Thumbnail for Surah Al-Nisa part 06 (verse 19 - 24) - Javed Ahmed Ghamidi1 by Dars e Quran (Javed Ahmed Ghamidi)

Surah Al-Nisa part 06 (verse 19 - 24) - Javed Ahmed Ghamidi1

Dars e Quran (Javed Ahmed Ghamidi)

23m 27s4,327 words~22 min read
AI audio transcription
Transcript source

AI audio transcription

This transcript was generated from the video's audio because no usable YouTube caption track was available. The transcript below is server-rendered so it can be read, searched, cited, and shared without opening the original YouTube player.

Timestamped outline
Use this transcript
Related transcript hubs

[0:31]الحمدللہ الحمدللہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی محمد الامین واعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم خواتین و حضرات سورہ نساء کی ایت 19 سے ہم درس کی ابتداء کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے اللہ تعالی نے توبہ کا ضابطہ بیان فرمایا۔ اس ضابطے کے بیان کرنے کا موقع اس لیے پیدا ہو گیا تھا کہ اس سے پہلے ایک بڑے جرم کا ذکر تھا اور جب ایک بڑے جرم کا ذکر ہوا اس میں جہاں قانونی پہلو کو بیان کیا گیا ہے وہاں اللہ کے ساتھ کیا معاملہ ہو گا اس کو بھی واضح کر دیا گیا۔ وہی مضامین ہیں جو اس سے پہلے سے چلے ائے ہیں اس سوسائٹی کی معاشرتی پہلو سے تفسیر ایک سیاسی پہلو ہوتا ہے ایک معاشی پہلو ہوتا ہے۔ تو یہاں زیادہ وہ چیزیں ہیں جن کا تعلق معاشرت سے ہے زیر بحث ا گیا حالانکہ معیشت سے متعلق بھی کچھ چیزیں زیر بحث ائیں گی لیکن زیادہ غلبہ معاشرت سے متعلق احکام کا ہے۔ اور میں یہ عرض کر چکا ہوں کہ اس سورة میں اور اس کے بعد کی سورة میں ترتیب الٹ دی ہے۔ یعنی بقرہ وال عمران میں تو معاملے کی نوعیت یہ تھی کہ پہلے اتمام حجت پھر اس کے بعد مسلمانوں کی طرف روے سخن ہوا اور پھر تزکیہ و تطہیر کا مضمون۔ یہاں ابتدا تزکیہ و تطہیر کے مضمون سے ہوئی ہے اور بتدریج اپ دیکھیں گے کہ رخ دوسری جانب مڑتا چلا جائے گا۔ اب یہ فرمایا ہے کہ یا ایھا الذین امنوا لا یحل لکم ان ترثوا النساء کرھا ایمان والوں تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ۔ اس میں جو الفاظ ائے ہیں اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عربوں کے ہاں یہ چیز موجود تھی کہ اگر کوئی ادمی دنیا سے رخصت ہوا ہے۔ اس کی بیویاں پیچھے ہوں گی۔ تو عورتوں کے بارے میں جو قبائلی زندگی کے تصورات تھے اور جو ہمارے ہاں ہندوانا معاشرت میں بھی رہے ان کو بھی ایک طرح کا مالی سمجھا جاتا تھا۔ تو لوگ کہتے تھے کہ اب وارثوں کو جس طرح یہ حق حاصل ہے کہ اس کے مال کو وہ اپنا مال سمجھے ایسے ہی عورتیں بھی حق بن گئی ہیں۔ یہ صورتحال تھی۔ تو اللہ تعالی نے یہ فرمایا کہ یہ جو معاملہ ہے یہ ایک انسان کا معاملہ ہے۔ اور انسان کے معاملے میں اس کی مرضی کے خلاف کوئی معاملہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ تم یہ خیال کرو کہ یہ عورت تو میراث پہ مجھ کو مل گئی ہے۔ یہ مال معاشی نہیں ہے۔ عورتیں ہیں۔ ان کو اپنے فیصلے ازادانہ طور پر کرنے کا حق حاصل ہے۔

