوئی بات ثابت نہیں ہے ہاں قران مجید کا ہر حصہ ہی شفا بھی ہے ہر حصہ رحمت ہے جیسے اللہ رب العزت نے قران مجید کی سورہ بنی اسرائیل کے اندر یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا رحمن یہ اللہ رب العزت کا بڑا ہی مبالغہ والا صیغہ ہے یعنی مبالغہ والا نام ہے جو بہت رحم فرمانے والی ذات ہے جیسے رحمن الرحیم کے بارے میں مفسرین فرماتے ہیں رحمن کا معنی اللہ تعالی دنیا میں مشرکین پر منافقین پر کافروں پر جو اللہ کو مانتے ہیں ان پر جو نہیں مانتے جو ایتھیسٹ ہے ہر ایک کے اوپر اللہ رب العزت رحم فرماتے ہیں جبکہ رحیم کا معنی اللہ تعالی کی صفت رحیم یہ محدود اس طرح سے نہیں ہے کہ اللہ تعالی کے لیے محدود ہے لیکن محدود ہو جائے گی صرف ایمان والوں کے لیے قیامت والے دن اللہ رب العزت کی صفت رحیم ہو گی دنیا کے اندر اللہ رب العزت جو ہے وہ صفت رحمن ہے یعنی ہر ایک کو اللہ رب العزت کی طرف سے فری ہینڈ دیا گیا ہے اللہ تعالی کی طرف سے ہر چیز وافر مقدار میں اس کے پاس موجود ہیں بلکہ ایمان والے ازمائشوں میں ہوتے ہیں اور جو کافر ہوتے ہیں وہ زیادہ فرانی کے اندر ہوتے ہیں اسے اللہ رب العزت نے قران سکھایا ہے اس نے انسان کو پیدا کیا اسے اللہ رب العزت نے بیان بولنے کی طاقت عطا فرمائی بیان سکھایا بولنے کی صلاحیت عطا فرمائی ایک دوسرے کو الفاظ سمجھنے سمجھانے کی صلاحیت عطا فرمائی زبانیں پیدا فرمائیں زبانیں سمجھنے کی صلاحیت عطا فرمائی یہ بہت وسیع معنی کے الفاظ ہیں جو اللہ رب العزت نے ارشاد فرمائے سورج اور چاند ہر چیز اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اپنے ایک مدار جو ان کا اللہ نے مقرر کیا اسی کے اندر وہ چل رہے ہیں اسی طرح سے ستارے ہیں اور درخت ہیں وہ ہر چیز اللہ رب العزت کو سجدہ کرتی ہے اسمانوں کو اللہ رب العزت نے بلند کیا ہے
[26:24]اور اس اللہ رب العزت نے میزان کو قائم کیا ہے یہ ساری یہاں پر اللہ رب العزت نے بے شمار نعمتیں ہیں جن کا اس جو سورت کے اندر تذکرہ کیا ہے اور اسی طرح سے اللہ رب العزت نے اس سورت میں بار بار ایک ایت جو اتی ہے تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے مجرموں کو سزا دیا جانا مظلوموں کے لیے نعمت ہے۔
[26:50]اج دنیا کے اندر جو افراط و تفریط ہے جو دنیا ایک اضطراب کی کیفیت میں ہے اس کا سب سے بڑا ایک سبب یہ ہے کہ یہاں پر مجرم ازاد ہیں جس کی وجہ سے مظلوموں کا جینا دوبر ہو چکا ہے غریب ادمی کا قسم پرسی کی زندگی گزارنے والے کا کمزور کا یہاں پر وقت گزارنا مشکل ہو چکا ہے
[27:26]وہ موت کو ترجیح دیتا ہے قیامت والے دن اللہ تعالی نے اسی چیز کو اگر یہی چیز دنیا کے اندر ان لوگوں کی جو ہے وہ پکڑ کا سلسلہ شروع ہو جائے تو یقینا ایسے بہت سارے لوگوں کے لیے یہ چیز نعمت بن جائے گی تو اس وجہ سے قیامت والا دن اللہ رب العزت نے مجرموں کو پکڑا جانا اس کو بطور نعمت کا تذکرہ کیا ہے