[3:07]کسی کو حق حاصل نہیں ہے کہ وہ زبردستی ان کا وارث بن کے بیٹھ جائے۔ اس کے بارے میں بعض روایات بھی ملتی ہیں کہ عربوں کے ہاں یہ طریقہ کیسے اختیار کیا جاتا تھا۔ قران مجید کی اس ایت کا اگر یہ مدعا سمجھ لیا جائے تو اس روایت کے بارے میں بھی کسی نہ کسی حد تک ہم اطمینان سے کہہ سکتے ہیں کہ اس کی روایات درست ہیں۔ بعض لوگوں نے اس میں ان ترثوا النساء کرھا کو اس مفہوم میں لیا ہے کہ عورتوں کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد ان کے مال کے زبردستی وارث نہ بن جاؤ۔ لیکن یہ چیز الفاظ سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں کہا ہے کہ عورتوں کے زبردستی وارث نہ بن جاؤ اور اس زبردستی کو عربی زبان میں بیان کیا ہے کہ ان عورتوں کی مرضی کے خلاف۔ تو ظاہر ہے کہ مرنے کے بعد تو پھر مال کے بارے میں مرنے والے کی مرضی نہیں ہوتی۔ اس میں تو زیر بحث دوسرے لوگ انے چاہیے۔ تو یہ قرینہ بتاتا ہے کہ اصلا یہی مقصود ہے کہ عورتیں کوئی جانور نہیں ہیں جس کو میراث میں لے وہ ان کو لے جا کر اپنے باڑے میں مان لیں۔ ان کی حیثیت ایک ازاد ہستی کی ہے۔ وہ اپنی مرضی کی مالک ہیں۔ حدود الہی کے اندر اپنے فیصلے کرنے کے لیے پوری طرح ازاد ہیں۔ ان کی مرضی کے بغیر کوئی چیز ان پر مسلط نہیں کی جا سکتی۔ تو یہ گویا جو وہاں کا ایک عام رواج تھا اس رواج کی نفی کر دی ہے اور نہایت زوردار الفاظ میں نفی کر دی ہے۔ یہ بتا دیا ہے کہ عورتوں کے ساتھ تم ان کی مرضی کے بغیر اس نوعیت کا کوئی معاملہ نہیں کر سکتے۔ یا ایھا الذین امنوا لا یحل لکم ایمان والوں تمہارے لیے جائز نہیں ہے۔ ظاہر ہے اس کا مطلب یہ ہے حرام ہے یہ کہ ان ترثوا النساء کرھا کہ تم زبردستی عورتوں کے وارث بن کے بیٹھ جاؤ۔ زبردستی ان کو اپنے نکاح میں لانے کی کوشش کرو۔ عام طور پر ایسا ہوتا تھا کہ تعدد ازواج کا رواج تھا قبائلی زندگی تھی بہت سی بیویاں ہوتی تھیں۔ دنیا سے رخصت ہو گئے اس کے بعد اب بیویاں ہیں تو جس طرح وارثوں نے مال تقسیم کر لیا اسی طرح عورتوں بھی تقسیم کر لیں۔ یہ عورت کی اہانت اور اس چیز کو قران مجید نے یہاں بالکل ناجائز قرار دے دیا۔ فرمایا ولا تاذلوھن لتذھبوا ببعض ما اتیتموہن اور نا یہ جائز ہے۔ کہ نکاح کر لینے کے بعد جو کچھ انہیں دیا ہے اس کا کچھ حصہ واپس لینے کے لیے انہیں تنگ کرو۔

[5:21]یعنی ایک عورت سے نکاح کر لیا۔ نکاح کرتے وقت تو ظاہر ہے کہ وہ ازادی سے اپنا فیصلہ کر رہی تھی۔ اس نے کچھ مہر کا مطالبہ کیا اب اپ نے اس موقع کے اوپر تو دے دیا۔ بیوی بن گئی ہے تو اب اس کو تنگ کر کے اپ واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تو یہ چیز بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ جاہلی معاشروں میں پیدا ہو جاتی ہے۔ تو دوسری بات یہ کہی یعنی پہلی بات یہ فرمائی کہ تمہیں ان کی مرضی کے بغیر ان کا وارث بن بیٹھنے کا کوئی حق نہیں۔ اگر وہ پہلے ایک شخص کے نکاح میں تھیں وہ شخص دنیا سے رخصت ہو گیا ہے تو اب اس کے بعد وہ ازاد ہے۔ ان کو اپنا فیصلہ دوبارہ کرنا ہے یہ فیصلہ انہیں اپنی ازادانہ مرضی سے کرنا ہے۔

[6:01]کسی کو حق حاصل نہیں ہے کہ وہ زبردستی کسی عورت کا مالک بن بیٹھے۔ دوسری بات یہ فرمائی کہ یہ بات بھی اسی طرح جائز نہیں ہے کہ بیوی پسند نہیں تھی۔ اور یا کوئی اور معاملہ پیش ا گیا۔ اب ادمی نے کیا کیا اپنا دیا دلایا واپس لینے کے لیے اس پر ذیق میں ڈالنا شروع کر دیا۔ اس طرح کے رویہ صرف ایک صورت ہے جس میں گوارا کیا جا سکتا ہے۔ اس کو اگے بیان کر دیا۔ لیکن عام حالات میں فرمایا کہ اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ تم جو کچھ تم نے دے دیا ہے اس کو واپس لینے کے لیے بہانے بناؤ، تدبیریں کرو اور اس کو تنگ کرنے کے لیے اقدامات کرو۔ ہرگز نہیں۔ لا تاذلوھن لتذھبوا ببعض ما اتیتموہن نہ یہ جائز ہے کہ نکاح کر لینے کے بعد جو کچھ انہیں دیا ہے اس کا کچھ حصہ واپس لینے کے لیے انہیں تنگ کرو۔

[6:56]الا ان یاتین بفاحشہ مبینہ ہاں اس صورت میں واپسی کا مطالبہ کر سکتے ہو کہ وہ کسی کھلی ہوئی بدکاری کا ارتقاب کریں۔ یعنی انہوں نے نکاح کے اس مقدس رشتے ہی کو پامال کر دیا اور اس میں بھی یہ ہے کہ محض الزام نہیں فاحشتہ مبینہ یعنی وہ بدکاری بالکل متعین ہونی چاہیے۔

[7:20]اس کے بارے میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ وہ فاحشہ مبینہ ہونی چاہیے۔ تمہارا تصور، قیاس، الزام یہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ یعنی وہ واقعتا قانون کے ضابطے کے اندر کی چیز ہو۔ اس کے بعد تمہیں حق تھا کہ وہ مطالبہ کرے۔ یعنی یہ رویہ صرف ایک ہی صورت میں گوارا کیا جا سکتا ہے اور وہ صورت یہ ہے۔ اس قسم کی کوئی چیز اگر عورتوں سے صادر نہیں ہوئی وہ اپنی وفاداری پر قائم ہے۔ پاک دامنی کے ساتھ زندگی بسر کر رہی ہیں۔ تو محض اس بنیاد پر کہ بیوی پسند نہیں ہے یا اس سے کوئی اختلاف ہو گیا ہے اس کو تنگ کرنا، عدل، انصاف، فتوت، شرافت کے بالکل منافی ہے۔ اخلاقی فساد بے شک قابل نفرت چیز ہے۔ لیکن محض صورت کے پسند نہ ہونے کی وجہ سے کسی ذوق کے عدم مناسبت کی وجہ سے کسی عورت کو بھی شریفانہ معاشرت کے حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ تو ایک تو منفی طریقے سے یہ بات پہلے بیان کی ہے۔ یعنی پہلے یہ بیان کیا کہ اگر تم نے نکاح کر لیا ہے اور نکاح کے موقع پر تم نے کچھ دیا ہے تو اب اس کا کوئی حصہ واپس لینے کے لیے تم طرح طرح کی تدبیریں کرو تو یہ اللہ کے قانون کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے۔ یہ تم نہیں کر سکتے۔ دوسری بات اب یہ کہی وعاشروھن بالمعروف کہ صرف اتنا ہی نہیں کہ تم انہیں تنگ نہیں کر سکتے نہیں۔ اگر شادی کی ہے تو اب تم پر لازم ہے کہ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو جو شرفاء کے طریقے کا برتاؤ ہو شرفاء کے شائن شان ہو عقل و فطرت کے مطابق ہو رحم اور مروت پر مبنی ہو اس میں عدل اور انصاف کے تقاضے منہ ہوئے ہیں۔