[29:07]اللہ رب العزت فرماتے ہیں اور اس کے مقابلے میں جو اللہ تعالی سے ڈر جاتا ہے اللہ نے اس کے لیے دو دو جنتیں تیار کر رکھی ہیں اور حدیث کے مطابق کئی لوگوں کو دو سے بھی زیادہ باغات ملیں گے کئی کئی بے شمار باغات ہوں گے جو اللہ رب العزت ان کو عطا فرمائیں گے اس کے اندر چشموں والے باغات ان کو ملیں گے پھر اللہ رب العزت کی تم کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے ایسے پھل ہیں جن کے جوڑے جوڑے اللہ نے پیدا کیے ہیں۔ بستروں کے اوپر جو ہے وہ بیٹھے ہوئے بیڈوں کے اوپر بیٹھے ہوئے ٹیک لگائے ایک دوسرے کو جنت والے دیکھ رہے ہوں گے اور اسی طرح سے اللہ رب العزت فرماتے ہیں کہ ایسی خوبصورت حوریں ہیں اللہ رب العزت نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں جو جن کو دنیا کے کسی جن و انسان نے اج تک ان کے بارے میں سوچا نہیں اج تک کسی نے چھوا نہیں اج تک کسی نے ان کو دیکھا نہیں ہے۔ پھر اللہ رب العزت کی تم کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے یاقوت اور مرجان ہیں جو اس طرح سے اللہ رب العزت نے نوروں کی مثالیں بیان فرمائی اللہ فرمائی یقینا نیکی کا بدلہ نیکی کی ہی صورت میں دیا جاتا ہے اس کے علاوہ اللہ فرماتے ہیں پھر اس کے اوپر مزید جو ہے وہ دو جنتیں اللہ رب العزت نے ان سے بھی اعلی لوگوں کے لیے تیار کر رکھی ہیں اللہ نے اس کا تذکرہ کیا ہے جس کے اندر اللہ فرماتے ہیں بڑی ہی خوبصورت اور خوبصورت جو ہے وہ نوریں وہاں پر اللہ نے ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں ایسی نوریں جو خیموں کے اندر بند ہیں یعنی انہوں نے اپنے اپ کو صرف ان لوگوں کے لیے جو اللہ تعالی نے جن کا اہل ان کو قرار دیا ہے انہی کے لیے اپنے اپ کو جو ہے وہ محفوظ کر کے رکھا ہوا ہے
[30:35]اللہ فرماتے ہیں اج تک کسی جن ان سن نے ان کو چھو کر نہیں دیکھا ہے تو یہ سارے کے سارے مناظر اللہ بیان فرماتے ہیں پھر تم اللہ رب العزت کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے تیرا رب جو ہے وہ ستاروں کی قسم کھاتا ہے اور یقینا یہ بہت بڑی قسم ہے جو اللہ رب العزت نے اٹھائی ہے۔ کس بات پر کہ بے شک یہ قران مجید جس کو تم جھٹلاتے ہو یہ اللہ رب العزت کی طرف سے نازل کرتا ہے اور اس کی اصل جو کاپی ہے وہ اللہ رب العزت کے پاس لوح محفوظ میں موجود ہے وہاں پر اللہ رب العزت کے پاس اس کی ماسٹر کاپی موجود ہے۔
[31:13]اسی کو اللہ رب العزت نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر اتارا اسی کو اللہ رب العزت نے جو ہے وہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے جو ہے وہ پوری امت کو سکھایا اور جس کا معنی یہ ہے اللہ رب العزت کے پاس موجود ہونے کا حالانکہ اللہ رب العزت کسی بات میں بھولنے والا نہیں ہے۔
[31:48]لیکن اس کے باوجود اللہ رب العزت نے فرمایا کہ یہ سارا کام ہماری نگرانی میں ہوا ہم نے خود جو ہے وہ یہ کام کیا ہم نے اس کی حفاظت کا ذمہ خود لیا ہے تو تم کیسے اس کتاب کو کہتے ہو کہ اس کو جو ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود سے گھڑ لیا ہے۔