[8:58]یہ جو لفظ استعمال کیا عاشروھن بالمعروف تو اس میں معروف کا لفظ قران مجید میں خیر و صلاح کے رویے اور شرفاء کی روایات کے لیے استعمال ہوتا ہے یہ لفظ یہاں اس مفہوم میں ایا ہے۔ یعنی سوسائٹی کے اندر جو باتیں مانی ہوئی ہیں سمجھی ہوئی ہیں جن کو ہر شخص پسند کرتا ہے جن کے بارے میں دو رائے نہیں ہو سکتی۔ وہ رویے جن کو اگر اپ اختیار کریں گے تو ہر شریف النفس ادمی یہ کہے گا کہ شرفاء کے رویے یہ ہیں۔ وہ اختیار کرنے چاہیے۔ فان کرہتموہن اس لیے کہ اگر تم انہیں ناپسند کرتے ہو اب اس کو کھولا۔ ظاہر ہے کہ اگر بیوی پسند ہے تو پھر تو ان میں سے کچھ نہیں ہو گا۔ ہوتا ہی اس وقت ہے کہ جب کوئی ناپسندیدگی پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ شکل و صورت کے لحاظ سے بھی ہو سکتی ہے رویوں کے لحاظ سے بھی ہو سکتی ہے کسی اور طرح سے بھی ہو سکتی ہے۔ تو فرمایا لیکن اگر تم اس کو ناپسند کرتے ہو فان کرہتموہن فعسی ان تکرہوا شیئ و یجعل اللہ فی خیر کثیرا تو یہ چیز ملحوظ رکھو کہ ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو۔

[10:05]اور تم کچھ وقت دو اور اللہ اسی میں تمہارے لیے بہت کچھ بہتری پیدا کرے۔ یعنی وقتی فیصلے بڑا معاملہ کیا نا نکاح کیا ہے شادی کی ہے۔ تو وقتی جذبات یا وقتی ناپسندیدگی یا ایک احساس پیدا ہوا ہے اس کی بنیاد پر ادمی کو بڑے بڑے اقدامات نہیں کرنے چاہیے۔

[10:32]اس کو چاہیے کہ اگر میاں بیوی کا رشتہ قائم ہو گیا ہے تو ممکن حد تک اس کو نبھانے کی کوشش کرے۔ بیوی پسند ہو ناپسند ہو بندہ مومن سے اس کے پروردگار کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ہر حال میں نیکی اور خیر کا رویہ اختیار کرے۔ فتوت، شرافت کی جو روایت انسانی معاشروں میں ہمیشہ قائم رہی ہے اس سے سر مو انحراف کرے۔ یہ بات ہے جو یہاں بیویوں کے بارے میں کہی ہے۔ اور اس میں خاص طور پر توجہ دلائی ہے کہ ایسا ہوتا ہے کہ نکاح ہوا ہے کوئی خاص پہلو سامنے ایا اور وقتی طور پر ادمی کے اندر کچھ نفرت پیدا ہو گئی، گریز کا رویہ پیدا ہو گیا۔ اس میں اللہ تعالی نے یہ بتایا ہے کچھ وقت دو۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ وقت کے بعد بہت سی بدی چیزیں پیچھے رہ جائیں اور بعض ایسے محاسن سامنے ا جائیں جو ایک اچھے گھر کی ابادی کا باعث بن جائیں۔

[11:20]اللہ تعالی اسی میں کوئی خیر پیدا کر دے یعنی انسان جس وقت اپنے جذبات پر قابو پا کے عقلی لحاظ سے چیزوں کو دیکھنا شروع کرتا ہے تو بہت سے ایسے پہلو سامنے ا جاتے ہیں تو جو وقتی جذبات کی لگانی دیکھ رہی تھی۔ اس کے بارے میں امید دلائی ہے تاکہ لوگ اتنا بڑا فیصلہ کرنے کے بعد کہ اپ نے نکاح کیا ہے اپ نے ایک عورت کے ساتھ عقد باندھا ہے۔ جس کو قران مجید نے بیان کیا کہ ایک میثاق غلیظ ہے جس میں اپ بن گئے ہیں یہ کوئی معمولی معاملہ نہیں ہے تو اس میں فوری فیصلے نہیں کرنے چاہیے۔ بلکہ اس کا موقع دینا چاہیے کہ طبیعت کے لحاظ سے کردار کے لحاظ سے سیرت کے لحاظ سے معقد کے جذبے کے لحاظ سے عورت کو بھی اپنے محاسن کو نمایاں کرنے کا موقع ملے۔ اور یہ ممکن ہے کہ کچھ عرصے کے بعد دونوں میں موافقت کی یہ صورتحال پیدا ہو جائے۔ تو مرد چونکہ اس طرح کے معاملات میں بعض اوقات فیصلہ جذباتی طور پر کر لیتے ہیں تو اس لیے توجہ دلا دی کہ اللہ سے امید رکھو۔ ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو اور اللہ اسی میں تمہارے لیے بہتری پیدا کر دے۔ ہم بعض اوقات کسی معاملے کو ایک زاویے سے دیکھ رہے ہوتے ہیں لیکن وقت یہ بتا دیتا ہے کہ بہت سے اور پہلو بھی تھے جو ہماری نگاہ میں نہیں تھے۔ اور وہ اب نمایاں ہونا شروع ہو گئے۔ وان اردتم استبدال زوج مکان زوج اور اگر اس کے باوجود بہرحال نبھا کی صورت نہیں بنتی۔ طلاق کی نوبت ا جاتی ہے اور تم یہ فیصلہ کر لیتے ہو کہ نہیں مجھے اس بیوی کو چھوڑنا ہے اور اس کی جگہ دوسری بیوی لانی ہے۔ ایسا ہو سکتا ہے۔ یعنی اللہ نے گنجائش تو رکھی ہے۔ پہلے تو یہ توجہ دلائی کہ نہیں یہ فورا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ جذبات میں ادمی کو فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ یہ چیزیں بہت سوچ سمجھ کے کرنی چاہیے۔ اس میں کچھ وقت دینا چاہیے۔ اس میں یہ دیکھنا چاہیے کہ اللہ کی طرف سے کوئی خیر نمودار ہو جائے تو ہو سکتا ہے کہ معاملہ درست ہو جائے۔ یہ پہلے نصیحت فرمائی۔ اب یہ کہا کہ اگر نوبت اس کی ا گئی ہے کہ تم نے ارادہ کر لیا، فیصلہ کر لیا کہ نہیں مجھے تو اب اس بیوی کو چھوڑنا ہے اور ایک دوسری عورت سے نکاح کرنا ہے۔ وان اردتم استبدال زوج مکان زوج اور اگر ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لے انے کا ارادہ ہی کر لیا ہے۔ و اتیتم احدھن قنطارا اور تم نے ان میں سے کسی کو ڈھیروں مال دے رکھا ہے۔ یعنی جس وقت شادی کی تھی تو ہوتا ہے نا کچھ رمان کے دن ہوتے ہیں۔ اپ نے مکان بھی اس کے نام کرا دیا اپ نے جائیداد بھی دے دی اپ نے یہ بھی کر دیا اپ نے وہ بھی کر دیا۔ اس کے بعد اپ کے جذبات و احساسات میں تبدیلی ا گئی۔ اب اپ چاہتے ہیں کہ طلاق دے دیں اور دوسری بیوی لے ائیں۔ اچھا اگر معاملہ یہ ہو کہ ادمی دوسری بیوی لانا چاہتا ہو تو پھر اس کو خیال ہوتا ہے مکان بھی اس کو دے چکا ہے جائیداد بھی اس کو دے چکا ہے بڑا مسئلہ ہوتا ہے نا۔ لیکن اللہ تعالی کہتے ہیں کہ جو کچھ کرنا ہے پہلے سوچ سمجھ کے کر لو اگر تم نے ایسا ارادہ کیا ہے اور تم کسی بیوی کو ڈھیروں مال دے چکے ہو۔

[14:16]فلا تاخذوا منہ شیئا تم اس میں سے کچھ بھی واپس نہیں لے سکتے۔ اب یہ دیکھیے پیچھے ایک بات بیان ہوئی تھی۔ اور وہ بات یہ بیان ہوئی تھی کہ اگر کوئی مال دے رکھا ہوا ہے اور اس میں سے کچھ ادھر ادھر کر کے واپس لینا چاہتے ہو تو تمہیں اس کا حق نہیں ہے۔ ہاں البتہ تم مطالبہ کر سکتے ہو اگر کسی کھلی ہوئی بدکاری کا ارتقاب کیا ہے۔ عورت نے تو ادمی ممکن ہے کہ بہت سا مال دے چکا ہو اور اب یہ سوچنا شروع کر دے کہ کوئی اس طرح کا الزام لگا کے اسے ثابت کرنے کی کوشش کرو۔ تو ایسا ہوتا ہے بعض اوقات کہ قانون کی نگاہ میں بھی کسی بے گناہ کو اپ مجرم بنا لیتے ہو۔ ایسا ہوتا ہے۔ تو اللہ تعالی نے فرمایا کہ یہ میں نے گنجائش تو دی ہے لیکن یہ بات یاد رکھو کہ یہاں ہو سکتا ہے کہ تم اس طرح کا کوئی کارنامہ کر کے کسی کو دھوکہ دے دو پیش میرے سامنے ہونا ہے۔ تو فرمایا تاخذونہ بھتان و اسم مبینا کیا تم بھتان لگا کر اور کھلی ہوئی حق تلفی کر کے اسے لو گے؟ یعنی یہ کام کرو گے۔ یہ میں نے اگر گنجائش رکھی ہے کہ تمہارا اس میں حق تلف کر دیا ہے۔ اور یہ بات ثابت ہو گئی ہے تو تمہیں واپس لینے کا حق ہے تو اب یہ سوچ لو کہ کیا اس طرح کا الزام لگا کر بھتان لگا کر واپس لو گے؟ وکیف تاخذونہ وقدافضى بعضکم الی بعض کچھ حیا کرو تم ایک دوسرے کے اگے بے حجاب ہو چکے ہو اور وہ تم سے پختہ عہد دے چکی ہے۔ یعنی یہ کیا معاملہ تھا جو ہوا تھا اور کس شان کے ساتھ ہوا تھا کس اعتماد کے ساتھ ہوا تھا کتنا غیر معمولی تعلق تھا۔ تمہیں خیال کرنا چاہیے کہ اب ایک عورت جس نے اپنا سب کچھ تمہارے حوالے کر دیا۔ اب اس پر بھتان لگاؤ گے صرف اس لیے کہ مال واپس لینا چاہتے ہو؟ یہ اپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ اس کے اندر کتنا غیر معمولی زور بھی ہے اور کیسی شدت سے اس سے منایا ہے۔ ٹھیک ہے بہت سے لوگ ہیں کہ جو قانون کو دھوکہ دے لیتے ہیں۔ لیکن تم کو اس کا ہرگز حق نہیں۔ تو مدعا کیا ہوا؟ پیچھے ایات ائی ہیں ان میں ایک تو اس چیز کو ذہن میں رکھیے۔ کہ اللہ تعالی نے بیویوں کے بارے میں پہلے اس رویے کی تلقین کی تھی کہ اگر تمہیں کوئی بری چیز محسوس ہو رہی ہے تو اللہ سے امید رکھو کہ کوئی بہتری ہو سکتا ہے پیدا ہو جائے۔

[16:37]پہلے تو بات وہاں سے شروع کی ہے۔ اس میں جو لفظ استعمال کیا تھا اسا کا اگر عربی زبان سے ادمی واقف ہو تو وہ جانتا ہے کہ اس میں اللہ تعالی کی طرف سے ایک طرح کا وعدہ بھی مضمر ہو جاتا ہے۔ یعنی اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالی پر اگر تم اعتماد کرتے ہو اور اللہ کے لیے اپنے جذبات کی کچھ قربانی دیتے ہو اور اللہ تعالی کے ساتھ ایک تعلق تمہارا ہے اور تم یہ سمجھتے ہو پروردگار مجھ سے کوئی زیادتی نہ ہو جائے اور خدا سے ڈرتے ہوئے معاملہ کرتے ہو تو بعض اوقات اللہ تعالی خیر کثیر تمہیں عطا فرما دیتا ہے۔ یعنی اس میں گویا اللہ کی طرف سے بھی ایک وعدے کی نوعیت مضمر ہے۔ خیر یہ بات اس کے بعد دوسری چیز یہ ہے کہ یہ سب کچھ کے باوجود یعنی ادمی نے سوچا غور کیا سب کیا اس کے باوجود وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ نہیں میرا اس عورت کے ساتھ نبھا نہیں ہو سکتا مجھے بہرحال طلاق دینی ہے اور دوسری بیوی لانی ہے۔ اس حق کی نفی نہیں کی۔ فرمایا کہ یہ اخری معاملہ ہے تمہیں حق حاصل ہے اس کا لیکن اب تم نے مال دیا تھا۔ اور تم نے بڑا عہد باندھا تھا۔ تمہارا ایک تعلق اس کے ساتھ پیدا ہوا تھا۔ اس تعلق کا لحاظ کرو۔ ایک پائی بھی اول تو واپس نہیں لے سکتے اور اگر میں نے یہ گنجائش دی ہے کہ کسی بدکاری کا ارتقاب ہوا ہے تو تم واپس لے سکتے ہو تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ تم اللہ کو بھی دھوکہ دو انسانوں کو بھی دھوکہ دو۔ یہ کام کبھی نہ کرو اور دیکھو کہ ایک مروت رکھنے والے ایک شرافت رکھنے والے انسان کا یہ کام نہیں۔ اگر اس فیصلے پر پہنچ ہی گئے ہو کہ بیوی کو چھوڑ دینا ضروری ہے تو بہرحال جو کچھ دے چکے ہو اس کے بارے میں سمجھ لو کہ تم دے چکے ہو۔ تمہیں اسے واپس لینے کے لیے اس نوعیت کے اقدامات نہیں کرنے چاہیے۔ سورہ بقرہ کی ایت 229 میں بھی یہی تاکید فرمائی ہے۔ وہاں بھی یہی کہا ہے کہ بیوی کو کوئی مال، جائیداد، زیورات، ملبوسات کا کتنی مالیت کے ہوں اگر تحفے کے طور پر دیے گئے ہیں تو اللہ کا حکم یہی ہے کہ علیحدگی کے وقت اسے واپس نہیں لیا جا سکتا۔ ایک ہی صورت ہے جو یہاں بیان کر دی ہے لیکن اس پر سخت تنبیہ کی ہے کہ وہ صورت حقیقت میں پیش انی چاہیے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ تم کوئی الزام لگا کر کوئی بھتان لگا کر اس طرح کا کوئی معاملہ کرو۔ یہ مرد کی فتوت کے بالکل منافی ہے مردانگی کے بالکل منافی ہے کہ جس عورت کے ساتھ اس نے زندگی بھر کا پیمان وفاء باندھا۔ جو ایک نہایت مضبوط میثاق اور وعدے کے تحت اس کے حوالہ عقد میں ائی جس نے اپنا ظاہر و باطن سب اس کے سامنے بے نقاب کر دیا پھر ایک مدت تک دونوں یک جان دو قالب ہو کر رہے اب جو جدائی کی نوبت ائی ہے تو اب اپنا کھلایا پلایا اس سے وگلوانے کی کوشش کرے۔ یہاں تک کہ اس ذلیل غرض کے لیے اس کو بھتانوں اور تہمتوں کا ہدف بنائے۔ تو فرمایا کہ یہ کسی مسلمان کے شائن شان نہیں ہے۔ اس میں خاص طور پر یہ الفاظ کہے ہیں کہ ذرا غور کرو کہ تمہارا اس کے ساتھ تعلق کیا رہا ہے۔ اور اس تعلق کے لیے جو عربی زبان کے الفاظ اختیار کیے ہیں وہ ایک بڑی شائستہ اور نہایت جامع تعبیر ہے۔ یعنی دونوں ایک دوسرے کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہو تمہارا ظاہر و باطن تمہارے احساسات، جذبات تمہارے احساسات و جذبات کا کوئی گوشہ ایسا نہیں کہ جو ایک دوسرے سے مخفی رہا ہو۔ اس تعلق کے بعد یہ کیا کرنے جا رہے ہو؟ یہ کرنا تمہارے شائن شان نہیں ہے۔ کسی حال میں بھی تم سے اس جرم کا ارتقاب نہیں ہونا چاہیے۔ یہ یاد ہو گا کہ اس کی ابتدا یہاں سے ہوئی تھی کہ عورتوں پر زبردستی کر کے انہیں میراث بنا لینا جائز نہیں۔ اس کے بعد کچھ ان کے معاملات زیر بحث ا گئے۔ اسی سے یہ تقریر پیدا ہوئی کہ اب یہ بتا دیا جائے کہ وہ کون سی عورتیں ہیں کہ جس سے نکاح کرنا جائز ہے اور وہ کون سی عورتیں ہیں جس سے نکاح کرنا جائز نہیں۔ یعنی یہ تقریر گویا اسی پہلو سے پیدا ہو گئی۔ فرمایا و لا تنکحوا ما نکح اباؤکم من النساء کہ جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہوں اصل میں یہی وہ معاملہ ہے۔ والد نے نکاح کر رکھا ہوا ہے دنیا سے رخصت ہوا ہے تو بیٹوں نے میراث بھی تقسیم کی بیویوں بھی تقسیم کر لی۔ اس کی روایات بھی ملتی ہیں اور یہ وہی چیز ہے جس کو قران مجید نے یہاں ممنوع قرار دیا۔ اب اگے کر کے کیا کہا کہ معاملہ صرف اتنا ہی نہیں ہے۔ بلکہ جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہوں ان سے اللہ نے نکاح کو حرام کر دیا۔ و لا تنکحوا ما نکح اباؤکم من النساء الا ما قد سلف ہاں جو اس سے پہلے ہو چکا سو ہو چکا۔ یہ قران مجید کا عام طریقہ ہے کہ وہ کبھی اپنے قانون کو مؤثر با ماضی نہیں کرتا اس لیے اس سے بڑے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ اج سے پہلے اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے کوئی غلطی ہوئی ہے تو جو ہو چکا ہو چکا۔ اس کو اب لوٹانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سے بہت سی پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ البتہ ائندہ سے اللہ نے اس کو بالکل حرام کر دیا ہے۔ اس کو ممنوع کر دیا ہے۔ اللہ تعالی نے اس سے روک دیا ہے۔ تو فرمایا کہ ان سے ہرگز نکاح نہ کرو مگر جو ہو چکا سو ہو چکا۔ انہ کان فاحشہ ومقتا وساء سبیلا بے شک یہ کھلی ہوئی بے حیائی ہے۔

[21:45]سخت نا قابل نفرت بات ہے اور نہایت برا طریقہ ہے۔ قران مجید یہ چیز اس وقت اختیار کرتا ہے جب وہ یہ بتانا چاہتا ہے کہ اگرچہ لوگوں نے اس معاملے میں غلطی کی ہے لیکن اگر وہ اپنی فطرت کو صالح رکھے اور تنبیہ کے بعد بھی ذرا اپنے اندر جھانک کر دیکھے تو وہ سمجھ لیں گے کہ یہ کتنا نا قابل نفرت ہے۔ یعنی ایک ادمی کے باپ نے ایک عورت سے شادی کر رکھی ہے تو یہ ایک نوعیت کا ماں کے ساتھ تعلق پیدا ہو گیا نا اس کے ساتھ۔ تو ماں کا رشتہ جو ہے یہ ٹھیک ہے کہ اس کے بطن سے ہم پیدا نہیں ہوئے لیکن وہ بہرحال ہمارے باپ کی بیوی ہے۔ تو اس کے ساتھ اب نکاح کا تعلق قائم کرنا فرمایا کہ نہیں اس کی اس دین میں کوئی گنجائش نہیں۔ البتہ یہ بات کہہ دی کہ اگر اس معاملے میں اس سے پہلے کوئی معاملات ہو چکے ہوئے ہیں تو اس قانون کا اطلاق ماضی پر نہیں ہو گا۔ اس کو بنیاد بنا کر پچھلے تعلقات کی تحقیق کی جائے اور اس کی روشنی میں اب جائز اور ناجائز کے احکام ثابت کیے جائیں۔ یہ نہیں ہو گا ائندہ کے لیے ہم نے اس کو حرام قرار دے دیا ہے۔ یہ جو الفاظ ہیں یہ بتا رہے ہیں کہ ایسا نہیں تھا کہ عربوں کے ہاں یہ کوئی عام رواج تھا۔ یعنی بعض طبقوں میں بعض چیزوں کا رواج ہو جاتا ہے بعض طبقوں میں بعض چیزیں جائز سمجھ لی جاتی ہیں۔ جو الفاظ جہاں استعمال ہوئے ہیں وہ یہ بتا رہے ہیں کہ اس کا کھلی ہوئی بے حیائی اور قابل نفرت ہونا عرب کے شرفاء کو بھی معلوم تھی۔ تب یہ الفاظ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ یعنی اپ گویا سوسائٹی میں ایک چیز جانی پہچانی ہے کچھ لوگ ایک جرم کا ارتقاب کر رہے ہیں یا اس کی خلاف ورزی کر رہے ہیں تو اس وقت کی یہ بات کہہ سکتے ہو۔ کہ تم جانتے ہو کہ ایک نہایت ہی بے حیائی کا کام ہے اس کا ارتقاب تم سے نہیں ہونا چاہیے۔ تو اس اسلوب میں یہ بات کہی ہے۔

Need another transcript?

Paste any YouTube URL to get a clean transcript in seconds.

Get a Transcript